hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

107. حضرت عبدالرحمن بن شبل کی حدیثیں۔

مسند احمد

14983
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ عَنْ هِشَامٍ يَعْنِي الدَّسْتُوَائِيَّ قَالَ حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي رَاشِدٍ الْحَبْرَانِيِّ قَالَ قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ شِبْلٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ
حضرت عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن پڑھا کرو اس میں حد سے زیادہ غلونہ کرو اس سے جفاء نہ کرو اسے کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور اس سے اپنے مال و دولت کی کثرت حاصل نہ کرو۔
14984
Musnad Imam Ahmad
وَقَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ التُّجَّارَ هُمْ الْفُجَّارُ قَالَ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُمْ يُحَدِّثُونَ فَيَكْذِبُونَ وَيَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ
اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اکثرتجار فاسق وفجار ہوتے ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا اللہ نے بیع کو حلال نہیں قرار دیا فرمایا کیوں نہیں لیکن یہ لوگ جب بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور قسم اٹھا کر گنہگار ہوتے ہیں۔
14985
Musnad Imam Ahmad
قَالَ وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ الْفُسَّاقُ قَالَ النِّسَاءُ قَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَوَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا وَأَزْوَاجَنَا قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُمْ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ
نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا فساق ہی دراصل جہنم ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ فساق سے کون لوگ مراد ہیں فرمایا خواتین سائل نے پوچھا یا رسول اللہ کیا خواتین ہی ہماری مائیں بہنیں اور بیویاں نہیں ہوتیں نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں لیکن بات یہ ہے کہ انہیں جب کچھ ملتا ہے تو یہ شکر نہیں کرتیں اور جب مصیبت آتی ہے تو صبر نہیں کرتیں۔
14986
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ قَالَ حَدَّثَنِي أَبِي عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَى عَنْ ثَلَاثٍ عَنْ نَقْرَةِ الْغُرَابِ وَعَنْ افْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَقَامَ كَمَا يُوطِنُ الْبَعِيرُ
حضرت عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے دسنا ہے کوے کی طرح سجدے میں ٹھونگیں مارنے سے درندے کی طرح سجدے میں بازو بچھانے سے اور ایک جگہ نماز کے لئے متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کرلیتا ہے۔
14987
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا الْحَجَّاجُ حَدَّثَنَا اللَّيْثُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ جَعْفَرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَكَمِ حَدَّثَهُ عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ الْأَنْصَارِيِّ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى فِي الصَّلَاةِ عَنْ ثَلَاثٍ نَقْرِ الْغُرَابِ وَافْتِرَاشِ السَّبُعِ وَأَنْ يُوطِنَ الرَّجُلُ الْمَقَامَ الْوَاحِدَ كَإِيطَانِ الْبَعِيرِ حَدَّثَنَا هَاشِمٌ قَالَ حَدَّثَنَا لَيْثٌ عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ جَعْفَرِ بْنِ الْحَكَمِ عَنْ تَمِيمِ بْنِ مَحْمُودٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ثَلَاثَةٍ فَذَكَرَهُ
حضرت عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو تین چیزوں سے منع کرتے ہوئے دسنا ہے کوے کی طرح سجدے میں ٹھونگیں مارنے سے درندے کی طرح سجدے میں بازو بچھانے سے اور ایک جگہ نماز کے لئے متعین کرنے سے جیسے اونٹ اپنی جگہ متعین کرلیتا ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
14988
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ عَنِ الدَّسْتُوَائِيِّ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ أَبِي رَاشِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اقْرَءُوا الْقُرْآنَ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَغْلُوا فِيهِ
حضرت عبدالرحمن بن شبل سے مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن پڑھا کرو اس میں حد سے زیادہ غلونہ کرو اس سے جفاء نہ کرو اسے کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور اس سے اپنے مال و دولت کی کثرت حاصل نہ کرو۔
15112
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ قَالَ أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ عَنْ زَيْدِ بْنِ سَلَّامٍ عَنْ جَدِّهِ قَالَ كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ شِبْلٍ أَنْ عَلِّمْ النَّاسَ مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَمَعَهُمْ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ تَعَلَّمُوا الْقُرْآنَ فَإِذَا عَلِمْتُمُوهُ فَلَا تَغْلُوا فِيهِ وَلَا تَجْفُوا عَنْهُ وَلَا تَأْكُلُوا بِهِ وَلَا تَسْتَكْثِرُوا بِهِ
حضرت عبدالرحمن (رض) مروی ہے کہ میں نے نبی ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ قرآن پڑھا کرو اس میں حد سے زیادہ غلو نہ کرو اس سے جفاء نہ کرو اسے کھانے کا ذریعہ نہ بناؤ اور اس سے اپنے مال و دولت کی کثرت حاصل نہ کرو۔
15113
Musnad Imam Ahmad
ثُمَّ قَالَ إِنَّ التُّجَّارَ هُمْ الْفُجَّارُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَيْسَ قَدْ أَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُمْ يَحْلِفُونَ وَيَأْثَمُونَ
اور نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا اکثر تجار فاسق و فجار ہوتے ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ کیا اللہ نے بیع کو حلال نہیں کیا ہے فرمایا کیوں نہیں لیکن جب یہ لوگ بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں اور قسم اٹھا کر گناہگار ہوتے ہیں۔
15114
Musnad Imam Ahmad
ثُمَّ قَالَ إِنَّ الْفُسَّاقَ هُمْ أَهْلُ النَّارِ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَنْ الْفُسَّاقُ قَالَ النِّسَاءُ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ أَلَسْنَ أُمَّهَاتِنَا وَبَنَاتِنَا وَأَخَوَاتِنَا قَالَ بَلَى وَلَكِنَّهُنَّ إِذَا أُعْطِينَ لَمْ يَشْكُرْنَ وَإِذَا ابْتُلِينَ لَمْ يَصْبِرْنَ
نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا فساق ہی دراصل جہنم ہیں کسی نے پوچھا یا رسول اللہ فساق سے کون لوگ مراد ہیں فرمایا خواتین سائل نے پوچھا یا رسول اللہ کیا خواتین ہی ہماری مائیں بہنیں اور بیویاں نہیں ہوتیں نبی ﷺ نے فرمایا کیوں نہیں لیکن بات یہ ہے کہ انہیں جب کچھ ملتا ہے تو یہ شکر نہیں کرتیں اور جب مصیبت آتی ہے تو صبر نہیں کرتیں۔
15115
Musnad Imam Ahmad
ثُمَّ قَالَ يُسَلِّمُ الرَّاكِبُ عَلَى الرَّاجِلِ وَالرَّاجِلُ عَلَى الْجَالِسِ وَالْأَقَلُّ عَلَى الْأَكْثَرِ فَمَنْ أَجَابَ السَّلَامَ كَانَ لَهُ وَمَنْ لَمْ يُجِبْ فَلَا شَيْءَ لَهُ
اور پھر فرمایا کہ سوار کو چاہئے کہ پیدل چلنے والے کو سلام کرے پیدل چلنے والے کو چاہئے کہ بیٹھے ہوئے کو سلام کرے تھوڑے لوگ زیادہ کو سلام کریں جو سلام کا جواب دے دے وہ اس کے لئے باعث برکت ہے جو شخص جواب نہ دے سکے اس پر کوئی کفارہ نہیں ہے۔