hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

587. حضرت عماربن یاسر (رض) کی مرویات

مسند احمد

17598
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ حَدَّثَنَا هَمَّامٌ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ أَبِي نَضْرَةَ عَنْ قَيْسِ بْنِ عَبَّادٍ قَالَ قُلْتُ لِعَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ أَرَأَيْتَ هَذَا الْأَمْرَ الَّذِي أَتَيْتُمُوهُ بِرَأْيِكُمْ أَوْ شَيْءٌ عَهِدَهُ إِلَيْكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا عَهِدَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا لَمْ يَعْهَدْهُ إِلَى النَّاسِ
قیس بن عباد (رح) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمار بن یاسر (رض) سے پوچھا اے ابوالیقظان ! یہ بتائیے کہ جس مسئلے میں آپ لوگ پڑچکے ہیں وہ آپ کی اپنی رائے ہے یا نبی کریم ﷺ کی کوئی خاص وصیت ہے ؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے ہمیں خصوصیت کے ساتھ ایسی کوئی وصیت نہیں فرمائی جو عام لوگوں کو نہ فرمائی ہو۔
17599
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ حَدَّثَنَا شَرِيكٌ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْمُرَادِيِّ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَمَةَ قَالَ قَالَ عَمَّارٌ قَالَ لَمَّا هَجَانَا الْمُشْرِكُونَ شَكَوْنَا ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ قُولُوا لَهُمْ كَمَا يَقُولُونَ لَكُمْ قَالَ فَلَقَدْ رَأَيْتُنَا نُعَلِّمُهُ إِمَاءَ أَهْلِ الْمَدِينَةِ
حضرت عمار بن یاسر (رض) سے مروی ہے کہ جب مشرکین ہماری ہجو گوئی کرنے لگے تو ہم نے نبی کریم ﷺ سے اس کی شکایت کی نبی کریم ﷺ نے فرمایا جیسے وہ تمہاری ہجو بیان کرتے ہیں اسی طرح تم بھی ان ہجو بیان کرو چناچہ پھر ہم نے وہ وقت بھی دیکھا کہ ہم اہل مدینہ کی باندیوں کو وہ اشعار سکھایا کرتے تھے۔
17600
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ حَدَّثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ عَنْ نَاجِيَةَ الْعَنَزِيِّ قَالَ تَدَارَأَ عَمَّارٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فِي التَّيَمُّمِ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ لَوْ مَكَثْتُ شَهْرًا لَا أَجِدُ فِيهِ الْمَاءَ لَمَا صَلَّيْتُ فَقَالَ لَهُ عَمَّارٌ أَمَا تَذْكُرُ إِذْ كُنْتُ أَنَا وَأَنْتَ فِي الْإِبِلِ فَأَجْنَبْتُ فَتَمَعَّكْتُ تَمَعُّكَ الدَّابَّةِ فَلَمَّا رَجَعْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ بِالَّذِي صَنَعْتُ فَقَالَ إِنَّمَا كَانَ يَكْفِيكَ التَّيَمُّمُ
ناجیہ عنزی (رح) کہتے ہیں کہ جنبی کے تیمم کرنے کے مسئلہ میں حضرت عمار (رض) اور عبداللہ بن مسعود (رض) کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کا کہنا ہے کہ اگر جنابت کے بعد مجھے ایک مہینے تک پانی نہ ملے تب بھی میں غسل کئے بغیر نماز نہیں پڑھوں گا حضرت عمار (رض) کہنے لگے کیا آپ کو وہ واقعہ یاد نہیں ہے جب ایک مرتبہ میں اور آپ اونٹوں کے ایک باڑے میں تھے رات کو مجھ پر غسل واجب ہوگیا تو میں جانور کی طرح مٹی پر لوٹ پوٹ ہوگیا اور جب نبی کریم ﷺ کی خدمت میں واپسی ہوئی تو میں نے نبی کریم ﷺ سے اس کا ذکر کیا اور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تمہارے لئے تو تیمم ہی کافی تھا۔
17601
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي غَنِيَّةَ قَالَ حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَنْ جَدِّ أَبِيهِ الْمُخَارِقِ قَالَ لَقِيتُ عَمَّارًا يَوْمَ الْجَمَلِ وَهُوَ يَبُولُ فِي قَرْنٍ فَقُلْتُ أُقَاتِلُ مَعَكَ فَأَكُونُ مَعَكَ قَالَ قَاتِلْ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِكَ فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَسْتَحِبُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يُقَاتِلَ تَحْتَ رَايَةِ قَوْمِهِ
مخارق (رح) کہتے ہیں کہ جنگ جمل کے دن حضرت عمار (رض) سے میری ملاقات ہوگئی وہ ایک سینگ میں پیشاب کر رہے تھے میں نے ان سے پوچھا کیا میں آپ کی معیت میں قتال کرسکتا ہوں کہ مجھے آپ کی معیت نصیب ہوجائے ؟ انہوں نے فرمایا اپنی قوم کے جھنڈے تلے قتال کرو کیونکہ نبی کریم ﷺ اسی بات کو پسند فرماتے تھے کہ انسان اپنی قوم کے جھنڈے تلے قتال کرے۔
17602
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا قُرَيْشُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قَالَ حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبْجَرَ عَنْ أَبِيهِ عَنْ وَاصِلِ بْنِ حَيَّانَ قَالَ قَالَ أَبُو وَائِلٍ خَطَبَنَا عَمَّارٌ فَأَبْلَغَ وَأَوْجَزَ فَلَمَّا نَزَلَ قُلْنَا يَا أَبَا الْيَقْظَانِ لَقَدْ أَبْلَغْتَ وَأَوْجَزْتَ فَلَوْ كُنْتَ تَنَفَّسْتَ قَالَ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ إِنَّ طُولَ صَلَاةِ الرَّجُلِ وَقِصَرَ خُطْبَتِهِ مَئِنَّةٌ مِنْ فِقْهِهِ فَأَطِيلُوا الصَّلَاةَ وَأَقْصِرُوا الْخُطْبَةَ فَإِنَّ مِنْ الْبَيَانِ لَسِحْرًا
ابو وائل (رح) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت عمار (رض) نے ہمیں انتہائی بلیغ اور مختصر خطبہ ارشاد فرمایا جب وہ منبر سے نیچے اترے تو ہم نے عرض کیا اے ابوالیقظان ! آپ نے نہایت بلیغ اور مختصر خطبہ دیا اگر آپ درمیان میں سانس لے لیتے ( اور طویل گفتگو فرماتے تو کیا خوب ہوتا) انہوں نے جواب دیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے انسان کا لمبی نماز اور چھوٹا خطبہ دینا اس کی سمجھ داری کی علامت ہے لہٰذا نماز کو لمبا کیا کرو اور خطبہ کو مختصر کیا کرو کیونکہ بعض بیان جادو کا سا اثر رکھتے ہیں۔
17603
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ابْنِ الْحَنَفِيَّةِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُصَلِّي فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ فَرَدَّ عَلَيَّ السَّلَامَ
حضرت عمار بن یاسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا جو نماز پڑھ رہے تھے میں نے نبی کریم ﷺ کو سلام کیا تو آپ ﷺ نے مجھے جواب مرحمت فرمایا۔
17604
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ وَيُونُسُ قَالَا حَدَّثَنَا أَبَانُ حَدَّثَنَا قَتَادَةُ عَنْ عَزْرَةَ عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى عَنْ أَبِيهِ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ يُونُسُ إِنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ التَّيَمُّمِ فَقَالَ ضَرْبَةٌ لِلْكَفَّيْنِ وَالْوَجْهِ وَقَالَ عَفَّانُ إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُولُ فِي التَّيَمُّمِ ضَرْبَةٌ لِلْوَجْهِ وَالْكَفَّيْنِ
حضرت عمار (رض) سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ سے تیمم کے متعلق پوچھا تو نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک ضرب دونوں ہاتھوں کے لئے اور ایک ضرب چہرے کے لئے لگائی جائے۔
17605
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ حَدَّثَنَا إِسْرَائِيلُ عَنْ سِمَاكٍ عَنْ ثَرْوَانَ بْنِ مِلْحَانَ قَالَ كُنَّا جُلُوسًا فِي الْمَسْجِدِ فَمَرَّ عَلَيْنَا عَمَّارُ بْنُ يَاسِرٍ فَقُلْنَا لَهُ حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي الْفِتْنَةِ فَقَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ يَكُونُ بَعْدِي قَوْمٌ يَأْخُذُونَ الْمُلْكَ يَقْتُلُ عَلَيْهِ بَعْضُهُمْ بَعْضًا قَالَ قُلْنَا لَهُ لَوْ حَدَّثَنَا غَيْرُكَ مَا صَدَّقْنَاهُ قَالَ فَإِنَّهُ سَيَكُونُ
ثروان بن ملحان (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت عمار بن یاسر (رض) ہمارے پاس سے گذرے ہم نے ان سے درخواست کی کہ فتنوں کے حوالے سے آپ نے نبی کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے میرے بعد ایک ایسی قوم آئے گی جو اقتدار حاصل کرنے کے لئے ایک دوسرے کو قتل کردے گی ہم نے ان سے کہا کہ اگر آپ کے علاوہ کوئی اور شخص ہم سے یہ حدیث بیان کرتا تو ہم کبھی اس کی تصدیق نہ کرتے انہوں نے فرمایا ایسا ہو کر رہے گا۔
17606
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ بَحْرٍ حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ الْمُحَارِبِيُّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ كَعْبٍ الْقُرَظِيِّ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ خُثَيْمٍ أَبِي يَزِيدَ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ قَالَ كُنْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ رَفِيقَيْنِ فِي غَزْوَةِ ذَاتِ الْعُشَيْرَةِ فَلَمَّا نَزَلَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَقَامَ بِهَا رَأَيْنَا أُنَاسًا مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ يَعْمَلُونَ فِي عَيْنٍ لَهُمْ فِي نَخْلٍ فَقَالَ لِي عَلِيٌّ يَا أَبَا الْيَقْظَانِ هَلْ لَكَ أَنْ تَأْتِيَ هَؤُلَاءِ فَنَنْظُرَ كَيْفَ يَعْمَلُونَ فَجِئْنَاهُمْ فَنَظَرْنَا إِلَى عَمَلِهِمْ سَاعَةً ثُمَّ غَشِيَنَا النَّوْمُ فَانْطَلَقْتُ أَنَا وَعَلِيٌّ فَاضْطَجَعْنَا فِي صَوْرٍ مِنْ النَّخْلِ فِي دَقْعَاءَ مِنْ التُّرَابِ فَنِمْنَا فَوَاللَّهِ مَا أَهَبَّنَا إِلَّا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحَرِّكُنَا بِرِجْلِهِ وَقَدْ تَتَرَّبْنَا مِنْ تِلْكَ الدَّقْعَاءِ فَيَوْمَئِذٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَلِيٍّ يَا أَبَا تُرَابٍ لِمَا يُرَى عَلَيْهِ مِنْ التُّرَابِ قَالَ أَلَا أُحَدِّثُكُمَا بِأَشْقَى النَّاسِ رَجُلَيْنِ قُلْنَا بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ أُحَيْمِرُ ثَمُودَ الَّذِي عَقَرَ النَّاقَةَ وَالَّذِي يَضْرِبُكَ يَا عَلِيُّ عَلَى هَذِهِ يَعْنِي قَرْنَهُ حَتَّى تُبَلَّ مِنْهُ هَذِهِ يَعْنِي لِحْيَتَهُ
حضرت عمار بن یاسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ غزوہ ذات العشیرہ میں میں اور حضرت علی (رض) رفیق سفر تھے، جب نبی کریم ﷺ نے ایک مقام پر پڑاؤ ڈالا اور وہاں قیام فرمایا تو ہم نے بنی مدلج کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو اپنے باغات کے چشموں میں کام کر رہے تھے حضرت علی (رض) مجھ سے کہنے لگے اے ابوالیقظان ! آؤ، ان لوگوں کے پاس چل کر دیکھتے ہیں کہ یہ کس طرح کام کرتے ہیں ؟ چناچہ ہم ان کے قریب چلے گئے تھوڑی دیر تک ان کا کام دیکھا پھر ہمیں نیند کے جھونکے آنے لگے چناچہ ہم واپس آگئے اور ایک باغ میں مٹی کے اوپر ہی لیٹ گئے۔ ہم اس طرح بیخبر ہو کر سوئے کہ پھر نبی کریم ﷺ ہی نے آکر اٹھایا نبی کریم ﷺ ہمیں اپنے پاؤں سے ہلا رہے تھے اور ہم اس مٹی میں لت پت ہوچکے تھے اس دن نبی کریم ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا ابوتراب ! کیونکہ ان پر تراب (مٹی) زیادہ تھی پھر نبی کریم ﷺ نے فرمایا کیا میں تمہیں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ شقی دو آدمیوں کے متعلق نہ بتاؤں ؟ ہم نے عرض کیا کیوں نہیں یا رسول اللہ ﷺ ! نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک تو قوم ثمود کا وہ سرخ و سپید آدمی جس نے ناقتہ اللہ کی کونچیں کاٹی تھیں اور دوسرا وہ آدمی جو اے علی ! تمہارے سر پر وار کر کے تمہاری ڈاڑھی کو خون سے تر کردے گا۔
17607
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ حَدَّثَنَا أَبِي عَنْ صَالِحٍ قَالَ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ عَنْ عَمَّارِ بْنِ يَاسِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَرَّسَ بِأُوَلَاتِ الْجَيْشِ وَمَعَهُ عَائِشَةُ زَوْجَتُهُ فَانْقَطَعَ عِقْدٌ لَهَا مِنْ جَزْعِ ظَفَارِ فَحُبِسَ النَّاسُ ابْتِغَاءَ عِقْدِهَا وَذَلِكَ حَتَّى أَضَاءَ الْفَجْرُ وَلَيْسَ مَعَ النَّاسِ مَاءٌ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَى رَسُولِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رُخْصَةَ التَّطَهُّرِ بِالصَّعِيدِ الطَّيِّبِ فَقَامَ الْمُسْلِمُونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَضَرَبُوا بِأَيْدِيهِمْ الْأَرْضَ ثُمَّ رَفَعُوا أَيْدِيَهُمْ وَلَمْ يَقْبِضُوا مِنْ التُّرَابِ شَيْئًا فَمَسَحُوا بِهَا وُجُوهَهُمْ وَأَيْدِيَهُمْ إِلَى الْمَنَاكِبِ وَمِنْ بُطُونِ أَيْدِيهِمْ إِلَى الْآبَاطِ وَلَا يَغْتَرُّ بِهَذَا النَّاسُ وَبَلَغَنَا أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَالَ لِعَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُمَا وَاللَّهِ مَا عَلِمْتُ إِنَّكِ لَمُبَارَكَةٌ
حضرت عماربن یاسر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم ﷺ نے کسی لشکر کے ساتھ رات کے آخری حصے میں ایک جگہ پڑاؤ کیا نبی کریم ﷺ کی زوجہ محترمہ حضرت عائشہ (رض) بھی نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھیں اسی رات ان کا ہاتھی دانت کا ایک ہار ٹوٹ کر گرپڑا لوگ ان کا ہار تلاش کرنے کے لئے رک گئے یہ سلسلہ طلوع فجر تک چلتا رہا اور لوگوں کے پاس پانی بھی نہیں تھا (کہ نماز پڑھ سکیں) اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے وضو میں رخصت کا پہلو یعنی پاک مٹی کے ساتھ تیمم کرنے کا حکم نازل فرما دیا، چناچہ تمام مسلمان نبی کریم ﷺ کے ساتھ کھڑے ہوئے اور زمین پر ہاتھ مار کر اپنے ہاتھ اٹھائے لیکن مٹی نہیں اٹھائی اور اپنے چہروں اور کندھوں تک ہاتھوں پر انہیں پھیرلیا اسی طرح ہاتھوں کے باطنی حصے پر بغلوں تک اسے پھیرلیا لہٰذا لوگ اس میں شکوک کا شکار نہ ہوں اور ہمیں یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ حضرت صدیق اکبر (رض) نے اپنی صاحبزادی عائشہ صدیقہ (رض) سے فرمایا بخدا ! مجھے معلوم نہ تھا کہ تو اتنی مبارک ہے۔