hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

239. حضرت واثلہ بن اسقع شامی کی حدیثیں۔

مسند احمد

15432
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ قَالَ حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ الْخَوْلَانِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ عَنْ عَبْدِ الْوَاحِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيِّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيِّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي لَاعَنَتْ عَلَيْهِ
حضرت واثلہ بن اسقع سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عورت تین طرح کی میراث حاصل کرتی ہے ایک اپنے آزاد کردہ غلام کی ایک گرے پڑے بچے کی اور ایک اس بچے کی جس کی خاطر اس نے لعان کیا ہو۔
15433
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا هَيْثَمُ بْنُ خَارِجَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْخُشَنِيُّ عَنْ بِشْرِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ جَاءَ وَاثِلَةُ بْنُ الْأَسْقَعِ وَنَحْنُ نَبْنِي مَسْجِدَنَا قَالَ فَوَقَفَ عَلَيْنَا فَسَلَّمَ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ بَنَى مَسْجِدًا يُصَلَّى فِيهِ بَنَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ لَهُ فِي الْجَنَّةِ أَفْضَلَ مِنْهُ قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ هَيْثَمِ بْنِ خَارِجَةَ
بشر بن حیان کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہمارے پاس حضرت واثلہ بن اسقع تشریف لائے اس وقت ہم اپنی مسجد تعمیر کررہے تھے وہ ہمارے پاس آکرکھڑے ہوئے سلام کیا اور فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص کوئی مسجد تعمیر کرے جس میں نماز پڑھی جائے اللہ جنت میں اس کے لئے اس سے بہترین گھر تعمیر فرمادیتے ہیں۔
15434
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا عَتَّابٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ رَبِيعَةَ بْنَ يَزِيدَ الدِّمَشْقِيَّ أَخْبَرَهُ عَنْ وَاثِلَةَ يَعْنِي ابْنَ الْأَسْقَعِ قَالَ كُنْتُ مِنْ أَهْلِ الصُّفَّةِ فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا بِقُرْصٍ فَكَسَرَهُ فِي الْقَصْعَةِ وَصَنَعَ فِيهَا مَاءً سُخْنًا ثُمَّ صَنَعَ فِيهَا وَدَكًا ثُمَّ سَفْسَفَهَا ثُمَّ لَبَّقَهَا ثُمَّ صَعْنَبَهَا ثُمَّ قَالَ اذْهَبْ فَأْتِنِي بِعَشَرَةٍ أَنْتَ عَاشِرُهُمْ فَجِئْتُ بِهِمْ فَقَالَ كُلُوا وَكُلُوا مِنْ أَسْفَلِهَا وَلَا تَأْكُلُوا مِنْ أَعْلَاهَا فَإِنَّ الْبَرَكَةَ تَنْزِلُ مِنْ أَعْلَاهَا فَأَكَلُوا مِنْهَا حَتَّى شَبِعُوا
حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ میں اصحاب صفہ میں سے تھا کہ ایک دن نبی ﷺ نے ایک روٹی منگوائی پیالے میں رکھ کر اس کے ٹکڑے کئے ان میں پہلے رکھا ہوا پانی ڈالا پھر وہ پانی اس میں ملا کر اسے ہلانے لگے پھر اسے نرم کرکے فرمایا جاؤ دس آدمیوں کو میرے پاس لاؤ جن میں سے دسویں تم خود ہوگے میں بلالایا نبی ﷺ نے فرمایا کھاؤ اور نیچے سے کھانا اوپر سے نہ کھانا کیونکہ اوپر کے حصے میں برکت نازل ہوتی ہے چناچہ ان سب نے وہ کھانا کھایا اور سیراب ہوگئے۔
15435
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ أَبِي مَلِيحِ بْنِ أُسَامَةَ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمِرْتُ بِالسِّوَاكِ حَتَّى خَشِيتُ أَنْ يُكْتَبَ عَلَيَّ
حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا مجھے مسواک کا اس کثرت سے حکم دیا گیا کہ مجھے اندیشہ ہونے لگا کہ کہیں یہ مجھ پر فرض ہی نہ ہوجائے۔
15436
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ قَالَ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ قَالَ سَمِعْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يَقُولُ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ أَعْظَمَ الْفِرَى ثَلَاثَةٌ أَنْ يَفْتَرِيَ الرَّجُلُ عَلَى عَيْنَيْهِ يَقُولُ رَأَيْتُ وَلَمْ يَرَ وَأَنْ يَفْتَرِيَ عَلَى وَالِدَيْهِ فَيُدْعَى إِلَى غَيْرِ أَبِيهِ أَوْ يَقُولُ سَمِعَنِي وَلَمْ يَسْمَعْ مِنِّي
حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ سب سے عظیم بہتان تین باتیں ہیں ایک تو یہ کہ آدمی اپنی آنکھوں پر بہتان باندھے اور کہے کہ میں نے اس طرح دیکھا ہے حالانکہ اس نے دیکھا نہ ہو دوسرا یہ کہ آدمی اپنے والدین پر بہتان باندھے اور اپنے آپ کو اپنے باپ کے علاوہ کسی اور کی طرف منسوب کرے اور تیسرایہ کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اس نے مجھ سے کوئی بات سنی ہے حالانکہ اس نے مجھ سے وہ بات نہ سنی ہو۔
15437
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو فَضَالَةَ الْفَرَجُ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سَعْدٍ قَالَ رَأَيْتُ وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ يُصَلِّي فِي مَسْجِدِ دِمَشْقَ فَبَزَقَ تَحْتَ رِجْلِهِ الْيُسْرَى ثُمَّ عَرَكَهَا بِرِجْلِهِ فَلَمَّا انْصَرَفَ قُلْتُ أَنْتَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَبْزُقُ فِي الْمَسْجِدِ قَالَ هَكَذَا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَفْعَلُ
ابوسعد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے دمشق کی مسجد میں حضرت واثلہ کو نماز پڑھنے کے دوران دیکھا کہ انہوں نے بائیں پاؤں نیچے تھوک پھینکا اور اپنے پاؤں سے اسے مسل دیا جب وہ نماز سے فارغ ہوئے تو میں نے ان سے عرض کیا کہ آپ نبی ﷺ کے صحابی ہیں پھر بھی مسجد میں تھوک پھینکتے ہیں انہوں نے فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو اسی طرح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔
15438
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ هَاشِمٌ قَالَ أَخْبَرَنَا ابْنُ عُلَاثَةَ قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي عَبْلَةَ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ جَاءَ نَفَرٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ صَاحِبًا لَنَا قَدْ أَوْجَبَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَعْتِقْ رَقَبَةً مُسْلِمَةً يَفُكَّ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ مِنْهَا عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ
حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ بنوسلیم کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی نے اپنے اوپر کسی شخص کو قتل کرکے جہنم کی آگ کو واجب کرلیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کردے۔
15439
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ الْحِمْصِيُّ عَنْ أَبِي سَلَمَةَ الْحِمْصِيِّ قَالَ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ رُؤْبَةَ التَّغْلِبِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النَّصْرِيُّ عَنْ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَرْأَةُ تَحُوزُ ثَلَاثَ مَوَارِيثَ عَتِيقَهَا وَلَقِيطَهَا وَوَلَدَهَا الَّذِي تُلَاعِنُ عَلَيْهِ
حضرت واثلہ بن اسقع سے مروی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا عورت تین طرح کی میراث حاصل کرتی ہے ایک اپنے آزاد کردہ غلام کی، ایک گرے پڑے بچے کی اور ایک اس بچے کی جس کی خاطر اس نے لعان کیا ہو۔
15440
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَ حَدَّثَنَا ضَمْرَةُ بْنُ رَبِيعَةَ عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ أَبِي عَبْلَةَ عَنِ الْغَرِيفِ الدَّيْلَمِيِّ قَالَ أَتَيْنَا وَاثِلَةَ بْنَ الْأَسْقَعِ اللَّيْثِيَّ فَقُلْنَا حَدِّثْنَا بِحَدِيثٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَتَيْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَاحِبٍ لَنَا قَدْ أَوْجَبَ فَقَالَ أَعْتِقُوا عَنْهُ يُعْتِقْ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ بِكُلِّ عُضْوٍ عُضْوًا مِنْهُ مِنْ النَّارِ
حضرت واثلہ سے مروی ہے کہ بنوسلیم کے کچھ لوگ نبی ﷺ کی خدمت میں ایک مرتبہ حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ ہمارے ایک ساتھی نے اپنے اوپر کسی شخص کو قتل کرکے جہنم کی آگ کو واجب کرلیا ہے نبی ﷺ نے فرمایا اسے ایک غلام آزاد کرنا چاہے تاکہ اللہ تعالیٰ اس غلام کے ہر عضو کے بدلے اس کے ہر عضو کو جہنم کی آگ سے آزاد کردے۔
15441
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ يَعْنِي الرَّازِيَّ عَنْ يَزِيْدَ بْنِ أَبِي مَالِكٍ قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو سِبَاعٍ قَالَ اشْتَرَيْتُ نَاقَةً مِنْ دَارِ وَاثِلَةَ بْنِ الْأَسْقَعِ فَلَمَّا خَرَجْتُ بِهَا أَدْرَكَنَا وَاثِلَةُ وَهُوَ يَجُرُّ رِدَاءَهُ فَقَالَ يَا عَبَد اللَّهِ اشْتَرَيْتَ قُلْتُ نَعَمْ قَالَ هَلْ بَيَّنَ لَكَ مَا فِيهَا قُلْتُ وَمَا فِيهَا قَالَ إِنَّهَا لَسَمِينَةٌ ظَاهِرَةُ الصِّحَّةِ قَالَ فَقَالَ أَرَدْتَ بِهَا سَفَرًا أَمْ أَرَدْتَ بِهَا لَحْمًا قُلْتُ بَلْ أَرَدْتُ عَلَيْهَا الْحَجَّ قَالَ فَإِنَّ بِخُفِّهَا نَقْبًا قَالَ فَقَالَ صَاحِبُهَا أَصْلَحَكَ اللَّهُ أَيْ هَذَا تُفْسِدُ عَلَيَّ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يَبِيعُ شَيْئًا إِلَّا يُبَيِّنُ مَا فِيهِ وَلَا يَحِلُّ لِمَنْ يَعْلَمُ ذَلِكَ إِلَّا يُبَيِّنُهُ
ابوسباع کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت واثلہ کے گھر سے ایک اونٹنی خریدی میں جب اس اونٹنی کو لے کر نکلنے لگا تو مجھے حضرت واثلہ مل گئے وہ اپنی چادر کھینچتے ہوئے چلے آ رہے تھے انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ بندہ اللہ کیا تم نے اسے خرید لیا ہے میں نے کہا جی ہاں انہوں نے پوچھا کیا انہوں نے تمہیں اس کے متعلق سب کچھ بتادیا ہے میں نے کہا کہ سب کچھ سے کیا مراد ہے انہوں نے فرمایا کہ یہ خوب صحت مند جو نظر بھی آرہا ہے یہ بتاؤ تم اس پر سفر کرنا چاہتے ہو یا ذبح کرکے گوشت حاصل کرنا چاہتے ہو میں نے عرض کیا میں اس پر حج کے لئے جانا چاہتا ہوں وہ کہنے لگے کہ پھر اس کے کھر میں ایک سوراخ ہے اس پر اونٹنی کا مالک کہنے لگا اللہ آپ کے حال پر رحم کرے کیا آپ میرا سوداخراب کرنا چاہتے ہیں انہوں نے فرمایا میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کسی آدمی کے لئے یہ بات جائز نہیں کہ وہ کسی چیز کو بیچے اور اس میں عیب نہ کرے اور جو اس عیب کو جانتا ہو اس کے لئے بھی حلال نہیں ہے کہ اسے بیان نہ کرے۔