hadith book logo

Mishkaat Shareef

58. پناہ مانگنے کا بیان

مشكاة المصابيح

2487
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم تعوذوا بالله من جهد البلاء ودرك الشقاء وسوء القضاء وشماتة الأعداء
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ بلاء کی مشقت سے بدبختی کے پہنچنے سے، بری تقدر سے اور دشمنوں کے خوش ہونے سے اللہ کی پناہ مانگو۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
بلاء اس حالت کو کہتے ہیں جس میں انسان امتحان و آزمائش کے سخت کوش مرحلہ سے دوچار اور فتنہ دین و دنیا کی گٹھنا ئیوں اور دشواریوں میں مبتلا ہوتا ہے۔ جہد کے معنی ہیں مشقت وغایت لہٰذا جہد البلاء وبلاء کی مشقت سے مراد دین و دنیا کی وہ مصیبتیں ہیں جن میں انسان مبتلا ہوتا ہے اور وہ نہ صرف ان کو دور کرنے پر قادر نہیں ہوتا بلکہ ان مصیبتوں کے آنے پر بھی صبر نہیں کرسکتا۔ بری تقدیر سے مراد وہ چیز ہے جو انسان کے حق میں بری اور ناپسندیدہ ہو، اسی طرح دشمن کی خوشی سے پناہ مانگنے سے مراد یہ ہے کہ دین و دنیا کی کسی بھی ایسی مصیبت میں مبتلا نہ ہونے پائے جس سے دشمن خوش ہوتا ہو۔ بہرکیف اس حدیث میں جن چیزوں سے پناہ مانگنے کے لئے فرمایا جا رہا ہے اس میں غور کرنے سے واضح ہوتا ہے کہ اس حدیث میں ایک ایسی جامع دعا کی طرف راہنمائی کی گئی ہے جو تمام دینی اور دنیوی مقاصد ومطالب پر حاوی ہے۔
2488
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من الهم والحزن والعجز والكسل والجبن والبخل وضلع الدين وغلبة الرجال
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الہم والحزن والعجز والکسل والجبن والبخل وضلع الدین وغلبۃ الرجال) ۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں۔ فکر سے، غم سے، عاجز ہونے سے، سستی سے، نامردی سے، بخل سے، قرض کے بوجھ سے اور لوگوں (یعنی ظالموں) کے غلبہ سے۔ (بخاری ومسلم)
2489
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت : كان النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من الكسل والهرم والمغرم والمأثم اللهم إني أعوذ بك من عذاب النار وفتنة النار وفتنة القبر وعذاب القبر ومن شر فتنة الغنى ومن شر فتنة الفقر ومن شر فتنة المسيح الدجال اللهم اغسل خطاياي بماء الثلج والبرد ونق قلبي كما ينقى الثوب الأبيض من الدنس وباعد بيني وبين خطاياي كما باعدت بين المشرق والمغرب
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ بارگاہ رب العزت میں یوں عرض کیا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الکسل والہرم والمغرم والمأثم اللہم انی اعوذ بک من عذاب النار وفتنۃ النار وفتنۃ القبر و عذاب القبر ومن شر فتنۃ الغنی ومن شر فتنۃ الفقر ومن شر فتنۃ المسیح الدجال اللہم اغسل خطایای بماء الثلج والبرد ونق قلبی کما ینقی الثوب الابیض من الدنس وباعد بینی وبین خطایای کما باعدت بین المشرق والمغرب۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، طاعت میں سستی سے، بڑھاپے کے سبب سے مخبوط الحو اس اور اعضاء کے ناکارہ ہونے سے تاوان یا قرض سے اور گناہ سے، اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں آگ کے عذاب سے اور عذاب کے فتنہ سے۔ قبر کے فتنہ اور قبر کے عذاب سے، دولت کے فتنہ سے اور برائی سے، فقر کے فتنہ کی برائی سے اور کانے دجال کے فتنہ سے اے اللہ۔ برف اور اولے کے پانی سے میرے گناہ دھو دے (یعنی طرح طرح مغفرتوں کے ذریعہ مجھے گناہوں سے پاک کر دے جس طرح برف اور اولے کا پانی میل کچیل کو صاف کرتا ہے اور میرے دل کو برے اخلاق اور برے خیالات سے پاک کر دے جس طرح سفید کپڑا پانی سے صاف کیا جاتا ہے اور میرے گناہوں کے درمیان اسی طرح بعد پیدا کر دے جس طرح تو نے مشرق اور مغرب کے درمیان بعد پیدا کیا ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
پناہ مانگتاہوں آگ کے عذاب سے کا مطلب یہ ہے کہ اے اللہ ! میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں کہ میرا شمار ان لوگوں میں ہو جو دوزخی ہیں یا کفار۔ اس موقع پر یہ بات جان لینی چاہئے کہ عذاب الٰہی میں صرف کفار ہی مبتلا ہوں گے چناچہ موحدین جو اپنی بد عملیوں کی سزا آخرت میں پائیں گے اسے عذاب نہیں کہا جاتا بلکہ وہ تادیب ہے یعنی اگر ان کو دوزخ کی آگ میں ڈالا جائے گا اور ایسا عذاب کے لئے نہیں بلکہ تادیب یعنی ان کے گناہوں کو دھونے اور ختم کرنے کے لئے ہوگا۔ آگ کے فتنہ سے مراد وہ چیزیں ہیں جو آگ اور قبر کے عذاب کا باعث بنتی ہیں یعنی گناہ و معصیت۔ قبر کے فتنہ سے مراد ہے منکر و نکیر کے سوالات کا جواب دیتے وقت حو اس باختہ ہونا۔ قبر کے عذاب سے مراد ہے، فرشتوں کا، ان لوگوں کو لوہے کے گرزوں سے مارنا اور ان کا عذاب میں مبتلا ہونا۔ جو منکر نکیر کے سوالات کا جواب نہ دے سکیں گے۔ قبر سے مراد ہے عالم برزخ چاہے وہ قبر ہو یا کچھ اور ہو دولت کے فتنہ سے مراد ہے تکبر و سرکشی کرنا مال و زر حرام ذرائع سے حاصل کرنا اور ان کو گناہ کی جگہ خرچ کرنا اور مال و جاہ پر بےجا فخر کرنا اسی طرح فخر کے فتنے سے مراد ہے۔ دولت مندوں پر حسد کرنا، ان کے مال و زر کی ہوس اور طمع رکھنا، اس چیز پر راضی نہ ہونا جو اللہ نے اس کی قسمت میں لکھ دی ہے یعنی فقر اور اسی قسم کی وہ تمام چیزیں جو صبر و توکل اور قناعت کے منافی ہیں۔ اب آخر میں یہ بات بطور خاص ذہن نشین کرلیجئے۔ کہ آنحضرت ﷺ کا ان تمام چیزوں سے پناہ مانگنا اس کے معنی میں نہیں تھا کہ نعوذ باللہ آپ ﷺ ان چیزوں میں مبتلا تھے، یا ان میں مبتلا ہونے کا خوف تھا۔ کیونکہ آپ ﷺ معصوم تھے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو دائمی طور پر ان تمام چیزوں سے امن و حفاظت میں رکھا تھا بلکہ ان چیزوں سے پناہ مانگنا تعلیم امت کے طور پر تھا کہ امت کے لوگ ان چیزوں سے پناہ مانگیں اور ان سے بچیں۔
2490
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن زيد بن أرقم قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من العجز والكسل والجبن والبخل والهرم وعذاب القبر اللهم آت نفسي تقواها وزكها أنت خير من زكاها أنت وليها ومولاها اللهم إني أعوذ بك من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعوة لا يستجاب لها . رواه مسلم
حضرت زید بن ارقم (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من العجز والکسل والجبن والبخل والھرم و عذاب القبر اللہم اٰت نفسی تقواہا وزکہا انت خیر من زکھا انت ولیہا ومولاہا اللہم انی اعوذبک من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعوۃ لا یستجاب لہا) ۔ اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں عاجزی یعنی طاعت پر قادر نہ ہو کر اچھے کاموں میں سستی سے، نامردی سے، بخل سے، بڑھاپے کے سبب اعضاء کے ناکارہ اور حو اس باختہ ہونے سے اور قبر کے عذاب یعنی قبر کی تنگی، وہاں کی وحشت گرزوں کے مارے جانے سے، بچھوؤں کے ڈنگ مارنے، سانپوں کے ڈسنے اور اسی قسم کی دوسری ہولناکیوں سے اے اللہ میرے نفس کو اس کی پرہیزگاری عطا کر اور اس کو پاک کر، کیونکہ اس کو پاک کرنے والوں میں تیری ہی ذات بہترین ہے تو ہی اس کا کارساز اور مالک ہے۔ اے اللہ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع بخش نہ ہو اس دل سے جو نہ ڈرے (یا اسے ذکر اللہ سے تسکین نہ) اس نفس سے جو سیر نہ ہو (یعنی حریص ہو اللہ نے جو کچھ دیا ہے اس پر قناعت نہ کرے اور اس دعا سے جو مرتبہ قبولیت کو نہ پہنچے۔ (مسلم)

تشریح
غیر نفع بخش علم سے پناہ مانگنے کا مطلب یہ ہے کہ میں اس علم سے پناہ مانگتا ہوں جس پر عمل نہ کروں جو دوسروں کو نہ سکھاؤں اور جو اخلاق و افعال کو نہ سدھارے، یا پھر اس سے وہ علم مراد ہے جو دین کے لئے ضروری نہ ہو اس طرح وہ علم بھی مراد ہوسکتا ہے جس کو حاصل کرنے کی شریعت نے اجازت نہیں دی ہے۔ حضرت ابوطالب مکی فرماتے ہیں کہ جس طرح آنحضرت ﷺ نے شرک، نفاق اور برے افعال سے پناہ مانگی ہے اسی طرح آپ ﷺ نے علم کی (اس ایک قسم سے پناہ مانگی جو اسلامی عقائد و اعمال کے نقطہ نظر سے مضر ہے اور جو انسان کو تقویٰ اور خوف آخرت کی راہ پر لگانے کی بجائے دنیا کی حرص و محبت اللہ کے راستہ پر لے جائے چناچہ جس علم کے ساتھ تقویٰ اور خوف آخرت نہ ہو وہ دنیا کے دروازوں میں سے ایک دروازہ اور دنیاداری کی اقسام میں سے ایک قسم ہے۔
2491
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد بن عمر قال : كان من دعاء رسول الله صلى الله عليه سوسلم : اللهم إني أعوذ بك من زوال نعمتك وتحول عافيتك وفجاءة نقمتك وجميع سخطك . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کی دعاؤں میں ایک دعا یہ بھی ہوتی تھی۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من زوال نعمتک وتحول عافیتک وفجاءۃ نعمتک و جمیع سخطک) ۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں تیری نعمت کے جاتے رہنے سے اور نعمت سے مراد ایمان و اسلام و نیکیاں اور عرفان ہے تیری عافیت کی تبدیلی سے مثلاً صحت کے بدلے بیمار اور غنا کے بدلے محتاجگی ہوجانے سے تیرے ناگہانی عذاب سے اور تمام غصوں سے۔ (مسلم )
2492
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من شر ما عملت ومن شر ما لم أعمل . رواه مسلم
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا مانگا کرتے تھے دعا (اللہم انی اعوذبک من شر ما عملت ومن شر مالم اعمل) ۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس کام کی برائی سے جو میں نے کیا اور اس کام کی برائی سے جو میں نے نہیں کیا۔ (مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ میں نے جو برے کام کئے ہیں ان سے بھی پناہ مانگتا ہوں بایں معنی کہ ان کی وجہ سے عذاب میں مبتلا نہ ہوجاؤں اور وہ برے کام معاف فرما دئیے جائیں اور جو کام نہیں کئے ہیں ان سے بھی پناہ مانگتا ہوں بایں معنی کہ آئندہ ایسا کوئی کام نہ کرو جو تیری ناراضگی و خوشی کا باعث ہو یا یہ کہ برے کاموں کے ترک کو اپنا کمال نہ سمجھوں بلکہ اسے صرف تیرا فضل جانوں۔
2493
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم لك أسلمت وبك آمنت وعليك توكلت وإليك أنبت وبك خاصمت اللهم إني أعوذ بعزتك لا إله إلا أنت أن تضلني أنت الحي الذي لا يموت والجن والإنس يموتون
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کرتے تھے۔ اللہم لک اسلمت وبک اٰمنت وعلیک توکلت والیک انبت وبک خاصمت اللہم انی اعوذ بعزتک لاالہ الا انت من ان تضلنی انت الحی الذی لا یموت والجن والانس یموتون) ۔ اے اللہ میں نے تیری اطاعت کی، میں تجھی پر ایمان لایا، میں نے تجھی پر توکل کیا، میں نے تیری ہی طرف رجوع کیا (یعنی گناہوں کو چھوڑ کر تیری ہی طرف متوجہ ہوا اور میں تیری مدد سے کافروں سے لڑتا ہوں۔ اے اللہ میں تیری عزت کے واسطے سے تیری پناہ مانگتا ہوں تیرے سوا کوئی معبود نہیں، اس سے کہ گمراہ کرے تو مجھ کو تو زندہ ہے ایسا کہ تو نہیں مرے گا اور تمام جن انسان مریں گے۔ (بخاری)
2494
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : اللهم إني أعوذ بك من الأربع : من علم لا ينفع ومن قلب لا يخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعاء لا يسمع . رواه أحمد وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یوں دعا مانگتے تھے۔ دعا (اللہم انی اعوذبک من الاربع من علم لا ینفع ومن قلب لا یخشع ومن نفس لا تشبع ومن دعاء لا یسمع) ۔ اے اللہ میں چار چیزوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں اس علم سے جو نفع نہ دے اس دل سے جو عاجزی نہ کرے اس نفس سے جو سیر نہ ہو اور اس دعا سے جو قبول نہ کی جائے۔ (احمد، ابوداؤد، و ابن ماجہ) نیز اس روایت کو ترمذی نے حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) سے اور نسائی نے حضرت ابوہریرہ (رض) اور حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) دونوں سے روایت کیا ہے۔
2495
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن عمر قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يتعوذ من خمس : من الجبن والبخل وسوء العمر وفتنة الصدر وعذاب القبر . رواه أبو داود والنسائي
حضرت عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پانچ چیزوں سے اللہ کی پناہ مانگتے تھے۔ (١) نامردی سے۔ (٢) بخل سے (٣) عمر کی برائی سے یعنی عمر کی اتنی زیادتی سے کہ آخر میں قویٰ اور حو اس میں فرق آجائے اور عبادت وطاعت کی قوت نہ رہے۔ (٤) سینہ کے فتنہ سے یعنی اس چیز سے کہ سینہ کے اندر برے اخلاق اور برے عقائد جاگزیں ہوں یا حق بات قبول نہ ہو اور بلاؤں کا متحمل نہ ہو (٥) قبر کے عذاب سے۔ (ابوداؤد، نسائی)
2496
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول : اللهم إني أعوذ بك من الفقر والقلة والذلة وأعوذ من أن أظلم أو أظلم رواه أبو داود والنسائي
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ یہ دعا کرتے۔ (اللہم انی اعوذبک من الفقر والقلۃ والذلۃ واعوذبک من ان اظلم او اظلم) ۔ اے اللہ میں تیری پناہ مانگتا ہوں، محتاجگی سے، قلت سے، ذلت سے اور تیری پناہ مانگتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی پر ظلم کروں یا کوئی مجھ پر ظلم کرے۔ (ابوداؤد، نسائی)

تشریح
محتاجگی سے مراد دل کی محتاجگی ہے یعنی دل مال و زر جمع کرنے کا حریص ہو، یا اس سے مراد مال کی محتاجگی (افلاس ہے کہ اس کی وجہ سے صبر کا دامن ہاتھ سے چھوٹ جائے۔ لہٰذا حقیقت تو یہ ہے کہ آپ ﷺ نے محتاجگی کے فتنہ سے پناہ مانگی خواہ وہ دل کی محتاجگی ہو یا مال کی۔ قلت سے مراد نیکیوں کی قلت (کمی) ہے مال و زر کی قلت مراد نہیں ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ تو خود مال و زر میں قلت و کمی رکھتے تھے۔ اور مال کی کثرت و زیادتی کو ناپسند فرماتے تھے، یا پھر قلت سے مال کی اتنی قلت مراد ہے کہ وہ قوت لایموت (بقدر بقاء زندگی غذا کے لئے بھی کافی نہ ہو جس کی وجہ سے عبادات میں کوتاہی اور نقصان واقع ہو، بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہاں صبر کی کمی مراد ہے۔ ذلت سے مراد گناہوں کے نتیجہ میں ملنے والی ذلت ہے گنہگار اللہ تعالیٰ کے ہاں ذلیل ہوتا ہے یا پھر مالداروں کی مفلسی یا غربت کی بناء پر ذلیل ہونا مراد ہے۔