hadith book logo

Musnad Imam Ahmad

525. حضرت عبید بن خالد سلمی (رض) کی حدیثیں

مسند احمد

17247
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ قَالَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتُمْ قَالُوا دَعَوْنَا لَهُ اللَّهُمَّ أَلْحِقْهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَأَيْنَ صَوْمُهُ بَعْدَ صَوْمِهِ وَأَيْنَ عَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ شَكَّ فِي الصَّلَاةِ وَالْعَمَلِ شُعْبَةُ فِي أَحَدِهِمَا الَّذِي بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ يُحَدِّثُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ آخَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ
حضرت عبید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی ﷺ نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں ؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے ؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔ گذشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔
17248
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا عَفَّانُ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ حَدَّثَنَا ابْنُ مُرَّةَ قَالَ سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مَيْمُونٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَجُلٌ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ قَالَ آخَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَ رَجُلَيْنِ فَقُتِلَ أَحَدُهُمَا وَمَاتَ الْآخَرُ بَعْدَهُ فَصَلَّيْنَا عَلَيْهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَا قُلْتُمْ قَالُوا دَعَوْنَا لَهُ أَنْ يَغْفِرَ لَهُ وَأَنْ يَرْحَمَهُ وَأَنْ يُلْحِقَهُ بِصَاحِبِهِ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَيْنَ صَلَاتُهُ بَعْدَ صَلَاتِهِ وَعَمَلُهُ بَعْدَ عَمَلِهِ أَوْ صِيَامُهُ بَعْدَ صِيَامِهِ قَالَ إِنَّ مَا بَيْنَهُمَا كَمَا بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ
حضرت عبید بن خالد (رض) سے مروی ہے کہ نبی ﷺ نے دو آدمیوں کے درمیان مواخات فرمائی، ان میں سے ایک تو نبی ﷺ کے زمانے میں پہلے شہید ہوگیا اور کچھ عرصے بعد دوسرا طبعی طور پر فوت ہوگیا، لوگ اس کے لئے دعاء کرنے لگے، نبی ﷺ نے فرمایا تم لوگ کیا دعاء کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کیا کہ یہ کہہ رہے ہیں اے اللہ ! اس کی بخشش فرما، اس پر رحم فرما اور اسے اس کے ساتھی کی رفاقت عطاء فرما، نبی ﷺ نے فرمایا تو پھر شہید ہونے والے کے بعد اس کی پڑھی جانے والی نمازیں کہاں گئیں ؟ جو روزے اس نے بعد میں رکھے یا جو بھی اعمال کئے، وہ کہاں جائیں گے ؟ ان دونوں کے درمیان تو زمین و آسمان سے بھی زیادہ فاصلہ ہے۔
17249
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ أَوْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَوْتُ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ وَحَدَّثَ بِهِ مَرَّةً عَنْ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
حضرت عبید بن خالد (رض) جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگہانی موت افسوسناک موت ہے۔ گذشتہ حدیث مرفوعاً بھی مروی ہے۔
17250
Musnad Imam Ahmad
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ عَنْ مَنْصُورٍ عَنْ تَمِيمِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ عُبَيْدِ بْنِ خَالِدٍ السُّلَمِيِّ وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ فِي مَوْتِ الْفَجْأَةِ أَخْذَةُ أَسَفٍ
حضرت عبید بن خالد (رض) جو کہ صحابی تھے سے مروی ہے کہ ناگنہانی موت افسوسناک موت ہے۔