hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

843. حضرت ابوذرغفاری (رض) کی مرویات

مسند احمد

20332
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ حَدَّثَنَا أَبِي قَالَ سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ يُحَدِّثُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ عَنْ حَبِيبِ بْنِ حِمَازٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَزَلْنَا ذَا الْحُلَيْفَةِ فَتَعَجَّلَتْ رِجَالٌ إِلَى الْمَدِينَةِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَبِتْنَا مَعَهُ فَلَمَّا أَصْبَحَ سَأَلَ عَنْهُمْ فَقِيلَ تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ فَقَالَ تَعَجَّلُوا إِلَى الْمَدِينَةِ وَالنِّسَاءِ أَمَا إِنَّهُمْ سَيَدَعُونَهَا أَحْسَنَ مَا كَانَتْ ثُمَّ قَالَ لَيْتَ شِعْرِي مَتَى تَخْرُجُ نَارٌ مِنْ الْيَمَنِ مِنْ جَبَلِ الْوِرَاقِ تُضِيءُ مِنْهَا أَعْنَاقُ الْإِبِلِ بُرُوكًا بِبُصْرَى كَضَوْءِ النَّهَارِ حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو حَدَّثَنَا زَائِدَةُ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ الْبَكْرِيِّ عَنْ حَبِيبِ بْنِ حَمَّازٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَ مَعْنَاهُ
حضرت ابوذر غفاری (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم ﷺ کے ساتھ کسی سفر سے واپس آرہے تھے ہم نے ذوالحلیفہ میں پڑاؤ کیا کچھ لوگ جلد بازی کر کے مدینہ منورہ چلے گئے لیکن نبی کریم ﷺ نے وہ رات وہیں گذاری ہم بھی ہمراہ تھے جب صبح ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ان لوگوں کے متعلق پوچھا، بتایا گیا کہ وہ جلدی مدینہ چلے گئے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا ابھی تو یہ مدینہ منورہ اور عورتوں کی طرف جلدی سے چلے گئے ہیں لیکن ایک وقت ایسا ضرور آئے گا جب یہ مدینہ منورہ کو بہترین حالت پر ہونے کے باوجود چھوڑ جائیں گے پھر فرمایا عنقریب یمن کے جبل وراق سے ایک آگ نکلے گی جس سے بصرے کے جوان اونٹوں کی گردنیں دن کی روشنی کی طرح روشن ہوجائیں گی۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
20333
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا الْحَكَمُ بْنُ نَافِعٍ أَبُو الْيَمَانِ أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي حُسَيْنٍ عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ أَخْدُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ آتِي الْمَسْجِدَ إِذَا أَنَا فَرَغْتُ مِنْ عَمَلِي فَأَضْطَجِعُ فِيهِ فَأَتَانِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا وَأَنَا مُضْطَجِعٌ فَغَمَزَنِي بِرِجْلِهِ فَاسْتَوَيْتُ جَالِسًا فَقَالَ لِي يَا أَبَا ذَرٍّ كَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ مِنْهَا فَقُلْتُ أَرْجِعُ إِلَى مَسْجِدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَإِلَى بَيْتِي قَالَ فَكَيْفَ تَصْنَعُ إِذَا أُخْرِجْتَ فَقُلْتُ إِذَنْ آخُذَ بِسَيْفِي فَأَضْرِبَ بِهِ مَنْ يُخْرِجُنِي فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ عَلَى مَنْكِبِي فَقَالَ غَفْرًا يَا أَبَا ذَرٍّ ثَلَاثًا بَلْ تَنْقَادُ مَعَهُمْ حَيْثُ قَادُوكَ وَتَنْسَاقُ مَعَهُمْ حَيْثُ سَاقُوكَ وَلَوْ عَبْدًا أَسْوَدَ قَالَ أَبُو ذَرٍّ فَلَمَّا نُفِيتُ إِلَى الرَّبَذَةِ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ فَتَقَدَّمَ رَجُلٌ أَسْوَدُ كَانَ فِيهَا عَلَى نَعَمْ الصَّدَقَةِ فَلَمَّا رَآنِي أَخَذَ لِيَرْجِعَ وَلِيُقَدِّمَنِي فَقُلْتُ كَمَا أَنْتَ بَلْ أَنْقَادُ لِأَمْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت کرتا تھا جب اپنے کام سے فارغ ہوتا تو مسجد میں آکر لیٹ جاتا، ایک دن میں لیٹا ہوا تھا کہ نبی کریم ﷺ تشریف لے آئے اور مجھے اپنے مبارک پاؤں سے ہلایا، میں سیدھاہو کر اٹھ بیٹھا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اے ابوذر ! تم اس وقت کیا کرو گے جب تم مدینہ سے نکال دیئے جاؤ گے ؟ عرض کیا میں مسجد نبوی اور اپنے گھر لوٹ جاؤں گا نبی کریم ﷺ نے فرمایا اور جب تمہیں یہاں سے بھی نکال دیا جائے گا تو کیا کرو گے ؟ میں نے عرض کیا کہ اس وقت میں اپنی تلوار پکڑوں گا اور جو مجھے نکالنے کی کوشش کرے گا اسے اپنی تلوار سے ماروں گا۔ نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر اپنا دست مبارک میرے کندھے پر رکھا اور تین مرتبہ فرمایا ابوذر ! درگذر سے کام لو وہ تمہیں جہاں لے جائیں وہاں چلے جانا اگرچہ تمہارا حکمران کوئی حبشی غلام ہی ہو، حضرت ابو ذر (رض) فرماتے ہیں کہ جب مجھے ربذہ کی طرف جلا وطن کیا گیا اور نماز کھڑی ہوئی تو ایک سیاہ فام آدمی نماز پڑھانے کے لئے آگے بڑھا جو وہاں زکوٰۃ کے جانوروں پر مامور تھا اس نے مجھے دیکھ کر پیچھے ہٹنا اور مجھے آگے کرنا چاہا تو میں نے اس سے کہا کہ تم اپنی جگہ ہی رہو میں نے نبی کریم ﷺ کے حکم پر عمل کروں گا۔
20334
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْد اللَّهِ حَدَّثَنِي أَبِي حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ عَنْ مُعَانِ بْنِ رِفَاعَةَ عَنْ أَبِي خَلَفٍ عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ الْإِسْلَامُ ذَلُولٌ لَا يَرْكَبُ إِلَّا ذَلُولًا
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اسلام طبعاً سہل دین ہے اور اس پر سہل آدمی ہی سواری کرتا ہے۔
20335
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو الْيَمَانِ حَدَّثَنَا ابْنُ عَيَّاشٍ عَنْ الْبَخْتَرِيِّ بْنِ عُبَيْدِ بْنِ سَلْمَانَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ أَبِي ذَرٍّ عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ اثْنَانِ خَيْرٌ مِنْ وَاحِدٍ وَثَلَاثٌ خَيْرٌ مِنْ اثْنَيْنِ وَأَرْبَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ ثَلَاثَةٍ فَعَلَيْكُمْ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَنْ يَجْمَعَ أُمَّتِي إِلَّا عَلَى هُدًى
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دو آدمی ایک سے تین دو سے اور چار تین سے بہتر ہیں اس لئے تم پر جماعت کے ساتھ چمٹے رہنا لازم ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ میری امت کو ہدایت کے علاوہ کسی اور نکتے پر کبھی متفق نہیں کرسکتا۔
20336
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحَجَّاجِ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ أَنَّ أَبَا سَالِمٍ الْجَيْشَانِيَّ أَتَى إِلَى أَبِي أُمَيَّةَ فِي مَنْزِلِهِ فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ إِنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِذَا أَحَبَّ أَحَدُكُمْ صَاحِبَهُ فَلْيَأْتِهِ فِي مَنْزِلِهِ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ يُحِبُّهُ لِلَّهِ وَقَدْ جِئْتُكَ فِي مَنْزِلِكَ
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی ساتھی سے محبت کرتا ہو تو اسے چاہئے کہ اس کے گھر جائے اور اسے بتائے کہ وہ اس سے اللہ کے لئے محبت کرتا ہے اور اے ابوذر ! میں اسی وجہ سے تمہارے گھر آیا ہوں۔
20337
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يُونُسُ وَعَفَّانُ الْمَعْنَى قَالَا حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ عَنْ بُرْدٍ أَبِي الْعَلَاءِ قَالَ عَفَّانُ قَالَ أَخْبَرَنَا بُرْدٌ أَبُو الْعَلَاءِ عَنْ عُبَادَةَ بْنِ نُسَيٍّ عَنْ غُضَيْفِ بْنِ الْحَارِثِ أَنَّهُ مَرَّ بِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَقَالَ نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ فَلَقِيَهُ أَبُو ذَرٍّ فَقَالَ أَيْ أُخَيَّ اسْتَغْفِرْ لِي قَالَ أَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتَ أَحَقُّ أَنْ تَسْتَغْفِرَ لِي فَقَالَ إِنِّي سَمِعْتُ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ يَقُولُ نِعْمَ الْفَتَى غُضَيْفٌ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ ضَرَبَ بِالْحَقِّ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ وَقَلْبِهِ قَالَ عَفَّانُ عَلَى لِسَانِ عُمَرَ يَقُولُ بِهِ
غضیف بن حارث کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ حضرت عمر فاروق (رض) کے پاس سے گذرے تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا غضیف بہترین نوجوان ہے پھر حضرت ابوذر (رض) سے ان کی ملاقات ہوئی تو انہوں نے کہا کہ بھائی ! میرے لئے بخشش کی دعاء کرو غضیف نے کہا کہ آپ نبی کریم ﷺ کے صحابی ہیں اور آپ اس بات کے زیادہ حقدار ہیں کہ آپ میرے لئے بخشش کی دعاء کریں انہوں نے فرمایا کہ میں نے حضرت عمر (رض) کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے کہ غضیف بہترین نوجوان ہے اور نبی کریم ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے عمر کی زبان اور دل پر حق کو جاری کردیا ہے۔
20338
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ أَخْبَرَنِي أَبُو تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيُّ قَالَ أَخْبَرَنِي أَبُو ذَرٍّ قَالَ كُنْتُ أَمْشِي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَغَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُنِي عَلَى أُمَّتِي قَالَهَا ثَلَاثًا قَالَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا هَذَا الَّذِي غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُكَ عَلَى أُمَّتِكَ قَالَ أَئِمَّةً مُضِلِّينَ
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ چہل قدمی کر رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دجال کے علاوہ ایک اور چیز ہے جس سے مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کون سی چیز ہے جس سے آپ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ دجال کے علاوہ ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گمراہ کن ائمہ۔
20339
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ دَاوُدَ أَخْبَرَنَا ابْنُ لَهِيعَةُ عَنِ ابْنِ هُبَيْرَةَ عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ قَالَ سَمِعْتُ أَبَا ذَرٍّ يَقُولُ كُنْتُ مُخَاصِرَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى مَنْزِلِهِ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ غَيْرُ الدَّجَّالِ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِي مِنْ الدَّجَّالِ فَلَمَّا خَشِيتُ أَنْ يَدْخُلَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيُّ شَيْءٍ أَخْوَفُ عَلَى أُمَّتِكَ مِنْ الدَّجَّالِ قَالَ الْأَئِمَّةَ الْمُضِلِّينَ
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ چہل قدمی کر رہا تھا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا دجال کے علاوہ ایک اور چیز ہے جس سے مجھے اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے یہ جملہ تین مرتبہ دہرایا میں نے پوچھا یا رسول اللہ ! ﷺ وہ کون سی چیز ہے جس سے آپ کو اپنی امت پر سب سے زیادہ خطرہ محسوس ہوتا ہے اور وہ دجال کے علاوہ ہے ؟ نبی کریم ﷺ نے فرمایا گمراہ کن ائمہ۔
20340
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ مُحَمَّدٍ عَنْ الْأَعْمَشِ عَنْ مُجَاهِدٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَا أَبَا ذَرٍّ أَلَا أَدُلُّكَ عَلَى كَنْزٍ مِنْ كُنُوزِ الْجَنَّةِ قُلْ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے مجھ سے فرمایا اے ابوذر ! کیا جنت میں کے ایک خزانے کی طرف تمہاری رہنمائی نہ کروں ؟ لاحول ولاقوۃ الاباللہ کہا کرو۔
20341
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ الْأَعْمَشُ عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ جَبْرٍ أَبِي الْحَجَّاجِ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ اللَّيْثِيِّ عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُوتِيتُ خَمْسًا لَمْ يُؤْتَهُنَّ نَبِيٌّ كَانَ قَبْلِي نُصِرْتُ بِالرُّعْبِ فَيُرْعَبُ مِنِّي الْعَدُوُّ عَنْ مَسِيرَةِ شَهْرٍ وَجُعِلَتْ لِي الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَهُورًا وَأُحِلَّتْ لِي الْغَنَائِمُ وَلَمْ تَحِلَّ لِأَحَدٍ كَانَ قَبْلِي وَبُعِثْتُ إِلَى الْأَحْمَرِ وَالْأَسْوَدِ وَقِيلَ لِي سَلْ تُعْطَهْ فَاخْتَبَأْتُهَا شَفَاعَةً لِأُمَّتِي وَهِيَ نَائِلَةٌ مِنْكُمْ إِنْ شَاءَ اللَّهُ مَنْ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَا يُشْرِكُ بِهِ شَيْئًا قَالَ الْأَعْمَشُ فَكَانَ مُجَاهِدٌ يَرَى أَنَّ الْأَحْمَرَ الْإِنْسُ وَالْأَسْوَدَ الْجِنُّ
حضرت ابوذر (رض) سے مروی ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا مجھے پانچ ایسی خصوصیات دی گئی ہیں جو مجھ سے پہلے کسی نبی کو نہیں دی گئیں چناچہ رعب کے ذریعے میری مدد کی گئی ہے اور ایک مہینے کی مسافت پر ہی دشمن مجھ سے مرعوب ہوجاتا ہے، روئے زمین کو میرے لئے سجدہ گاہ اور باعث طہارت قرار دے دیا گیا ہے میرے لئے مال غنیمت کو حلال کردیا گیا ہے جو کہ مجھ سے پہلے کسی کے لئے حلال نہیں ہوا مجھے ہر سرخ و سیاہ کی طرف مبعوث کیا گیا ہے اور مجھ سے کہا گیا کہ مانگیے آپ کو دیا جائے گا تو میں نے اپنا یہ حق اپنی امت کی سفارش کے لئے محفوظ کرلیا ہے اور یہ شفاعت تم میں سے ہر اس شخص کو مل کر رہے گی جو اللہ تعالیٰ سے اس حال میں ملے کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہراتا ہو۔