hadith book logo

Mishkaat Shareef

28. مردہ کو دفن کرنے کا بیان

مشكاة المصابيح

1674
Mishkaat Shareef
صحیح
عن عامر بن سعد بن أبي وقاص أن سعد بن أبي وقاص قال في مرضه الذي هلك فيه : ألحدوا لي لحدا وانصبوا علي اللبن نصبا كما صنع برسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم
حضرت عامر بن سعد بن ابی وقاص روایت کرتے ہیں کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے اپنی اس بیماری میں کہ جس میں ان کی وفات ہوئی فرمایا کہ مجھے دفن کرنے کے لئے لحد بنانا اور مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کرنا جیسا کہ رسول کریم ﷺ کے لئے کیا گیا تھا۔ (مسلم)

تشریح
لحد قبر میں قبلہ کی طرف بنائے گئے اس گھڑے کو کہتے ہیں جس میں مردہ رکھا جاتا ہے جس قبر میں ایسا گڑھا بنایا جاتا ہے اسے بغلی قبر کہتے ہیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بغلی قبر بنانا مستحب ہے۔ حضرت ابن ہمام فرماتے ہیں کہ ہمارے نزدیک قبر میں لحد بنانا سنت ہے بشرطیکہ کوئی مجبوری نہ ہو یعنی اگر زمین نرم ہو اور لحد بنانے سے قبر کے بیٹھ جانے کا اندیشہ ہو تو پھر قبر میں لحد نہ بنائی جائے بلکہ صندوق قبر بنائی جائے۔ حضرت سعد (رض) کے ارشاد مجھ پر کچی اینٹیں کھڑی کرنا کا مطلب یہ ہے میری لحد کو کچی اینٹوں سے بند کرنا۔ علماء لکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی قبر مبارک کی لحد کو نو اینٹوں سے بند کیا گیا تھا۔
1675
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : جعل في قبر رسول الله صلى الله عليه و سلم قطيفة حمراء . رواه مسلم
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی قبر میں ایک سرخ لوئی (چادر) ڈالی گئی تھی۔ (مسلم)

تشریح
آنحضرت ﷺ کے ایک خادم تھے جن کا نام شعران تھا انہوں نے صحابہ کرام کی مرضی اور ان کی اجازت کے بغیر از خود اس چادر کو آنحضرت ﷺ کی قبر میں رکھ دیا تھا اور اس کی وجہ یہ بیان کی کہ میں اسے قطعی ناپسند کرتا ہوں کہ جس چادر مبارک کو سرکار دو عالم ﷺ خود استعمال کرچکے ہوں اسے آپ کے بعد کوئی دوسرا شخص استعمال کرے۔ بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ قبر میں یہ چادر رکھنا آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے تھا (اب کسی دوسرے کے لئے اجازت نہیں کہ اس کی قبر میں چادر وغیرہ بچھائی جائے یا رکھی جائے) بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کی قبر میں چادر رکھنے کے بارے میں صحابہ (رض) نے کسی اچھی رائے کا اظہار نہیں کیا۔ چناچہ حضرت علی اور حضرت عباس کے بارے میں منقول ہے کہ ان دونوں نے شعران سے اس بات پر سخت معاوضہ کیا کہ انہوں نے وہ چادر قبر مبارک میں کیوں رکھی ؟ نیز علامہ ابن عبدالبر (رح) نے تو کتاب استیعاب میں یہ لکھا ہے کہ وہ لوئی (جو شعران نے آپ ﷺ کی قبر مبارک میں ڈالی تھی) مٹی ڈالنے سے پہلے قبر مبارک سے نکال لی گئی تھی۔ بہر حال علماء نے قبر میں مردہ کے نیچے کپڑا بچھانے کو مکروہ قرار دیا ہے کیونکہ اس میں مال کا اسراف اور اس کا ضائع کرنا ہے۔
1676
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سفيان التمار : أنه رأى قبر النبي صلى الله عليه و سلم مسنما . رواه البخاري
حضرت سفیان تمار سے روایت ہے کہ انہوں نے نبی کریم ﷺ کی قبر کو دیکھا جو اونٹ کے کوہان کی طرح تھی۔ (بخاری)

تشریح
حضرت امام مالک، حضرت امام احمد اور حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے نہ صرف یہ کہ اس حدیث کو بلکہ اس کے علاوہ اور بھی صحیح احادیث کو اپنے اس مسلک کا مستدل قرار دیا ہے کہ قبر کو اونٹ کے کوہان کی طرح اٹھی ہوئی بنانا مسطح بنانے سے افضل ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک قبر مسطح بنانا افضل ہے۔
1677
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي الهياج الأسدي قال : قال لي علي : ألا أبعثك على ما بعثني عليه رسول الله صلى الله عليه و سلم : أن لا تدع تمثالا إلا طمسته ولا قبرا مشرفا إلا سويته . رواه مسلم
اور حضرت ابوالہیاج اسدی (تابعی) کہتے ہیں کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے مجھ سے فرمایا کہ کیا میں تمہیں اس کام پر معمور نہ کروں جس کام پر مجھے رسول اللہ ﷺ نے معمور کیا تھا ؟ اور وہ کام یہ ہے کہ تم جو بھی تصویر دیکھو اسے چھوڑو نہیں بلکہ اسے مٹادو اور جس قبر کو بلند دیکھو اسے برابر کردو۔ (مسلم)

تشریح
علماء نے لکھا ہے کہ اپنے پاس تصویر کا رکھنا حرام ہے اور اسے مٹا دینا واجب ہے نیز اس کے سامنے بیٹھنا جائز نہیں ہے، جس قبر کو بلند دیکھو اسے برابر کردو۔ کا مطلب یہ ہے کہ قبر اگر زیادہ اونچی اور بلند بنائی گئی ہو تو اسے اتنی نیچی کردو کہ زمین کی سطح سے قریب ہوجائے صرف اس کا نشان باقی رہے جس کی مقدار ایک بالشت ہے کیونکہ مسنون یہی ہے چناچہ کتاب ازہار میں علماء کا یہ قول لکھا ہوا ہے کہ قبر کو بقدر ایک بالشت کے بلند کرنا مستحب ہے اور ور اس سے زیادہ مکروہ ہے نیز ایک بالشت سے زیادہ قبر کو ڈھا دینا (یعنی صرف ایک بالشت کی بقدر باقی رہنے دینا مستحب ہے)
1678
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : نهى رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يجصص القبر وأن يبنى عليه وأن يقعد عليه . رواه مسلم
حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قبر پر گچ کرنے اور اس پر عمارت بنانے نیز قبر کے اوپر بیٹھنے سے منع فرمایا ہے۔ (مسلم)

تشریح
کتاب اظہار میں لکھا ہے کہ قبروں پر گچ کرنے کی ممانعت کراہت کے طور پر ہے یعنی قبروں پر گچ کرنا مکروہ ہے پھر ممانعت کا یہ حکم دونوں صورتوں کے لئے ہے یعنی خواہ قبر کی چٹائی گچ سے کی جائے خواہ قبروں پر گچ کیا جائے دونوں ہی مکروہ ہیں قبر کے اوپر کوئی عمارت مثلاً گنبد یا قبہ وغیرہ بنانا درست نہیں ہے بلکہ اگر کسی قبر پر کوئی عمارت بنی ہوئی ہو تو اسے ڈھا دینا واجب ہے اگر وہ مسجد ہی کیوں نہ ہو۔ علامہ تور پشتی (رح) فرماتے ہیں کہ قبروں پر بناء یعنی عمارت بنانا دونوں چیزوں کو محتمل ہے خواہ قبر پر پتھر و اینٹ وغیرہ سے کوئی عمارت بنائی جائے خواہ قبر کے اوپر کوئی خیمہ وغیرہ کھڑا کیا جائے دونوں ہی صورتیں ممنوع ہیں کیونکہ ان چیزوں سے کوئی فائدہ نہیں ہے علامہ تور پشتی نے یہ بھی فرمایا ہے کہ اس ممانعت کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ یہ فعل جاہلیت ہے یعنی کفار میت اوپر دس دن تک سایہ رکھتے تھے اس لئے مشابہت سے بچانا بھی مقصود ہے۔ قبر کے اوپر بیٹھنے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ یہ مومن کے اکرام و شرف کے منافی ہے بایں طور کہ قبر کے اوپر چڑھ کر بیٹھنے سے صاحب قبر کی تحقیر اور بےوقعتی لازم آتی ہے۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ قبر کے اوپر بیٹھنے سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص اظہار رنج و غم کے لئے قبر کے پاس مسلسل بیٹھا رہے جیسے کے بعض لوگ فقر اور دنیا سے کنارہ کشی اختیار کر کے اپنے کسی محسن و متعلق ہی کی قبر کو اپنا مسکن بنا لیتے ہیں لہٰذا اس سے منع فرمایا گیا ہے۔
1679
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي مرثد الغنوي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تجلسوا على القبور ولا تصلوا إليها . رواه مسلم
حضرت ابومرثد غنوی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نہ قبروں کے اوپر بیٹھو اور نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو (مسلم)

تشریح
محقق ابن ہمام فرماتے ہیں کہ قبروں پر بیٹھنا اور ان کو روندنا مکروہ ہے لہٰذا بعض لوگوں کا یہ طریقہ ہے کہ وہ اپنے قبرستان میں اپنے کسی عزیز و متعلق کی قبر تک پہنچنے کے لئے درمیان کی قبروں کو بلاتکلف روندتے ہوئے چلتے ہیں یہ انتہائی غلط بات ہے۔ ہاں ضرورت و حاجت کے وقت مثلاً قبر کھودنے کے لئے یا میت کو دفن کرنے کے لئے قبروں پر پاؤں رکھ کر چلنا جائز ہے۔ قبرستان میں ننگے پاؤں چلنا مستحب ہے قبر کے نزدیک یا قبر کو تکیہ بنا کر سونا مکروہ ہے قبروں کے پاس استنجا کرنا تو انتہائی کراہت کی بات ہے، قبرستان آنے جانے کے بارے میں ہر وہ چیز مکروہ جو معہود یعنی سنت سے ثابت نہیں اس بارے میں صرف قبروں پر جانا اور وہاں کھڑے کھڑے دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے جیسا کہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں منقول ہے کہ آپ ﷺ جب جنت البقیع تشریف لے جاتے تو وہاں یہ فرماتے دعا (السلام علیکم دار قوم مومنین وانا انشاء اللہ بکم لاحقون واسأل اللہ لی ولکم العافیہ) ۔ یعنی اے مومنین کے گھر تجھ پر سلامتی ہو، اے مومنو ! انشاء اللہ ہم تم سے ملنے والے ہیں، میں اللہ تعالیٰ سے اپنے لئے اور تمہارے لئے امن و عافیت مانگتا ہوں۔ (ملا علی قاری) کے ان الفاظ سے اگر یہ اشکال پیدا ہوا کہ یہاں تو یہ ثابت ہوا کہ زیارت قبور کے سلسلے میں صرف قبروں پر جانا اور وہاں دعا مانگنا سنت سے ثابت ہے جیسا کہ خود ملا علی قاری نے ابھی اس باب کی تیسری فصل کی ایک حدیث کو جو حضرت ابن عمر (رض) سے منقول ہے کی تشریح کے ضمن میں وہ احادیث نقل کی ہیں تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ قرآن کریم کی تلاوت دعا میں شامل ہے اس لئے کہ تلاوت قرآن کریم بھی حکما دعا ہی ہے لہٰذا وہ مکروہ نہیں ہے۔ حدیث کے آخری الفاط ولاتصلوا الیہا (اور نہ قبروں کی طرف نماز پڑھو) کی روشنی میں علماء لکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص قبر یا صاحب قبر کی تعظیم کی خاطر قبر کی طرف نماز پڑھتا ہے تو یہ صریح کفر ہے اگر قبر یا صاحب قبر کی تعظیم پیش نظر نہ ہو تو تب بھی قبر کی طرف نماز پڑھنا مکروہ تحریمی ہے یہی حکم جنازہ کا بھی ہے جب کہ وہ نمازی کے سامنے رکھا ہوا ہو بلکہ اس میں تو اور بھی زیادہ کراہت ہے حاصل یہ کہ نمازی کے سامنے قبر یا جنازہ نہ ہونا چاہئے۔
1680
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لأن يجلس أحدكم على جمرة فتحرق ثيابه فتخلص إلى جلده خير له من أن يجلس على قبر . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم میں سے کوئی شخص انگارے پر بیٹھ جائے اور وہ انگارہ اس کا کپڑا جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے تو یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ قبر کے اوپر بیٹھے۔ (مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص آگ کے اوپر بیٹھ جائے اور وہ آگ اس شخص کے کپڑوں کو جلا کر اس کے جسم تک پہنچ جائے اور جسم کے حصوں کو جلا ڈالے تو یہ تکلیف و مصیب قبر کے اوپر بیٹھنے سے سہل و آسان ہے یعنی قبر کے اوپر بیٹھنے کا ضرر و نقصان اس کے ضرر و نقصان سے کہیں زیادہ ہے۔
1681
Mishkaat Shareef
صحیح
عن عروة بن الزبير قال : كان بالمدينة رجلان أحدهما يلحد والآخر لا يلحد . فقالوا : أيهما جاء أولا عمل عمله . فجاء الذي يلحد فلحد لرسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه في شرح السنة
حضرت عروہ بن زبیر (رض) فرماتے ہیں کہ مدینہ میں دو شخص تھے (جو قبریں کھودا کرتے تھے) ان میں سے ایک شخص (حضرت ابوطلحہ انصاری) تو بغلی قبر کھودا کرتے تھے اور دوسرے شخص (حضرت ابوعبیدہ بن الجراح) بغلی قبر نہیں کھودتے تھے (بلکہ صندوقی قبر کھودا کرتے تھے) چناچہ (آنحضرت ﷺ کا جب وصال ہوا تو) تو صحابہ (رض) نے (متفقہ طور پر) یہ کہا کہ ان دونوں میں سے جو پہلے آجائے وہی قبر کھودے (یعنی اگر ابوطلحہ (رض) پہلے آگئے تو بغلی قبر کھودیں اور اگر ابوعبیدہ پہلے آجائیں تو صندوقی قبر کھودیں) آخرکار بغلی قبر کھودنے والے شخص (پہلے) آگئے اور انہوں نے رسول کریم ﷺ کے لئے بغلی قبر کھودا کرتے ؟
1682
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اللحد لنا والشق لغيرنا رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا لحد یعنی بغلی قبر، ہمارے لئے ہے اور شق (یعنی صندوقی قبر) دوسروں کے لئے ہے۔ (ترمذی، ابوداوئد، نسائی، ابن ماجہ اور امام احمد نے اس روایت کو جریر بن عبداللہ سے نقل کیا ہے)

تشریح
علماء نے اس حدیث کے کئی معنیٰ بیان کئے ہیں لیکن زیادہ صحیح معنی یہ ہیں کہ لحد یعنی بغلی قبر ہم انبیاء کی جماعت کے لئے ہے اور شق یعنی صندوقی قبر جماعت انبیاء کے علاوہ دوسروں کے لئے جائز ہے گویا لحد کی فضیلت بیان کی جا رہی ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ بغلی قبر کی نسب جماعت انبیاء کی طرف کر کے اس کی فضیلت اور اولیت کا اظہار فرمایا جا رہا ہے۔
1683
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن هشام بن عامر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال يوم أحد : احفروا وأوسعوا وأعمقوا وأحسنوا وادفنوا الاثنين والثلاثة في قبر واحد وقدموا أكثرهم قرآنا . رواه أ مد والترمذي وأبو داود والنسائي وروى ابن ماجه إلى قوله وأحسنوا
حضرت ہشام بن عامر (رض) راوی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے غزوہ احد کے دن فرمایا کہ قبریں کھودو اور قبروں کو کشادہ و گہری کھودو اور انہیں اچھی بناؤ (یعنی قبروں کو ہموار بناؤ اور اندر سے کوڑا کرکٹ و مٹی وغیرہ صاف کرو) اور ایک ایک قبر میں دو دو تین تین کو دفن کرو اور ان میں آگے (یعنی قبلہ کی طرف) اسے رکھو جسے قرآن زیادہ اچھا یاد تھا ۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ نے اس روایت کو لفظ احسنوا تک نقل کیا ہے ۔

تشریح
غزوہ احد کے دن، سے مراد یہ ہے کہ جب احد ختم ہوئی اور شہداء کو دفن کرنے کا ارادہ کیا گیا تو اس وقت آپ نے فرمایا کہ قبریں کھودو، لہٰذا ارشاد گرامی میں قبریں کھودنے کا حکم تو وجوب کے طور پر ہے بقیہ احکام یعنی قبروں کو کشادہ اور گہرا کھودنے اور اچھی بنانے کا حکم استحباب کے طور پر ہے۔ قبروں کو گہری کھودو اس سے معلوم ہوا کہ قبر کو گہرا کھودنا سنت ہے، کیونکہ اس کی وجہ سے میت درندوں سے محفوظ رہتی ہے۔ مظہر کا قول ہے کہ قبریں اتنی گہری کھودنی چاہئیں کہ اگر آدمی اندر کھڑا ہو کر اپنے ہاتھ اٹھائے تو اس کی انگلیوں کے سرے قبر کے کنارے تک پہنچ جائیں۔ ایک ایک قبر میں دو دو اور تین تین مردوں کو دفن کرنا مجبوری اور ضرورت کے وقت تو جائز ہے لیکن بغیر کسی ضرورت اور مجبوری کے جائز نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی اور ان میں آگے (یعنی قبلہ کی طرف) اسے رکھو جسے قرآن زیادہ اچھا یاد تھا میں اس طرف اشارہ ہے کہ جس طرح عالم با عمل کی تعظیم و تکریم اس کی زندگی میں کی جاتی تھی اسی طرح مرنے کے بعد بھی اس کی تعظیم اور اس کے احترام کو مد نظر رکھنا چاہئے۔ ایک سے زیادہ جنازوں کی بیک وقت نماز جس طرح ایک جنازہ پر ایک نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے اسی طرح ایک وقت میں کئی جنازوں پر بھی ایک نماز جنازہ ادا کی جاسکتی ہے مطلب یہ ہے کہ بیک وقت کئی جنازے جمع ہوجائیں تو خواہ ہر جنازے کی الگ الگ نماز پڑھی جائے خواہ تمام جنازوں کو رکھ کر سب کے لئے ایک ہی نماز پڑھ لی جائے دونوں صورتیں جائز ہیں۔ نیز اگر کئی جنازوں کی ایک ہی نماز بیک وقت پڑھی جائے تو جنازوں کو آگے ترتیب سے رکھنے میں بھی اختیار ہے کہ چاہے تو تمام جنازوں کو قبلہ کی طرف آگے پیچھے کر کے رکھا جائے اور چاہے طول میں قطار باندھ کر تمام جنازوں کو رکھ دیا جائے دونوں طرح جائز ہے البتہ امام کو چاہئے کہ وہ اس جنازہ کے پاس کھڑا ہو جو ان جنازوں میں افضل ہو۔