hadith book logo

Mishkaat Shareef

73. حرم مدینہ کا بیان

مشكاة المصابيح

2775
Mishkaat Shareef
صحیح
مدینہ اور اس کی گرداگرد زمین کی حرمت کے بارے میں بھی احادیث منقول ہیں، لیکن اس سلسلہ میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، چناچہ حنفی علماء کے نزدیک مدینہ اور اس کی گرداگرد زمین کی حرمت کا مطلب یہ ہے کہ اس شہر مقدس اور اس کی چاروں طرف کی زمین کی تعظیم و تکریم کی جائے، نہ یہ کہ اس کا بھی وہی حکم ہے جو مکہ اور اس کی گردا گرد زمین کا ہے، لہٰذا حنفی مسلک کے مطابق مدینہ اور اس کی اطراف کی زمین میں درخت وغیرہ کاٹنا اور شکار کرنا حرام نہیں ہے۔ لیکن ائمہ ثلاثہ کے نزدیک چونکہ حرم مکہ اور حرم مدینہ کا ایک ہی حکم ہے اس لئے ان کے مسلک میں مدینہ اور اس کے اطراف کی زمین میں وہ تمام چیزیں جو حرام ہیں جو مکہ اور اس کے اطراف کی زمین میں حرام ہیں تاہم ان ائمہ کے ہاں بھی حرم مدینہ میں ان چیزوں کے ارتکاب سے جزاء واجب نہیں ہوتی۔
2776
Mishkaat Shareef
صحیح
عن علي رضي الله عنه قال : ما كتبنا عن رسول الله صلى الله عليه و سلم إلا القرآن وما في هذه الصحيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : المدينة حرام ما بين عير إلى ثور فمن أحدث فيها حدثا أو آوى محدثا فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ذمة المسلمين واحدة يسعى بها أدناهم فمن أخفر مسلما فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل ومن والى قوما بغير إذن مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل وفي رواية لهما : من ادعى إلى غير أبيه أو تولى غير مواليه فعليه لعنة الله والملائكة والناس أجمعين لا يقبل منه صرف ولا عدل
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کے طرف سے علاوہ قرآن اور ان باتوں کے جو اس صحیفہ میں ہیں اور کچھ نہیں لکھا ہے ! حضرت علی نے فرمایا کہ میں نے اس صحیفہ میں رسول کریم ﷺ کا یہ ارشاد گرامی بھی لکھا ہے کہ مدینہ عیر اور ثور کے درمیان حرام ہے، لہٰذا جو شخص مدینہ میں بدعت پیدا کرے یعنی ایسی بات کہے یا رائج کرے جو قرآن و حدیث کے خلاف ہو یا کسی بدعتی کو پناہ دے تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، اس شخص کے نہ (کامل طور) فرض (اعمال) قبول کئے جاتے ہیں نہ نفل ! مسلمانوں کے عہد ایک ہے جس کے لئے ان کا ادنیٰ شخص بھی کوشش کرسکتا ہے لہٰذا جو شخص کسی مسلمان کے عہد کو توڑے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے، نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل ! جو شخص اپنے ساتھوں کی اجازت کے بغیر کسی قوم سے موالات (دوستی) قائم کرے اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب آدمیوں کی لعنت ہے، نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل ! (بخاری ومسلم) بخاری اور مسلم ہی کی ایک اور روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں کہ جو شخص اپنے باپ کی بجائے کسی دوسرے کی طرف اپنی نسبت کا دعویٰ کرے (یعنی یوں کہے کہ میں زید کا بیٹا ہوں جب کہ حقیقت میں وہ بکر کا بیٹا ہو) یا اپنے مالک کی بجائے کسی دوسرے کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرے (مثلاً یوں کہے کہ میں زید کا غلام یا خدمت گار ہوں جب کہ حقیقت میں وہ بکر کا غلام یا خدمت گار ہو) تو اس پر اللہ کی، فرشتوں کی اور سب لوگوں کی لعنت ہے نہ تو اس کے فرض قبول کئے جاتے ہیں اور نہ نفل۔

تشریح
کچھ لوگوں نے آپس میں کہا ہوگا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی (رض) کو قرآن کریم کے علاوہ کوئی اور کتاب بطور خاص عنایت کی ہے جس کا علم اور کسی کو نہیں ہے، جب یہ بات حضرت علی (رض) نے سنی تو اس کی تردید کی اور فرمایا کہ میں نے تو آنحضرت ﷺ کی طرف سے صرف قرآن کریم لکھا ہے یا پھر چند احکام پر مشتمل وہ احادیث لکھی ہیں جو اس صحیفہ میں ہیں، ان کے علاوہ نہ تو میں نے کوئی اور کتاب لکھی ہے اور نہ آنحضرت ﷺ نے قرآن کریم کے علاوہ مجھے اور کوئی کتاب دی ہے، چناچہ اس صحیفہ سے مراد وہ لکھا ہوا ورق تھا جس میں آنحضرت ﷺ نے دیات کے احکام اور چند دوسرے احکام تحریر کرائے تھے اور جو حضرت علی (رض) کی تلوار کی نیام میں رہتا تھا۔ اس صحیفہ یا ورق میں دیات کے احکام کے علاوہ اور جو احکام لکھے ہوئے تھے ان میں مدینہ کے بارے میں بھی یہی حکم تھا، جو حضرت علی (رض) نے مذکورہ بالا حدیث میں بیان کیا۔ لہٰذا مدینہ عیر اور ثور کے درمیان حرام ہے، کا مطلب یہ ہے کہ مدینہ منورہ اور اس کے گرداگرد زمین کا وہ حصہ جو عیر اور ثور کے درمیان ہے بزرگ قدر اور باعظمت ہے ! اس میں ایسی چیزوں کا ارتکاب ممنوع ہے، جو اس مقدس شہر اور اس کی باعظمت زمین کی توہین و حقارت کا سبب ہوں، لیکن حضرت امام شافعی کے نزدیک حرام سے مراد حرم ہے یعنی مدینہ، حرم مکہ کی مانند ہے کہ جو چیزیں مثلاً شکار وغیرہ حرم مکہ میں حرام ہیں وہ مدینہ میں بھی حرام ہیں، اس طرح ان کے ہاں حرم مدینہ کی حدود عیر اور ثور نامی پہاڑ ہیں جو مدینہ مطہرہ کے دونوں طرف واقع ہیں۔ لایقبل منہ صرف ولاعدل، میں لفظ صرف کے معنی فرض بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور نفل بھی نیز توبہ اور شفاعت بھی اس لفظ کے معنی ہوسکتے ہیں، اس طرح لفظ عدل کے معنی نفل بھی مراد لئے جاسکتے ہیں اور فرض بھی۔ نیز فدیہ اور بعض حضرات کے قول کے مطابق شفاعت، یا توبہ، بھی اس لفظ کے معنیٰ ہوسکتے ہیں۔ حضرت علی (رض) نے اس صحیفہ میں سے آنحضرت ﷺ کا لکھوایا ہو ادوسرا حکم یہ بیان کیا کہ مسلمانوں کا امان ایک شئے واحد کی مانند ہے کہ اس کا تعلق ملت کے ہر فرد سے ہوسکتا ہے خواہ وہ برتر ہو یا کمتر، مثلاً جس طرح کسی اعلیٰ حیثیت کے مسلمان کو یہ اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ کسی کو عہد امان دے اسی طرح کسی ادنیٰ ترین مسلمان کو بھی عہد امان دینے کا اختیار حاصل ہے اور اس کے عہد امان کا لحاظ کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہے، گویا اس حکم کا حاصل یہ ہوا کہ مسلمانوں میں سے اگر کوئی بھی شخص خواہ وہ کتنا ہی حقیر و کمتر ہو (جیسے غلام وغیرہ) کسی غیر مسلم کو امان دے اور اس سے اس کی جان و مال کی حفاظت کا عہد کرے، اس کو اپنی پناہ میں لے لے تو اس کے عہد کو توڑنا کسی دوسرے مسلمان کے لئے جائز نہیں ہے۔ اگر کوئی مسلمان کسی دوسرے مسلمان کے عہد امان کو پامال کرے گا بایں طور کہ اس کے زیر امان غیر مسلم کی جان و مال کو نقصان پہنچائے تو وہ اللہ کی، فرشتوں کی اور تمام مسلمانوں کی لعنت کا مستحق ہوگا۔ حضرت علی (رض) نے اس صحیفہ کا ایک حکم یہ بھی بیان کیا کہ جو شخص اپنے ساتھیوں اور دوستوں کی اجازت کے بغیر دوسرے لوگوں سے سلسلہ موالات یعنی رابطہ دوستی قائم کرے وہ بھی لعنت کا مستحق ہوتا ہے ! اس ضمن میں کچھ تفصیل ہے اس کو جان لینا چاہئے ولاء کی دو قسمیں ہیں پہلی قسم تو ولاء موالات ہے جس کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا اہل عرب کا یہ معمول تھا کہ کچھ لوگ آپس میں دوستی کا رشتہ قائم کر کے یہ عہد کرتے اور قسم کھاتے تھے کہ ہم دوسرے کے بھلے برے میں شریک رہیں گے، زندگی کے ہر مرحلہ پر ہر ایک دوسرے کا ممد و معاون رہے گا، آپس میں ایک دوسرے کے دوست سے دوستی رکھیں گے اور دشمن کو دشمن سمجھیں گے۔ اسی کو ولاء موالات کہتے ہیں۔ ایام جاہلیت میں تو آپس کے عہد و پیمان کا تعلق صحیح و غلط، حق و ناحق، ہر معاملہ سے ہوتا تھا، ایک شخص چاہے حق پر ہو چاہے ناحق پر، اس کے دوسرے ساتھی اس کی مدد ہر حال میں کرتے تھے۔ لیکن جب اسلام کی روشنی نے عہد جاہلیت کی ظلمت کو ختم کیا تو مسلمانوں نے اس میں اتنی ترمیم کی کہ ان کا ایک دوسروں کے ساتھ تعان و اشتراک صرف صحیح اور حق معاملہ تک محدود رہتا لیکن اس کے باوجود یہ معمول جاری رہا یہاں تک کہ اکثر اہل عجم، عرب میں آ کر صحابہ سے اس کا سلسلہ قائم کرتے تھے۔ دوسری قسم ولاء عتاقت ہے اس کی صورت یہ ہے کہ مثلاً اگر کوئی شخص اپنے کسی غلام کو آزاد کرتا ہے تو اس غلام پر یہ حق ولاء ثابت ہوجاتا ہے کہ اس کے عصبہ (بیٹا پوتا وغیرہ) نہ ہونے کی صورت میں وہ آزاد کرنے والا اس کا وارث بن جاتا ہے لہٰذا ذوی الفروض (باپ دادا وغیرہ سے جو کچھ بچتا ہے وہ اس کا مالک ہوتا ہے۔ اس تفصیل کو ذہن میں رکھ کر اب سمجھئے کہ حدیث میں مذکورہ موالات سے ولاء کی پہلی قسم بھی مراد ہوسکتی ہے، اس صورت میں اس حکم کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص کے موالی یعنی مذکورہ بالا عہد و پیمان کے مطابق دوست اور رفقاء ہوں تو اسے چاہئے کہ وہ اپنے ان دوستوں کی اجازت کے بغیر کسی اور جماعت کو اپنا موالی (دوست) نہ بنائے کیونکہ اس کی وجہ سے ایک طرح کی عہد شکنی بھی ہوتی ہے اور مسلمانوں کو قلبی اذیت اور روحانی تکلیف میں مبتلا کرنا بھی ہوتا ہے جو کسی مسلمان کے لئے قطعا مناسب نہیں ہے۔ اور یہ احتمال بھی ہے کہ موالات سے ولاء کی دوسری قسم مراد ہو، اس کے پیش نظر معنی یہ ہوں گے کہ جو شخص اپنی آزادی کی نسبت آزاد کرنے والے کی بجائے کسی دوسرے کی طرف کرے تو وہ مستحق لعنت ہوتا ہے جیسا کہ اپنے باپ کی بجائے کسی غیر کی طرف اپنی نسبت کرنے والا شخص مستحق لعنت ہوتا ہے اس صورت میں بغیر اذن موالیہ کی قید اکثر کے اعتبار سے ہوگی کہ اکثر ایسا ہی ہوتا ہے کہ اگر آزادی یافتہ غلام اپنے مالک سے اس بات کی اجازت چاہتا ہے کہ وہ اپنی آزادی کی نسبت اس کی بجائے کسی دوسرے کی طرف کرے تو وہ اس کی اجازت نہیں دیتا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر مالک اجازت دے دے تو پھر غیر مالک کی طرف نسبت کرنا درست ہوجائے گا کیونکہ پھر جھوٹ کی صورت بن جائے گی جو ویسے بھی جائز نہیں ہے۔ شیعوں کے قول کی تردید شیعہ یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی (رض) سے ایک وصیت نامہ مرتبہ کرایا تھا، جس میں جہاں اور بہت سی خاص باتیں تھیں وہیں حضرت علی (رض) کو اپنا خلیفہ اول مقرر کرنے کی ہدایت بھی تھی۔ اس وصیت نامہ کا علم اہل بیت میں سے چند مخصوص افراد (مثلاً حضرت علی (رض) وحضرت فاطمہ (رض) وغیرہ) کے علاوہ اور کسی کو نہیں تھا، ظاہر ہے کہ شیعہ حضرات کا یہ قول اختراع سے زیادہ کچھ اہمیت نہیں رکھتا کیونکہ مذکورہ بالا حدیث اس قول کی تردید میں مضبوط دلیل ہے، چناچہ حضرت علی (رض) خود وضاحت کے ساتھ فرما رہے ہیں کہ میں نے آنحضرت ﷺ کی طرف سے قرآن کریم اور صحیفہ مذکورہ کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں لکھی ہے۔ آخر میں ایک بات یہ بھی جان لیجئے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ علم کی باتوں کو لکھنا اور مرتب کرنا مستحب ہے، جو ایک عظیم الشان خدمت بھی ہے اور اجر وثواب کا باعث بھی۔
2777
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سعد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إني أحرم ما بين لابتي المدينة : أن يقطع عضاهها أو يقتل صيدها وقال : المدينة خير لهم لو كانوا يعلمون لا يدعها أحد رغبة عنها إلا أبدل الله فيها من هو خير منه ولا يثبت أحد على لأوائها وجهدها إلا كنت له شفيعا أو شهيدا يوم القيامة . رواه مسلم
حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا میں مدینہ کے دونوں پہاڑوں کے کناروں کے درمیان کو حرام (باعظمت) قرار دیتا ہوں، لہٰذا نہ تو اس زمین کے ( جو، ان دونوں پہاڑوں کے درمیان ہے) خاردار درخت کاٹے جائیں اور نہ اس میں شکار مارا جائے (حنفیہ کے نزدیک یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے) مدینہ ان (لوگوں) کے لئے ( جو مدینہ میں رہتے ہیں) بہتر ہے (یعنی مدینہ کا قیام دنیا و عقبی کی بھلائی کا ضامن ہے) بشرطیکہ وہ اس کی بھلائی و بہتری کو جانیں تو اس شہر کی اقامت کو ترک نہ کریں اور دنیا کے آرام و راحت کے لئے اس کو چھوڑ کر اور کہیں نہ جائیں جو بھی شخص بےرغبتی کے ساتھ (یعنی بلا ضرورت) اس شہر کو چھوڑے گا تو اللہ تعالیٰ اس کی جگہ کسی دوسرے ایسے شخص کو مقیم کر دے گا جو اس سے بہتر ہوگا (یعنی بےرغبتی کے ساتھ مدینہ کو چھوڑنا مدینہ کے لئے نقصان دہ نہیں ہوگا بلکہ اس کے لئے مفید ہی ہوگا کہ اس شخص کی جگہ کوئی اس سے بہتر شخص آ کر مقیم ہوگا کہ ضرورت و مجبوری کے تحت مدینہ کو چھوڑنا اس حکم میں داخل نہیں) اور جو بھی شخص مدینہ میں سختیوں اور بھوک پر ثابت قدم رہے گا (یعنی وہاں کی ہر تنگی و پریشانی پر صبر کرے گا) تو میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا یا یہ فرمایا کہ میں اس (کی اطاعت) کا گواہ بنوں گا۔ (مسلم)

تشریح
اس حدیث میں جہاں مدینہ کے رہنے والوں کے لئے خاتمہ بخیر کی سعادت عظمی کی بشارت ہے وہیں یہ تنبیہ بھی ہے کہ مومن کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ حرمین شریفین یعنی مکہ مکرمہ و مدینہ منورہ کی سکونت پر اللہ تعالیٰ کی اس عظیم نعمت پر شکر بھی کرتا رہے اور وہاں کی ہر سختی و مصیبت پر صابر بھی رہے، نیز یہ کہ وہ ان مقدس شہروں کی بھلائی سے صرف نظر کر کے دوسری جگہوں کی ظاہری نعمت اور راحت و آرام پر نظر نہ رکھے کیونکہ اصل نعمت اور اصل راحت تو آخرت کی نعمت اور وہاں کی راحت ہے جیسا کہ یہ حدیث ہے۔ اللہم لا عیش الا عیش الآخرۃ۔ اے اللہ ! آخرت کی راحت و آرام کے علاوہ اور کوئی راحت و آرام نہیں ہے۔
2778
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يصبر على لأواء المدينة وشدتها أحد من أمتي إلا كنت له شفيعا يوم القيامة . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ میری امت کا جو بھی شخص مدینہ میں سختی و بھوک پر اور وہاں کی کسی بھی تکلیف و مشقت پر صبر کرے گا میں قیامت کے دن اس کی شفاعت کروں گا۔ (مسلم)
2779
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : كان الناس إذا رأوا أول الثمرة جاءوا به إلى النبي صلى الله عليه و سلم فإذا أخذه قال : اللهم بارك لنا في ثمرنا وبارك لنا في مدينتنا وبارك لنا في صاعنا وبارك لنا في مدنا اللهم إن إبراهيم عبدك وخليلك ونبيك وإني عبدك ونبيك وإنه دعاك لمكة وأنا أدعوك للمدينة بمثل ما دعاك لمكة ومثله معه . ثم قال : يدعو أصغر وليد له فيعطيه ذلك الثمر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ لوگوں کا معمول تھا کہ جب وہ کوئی نیا پھل دیکھتے تو اس کو رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لاتے اور جب آپ ﷺ اس پھل کو لیتے تو فرماتے، اے اللہ ! ہمارے پھلوں میں برکت عطا فرما، ہمارے شہر میں برکت عطا فرما، ہمارے صاع میں برکت عطا فرما (صاع ایک پیمانہ کا نام تھا) ہمارے مد میں برکت عطا فرما (مد بھی ایک پیمانہ کا نام تھا) اور اے اللہ ! ابراہیم تیرے بندے تھے، تیرے خاص دوست تھے اور تیرے نبی تھے اور میں بھی تیرا بندہ ہوں اور تیرا نبی ہوں، ابراہیم نے تجھ سے مکہ کے لئے دعا مانگی تھی (جو اس آیت ( فَاجْعَلْ اَفْى ِدَةً مِّنَ النَّاسِ تَهْوِيْ اِلَيْهِمْ وَارْزُقْهُمْ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّهُمْ يَشْكُرُوْنَ ) 14 ۔ ابراہیم 37) اور میں بھی تجھ سے مدینہ کے لئے دعا مانگتا ہوں اسی طرح کی دعا جو ابراہیم نے مکہ کے لئے مانگی تھی بلکہ اس کی مانند اور بھی دعا (یعنی ابراہیم نے جو دعا مانگی تھی میں نہ صرف اسی طرح کی دعا بلکہ اس سے بھی دو چند دعا مانگتا ہوں) پھر ابوہریرہ (رض) نے کہا کہ اس کے بعد آنحضرت ﷺ اپنے خاندان کے سب سے چھوٹے بچے کو بلاتے اور اس کو وہ پھل عنایت فرماتے (تاکہ وہ بچہ خوش ہوجائے) (مسلم)

تشریح
برکت کے معنی ہیں زیادہ ہونا لہٰذا پھل میں برکت کی دعا مانگنے کا مطلب تو ظاہر ہی ہے، البتہ شہر میں برکت کا مطلب یہ ہے کہ شہر میں وسعت ہو، اس میں لوگ کثرت سے آباد ہوں اور اس کی تہذیبی و تمدنی حیثیت مثالی درجہ اختیار کرے چناچہ آپ ﷺ کی دعا اس طرح قبول ہوئی کہ شہر کا رقبہ بڑھا، اس کی آبادی بڑھی، مسجد نبوی کی بھی توسیع ہوئی اور دور دور سے آ کر مسلمان کثیر تعداد میں یہاں آباد ہوئے اور اس کے علاوہ یہ شہر اپنی تہذیبی و تمدنی حیثیت سے بھی مثالی درجہ پر پہنچا ! صاع اور مد میں برکت سے مراد یہ ہے کہ رزق میں فراخی ہو۔ حضرت ابراہیم اللہ تعالیٰ کے خلیل ہیں اور آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے حبیب ! اس کے باوجود کہ خلیل سے حبیب کا مرتبہ بڑا ہے آپ ﷺ نے حضرت ابراہیم کی اس صفت کو ذکر کیا مگر سبب تواضع و انکسار اپنی صفت کو ذکر نہیں کیا اپنے کو صف اللہ کا بندہ اور اس کا نبی کہنے پر اکتفاء فرمایا۔
2780
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي سعيد عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن إبراهيم حرم مكة فجعلها حراما وإني حرمت المدينة حراما ما بين مأزميها أن لا يهراق فيها دم ولا يحمل فيها سلاح لقتال ولا تخبط فيها شجرة إلا لعلف . رواه مسلم
حضرت ابوسعید (رض) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا حضرت ابرہیم نے مکہ کو بزرگی دی اور اس کو حرم قرار دیا (یعنی انہوں نے مکہ کی بزرگی اور حرم کو ظاہر کیا) اور میں نے مدینہ کو بزرگی دی ہے اور مدینہ کے دونوں کناروں کے درمیان کی بزرگی کا تقاضا یہ ہے کہ نہ تو اس میں خونریزی کی جائے نہ وہاں جنگ کے لئے ہتھیار اٹھایا جائے اور نہ اس کے درخت کے پتے جھڑے جائیں البتہ جانوروں کے کھانے کے لئے جھاڑے جاسکتے ہیں۔ (مسلم)

تشریح
علامہ تو پشتی کہتے ہیں کہ حدیث کے الفاظ وانی حرمت المدینہ میں تحریم سے مراد تعظیم ہے (جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کی گیا ہے) اس سے وہ احکام مراد نہیں جو حرم سے متعلق ہیں یعنی شکار وغیرہ کا حرام ہونا چناچہ اس بات کی دلیل خود آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ اور نہ اس کے درخت کے پتے جھاڑے جائیں البتہ جانوروں کے کھانے کے لئے جھاڑے جاسکتے ہیں (اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حرم مکہ کا جو حکم ہے وہ حرم مدینہ کا نہیں ہے) کیونکہ مکہ کے جو درخت ہیں ان کے پتے جھاڑنے کسی حالت میں بھی درست نہیں ہیں، جہاں تک شکار کا تعلق ہے تو اگرچہ بعض صحابہ نے مدینہ میں شکار مارنے کو حرام کہا ہے لیکن اکثر صحابہ نے مدینہ کے پرندوں کے شکار کا انکار (یعنی اس سے منع) نہیں کیا ہے نیز اس بارے میں آنحضرت ﷺ کی کوئی ممانعت کسی ایسے طریق سے ہم تک نہیں پہنچی ہے جس پر اعتماد کیا جاسکے، یہ علامہ تو پشتی کا اقتباس ہے اس بارے میں ملا علی قاری نے بڑی تفصیل کے ساتھ بحث کی ہے، اہل علم ان کی شرح سے مراجعت کرسکتے ہیں۔
2781
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عامر بن سعد : أن سعدا ركب إلى قصره بالعقيق فوجد عبدا يقطع شجرا أو يخبطه فسلبه فلما رجع سعد جاءه أهل العبد فكلموه أن يرد على غلامهم أو عليهم ما أخذ من غلامهم فقال : معاذ الله أن أرد شيئا نفلنيه رسول الله صلى الله عليه و سلم وأبى أن يرد عليهم . رواه مسلم
حضرت عامر بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن حضرت سعد بن وقاص (رض) جو عشرہ مبشرہ میں سے ایک جلیل القدر صحابی ہیں اپنی حویلی کی طرف جو مدینہ کے قریب مقام عقیق میں تھی، سوار ہو کر چلے تو راستہ میں انہوں نے ایک غلام کو دیکھا جو ایک درخت کاٹ رہا تھا یا اس درخت کے پتے جھاڑ رہا تھا، حضرت سعد (رض) نے بطور سزا و تنبیہ اس غلام کے کپڑے چھین لئے، پھر جب وہ مدینہ واپس آئے تو غلام کے مالک ان کی خدمت میں آئے اور یہ گفتگو کی کہ انہوں نے جو چیز ان کے غلام سے لی ہے یعنی اس کے کپڑے اسے وہ غلام کو واپس کردیں یا ان مالکوں کو دے دیں۔ حضرت سعد (رض) نے فرمایا کہ اللہ کی پناہ میں اس چیز کو کیسے واپس کرسکتا ہوں جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلوائی ہے۔ چناچہ سعد نے کپڑے واپس کرنے سے بالکل انکار کردیا۔ (مسلم)

تشریح
ان یرد علی غلامہم او علیہم، حرف او راوی کے شک کو ظاہر کر رہا ہے کہ ان کے مالکوں نے یا تو کہا تھا کہ غلام کے کپڑے غلام کو واپس کردیں یا اس کے بجائے یہ کہا تھا کہ جو کپڑے ہمارے غلام سے لئے ہیں وہ ہمیں دے دیں۔ حدیث کے اس جملہ جو مجھے رسول اللہ ﷺ نے دلوائی ہے۔ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس بات کی اجازت دی تھی کہ جو شخص کسی کو مدینہ میں شکار مارتے یا درخت کاٹتے دیکھے تو وہ اس کے کپڑے ضبط کرلے، لہٰذا کہا جائے گا کہ یا تو یہ حدیث منسوخ ہے یا پھر یہ کہ آپ ﷺ کی طرف سے یہ اجازت زجر تنبیہ کے طور پر دی گئی تھی۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ مدینہ میں شکار مارنے یا درخت کاٹنے کی وجہ سے بدلہ کفارہ واجب نہیں ہوتا بلکہ مدینہ میں یہ چیزیں بغیر بدلہ کے حرام ہیں، جب کہ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ جس طرح مکہ میں ان چیزوں کے ارتکاب سے بدلہ واجب ہوتا ہے اسی طرح مدینہ میں بھی ان کی وجہ سے بدلہ میں واجب ہوتا ہے لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک مدینہ میں یہ چیزیں حرام نہیں ہیں البتہ مکروہ ہیں۔
2782
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : لما قدم رسول الله صلى الله عليه و سلم المدينة وعك أبو بكر وبلال فجئت رسول الله صلى الله عليه و سلم فأخبرته فقال : اللهم حبب إلينا المدينة كحبنا مكة أو أشد وصححها وبارك لنا في صاعها ومدها وانقل حماها فاجعلها بالجحفة
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ اور صحابہ جب مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو حضرت ابوبکر (رض) اور حضرت بلال (رض) بخار میں مبتلا ہوگئے، چناچہ میں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئی اور آپ ﷺ کو ان کی بیماری کی خبر دی، آپ ﷺ نے یہ دعا فرمائی اے اللہ ! تو مدینہ کو ہمارا محبوب بنا دے جس طرح تو نے مکہ کو ہمارا محبوب بنایا تھا بلکہ اس سے بھی زیادہ اور مدینہ کی آب و ہوا درست فرما دے اور مدینہ کے صاع و مد میں ہمارے لئے برکت عطا فرما، نیز مدینہ کے بخار کو (یعنی بخار کی کثرت و وباء کو) کو یہاں سے نکال کر جحفہ میں منتقل کر دے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
منقول ہے کہ جب حضرت ابوبکر (رض) شدت بخار میں مبتلا ہوئے اور حضرت عائشہ (رض) نے ان کی مزاج پرسی کی تو اس وقت وہ مکہ اور وہاں کی آب و ہوا، وہاں کے مکانات اور پہاڑوں کی صحت افزاء فضاؤں وغیرہ کا بآواز بلند ذکر کرنے لگے، چناچہ حضرت عائشہ (رض) نے آنحضرت ﷺ سے یہ حال ذکر کیا تو آپ ﷺ نے مذکورہ بالا دعا فرمائی۔ جحفہ ایک مقام کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان واقع ہے، اس مقام پر یہودی آباد تھے، یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے کفار کے لئے مہلک امراض اور ان کے شہروں کی خرابی کی بددعا کرنا جائز ہے، چناچہ اس حدیث کے علاوہ ایک روایت یہ بھی منقول ہے کہ مدینہ میں آنحضرت ﷺ کی ہجرت سے پہلے بیماری اور وباؤں کی کثرت تھی آپ ﷺ نے ان وباؤں کو (اللہ تعالیٰ سے دعا کے ذریعہ) کفار کے علاقوں میں بھیج دیا۔
2783
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمر في رؤيا النبي صلى الله عليه و سلم في المدينة : رأيت امرأة سوداء ثائرة الرأس خرجت من المدينة حتى نزلت مهيعة فتأولتها : أن وباء المدينة نقل إلى مهيعة وهي الجحفة . رواه البخاري
حضرت عبداللہ بن عمر مدینہ سے متعلق نبی کریم ﷺ کے خواب کے سلسلہ میں یہ حدیث نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں نے ایک کالی عورت کو دیکھا جس کے بال پراگندہ تھے وہ مدینہ سے نکلی اور مہیعہ چلی گئی۔ پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نے اس خواب کی تعبیر یہ لی کہ مدینہ کی وباء مہیعہ یعنی جحفہ کی طرف منتقل کردی گئی ہے۔ (بخاری )
2784
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سفيان بن أبي زهير رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : يفتح اليمن فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون ويفتح الشام فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون ويفتح العراق فيأتي قوم يبسون فيتحملون بأهليهم ومن أطاعهم والمدينة خير لهم لو كانوا يعلمون
حضرت سفیان بن ابوزہیر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے سنا، رسول کریم ﷺ فرماتے تھے۔ جب یمن فتح ہوجائے گا تو ایک ایسا گروہ آئے گا جو آہستہ رو ہوگا (یعنی مدینہ میں کچھ ایسے لوگ پیدا ہوں گے، جو محنت و مشقت سے دور رہ کر دنیا کی راحت و آرام کے طالب ہوں گے) چناچہ وہ لوگ اپنے و اہل و عیال کے ساتھ مدینہ سے چلے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر جگہ ہوگی اگر وہ مدینہ کے بہتر ہونے کو جانیں تو مدینہ کو نہ چھوڑیں۔ جب شام فتح ہوگا تو ایک گروہ آئے گا جو آہستہ رو ہوگا چناچہ وہ لوگ اپنے اہل و عیال کے ساتھ مدینہ سے چلے جائیں گے حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر جگہ ہوگی اگر وہ جانیں۔ اسی طرح جب عراق کو فتح کیا جائے گا تو ایک گروہ آئے گا جو آہستہ رو ہوگا چناچہ وہ لوگ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینہ سے چلے جائیں گے۔ حالانکہ مدینہ ان کے لئے بہتر جگہ ہوگی اگر وہ جانیں (تو مدینہ کو نہ چھوڑیں گے) ۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
یہ آپ ﷺ نے مدینہ کے کچھ لوگوں کے بارے میں پیش گوئی فرمائی ہے کہ جب مذکورہ بالا ممالک مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوجائیں تو وہ لوگ مدینہ کی سخت کوش زندگی سے اکتا کر طلب معاش اور دنیا کے فانی فائدوں اور آسائشوں کی خاطر اس مقدس و بابرکت شہر کو چھوڑ کر ان ممالک میں جا بسیں گے، حالانکہ ہر اعتبار سے مدینہ ہی ان کے لئے سب سے بہتر جگہ ہوگی، اگر وہ اس حقیقت کو جان لیں اور دنیا و آخرت کی سعادت و بھلائی ان کے پیش نظر رہے تو مدینہ کو نہ چھوڑیں۔