hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

321. ایک صحابی (رض) کی روایت

مسند احمد

15995
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ حُمَيْدٍ الْأَعْرَجِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ مُعَاذٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ خَطَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ بِمِنًى وَنَزَّلَهُمْ مَنَازِلَهُمْ وَقَالَ لِيَنْزِلْ الْمُهَاجِرُونَ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْمَنَةِ الْقِبْلَةِ وَالْأَنْصَارُ هَاهُنَا وَأَشَارَ إِلَى مَيْسَرَةِ الْقِبْلَةِ ثُمَّ لِيَنْزِلْ النَّاسُ حَوْلَهُمْ قَالَ وَعَلَّمَهُمْ مَنَاسِكَهُمْ فَفُتِّحَتْ أَسْمَاعُ أَهْلِ مِنًى حَتَّى سَمِعُوهُ فِي مَنَازِلِهِمْ قَالَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ ارْمُوا الْجَمْرَةَ بِمِثْلِ حَصَى الْخَذْفِ قَالَ عَبْد اللَّهِ سَمِعْتُ مُصْعَبًا الزُّبَيْرِيَّ يَقُولُ جَاءَ أَبُو طَلْحَةَ الْقَاصُّ إِلَى مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ فَقَالَ يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ إِنَّ قَوْمًا قَدْ نَهَوْنِي أَنْ أَقُصَّ هَذَا الْحَدِيثَ صَلَّى اللَّهُ عَلَى إِبْرَاهِيمَ إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ وَعَلَى مُحَمَّدٍ وَعَلَى أَهْلِ بَيْتِهِ وَعَلَى أَزْوَاجِهِ فَقَالَ مَالِكٌ حَدِّثْ بِهِ وَقُصَّ بِهِ وَقُولَهُ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے میدان منیٰ میں لوگوں کو ان کی جگہوں پر بٹھا کر خطبہ دیتے ہوئے فرمایا مہاجرین یہاں اتریں اور قبلہ کی دائیں جانب اشارہ فرمایا : اور انصار یہاں اتریں اور قبلہ کی بائیں جانب اشارہ فرمایا : پھر لوگ ان کے آس پاس اتریں، پھر نبی ﷺ نے انہیں مناسک حج کی تعلیم دی، جس نے اہل منیٰ کے کان کھول دیئے اور سب کو اپنے اپنے پڑاؤ پر نبی ﷺ کی آواز سنائی دیتی رہی، میں نے بھی نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ٹھیکری کی کنکری جیسی کنکریوں سے جمرات کی رمی کرو۔ مروی ہے کہ ابوطلحہ واعظ نامی ایک شخص امام مالک کے پاس آیا اور کہنے لگا کہ اے ابوعبداللہ ! لوگ مجھے یہ حدیث بیان کرنے سے روکتے ہیں کہ صلی اللہ علیہ علی ابراہیم انک حمید مجید وعلی محمد وعلی اہل بیتہ وعلی ازواجہ، امام مالک نے فرمایا تم یہ حدیث بیان کرسکتے ہو اور اپنے وعظ میں اسے ذکر کرسکتے ہو۔
15997
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ قَالَ حَدَّثَنَا الْأَشْجَعِيُّ عَنْ سُفْيَانَ عَنِ الْأَعْمَشِ عَنْ هِلَالِ بْنِ يِسَافٍ عَنْ رَجُلٍ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ سَيَكُونُ قَوْمٌ لَهُمْ عَهْدٌ فَمَنْ قَتَلَ رَجُلًا مِنْهُمْ لَمْ يَرَحْ رَائِحَةَ الْجَنَّةِ وَإِنَّ رِيحَهَا لَيُوجَدُ مِنْ مَسِيرَةِ سَبْعِينَ عَامًا
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا عنقریب ذمیوں کی ایک قوم ہوگی، جو شخص ان میں سے کسی کو قتل کرے گا وہ جنت کی مہک بھی نہ سونگھ سکے گا، حالانکہ جنت کی مہک تو ستر سال کی مسافت سے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔
15999
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ قَالَ أَخْبَرَنِي سُفْيَانُ عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ قَالَ سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْحَضْرَمِيِّ يَقُولُ أَخْبَرَنِي مَنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ مِنْ أُمَّتِي قَوْمًا يُعْطَوْنَ مِثْلَ أُجُورِ أَوَّلِهِمْ فَيُنْكِرُونَ الْمُنْكَرَ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اس امت کے آخر میں ایک قوم ایسی بھی آئے گی جنہیں پہلے لوگوں کی طرح اجر دیا جائے گا، یہ وہ لوگ ہوں گے جو گناہ کی برائی کو بیان کریں گے۔
16000
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ قَالَ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِأَصْحَابِهِ إِنَّ مِنْكُمْ رِجَالًا لَا أُعْطِيهِمْ شَيْئًا أَكِلُهُمْ مِنْهُمْ فُرَاتُ بْنُ حَيَّانَ قَالَ مِنْ بَنِي عِجْلٍ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی ﷺ نے اپنے صحابہ (رض) سے فرمایا کہ تم میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جنہیں میں کچھ بھی نہیں دیتا، بلکہ انہیں ان کے ایمان کے حوالے کردیتا ہوں انہی میں فرات بن حیان ہے، ان کا تعلق بنوعجل سے تھا۔
16003
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ حَدَّثَنَا حَمَّادٌ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ عُمَيْرٍ عَنْ مُنِيبٍ عَنْ عَمِّهِ قَالَ بَلَغَ رَجُلًا عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ يُحَدِّثُ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَرَحَلَ إِلَيْهِ وَهُوَ بِمِصْرَ فَسَأَلَهُ عَنْ الْحَدِيثِ قَالَ نَعَمْ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنْ سَتَرَ أَخَاهُ الْمُسْلِمَ فِي الدُّنْيَا سَتَرَهُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ وَأَنَا قَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص دنیا میں اپنے مسلمان بھائی کی پردہ پوشی کرے اللہ قیامت کے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا، دوسرے صحابی کو یہ حدیث معلوم ہوئی تو انہوں نے پہلے صحابی کی طرف رخت سفر باندھا جو کہ مصر میں رہتے تھے، وہاں پہنچ کر ان سے پوچھا کیا آپ نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے ؟ انہوں نے اثبات میں جواب دیا تو سفر کرنے والے صحابی نے فرمایا کہ میں نے بھی نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔
16006
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ قَالَ سَمِعْتُ عُبَيْدَ بْنَ الْقَعْقَاعِ يُحَدِّثُ رَجُلًا مِنْ بَنِي حَنْظَلَةَ قَالَ رَمَقَ رَجُلٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَجَعَلَ يَقُولُ فِي صَلَاتِهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي ذَنْبِي وَوَسِّعْ لِي فِي دَارِي وَبَارِكْ لِي فِيمَا رَزَقْتَنِي
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے ایک مرتبہ نبی ﷺ کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، نبی ﷺ یہ کہہ رہے تھے کہ اے اللہ ! میرے گناہ کو معاف فرما، میرے گھر میں کشادگی عطا فرما اور میرے رزق میں برکت عطا فرما۔
16007
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ قَالَ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ أَبِي عِمْرَانَ قَالَ قُلْتُ لِجُنْدُبٍ إِنِّي قَدْ بَايَعْتُ هَؤُلَاءِ يَعْنِي ابْنَ الزُّبَيْرِ وَإِنَّهُمْ يُرِيدُونَ أَنْ أَخْرُجَ مَعَهُمْ إِلَى الشَّامِ فَقَالَ أَمْسِكْ فَقُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ فَقَالَ افْتَدِ بِمَالِكَ قَالَ قُلْتُ إِنَّهُمْ يَأْبَوْنَ إِلَّا أَنْ أَضْرِبَ مَعَهُمْ بِالسَّيْفِ فَقَالَ جُنْدُبٌ حَدَّثَنِي فُلَانٌ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَجِيءُ الْمَقْتُولُ بِقَاتِلِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ يَا رَبِّ سَلْ هَذَا فِيمَ قَتَلَنِي قَالَ شُعْبَةُ فَأَحْسِبُهُ قَالَ فَيَقُولُ عَلَامَ قَتَلْتَهُ فَيَقُولُ قَتَلْتُهُ عَلَى مُلْكِ فُلَانٍ قَالَ فَقَالَ جُنْدُبٌ فَاتَّقِهَا
ابو عمران (رح) کہتے ہیں کہ میں نے جندب سے کہا کہ میں نے حضرت عبداللہ بن زبیر (رض) کی بیعت کر لیجیے، یہ لوگ چاہتے ہیں کہ میں بھی ان کے ساتھ شام چلوں، جندب نے کہا مت جاؤ، میں نے کہا کہ وہ مجھے ایسا کرنے نہیں دیتے، انہوں نے کہا کہ مالی فدیہ دے کر بچ جاؤ، میں نے کہا کہ وہ اس کے علاوہ کوئی اور بات ماننے کے لئے تیار نہیں کہ میں ان کے ساتھ چل کر تلوار کے جوہر دکھاؤں، اس پر جندب کہنے لگے کہ فلاں آدمی نے مجھ سے یہ حدیث بیان کی ہے کہ جناب رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن مقتول اپنے قاتل کو لے کر بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر عرض کرے گا پروردگار ! اس سے پوچھ کہ اس نے مجھے کس وجہ سے قتل کیا تھا ؟ چناچہ اللہ تعالیٰ اس سے پوچھے گا کہ تو نے کس بناء پر اسے قتل کیا تھا ؟ وہ عرض کرے گا کہ فلاں شخص کی حکومت کی وجہ سے، اس لئے تم اس سے بچو۔
16008
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا أَبُو نُوحٍ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْكُبُ عَلَى رَأْسِهِ الْمَاءَ بِالسُّقْيَا إِمَّا مِنْ الْحَرِّ وَإِمَّا مِنْ الْعَطَشِ وَهُوَ صَائِمٌ ثُمَّ لَمْ يَزَلْ صَائِمًا حَتَّى أَتَى كَدِيدًا ثُمَّ دَعَا بِمَاءٍ فَأَفْطَرَ وَأَفْطَرَ النَّاسُ وَهُوَ عَامُ الْفَتْحِ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا، اس وقت نبی ﷺ روزے سے تھے اور نبی ﷺ مسلسل روزہ رکھتے رہے، پھر نبی ﷺ نے مقام کدید میں پہنچ کر پانی کا ایک پیالہ منگوایا اور اسے نوش فرمالیا اور لوگوں نے بھی روزہ افطار کرلیا یہ فتح مکہ کا سال تھا۔
16009
Musnad Imam Ahmad
قَالَ حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ قَالَ أَخْبَرَنَا مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ عَنْ سُمَيٍّ عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَامَ فِي سَفَرٍ عَامَ الْفَتْحِ وَأَمَرَ أَصْحَابَهُ بِالْإِفْطَارِ وَقَالَ إِنَّكُمْ تَلْقَوْنَ عَدُوًّا لَكُمْ فَتَقَوَّوْا فَقِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ النَّاسَ قَدْ صَامُوا لِصِيَامِكَ فَلَمَّا أَتَى الْكَدِيدَ أَفْطَرَ قَالَ الَّذِي حَدَّثَنِي فَلَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصُبُّ الْمَاءَ عَلَى رَأْسِهِ مِنْ الْحَرِّ وَهُوَ صَائِمٌ
ایک صحابی (رض) سے مروی ہے کہ فتح مکہ کے سال نبی ﷺ نے لوگوں کو ترک صیام کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ اپنے دشمن کے لئے قوت حاصل کرو، لیکن خود نبی ﷺ نے روزہ رکھ لیا، اسی دوران کسی شخص نے بتایا کہ یا رسول اللہ ! جب لوگوں نے آپ کو روزہ رکھے ہوئے دیکھا تو کچھ لوگوں نے روزہ رکھ لیا، چناچہ نبی ﷺ نے مقام کدید پہنچ کر روزہ افطار کرلیا، راوی کہتے ہیں کہ میں نے نبی ﷺ کو مقام عرج میں پیاس یا گرمی کی وجہ سے اپنے سر پر پانی ڈالتے ہوئے دیکھا۔
16019
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا رَوْحٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَا أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ أَخْبَرَنِي حَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاوُسٍ عَنْ رَجُلٍ أَدْرَكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّمَا الطَّوَافُ صَلَاةٌ فَإِذَا طُفْتُمْ فَأَقِلُّوا الْكَلَامَ وَلَمْ يَرْفَعْهُ ابْنُ بَكْرٍ
ایک صحابی (رض) سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا طواف بھی نماز ہی کی طرح ہوتا ہے، اس لئے جب تم طواف کیا کرو تو گفتگو کم کیا کرو۔