hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

390. حضرت امیر معاویہ (رض) کی مرویات

مسند احمد

16227
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ أَخْبَرَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ قَالَ أَبِي وَأَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا هِشَامٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ عَنْ عِيسَى بْنِ طَلْحَةَ قَالَ أَبُو عَامِرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ حَدَّثَنِي عِيسَى بْنُ طَلْحَةَ قَالَ دَخَلْنَا عَلَى مُعَاوِيَةَ فَنَادَى الْمُنَادِي بِالصَّلَاةِ فَقَالَ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ فَقَالَ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ قَالَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ مُعَاوِيَةُ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَبُو عَامِرٍ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ قَالَ يَحْيَى فَحَدَّثَنَا رَجُلٌ أَنَّهُ لَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ قَالَ مُعَاوِيَةُ هَكَذَا سَمِعْتُ نَبِيَّكُمْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ
عیسیٰ بن طلحہ (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس گئے، اسی اثناء میں مؤذن نے اذان دینا شروع کردی، جب اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر کہا تو حضرت امیر معاویہ (رض) نے بھی اللہ اکبر اللہ اکبر کہا، جب اس نے اشہد ان لا الہ الا اللہ کہا تو انہوں نے کہا وانا اشہد جب اس نے اشہد ان محمد رسول اللہ کہا تو حضرت امیر معاویہ (رض) نے بھی و ان اشہد کہا، جب اس نے حی علی الصلاۃ کہا تو انہوں نے کہا لا حول ولاقوۃ الا باللہ اور فرمایا کہ میں نے تمہارے نبی ﷺ کو اسی طرح اذان کا جواب دیتے ہوئے سنا ہے۔
16228
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ قَدِمَ مُعَاوِيَةُ الْمَدِينَةَ فَخَطَبَنَا وَأَخْرَجَ كُبَّةً مِنْ شَعَرٍ فَقَالَ مَا كُنْتُ أَرَى أَنَّ أَحَدًا يَفْعَلُهُ إِلَّا الْيَهُودَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَلَغَهُ فَسَمَّاهُ الزُّورَ أَوْ الزِّيرَ شَكَّ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ
سعید بن مسیب (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مدینہ منورہ میں حضرت امیر معاویہ (رض) تشریف لائے اور ہمیں خطبہ دیا، جس میں بالوں کا ایک گچھا نکال کر دکھایا اور فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ اس طرح تو صرف یہودی کرتے ہیں، نبی ﷺ کو جب یہ بات معلوم ہوئی تو آپ ﷺ نے اسے جھوٹ کا نام دیا تھا۔
16229
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ حَبِيبِ بْنِ الشَّهِيدِ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا مِجْلَزٍ قَالَ دَخَلَ مُعَاوِيَةُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ وَابْنِ عَامِرٍ قَالَ فَقَامَ ابْنُ عَامِرٍ وَلَمْ يَقُمْ ابْنُ الزُّبَيْرِ قَالَ وَكَانَ الشَّيْخُ أَوْزَنَهُمَا قَالَ قَالَ مَهْ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ أَحَبَّ أَنْ يَمْثُلَ لَهُ عِبَادُ اللَّهِ قِيَامًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنْ النَّارِ
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ (رض) عنہ، حضرت عبداللہ بن زیبر (رض) اور ابن عامر کے یہاں گئے، ابن عامر تو ان کے احترام میں کھڑے ہوگئے لیکن ابن زبیر (رض) کھڑے نہیں ہوئے اور شیخ ان دونوں پر بھاری تھے، وہ کہنے لگے کہ رک جاؤ، نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص کو یہ بات پسند ہو کہ اللہ کے بندے اس کے سامنے کھڑے رہیں اسے جہنم میں اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہئے۔
16230
Musnad Imam Ahmad
قَالَ عَبْد اللَّهِ وَجَدْتُ هَذَا الْحَدِيثَ فِي كِتَابِ أَبِي بِخَطِّ يَدِهِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ وَهُوَ البُرْسَانِيُّ قَالَ أَنْبَأَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ يَحْيَى أَنَّ عِيسَى بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَقَّاصٍ قَالَ إِنِّي لَعِنْدَ مُعَاوِيَةَ إِذْ أَذَّنَ مُؤَذِّنُهُ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ كَمَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ حَتَّى إِذَا قَالَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ فَلَمَّا قَالَ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ وَقَالَ بَعْدَ ذَلِكَ مَا قَالَ الْمُؤَذِّنُ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ ذَلِكَ
علقمہ بن وقاص (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں حضرت معاویہ (رض) کے پاس تھا کہ مؤذن اذان دینے لگا، حضرت معاویہ (رض) بھی وہی کلمات دہرانے لگے، جب اس نے حی علی الصلاۃ کہا تو انہوں نے لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہا، حی علی الفلاح کے جواب میں بھی یہی کہا، اس کے بعد مؤذن کے کلمات دہراتے رہے، پھر فرمایا کہ میں نے نبی ﷺ کو یہی فرماتے ہوئے سنا ہے۔
16231
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ أَنَّ مُعَاوِيَةَ دَخَلَ عَلَى عَائِشَةَ فَقَالَتْ لَهُ أَمَا خِفْتَ أَنْ أُقْعِدَ لَكَ رَجُلًا فَيَقْتُلَكَ فَقَالَ مَا كُنْتِ لِتَفْعَلِيهِ وَأَنَا فِي بَيْتِ أَمَانٍ وَقَدْ سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَعْنِي الْإِيمَانُ قَيْدُ الْفَتْكِ كَيْفَ أَنَا فِي الَّذِي بَيْنِي وَبَيْنَكِ وَفِي حَوَائِجِكِ قَالَتْ صَالِحٌ قَالَ فَدَعِينَا وَإِيَّاهُمْ حَتَّى نَلْقَى رَبَّنَا عَزَّ وَجَلَّ
ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ (رض) عنہ، حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے یہاں حاضر ہوئے، انہوں نے فرمایا کیا تمہیں اس بات کا خطرہ نہ ہوا کہ میں ایک آدمی کو بٹھا دوں گی اور وہ تمہیں قتل کر دے گا ؟ وہ کہنے لگے کہ آپ ایسا نہیں کرسکتیں، کیونکہ میں امن وامان والے گھر میں ہوں اور میں نے نبی ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ ایمان بہادری کو بیڑی ڈال دیتا ہے، آپ یہ بتائیے کہ میرا آپ کے ساتھ اور آپ کی ضروریات کے حوالے سے رویہ کیسا ہے ؟ انہوں نے فرمایا صحیح ہے، حضرت معاویہ (رض) نے کہا تو پھر ہمیں اور انہیں چھوڑ دیجئے تاآنکہ ہم اپنے پروردگار سے جاملیں۔
16232
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ قَالَ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي شَيْخٍ الْهُنَائِيِّ قَالَ كُنْتُ فِي مَلَإٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ مُعَاوِيَةَ فَقَالَ مُعَاوِيَةُ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الْحَرِيرِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ لُبْسِ الذَّهَبِ إِلَّا مُقَطَّعًا قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ رُكُوبِ النُّمُورِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ الشُّرْبِ فِي آنِيَةِ الْفِضَّةِ قَالُوا اللَّهُمَّ نَعَمْ قَالَ وَأَنَا أَشْهَدُ قَالَ أَنْشُدُكُمْ اللَّهَ تَعَالَى أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنْ جَمْعٍ بَيْنَ حَجٍّ وَعُمْرَةٍ قَالُوا أَمَّا هَذَا فَلَا قَالَ أَمَا إِنَّهَا مَعَهُنَّ
ابوشیخ ہنائی کہتے ہیں کہ میں حضرت امیر معاویہ (رض) کے پاس چند صحابہ کرام (رض) کی مجلس میں ایک مرتبہ بیٹھا ہوا تھا، حضرت معاویہ (رض) نے ان سے پوچھا کہ میں آپ لوگوں کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتاہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے ریشم پہننے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا جی ہاں ! حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں نبی ﷺ نے مردوں کو سونا پہننے منع فرمایا ہے الاّ یہ کہ معمولی سا ہو ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے چاندی کے برتن میں پانی پینے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے کہا کہ جی ہاں ! فرمایا میں بھی اس کی گواہی دیتا ہوں، پھر فرمایا میں آپ کو اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، کیا آپ لوگ جانتے ہیں کہ نبی ﷺ نے حج اور عمرے کو ایک سفر میں جمع کرنے سے منع فرمایا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا یہ بات ہم نہیں جانتے، حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا یہ بات بھی ثابت شدہ ہے اور پہلی باتوں کے ساتھ ہے۔
16233
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ قَالَ أَخْبَرَنَا جَبَلَةُ بْنُ عَطِيَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَيْرِيزٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدٍ خَيْرًا فَقَّهَهُ فِي الدِّينِ
حضرت امیر معاویہ (رض) سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب اللہ تعالیٰ کسی بندے کے ساتھ خیر کا ارادہ فرماتا ہے تو اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتا ہے۔
16234
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ قَالَ حَدَّثَنِي مَرْحُومُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبُو نَعَامَةَ السَّعْدِيُّ عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ خَرَجَ مُعَاوِيَةُ عَلَى حَلْقَةٍ فِي الْمَسْجِدِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَاكَ قَالُوا آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَاكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَمَا كَانَ أَحَدٌ بِمَنْزِلَتِي مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقَلَّ عَنْهُ حَدِيثًا مِنِّي وَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَى حَلْقَةٍ مِنْ أَصْحَابِهِ فَقَالَ مَا أَجْلَسَكُمْ قَالُوا جَلَسْنَا نَذْكُرُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَنَحْمَدُهُ عَلَى مَا هَدَانَا لِلْإِسْلَامِ وَمَنَّ عَلَيْنَا بِكَ قَالَ آللَّهِ مَا أَجْلَسَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ قَالُوا آللَّهِ مَا أَجْلَسَنَا إِلَّا ذَلِكَ قَالَ أَمَا إِنِّي لَمْ أَسْتَحْلِفْكُمْ تُهْمَةً لَكُمْ وَإِنَّهُ أَتَانِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَام فَأَخْبَرَنِي أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يُبَاهِي بِكُمْ الْمَلَائِكَةَ
حضرت ابوسعید خدری (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت امیر معاویہ (رض) مسجد میں ایک حلقہ ذکر کے پاس آئے اور ان سے پوچھا کہ آپ لوگوں کو کس چیز نے یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہم لوگ بیٹھے اللہ کا ذکر کر رہے ہیں، حضرت معاویہ (رض) نے انہیں قسم دے کر پوچھا کیا واقعی آپ لوگوں کو یہاں اسی چیز نے بٹھا رکھا ہے ؟ انہوں نے قسم کھا کر جواب دیا کہ ہم صرف اسی مقصد کے لئے بیٹھے ہیں، حضرت معاویہ (رض) نے فرمایا میں نے آپ لوگوں کو قسم کھانے پر اس لئے مجبور نہیں کیا کہ میں آپ کو جھوٹا سمجھتا ہوں، مجھ سے زیادہ کم احادیث نبویہ بیان کرنے والا کوئی نہ ہوگا، بات دراصل یہ ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ بھی اپنے صحابہ کے ایک حلقے میں تشریف لے گئے اور انہوں نے بھی اپنے صحابہ (رض) سے یہی سوال و جواب کئے تھے اور ان سے قسم لی تھی اور بعد میں فرمایا تھا کہ میں نے تمہیں قسم کھانے پر اس لئے مجبور نہیں کیا کہ میں تمہیں جھوٹا سمجھتا ہوں، بلکہ میرے پاس جبرائیل (علیہ السلام) آئے تھے اور انہوں نے مجھے بتایا تھا کہ اس وقت اللہ اپنے فرشتوں کے سامنے تم پر فخر فرما رہا ہے۔
16235
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ يَعْنِي ابْنَ سَلَمَةَ أَخْبَرَنَا قَيْسٌ عَنْ عَطَاءٍ أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ حَرْبٍ أَخَذَ مِنْ أَطْرَافِ يَعْنِي شَعَرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ بِمِشْقَصٍ مَعِي وَهُوَ مُحْرِمٌ وَالنَّاسُ يُنْكِرُونَ ذَلِكَ
عطاء کہتے ہیں کہ حضرت معاویہ (رض) نے نبی ﷺ کے سر کے بال اپنے پاس موجود قینچی سے کاٹے تھے، اس وقت نبی ﷺ حالت احرام میں تھے (اس سے نکلنے کے لئے بال کٹوانا ضروری ہوتا ہے) یہ ایام عشر کی بات ہے، لیکن کچھ لوگ اس کا انکار کرتے ہیں۔
16236
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ أَنْبَأَنِي سَعْدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ مَعْبَدٍ الْجُهَنِيِّ قَالَ كَانَ مُعَاوِيَةُ قَلَّمَا يُحَدِّثُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا وَيَقُولُ هَؤُلَاءِ الْكَلِمَاتِ قَلَّمَا يَدَعُهُنَّ أَوْ يُحَدِّثُ بِهِنَّ فِي الْجُمَعِ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ يُرِدْ اللَّهُ بِهِ خَيْرًا يُفَقِّهُّ فِي الدِّينِ وَإِنَّ هَذَا الْمَالَ حُلْوٌ خَضِرٌ فَمَنْ يَأْخُذْهُ بِحَقِّهِ يُبَارَكْ لَهُ فِيهِ وَإِيَّاكُمْ وَالتَّمَادُحَ فَإِنَّهُ الذَّبْحُ
معبد جہنی کہتے ہیں کہ حضرت امیر معاویہ (رض) بہت کم نبی ﷺ کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرتے تھے، البتہ یہ کلمات اکثر جگہوں پر نبی ﷺ کے حوالے سے ذکر کرتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جس شخص کے ساتھ خیر کا ارادہ فرما لیتے ہیں تو اسے دین کی سمجھ عطاء فرما دیتے ہیں اور یہ دنیا کا مال بڑا شیریں اور سر سبزوشاداب ہوتا ہے، سو جو شخص اسے اس کے حق کے ساتھ لیتا ہے، اس کے لئے اس میں برکت ڈال دی جاتی ہے اور منہ پر تعریف کرنے سے بچو کیونکہ یہ اس شخص کو ذبح کردینا ہے۔