Mishkaat Shareef
100. باری مقرر کرنے کا بیان
مشكاة المصابيح
3238
Mishkaat Shareefاگر کسی شخص کی ایک سے زائد بیویاں ہوں تو ان کے ساتھ شب باشی کے لئے نوبت باری مقرر کرنا واجب ہے یعنی ان بیویوں کے پاس باری باری سے جانا چاہئے۔ اس سلسلہ میں چند باتوں کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے۔ -1 جب باری مقرر ہوجائے تو ایک بیوی کی باری میں دوسری بیوی کے ہاں شب باشی جائز نہیں ہے مثلا جس رات میں پہلی بیوی کے ہاں جانا ہو اس رات میں دوسری بیوی کے ہاں نہ جائے۔ -2 ایک رات میں بیک وقت دو بیویوں کے ساتھ شب باشی جائز نہیں ہے اگر وہ دونوں بیویاں اس کی اجازت دیدیں اور وہ خود بھی اس کے لئے تیار ہوں تو جائز ہے۔ آنحضرت ﷺ کے بارے میں جو یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے ایک رات میں ایک سے زائد بیویوں سے جماع کیا ہے تو یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب کے باری مقرر کرنا واجب نہیں تھا یا یہ کہ اس سلسلہ میں آپ ﷺ کو ان بیویوں کی اجازت حاصل تھی اس کے علاوہ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ باری مقرر کرنا آنحضرت ﷺ پر واجب نہیں تھا۔ بلکہ آپ ﷺ نے محض اپنے کرم اور اپنی عنایت سے اپنی ہر زوجہ مطہرہ کے ہاں رہنے کی باری مقرر کردی تھی۔ -3 سفر کی حالت میں بیویوں کو باری کا حق حاصل نہیں ہوتا اور نہ کسی بیوی کی باری کا لحاظ رکھنا ضروری ہے بلکہ اس کا انحصار خاوند کی مرضی پر ہے کہ وہ جس بیوی کو چاہے اپنے ساتھ سفر میں لے جائے اگرچہ بہتر اولی یہی ہے کہ خاوند اپنی بیویوں کے درمیان قرعہ ڈال لے اور جس کا نام قرعہ میں نکلے اس کو سفر میں ساتھ رکھے۔ -4 مقیم کے حق میں اصلی باری کا تعلق رات سے ہے دن رات کا تابع ہے ہاں جو شخص رات میں اپنے کام کاج میں مشغول رہتا ہو مثلا چوکیداری وغیرہ کرتا ہو اور اس کی وجہ سے وہ رات اپنے گھر میں بسر نہ کرسکتا ہو تو اس کے حق میں اصل باری کا تعلق دن سے ہوگا۔ درمختار میں یہ لکھا ہے کہ جس شخص کے ایک سے زائد بیویاں ہوں تو اس پر ان بیویوں کے پاس رات میں رہنے اور ان کے کھلانے پلانے میں برابری کرنا واجب ہے ان کے ساتھ جماع کرنے یا جماع نہ کرنے اور پیار و محبت میں برابری کرنا واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ کسی عورت کا جماع سے متعلق اس کے شوہر پر حق ہوتا ہے اور وہ ایک بار جماع کرنے سے ساقط ہوجاتا ہے جماع کرنے کے بارے میں شوہر خود مختار ہے کہ جب چاہے کرے لیکن کبھی کبھی جماع کرلینا اس پر دیانۃً واجب ہے اور مدت ایلاء کے بقدر یعنی چار چار مہینہ تک جماع نہ کرنا خاوند کے لئے مناسب نہیں ہے ہاں اگر بیوی کی مرضی سے اتنے دنوں جماع نہ کرے تو پھر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ ہر بیوی کے ہاں ایک ایک رات اور ایک ایک دن رہنا چاہئے لیکن برابری کرنا رات ہی میں ضروری ہے چناچہ اگر کوئی شخص ایک بیوی کے ہاں مغرب کے فورًا بعد چلا گیا اور دوسری بیوی کے ہاں عشاء کے بعد گیا تو اس کا یہ فعل برابری کے منافی ہوگا اور اس کے بارے میں کہا جائے گا کہ اس نے باری کے حکم کو ترک کیا کسی بیوی سے اس کی باری کے علاوہ یعنی کسی دوسری بیوی کی باری میں) جماع نہ کرے اسی طرح کسی بیوی کے پاس اس کی باری کے علاوہ کسی رات میں نہ جائے ہاں اگر وہ بیوی بیمار ہو تو اس کی عیادت کے لئے جاسکتا ہے بلکہ اگر اس کا مرض شدید ہو تو اس کی باری کے علاوہ بھی اس کے پاس اس وقت تک رہنا جائز جب تک کہ وہ شفایاب نہ ہو یا اس کا انتقال ہوجائے لیکن یہ اس صورت میں جائز ہے جب کہ اس کے پاس کوئی اور تیمار داری اور غم خواری کے لئے نہ ہو اور اگر خاوند اپنے گھر میں بیماری کی حالت میں ہو تو وہ اپنی ہر بیوی کو اس کی باری میں بلاتا رہے۔
3239
Mishkaat Shareefعن ابن عباس : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قبض عن تسع نسوة وكان يقسم منهن لثمان
-1 حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ جس وقت رسول کریم ﷺ نے وفات پائی اس وقت آپ ﷺ کے نکاح میں نو بیویاں تھیں جن میں سے آٹھ بیویوں کی باری مقرر تھی ( بخاری ومسلم)
تشریح
یوں تو آنحضرت ﷺ کی گیارہ بیویاں تھیں یہاں صرف ان بیویوں کی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ ﷺ کی وفات کے وقت آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں اور جن کے اسماء یہ ہیں۔ (١) حضرت عائشہ (٢) حضرت حفصہ (٣) حضرت ام حبیبہ (٤) حضرت سودہ (٥) حضرت ام سلمہ (٦) حضرت صفیہ (٧) حضرت میمونہ (٨) حضرت زینب بنت جحش (٩) حضرت جویریہ۔ ان نو بیویوں میں سے آٹھ کی باری مقرر تھی اور نویں حضرت سودہ کے لئے کوئی باری نہ تھی کیونکہ انہوں نے اپنی مرضی سے اپنی باری حضرت عائشہ کو دیدی تھی چناچہ آپ ﷺ ان کی باری میں حضرت عائشہ کے پاس رہتے تھے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہوگا۔
تشریح
یوں تو آنحضرت ﷺ کی گیارہ بیویاں تھیں یہاں صرف ان بیویوں کی تعداد کا ذکر کیا گیا ہے جو آپ ﷺ کی وفات کے وقت آپ ﷺ کے نکاح میں تھیں اور جن کے اسماء یہ ہیں۔ (١) حضرت عائشہ (٢) حضرت حفصہ (٣) حضرت ام حبیبہ (٤) حضرت سودہ (٥) حضرت ام سلمہ (٦) حضرت صفیہ (٧) حضرت میمونہ (٨) حضرت زینب بنت جحش (٩) حضرت جویریہ۔ ان نو بیویوں میں سے آٹھ کی باری مقرر تھی اور نویں حضرت سودہ کے لئے کوئی باری نہ تھی کیونکہ انہوں نے اپنی مرضی سے اپنی باری حضرت عائشہ کو دیدی تھی چناچہ آپ ﷺ ان کی باری میں حضرت عائشہ کے پاس رہتے تھے جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہوگا۔
3240
Mishkaat Shareefوعن عائشة أن سودة لما كبرت قالت : يا رسول الله قد جعلت يومي منك لعائشة فكان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقسم لعائشة يومين يومها ويوم سودة
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ حضرت سودہ کی عمر جب زیادہ ہوگئی تو انہوں نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ میں نے اپنی باری کا دن جو آپ ﷺ نے میرے لئے مقرر کیا تھا عائشہ کو دیدیا۔ چناچہ اس کے بعد آپ حضرت عائشہ کے ہاں دو دن رہنے لگے ایک دن تو ان کی باری میں اور ایک دن حضرت سودہ کی باری میں (بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت سودہ کے والد کا نام زمعہ اور والدہ کا نام سموس تھا پہلے ان کی شادی حضرت سکران کے ساتھ ہوئی تھی یہ دونوں آنحضرت ﷺ کی بعثت کے ابتدائی ایام میں اسلام لے آئے تھے اور ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے جب ان کے خاوند حضرت سکران کا انتقال ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد مکہ میں ان سے نکاح کیا حضرت عائشہ (رض) آپ ﷺ کا نکاح ان کے نکاح کے بعد ہوا۔ حضرت عمر یا حضرت معاویہ کے زمانہ میں ان کا انتقال ہوا اور مدینہ منورہ میں مدفون ہوئیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کی کوئی بیوی اپنی باری اپنی کسی سوکن کو دے تو جائز ہے بشرطیکہ اس میں شوہر کی طرف سے کسی لالچ یا جبر کا دخل نہ ہو نیز اپنی باری اپنی کسی سوکن کو دینے والی عورت کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ وہ جب چاہے اپنی پیش کش کو واپس لے لے۔
تشریح
حضرت سودہ کے والد کا نام زمعہ اور والدہ کا نام سموس تھا پہلے ان کی شادی حضرت سکران کے ساتھ ہوئی تھی یہ دونوں آنحضرت ﷺ کی بعثت کے ابتدائی ایام میں اسلام لے آئے تھے اور ہجرت کر کے حبشہ چلے گئے تھے جب ان کے خاوند حضرت سکران کا انتقال ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے حضرت خدیجہ کی وفات کے بعد مکہ میں ان سے نکاح کیا حضرت عائشہ (رض) آپ ﷺ کا نکاح ان کے نکاح کے بعد ہوا۔ حضرت عمر یا حضرت معاویہ کے زمانہ میں ان کا انتقال ہوا اور مدینہ منورہ میں مدفون ہوئیں۔ فقہاء نے لکھا ہے کہ اگر کسی شخص کی کوئی بیوی اپنی باری اپنی کسی سوکن کو دے تو جائز ہے بشرطیکہ اس میں شوہر کی طرف سے کسی لالچ یا جبر کا دخل نہ ہو نیز اپنی باری اپنی کسی سوکن کو دینے والی عورت کے لئے یہ بھی جائز ہے کہ وہ جب چاہے اپنی پیش کش کو واپس لے لے۔
3241
Mishkaat Shareefوعنها أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يسأل في مرضه الذي مات فيه : أين أنا غدا ؟ يريد يوم عائشة فأذن له أزواجه يكون حيث شاء فكان في بيت عائشة حتى مات عندها . رواه البخاري
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی اس بیماری میں کہ جس میں آپ ﷺ نے وفات پائی (روزانہ) یہ پوچھا کرتے تھے کہ کل میں کہاں رہوں گا کہ کل میں کس بیوی کے گھر رہوں گا اور اس دریافت کرنے سے آپ کا منشاء یہ معلوم ہوتا تھا کہ عائشہ کی باری کس دن ہے کیونکہ آپ ﷺ کو حضرت عائشہ (رض) بہت زیادہ محبت تھی اس لئے آپ ﷺ ان کی باری کے شدت سے منتظر رہتے تھے) چناچہ ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کے اس قلبی اضطراب کو محسوس کیا تو سب نے یہ اجازت دیدی کہ آپ ﷺ جس کے ہاں چاہیں رہیں پھر آپ ﷺ حضرت عائشہ ہی کے ہاں مقیم رہے یہاں تک کہ انہیں کے پاس آپ نے وفات پائی (بخاری)
تشریح
( یرید یوم عائشۃ) ما قبل جملہ کی وضاحت ہے کہ یعنی آپ ﷺ کا روزانہ پوچھنا ازواج مطہرات سے طلب اجازت کے لئے تھا کہ تمام ازواج مطہرات آپ ﷺ کو حضرت عائشہ ہی کے ہاں رہنے کی اجازت دیدیں چناچہ یہ جملہ (فاذن لہ ازواجہ) ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کو اجازت دیدی اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔
تشریح
( یرید یوم عائشۃ) ما قبل جملہ کی وضاحت ہے کہ یعنی آپ ﷺ کا روزانہ پوچھنا ازواج مطہرات سے طلب اجازت کے لئے تھا کہ تمام ازواج مطہرات آپ ﷺ کو حضرت عائشہ ہی کے ہاں رہنے کی اجازت دیدیں چناچہ یہ جملہ (فاذن لہ ازواجہ) ازواج مطہرات نے آپ ﷺ کو اجازت دیدی اسی بات پر دلالت کرتا ہے۔
3242
Mishkaat Shareefوعنها قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا أراد سفرا أقرع بين نسائه فأيهن خرج سهمها خرج بها معه (2/233)
اور حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ جب رسول کریم ﷺ سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنی بیوی کے درمیان قرعہ ڈالتے ان میں سے جس کا نام قرعہ میں نکلتا اسی کو آپ ﷺ اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے ( بخاری و مسلم)
3243
Mishkaat Shareefوعن أبي قلابة عن أنس قال : من السنة إذا تزوج الرجل البكر على الثيب أقام عندها سبعا وقسم إذا تزوج الثيب أقام عندها ثلاثا ثم قسم . قال أبو قلابة : ولو شئت لقلت : إن أنسا رفعه إلى النبي صلى الله عليه و سلم
اور حضرت ابوقلابہ تابعی حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا یہ مسنون ہے کہ جب کوئی شخص ثیبہ کی موجودگی میں کسی باکرہ سے نکاح کرے تو سات رات تک اس کے پاس رہے اور پھر اس میں اور پرانی بیویوں کے درمیان باری مقرر کر دے اور کسی ثیب یعنی کسی بیوہ یا مطلقہ عورت سے نکاح کرے تو اس کے پاس تین رات رہے اور پھر باری مقرر کر دے۔ حضرت ابوقلابہ کہتے ہیں کہ اگر میں چاہتا تو یہ کہتا کہ حضرت انس نے یہ حدیث آنحضرت ﷺ سے نقل کی ہے (بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت امام شافعی نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی شخص کے نکاح میں کئی عورتیں ہوں یا ایک عورت ہو اور پھر وہ ایک عورت سے نکاح کرے تو اگر وہ عورت باکرہ (کنواری) ہو تو اس کے پاس سات رات تک رہے اور اگر وہ ثیبہ (یعنی بیوہ یا مطلقہ ہو) تو اس کے پاس تین رات تک رہے اور پھر نئی اور پرانی بیویوں کے درمیان باری مقرر کر دے کہ ہر ایک کے پاس برابر برابر ایک ایک رات جایا کرے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس سلسلہ میں باکرہ اور ثیب یا نئی اور پرانی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ باری کے اعتبار سے سب برابر ہیں انہوں نے ان دونوں حدیثوں پر عمل کیا ہے جو اس باب کی دوسری فصل میں آئیں گی اور جن میں اس قسم کا فرق و امتیاز بیان نہیں کیا گیا ہے، امام اعظم کے نزدیک اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ایک یا ایک سے زائد بیویوں کی موجودگی میں کسی باکرہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات رات تک رہے اور پھر پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے پاس سات سات رات تک رہے اور اگر ثیبہ کے ساتھ نکاح کرے تو اس کے پاس تین رات تک رہے اور پھر پہلی بیویوں سے بھی ہر ایک کے پاس تین تین رات تک رہے۔ روایت کے آخر میں ابوقلابہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں چاہتا تو اس حدیث کو مرفوع کہتا یعنی یہ کہتا کہ اس حدیث کو حضرت انس نے آنحضرت ﷺ سے نقل کیا ہے کیونکہ صحابہ کا یہ کہنا کہ یہ مسنون ہے مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔
تشریح
حضرت امام شافعی نے اس حدیث پر عمل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کسی شخص کے نکاح میں کئی عورتیں ہوں یا ایک عورت ہو اور پھر وہ ایک عورت سے نکاح کرے تو اگر وہ عورت باکرہ (کنواری) ہو تو اس کے پاس سات رات تک رہے اور اگر وہ ثیبہ (یعنی بیوہ یا مطلقہ ہو) تو اس کے پاس تین رات تک رہے اور پھر نئی اور پرانی بیویوں کے درمیان باری مقرر کر دے کہ ہر ایک کے پاس برابر برابر ایک ایک رات جایا کرے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس سلسلہ میں باکرہ اور ثیب یا نئی اور پرانی کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے۔ باری کے اعتبار سے سب برابر ہیں انہوں نے ان دونوں حدیثوں پر عمل کیا ہے جو اس باب کی دوسری فصل میں آئیں گی اور جن میں اس قسم کا فرق و امتیاز بیان نہیں کیا گیا ہے، امام اعظم کے نزدیک اس حدیث کے یہ معنی ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی ایک یا ایک سے زائد بیویوں کی موجودگی میں کسی باکرہ سے نکاح کرے تو اس کے پاس سات رات تک رہے اور پھر پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے پاس سات سات رات تک رہے اور اگر ثیبہ کے ساتھ نکاح کرے تو اس کے پاس تین رات تک رہے اور پھر پہلی بیویوں سے بھی ہر ایک کے پاس تین تین رات تک رہے۔ روایت کے آخر میں ابوقلابہ کا مطلب یہ ہے کہ اگر میں چاہتا تو اس حدیث کو مرفوع کہتا یعنی یہ کہتا کہ اس حدیث کو حضرت انس نے آنحضرت ﷺ سے نقل کیا ہے کیونکہ صحابہ کا یہ کہنا کہ یہ مسنون ہے مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے۔
3244
Mishkaat Shareefوعن أبي بكر بن عبد الرحمن : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم حين تزوج أم سلمة وأصبحت عنده قال لها : ليس بك على أهلك هوان إن شئت سبعت عندك وسبعت عندهن وإن شئت ثلثت عندك ودرت . قالت : ثلث . وفي رواية : أنه قال لها : للبكر سبع وللثيب ثلاث . رواه مسلم
اور حضرت ابوبکر بن عبدالرحمن کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جب حضرت ام سلمہ (رض) سے نکاح کیا تو دوسرے دن صبح کو ان سے فرمایا کہ تمہارے خاندان والوں کے لئے تہاری طرف سے اس میں کوئی ذلت نہیں کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے پاس سات رات رہوں اور پھر دوسری تمام بیویوں کے پاس بھی سات سات رات تک رہوں اور اگر تم چاہو تو تمہارے پاس تین رات تک رہوں اور پھر اس کے بعد دورہ کروں (یعنی تمام بیویوں کے پاس بھی تین تین رات تک رہوں) حضرت ام سلمہ نے یہ سن کر کہا کہ آپ ﷺ میرے پاس تین راتیں رہئے۔ ایک اور روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ام سلمہ (رض) سے فرمایا کہ کنواری کے پاس سات رات تک رہنا چاہئے اور ثیبہ کے پاس تین رات تک (مسلم)
تشریح
اس میں کوئی ذلت نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے پاس جو تین رات رہوں گا تو اس کی وجہ سے تمہارے خاندان و قبیلہ پر کسی حقارت یا ذلت کا داغ نہیں لگے گا کیونکہ تمہارے ساتھ میرا تین رات تک رہنا تمہاری صحبت و اختلاط سے بےرغبتی کے سبب سے نہیں ہے بلکہ شرعی حکم کی بناء پر ہے ان الفاظ کے ذریعہ گو آپ ﷺ نے اس عذر کی تمہید بیان فرمائی ہے جس کی وجہ سے شادی کی ابتداء کے ایام میں حضرت ام سلمہ کے ہاں شب باشی کے لئے صرف تین راتوں پر اکتفاء کرنا پڑا اور وہ عذر یہ شرعی حکم ہے کہ اگر اپنی پہلی بیوی کی موجودگی میں کسی اور عورت سے نکاح کیا جائے۔ تو اس نئی بیوی کے ساتھ مسلسل سات دن تک شب باشی اس صورت میں جائز ہوگی جب کہ وہ باکرہ کنواری ہو لیکن اس کے بعد پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے ہاں سات سات دن تک شب باشی ہونی چاہئے۔ تا کہ باری کے اعتبار سے کسی کے ساتھ بےانصافی اور حق تلفی نہ ہو اور اگر وہ نئی بیوی ثیبہ ( کسی کی بیوہ یا مطلقہ) ہو تو پھر اس کے ساتھ ساتھ تین دین تک شب باشی کی جائے لیکن اس کے بعد پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے ساتھ تین تین دن تک شب باشی کی جائے چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ام سلمہ کے سامنے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے یہاں بھی سات راتوں تک رہ سکتا ہوں لیکن یہ حق کنواری عورت کے لئے ہے اور تم ثیبہ ہو اور پھر یہ کہ بعد میں مجھے دوری تمام بیویوں کے پاس بھی سات سات راتوں تک رہنا ہوگا اس لئے یہتر یہ ہے کہ ثیبہ کے حق میں جو حکم ہے اسی کے مطابق میں تمہارے پاس تین دن تک شب باشی کروں اور پھر بعد میں ہر ایک بیوی کے ہاں تین تین دن تک شب باشی کر کے تمہارے سب کے درمیان باری مقرر کر دوں لہذا حضرت ام سلمہ نے منشاء شریعت اور مزاج نبوت کے مطابق اسی بات کو قبول کیا کہ آپ ﷺ کے ہاں تین رات تک رہیں۔
تشریح
اس میں کوئی ذلت نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ میں تمہارے پاس جو تین رات رہوں گا تو اس کی وجہ سے تمہارے خاندان و قبیلہ پر کسی حقارت یا ذلت کا داغ نہیں لگے گا کیونکہ تمہارے ساتھ میرا تین رات تک رہنا تمہاری صحبت و اختلاط سے بےرغبتی کے سبب سے نہیں ہے بلکہ شرعی حکم کی بناء پر ہے ان الفاظ کے ذریعہ گو آپ ﷺ نے اس عذر کی تمہید بیان فرمائی ہے جس کی وجہ سے شادی کی ابتداء کے ایام میں حضرت ام سلمہ کے ہاں شب باشی کے لئے صرف تین راتوں پر اکتفاء کرنا پڑا اور وہ عذر یہ شرعی حکم ہے کہ اگر اپنی پہلی بیوی کی موجودگی میں کسی اور عورت سے نکاح کیا جائے۔ تو اس نئی بیوی کے ساتھ مسلسل سات دن تک شب باشی اس صورت میں جائز ہوگی جب کہ وہ باکرہ کنواری ہو لیکن اس کے بعد پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے ہاں سات سات دن تک شب باشی ہونی چاہئے۔ تا کہ باری کے اعتبار سے کسی کے ساتھ بےانصافی اور حق تلفی نہ ہو اور اگر وہ نئی بیوی ثیبہ ( کسی کی بیوہ یا مطلقہ) ہو تو پھر اس کے ساتھ ساتھ تین دین تک شب باشی کی جائے لیکن اس کے بعد پہلی بیویوں میں سے بھی ہر ایک کے ساتھ تین تین دن تک شب باشی کی جائے چناچہ آنحضرت ﷺ نے حضرت ام سلمہ کے سامنے اس مسئلہ کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہارے یہاں بھی سات راتوں تک رہ سکتا ہوں لیکن یہ حق کنواری عورت کے لئے ہے اور تم ثیبہ ہو اور پھر یہ کہ بعد میں مجھے دوری تمام بیویوں کے پاس بھی سات سات راتوں تک رہنا ہوگا اس لئے یہتر یہ ہے کہ ثیبہ کے حق میں جو حکم ہے اسی کے مطابق میں تمہارے پاس تین دن تک شب باشی کروں اور پھر بعد میں ہر ایک بیوی کے ہاں تین تین دن تک شب باشی کر کے تمہارے سب کے درمیان باری مقرر کر دوں لہذا حضرت ام سلمہ نے منشاء شریعت اور مزاج نبوت کے مطابق اسی بات کو قبول کیا کہ آپ ﷺ کے ہاں تین رات تک رہیں۔
3245
Mishkaat Shareefعن عائشة : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يقسم بين نسائه فيعدل ويقول : اللهم هذا قسمي فيما أملك فلا تلمني فيما تملك ولا أملك . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي
حضرت عائشہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اپنی بیویوں کے درمیان باری مقرر فرماتے اور عدل سے کام لیتے ( یعنی ان کے پاس رات رہنے کے سلسلہ میں برابری کا خیال رکھتے) اور پھر اس احتیاط و عدل کے باوجود یہ دعا مانگا کرتے کہ اے اللہ جس چیز کا میں مالک ہوں اس میں باری مقرر کردی ہے لہذا جس کا تو مالک ہے میں مالک نہیں ہوں اس پر مجھے ملامت نہ کیجئے ! (ترمذی ابوداؤد نسائی ابن ماجہ دارمی)
تشریح
دعا کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیویوں کے پاس جانے کی باری مقرر کرنے اور ان کے نان نفقہ کا میں مالک ہوں لہذا ان چیزوں میں عدل و برابری کرنا میری ذمہ داری ہے جسے میں پورا کرتا ہوں اور کسی بھی بیوی کے ساتھ ناانصافی یا اس کی حق تلفی نہیں کرتا ہاں پیار و محبت کا معاملہ دل سے متعلق ہے جس پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں اس میں برابری نہیں کرسکتا اس لئے اگر مجھے کسی بیوی سے زیادہ محبت اور کسی سے کم محبت ہو تو چونکہ میرے قصد و ارادہ کو دخل نہیں ہوگا لہذا اس پر مجھ سے مؤ اخذہ نہ کیجئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے ایک سے زائد بیویاں ہوں تو اس پر یہ لازم ہے کہ وہ ان بیویوں کے پاس جائے ان کے ہاں شب گزارے اور ان کے نان و نفقہ میں پورا پورا عدل کرے اور ان چیزوں میں ان کے درمیان اس طرح برابری کرے کہ کسی بھی بیوی کو فرق و امتیاز کی شکایت نہ ہو ہاں پیار و محبت مباشرت و جماع اور جنسی لطف حاصل کرنے کے بارے میں عدل و برابری لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ چیزیں دل و طیبعت سے متعلق ہیں جس پر کسی انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔
تشریح
دعا کا مطلب یہ ہے کہ اپنی بیویوں کے پاس جانے کی باری مقرر کرنے اور ان کے نان نفقہ کا میں مالک ہوں لہذا ان چیزوں میں عدل و برابری کرنا میری ذمہ داری ہے جسے میں پورا کرتا ہوں اور کسی بھی بیوی کے ساتھ ناانصافی یا اس کی حق تلفی نہیں کرتا ہاں پیار و محبت کا معاملہ دل سے متعلق ہے جس پر میرا کوئی اختیار نہیں ہے۔ میں اس میں برابری نہیں کرسکتا اس لئے اگر مجھے کسی بیوی سے زیادہ محبت اور کسی سے کم محبت ہو تو چونکہ میرے قصد و ارادہ کو دخل نہیں ہوگا لہذا اس پر مجھ سے مؤ اخذہ نہ کیجئے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جس شخص کے ایک سے زائد بیویاں ہوں تو اس پر یہ لازم ہے کہ وہ ان بیویوں کے پاس جائے ان کے ہاں شب گزارے اور ان کے نان و نفقہ میں پورا پورا عدل کرے اور ان چیزوں میں ان کے درمیان اس طرح برابری کرے کہ کسی بھی بیوی کو فرق و امتیاز کی شکایت نہ ہو ہاں پیار و محبت مباشرت و جماع اور جنسی لطف حاصل کرنے کے بارے میں عدل و برابری لازم نہیں ہوگی کیونکہ یہ چیزیں دل و طیبعت سے متعلق ہیں جس پر کسی انسان کا اختیار نہیں ہوتا۔
3246
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إذا كانت عند الرجل امرأتان فلم يعدل بينهما جاء يوم القيامة وشقه ساقط . رواه الترمذي وأبو داود والنسائي وابن ماجه والدارمي
اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس شخص کے نکاح میں ایک سے زائد مثلا) دو بیویاں ہوں اور وہ ان دونوں کے درمیان عدل و برابری نہ کرتا ہو تو وہ قیامت کے دن (میدان حشر میں) اس طرح آئے گا کہ اس کا آدھا دھڑ ساقط ہوگا ( ترمذی، ابوداؤد، نسائی، ابن ماجہ)
تشریح
جس شخص کے ہاں ایک سے زائد بیویاں ہوں خواہو وہ دو ہوں اور خواہ تین یا چار ہوں اور وہ ان دونوں کے درمیان عدل و برابری نہ کرتا ہو تو اس کی اس بےانصافی پر مذکورہ بالا سزا کی دھمکی دی گئی ہے لہذا باری میں برابری کرنا بایں اعتبار سے واجب ہے کہ رات جتنا حصہ ایک بیوی کے ہاں گزارتا ہو اتنا ہی حصہ دوسری بیوی کے ہاں بھی گزارنا چاہئے مثلا اگر ایک بیوی کے ہاں مغرب کے بعد چلا جاتا ہے تو دوسری بیوی کے ہاں بھی مغرب کے بعد ہی چلا جائے اگر اس کے پاس عشاء کے بعد جائے گا تو یہ عدل و انصاف کے خلاف ہوگا یہاں صحبت کے معاملہ میں برابری کرنا واجب نہیں ہے۔ اس بارے میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ اس حکم میں باکرہ، ثیبہ، نئی، پرانی مسلمان اور کتابیہ سب برابر ہیں اور سب کے حقوق یکساں ہیں البتہ آزاد عورت کی بہ نسبت لونڈی، کا تبہ، مدبرہ اور ام ولد کیلئے آدھی باری ہے یعنی اگر کسی شخص کے نکاح میں ایک آزاد عورت ہو اور کسی کی لونڈی وغیرہ سے بھی اس نے نکاح کر رکھا ہو تو لونڈی وغیرہ کے پاس ایک رات رہے اور آزاد عورت کے پاس دو راتیں رہے ! حرم (باندی) کے لئے باری مقرر کرنا واجب نہیں ہے۔
تشریح
جس شخص کے ہاں ایک سے زائد بیویاں ہوں خواہو وہ دو ہوں اور خواہ تین یا چار ہوں اور وہ ان دونوں کے درمیان عدل و برابری نہ کرتا ہو تو اس کی اس بےانصافی پر مذکورہ بالا سزا کی دھمکی دی گئی ہے لہذا باری میں برابری کرنا بایں اعتبار سے واجب ہے کہ رات جتنا حصہ ایک بیوی کے ہاں گزارتا ہو اتنا ہی حصہ دوسری بیوی کے ہاں بھی گزارنا چاہئے مثلا اگر ایک بیوی کے ہاں مغرب کے بعد چلا جاتا ہے تو دوسری بیوی کے ہاں بھی مغرب کے بعد ہی چلا جائے اگر اس کے پاس عشاء کے بعد جائے گا تو یہ عدل و انصاف کے خلاف ہوگا یہاں صحبت کے معاملہ میں برابری کرنا واجب نہیں ہے۔ اس بارے میں یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ اس حکم میں باکرہ، ثیبہ، نئی، پرانی مسلمان اور کتابیہ سب برابر ہیں اور سب کے حقوق یکساں ہیں البتہ آزاد عورت کی بہ نسبت لونڈی، کا تبہ، مدبرہ اور ام ولد کیلئے آدھی باری ہے یعنی اگر کسی شخص کے نکاح میں ایک آزاد عورت ہو اور کسی کی لونڈی وغیرہ سے بھی اس نے نکاح کر رکھا ہو تو لونڈی وغیرہ کے پاس ایک رات رہے اور آزاد عورت کے پاس دو راتیں رہے ! حرم (باندی) کے لئے باری مقرر کرنا واجب نہیں ہے۔
3247
Mishkaat Shareefعن عطاء قال : حضرنا مع ابن عباس جنازة ميمونة بسرف فقال : هذه زوجة رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا رفعتم نعشها فلا تزعزعوها ولا تزلزلوها وارفقوا بها فإنه كان عند رسول الله صلى الله عليه و سلم تسع نسوة كان يقسم منهن لثمان ولا يقسم لواحدة قال عطاء : التي كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يقسم لها بلغنا أنها صفية وكانت آخرهن موتا ماتت بالمدينة وقال رزين : قال غير عطاء : هي سودة وهو أصح وهبت يومها لعائشة حين أراد رسول الله صلى الله عليه و سلم طلاقها فقالت له : امسكني قد وهبت يومي لعائشة لعلي أكون من نسائك في الجنة
حضرت عطاء بن رباح تابعی کہتے ہیں کہ ہم حضرت ابن عباس کے ہمراہ مقام سرف میں ام المؤمنین حضرت میمونہ کے جنازہ میں شریک ہوئے تو حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ دیکھو یہ رسول کریم ﷺ کی زوجہ مطہرہ ہیں جب تم ان کا جنازہ اٹھاؤ تو اس کو زیادہ حرکت و جنبش نہ دینا بلکہ تعظیم و تکریم کے تمام تقاضوں کو ملحوظ رکھ کر) نہایت آہستگی سے اٹھانا اس لئے کہ یہ ان ازواج مطہرات میں سے ہیں جن کے لئے آنحضرت ﷺ نے باری مقرر کر رکھی تھی چنانچہ) آنحضرت ﷺ کی نو بیویاں تھیں آپ ﷺ نے ان میں سے آٹھ کے لئے باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کے لئے کوئی باری نہیں تھی، حضرت عطاء کہتے ہیں کہ وہ زوجہ حضرت صفیہ تھیں اور رسول کریم ﷺ کی بیویوں میں حضرت صفیہ کا سب سے آخر میں مدینہ میں انتقال ہوا ہے ( بخاری و مسلم) اور رزین کا بیان ہے کہ عطا کے علاوہ دوسرے ائمہ حدیث سے منقول ہے کہ وہ زوجہ مطہرہ جن کے لئے کوئی باری مقرر نہیں تھی ( حضرت صفیہ نہیں تھیں بلکہ) حضرت سودہ تھیں اور یہی قول زیادہ صحیح ہے اور حضرت سودہ کے لئے باری مقرر نہ ہونے کی وجہ یہ تھی کہ) انہوں نے اپنی باری کا دن حضرت عائشہ کو دیدیا تھا جس کی تفصیل یہ ہے کہ) جب رسول کریم ﷺ نے حضرت سودہ کو طلاق دینے کا ارادہ فرمایا تو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے عرض کیا کہ میں اپنی باری کا دن عائشہ کو دیتی ہوں آپ ﷺ مجھے اپنے نکاح میں رہنے دیجئے تاکہ جنت میں آپ ﷺ کی بیویوں میں شامل رہنے کا شرف مجھے بھی حاصل رہے۔
تشریح
حضرت میمونہ جو آنحضرت ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ ہیں حضرت ابن عباس کی خالہ تھیں ان کے والد کا نام حارث تھا ماں کا نام ہندہ تھا خود ان کا نام برہ تھا مگر آنحضرت ﷺ نے میمونہ رکھا یہ پہلے مسعود ابن عمرو کے نکاح میں تھیں پھر ابو وہم کے ساتھ شادی ہوئی ان کا رسول کریم ﷺ کے ساتھ ذی قعدہ سن ٦ ھ میں مقام سرف جو مکہ معظمہ سے آٹھ میل کا فاصلہ ہے وہاں ان کا نکاح ہوا یہیں شب زفاف گزری اور اتفاق کی بات کہ اسی مقام سرف میں وفات پائی اور یہیں مدفون ہوئیں۔ جن زوجہ مطہرہ کے لئے باری مقرر نہیں تھی وہ حضرت صفیہ تھیں یا حضرت سودہ اس بارے میں بظاہر دو متضاد روائتیں ہیں لیکن تحقیقی بات یہی ہے کہ وہ حضرت سودہ تھیں بلکہ خطابی نے تو عطاء کے اس قول کو کہ وہ حضرت صفیہ تھیں کے بارے میں یہ کہا ہے کہ کسی راوی کی چوک ہے یعنی حضرت عطاء نے تو یہاں حضرت سودہ ہی کہا تھا مگر کسی راوی کی چوک سے حضرت صفیہ نقل ہوگیا۔ وکانت اخرہن موتا ماتت بالمدینۃ اور آنحضرت ﷺ کی بیویوں میں حضرت صفیہ کا سب سے آخر میں مدینہ میں انتقال ہوا ہے توضیح سے پہلے یہ جان لیجئے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کس زوجہ مطہرہ کا انتقال کب ہوا ہے صاحب مواہب نے لکھا ہے کہ حضرت صفیہ کا انتقال سن ٥٠ ھ کے ماہ رمضان میں ہوا ہے اور بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ ان کا انتقال حضرت معاویہ کے زمانہ سن ٥٢ یا ٥٥ ہجری میں ہوا ہے اور بقیع میں مدفون ہوئیں ہیں حضرت میمونہ کا انتقال ٥١ ہجری میں ہوا اور بعض علماء کے قول کے مطابق ٦٦ یا سن ٦٣ ہجری میں ہوا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) نے مدینہ میں ٥٧ ہجری میں وفات پائی جب کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ ان کی وفات سن ٥٨ میں ہوئی ہے۔ حضرت سودہ (رض) نے سن ٥٤ ہجری میں، حضرت حفصہ (رض) نے سن ٥٠ یا بعض علماء کے قول کے مطابق ٤١ ہجری میں، حضرت سلمہ (رض) نے سن ٥٩ ہجری میں، حضرت ام حبیبہ (رض) نے سن ٤٤ ہجری یا بعض علماء کے قول کے مطابق ٤٣ ہجری، حضرت زینب بنت جحش نے سن ٢٠ ہجری میں اور حضرت جویریہ (رض) نے سن ٥٠ ہجری میں انتقال کیا ہے حضرت خدیجہ (رض) کا انتقال ہجرت سے پہلے ہی مکہ میں ہوگیا تھا اور حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) بھی آنحضرت ﷺ کے سامنے ہی وفات پا گئی تھیں۔ اب اس تفصیل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ کہنا کہ حضرت صفیہ (رض) کا سب سے آخر میں انتقال ہوا ہے، صحیح نہیں ہے اور اگر لفظ کانت کی ضمیر کا مرجع حضرت میمونہ (رض) کو قرار دیا جائے تو بھی بات صحیح نہیں ہوتی کیونکہ اگر بعض علماء کے قول کے مطابق حضرت میمونہ (رض) کا سن وفات سن ٦٦ ہجری یا ٦٣ ہجری زیادہ صحیح تسلیم کرلیا جائے تو ازواج مطہرات میں ان کا سب سے آخر میں انتقال ہونا تو ثابت ہوجائے گا مگر یہ بات خود اسی عبارت کے اگلے جملے ماتت باالمدینہ کے مطابق نہیں ہوگی کیونکہ اس بارے میں حدیث نے وضاحت کردی ہے کہ ان کا انتقال مقام سرف میں ہوا ہے۔ لہٰذا اس عبارت کا صحیح مفہوم متعین کرنا بڑا مشکل ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس عبارت میں کیا مفہوم پوشیدہ ہے اور اس کا صحیح مطلب کیا ہے ؟
تشریح
حضرت میمونہ جو آنحضرت ﷺ کی ایک زوجہ مطہرہ ہیں حضرت ابن عباس کی خالہ تھیں ان کے والد کا نام حارث تھا ماں کا نام ہندہ تھا خود ان کا نام برہ تھا مگر آنحضرت ﷺ نے میمونہ رکھا یہ پہلے مسعود ابن عمرو کے نکاح میں تھیں پھر ابو وہم کے ساتھ شادی ہوئی ان کا رسول کریم ﷺ کے ساتھ ذی قعدہ سن ٦ ھ میں مقام سرف جو مکہ معظمہ سے آٹھ میل کا فاصلہ ہے وہاں ان کا نکاح ہوا یہیں شب زفاف گزری اور اتفاق کی بات کہ اسی مقام سرف میں وفات پائی اور یہیں مدفون ہوئیں۔ جن زوجہ مطہرہ کے لئے باری مقرر نہیں تھی وہ حضرت صفیہ تھیں یا حضرت سودہ اس بارے میں بظاہر دو متضاد روائتیں ہیں لیکن تحقیقی بات یہی ہے کہ وہ حضرت سودہ تھیں بلکہ خطابی نے تو عطاء کے اس قول کو کہ وہ حضرت صفیہ تھیں کے بارے میں یہ کہا ہے کہ کسی راوی کی چوک ہے یعنی حضرت عطاء نے تو یہاں حضرت سودہ ہی کہا تھا مگر کسی راوی کی چوک سے حضرت صفیہ نقل ہوگیا۔ وکانت اخرہن موتا ماتت بالمدینۃ اور آنحضرت ﷺ کی بیویوں میں حضرت صفیہ کا سب سے آخر میں مدینہ میں انتقال ہوا ہے توضیح سے پہلے یہ جان لیجئے کہ آنحضرت ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کس زوجہ مطہرہ کا انتقال کب ہوا ہے صاحب مواہب نے لکھا ہے کہ حضرت صفیہ کا انتقال سن ٥٠ ھ کے ماہ رمضان میں ہوا ہے اور بعض علماء نے یہ لکھا ہے کہ ان کا انتقال حضرت معاویہ کے زمانہ سن ٥٢ یا ٥٥ ہجری میں ہوا ہے اور بقیع میں مدفون ہوئیں ہیں حضرت میمونہ کا انتقال ٥١ ہجری میں ہوا اور بعض علماء کے قول کے مطابق ٦٦ یا سن ٦٣ ہجری میں ہوا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) نے مدینہ میں ٥٧ ہجری میں وفات پائی جب کہ بعض علماء کہتے ہیں کہ ان کی وفات سن ٥٨ میں ہوئی ہے۔ حضرت سودہ (رض) نے سن ٥٤ ہجری میں، حضرت حفصہ (رض) نے سن ٥٠ یا بعض علماء کے قول کے مطابق ٤١ ہجری میں، حضرت سلمہ (رض) نے سن ٥٩ ہجری میں، حضرت ام حبیبہ (رض) نے سن ٤٤ ہجری یا بعض علماء کے قول کے مطابق ٤٣ ہجری، حضرت زینب بنت جحش نے سن ٢٠ ہجری میں اور حضرت جویریہ (رض) نے سن ٥٠ ہجری میں انتقال کیا ہے حضرت خدیجہ (رض) کا انتقال ہجرت سے پہلے ہی مکہ میں ہوگیا تھا اور حضرت زینب بنت خزیمہ (رض) بھی آنحضرت ﷺ کے سامنے ہی وفات پا گئی تھیں۔ اب اس تفصیل کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ یہ کہنا کہ حضرت صفیہ (رض) کا سب سے آخر میں انتقال ہوا ہے، صحیح نہیں ہے اور اگر لفظ کانت کی ضمیر کا مرجع حضرت میمونہ (رض) کو قرار دیا جائے تو بھی بات صحیح نہیں ہوتی کیونکہ اگر بعض علماء کے قول کے مطابق حضرت میمونہ (رض) کا سن وفات سن ٦٦ ہجری یا ٦٣ ہجری زیادہ صحیح تسلیم کرلیا جائے تو ازواج مطہرات میں ان کا سب سے آخر میں انتقال ہونا تو ثابت ہوجائے گا مگر یہ بات خود اسی عبارت کے اگلے جملے ماتت باالمدینہ کے مطابق نہیں ہوگی کیونکہ اس بارے میں حدیث نے وضاحت کردی ہے کہ ان کا انتقال مقام سرف میں ہوا ہے۔ لہٰذا اس عبارت کا صحیح مفہوم متعین کرنا بڑا مشکل ہے، اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ اس عبارت میں کیا مفہوم پوشیدہ ہے اور اس کا صحیح مطلب کیا ہے ؟