Mishkaat Shareef
9. نماز کا بیان
مشكاة المصابيح
530
Mishkaat Shareefلغت میں صلوٰۃ دعا کو کہتے ہیں۔ اصطلاح شریعت میں صلوٰۃ چند مخصوص اقوال و افعال کو کہتے ہیں جن کی ابتداء تکبیر سے اور انتہاء سلام پر ہوتی ہے۔ صلوٰۃ کے مادہ اشتقاق کے بارے میں کئی اقوال نقل کئے جاتے ہیں۔ نووی نے مسلم کی شرح میں کہا ہے کہ صلوٰۃ کا مادہ اشتقاق صلوین ہے جو سرین کی دونوں ہڈیوں کو کہتے ہیں چونکہ نماز میں ان دونوں ہڈیوں کی رکوع و سجود کے وقت زیادہ حرکت ہوتی ہے اس لئے اس مناسبت سے نماز کو صلوٰۃ کہا گیا ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں صلوٰۃ مصلی سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں ٹیڑھی لکڑی کو آگ سے سینک کر سیدھا کرنا چناچہ نماز کو صلوٰۃ اس لئے کہا جاتا ہے کہ انسان کے مزاج میں نفس امارہ کی وجہ سے ٹیڑھا پن ہے لہٰذا جب کوئی آدمی نماز پڑھتا ہے۔ تو رب قدوس کی عظمت وہیبت کی گرمی جو اس عبادت میں انتہائی قرب الٰہی کی بناء پر حاصل ہوتی ہے اس کے ٹیٹرھے پن کو ختم کردیتی ہے گویا مصلی یعنی نمازی اس مادہ اشتقاق کی رو سے اپنے نفس امارہ کو عظمت الٰہی اور ہیبت زبانی کی تپش سے سینکنے والا ہوا۔ لہٰذا جو آدمی نماز کی حرارت سے سینکا گیا اور اس کا ٹیڑھا پن نماز کی وجہ سے دور کیا گیا تو اس کو آخرت کی آگ یعنی دوزخ سے سینکنے کی ضرورت نہیں رہے گی کیونکہ اللہ کی ذات سے امید ہے کہ وہ اپنے اس بندے کو جس نے دنیا میں نماز کی پابندی کی اور کوئی ایسا فعل نہ کیا جو اللہ تعالیٰ کے عذاب کا موجب ہو تو اسے جہنم کی آگ میں نہ ڈالے گا۔ اس اصطلاحی تعریف کے بعد یہ سمجھ لیجئے کہ نماز اسلام کا وہ عظیم رکن اور ستون ہے جس کی اہمیت و عظمت کے بارے میں امیر المومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا یہ اثر منقول ہے کہ جب نماز کا وقت آتا تو ان کے چہرہ مبارک کا رنگ متغیر ہوجاتا۔ لوگوں نے پوچھا کہ امیر المومنین ! آپ کی یہ کیا حالت ہے ؟ فرماتے ہیں کہ اب اس امانت ( یہ اشارہ ہے اس آیت قرآنی کی طرف آیت (اِنَّا عَرَضْنَا الْاَمَانَةَ عَلَي السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضِ وَالْجِبَالِ فَاَبَيْنَ اَنْ يَّحْمِلْنَهَا وَاَشْفَقْنَ مِنْهَا وَحَمَلَهَا الْاِنْسَانُ اِنَّه كَانَ ظَلُوْمًا جَهُوْلًا) 33 ۔ الاحزاب 72) کا وقت آگیا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے آسمانوں، پہاڑوں اور زمین پر پیش فرمایا تھا اور وہ سب اس امانت کے لینے سے ڈر گئے اور انکار کردیا۔ (احیاء العلوم) نماز کی تاکید اور اس کے فضائل سے قرآن مجید کے مبارک صفحات مالا مال ہیں، نماز کو اداء کرنے اور اس کی پابندی کرنے کے لئے جس سختی سے حکم دیا گیا ہے وہ خود اس عبادت کی اہمیت و فضیلت کی دلیل ہے۔ ایمان کے بعد شریعت نے سب سے زیادہ نماز ہی پر زور دیا ہے چناچہ قرآن کریم کی یہ چند آیتیں ملاحظہ فرمائے۔ آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ كَانَتْ عَلَي الْمُؤْمِنِيْنَ كِتٰبًا مَّوْقُوْتًا) 4 ۔ النساء 103) بیشک ایمان والوں پر نماز فرض ہے وقت مقرر پر۔ آیت (حٰفِظُوْا عَلَي الصَّلَوٰتِ وَالصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى) 2 ۔ البقرۃ 238) نمازوں کی خصوصاً درمیانی نماز (عصر) کی پابندی کرو۔ آیت ( اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ذٰلِكَ ذِكْرٰي لِلذّٰكِرِيْنَ ) 11 ۔ ہود 114) بیشک نیکیاں (یعنی نمازیں) برائیوں کو معاف کرا دیتی ہیں۔ آیت ( اِنَّ الصَّلٰوةَ تَنْهٰى عَنِ الْفَحْشَا ءِ وَالْمُنْكَرِ ) 29 ۔ العنکبوت 45) بیشک نماز برے اور خراب کاموں سے انسان کو بچاتی ہے۔ اور بیشک اللہ تعالیٰ کے ذکر کا بڑا مرتبہ بڑا ثر ہے۔ بہر حال ! نماز ایک ایسی پسند اور محبوب عبادت ہے جس کی برکتوں اور سعادتوں سے خداوند کریم نے کسی بھی نبی کی شریعت کو محروم نہیں رکھا ہے۔ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر نبی آخر الزمان سرکار دو عالم ﷺ تک تمام رسولوں کی امت پر نماز فرض تھی۔ ہاں نماز کی کیفیت اور تعینات میں ہر امت کے لئے تغیر ہوتا رہا۔ سرکار عالم ﷺ کی امت پر ابتدائے رسالت میں دو وقت کی نماز فرض تھی ایک آفتاب کے نکلنے سے قبل اور ایک آفتاب ڈوبنے سے بعد۔ ہجرت سے ڈیڑھ برس پہلے جب سرکار دو عالم ﷺ نے معراج میں ذات حق جل مجدہ کی قربت حقیقی کا عظیم و افضل ترین شرف پایا تو اس مقدس اور با سعادت موقعہ پر پانچ وقت کی نماز کا عظیم و اشرف ترین تحفہ بھی عنایت فرمایا گیا۔ چناچہ فجر، ظہر، مغرب، عشاء ان پانچ وقتوں کی نماز کا فریضہ صرف اسی امت کی امتیازی خصوصیت ہے اگلی امتوں پر صرف فجر کی نماز فرض تھی نیز کسی پر ظہر کی اور کسی پر عصر کی۔ اسلام کی تمام عبادات میں صرف نماز ہی وہ عبادت ہے جس کو سب سے افضل اور اعلیٰ مقام حاصل ہے۔ چناچہ اس پر اتفاق ہے کہ نماز اسلام کا رکن اعظم ہے بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ اسلام کا دارومدار اسی عبادت پر ہے تو مبالغہ نہ ہوگا۔ ہر مسلمان عاقل بالغ پر ہر روز پانچ وقت نماز پڑھنا فرض عین ہے امیر ہو یا فقیر، تندرست ہو یا مریض اور مقیم ہو یا مسافر ہر ایک کو پانچوں وقت ان آداب و شرائط اور طریقوں کے ساتھ جو اللہ اور اللہ کے رسول نے نماز کے سلسلہ میں بتائے ہیں اللہ کے دربار میں حاضری دینا اور رب قدوس کی عظمت و بڑائی اور اپنی بےکسی و لاچاری اور عجز و انکساری کا مظاہرہ کرنا ضروری ہے یہاں تک کہ جب میدان کار زار میں جنگ کے شعلے بھرک رہے ہوں اور عورت سب سے زیادہ اور شدید تکلیف درد زہ میں مبتلا ہو تب بھی نماز کو چھوڑنا جائز نہیں ہے بلکہ اس کی ادائیگی میں دیر کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے یہاں تک کہ اگر کسی عورت کے بچے کی پیدائش کے وقت بچے کا کوئی جزو نصف سے کم اس کے خاص حصے سے باہر آگیا ہو خواہ خون نکلا ہو یا نہ نکلا ہو اس وقت بھی اس کو نماز پڑھنے کا حکم ہے اور نماز میں توقف کرنا جائز نہیں ہے جو آدمی نماز کی فرضیت سے انکار کرے وہ کافر ہے اور اس کو ترک کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب اور فاسق و فاجر ہے بلکہ بعض جلیل القدر صحابہ کرام مثلاً حضرت عمر فاروق (رض) وغیرہ نماز چھوڑنے والے کو کافر کہتے ہیں امام احمد (رح) کا بھی یہی مسلک ہے امام شافعی و امام مالک رحمہما اللہ تعالیٰ علیہما نماز چھوڑنے کو گردن زنی قرار دیتے ہیں۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) اگرچہ اس کے کفر کے قائل نہیں تاہم ان کے نزدیک بھی نماز چھوڑنے والے کے لئے سخت تعزیر ہے۔ مصنف نے یہاں کتاب الصلوٰۃ کے نام سے جو عنوان قائم فرمایا ہے اس کے تحت نماز سے متعلق وہ تمام احادیث ذکر کی جا رہی ہیں جن سے نماز کی اہمیت و عظمت اور اس کی فضیلت کا پتہ چلتا ہے اور نماز کے جو احکام و فضائل ہیں ان کا استنباط ہوتا ہے۔
531
Mishkaat Shareefعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلصَّلَوٰتُ الْخَمْسُ وَالْجُمُعَۃُ اِلَی الْجُمُعَۃِوَرَمَضَانُ اِلٰی رَمَضَانَ مُکَفِّرَاتٌ لِّمَا بَےْنَھُنَّ اِذَا اجْتُنِبَتِ الْکَبَائِرُ۔ (صحیح مسلم)
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر کوئی آدمی کبیرہ گناہوں سے بچتا رہے تو پانچوں نمازیں اور جمعہ سے جمعہ تک اور رمضان سے رمضان تک اس کے گناہوں کو مٹا دیتے ہیں جو ان کے درمیان ہوئے ہیں۔ (صحیح مسلم)
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی پابندی کے ساتھ پانچوں وقت کی نماز پڑھے، جمعہ کی نماز پورے آداب کے ساتھ ادا کرے اور اسی طرح رمضان کے روزے رکھے تو ان کے درمیان جو صغیرہ گناہ صادر ہوئے ہیں سب ختم ہوجاتے ہیں البتہ کبیرہ گناہ نہیں بخشے جاتے ہاں اگر اللہ چاہے تو وہ کبرہ گناہ بھی معاف فرما سکتا ہے۔ یہاں ایک ہلکا سا خلجان واقع ہوتا ہے کہ جب ہر روز کی پانچوں وقت کی نمازیں ہی تمام گناہ مٹا دیتی ہیں تو پھر یہ جمعہ وغیرہ کون سے گناہ ختم کرتے ہیں ؟ چناچہ اس خلجان کو رفع کرنے کے لئے ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ ان سب میں گناہوں کو مٹانے اور ختم کرنے کی صلاحیت ہے چناچہ اگر گناہ صغیرہ ہوتے ہیں تو یہ تینوں ان کو مٹا دیتے ہیں ورنہ ان میں سے ہر ایک کے بدلے بیشمار نیکیاں لکھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے درجات میں بلندی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے فرمایا کہ یہ تینوں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہیں اور ان کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی ایک کسی گناہ کے لئے کفارہ بن سکے تو دوسرا کفارہ ہوجاتا ہے مثلاً نماز میں کسی تقصیر اور نقصان کی وجہ سے اگر وہ نماز گناہوں کے لئے کفارہ نہ ہو سکے تو ان کو جمعہ ختم کردیتا ہے اور جمعہ میں بھی کسی تقصیر کی وجہ سے کفارہ ہونے کی صلاحیت نہ رہے تو پھر رمضان ان کے لئے کفارہ ہوجاتا ہے اور اگر سب کے سب کفارہ بننے کی صلاحیت رکھیں تو یہ سب مل کر گناہوں کو اچھی طرح مٹا دیتے ہیں اور کفارے کی زیادتی کا باعث ہوتے ہیں چناچہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کئی چراغوں کی۔ اگر کسی مکان میں ایک چراغ ہوگا تو اندھیرا تو ختم ہوجائے گا مگر روشنی کم ہوگی اور اگر چراغ زیادہ ہوں گے تو نور اور روشنی حیثیت سے زیادتی ہوگی۔
تشریح
حدیث کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی آدمی پابندی کے ساتھ پانچوں وقت کی نماز پڑھے، جمعہ کی نماز پورے آداب کے ساتھ ادا کرے اور اسی طرح رمضان کے روزے رکھے تو ان کے درمیان جو صغیرہ گناہ صادر ہوئے ہیں سب ختم ہوجاتے ہیں البتہ کبیرہ گناہ نہیں بخشے جاتے ہاں اگر اللہ چاہے تو وہ کبرہ گناہ بھی معاف فرما سکتا ہے۔ یہاں ایک ہلکا سا خلجان واقع ہوتا ہے کہ جب ہر روز کی پانچوں وقت کی نمازیں ہی تمام گناہ مٹا دیتی ہیں تو پھر یہ جمعہ وغیرہ کون سے گناہ ختم کرتے ہیں ؟ چناچہ اس خلجان کو رفع کرنے کے لئے ملا علی قاری (رح) فرماتے ہیں کہ ان سب میں گناہوں کو مٹانے اور ختم کرنے کی صلاحیت ہے چناچہ اگر گناہ صغیرہ ہوتے ہیں تو یہ تینوں ان کو مٹا دیتے ہیں ورنہ ان میں سے ہر ایک کے بدلے بیشمار نیکیاں لکھی جاتی ہیں جس کی وجہ سے درجات میں بلندی حاصل ہوتی ہے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی (رح) نے فرمایا کہ یہ تینوں صغیرہ گناہوں کے لئے کفارہ ہیں اور ان کو ختم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور اگر ان میں سے کوئی ایک کسی گناہ کے لئے کفارہ بن سکے تو دوسرا کفارہ ہوجاتا ہے مثلاً نماز میں کسی تقصیر اور نقصان کی وجہ سے اگر وہ نماز گناہوں کے لئے کفارہ نہ ہو سکے تو ان کو جمعہ ختم کردیتا ہے اور جمعہ میں بھی کسی تقصیر کی وجہ سے کفارہ ہونے کی صلاحیت نہ رہے تو پھر رمضان ان کے لئے کفارہ ہوجاتا ہے اور اگر سب کے سب کفارہ بننے کی صلاحیت رکھیں تو یہ سب مل کر گناہوں کو اچھی طرح مٹا دیتے ہیں اور کفارے کی زیادتی کا باعث ہوتے ہیں چناچہ اس کی مثال ایسی ہی ہے جیسے کئی چراغوں کی۔ اگر کسی مکان میں ایک چراغ ہوگا تو اندھیرا تو ختم ہوجائے گا مگر روشنی کم ہوگی اور اگر چراغ زیادہ ہوں گے تو نور اور روشنی حیثیت سے زیادتی ہوگی۔
532
Mishkaat Shareefوَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَرَأَےْتُمْ لَوْ اَنَّ نَھْرًا بِبَابِ اَحَدِکُمْ ےَغْتَسِلُ فِےْہِ کُلَّ ےَوْمٍ خَمْسًا ھَلْ ےَبْقٰی مِنْ دَرَنِہٖ شَےْی ءٌ قَالُوْا لَا ےَبْقٰی مِنْ دَرَنِہٖ شَےْی ئٌقَالَ فَذَالِکَ مَثَلُ الصَّلَوَاتِ الْخَمْسِ ےَمْحُوا اللّٰہُ بِھِنَّ الْخَطَاےَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (صحابہ کرام کو مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا تم بتاؤ کہ جس کے دروازے کے آگے پانی کی نہر چلتی ہو اور وہ روز اس میں پانچ مرتبہ نہاتا ہو تو کیا اس کے بدن پر میل کا کوئی شائبہ بھی رہے گا ؟ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ نہیں ! میل بالکل باقی نہیں رہے گا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (تم سمجھ لو کہ) پانچوں نمازوں کی مثال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ تمام (صغیرہ) گناہوں کو ان نمازوں کے سبب سے اسی طرح مٹا دیتا ہے (جس طرح پانی میل کو اتار دیتا ہے) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
533
Mishkaat Shareefوَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ اِنَّ رَجُلًا اَصَابَ مِنِ امْرَاَۃٍ قُبْلَۃً فَاَتَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم فَاَخْبَرَہُ فَاَنْزَلَ اللّٰہُ تَعَالٰی &&وَاَقِمِ الصَّلٰوۃَ طَرَفَیِ النَّھَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّےْلِ اِنَّ الْحَسَنَاتِ ےُذْھِبْنَ السَّےِّئَاتِ && (پ ١٢ رکوع ١٠) فَقَال الرَّجُلُ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اَلِیْ ھٰذَا ؟قَالَ لِجَمِےْعِ اُمَّتِیْ کُلِّھِمْ وَفِیْ رِوَاےَۃٍ لِّمَنْ عَمِلَ بِھَا مِنْ اُمَّتِیْ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے کسی (غیر) عورت کا بوسہ لے لیا پھر (احساس ندامت و شرمندگی کے ساتھ) رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر صورت واقعہ کی خبر دی (اور آپ ﷺ سے اس کا حکم پوچھا، رسول اللہ ﷺ نے کوئی جواب نہ دیا بلکہ وحی کے ذریعہ حکم الٰہی کے منتظر رہے اس اثناء میں اس آدمی نے نماز پڑھی جب ہی اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ آیت (وَاَقِمِ الصَّلٰوةَ طَرَفَيِ النَّهَارِ وَزُلَفًا مِّنَ الَّيْلِ اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّ يِّاٰتِ ) 11 ۔ ہود 114) اور نماز کو دن کے وقت اول و آخر اور رات کی چند ساعات میں پڑھا کرو کیونکہ نیکیاں (یعنی نمازیں) برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔ آیت کے نازل ہونے کے بعد اس آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! یہ حکم میرے لئے ہے ( یا پوری امت کے لئے ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا (نہیں ! یہ حکم) میری امت کے لئے ہے۔ ایک دوسری روایت میں آپ ﷺ کا جواب اس طرح مذکور ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) میری امت میں سے جو آدمی اس آیت پر عمل کرے اس کے لئے (یہی حکم ہے، یعنی جو آدمی بھی برائی کے بعد بھلائی کرے گا اسے یہی سعادت حاصل ہوگی کہ اس بھلائی کے نتیجے میں اس کی برائی ختم ہوجائے گی) ۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
جس صاحب کا یہ واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر عورت کا بوسہ لے لیا تھا ان کا نام ابوالیسر تھا۔ جامع ترمذی نے ان کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں وہ خود راوی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت کھجوریں خریدنے کے لئے آئی میں نے اس سے کہا کہ میرے گھر میں اس سے زیادہ اچھی کھجوریں رکھی ہوئی ہیں ( اس لئے تم وہاں چل کر دیکھ لو) چناچہ وہ میرے ہمراہ مکان میں آگئی (وہاں میں شیطان کے بہکانے میں آگیا اور جذبات سے مغلوب ہو کر) اس اجنبی عورت سے بوس و کنار کیا۔ اس نے (میرے اس غلط اور نازیبا رویے پر مجھے تنبیہ کرتے ہوئے) کہا کہ بندہ خدا ! اللہ (کے قہر و غضب) سے ڈرو چناچہ (خوف اللہ سے میرا دل تھرا گیا اور) میں نہایت ہی شرمندہ و شرمسار ہو کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا۔ چناچہ بارگاہ رسالت میں ان کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہی حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ آیت کریمہ میں طرفی النھار یعنی دن کے اول و آخر سے دن کا ابتدائی حصہ اور انتہائی حصہ مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دن کے اول یعنی ابتدائی حصہ سے فجر کی نماز اور آخری حصہ سے ظہر و عصر کی نمازیں مراد ہیں اسی طرح زلفا من الیل یعنی رات کی چند ساعتوں سے مغرب و عشاء کا وقت مراد ہے۔ اس طرح اب آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوگا فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھا کرو، کیونکہ نیکیاں (نمازیں) برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
تشریح
جس صاحب کا یہ واقعہ ہے کہ انہوں نے ایک غیر عورت کا بوسہ لے لیا تھا ان کا نام ابوالیسر تھا۔ جامع ترمذی نے ان کی ایک روایت نقل کی ہے جس میں وہ خود راوی ہیں کہ میرے پاس ایک عورت کھجوریں خریدنے کے لئے آئی میں نے اس سے کہا کہ میرے گھر میں اس سے زیادہ اچھی کھجوریں رکھی ہوئی ہیں ( اس لئے تم وہاں چل کر دیکھ لو) چناچہ وہ میرے ہمراہ مکان میں آگئی (وہاں میں شیطان کے بہکانے میں آگیا اور جذبات سے مغلوب ہو کر) اس اجنبی عورت سے بوس و کنار کیا۔ اس نے (میرے اس غلط اور نازیبا رویے پر مجھے تنبیہ کرتے ہوئے) کہا کہ بندہ خدا ! اللہ (کے قہر و غضب) سے ڈرو چناچہ (خوف اللہ سے میرا دل تھرا گیا اور) میں نہایت ہی شرمندہ و شرمسار ہو کر بارگاہ رسالت میں حاضر ہوا۔ چناچہ بارگاہ رسالت میں ان کے ساتھ جو معاملہ ہوا وہی حدیث میں ذکر کیا گیا ہے۔ آیت کریمہ میں طرفی النھار یعنی دن کے اول و آخر سے دن کا ابتدائی حصہ اور انتہائی حصہ مراد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ دن کے اول یعنی ابتدائی حصہ سے فجر کی نماز اور آخری حصہ سے ظہر و عصر کی نمازیں مراد ہیں اسی طرح زلفا من الیل یعنی رات کی چند ساعتوں سے مغرب و عشاء کا وقت مراد ہے۔ اس طرح اب آیت کریمہ کا مطلب یہ ہوگا فجر، ظہر، عصر، مغرب اور عشاء کی نماز پڑھا کرو، کیونکہ نیکیاں (نمازیں) برائیوں کو مٹا دیتی ہیں۔
534
Mishkaat Shareefوَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ جَآءَ رَجُلٌ فَقَالَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْہُ عَلَیَّ قَالَ وَلَمْ ےَسْئَلْہُ عَنْہُ وَحَضَرَتِ الصَّلٰوۃُ فَصَلّٰی مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَلَمَّا قَضَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم الصَّلٰوۃَ قَامَ الرَّجُلُ فَقَالَ ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ اِنِّیْ اَصَبْتُ حَدًّا فَاَقِمْ فِیَّ کِتَابَ اللّٰہِ قَالَ اَلَےْسَ قَدْ صَلَّےْتَ مَعَنَا قَالَ نَعَمْ قَالَ فَاِنَّ اللّٰہَ قَدْ غَفَرَ لَکَ ذَنْبَکَ اَوْحَدَّکَ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھ سے ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مجھ پر حد واجب ہے اس لئے آپ ﷺ مجھ پر حد جاری فرمائیے راوی کا بیان ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس حد کے متعلق کچھ دریافت نہیں فرمایا اور نماز کا وقت آگیا۔ اس آدمی نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ نماز پڑھی۔ جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوچکے تو وہ آدمی کھڑا ہوا اور پھر عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھ سے ایک ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جو مستوجب حد ہے اس لئے آپ ﷺ میرے بارے میں اللہ کا حکم نافذ فرمائیے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم نے ہمارے ساتھ نماز نہیں پڑھی ؟ اس نے کہا کہ جی ہاں ! پڑھی ہے ! آپ ﷺ نے فرمایا اللہ نے تمہاری خطاء یا فرمایا کہ تمہاری حد بخش دی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
تشریح
یہاں یہ نہ سمجھ بیٹھئے کہ اس آدمی کے الفاظ اَصَبْتُ حَدًّا (یعنی مجھ سے ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مجھ پر حد واجب ہے) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کسی ایسے کبیرہ گناہ مثلا ًچوری وغیرہ کا ارتکاب کیا تھا جس پر حد واجب ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے نماز کی وجہ سے اس کی بخشش کی خوشخبری سنا دی لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ نماز کی وجہ سے کبیرہ گناہ بھی بخش دئیے جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کوئی ایسا گناہ صغیرہ سرزد ہوگیا تھا جو حقیقت میں تو ایسا نہیں تھا جس پر حد جاری ہوتی لیکن چونکہ وہ آدمی صحابیت جیسے مرتبہ پر فائز تھے جہاں معمولی سا گناہ بھی خوف الٰہی سے دل کو لرزاں کردیتا ہے اور ایک ہلکی سی معصیت بھی قلب و دماغ کے ہر گوشہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے اس لئے انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ مجھ سے ایک فعل سرزد ہوگیا ہے۔ جس پر از روئے شریعت حد جاری ہوجائے گی لہٰذا انہوں نے بارگاہ رسالت میں آکر اس طرح ذکر کیا جس سے بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ ان سے واقعی کوئی ایسا بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے جو سخت ترین سزا یعنی حد کا مستوجب ہے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ حد سے ان کی مراد تعزیر تھی۔ آپ ﷺ نے اس آدمی سے اس کے گناہ کی حقیقت اس لئے دریافت نہیں فرمائی کہ آپ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ اس آدمی نے کس قسم کا گناہ کیا ہے اسی لئے آپ ﷺ نے اسے اس گناہ کی بخشش کی جو خوشخبری دی تھی اپنی طرف سے نہیں دی تھی بلکہ جب آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ اس کا گناہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس پر حد جاری کی جائے بلکہ ایسا گناہ ہے جو نماز کے ذریعے معاف ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے اسے یہ خوشخبری سنا دی۔
تشریح
یہاں یہ نہ سمجھ بیٹھئے کہ اس آدمی کے الفاظ اَصَبْتُ حَدًّا (یعنی مجھ سے ایسا فعل سرزد ہوگیا ہے جس کی وجہ سے مجھ پر حد واجب ہے) سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس نے کسی ایسے کبیرہ گناہ مثلا ًچوری وغیرہ کا ارتکاب کیا تھا جس پر حد واجب ہوتی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے نماز کی وجہ سے اس کی بخشش کی خوشخبری سنا دی لہٰذا اس سے ثابت ہوا کہ نماز کی وجہ سے کبیرہ گناہ بھی بخش دئیے جاتے ہیں۔ بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اس سے کوئی ایسا گناہ صغیرہ سرزد ہوگیا تھا جو حقیقت میں تو ایسا نہیں تھا جس پر حد جاری ہوتی لیکن چونکہ وہ آدمی صحابیت جیسے مرتبہ پر فائز تھے جہاں معمولی سا گناہ بھی خوف الٰہی سے دل کو لرزاں کردیتا ہے اور ایک ہلکی سی معصیت بھی قلب و دماغ کے ہر گوشہ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہے اس لئے انہوں نے یہ گمان کرلیا کہ مجھ سے ایک فعل سرزد ہوگیا ہے۔ جس پر از روئے شریعت حد جاری ہوجائے گی لہٰذا انہوں نے بارگاہ رسالت میں آکر اس طرح ذکر کیا جس سے بظاہر معلوم ہوتا تھا کہ ان سے واقعی کوئی ایسا بڑا گناہ سرزد ہوگیا ہے جو سخت ترین سزا یعنی حد کا مستوجب ہے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ حد سے ان کی مراد تعزیر تھی۔ آپ ﷺ نے اس آدمی سے اس کے گناہ کی حقیقت اس لئے دریافت نہیں فرمائی کہ آپ ﷺ کو بذریعہ وحی معلوم ہوگیا تھا کہ اس آدمی نے کس قسم کا گناہ کیا ہے اسی لئے آپ ﷺ نے اسے اس گناہ کی بخشش کی جو خوشخبری دی تھی اپنی طرف سے نہیں دی تھی بلکہ جب آپ ﷺ کو وحی کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے بتادیا کہ اس کا گناہ کوئی ایسا گناہ نہیں ہے جس پر حد جاری کی جائے بلکہ ایسا گناہ ہے جو نماز کے ذریعے معاف ہوگیا ہے تو آپ ﷺ نے اسے یہ خوشخبری سنا دی۔
535
Mishkaat Shareefعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ ص قَالَ سَاَلْتُ النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم اَیُّ الْاَعْمَالِ اَحَبُّ اِلَی اللّٰہِ تَعَالٰی قَالَ اَلصَّلٰوۃُ لِوَقْتِھَا قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ ؟قَالَ بِرُّ الْوَالِدَےْنِ قُلْتُ ثُمَّ اَیٌّ قَالَ اَلْجِھَادُ فِیْ سَبِےْلِ اللّٰہِ قَالَ حَدَّثَنِیْ بِھِنَّ وَلَوِاسْتَزَدْتُّہُ لَزَادَنِیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو کون سا عمل سب سے زیادہ پسند ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ وقت پر نماز پڑھنے (یعنی وقت مکروہ میں نماز نہ پڑھی جائے) میں نے کہا کہ پھر کون سا عمل بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ماں باپ کے ساتھ بھلائی سے پیش آنا میں نے عرض کیا کہ پھر کون سا عمل بہتر ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنا عبداللہ ابن مسعود (رض) فرماتے ہیں کہ مجھ سے رسول اللہ ﷺ نے یہی باتیں بیان فرمائی تھیں اگر میں کچھ زیادہ پوچھتا تو آپ ﷺ اس سے بھی زیادہ بیان فرماتے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
تشریح
اتنی بات معلوم ہونی چاہئے کہ بہترین و افضل اعمال کے بارے میں مختلف احادیث منقول ہیں، چناچہ اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب اعمال یہ تین ہیں مگر دوسری حدیثوں میں مذکور ہے کہ اسلام کے بہترین و افضل اعمال یہ ہیں کہ (غریبوں مسکینوں کو) کھانا کھلایا جائے۔ اسلام کی تبلیغ کی جائے اور رات کو اس وقت جب کہ لوگ آرام سے بستروں میں پڑے خواب شیریں سے ہمکنار ہوں اللہ کی عبادت کی جائے اور نماز پڑھی جائے۔ اسی طرح بعض احادیث میں منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا سب سے بہترین و افضل عمل یہ ہے کہ لوگ تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ (کی ایذا) سے محفوظ رہیں۔ نیز بعض حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ افضل ترین عمل اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ بہر حال اسی طرح دوسری احادیث میں دیگر اعمال کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ اعمال بہترین و افضل ہیں۔ تو۔ اب ان تمام احادیث میں تطبیق اسی طرح ہوگی کہ یہ کہا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک کی رضا ورغبت اور اس کے مزاج کے مطابق جواب دیا ہے یعنی جس نے بہترین عمل کے بارے میں سوال کیا اس کو وہی عمل بتایا جسے اس کے لائق سمجھا اور جو اس کی فطرت و مزاج اور اس کے حال کے مناسب معلوم ہوا۔ چناچہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم اکثر کسی خاص چیز کے بارے میں کسی وقت کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ فلاں چیز تو سب سے اچھی ہے حالانکہ دل کے اندر اس کی اچھائی و فضیلت کے بارے میں یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ چیز ہمہ وقت اور ہر حال میں نیز ہر ایک کے لئے سب سے اچھی اور افضل ہوگی بلکہ دل میں یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ چیز اس خاص وقت میں اچھی اور بہتر ہے نہ کہ ہمہ وقت مثلاً خاموشی اور سکوت کا معاملہ ہے کہ جہان مناسب ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ سکوت کے برابر کوئی چیز نہیں ہے یا خاموشی سے افضل کوئی چیز نہیں ہے غرض رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک عمل کو حال اور مقام کے مناسب افضل فرمایا ہے۔ مثلاً ابتدائے اسلام میں جہاد ہی لوگوں کے حال مناسب تھا اس لئے جہاد کو فرمایا کہ یہ سب سے بہتر عمل ہے یا اسی طرح کسی آدمی کو یا کسی جماعت کو بھوکا ننگا دیکھا تو ان کی امداد و اعانت کی خاطر صدقہ خیرات کی طرف لوگوں کو رغبت دلائی اور فرمایا کہ صدقہ افضل ترین عمل ہے یا نماز کو باری تعالیٰ کے قرب حقیقی کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے سب سے اچھا اور بہتر عمل قرار دیا۔ بہر حال۔ ان میں سے ہر ایک عمل کو افضل ترین عمل کہنے کی وجوہ اور حیثیات مختلف ہیں۔ ہر ایک کی وجہ اور حیثیت اپنی اپنی جگہ دوسرے سے افضل و اعلیٰ ہے۔
تشریح
اتنی بات معلوم ہونی چاہئے کہ بہترین و افضل اعمال کے بارے میں مختلف احادیث منقول ہیں، چناچہ اس حدیث سے تو یہ پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ اور محبوب اعمال یہ تین ہیں مگر دوسری حدیثوں میں مذکور ہے کہ اسلام کے بہترین و افضل اعمال یہ ہیں کہ (غریبوں مسکینوں کو) کھانا کھلایا جائے۔ اسلام کی تبلیغ کی جائے اور رات کو اس وقت جب کہ لوگ آرام سے بستروں میں پڑے خواب شیریں سے ہمکنار ہوں اللہ کی عبادت کی جائے اور نماز پڑھی جائے۔ اسی طرح بعض احادیث میں منقول ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا سب سے بہترین و افضل عمل یہ ہے کہ لوگ تمہاری زبان اور تمہارے ہاتھ (کی ایذا) سے محفوظ رہیں۔ نیز بعض حدیثوں سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ افضل ترین عمل اللہ کا ذکر کرنا ہے۔ بہر حال اسی طرح دوسری احادیث میں دیگر اعمال کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یہ اعمال بہترین و افضل ہیں۔ تو۔ اب ان تمام احادیث میں تطبیق اسی طرح ہوگی کہ یہ کہا جائے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک کی رضا ورغبت اور اس کے مزاج کے مطابق جواب دیا ہے یعنی جس نے بہترین عمل کے بارے میں سوال کیا اس کو وہی عمل بتایا جسے اس کے لائق سمجھا اور جو اس کی فطرت و مزاج اور اس کے حال کے مناسب معلوم ہوا۔ چناچہ یہ بالکل ایسا ہی ہے جیسا کہ ہم اکثر کسی خاص چیز کے بارے میں کسی وقت کہہ دیا کرتے ہیں کہ یہ فلاں چیز تو سب سے اچھی ہے حالانکہ دل کے اندر اس کی اچھائی و فضیلت کے بارے میں یہ خیال نہیں ہوتا کہ یہ چیز ہمہ وقت اور ہر حال میں نیز ہر ایک کے لئے سب سے اچھی اور افضل ہوگی بلکہ دل میں یہی خیال ہوتا ہے کہ یہ چیز اس خاص وقت میں اچھی اور بہتر ہے نہ کہ ہمہ وقت مثلاً خاموشی اور سکوت کا معاملہ ہے کہ جہان مناسب ہوتا ہے کہا جاتا ہے کہ سکوت کے برابر کوئی چیز نہیں ہے یا خاموشی سے افضل کوئی چیز نہیں ہے غرض رسول اللہ ﷺ نے ہر ایک عمل کو حال اور مقام کے مناسب افضل فرمایا ہے۔ مثلاً ابتدائے اسلام میں جہاد ہی لوگوں کے حال مناسب تھا اس لئے جہاد کو فرمایا کہ یہ سب سے بہتر عمل ہے یا اسی طرح کسی آدمی کو یا کسی جماعت کو بھوکا ننگا دیکھا تو ان کی امداد و اعانت کی خاطر صدقہ خیرات کی طرف لوگوں کو رغبت دلائی اور فرمایا کہ صدقہ افضل ترین عمل ہے یا نماز کو باری تعالیٰ کے قرب حقیقی کا ذریعہ ہونے کی وجہ سے سب سے اچھا اور بہتر عمل قرار دیا۔ بہر حال۔ ان میں سے ہر ایک عمل کو افضل ترین عمل کہنے کی وجوہ اور حیثیات مختلف ہیں۔ ہر ایک کی وجہ اور حیثیت اپنی اپنی جگہ دوسرے سے افضل و اعلیٰ ہے۔
536
Mishkaat Shareefوَعَنْ جَابِرٍ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَےْنَ الْعَبْدِ وَبَےْنَ الْکُفْرِ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا نماز کا چھوڑنا بندہ مومن اور کفر کے درمیان (کی دیوار کو گرا دیتا) ہے۔ (صحیح مسلم)
تشریح
یہاں لفظ بین کا متعلق محذوف ہے یعنی اس حدیث میں یہ عبارت مقدر ہے کہ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ وُصْلَۃٌ بِیْنَ الْعَبْدِ الَمُسْلِمِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ جس کا مطلب یہ ہوا کہ بندہ مومن اور کفر کے درمیان نماز بمنزلہ دیوار کے ہے کہ بندہ اس کی وجہ سے کفر تک نہیں پہنچ سکتا مگر جب نماز ترک کردی گئی تو گویا درمیان کی دیوار اٹھ گئی لہٰذا نماز چھوڑنا اس بات کا سبب ہوگا کہ نماز چھوڑنے والا مسلمان کفر تک پہنچ جائے گا۔ بہر حال۔ اس حدیث میں نماز چھوڑنے والوں کے لئے سخت تہدید ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ نماز کا چھوڑنے والا ممکن ہے کہ کافر ہوجائے کیونکہ جب اس نے اسلام و کفر کے درمیان کی دیوار کو ختم کردیا گویا وہ کفر کی حدتک پہنچ گیا ہے اور جب وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا تو ہوسکتا ہے کہ یہی ترک نماز اس کو فسق و فجور اور اللہ سے بغاوت و سرکشی میں اس حد تک دلیر کر دے کہ وہ دائرہ کفر میں داخل ہوجائے۔ یہ شروع میں بتایا جا چکا ہے کہ تارک نماز کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں چناچہ اصحاب ظواہر تو یہ کہتے ہیں کہ تارک صلوۃ کافر ہوجاتا ہے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ نماز چھوڑنے والا اگرچہ کافر نہیں ہوتا مگر وہ اس سرکشی و طغیانی کے پیش نظر اس قابل ہے کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جو آدمی نماز چھوڑ دے اس کو اس وقت تک جب تک کہ نماز نہ پڑھے مارنا اور قید خانہ میں ڈال دینا واجب ہے۔
تشریح
یہاں لفظ بین کا متعلق محذوف ہے یعنی اس حدیث میں یہ عبارت مقدر ہے کہ تَرْکُ الصَّلٰوۃِ وُصْلَۃٌ بِیْنَ الْعَبْدِ الَمُسْلِمِ وَبَیْنَ الْکُفْرِ جس کا مطلب یہ ہوا کہ بندہ مومن اور کفر کے درمیان نماز بمنزلہ دیوار کے ہے کہ بندہ اس کی وجہ سے کفر تک نہیں پہنچ سکتا مگر جب نماز ترک کردی گئی تو گویا درمیان کی دیوار اٹھ گئی لہٰذا نماز چھوڑنا اس بات کا سبب ہوگا کہ نماز چھوڑنے والا مسلمان کفر تک پہنچ جائے گا۔ بہر حال۔ اس حدیث میں نماز چھوڑنے والوں کے لئے سخت تہدید ہے اور اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ نماز کا چھوڑنے والا ممکن ہے کہ کافر ہوجائے کیونکہ جب اس نے اسلام و کفر کے درمیان کی دیوار کو ختم کردیا گویا وہ کفر کی حدتک پہنچ گیا ہے اور جب وہ کفر کی حد تک پہنچ گیا تو ہوسکتا ہے کہ یہی ترک نماز اس کو فسق و فجور اور اللہ سے بغاوت و سرکشی میں اس حد تک دلیر کر دے کہ وہ دائرہ کفر میں داخل ہوجائے۔ یہ شروع میں بتایا جا چکا ہے کہ تارک نماز کے بارے میں علماء کے مختلف اقوال ہیں چناچہ اصحاب ظواہر تو یہ کہتے ہیں کہ تارک صلوۃ کافر ہوجاتا ہے۔ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی رحمہما اللہ تعالیٰ علیہ فرماتے ہیں کہ نماز چھوڑنے والا اگرچہ کافر نہیں ہوتا مگر وہ اس سرکشی و طغیانی کے پیش نظر اس قابل ہے کہ اس کی گردن اڑا دی جائے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کا مسلک یہ ہے کہ جو آدمی نماز چھوڑ دے اس کو اس وقت تک جب تک کہ نماز نہ پڑھے مارنا اور قید خانہ میں ڈال دینا واجب ہے۔
537
Mishkaat Shareefعَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلمخَمْسُ صَلَوَاتٍ اِفْتَرَضَھُنَّ اﷲُ تَعَالٰی مَنْ اَحْسَنَ وُضُوْ ئَھُنَّ وَصَلَّاھُنَّ لِوَقْتِھِنَّ وَاَتَمَّ رُکُوْعَھُنَّ وَخُشُوْعَھُنَّ کَانَ لَہ، عَلَی اﷲِ عَھْدٌ اَنْ یَّغْفِرْ لَہُ وَمَنْ لَمْ یَفْعَلْ فَلَیْسَ لَہ، عَلَی اﷲِ عَھْدٌ اِنْ شَآءَ غَفَرَلَہ، وَاَنْ شَآءَ عَذَّبَہ،۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوادؤد و روی مالک والنسائی )
حضرت عبادہ ابن صامت (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس آدمی نے ان پانچوں نمازوں کے لئے جنہیں اللہ تعالیٰ نے فرض کیا ہے (فرائض و مستحبات کی ادائیگی کے ساتھ) اچھی طرح وضو کیا اور ان کو وقت پر پڑھا نیز ان میں رکوع و خشوع کیا (یعنی نمازیں حضوری قلب کے ساتھ پڑھیں) تو اس کے لئے اللہ تعالیٰ پر ذمہ (یعنی اللہ تعالیٰ کا وعدہ) یہ ہے کہ وہ اس کے (صغیرہ) گناہ بخشش دے گا اور جس آدمی نے ایسا نہ کیا (یعنی اس نے مذکورہ بالا طریقے سے یا مطلق نماز نہ پڑھی) تو اللہ تعالیٰ اس کا ذمہ دار نہیں ہے چاہے تو بخش دے چاہے اسے عذاب میں مبتلا کرے۔ (مسند احمد بن حنبل، سنن ابوداؤد، مالک، سنن نسائی )
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافر نہیں ہوتا بلکہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب کے بارے میں بھی یہ سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے کہ وہ مرتکب کبیرہ کو عذاب دے بلکہ اس کا دارومدار سراسر اس کی مرضی پر ہے کہ اگر وہ چاہے تو عذاب میں مبتلا کرے اور اگر چاہے تو اپنے فضل و کرم سے اسے بخشش دے۔ اسی طرح یہ بھی جان لیجئے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ اللہ کے حکم سے اسے جس مدت کے لئے دوزخ میں ڈالا جائے گا اس کے بعد وہ اپنی سزا پوری کر کے جنت میں داخل ہونے کا مستحق ہوجائے گا۔ چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے۔
تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ نماز چھوڑنے والا کافر نہیں ہوتا بلکہ گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوتا ہے۔ گناہ کبیرہ کے مرتکب کے بارے میں بھی یہ سمجھ لیجئے کہ اللہ تعالیٰ پر واجب نہیں ہے کہ وہ مرتکب کبیرہ کو عذاب دے بلکہ اس کا دارومدار سراسر اس کی مرضی پر ہے کہ اگر وہ چاہے تو عذاب میں مبتلا کرے اور اگر چاہے تو اپنے فضل و کرم سے اسے بخشش دے۔ اسی طرح یہ بھی جان لیجئے کہ گناہ کبیرہ کا مرتکب دوزخ میں ہمیشہ ہمیشہ نہیں رہے گا بلکہ اللہ کے حکم سے اسے جس مدت کے لئے دوزخ میں ڈالا جائے گا اس کے بعد وہ اپنی سزا پوری کر کے جنت میں داخل ہونے کا مستحق ہوجائے گا۔ چناچہ اہل سنت والجماعت کا یہی مسلک ہے۔
538
Mishkaat Shareefوَعَنْ اَبِی اَمَامَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ صَلُّوْا خَمْسَکُمْ وَصُوْمُوْا شَھْرَکُمْ وَادُّوْازَ کَاۃَ اَمْوَالِکُمْ وَاطِیْعُوْاذَا اَمْرِکُمْ تَدْ خُلُوْا جَنَّۃَ رَبِّکُمْ۔ (رواہ احمد بن حنبل والترمذی)
اور حضرت ابی امامہ (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ (مسلمانو) پانچوں وقت اپنی نمازیں پڑھو اپنے (رمضان کے مہینے) کے روزے رکھو ! اپنے مال کی زکوٰۃ دو ! اور اپنے سردار کی (جب تک کہ وہ خلاف شرع چیزوں کا حکم نہ کرے) اطاعت کرو ! (اگر ایسا کرو گے تو) اپنے رب کی جنت میں داخل ہوجاؤ گے (یعنی بہشت میں بلند درجات کے حقدار بنو گے) ۔ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی )
تشریح
سردار سے مراد بادشاہ، امیر اور حاکم ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بادشاہ اور امراء کے احکام کی تابعداری اور ان کے فرمان کی اطاعت کریں لیکن اس میں ایک شرط ہے کہ اطاعت و فرمانبرداری کا یہ حکم اسی وقت تک رہے گا۔ جب تک کہ ان کا کوئی حکم حدود و شریعت سے باہر اور خداوند کے رسول ﷺ کے فرمان کے خلاف نہ ہو، اگر ایسا ہو کہ امراء اور سلاطین حدود شریعت سے تجاوز کر کے غلط احکام دیں یا ایسے فرمان نافذ کریں جو قرآن و سنت کے خلاف ہوں تو پھر نہ صرف یہ کہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری ضروری نہیں ہے بلکہ ایسے سلاطین و امراء کو راہ راست پر لانے اور ان کو قرآن و سنت کو بتائے ہوئے راستوں پر چلنے اور ملک و قوم کو چلانے کے لئے مجبور کیا جائے۔ یا پھر سردار سے مراد علماء ہیں کہ قرآن و سنت اور اسلامی شریعت کے علم کے حامل جب مسلمانوں کو کوئی شرعی حکم دیں اور انہیں دین و شریعت کی طرف بلائیں تو ان کی پیروی ہر ایک مسلمان پر ضروری اور لازم ہے اسی طرح سردار سے ہر وہ آدمی مراد ہوسکتا ہے جو کسی کام کے لئے حاکم اور کار ساز مقرر کیا گیا ہو یعنی اگر کوئی مسلمان کسی آدمی کو اپنے کسی معاملہ میں حاکم اور راہبر مقرر کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حاکم یا راہبر کے مشوروں کو مانے اور وہ جو صحیح حکم دے اس کی پابندی کرے۔
تشریح
سردار سے مراد بادشاہ، امیر اور حاکم ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ مسلمانوں کو چاہئے کہ وہ اپنے بادشاہ اور امراء کے احکام کی تابعداری اور ان کے فرمان کی اطاعت کریں لیکن اس میں ایک شرط ہے کہ اطاعت و فرمانبرداری کا یہ حکم اسی وقت تک رہے گا۔ جب تک کہ ان کا کوئی حکم حدود و شریعت سے باہر اور خداوند کے رسول ﷺ کے فرمان کے خلاف نہ ہو، اگر ایسا ہو کہ امراء اور سلاطین حدود شریعت سے تجاوز کر کے غلط احکام دیں یا ایسے فرمان نافذ کریں جو قرآن و سنت کے خلاف ہوں تو پھر نہ صرف یہ کہ ان کی اطاعت و فرمانبرداری ضروری نہیں ہے بلکہ ایسے سلاطین و امراء کو راہ راست پر لانے اور ان کو قرآن و سنت کو بتائے ہوئے راستوں پر چلنے اور ملک و قوم کو چلانے کے لئے مجبور کیا جائے۔ یا پھر سردار سے مراد علماء ہیں کہ قرآن و سنت اور اسلامی شریعت کے علم کے حامل جب مسلمانوں کو کوئی شرعی حکم دیں اور انہیں دین و شریعت کی طرف بلائیں تو ان کی پیروی ہر ایک مسلمان پر ضروری اور لازم ہے اسی طرح سردار سے ہر وہ آدمی مراد ہوسکتا ہے جو کسی کام کے لئے حاکم اور کار ساز مقرر کیا گیا ہو یعنی اگر کوئی مسلمان کسی آدمی کو اپنے کسی معاملہ میں حاکم اور راہبر مقرر کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس حاکم یا راہبر کے مشوروں کو مانے اور وہ جو صحیح حکم دے اس کی پابندی کرے۔
539
Mishkaat Shareefوَعَنْ عَمْرِوْ بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہٖ عَنْ جَدِّہٖ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُرُوْا اَوْلَادَ کُمْ بِالصَّلٰوۃِ وَھُمْ اَبْنَآءُ سَبْعِ سِنِیْنَ وَاضْرِبُوْ ھُمْ عَلَیْھَا وَ ھُمْ اَبْنَاءُ عَشْرِ سِنِیْنَ وَ فَرِّ قَوْ ا بَیْنَھُمْ فِی الْمَضَاجِعِ رَوَاہُ اَبُوْدَاؤدَ وَ کَذَا رَوَاہُ فِی شَرْحِ السُّنَّۃِ عَنْہُ وَفِی الْمَصَابِیْحِ عَنْ سَبْرَۃَ بْنِ مَعْبَدٍ۔
اور حضرت عمرو ابن شعیب (رح) اپنے والد مکرم سے اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جب تمہارے بچے سات برس کے ہوجائیں تو انہیں نماز پڑھنے کا حکم دو اور جب وہ دس برس کے ہوجائیں (تو نماز چھوڑ نے پر) انہیں مارو۔ نیز ان کے بسترے علیحدہ کردو (ابوداؤد) اسی طرح السنہ میں عمرو سے اور مصابیح میں سبرہ ابن معبد سے یہ روایت نقل کی گئی ہے۔
تشریح
اس حدیث کے ذریعے مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب ان کے بچے سات برس کے ہوجائیں تو اسی وقت سے ان کو نماز کی تاکید شروع کردی جاے تاکہ انہیں نماز کی عادت کم سنی سے ہی ہو جاے اور جب وہ بالغ ہونے کے قریب (یعنی دس سال کی عمر میں) پہنچ جائیں تو اگر وہ کہنے سننے کے باوجود نماز نہ پڑھیں تو انہیں تاکیدا مار مار کر نماز پڑھانی چاہئے۔ نیز جس طرح ان عمروں میں نماز کی تاکید کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح انہیں نماز کی شرائط وغیرہ بھی سکھانی چاہئے تاکہ انہیں ساتھ ساتھ نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ معلوم ہوجائے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جب بچے اس عمر میں پہنچ جائیں تو انہیں علیحدہ علیحدہ سلانا چاہئے یعنی اگر دو بھائی بہن یا دو اجنبی لڑکا لڑکی ایک ہی بستر میں سوتے ہوں تو اس عمر میں ان کے بستر الگ کردینے چاہیں تاکہ وہ اکٹھے نہ سو سکیں۔
تشریح
اس حدیث کے ذریعے مسلمانوں کو حکم دیا جا رہا ہے کہ جب ان کے بچے سات برس کے ہوجائیں تو اسی وقت سے ان کو نماز کی تاکید شروع کردی جاے تاکہ انہیں نماز کی عادت کم سنی سے ہی ہو جاے اور جب وہ بالغ ہونے کے قریب (یعنی دس سال کی عمر میں) پہنچ جائیں تو اگر وہ کہنے سننے کے باوجود نماز نہ پڑھیں تو انہیں تاکیدا مار مار کر نماز پڑھانی چاہئے۔ نیز جس طرح ان عمروں میں نماز کی تاکید کرنا ضروری ہے۔ اسی طرح انہیں نماز کی شرائط وغیرہ بھی سکھانی چاہئے تاکہ انہیں ساتھ ساتھ نماز پڑھنے کا صحیح طریقہ معلوم ہوجائے۔ حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ جب بچے اس عمر میں پہنچ جائیں تو انہیں علیحدہ علیحدہ سلانا چاہئے یعنی اگر دو بھائی بہن یا دو اجنبی لڑکا لڑکی ایک ہی بستر میں سوتے ہوں تو اس عمر میں ان کے بستر الگ کردینے چاہیں تاکہ وہ اکٹھے نہ سو سکیں۔