hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

1022. حضرت عوف بن مالک اشجعی (رض) کی مرویات

مسند احمد

22889
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ حَدَّثَنَا النَّهَّاسُ بْنُ قَهْمٍ أَبُو الْخَطَّابِ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ الشَّامِيِّ قَالَ قَالَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالَ فَقَالُوا أَلَيْسَ قَدْ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَا عَمَّرَ الْمُسْلِمُ كَانَ خَيْرًا لَهُ قَالَ بَلَى وَلَكِنِّي أَخَافُ سِتًّا إِمَارَةَ السُّفَهَاءِ وَبَيْعَ الْحُكْمِ وَكَثْرَةَ الشَّرْطِ وَقَطِيعَةَ الرَّحِمِ وَنَشْئًا يَنْشَئُونَ يَتَّخِذُونَ الْقُرْآنَ مَزَامِيرَ وَسَفْكَ الدَّمِ
شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک (رض) نے فرمایا اے طاعون ! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں لیکن مجھے چھ چیزوں کا خوف ہے بیوفوقوں کی حکومت، انصاف کا فروخت ہونا، کثرت سے شرطیں لگانا قطع رحمی، ایسی نسل کی افزائش جو قرآن کو گانے بجانے کا آلہ بنالے گا، خون ریزی۔
22890
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ قَالَ أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ عَنْ هِشَامِ بْنِ يُوسُفَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ اسْتَأْذَنْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ أَدْخُلُ كُلِّي أَوْ بَعْضِي قَالَ ادْخُلْ كُلُّكَ فَدَخَلْتُ عَلَيْهِ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا فَقَالَ لِي يَا عَوْفُ بْنَ مَالِكٍ أَعْدِدْ سِتًّا قَبْلَ السَّاعَةِ مَوْتُ نَبِيِّكُمْ خُذْ إِحْدَى ثُمَّ فَتْحُ بَيْتِ الْمَقْدِسِ ثُمَّ مَوْتٌ يَأْخُذُكُمْ تُقْعَصُونَ فِيهِ كَمَا تُقْعَصُ الْغَنَمُ ثُمَّ تَظْهَرُ الْفِتَنُ وَيَكْثُرُ الْمَالُ حَتَّى يُعْطَى الرَّجُلُ الْوَاحِدُ مِائَةَ دِينَارٍ فَيَسْخَطَهَا ثُمَّ يَأْتِيكُمْ بَنُو الْأَصْفَرِ تَحْتَ ثَمَانِينَ غَايَةً تَحْتَ كُلِّ غَايَةٍ اثْنَا عَشَرَ أَلْفًا
حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ سے گھر میں داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پورے ہی اندرآجاؤ، چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم ﷺ اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے مجھ سے فرمانے لگے اے عوف بن مالک ! قیامت آنے سے پہلے چھ چیزوں کو شمار کرلینا سب سے پہلے تمہارے نبی کا انتقال ہوجائے پھر بیت المقدس فتح ہوجائے گا پھر بکریوں میں موت کی وباء جس طرح پھیلتی ہے تم میں بھی اسی طرح پھیل جائے گی پھر فتنوں کا ظہور ہوگا اور مال و دولت اتنا بڑھ جائے گا کہ اگر کسی آدمی کو سو دینار بھی دیئے جائیں گے تو وہ پھر بھی ناراض رہے گا پھر اسی جھنڈوں کے نیجے جن میں سے ہر جھنڈے کے تحت بارہ ہزار کا لشکر ہوگا رومی لوگ تم سے لڑنے کے لئے جائیں گے۔
22891
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ قَالَ حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ قَالَ دَخَلَ عَوْفُ بْنُ مَالِكٍ هُوَ وَذُو الْكَلَاعِ مَسْجِدَ بَيْتِ الْمَقْدِسِ فَقَالَ لَهُ عَوْفٌ عِنْدَكَ ابْنُ عَمِّكَ فَقَالَ ذُو الْكَلَاعِ أَمَا إِنَّهُ مِنْ خَيْرِ أَوْ مِنْ أَصْلَحِ النَّاسِ فَقَالَ عَوْفٌ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَقُصُّ إِلَّا أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُتَكَلِّفٌ
ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک (رض) اور ذوالکلاع مسجد اقصیٰ یعنی بیت المقدس میں داخل ہوئے تو حضرت عوف (رض) نے ان سے فرمایا کہ آپ کے پاس تو آپ کا بھتیجا (کعب احبار) ہے ذوالکلاع نے کہا کہ وہ تمام لوگوں میں سب سے بہترین آدمی ہے حضرت عوف (رض) نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔
22892
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ قَالَ أَنْبَأَنَا النَّهَّاسُ عَنْ شَدَّادٍ أَبِي عَمَّارٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ يَا طَاعُونُ خُذْنِي إِلَيْكَ قَالُوا لِمَ تَقُولُ هَذَا أَلَيْسَ سَمِعْتَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ الْمُؤْمِنَ لَا يَزِيدُهُ طُولُ الْعُمُرِ إِلَّا خَيْرًا قَالَ بَلَى فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ وَكِيعٍ
شداد ابو عمار کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عوف بن مالک (رض) نے فرمایا اے طاعون ! مجھے اپنی گرفت میں لے لے لوگوں نے عرض کیا کہ کیا آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ مسلمان کو جتنی بھی عمر ملے وہ اس کے حق میں بہتر ہے ؟ انہوں نے فرمایا کیوں نہیں۔۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔
22893
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ عَنْ أَزْهَرَ يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ عَنْ ذِي الْكَلَاعِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ الْقُصَّاصُ ثَلَاثَةٌ أَمِيرٌ أَوْ مَأْمُورٌ أَوْ مُخْتَالٌ
حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا وعظ گوئی وہی کرسکتا ہے جو امیر ہو یا اسے اس کا حکم اور اجازت حاصل ہو یا پھر تکلف (ریاکاری) کر رہا ہو۔
22894
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ عَنْ مُعَاوِيَةَ عَنْ حَبِيبِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ حَدَّثَنِي جُبَيْرُ بْنُ نُفَيْرٍ عَنْ عَوْفٍ قَالَ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى عَلَى مَيِّتٍ فَفَهِمْتُ مِنْ صَلَاتِهِ عَلَيْهِ اللَّهُمَّ اغْفِرْ لَهُ وَارْحَمْهُ وَعَافِهِ وَاعْفُ عَنْهُ وَأَكْرِمْ نُزُلَهُ وَوَسِّعْ مُدْخَلَهُ وَاغْسِلْهُ بِالْمَاءِ وَالثَّلْجِ وَالْبَرَدِ وَنَقِّهِ مِنْ الْخَطَايَا كَمَا نَقَّيْتَ الثَّوْبَ الْأَبْيَضَ مِنْ الدَّنَسِ وَأَبْدِلْهُ دَارًا خَيْرًا مِنْ دَارِهِ وَأَهْلًا خَيْرًا مِنْ أَهْلِهِ وَزَوْجَةً خَيْرًا مِنْ زَوْجِهِ وَأَدْخِلْهُ الْجَنَّةَ وَنَجِّهِ مِنْ النَّارِ وَقِهِ عَذَابَ الْقَبْرِ
حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی میت کی نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے دیکھا تو نبی کریم ﷺ کی یہ دعا سمجھ میں آئی اے اللہ ! اسے معاف فرما اس پر رحم فرما اسے عافیت عطا فرما اور اس سے درگذر فرما اس کا ٹھکانہ باعزت جگہ بنا اس کے داخل ہونے کی جگہ (قبر) کو کشادہ فرما اسے پانی، برف اور اولوں سے دھو دے اسے گناہوں سے ایسے صاف فرما دے جیسے سفید کپڑے کو میل کچیل سے صاف کردیتا ہے اس کے گھر سے بہترین گھر اس کے اہل خانہ سے بہترین اہل خانہ اور اس کی بیوی سے بہترین بیوی عطا فرما اسے جنت میں داخل فرما جہنم سے محفوظ فرما اور عذاب قبر سے نجات عطا فرما۔
22895
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ حَدَّثَنَا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ جَعْفَرٍ عَنْ صَالِحِ بْنِ أَبِي عَرِيبٍ عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ الْحَضْرَمِيِّ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَعَهُ الْعَصَا وَفِي الْمَسْجِدِ أَقْنَاءٌ مُعَلَّقَةٌ فِيهَا قِنْوٌ فِيهِ حَشَفٌ فَغَمَزَ الْقِنْوَ بِالْعَصَا الَّتِي فِي يَدِهِ قَالَ لَوْ شَاءَ رَبُّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ تَصَدَّقَ بِأَطْيَبَ مِنْهَا إِنَّ رَبَّ هَذِهِ الصَّدَقَةِ لَيَأْكُلُ الْحَشَفَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا فَقَالَ أَمَا وَاللَّهِ يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ لَتَدَعُنَّهَا أَرْبَعِينَ عَامًا لِلْعَوَافِي قَالَ فَقُلْتُ اللَّهُ أَعْلَمُ قَالَ يَعْنِي الطَّيْرَ وَالسِّبَاعَ قَالَ وَكُنَّا نَقُولُ إِنَّ هَذَا لَلَّذِي تُسَمِّيهِ الْعَجَمُ هِيَ الْكَرَاكِيُّ
حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ ہمارے پاس تشریف لائے تو آپ ﷺ کے دست مبارک میں عصا تھا مسجد میں اس وقت کچھ خوشے لٹکے ہوئے تھے جن میں سے ایک خوشے میں گدر کھجوریں بھی تھیں نبی کریم ﷺ نے اسے اپنے دست مبارک کے عصا سے ہلایا اور فرمایا اگر یہ صدقہ کرنے والا چاہتا تو اس سے زیادہ صدقہ کرسکتا تھا یہ صدقہ کرنے والا قیامت کے دن گدر کھجوریں کھائے گا پھر ہماری طرف متوجہ ہو کر فرمایا واللہ اے اہل مدینہ ! تم چالیس سال تک اس شہر مدینہ کو پرندوں اور درندوں کے لئے چھوڑے رکھو گے۔
22896
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ قَالَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ الْهُذَلِيُّ قَالَ حَدَّثَنِي زِيَادُ بْنُ أَبِي الْمَلِيحِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي بُرْدَةَ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ أَنَّهُ كَانَ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ فَسَارَ بِهِمْ يَوْمَهُمْ أَجْمَعَ لَا يَحُلُّ لَهُمْ عُقْدَةً وَلَيْلَتَهُ جَمْعَاءَ لَا يَحُلُّ عُقْدَةً إِلَّا لِصَلَاةٍ حَتَّى نَزَلُوا أَوْسَطَ اللَّيْلِ قَالَ فَرَقَبَ رَجُلٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ وَضَعَ رَحْلَهُ قَالَ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَنَظَرْتُ فَلَمْ أَرَ أَحَدًا إِلَّا نَائِمًا وَلَا بَعِيرًا إِلَّا وَاضِعًا جِرَانَهُ نَائِمًا قَالَ فَتَطَاوَلْتُ فَنَظَرْتُ حَيْثُ وَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَحْلَهُ فَلَمْ أَرَهُ فِي مَكَانِهِ فَخَرَجْتُ أَتَخَطَّى الرِّحَالَ حَتَّى خَرَجْتُ إِلَى النَّاسِ ثُمَّ مَضَيْتُ عَلَى وَجْهِي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ فَسَمِعْتُ جَرَسًا فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِ فَإِذَا أَنَا بِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَالْأَشْعَرِيِّ فَانْتَهَيْتُ إِلَيْهِمَا فَقُلْتُ أَيْنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَإِذَا هَزِيزٌ كَهَزِيزِ الرَّحَا فَقُلْتُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِنْدَ هَذَا الصَّوْتِ قَالَا اقْعُدْ اسْكُتْ فَمَضَى قَلِيلًا فَأَقْبَلَ حَتَّى انْتَهَى إِلَيْنَا فَقُمْنَا إِلَيْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَزِعْنَا إِذْ لَمْ نَرَكَ وَاتَّبَعْنَا أَثَرَكَ فَقَالَ إِنَّهُ أَتَانِي آتٍ مِنْ رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ فَخَيَّرَنِي بَيْنَ أَنْ يَدْخُلَ نِصْفُ أُمَّتِي الْجَنَّةَ وَبَيْنَ الشَّفَاعَةِ فَاخْتَرْتُ الشَّفَاعَةَ فَقُلْنَا نُذَكِّرُكَ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلْتَنَا مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِكَ قَالَ أَنْتُمْ مِنْهُمْ ثُمَّ مَضَيْنَا فَيَجِيءُ الرَّجُلُ وَالرَّجُلَانِ فَيُخْبِرُهُمْ بِالَّذِي أَخْبَرَنَا بِهِ فَيُذَكِّرُونَهُ اللَّهَ وَالصُّحْبَةَ إِلَّا جَعَلَهُمْ مِنْ أَهْلِ شَفَاعَتِهِ فَيَقُولُ فَإِنَّكُمْ مِنْهُمْ حَتَّى انْتَهَى النَّاسُ فَأَضَبُّوا عَلَيْهِ وَقَالُوا اجْعَلْنَا مِنْهُمْ قَالَ فَإِنِّي أُشْهِدُكُمْ أَنَّهَا لِمَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا
حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ جب کسی مقام پر پڑاؤ کرتے نبی کریم ﷺ کے مہاجر صحابہ (رض) آپ کے قریب ہوتے تھے ایک مرتبہ ہم نے کسی جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم ﷺ رات کے نماز کے لئے کھڑے ہوئے ہم آس پاس سو رہے تھے اچانک میں رات کو اٹھا تو نبی کریم ﷺ کو اپنی خواب گاہ میں نہ پایا نبی کریم ﷺ کی تلاش میں نکلے تو حضرت معاذ بن جبل (رض) اور ابوموسیٰ اشعری (رض) نظر آئے میں نے ان کے پاس پہنچ کر ان سے نبی کریم ﷺ کے متعلق پوچھا تو اچانک ہم نے ایسی آواز سنی جو چکی کے چلنے سے پیدا ہوتی ہے اور اپنی جگہ پر ٹھٹک کر رک گئے اس آواز کی طرف سے نبی کریم ﷺ آرہے تھے۔ قریب آکر نبی کریم ﷺ نے فرمایا تمہیں کیا ہوا ؟ عرض کیا کہ جب ہماری آنکھ کھلی اور ہمیں آپ اپنی جگہ نظر نہ آئے تو ہمیں اندیشہ ہوا کہ کہیں آپ کو کوئی تکلیف نہ پہنچ جائے، اس لئے ہم آپ کو تلاش کرنے کے لئے نکلے تھے نبی کریم ﷺ نے فرمایا میرے پاس میرے رب کی طرف سے ایک آنے والا آیا تھا اور اس نے مجھے ان دو میں سے کسی ایک بات کا اختیار دیا کہ میری نصف امت جنت میں داخل ہوجائے یا مجھے شفاعت کا اختیار مل جائے تو میں نے شفاعت والے پہلو کو ترجیح دے لی، ہم دونوں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ﷺ ہم آپ سے اسلام اور حق صحابیت کے واسطے سے درخواست کرتے ہیں کہ اللہ سے دعا کر دیجئے کہ وہ آپ کی شفاعت میں ہمیں بھی شامل کر دے، دیگر حضرات بھی آگئے اور وہ بھی یہی درخواست کرنے لگے اور ان کی تعداد بڑھنے لگے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر وہ شخص بھی جو اس حال میں مرے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو میری شفاعت میں شامل ہے۔
22897
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ وَعَلِيُّ بْنُ إِسْحَاقَ قَالَا حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ قَالَ أَنْبَأَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ قَالَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ لَقِيطٍ عَنْ مَالِكِ بْنِ هِدْمٍ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ الْأَشْجَعِيِّ قَالَ غَزَوْنَا وَعَلَيْنَا عَمْرُو بْنُ الْعَاصِ فَأَصَابَتْنَا مَخْمَصَةٌ فَمَرُّوا عَلَى قَوْمٍ قَدْ نَحَرُوا جَزُورًا فَقُلْتُ أُعَالِجُهَا لَكُمْ عَلَى أَنْ تُطْعِمُونِي مِنْهَا شَيْئًا وَقَالَ إِبْرَاهِيمُ فَتُطْعِمُونِي مِنْهَا فَعَالَجْتُهَا ثُمَّ أَخَذْتُ الَّذِي أَعْطَوْنِي فَأَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَهُ ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ أَبَا عُبَيْدَةَ بْنَ الْجَرَّاحِ فَقَالَ مِثْلَ مَا قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ ثُمَّ إِنِّي بُعِثْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ ذَاكَ فِي فَتْحِ مَكَّةَ فَقَالَ أَنْتَ صَاحِبُ الْجَزُورِ فَقُلْتُ نَعَمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ لَمْ يَزِدْنِي عَلَى ذَلِكَ
حضرت عوف (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم کسی غزوے پر روانہ ہوئے ہمارے حضرت عمرو بن عاص (رض) تھے ہمیں بھوک نے ستایا اسی دوران ایک قوم پر گذر ہوا جنہوں نے ایک اونٹ ذبح کر رکھا تھا میں نے لوگوں سے کہا کہ میں تمہیں اس کا گوشت لا کردیتا ہوں شرط یہ ہے کہ تم مجھے بھی اس میں سے کھلاؤ گے چناچہ میں نے اسے اٹھا لیا پھر انہوں نے مجھے جو حصہ دیا تھا اسے لے کر حضرت عمر فاروق (رض) کے پاس آیا لیکن انہوں نے اسے کھانے سے انکار کردیا پھر میں حضرت ابوعبیدہ بن جراح (رض) کے پاس لے کر گیا لیکن انہوں نے بھی وہی فرمایا جو حضرت عمر (رض) نے فرمایا تھا اور اسے کھانے سے انکار کردیا پھر فتح مکہ کے موقع پر مجھے نبی کریم ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وہ اونٹ والے تم ہی ہو ؟ میں نے عرض کیا جی یا رسول اللہ ! ﷺ نبی کریم ﷺ نے مجھے اس سے زیادہ کچھ نہیں فرمایا۔
22898
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا زَكَرِيَّا بْنُ عَدِيٍّ قَالَ أَنْبَأَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو الرُّقِّيُّ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ رَاشِدٍ عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْخَطَّابِ عَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِتَبُوكَ مِنْ آخِرِ السَّحَرِ وَهُوَ فِي فُسْطَاطٍ أَوْ قَالَ قُبَّةٍ مِنْ أَدَمٍ قَالَ فَسَأَلْتُ ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ فَقُلْتُ أَدْخُلُ فَقَالَ ادْخُلْ قُلْتُ كُلِّي قَالَ كُلُّكَ قَالَ فَدَخَلْتُ وَإِذَا هُوَ يَتَوَضَّأُ وُضُوءًا مَكِيثًا
حضرت عوف بن مالک (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے نبی کریم ﷺ کے گھر میں سحری کے وقت داخل ہونے کی اجازت طلب کی اور عرض کیا کہ پورا اندر آجاؤں یا آدھا ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا پورے ہی اندر آجاؤ چناچہ میں اندر چلا گیا نبی کریم ﷺ اس وقت عمدگی کے ساتھ وضو فرما رہے تھے۔