hadith book logo

Mishkaat Shareef

199. یمن اور شام اور اویس قرنی کے ذکر کا باب

مشكاة المصابيح

6301
Mishkaat Shareef
صحیح
یمن ان شہروں اور بستیوں کو کہتے تھے جن کا محل وقوع خانہ کعبہ کے دائیں سمت پڑتا تھا، اب ایک مشہور تاریخی ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے جو جزیرہ نمائے عرب کے جنوب مغربی گوشہ پر واقع ہے۔ گوموجود عہد میں یمن ان تمام خطوی پر مشتمل نہیں ہے، جن پر عہد سابق میں مشتمل تھا، تاہم اس وقت کے مرکزی اور بڑے حصے اب بھی یمن ہی میں شامل ہیں۔ جو چیز یا جو شخص یمن کی طرف منسوب ہو اس کو یمنی بھی کہتے ہیں، یمان بھی کہتے ہیں اور یمانی بھی بعض حضرات اس لفظ (یمانی) کوئی کی تشدید کے ساتھ یمانی بھی بیان کرتے ہیں۔ شام ان شہروں اور بستیوں کو کہا جاتا تھا جن کو محل وقوع خانہ کعبہ کے بائیں سمت پڑتا تھا کیونکہ عربی میں شام بائیں جانب کو کہتے ہیں جیسا کہ دائیں طرف یمین یا ایمن کہا جاتا ہے، شام اور مشام کا لفظ ہمزہ کے ساتھ بھی آتا ہے اور ہمزہ کے بغیر بھی، شام اب بھی ایک مشہور ملک کی حیثیت سے جانا جاتا ہے قرن (ق اور ر کے زبر کے ساتھ) ایک بستی کا نام ہم جو یمن میں واقع ہے، یہ ایک شخص قرن بن رومان بن نامیہ بن مراد کے نام منسوب تھی، جو حضرت اویس قرنی کے اجداد میں سے تھا۔ ایک قرن اور ہے (جس کو اب قرن المنازل کہا جاتا ہے) لیکن یہ قرن ر کے جزم کے ساتھ قرن ہے، یہ دراصل ایک پہاڑی کا نام ہے جو مکہ سے تقریبا بیس میل کے فاصلے پر مشرقی جانب نجد جانے والے راستہ پر واقع ہے، اہل نجد کی میقات یہی قرن ہے، جوہری نے جو اس قرن کو ر کے زبر کے ساتھ لکھا ہے اور حضرت اویس قرنی کو اسی طرف منسوب کیا ہے وہ ان کی غلط فہمی ہے۔
6302
Mishkaat Shareef
صحیح
عن عمر بن الخطاب أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن رجلا يأتيكم من اليمن يقال له : أويس لا يدع باليمن غير أم له قد كان به بياض فدعا الله فأذهبه إلا موضع الدينار أو الدرهم فمن لقيه منكم فليستغفر لكم وفي رواية قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن خير التابعين رجل يقال له : أويس وله والدة وكان به بياض فمروه فليستغفر لكم . رواه مسلم
حضرت عمربن الخطاب سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ایک شخص یمن سے تمہارے پاس آئے گا جس کا نام اویس ہوگا، وہ یمن میں اپنی ماں کے سوا کسی کو نہیں چھوڑے گا، اس کے بدن میں سفیدی (یعنی برص کی بیماری) تھی۔ اس نے اللہ سے دعا کی اور اللہ تعالیٰ نے اس کے بدن سے سفیدی کو ختم کردیا ہاں صرف ایک درہم یا ایک دینار کے بقدر سفیدی باقی رہ گئی ہے۔ پس تم میں سے جو شخص اس (اویس) سے ملے اس کو چاہئے کہ اس سے اپنے لئے مغفرت کی دعا کرائے، ایک اور روایت میں یوں ہے کہ (حضرت عمر نے بیان کیا کہ) میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا، تابعین میں بہتر شخص وہ ہم جس کا نام اویس ہے اس کی ایک ماں ہوگی اور اس کے بدن پر برص کا نشان ہے، پس تم اس سے اپنے لئے دعا مغفرت کرانا۔ (مسلم)

تشریح
وہ یمن میں اپنی ماں کے سوا ان الفاظ سے آنحضرت ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ اہل و عیال میں سے صرف ایک ماں کے علاوہ اور کوئی یمن میں اس کا نہیں ہے اور اسی ماں کی خدمت وخبر گیری نے اس کو یمن سے چل کر یہاں میری زیارت و ملاقات کے لئے آنے سے باز رکھا ہے۔ اگر اس کو اپنی ماں کی تنہائی اور بےکسی کا فکر نہ ہوتا تو وہ ضرور میری خدمت میں حاضر ہوتا اور میری زیارت و صحبت کا شرف حاصل کرتا۔ ایک درہم یا ایک دینار کے بقدر یہاں راوی کو شک ہوا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک درہم کے بقدر فرمایا تھا یا ایک دینار کے بقدر کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے، بہرحال دعا کے نتیجہ میں برص کا ختم ہوجانا اور ایک درہم یا ایک دینار کے بقدر معمولی سا نشان باقی رہ جانا شاید قدرت کی اس مصلحت کے تحت ہوگا کہ اس مرض کی کچھ نہ کچھ علامت باقی رہے جیسا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ ان کا بہشتی لباس سفیدی اور چمک میں ناخن کی طرح تھا جو کبھی میلا نہیں ہوتا تھا پھر دنیا میں آنے کے بعد ان میں بھی اور ان کی نسل میں بھی اسی لباس کا ذراسا نشان ناخن کی صورت میں باقی رہ گیا اور یا اللہ تعالیٰ نے ان کے جسم پر برص کا وہ تھوڑا سانشان اس مصلحت سے باقی رہنے دیا کہ وہ شرم کے مارے لوگوں میں خلط ملط رکھنے سے با زرہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حضرت اویس قرنی گوشہ نشینی اور گمنامی کو اختیار کئے ہوئے تھے، لوگوں کے درمیان خلط ملط رکھنے اور شہرت کو سخت ناپسند کرتے تھے۔ اور ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ خود انہوں نے دعا کی تھی کہ پروردگار ! میرے جسم پر اس مرض کا تھوڑا سا نشان باقی رکھئے تاکہ کر میں تیری نعمت کو یاد رکھوں اور اس کا شکر ادا کرتا رہوں کہ تو نے مجھے اس برے مرض سے نجات عطا فرمائی تابعین میں سے بہترین شخص حضرت اویس کو آنحضرت ﷺ نے بہترین تابعی اس اعتبار سے فرمایا کہ وہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے اور عذر شرعی نے ان کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے سے باز رکھا تھا ظاہر ہے کہ ان الفاظ میں حضرت اویس کی مدح و تعریف ہے نیز اس ارشاد رسالت سے معلوم ہوا کہ اہل خیر وصلاح سے دعائے مغفرت کی درخواست کرنی چاہئے اگرچہ درخواست کرنے والا ان اہل خیر وصلاح سے افضل ہو۔ اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے یہ تعریفی الفاظ حضرت اویس قرنی کا دل خوش کرنے کے لئے ارشاد فرمائے تھے اور اس کا مقصد ان لوگوں کے واہمہ کا دفعیہ جو شاید یہ سمجھ بیٹھے کہ اویس آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہونے اور شرف زیارت و صحبت حاصل کرنے سے قصدا اعراض کررہا ہے۔ حالانکہ خدمت رسالت میں ان کے حاضر نہ ہونے کی وجہ ماں کی دل داری اور ماں کی خدمت وخبر گیری کا عذر شرعی تھا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تابعین میں سب سے بہتر حضرت اویس قرنی ہیں جب کہ حضرت امام احمد بن حنبل سے منقول ہم کہ تابعین میں سب سے بہتر اور افضل سعید بن مسیب ہیں، لیکن ان دونوں میں کوئی تضاد نہیں ہے کیونکہ حضرت سعید بن مسیب تو علوم دین اور احکام شرائع کی معرفت سب سے زیادہ رکھنے کے سبب تابعین میں افضل ہیں اور اللہ کے نزدیک ثواب کی کثرت کے اعتبار سے حضرت اویس قرنی تابعین میں افضل ہیں اور قاموس میں جو یہ لکھا ہے کہ اویس قرنی سادات تابعین میں سے ہیں تو ہوسکتا ہے کہ حدیث کے الفاظ بھی اسی معنی پر محمول ہیں۔ حضرت اویس قرنی کی شان میں جو اور آثار واخبار منقول ہیں اور جن کو سیوطی (رح) نے جمع الجوامع میں ذکر کیا ہم، ان کا ترجمہ یہاں نقل کیا جاتا ہے۔ سیوطی کہتے ہیں کہ اسیر بن جابر نے بیان کیا ہے، جب تک حضرت اویس، حضرت عمر فاروق کے پاس نہیں پہنچے تھے، وہ (عمر فاروق) یمن سے آنے والے ہر اسلامی لشکر اور قافلے سے پوچھا کرتے تھے کہ کیا تمہارے ہاں کوئی شخص اویس بن عامر ہے اور جب حضرت اویس دربار فاروقی میں پہنچے تو حضرت عمر نے ان سے پو چھا ! کیا تم اویس بن عامر ہو ؟ وہ بولے ہاں میں اویس بن عامر ہوں ! پھر حضرت عمر نے پوچھا کیا تم قبیلہ مراد سے تعلق رکھتے ہو اور قرنی ہو ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں حضرت عمر نے پوچھا کیا تم کو برص کا مرض لاحق تھا اور پھر تم اچھے ہوگئے سوائے ایک درہم کے بقدر نشان کے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں حضرت عمر نے پوچھا کیا تمہاری ایک ماں ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہاں ! تب حضرت فاروق اعظم نے فرمایا ! میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تمہارے پاس ایک شخص اویس بن عامر اہل یمن کے اسلامی لشکر اور قافلے کے ساتھ آئے گا جو قبیلہ مراد سے تعلق رکھتا ہوگا اور قرن کا ہوگا، اس کو برص کا مرض لاحق تھا جواب جاتا رہا ہے مگر ایک درہم کے بقدر نشان باقی رہ گیا ہے، اس کی ایک ماں ہے جن کی خدمت وخبر گیری میں مصروف ہے۔ (ان کی شان یہ ہے کہ) اگر وہ اللہ کے بھروسہ پر کسی بات پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم سچی کرتا ہے، اگر تم سے ہوسکے اس سے درخواست کرنا۔ پس اے اویس میں تم سے درخواست کرتا ہوں کہ میرے لئے دعاء مغفرت کرو، (یہ سن کر) حضرت اویس بولے امیر المؤمنین ! یہ آپ کیا فرما رہے ہیں مجھ جیسا آدمی آپ کے لئے دعا مغفرت کرے ؟ حضرت عمر نے فرمایا یقینا تمہیں میرے لئے دعا مغفرت کرنی ہے۔ تب حضرت اویس قرنی نے فاروق اعظم کے لئے دعاء مغفرت کی۔ پھر فاروق اعظم نے پوچھا کہ اویس ! اب بتاؤ کہاں جانا چاہتے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ میں کوفہ جانے کا ارادہ رکھتا ہوں۔ حضرت عمر نے پوچھا کیا تمہارے بارے میں کوفہ کے حاکم کو کچھ لکھ دوں ؟ حضرت اویس بولے بس مجھ کو میرے حال پر چھوڑ دیجئے، میں لوگوں سے دور اور درماندہ رہنا ہی اپنے لئے زیادہ اچھا سمجھتا ہوں اور یہ کہہ کر وہاں سے چل دئیے۔ اگلے (کوفہ سے) ایک یمنی معزز شخص حج کے لئے آیا اور حضرت عمر کی ملاقات کے لئے حاضر ہوا تو حضرت عمر نے اس سے حضرت اویس کے بارے میں پوچھا کہ کس حال میں ہیں ؟ اس شخص نے بتایا کہ میں نے ان کو بہت پھٹے پرانے کپڑوں اور بےسروسانی کی حالت میں چھوڑا ہے، حضرت عمر نے اس کے سامنے آنحضرت ﷺ کی مذکورہ حدیث پڑھی۔ چناچہ وہ شخص جب واپس حضرت اویس کے پاس پہنچا تو ان سے دعائے مغفرت کی درخواست کی حضرت اویس نے اس سے کہا کہ تم بھی میرے لئے دعاء مغفرت کرو کیونکہ تم نیک سفر سے واپس آئے ہو، اس شخص نے پھر کہا کہ آپ میرے لئے دعا مغفرت کیجئے اور اس کے ساتھ اس نے حضرت عمر کی روایت کردہ حدیث ان کے سامنے پڑھی، تب حضرت اویس نے اس کے لئے دعائے مغفرت کی، اس کے بعد جب لوگوں کو حضرت اویس کا مقام معلوم ہوا اور ان کی حقیقت حال کا چرچا ہوا تو وہاں سے چلے گئے۔ ایک اور روایت میں یوں ہے اسیر بن جابر نے بیان کیا کہ کوفہ میں ایک محدث تھے جو ہمارے سامنے احادیث بیان کرتے تھے، جب وہ حدیثیں بیان کرکے فارغ ہوتے تو لوگ منتشر ہوجاتے تھے مگر چند آدمی اپنی جگہ پر بیٹھے رہتے تھے اور ان میں ایک ایسا شخص بھی تھا جو بڑی عجیب و غریب باتیں کرتا تھا ویسی باتیں مجھ کو کسی زبان سے سننے کا موقع نہیں ملا تھا، چناچہ میں اس کے پاس بھی جا کر بیٹھ جایا کرتا تھا، ایک دن میں نے اس شخص کو اس کی جگہ پر نہیں پایا تو اپنے ساتھیوں سے پوچھا کہ کیا تم میں سے کوئی شخص اس آدمی کو بھی جانتا ہے جو یہاں ہمارے پاس بیٹھا کرتا تھا اور بڑی عجیب و غریب باتیں کرتا تھا، ایک شخص بولا کہ ہاں میں اس آدمی کو جانتا ہوں، وہ اویس قرنی ہیں میں نے اس سے پوچھا کہ کیا تم ان کی قیام گاہ کو جانتے ہو ! وہ بولا کہ ہاں جانتا ہوں چناچہ میں اس شخص کے ساتھ ہولیا اور اویس قرنی کے حجرہ پر پہنچ کر دروازہ کھٹکھٹایا۔ وہ باہر نکلے تو میں نے پوچھا کہ میرے بھائی ! ہمارے درمیان موجود رہنے سے کس چیز نے تمہیں باز رکھا ہے ؟ انہوں نے جواب دیا عریانیت نے، یعنی میرے پاس اتنے کپڑے نہیں ہیں جس سے اپنے جسم اور ستر کو پوری طرح چھپائے رکھوں اور اسی وجہ سے تم لوگوں کے درمیان آنے سے بچ رہا ہوں، یہ حقیقت ہے کہ ان کے ہمو طن اور ان کے اردگرد کے لوگ ان کی خستہ حالی کو دیکھ کر ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے اور ان کو ستانے سے بھی باز نہیں رہتے تھے۔ بہرحال میں نے اپنی چادر ان کو پیش کی اور کہا کہ لیجئے یہ چادر اوڑھ لیجئے، انہوں نے کہا کہ نہیں تم یہ چادر مجھ کو مت دو اور جب لوگ میرے جسم پر اس چادر کو دیکھیں گے تو میرا مذاق اڑائینگے اور مجھ کو ستائیں گے تاہم میں نے جب بہت زیادہ اصرار کیا تو انہوں نے وہ چادر لے کر اوڑھ لی اور پھر اپنے حجرہ سے نکل کر لوگوں کے درمیان باہر آئے، لوگوں نے ان کو چادر میں دیکھا تو کہنا شروع کیا کہ میاں کس کو دھوکہ دے دیا، کس سے یہ چادر ہتھیا لی ہے۔ حضرت اویس نے یہ سن کر مجھ سے کہا کہ تم دیکھ رہے ہو، لوگ کیا کہہ رہے ہیں اسی خوف سے میں چادر نہیں لے رہا تھا، میں نے ان لوگوں کو ڈانٹا کہ آخر تم اس درویش سے کیا چاہتے ہو، کا ہے کو اس کو ستا رہے ہو یہ بھی ایک انسان ہے جو کبھی بےلباس رہنے پر مجبور ہوتا ہے اور جب اللہ تعالیٰ دیتا ہے تو لباس میں نظر آنے لگتا ہے، غرضیکہ میں نے ان لوگوں کو ڈانٹ ڈپٹ کر ہٹا دیا، پھر ایسا اتفاق ہوا کہ کچھ دنوں بعد کوفہ سے چند لوگ حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے ان میں ایک وہ شخص بھی تھا جو حضرت اویس قرنی کا مذاق اڑایا کرتا تھا، حضرت عمر نے دوران گفتگو ان لوگوں سے پوچھا کہ کیا تم میں کوئی ایسا شخص بھی ہے جس کا تعلق قرن سے ہو ان لوگوں نے اس شخص کو آگے کردیا جو حضرت اویس قرنی کا مذاق اڑایا کرتا تھا۔ حضرت عمر نے پہلے تو اس کے سامنے وہ حدیث پڑھی جو آنحضرت ﷺ نے حضرت اویس کی شان میں فرمائی تھی اور پھر اس شخص سے بولے کہ میں نے سنا ہے کہ وہ یمنی شخص (یعنی حضرت اویس قرنی) کوفہ میں تم لوگوں کے ہاں پہنچا ہوا ہے ؟ اس شخص نے جواب دیا کہ ہمارے تو ایسا شخص کوئی نہیں ہے اور نہ ہم کو کسی ایسے شخص کو پہچانتے ہیں، حضرت عمر نے فرمایا کہ تمہیں معلوم نہیں ہوگا لیکن وہ شخص تمہارے ہی ہاں ہے اور پھر اس کی علامت بتلائی کہ وہ اس طرح خراب وخستہ حال ہے تب اس شخص نے کہا کہ ہاں ایک شخص ہمارے ہاں ہے، اس کا نام اویس ہے اور ہم اس کا مذاق بھی اڑایا کرتے ہیں حضرت عمر نے اس شخص سے فرمایا اب تو کوفہ جاؤ تو اس شخص سے ضرور ملنا (اور اپنی گستاخیوں وبے ادبیوں کی معافی چاہ کر اس سے دعائے مغفرت کی درخواست کرنا) اگرچہ مجھ کو شبہ ہے کہ اب تم اس کو نہیں پاؤگے یا نہیں، بہرحال وہ شخص کوفہ روانہ ہوا اور وہاں پہنچ کر اپنے گھر والوں کے پاس بعد میں گیا، پہلے حضرت اویس قرنی کی خدمت میں پہنچا۔ حضرت اویس نے اس شخص کو دیکھا تو بولے میرے تئیں تمہارے رویہ میں یہ تبدیلی کیسی ؟ اس شخص نے کہا میں نے آپ کی تعریف امیر المؤمنین سے سنی ہے آپ کے بارے میں انہوں نے مجھ کو سب کچھ بتادیا ہے للہ ! آپ مجھے معاف فرمادیجئے، مذاق اڑانے گستاخی کرنے والے اور بےادبی کے ساتھ پیش آنے کی صورت میں میں نے آپ کے ساتھ جو کچھ بھی کیا ہے اس سے درگزر فرمائے اور میرے لئے دعائے مغفرت کیجئے۔ حضرت اویس قرنی نے اس سے کہا کہ میں تمہارے لئے دعائے مغفرت کئے دیتا ہوں، لیکن شرط یہ ہے کہ تم نے میرے بارے میں امیر المؤمنین حضرت عمر سے جو کچھ سنا ہے اس کا تذکرہ کسی سے نہیں کرو گے، اس کے بعد انہوں نے دعائے مغفرت کی۔ اسیر ابن جابر جو اس کے راوی ہیں بیان کرتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت اویس کا مقام کوفہ والوں کو معلوم ہوا۔ ایک اور روایت میں حضرت یحییٰ بن سعید المسیب سے اور حضرت امیر المؤمنین عمر فاروق سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت عمر نے بیان کیا ایک دن رسول کریم ﷺ نے مجھ کو آواز دی کہ اے عمر ! میں بولا، یا رسول اللہ ﷺ میں حاضر ہوں، جو حکم ہو بجالانے کو تیار ہوں، حضرت عمر کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جب مجھ کو آواز دی تو میں نے گمان کیا کہ آپ ﷺ کسی کام سے مجھ کو کہیں بھیجیں گے، لیکن پھر آپ ﷺ نے مجھ سے یوں فرمایا اے عمر ! میری امت میں ایک شخص جس کو اویس کہا جائے گا، اس کے بدن کو ایک بلا یعنی برص کی بیماری لاحق ہوگی، وہ اللہ تعالیٰ سے دعا کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس کی اس بیماری کو دور کردے گا مگر اس کا کچھ داغ اس کے پہلو پر باقی رہ جائے گا تم اس کو دیکھو گے تو تمہیں عزوجل یاد آجائے گا۔ جب تم اس سے ملنا تو اس کو میرا سلام پہنچانا اور اس سے اپنے لئے دعائے مغفرت کی درخواست کرنا کیونکہ وہ اپنے پروردگار کے ہاں ایسا معزز اور ایسا بزرگ ہے کہ اگر اللہ کے بھروسہ پر کسی بات پر قسم کھا بیٹھے تو اللہ تعالیٰ اس کی قسم سچی کرے وہ اللہ تعالیٰ سے اتنے زیادہ لوگوں کی شفاعت کرے گا جتنے ربیعہ اور مضر جیسے کثیر القوم قبیلوں میں بھی افراد نہیں ہیں حضرت عمر بیان کرتے ہیں کہ یہ ارشاد رسالت سننے کے بعد میں نے اس شخص کی تلاش آنحضرت ﷺ کے زمانے میں بھی کی مگر اس شخص کو نہیں پاسکا، پھر میں نے حضرت ابوبکر صدیق کے عہد خلافت میں بھی اس شخص کی ٹوہ میں رہا، مگر اس تک نہیں پہنچ سکا اور پھر جب میرا عہد امارت و خلافت آیا تو میں اور زیادہ تلاش و جستجو میں لگ گیا یہاں تک کہ مختلف شہروں اور علاقوں سے جو بھی قافلے آتے تو میں ہر ایک سے یہی سوال کرتا کہ کیا تم میں کوئی شخص ایسا بھی ہے جس کا نام اویس ہو، قبیلہ مراد سے تعلق رکھتا ہو اور قرن کا ہو، اسی تلاش و جستجو کے دوران قرن سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے مجھ سے کہا کہ امیر المؤمنین آپ جس شخص کو پوچھتے ہیں وہ میرے چچا کا بیٹا ہے لیکن وہ تو نہایت خستہ حال کم رتبہ اور بےحیثیت شخص ہے، بھلا وہ اس درجہ کا کب ہے کہ آپ جیسی ہستی عظیم اس کا حال دریافت کرے۔ میں نے اس شخص سے کہا کہ مجھ کو ایسا لگ رہا ہے کہ تو اس آدمی کی شان میں ایسے حقارت آمیز الفاظ استعمال کرکے ان لوگوں میں سے ہے جو اس کے تئیں گستاخانہ رویہ اختیار کرنے کے سبب ہلاکت میں پڑنے والے ہیں۔ میں اس شخص سے یہ کہہ ہی رہا تھا کہ اچانک ایک اونٹ آتا دکھائی دیا جس پر ایک بوسیدہ پالان بند ھا ہوا تھا اور اس پالان میں ایک ایسا شخص بیٹھا ہوا تھا جس نے پھٹے پرانے کپڑوں سے اپنے جسم کا کچھ حصہ ڈھک رکھا تھا، اس کو دیکھتے ہی میرے دل میں آیا کہ یہی شخص اویس ہے، پھر میں اس کی طرف لپکا اور اس سے پوچھا بندہ خدا ! کیا تم ہی اویس قرنی ہو ؟ اس شخص نے جواب دیا ہاں ! میں نے کہا رسول اللہ ﷺ نے تمہیں سلام کہا ہے تھا وہ شخص بولا علی رسول اللہ ﷺ السلام وعلیک یا امیر المؤمنین، اس کے بعد میں نے کہا آنحضرت ﷺ کا یہ حکم ہے کہ تم میرے لئے دعائے مغفرت کرو۔ اس کے بعد میرا معمول ہوگیا کہ ہر سال حج کے موقع پر اویس سے ملاقات کرتا اپنے احوال و اسرار ان سے بیان کرتا اور وہ اپنے حال و اسرار مجھ سے بیان کرتے۔ ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت حسن بصری نے بیان کیا جب حج کے دنوں میں قرن کے لوگ آئے تو امیر المؤمنین عمر نے اس سے دریافت کیا کہ تمہارے ہاں کوئی شخص اویس نامی ہے، ان میں سے ایک شخص بولا کہ امیر المؤمنین، بھلا اس شخص سے آپ کو کیا واسطہ ؟ وہ تو ایک ایسا شخص ہے جو کھنڈرات میں پڑا رہتا ہے اور لوگوں کے درمیان آنے جانے سے اجتناب کرتا ہے، حضرت عمر نے فرمایا جب تو واپس جاؤ تو اس کو میرا سلام پہنچانا اور اس سے کہنا کہ مجھ سے ملاقات کرے، اس شخص نے واپس جا کر حضرت عمر کا پیغام پہنچادیا اور حضرت اویس امیر المؤمنین ! حضرت عمر کی خدمت میں حاضر ہوئے، حضرت عمر نے ان سے پوچھا اویس تم ہی ہو ؟ وہ بولے ہاں اے امیرالمؤمنین ! حضرت عمر نے پوچھا کیا تمہارے بدن پر سفیدی تھی اور تم نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی جس کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ نے اس سفیدی کو تمہارے بدن سے دور کردیا تھا اور پھر تم نے یہ دعا کی تھی کہ اس سفیدی کا کچھ نشان باقی رہے ؟ اویس بولے ہاں لیکن اے امیر المؤمنین یہ سب کچھ آپ کو کس نے بتایا ؟ حضرت عمر نے کہا مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمایا تھا اور مجھ کو حکم دیا تھا کہ میں تم سے اپنے لئے دعائے مغفرت کی درخواست کروں، چناچہ حضرت اویس نے حضرت عمر کے لئے مغفرت کی دعا کی اور پھر بولے کہ اے امیر المؤمنین ! آپ سے بس اتنا چاہتا ہوں کہ آپ میری شخصیت اور میرے احوال کو پوشیدہ رکھیں اور مجھ کو یہاں سے واپس جانے کی اجازت عطا فرمائیں، چناچہ حضرت اویس نے ہمیشہ آپنے آپ کو چھپائے رکھا تاآنکہ جنگ نہاوند میں شہید ہوئے۔ ایک روایت میں سعید بن مسیب نے اس طرح بیان کیا کہ (ایک سال حج کے موقع پر) امیر المؤمنین حضرت عمر نے منیٰ میں منبر پر کھڑے ہوئے آواز دی اے اہل قرن ! معمر قرنی لوگ اپنی اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہوئے اور بولے ہم حاضر ہیں اے امیر المؤمنین ! کیا حکم ہے امیر المؤمنین عمر نے پوچھا، کیا قرن میں کوئی ایسا شخص ہے جس کا نام اویس ہے ؟ ان میں سے ایک معمر شخص نے جواب دیا، ہم لوگوں کے درمیان رہنے والا کوئی شخص اس نام کا نہیں ہے، ہاں ایک دیوانہ صفت کا نام اویس ضرور ہے جو جنگلوں میں رہتا ہے نہ کوئی اس کے ساتھ الفت وموانست رکھتا ہے اور نہ خود وہ کسی کے ساتھ صحبت و اختلاط کا روادار ہے۔ حضرت عمر نے یہ سن کر فرمایا بس وہی شخص میرا مطلوب ہے، جب تم قرن واپس جاؤ تو اس شخص کو تلاش کرکے میرا سلام اس کو پہنچا دینا اور کہنا کہ رسول اللہ ﷺ نے مجھ کو تمہارے تئیں خوشخبری دی ہے اور مجھ کو حکم دیا تھا کہ میں تم تک رسول اللہ ﷺ کا سلام پہنچاؤں، چناچہ جب وہ لوگ قرن پہنچے تو اویس کو تلاش کیا وہ ریگستانوں میں پڑے ہوئے پائے گئے، ان لوگوں نے ان کو حضرت عمر کا سلام اور ان کے واسطہ سے رسول اللہ ﷺ کا سلام پہنچا دیا، حضرت اویس بولے، امیرالمؤمنین نے تو میرا چرچا کردیا اور میرا نام کو شہرت دے دی۔ اسلام علی رسول اللہ ﷺ وعلی آلہ اور یہ کہہ کر لق ودق جنگل میں جاگھ سے اور مدتوں کسی نے ان کا نام ونشان نہیں پایا یہاں تک کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے عہد خلافت میں پھر نمودار ہوئے اور ان کی طرف سے لڑتے ہوئے جنگ صفین میں شہید ہوگئے۔ صعصہ بن معویہ (رض) کی روایت میں اس طرح ہے کہ انہوں نے بیان کیا اہل کوفہ کا کوئی بھی قافلہ جب حضرت عمر فاروق کے پاس آتا تو وہ اس سے پوچھتے کہ کیا لوگ اویس بن عامرقرنی کو جانتے ہو، اہل قافلہ جواب دیتے ! ہم میں سے کوئی اس نام کے شخص کو نہیں جانتا اور حقیقت یہ ہے کہ اس زمانہ میں حضرت اویس کوفہ کی ایک مسجد میں پڑے رہتے تھے وہاں سے نہ باہر نکلتے تھے اور نہ کسی سے کچھ تعارف رکھتے تھے، ان کا ایک چچا زاد بھائی تھا جوان کو ستایا کرتا تھا۔ اتفاق کی بات کہ کوفہ کے ایک قافلہ میں وہ بھی شریک ہو کر ایک مرتبہ حضرت عمر فاروق کے ہاں پہنچا تو حضرت عمر فاروق نے حسب معمول اہل قافلہ سے سوال کیا ! کیا تم لوگ حضرت اویس بن عامر قرنی کو جانتے ہو ؟ یہ سوال سن کر حضرت اویس کا وہی چچا زاد بھائی اپنی جگہ سے اٹھا اور بولا کہ یا امیر المؤمنین ! اویس اس درجہ کا آدمی نہیں ہے کہ آپ اس کے بارے میں پوچھیں اور اس کا تعارف حاصل کریں، وہ تو نہایت کمتر اور بےحیثیت انسان ہے اگرچہ وہ میرا چچازاد بھائی ہے حضرت عمر نے اس شخص کی زبان سے یہ تحقیری کلمات سنے تو فرمایا تجھ پر افسوس، تو نے اویس کے بارے میں ایسے الفاظ استعمال کرکے اپنی ہلاکت مول لے لی ہے پھر حضرت عمر نے وہ حدیث پڑھی جو انہوں نے آنحضرت ﷺ سے حضرت اویس کی شان میں سنی تھی، اس کے بعد حضرت عمر نے اس شخص سے فرمایا کہ جب تم واپس پہنچو تواویس کو میرا سلام کہنا، اس واقعہ کے بعد حضرت اویس کی شخصیت مشہور ہوگئی لیکن وہ عام نظروں سے پوشیدہ ہوگئے۔ اس سلسلہ میں ایک روایت حضرت ابن عباس (رض) سے بھی منقول ہے، انہوں نے بیان کیا کہ پہلے تو دس سال تک حضرت عمر فاروق نے اویس قرنی کے بارے میں کوئی تلاش و جستجو نہیں کی، پھر انہوں نے ایک سال حج کے دوران اہل یمن کو آواز دے کر کہا کہ تم میں جو لوگ قبیلہ مراد سے تعلق رکھتے ہوں وہ کھڑے ہوجائیں چناچہ قبیلہ مراد کے لوگ کھڑے ہوگئے اور باقی لوگ اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہے، حضرت عمر نے ان (قبیلہ مراد کے لوگوں) سے پوچھا ! کیا تم میں کوئی شخص اویس نام کا ہے ؟ یہ سن کر ایک شخص بولا کہ اے امیر المؤمنین ! ہمیں نہیں معلوم آپ کس اویس کو پوچھ رہے ہیں، ہاں میرا ایک بھتیجا ہے جس کو لوگ اویس اویس کہہ کر پکارتے ہیں اور وہ اس درجہ کا پست وبے حیثیت انسان ہے کہ آپ جیسی ہستی کو اس سے کیا سروکار ہوگا۔ حضرت عمر نے پوچھا کیا وہ حدود حرم میں موجود ہے ؟ اس نے کہا ہاں، میدان عرفات سے متصل اراک جھاڑیوں میں لوگوں کے اونٹ چرارہا ہے (گویا حضرت اویس اپنی شخصیت چھپانے کے لئے لوگوں کے اونٹ چرا رہے تھے تاکہ ایک چرواہے سے زیادہ کوئی اہمیت ان کو نہ دی جائے) حضرت عمر نے یہ سنا تو حضرت علی کو اپنے ساتھ لیا اور دونوں ایک گدھے پر سوار ہو کر اراک کی طرف روانہ ہوگئے، وہاں پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اویس کھڑے ہوئے نماز پڑھ رہے ہیں اور اپنی نظریں سجدہ گاہ پر گاڑے ہوئے ہیں ان کو اس حالت میں دیکھ کر حضرت عمر اور حضرت علی نے آپس میں کہا کہ جس شخص کی تلاش میں ہم لوگ ہیں ہو نہ ہو یہ وہی شخص ہے، حضرت اویس کے کانوں میں جب ان دونوں کی آہٹ پڑی تو انہوں نے نماز کو مختصر کردیا اور فارغ ہو کر ان کی طرف متوجہ ہوئے ان دونوں نے ان کو سلام کیا اور انہوں نے دونوں کے سلام کا جواب دیتے ہوئے کہا علیکم السلام ورحمتہ اللہ۔ پھر حضرت عمر اور حضرت علی مرتضیٰ نے پوچھا برادرم ! تمہارا نام کیا ہے اللہ کی رحمت و سلامتی نازل ہو تم پر ! اویس بولے میں عبداللہ ہوں سیدنا علی المرتضیٰ نے کہا، ہمیں معلوم ہے، آسمانوں میں اور زمین پر جو بھی متنفس ہے، وہ عبداللہ ہے۔ میں تم کو پروردگار کعبہ اور پروردگار حرم کی قسم دے کر پوچھتا ہوں، تمہارا وہ نام کیا ہے جو تمہاری ماں نے رکھا ہے۔ حضرت اویس نے کہا تم لوگ مجھ سے آخر چاہتے کیا ہو، میر انام اویس بن مراد ہے۔ حضرت عمر اور حضرت علی نے کہا ذرا اپنا بایاں پہلو کھول کر دکھاؤ، حضرت اویس نے اپنا بایاں پہلو کھول دیا، ان دونوں نے دیکھا کہ اس جگہ ایک درہم کے بقدر سفیدی کا نشان موجود ہے۔ دونوں تیزی کے ساتھ اویس کی طرف لپکے تاکہ اس نشان کو بوسہ دیں اور بولے کہ رسول کریم ﷺ نے ہمیں حکم دیا تھا کہ ہم آپ ﷺ کا سلام تمہیں پہنچائیں اور یہ کہ تم سے اپنے لئے دعاء مغفرت کی درخواست کریں۔ حضرت اویس نے کہا میں تو مشرق ومغرب کے ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے دعا گو ہوں۔ ان دونوں نے فرمایا ہم خاص طور پر اپنے لئے دعائے مغفرت کے طلب گار ہیں۔ چناچہ حضرت اویس نے بالخصوص ان دونوں کے لئے اور بالعموم تمام مسلمان مردوں اور عورتوں کے لئے دعائے مغفرت کی، اس کے بعد حضرت عمر نے فرمایا میں اپنی جیب خاص سے یا (بیت المال کے) اپنے عطیہ سے تمہیں کچھ پیش کرنا چاہتا ہوں حضرت اویس بولے یہ پھٹے پرانے کپڑے میرے پاس ہیں میری دونوں پاپوشیں گانٹھ دی گئی ہیں، چار درہم بھی میرے پاس ہیں جب یہ اثاثہ ختم ہوجائے گا تو آپ کا عطیہ قبول کرلوں گا اور انسان کی بات تو یہ ہے کہ جو کوئی ہفتہ بھر کے لئے آرزو کرتا ہے اس کی آرزو مہینہ بھر تک کے لئے دراز ہوجاتی ہے اور جو کوئی مہینہ بھر کے لئے آرزو کرتا ہے اس کی آرزو سال سال بھر تک کے لئے دراز ہوجاتی ہے (یعنی انسان اگر قناعت کا دامن چھوڑ دے تو پھر اس کی آرزوئیں اور حرصیں بڑھتی چلی جاتی ہیں) اس کے بعد حضرت اویس نے اونٹوں کو ان کے مالکوں کے حوالے کیا اور خود وہاں سے ایسے روپوش ہوئے کہ پھر کبھی نہیں دیکھے گئے۔
6303
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : أتاكم أهل اليمن هم أرق أفئدة وألين قلوبا الإيمان يمان والحكمة يمانية والفخر والخيلاء في أصحاب الإبل والسكينة والوقار في أهل الغنم . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ (جب یمن سے ابوموسیٰ اشعری (رض) اور ان کی قوم کے لوگ خدمت رسالت پناہ میں حاضر ہوئے تو) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہارے پاس یمن کے لوگ آئے ہیں جو (تمہارے پاس آنے والے اور لوگوں کی بہ نسبت) زیادہ رقیق القلب اور زیادہ نرم دل ہیں ایمان یمن کا ہے اور حکمت بھی یمنی ہے اور فخر (یعنی اپنے مال ومنصب وغیرہ کے ذریعہ اپنی بڑائی مارنا) اور تکبر کرنا اونٹ والوں میں سے ہے، جب کہ اطمینان و تحمل اور وقار بکری والوں میں ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
ارق افئدۃ میں ارقکالفظ رقۃ سے ہے جس کے معنی نرمی اور رحم و شفقت کے ہیں اور جو قساوت یعنی سنگ دلی وبے رحمی اور غلاظت یعنی سختی و کثافت کی ضد ہے۔ افئدۃ جمع ہے فؤ اد کی جس کے معنی دل کے ہیں بعض حضرات کا تو یہ کہنا ہے کہ فؤ اد دل کے باطن کو کہتے ہیں جب کہ بعض حضرات کے نزدیک اس لفظ کا اطلاق ظاہر طور پر ہوتا ہے۔ بہرحال ارق افئدۃ کا مطلب یہ ہے کہ اہل یمن باطن کی حیثیت سے نرمی و شفقت اور رحم ومروت کا مادہ بہت زیادہ رکھتے ہیں اور الین قلوبا (نرم دل ہیں) کا مطلب یہ ہے کہ وہ اہل یمن بحسب ظاہر کے نصیحت وموعظت کا اثر اور لوگوں کی بہ نسبت جلد قبول کرلیتے ہیں قبول حق کی استعداد اور لوگوں کی بہ نسبت ان کے دل میں زیادہ ہے۔ اور حضرت شیخ عبد الحق دہلوی (رح) نے لکھا ہے کہ افئدۃ جمع ہے فؤ اد کی جس کے معنی دل کے ہیں اور قلوب جمع قلب کی، جو تقلب سے ہے اور جس کے معنی ہیں، پلٹنا یعنی ایک حالت چھوڑ کر دوسری حالت کی طرف آنا، چونکہ اکثر اہل لغت نے فواد اور قلب کا ذکر ایک ہی معنی میں کیا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ حدیث میں ان دونوں کا ذکر تاکید کے لئے ہے۔ واضح ہو کر یہ حدیث باب وفاۃ النبی ﷺ کی تیسری فصل میں بھی نقل ہوئی ہے لیکن وہاں صرف ارق افئدۃ کے الفاظ ہیں لین قلوبا کے الفاظ نہیں ہیں اور اس سے بھی یہی ظاہر ہوتا ہے کہ معنی کے اعتبار سے یہ دونوں جملے یکساں ہیں بعض حضرات نے کہا ہے کہ فواد اصل میں دل کے پردہ کو کہتے ہیں جب یہ پردہ باریک ہوتا ہے تو حق بات اس میں داخل ہوتی ہے اور دل تک پہنچ جاتی ہے اور پھر جب دل نرم ہوتا ہے تو وہ حق بات اس کے اندر بھی داخل ہوجاتی ہے پس رقت غلظت کی ہے اور لین صلابت کی۔ اور یہ دونوں اسلامی دل کی ایک خاص کیفیت وحالت کا نام ہیں جب انسان کا دل اللہ کی اتاری ہوئی آیتوں اور اللہ کے برگزیدہ بندوں کے پندونصائح سے متاثر نہیں ہوتا تو اس کو غلظت وصلابت کے ساتھ منسوب کیا جاتا ہے اور جب انسان کا دل ان سے متاثر ہوتا ہے اس کو رقت اور لین کے ساتھ موصوف کیا جاتا ہے یہاں علامہ طیبی (رح) کا کہنا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ حدیث میں رقت سے مراد جودت فہم ہو اور لین سے مراد حق بات کا قبول کرنا ہو، ایمان یمن کا ہے اور۔۔۔۔۔۔۔ یہاں یمانیۃ کا لفظ بعض روایتوں میں ی کی تشدید کے ساتھ یمانیۃ بھی منقول ہے، بہرحال آنحضرت ﷺ نے ایمان و حکمت کو یمن کے ساتھ اس اعتبار سے منسوب فرمایا کہ اس وقت کے دوسرے اہل مشرق کے مقابلے میں یمن کے لوگ سب سے زیادہ کمال ایمان کے ساتھ متصف تھے اور جیسا کہ باب بدء الخلق کی روایت میں گذرا یہ حضرت ابوموسیٰ اشعری ہی تھے، جنہوں نے قبول اسلام کے لئے بمعنی لوگوں کی سربراہی کرتے ہوئے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضری کے موقع پر آنحضرت ﷺ سے آفرنیش عالم، ابتدائے کائنات اور اس سلسلے کے حکم و اسرار کے بارے میں سوال کرکے حکمت و دانائی سے یمنی لوگوں کی فطری وابستگی کا اظہار فرمایا اور یہ پھر حکمت و دانائی کا کمال انہی کا طفیل اور انہی کی وراثت تھی جس کا ظہور حضرت ابوالحسن اشعری کی ذات میں ہوا جو اہل سنت والجماعت آئمہ میں سے ہیں اور حضرت موسیٰ اشعری کی اولاد میں سے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ یہاں حکمت سے مراد رفقہ فی الدین ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ حکمت سے مراد منہ سے صرف ایسی نیک بات نکلنا ہے جو دنیا و آخرت دونوں میں مفید ہو اور ہلاکت و تباہی سے بچانے والی ہو۔ اور فخر اور تکبر کرنا اونٹ والوں میں سے۔۔۔۔۔ اس ارشاد گرامی سے معلوم ہوا کہ حیوانات اور جانوروں کی مخالطت انسان کی طبیعت وسرشت پر اثر انداز ہوتی ہے جو انسان جس جانور کے ساتھ اپنا وقت زیادہ گزارتا ہے اس کے اندر وہ خصلت خود سرایت کر جاتی ہے جو اس جانور کی طبیعت وطینت کا خاصہ ہوتی ہے۔ مثلا کوئی شخص اونٹوں کے درمیان رہتا ہے اور اونٹ چرانے کا کام کرتا ہے تواونٹ کی سرشت میں قساوت وغلظت ہے اس لئے اس شخص کی خو اور اس کی عادات واطوار میں بھی قساوت اور غلظت آجاتی ہے، اسی طرح بکری ایسا جانور ہے جس کی طبیعت میں تحمل نرمی اور مسکینی ہوتی ہے، پس جو شخص بکریاں پالتا ہے، بکر یاں کے درمیان رہتا ہے اور بکریاں چراتا ہے تو اس کی خو اور اس کے عادات واطوار میں تحمل نرمی اور مسکین آجاتی ہے، اسی پر دوسرے جانوروں کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے اور بعض حضرات نے یوں لکھا ہے کہ بکریاں پالنے والے اور بکریاں چرانے والے آبادی کے قریب رہتے ہیں اور بستی والوں سے خلط ملط رکھتے ہیں کیونکہ بکریاں پانی کے بغیرصبر نہیں کرسکتیں اور جاڑے وغیرہ کے سخت موسم کو برداشت کرنے کی تاب ان میں نہیں ہوتی۔ اور اس بناء پر وہ آبادی سے دور ویرانوں اور بےآب وگیاہ میدانوں میں نہیں جاتیں جو اس بات کی علامت ہے کہ ان کی سرشت میں نرمی اور مسکینی اور کمزوری شامل ہوتی ہے اور یہ بعض آبادیوں میں اور لوگوں کے درمیان رہنا ایسی چیز ہے جو طبیعت میں نرمی ومروت پیدا کرتی ہے اور اطاعت و فرمانبرداری کی طرف لے جاتی ہے اور اپنے حاکم کی سرکشی سے باز رکھتی ہے، اس کے برخلاف اونٹ ایک ایسا سخت طبیعت جانور ہوتا ہے جو آبادیوں اور بستیوں سے دور میدانوں اور صحراؤں میں زیادہ رہتا ہے اور اسی سبب سے اونٹ والوں کو بھی آبادی سے دور رہنا پڑتا ہے اور لوگوں سے ان کا ملنا جلنا کم ہی ہوتا ہے اور یہ چیز ایسی ہے جو طبیعت میں سختی ودرشتی، طغیانی و سرکشی اور حاکم کی اطاعت و فرمانبرداری سے انحراف کا مادہ پیدا کردیتی ہے، اس جملہ کی وضاحت میں ایک قول یہ بھی ہے کہ اونٹ مالیت کے اعتبار سے بڑا اور قیمتی اثاثہ ہوتا ہے اس کے برخلاف بکری کم قیمت اثاثہ ہوتی ہے ظاہر جس شخص کے پاس اونٹ ہوں گے وہ اپنے کو زیادہ مالدار سمجھے گا اور یہ چیز اس میں غرور وتکبر پیدا کرنے والی ہوگی اور جس شخص کے پاس بکریاں ہوں گی وہ اپنے کو زیادہ مالدار نہیں سمجھے گا اور یہ چیز اس کے اندر نرمی و قناعت اور مسکینی پیدا ہونے کا باعث بنے گی۔
6304
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : رأس الكفر نحو المشرق والفخر والخيلاء في أهل الخيل والإبل والفدادين أهل الوبر والسكينة في أهل الغنم متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کفر کا سرا مشرق کی طرف ہے۔ فخر وتکبر گھوڑے والوں اور اونٹ والوں اور چلانے والوں میں ہے جو اونٹ کے بالوں کے خیموں میں رہتے ہیں (یعنی وہ لوگ جو آبادیوں میں سے دور جنگلات اور صحراؤں میں رہتے ہیں اور اس طرح کے لوگ اس زمانہ میں زیادہ تر اونٹ کے بالوں سے بنے خیموں میں رہتے تھے) اور نرمی ومسکینی بکری والوں میں ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
کفر کی چوٹی سے مراد بڑا کفر ہے جیسا کہ علامہ سیوطی (رح) نے لکھا ہے۔ اور یہ مفہوم مراد لینا زیادہ صحیح ہے کہ کفر پیدا ہونے اور ظاہر ہونے کی جگہ مشرق ہے، چناچہ علامہ طیبی (رح) نے کہا ہے کہ یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے رأس الامر الاسلام (دین کی چوٹی اسلام ہے) گویا کفر کی چوٹی مشرق کی طرف ہے کا مطلب یہ ہوا کہ کفر کا زیادہ ظہور مشرق کی سمت ہے اور ابن ملک نے یہی معنی لکھے ہیں کہ کفر اور دجال اور یاجوج و ماجوج جیسے بڑے فتنے مشرق کی طرف ظاہر ہوں گے اور علامہ نووی (رح) اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں کفر کو مشرق کے ساتھ مختص کرنے کا مطلب اہل مشرق پر شیطان کے زیادہ تسلط کو ظاہر کرنا ہے اور آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے اعتبار سے ہے (یعنی آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مشرقی اقوم کفر وشرک میں بہت زیادہ مبتلا تھیں جیسا کہ تاتار ہندوستان چین اور جاپان وغیرہ کے لوگ اور یہ ممالک عرب سے مشرق کی جانب واقع ہیں) نیز اس کا اطلاق بایں اعتبار زمانہ آئندہ پر بھی ہوسکتا ہے کہ دجال کا خروج ظہور اس علاقہ سے ہوگا جو عرب کے مشرق میں ہے پس آخر زمانہ میں بھی عرب کا مشرق سب سے بڑے فتنہ کے ظاہر ہونے کی جگہ ہوگا اور سیوطی نے باجی کے حوالہ سے نقل کیا ہے کہ یہاں مشرق سے مراد فارس (ایران) ہے یا نجد اور بعض حضرات نے لکھا ہے کہ اس میں ابلیس کی طرف اشارہ ہے جیسا کہ روایتوں میں آتا ہے کہ سورج شیطان کے دونوں سینگوں کے درمیان طلوع ہوتا ہے (یعنی جب مشرق میں سورج طلوع ہوتا ہے تو اس وقت شیطان اپنا سر سورج کے قریب کردیتا ہے تاکہ سورج پرستوں کا سجدہ اسی کے لئے ہوجائے۔
6305
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي مسعود الأنصاري عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من ههنا جاءت الفتن - نحو المشرق - والجفاء وغلظ القلوب في الفدادين أهل الوبر عند أصول أذناب الإبل والبقر في ربيعة ومضر . متفق عليه
اور حضرت ابومسعود (رض) نبی کریم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک دن) آپ ﷺ نے مشرق کی سمت ہاتھ سے اشارہ کر کے فرمایا کہ فتنے اس جگہ سے آئے ہیں اور بد زبانی و سنگدلی چلانے والوں اور خیمہ نشینوں میں ہے جو (اپنے مویشیوں کو چرانے کے لئے) اونٹوں اور گایوں کی دموں کے پیچھے لگے ہوئے ہیں، یہ لوگ ربیعہ اور مضر قبائل میں ہیں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
فتنے اس جگہ سے آئے ہیں یعنی وہ فتنہ جو دین کے استحکام و ترقی میں خلل ڈالے گا اسلام اور مسلمانوں کو نقصان پہنچائے گا اور لوگوں کو دینی زندگی کے لئے امتحان و آزمائش کا موجب بنے گا، ان علاقوں اور ملکوں سے اٹھے گا جو عرب کی مشرقی سمت میں واقع ہیں۔ چلانے والوں اور خیمہ نشینوں سے مراد یا تو اعراب ہیں یا دوسرے غیر مہذب قبائلی اور جنگلی لوگ، ان کی مذمت اس اعتبار سے فرمائی گئی کہ اس طرح کے لوگ مہذب ومتمدن دنیا سے دور، شہروں اور آبادیوں سے بیگانہ پہاڑوں اور جنگلوں میں پڑے رہتے ہیں جس کے سبب نہ ان کو علم کی روشنی میسر آتی ہے اور نہ تہذیب و تمدن کی خوشبو ان میں ہوتی ہے جبکہ شہروں اور آبادیوں میں رہنے سے اہل علم اور نیک بندوں کی صحبت نصیب ہوتی ہے اور اس کے ذریعہ نہ صرف یہ کہ دین و شریعت کے علوم و احکام حاصل ہوتے ہیں بلکہ اخلاق و کردار اور مہذب اور نیک پاکیزہ بنتے ہیں، ایسے ہی غیر مہذب قبائلی اور جنگلی لوگوں کے بارے میں حق تعالیٰ نے فرمایا الاعراب اشد کفرا ونفاقا واجدر الا یعلموا حدود ما انزل اللہ علی رسولہ جو اعراب (یعنی غیر مہذب دیہاتی اور جنگلی لوگ) ہیں وہ کفر اور نفاق میں بہت سخت ہیں ان کا حال ایسا ہونا ہی چاہیے کہ ان کو ان احکام کا علم نہیں ہے جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل فرمائے ہیں۔
6306
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غلظ القلوب والجفاء في المشرق والإيمان في أهل الحجاز . رواه مسلم
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا سنگدلی اور سخت گوئی مشرق میں ہے (کیونکہ کفر اور فتنوں کا مصدر و مرکز اسی طرف کے علاقے ہیں) اور ایمان حجاز والوں میں سے۔ (مسلم ) ۔

تشریح
حجاز سے مراد مکہ مدینہ طائف اور ان سے متعلق شہر و آبادیاں ہیں جب کہ ان کا کہنا یہ ہے کہ یہاں حجاز والوں سے مراد انصار ہیں۔ حجاز ملک عرب (جزیرۃ العرب) کے اس خطہ کو کہتے ہیں جو نجد اور تہامہ کے درمیان ہے اور اس خطہ کا نام حجاز اس اعتبار سے پڑا کہ یہ خطہ نجد اور تہامہ کے درمیان حاجز یعنی حائل ہے، نجد جزیرۃ العرب کے شمالی اور جنوبی ریگستانوں یعنی النفوذ اور الرابع الخالی کے درمیان تقریبا آٹھ سو میل طویل اور سوا دو سو میل عریض اس خطہ کو کہتے ہیں جو سطح مرتفع پر مشتمل ہے نجد کے معنی بلند زمین کے ہیں اس کے مقابلہ پر اس ملک کا جو حصہ نشیب میں ہے اس کو تہامہ کہا جاتا ہے تہامہ کے معنی پست زمین کے ہیں۔
6307
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : اللهم بارك لنا في شامنا اللهم بارك لنا في يمننا . قالوا : يا رسول الله وفي نجدنا ؟ فأظنه قال في الثالثة : هناك الزلازل والفتن وبها يطلع قرن الشيطان . رواه البخاري
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے یوں دعا فرمائی خدایا ! ہمیں ہمارے (ملک) شام میں برکت عطا فرما اور خدایا ! ہمیں ہمارے (ملک) یمن میں برکت عطا فرما۔ یہ سن کر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہمارے نجد کے بارے میں بھی (دعا فرمائیے تاکہ ہمیں اس علاقہ کی طرف سے بھی برکت حاصل ہو) لیکن آنحضرت ﷺ نے پھر یہی دعا فرمائی خدایا ! ہمیں ہمارے شام میں برکت عطا فرما اور خدایا ! ہمیں ہمارے یمن میں برکت عطا فرما، صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے (دوبارہ) عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! ہمارے نجد کے بارے میں بھی (یہی دعا فرمائیے) راوی کہتے ہیں کہ میرا گمان یہ ہے کہ تیسری بار آنحضرت ﷺ نے (پھر انہی الفاظ میں دعا کی اور نجد کے بارے میں) فرمایا وہاں زلزلے ہوں گے فتنے ہوں گے اور وہیں سے شیطان کا سینگ ظاہر ہوتا ہے۔ (بخاری)

تشریح
دعا میں شام کے ذکر کو یمن کے ذکر پر مقدم رکھنا شاید اس بنا پر تھا کہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد الذی بارکنا حولہ کے بموجب شام کی سر زمین جہاں فلسطین واقع ہے اپنی اصل کے اعتبار سے بابرکت ہے اور چونکہ یہی سر زمین بہت زیادہ انبیاء کرام کی آخری آرام گاہ ہے اس نسبت سے اس کا ذکر پہلے ہونا ضروری تھا، واضح ہو کہ شام میں برکت سے مراد یا تو وہاں کی برکتوں میں اضافہ ہے یا ایسی برکت کہ جو اہل مدینہ اور تمام مؤمنین کو بالخصوص حاصل ہو، اسی طرح یمن میں برکت سے ظاہری اور معنوی دونوں طرح کی برکتیں مراد ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس ملک کو ظاہر میں بھی خوشحال، پرامن اور فائدہ مند بنائے اور دینی و روحانی طور پر بھی وہاں کے لوگ دیندار اور صالح رہیں، چناچہ یمن کو اللہ تعالیٰ نے نہ صرف یہ کہ مادی طور پر خوشحال اور زرخیز ملک بنایا بلکہ وہاں کی سر زمین نے بہت زیادہ اولیاء اور علماء بھی پیدا کئے۔ ایک قول کے مطابق ان دونوں ملکوں کے لئے برکت کی دعا کا ظاہری داعیہ یہ بھی ہے کہ اہل مدینہ کے لئے غلہ اور دوسری غذائی اشیاء انہی دونوں ملکوں سے آتی تھیں اور ایک شارح نے یوں لکھا ہے آنحضرت ﷺ نے یمن اور شام کے لئے برکت کی دعا اس بناء پر فرمائی کہ آنحضرت ﷺ کی ولادت اور ظہور رسالت کی جگہ مکہ مکرمہ ہے اور مکہ مکرمہ یمن سے قرابت رکھتا ہے جب کہ آنحضرت ﷺ کا مسکن اور مدفن مدینہ منورہ ہے اور مدینہ منورہ شام سے قرابت رکھتا ہے اور اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہی چیز یعنی یمن کی قربت مکہ سے اور شام کی قربت مدینہ سے ان دونوں کی فضیلت کے لئے کافی ہے اور اسی لئے آنحضرت ﷺ نے ان دونوں ملکوں کی اضافت اپنی طرف کر کے ہمارا شام اور ہمارا یمن فرمایا اور ان کی شان بڑھانے کے لئے ضمیر جمع استعمال فرمائی، نیز ان کے حق میں آپ ﷺ نے تین بار برکت کی دعا فرمائی۔ وہاں زلزلے ہوں گے …۔۔ میں وہاں کا مطلب نجد کی سمت ہے اور نجد کی سمت سے مراد وہی حجاز کی مشرقی سمت ہے جس کا ذکر پیچھے حدیث میں نحو المشرق کے الفاظ میں آیا ہے زلزلے سے مراد ظاہری زلزلہ بھی ہے اور معنوی زلزلہ بھی، معنوی زلزلہ کا مطلب ہے وہاں کے لوگوں کے دلوں کا اتھل پتھل ہونا، بےقرار ہونا اور روحانی چین و سکون کا ختم ہوجانا فتنوں سے مراد وہ آفات اور مصائب ہیں جن سے دین میں ضعف و کمزوری اور نیکی ودیانت میں کمی ہوجائے۔ اور وہیں سے شیطان کا سینگ ظاہر ہوتا ہے کا مطلب یہ تھا کہ نجد ہماری اس سمت میں واقع ہے جدھر کفر اور فتنوں کا زور ہے اور گویا نجد اس علاقہ میں ہے جہاں شیطان کی جماعت اور اس کے مدد گاروں کا ظہور زیادہ ہے، لہذا ایسے علاقہ کے بارے میں برکت کی دعا کرنا موزوں نہیں ہے۔
6308
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس عن زيد بن ثابت أن النبي صلى الله عليه و سلم نظر قبل اليمن فقال : اللهم أقبل بقلوبهم وبارك لنا في صاعنا ومدنا . رواه الترمذي
حضرت انس حضرت زید بن ثابت سے روایت کرتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ نے یمن کی سمت نظر اٹھائی اور پھر یوں دعا فرمائی خدایا اہل یمن کے دلوں کو متوجہ فرما اور ہمارے صاع اور ہمارے مد میں ہمارے لئے برکت عطا فرما۔ (ترمذی)

تشریح
اہل یمن کے دلوں کو متوجہ فرما یعنی ان کے دلوں میں ہماری محبت اور ہمارے پاس آنے کا خیال ڈال دے تاکہ وہ یہاں مدینہ آنے پر آمادہ و تیار ہوجائیں۔ واضح ہو کہ آنحضرت ﷺ نے یہ دعا اس پس منظر میں فرمائی کہ اس وقت مدینہ کی غذائی ضروریات کے لئے غلہ یمن ہی سے آیا کرتا تھا اسی لئے آپ ﷺ نے بعد میں غلہ کے لئے صاع اور مد میں برکت کی دعا فرمائی، تاکہ زیادہ سے زیادہ غلہ یمن سے آئے۔ صاع اور مد اس وقت کے دو پیمانوں کے نام ہیں جن کے ذریعہ غلہ کا لین دین ہوتا تھا صاع میں تقریبا ساڑھے تین سیر غلہ آتا تھا اور مد میں اس کا چوتھائی اور یہاں صاع اور مد میں برکت سے مراد غلہ میں برکت ہے گویا ظرف بول کر مظروف مراد لیا گیا ہے۔ تورپشتی نے اس دعا کی وضاحت میں یہ لکھا ہے کہ دعا کے دونوں حصوں ہی سے تنگ حال اور تنگ معاش چلے آرہے تھے، اب جب آنحضرت ﷺ نے اہل یمن کے حق میں دعا فرمائی کہ وہ اپنا وطن چھوڑ کر دار الہجرت مدینہ چلے آئیں تو چونکہ ان کی تعداد زیادہ تھی اور آپ ﷺ کے ذہن میں یہ بات تھی کہ اتنے زیادہ لوگوں کے آجانے سے مدینہ کی معاشی حالت اور زیادہ تنگ وخستہ ہوسکتی ہے اس لئے آپ ﷺ نے اہل مدینہ کی غذائی ضرورت یعنی غلہ میں برکت کی دعا فرمائی تاکہ اہل مدینہ کو بھی معاش کی فراخی حاصل ہو اور ان لوگوں کو بھی جو اپنے وطن سے ہجرت کر کے مدینہ آنے والے ہوں اور اس طرح نہ تو مدینہ میں رہنے والے نئے آنے والوں کی وجہ سے تنگ و پریشان ہوں اور نہ ان لوگوں کے لئے مدینہ کا قیام دشواری و پریشانی کا سبب بنے جو ہجرت کرکے مدینہ آئیں۔
6309
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن زيد بن ثابت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : طوبى للشام قلنا : لأي ذلك يا رسول الله ؟ قال : لأن ملائكة الرحمن باسطة أجنحتها عليها رواه أحمد والترمذي
اور حضرت زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے یہ فرمایا کہ خوش بختی ہو اہل شام سے ہم نے پوچھا کہ وہ کس وجہ سے یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ نے فرمایا اس وجہ سے کہ رحمن کے فرشتے شام کی سر زمین اور اس کے رہنے والوں پر بازو پھیلائے ہوئے ہیں (تاکہ وہ سر زمین اور اس کے لوگ کفر سے محفوظ رہیں۔ (ترمذی)

تشریح
رحمن کے فرشتے کی لفظی ترکیب اس طرف اشارہ کرتی ہے کہ یہاں فرشتوں سے مراد رحمت کے فرشتے ہیں اور حضرت شیخ عبدالحق نے یہ لکھا ہے کہ یہ جملہ فرشتے اپنے بازو پھیلائے ہوئے ہیں اس بات سے کنایہ ہے کہ مخصوص اہل شام یعنی اس ملک میں رہنے والے ابدال پر یا تمام اہل شام پر اللہ تعالیٰ کی رحمت و راحت چھائی ہوئی ہے۔ واضح رہے کہ فرشتوں کے بازو سے مراد صفات وقوائے ملکیہ ہیں ان کے بازوؤں کو اس دنیا کے پرندوں کے بازوؤں پر قیاس نہیں کرنا چاہئے۔ کیونکہ کسی پرندے کے تین چار سے زائد بازو نہیں ہوتے چہ جائیکہ چھ سو بازو جو آنحضرت ﷺ نے شب معراج میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے دیکھے تھے حاصل یہ ہے کہ یہ تو ماننا اور ثابت کرنا چاہئے کہ فرشتوں کے بازو ہوتے ہیں لیکن ان بازوؤں کی ماہیت و حقیقت اور کیفیت کی بحث اور بیان میں نہ پڑنا چاہئے۔
6310
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ستخرج نار من نحو حضرموت أو من حضرموت تحشر الناس قلنا : يا رسول الله فما تأمرنا ؟ قال : عليكم بالشام . رواه الترمذي
اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا عنقریب حضرموت کی سمت سے یا یہ فرمایا کہ حضرموت سے ایک آگ نمودار ہوگی اور وہ آگ لوگوں کو جمع کرے گی اور ہانک کرلے جائے گی۔ (یہ سن کر) صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! پھر ہمارے بارے میں کیا حکم ہے یعنی اس وقت ہمیں کیا کرنا چاہئے اور کہاں چلے جانا چاہئے۔ آپ نے فرمایا تمہیں شام میں چلے جانا چاہئے۔ (ترمذی)

تشریح
یا یہ فرمایا یہ راوی کا شک ہے کہ آنحضرت ﷺ نے من نحو حضرموت کے الفاظ ارشاد فرمائے تھے یا من حضرموت فرمایا تھا تاہم اگر آپ ﷺ نے نحو کا لفظ ظاہر میں استعمال نہیں فرمایا تو بھی من نحوہا یا من جانبہا کا ہی مفہوم مراد تھا، آگ سے یا تو حقیقت میں یہی ظاہر آگ مراد ہے، یا اس سے فتنے اور شرور مراد ہیں، حضرموت اس وقت ایک شہر کا نام تھا جو یمن میں شامل تھا لیکن اب یہ ایک پورے علاقے کا نام ہے جس کی سرحدیں یمن کے قریب سے شروع ہو کر عمان کے قریب تک چلی گئی ہیں۔ تمہیں شام میں چلے جانا چاہئے کیونکہ شام کی سر زمین کو رحمت کے ملائکہ گھیرے ہوئے ہیں اس لئے وہاں کے رہنے والوں کو اس آگ سے خواہ وہ حسی یعنی ظاہری آگ ہو یا معنوی وحکمی آگ یعنی فتنے اور شرور، کوئی ضرر نہیں پہنچے گا واضح ہو کہ پیچھے قیامت سے متعلق ایک باب کی حدیث میں آگ کا ذکر آیا تھا جو لوگوں کو جمع کر کے محشر کی طرف لے جائے گی۔ اس میں محشر سے مراد شام کی سر زمین ہے اور اس حدیث سے بظاہر یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ اس وقت لوگ براہ راست آگ کے اثر کے تحت ہوں گے شام کی طرف جانے میں ان کو اپنا اختیار نہیں ہوگا جب کہ یہاں تمہیں شام چلے جانا چاہئے کے الفاظ یہ مفہوم واضح طور پر سامنے آتا ہے کہ شام کی طرف جانے میں ان کے اختیار کو دخل ہوگا۔ لہٰذا یہ کہنا زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے کہ یہاں حدیث میں حضرموت کی طرف سے نمودار ہونے والی آگ مراد نہیں ہے بلکہ وہ فتنے اور شرور مراد ہیں جو آخر زمانہ میں رونما ہوں گے جن کو آگ سے تعبیر کیا گیا ہے۔