hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

161. حضرت ضحاک بن سفیان (رض) کی روایت

مسند احمد

15187
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ عَنِ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ مَا أَرَى الدِّيَةَ إِلَّا لِلْعَصَبَةِ لِأَنَّهُمْ يَعْقِلُونَ عَنْهُ فَهَلْ سَمِعَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ شَيْئًا فَقَالَ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ وَكَانَ اسْتَعْمَلَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْأَعْرَابِ كَتَبَ إِلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضَّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَأَخَذَ بِذَلِكَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق نے فرمایا میں سمجھتاہوں کہ دیت عصبہ ہی کو ملنی چاہیے کیونکہ وہی اس کا کنبہ بنتے ہیں کیا آپ لوگوں میں سے کسی نے نبی ﷺ کو اس کے متعلق کچھ فرماتے ہوئے سنا ہے اس پر حضرت ضحاک جنہیں نبی ﷺ نے دیہاتیوں پر عامل مقرر فرمایا تھا کہنے لگے کہ نبی ﷺ نے مجھے ایک خط میں تحریر فرمایا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں وارث سمجھوں اور اس پر حضرت عمر فاروق نے اس حدیث پر عمل کرنا شروع کردیا۔
15188
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ قَالَ سَمِعْتُهُ مِنَ الزُّهْرِيِّ عَنْ سَعِيدٍ أَنَّ عُمَرَ قَالَ الدِّيَةُ لِلْعَاقِلَةِ وَلَا تَرِثُ الْمَرْأَةُ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا حَتَّى أَخْبَرَهُ الضَّحَّاكُ بْنُ سُفْيَانَ الْكِلَابِيُّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيَّ أَنْ أُوَرِّثَ امْرَأَةَ أَشْيَمَ الضَّبَابِيِّ مِنْ دِيَةِ زَوْجِهَا فَرَجَعَ عُمَرُ عَنْ قَوْلِهِ
سعید بن مسیب کہتے ہیں کہ حضرت عمر کی رائے یہ تھی کہ دیت صرف عصبہ ہی کو ملنی چاہیے عورت اپنے شوہر کی دیت میں سے وارث نہیں بنے گی حتی کہ حضرت ضحاک بن سفیان نے انہیں بتایا کہ نبی ﷺ نے مجھے ایک خط میں تحریر فرمایا تھا کہ میں اشیم ضبابی کی بیوی کو اس کے شوہر کی دیت میں وراث سمجھوں اس پر حضرت عمر نے اپنی رائے سے رجوع کرلیا۔
15189
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ عَنْ عَلِيِّ بْنِ جُدْعَانَ عَنِ الْحَسَنِ عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ سُفْيَانَ الْكِلَابِيِّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ يَا ضَحَّاكُ مَا طَعَامُكَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ اللَّحْمُ وَاللَّبَنُ قَالَ ثُمَّ يَصِيرُ إِلَى مَاذَا قَالَ إِلَى مَا قَدْ عَلِمْتَ قَالَ فَإِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى ضَرَبَ مَا يَخْرُجُ مِنْ ابْنِ آدَمَ مَثَلًا لِلدُّنْيَا
حضرت ضحاک بن سفیان سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کلابی نے ان سے پوچھا کہ ضحاک تمہاری خوراک کا کیا ہے انہوں نے عرض کیا یا رسول اللہ گوشت اور دودھ۔ نبی ﷺ نے پوچھا کہ بعد میں گوشت اور دودھ کیا بن جاتا ہے انہوں نے عرض کیا کہ یہ تو آپ جانتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا کہ اللہ ابن آدم کے جسم سے نکلنے والی گندگی کو دنیا کی مثال قرار دیتے ہیں۔