Mishkaat Shareef
186. قریش کے مناقب اور قبائل کے ذکر سے متعلق
مشكاة المصابيح
5918
Mishkaat Shareefمناقب لفظ منقب کی جمع ہے جس کے معنی شرف اور فضیلت کے ہیں اور قریش عرب کے مشہور قبیلہ کا نام ہے ویسے قریش کے لغوی معنی ایک بڑے خطرناک اور طاقتور سمندری جانور کے ہیں لیکن اصل میں یہ نضر ابن کنانہ (یا فہر ابن مالک ابن نضر) کا لقب تھا جن کی اولاد مختلف شاخ در شاخ خاندانوں میں پھیلی اور ان سب خاندانوں پر مشتمل قبیلہ مورث اعلی کے لقب کی مناسبت سے قریش کہلایا قبائل لفظ قبیلہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں ایک باپ کی اولاد اور قبائل کے ذکر سے مراد عرب کے مختلف قبیلوں کی خصوصیات اور ان کی اچھائیاں یا برائیاں بیان کرنا ہے۔
5919
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الناس تبع لقريش في هذا الشأن مسلمهم تبع مسلمهم وكافرهم تبع لكافرهم . متفق عليه
حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اس بات میں لوگ قریش کے تابع ہیں، قریش کے مسلمان (تمام غیرقریشی) مسلمانوں کے اور قریش کے کافر (تمام غیرقریشی) کافروں کے سردار ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے ظاہر سیاق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بات سے مراد دین و شریعت ہے خواہ اس کے وجود کا اعتبار ہو یا اس کے عدم کا۔ مطلب یہ کہ دین کے قبول یا عدم قبول یعنی ایمان وکفر کے معاملہ میں تمام لوگ قریش کے پیچھے ہیں اور قریش اقدامی و پیشوائی حیثیت رکھتے ہیں، بایں طور کہ ایک طرف تو دین کا ظہور سب سے پہلے قریش میں ہوا اور سب سے پہلے قریش کے لوگ ایمان لائے اور پھر ان کی اتباع میں دوسرے لوگوں نے بھی ایمان لانا شروع کیا، دوسری طرف وہ یعنی قریش ہی کے لوگ تھے جنہوں نے دین کی سب سے پہلے مخالفت کی اور مسلمانوں کی راہ روکنے کے لئے سب سے پہلے آگے آئے اس طرح اگر قریش کے کافروں کے تابعدار ہوئے چناچہ اسلام کی تاریخ جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے تمام اہل عرب، قریش مکہ کے اسلام لانے کا انتظار کرتے تھے، جب اہل اسلام کے ہاتھوں مکہ فتح ہوگیا اور قریش مکہ مسلمان ہوگئے تو تمام عرب کے لوگ بھی جماعت در جماعت اسلام میں داخل ہوگئے جیسا کہ سورت اذا جاء نصر اللہ سے واضح ہوتا ہے۔ بہرحال اس ارشاد کا مقصد قریش کی قائدانہ حیثیت کو بیان کرنا ہے کہ قیادت امارت کا جوہر انہی کو نصیب ہے خواہ وہ اپنے عہد جاہلیت سے وابستہ رہے ہوں یا عہد اسلام سے لیکن ان کی قیادت وامارت کو فضل وشرف کا اعتبار صرف اسلام کی صورت میں حاصل ہے نہ کہ کفر کی حالت میں۔ اور اگر فضل وشرف کی قید مقصود نہ ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں قریش مطلق قیادت وامارت کا ذکر ہے خواہ اس کا دنیاوی امور سے ہو خواہ مذہبی امور سے، چناچہ زمانہ جاہلیت میں بھی نہ صرف دنیاوی اعتبار سے قریش مکہ تمام عرب قبائل میں سردار قبیلہ کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ اس وقت کے ان مذہبی معاملات جیسے اللہ کی تولیت وکلید داری اور پانی پلانے وغیرہ کی ذمہ داریوں کا اعزاز بھی انہی کو حاصل تھا۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس بات سے مراد امامت کبریٰ اور منصب خلافت ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں میں وضاحت کے ساتھ منقول بھی ہے اور اس ارشاد گرامی کا مقصد قریش کی قیادت تسلیم کرنے اور ان کی اتباع کا حکم دینا ہے۔ پس اگر لوگ اس ارشاد گرامی کی روح اور اس سے اخذ شدہ حکم پر عمل نہ کرتے ہوئے قریش کی قیادت کو تسلیم نہ کریں اور ان کی اتباع سے انکار کریں تو یہ بات اس ارشاد گرامی کے اثبات کے منافی نہیں ہوگی، کیونکہ کسی بھی حکم کے اثبات کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ عملی اور واقعاتی طور پر اس کا ظہور بھی ہو حکم کا مقصد تو کسی چیز کو ثابت کرنا ہوتا ہے، اگر اس حکم پر عمل نہ کرے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ حکم اپنی قوت اثبات ونفاذ سے خالی ہے پس آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ قریش کی قیادت وامارت کو اختیار و قبول کرنے کا جو حکم دیا ہے اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ قریش قیادت وامارت کا استحقاق اور اس کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں، خواہ کوئی ان کی قیادت وامارت کو تسلیم کرے اور ان کی تابعداری کرے یا نہ کرے۔
تشریح
حدیث کے ظاہر سیاق سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اس بات سے مراد دین و شریعت ہے خواہ اس کے وجود کا اعتبار ہو یا اس کے عدم کا۔ مطلب یہ کہ دین کے قبول یا عدم قبول یعنی ایمان وکفر کے معاملہ میں تمام لوگ قریش کے پیچھے ہیں اور قریش اقدامی و پیشوائی حیثیت رکھتے ہیں، بایں طور کہ ایک طرف تو دین کا ظہور سب سے پہلے قریش میں ہوا اور سب سے پہلے قریش کے لوگ ایمان لائے اور پھر ان کی اتباع میں دوسرے لوگوں نے بھی ایمان لانا شروع کیا، دوسری طرف وہ یعنی قریش ہی کے لوگ تھے جنہوں نے دین کی سب سے پہلے مخالفت کی اور مسلمانوں کی راہ روکنے کے لئے سب سے پہلے آگے آئے اس طرح اگر قریش کے کافروں کے تابعدار ہوئے چناچہ اسلام کی تاریخ جاننے والے خوب جانتے ہیں کہ فتح مکہ سے پہلے تمام اہل عرب، قریش مکہ کے اسلام لانے کا انتظار کرتے تھے، جب اہل اسلام کے ہاتھوں مکہ فتح ہوگیا اور قریش مکہ مسلمان ہوگئے تو تمام عرب کے لوگ بھی جماعت در جماعت اسلام میں داخل ہوگئے جیسا کہ سورت اذا جاء نصر اللہ سے واضح ہوتا ہے۔ بہرحال اس ارشاد کا مقصد قریش کی قائدانہ حیثیت کو بیان کرنا ہے کہ قیادت امارت کا جوہر انہی کو نصیب ہے خواہ وہ اپنے عہد جاہلیت سے وابستہ رہے ہوں یا عہد اسلام سے لیکن ان کی قیادت وامارت کو فضل وشرف کا اعتبار صرف اسلام کی صورت میں حاصل ہے نہ کہ کفر کی حالت میں۔ اور اگر فضل وشرف کی قید مقصود نہ ہو تو کہا جاسکتا ہے کہ اس ارشاد گرامی میں قریش مطلق قیادت وامارت کا ذکر ہے خواہ اس کا دنیاوی امور سے ہو خواہ مذہبی امور سے، چناچہ زمانہ جاہلیت میں بھی نہ صرف دنیاوی اعتبار سے قریش مکہ تمام عرب قبائل میں سردار قبیلہ کی حیثیت رکھتے تھے بلکہ اس وقت کے ان مذہبی معاملات جیسے اللہ کی تولیت وکلید داری اور پانی پلانے وغیرہ کی ذمہ داریوں کا اعزاز بھی انہی کو حاصل تھا۔ اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس بات سے مراد امامت کبریٰ اور منصب خلافت ہے جیسا کہ دوسری حدیثوں میں وضاحت کے ساتھ منقول بھی ہے اور اس ارشاد گرامی کا مقصد قریش کی قیادت تسلیم کرنے اور ان کی اتباع کا حکم دینا ہے۔ پس اگر لوگ اس ارشاد گرامی کی روح اور اس سے اخذ شدہ حکم پر عمل نہ کرتے ہوئے قریش کی قیادت کو تسلیم نہ کریں اور ان کی اتباع سے انکار کریں تو یہ بات اس ارشاد گرامی کے اثبات کے منافی نہیں ہوگی، کیونکہ کسی بھی حکم کے اثبات کے لئے ضروری نہیں ہوتا کہ عملی اور واقعاتی طور پر اس کا ظہور بھی ہو حکم کا مقصد تو کسی چیز کو ثابت کرنا ہوتا ہے، اگر اس حکم پر عمل نہ کرے تو اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ حکم اپنی قوت اثبات ونفاذ سے خالی ہے پس آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ قریش کی قیادت وامارت کو اختیار و قبول کرنے کا جو حکم دیا ہے اس کا مقصد یہ ثابت کرنا ہے کہ قریش قیادت وامارت کا استحقاق اور اس کی ذمہ داریوں کو سنبھالنے کی اہلیت رکھتے ہیں، خواہ کوئی ان کی قیادت وامارت کو تسلیم کرے اور ان کی تابعداری کرے یا نہ کرے۔
5920
Mishkaat Shareefوعن جابر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : الناس تبع لقريش في الخير والشر . رواه مسلم
اور حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا لوگ خیر اور شر (دونوں حالتوں) میں قریش کے تابع ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
خیر سے مراد اسلام ہے اور شر سے مراد کفر ہے جیسا کہ اوپر کی حدیث کی تشریح میں تفصیل بیان ہوئی ہے۔
تشریح
خیر سے مراد اسلام ہے اور شر سے مراد کفر ہے جیسا کہ اوپر کی حدیث کی تشریح میں تفصیل بیان ہوئی ہے۔
5921
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يزال هذا الأمر في قريش ما بقي منهم اثنان . متفق عليه
اور حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا یہ امر یعنی خلافت ہمیشہ قریش میں رہے گا جب تک کہ ان میں سے دو آدمی بھی باقی رہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ہمیشہ قریش میں رہے گا کا مطلب یہ ہے کہ خلافت کا استحقاق چونکہ قریش ہی سب سے زیادہ رکھتے ہیں اس لئے خلافت کا منصب جلیلہ قریش ہی کے پاس رہنا چاہئے اور غیر قریش کو خلیفہ بنانے کا فیصلہ شرعا جائز نہیں چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں اس پر اجماع تھا اور یہی ارشاد گرامی ان انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ پر مہاجر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دلیل کی بنا جنہوں نے خلافت کو انصار کا حق قرار دینا چاہا تھا۔ جب تک کہ ان میں دو آدمی باقی رہے یہ بات آپ ﷺ نے منصب خلافت کے تئیں قریش کے ترجیحی استحقاق کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے فرمائی کہ اگر قریش میں سے دو بھی باقی رہیں کہ ایک تو خلیفہ بن سکے اور دوسرا اس کا اطاعت گذار (یا یہ کہ خلیفہ کے علاوہ دو آدمی مراد ہیں) تو اس صورت میں بھی خلافت کو قریش ہی کا حق سمجھنا چاہئے۔ اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی (رح) لکھتے ہیں یہ اور اس جیسی دوسری احادیث کو جن میں خلافت کا استحقاق قریش کے لئے ذکر کیا گیا ہے، اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ خلافت کا منصب قریش کے لئے مخصوص ہے غیر قریشی کو خلیفہ بنانا جائز نہیں ہے چناچہ اسی نکتہ پر نہ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں بلکہ صحابہ کرام کے بعد بھی امت کا اجماع رہا ہے، اہل بدعت یعنی اہل سنت والجماعت کے متفقہ مسلک سے انحراف کرنے والوں میں سے جن لوگوں نے اس مسئلہ میں اختلاف و انکار کی راہ اختیار کی (ان کی بات کو نہ صرف یہ امت کے سواد اعظم نے تسلیم نہیں کیا) بلکہ ان کی ترید وتغلیط کے لئے یہی دلیل پیش کی گئی کہ قریش کے استحقاق خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع تھا امام نووی نے یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ یہ خبر دی ہے کہ یہ حکم (جس سے منصب خلافت کا قریش کے ساتھ مخصوص ہونا ظاہر ہوتا ہے) آخر زمانہ تک برابر جاری ونافذ رہے گا جب تک کہ اس دنیا میں دو آدمی بھی باقی رہیں پس آنحضرت ﷺ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی وہی واقعہ کے اعتبار سے ثابت بھی ہوا کہ آج تک قریش کی خلافت اور ان کی بالا دستی قائم ہے لیکن امام نووی (رح) کا یہ نتیجہ بیان کرنا تاریخی حقیقت کے مطابق نہیں ہے، ان کے زمانہ تک تو قریش کی خلافت قائم تھی لیکن بعد میں قریش کی خلافت و امامت تمام عالم اسلام پر زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہ سکی، ابتداء میں کچھ اوپر دو سو برس تک کا عرصہ تو ایسا گذرا کہ اس میں اکثر اسلامی علاقوں اور شہروں پر قریش کی خلافت وبالادستی قائم رہی مگر اس کے بعد خود مختاریوں کا دور شروع ہوگیا اور عالم اسلام میں مختلف حکمرانوں اور بادشاہوں کی اپنی اپنی حکومت وبالادستی قائم ہوگئی لہٰذا اس سلسلہ میں تحقیقی قول یہ ہے کہ یہ خبر دراصل امر یعنی حکم کے معنی میں ہے گویا آنحضرت ﷺ نے خبر کے اسلوب میں یہ حکم دیا ہے کہ جو بھی شخص ایمان واسلام سے بہرہ ور ہو اس پر لازم ہے کہ وہ قریش کو اپنا سردار مانے، ان کی اتباع کرے اور ان کی امامت و قیادت سے انحراف نہ کرے، ویسے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی اپنے ظاہری معنی ہی پر محمول ہے مگر مااقاموا الدین کے الفاظ کے ساتھ مقید ہے جو اگلی حدیث میں مذکور ہیں، اس صورت میں اس حدیث کا یہ مطلب ہوگا کہ منصب خلافت وامارت اس وقت تک برابر قریش میں رہے گا جب تک کہ وہ دین کو قائم رکھیں گے چناچہ یہی ہوا کہ قریش نے جب تک کہ خلافت کو دین کے تابع رکھا اور اسلام کی خدمت و اشاعت میں مصروف رہے منصب خلافت ان کے ہاتھ سے نہیں گیا، لیکن جب انہوں نے نہ صرف یہ کہ دین کی طرف سے بےتوجہی اختیار کرلی بلکہ حرام و ناجائز امور میں مبتلا ہو کر دین کی بےحرمتی کا مظاہرہ کرنے لگے تو خلافت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ سے چھن کر غیر قریش میں پہنچ گئی۔
تشریح
ہمیشہ قریش میں رہے گا کا مطلب یہ ہے کہ خلافت کا استحقاق چونکہ قریش ہی سب سے زیادہ رکھتے ہیں اس لئے خلافت کا منصب جلیلہ قریش ہی کے پاس رہنا چاہئے اور غیر قریش کو خلیفہ بنانے کا فیصلہ شرعا جائز نہیں چناچہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں اس پر اجماع تھا اور یہی ارشاد گرامی ان انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے مقابلہ پر مہاجر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کی دلیل کی بنا جنہوں نے خلافت کو انصار کا حق قرار دینا چاہا تھا۔ جب تک کہ ان میں دو آدمی باقی رہے یہ بات آپ ﷺ نے منصب خلافت کے تئیں قریش کے ترجیحی استحقاق کو زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ بیان کرنے کے لئے فرمائی کہ اگر قریش میں سے دو بھی باقی رہیں کہ ایک تو خلیفہ بن سکے اور دوسرا اس کا اطاعت گذار (یا یہ کہ خلیفہ کے علاوہ دو آدمی مراد ہیں) تو اس صورت میں بھی خلافت کو قریش ہی کا حق سمجھنا چاہئے۔ اس حدیث کی شرح میں علامہ نووی (رح) لکھتے ہیں یہ اور اس جیسی دوسری احادیث کو جن میں خلافت کا استحقاق قریش کے لئے ذکر کیا گیا ہے، اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ خلافت کا منصب قریش کے لئے مخصوص ہے غیر قریشی کو خلیفہ بنانا جائز نہیں ہے چناچہ اسی نکتہ پر نہ صرف صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے زمانہ میں بلکہ صحابہ کرام کے بعد بھی امت کا اجماع رہا ہے، اہل بدعت یعنی اہل سنت والجماعت کے متفقہ مسلک سے انحراف کرنے والوں میں سے جن لوگوں نے اس مسئلہ میں اختلاف و انکار کی راہ اختیار کی (ان کی بات کو نہ صرف یہ امت کے سواد اعظم نے تسلیم نہیں کیا) بلکہ ان کی ترید وتغلیط کے لئے یہی دلیل پیش کی گئی کہ قریش کے استحقاق خلافت پر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا اجماع تھا امام نووی نے یہ بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ یہ خبر دی ہے کہ یہ حکم (جس سے منصب خلافت کا قریش کے ساتھ مخصوص ہونا ظاہر ہوتا ہے) آخر زمانہ تک برابر جاری ونافذ رہے گا جب تک کہ اس دنیا میں دو آدمی بھی باقی رہیں پس آنحضرت ﷺ نے جو کچھ فرمایا اور جو خبر دی وہی واقعہ کے اعتبار سے ثابت بھی ہوا کہ آج تک قریش کی خلافت اور ان کی بالا دستی قائم ہے لیکن امام نووی (رح) کا یہ نتیجہ بیان کرنا تاریخی حقیقت کے مطابق نہیں ہے، ان کے زمانہ تک تو قریش کی خلافت قائم تھی لیکن بعد میں قریش کی خلافت و امامت تمام عالم اسلام پر زیادہ عرصہ تک باقی نہیں رہ سکی، ابتداء میں کچھ اوپر دو سو برس تک کا عرصہ تو ایسا گذرا کہ اس میں اکثر اسلامی علاقوں اور شہروں پر قریش کی خلافت وبالادستی قائم رہی مگر اس کے بعد خود مختاریوں کا دور شروع ہوگیا اور عالم اسلام میں مختلف حکمرانوں اور بادشاہوں کی اپنی اپنی حکومت وبالادستی قائم ہوگئی لہٰذا اس سلسلہ میں تحقیقی قول یہ ہے کہ یہ خبر دراصل امر یعنی حکم کے معنی میں ہے گویا آنحضرت ﷺ نے خبر کے اسلوب میں یہ حکم دیا ہے کہ جو بھی شخص ایمان واسلام سے بہرہ ور ہو اس پر لازم ہے کہ وہ قریش کو اپنا سردار مانے، ان کی اتباع کرے اور ان کی امامت و قیادت سے انحراف نہ کرے، ویسے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد گرامی اپنے ظاہری معنی ہی پر محمول ہے مگر مااقاموا الدین کے الفاظ کے ساتھ مقید ہے جو اگلی حدیث میں مذکور ہیں، اس صورت میں اس حدیث کا یہ مطلب ہوگا کہ منصب خلافت وامارت اس وقت تک برابر قریش میں رہے گا جب تک کہ وہ دین کو قائم رکھیں گے چناچہ یہی ہوا کہ قریش نے جب تک کہ خلافت کو دین کے تابع رکھا اور اسلام کی خدمت و اشاعت میں مصروف رہے منصب خلافت ان کے ہاتھ سے نہیں گیا، لیکن جب انہوں نے نہ صرف یہ کہ دین کی طرف سے بےتوجہی اختیار کرلی بلکہ حرام و ناجائز امور میں مبتلا ہو کر دین کی بےحرمتی کا مظاہرہ کرنے لگے تو خلافت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ سے چھن کر غیر قریش میں پہنچ گئی۔
5922
Mishkaat Shareefوعن معاوية قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن هذا الأمر في قريش لا يعاديهم أحد إلا كبه الله على وجهه ما أقاموا الدين . رواه البخاري
اور حضرت امیر معاویہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا بلاشبہ یہ امر یعنی منصب خلافت، قریش میں رہے گا جب تک وہ دین کو قائم رکھیں گے جو بھی شخص ان (قریش) سے دشمنی و عداوت رکھے گا اس کو اللہ تعالیٰ الٹالٹکا دے گا یعنی ذلت و خواری کا طوق اس کے گلے میں ڈال دے گا۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ کہ خلافت کا اصل مقصد دین کو قائم کرنا اور اسلام کے جھنڈے کو سربلند رکھنا ہے اس لئے قریش جب تک دین و شریعت کی ترویج و اشاعت میں لگے رہیں گے اور اسلام کے جھنڈے کو سربلند رکھنے کی سعی و کوشش کرتے رہیں گے، وہ منصب خلافت کا استحقاق رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی سرداری و قیادت کو قائم رکھے گا لیکن جب وہ اپنے اصل فرض یعنی اقامت دین واسلام سے غافل ہوجائیں گے اور خلافت کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنا چھوڑ دیں گے تو مستوجب غزل ہوں گے اور خلافت وامارت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ سے چھن جائے گی اور بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ دین قائم کرنے سے مراد نماز قائم کرنا ہے جیسا کہ ایک روایت میں ما اقام الصلوۃ ہی کے الفاظ منقول بھی ہیں اور ویسے بھی بعض موقع پر دین اور ایمان کا اطلاق نماز پر آیا ہے، اسی بنیاد پر بغض حضرات کا کہنا ہے کہ اس ارشاد گرامی کا اصل مقصد قریش کو نماز قائم رکھنے کی تلقین و ترغیب اور اس بات سے ڈرانا ہے کہ اگر نماز قائم نہ رکھیں گے تو ہوسکتا ہم کہ منصب خلافت وامارت ان کے سے نکل جائے اور دوسرے لوگ ان پر غلبہ و تسلط کرلیں۔
تشریح
مطلب یہ کہ خلافت کا اصل مقصد دین کو قائم کرنا اور اسلام کے جھنڈے کو سربلند رکھنا ہے اس لئے قریش جب تک دین و شریعت کی ترویج و اشاعت میں لگے رہیں گے اور اسلام کے جھنڈے کو سربلند رکھنے کی سعی و کوشش کرتے رہیں گے، وہ منصب خلافت کا استحقاق رکھیں گے اور اللہ تعالیٰ ان کی سرداری و قیادت کو قائم رکھے گا لیکن جب وہ اپنے اصل فرض یعنی اقامت دین واسلام سے غافل ہوجائیں گے اور خلافت کے حقیقی تقاضوں کو پورا کرنا چھوڑ دیں گے تو مستوجب غزل ہوں گے اور خلافت وامارت کی باگ ڈور ان کے ہاتھ سے چھن جائے گی اور بعض شارحین نے یہ لکھا ہے کہ دین قائم کرنے سے مراد نماز قائم کرنا ہے جیسا کہ ایک روایت میں ما اقام الصلوۃ ہی کے الفاظ منقول بھی ہیں اور ویسے بھی بعض موقع پر دین اور ایمان کا اطلاق نماز پر آیا ہے، اسی بنیاد پر بغض حضرات کا کہنا ہے کہ اس ارشاد گرامی کا اصل مقصد قریش کو نماز قائم رکھنے کی تلقین و ترغیب اور اس بات سے ڈرانا ہے کہ اگر نماز قائم نہ رکھیں گے تو ہوسکتا ہم کہ منصب خلافت وامارت ان کے سے نکل جائے اور دوسرے لوگ ان پر غلبہ و تسلط کرلیں۔
5923
Mishkaat Shareefوعن جابر بن سمرة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يزال الإسلام عزيزا إلى اثني عشر خليفة كلهم من قريش . وفي رواية : لا يزال أمر الناس ماضيا ما وليهم اثنا عشر رجلا كلهم من قريش . وفي رواية : لا يزال الدين قائما حتى تقوم الساعة أو يكون عليهم اثنا عشر خليفة كلهم من قريش . متفق عليه
اور حضرت جابر ابن سمرۃ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا اسلام کو بارہ خلفاء تک قوت و غلبہ حاصل رہے گا اور سب قریش میں سے ہوں گے ایک روایت میں یوں ہے کہ (آپ ﷺ نے فرمایا) لوگوں کے (دینی ومذہبی امور میں استقامت ملی وملکی معاملات میں استحکام اور عام نظم ونسق میں عدل و انصاف اور حق وراستی پر مبنی) نظام کار کا سلسلہ اس وقت تک قائم رہے گا جب تک کہ ان کے حاکم وہ بارہ شخص ہوں گے جن کا تعلق قریش سے ہوگا اور ایک روایت میں یوں ہے کہ ( آپ ﷺ نے فرمایا) دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ قیامت آئے اور لوگوں پر ان بارہ خلیفہ کی حکومت قائم ہوگی جو قریش میں سے ہوں گے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث کے معنی و مفہوم کے تعین میں مختلف اقوال بھی ہیں اور علماء نے اشکال کا اظہار بھی کیا ہے۔ اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حدیث سے بظاہر جو بات مفہوم ہوتی ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد متصلا یکے بعد دیگرے بارہ خلفاء ہوں گے جن کے زمانہ خلافت میں دین کا نظام مستحکم و برقرار رہے گا، ان کے وجود سے اسلام کو شان و شوکت حاصل ہوگی اور نہ صرف یہ کہ خود وہ تمام بارہ خلفاء دین و مذہب کے سچے پابند وتابعدار ہوں گے بلکہ ان کی خلافت و عدالت سے حق و انصاف کے مطابق احکام و ہدایات کا اجراء ونفاذ ہوگا حالانکہ تاریخی اور واقعاتی طور پر جو کچھ پیش آیا ہے وہ اس بات کی شہادت نہیں دیتا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کے منصب خلافت وامارت پر فائز ہونے والوں میں بنی مروان میں کہ وہ خلفاء وامراء بھی تھے جو نہ صرف یہ کہ اپنی سیرت اور طور طریقون کے اعتبار سے دین و مذہب سے مناسبت نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی ظالمانہ اور مفسدانہ کاروائیوں سے اسلام اور مسلمانوں کو شدید نقصانات اور مصائب برداشت کرنا پڑے علاوہ ازیں وہ صحیح حدیث بھی ہے جس کے مطابق آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد تیس سال تک خلافت کا نظام قائم رہے گا اور اس کے بعد ظلم و زیادتی پر مبنی بادشاہت آجائے گی چناچہ تمام علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تیس برس کے عرصہ یعنی خلافت راشدہ کے بعد جو نظام حکومت ظاہر ہوا اس کو خلافت نہیں بلکہ بادشاہت وامارت کہنا چاہئے یہ ایک اہم اشکال ہے اور اسی بناء پر علماء کرام نے اس حدیث کی توجیہ و تاویل میں مختلف اقوال پیش کئے ہیں ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ بارہ خلیفوں سے مراد وہ بارہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بعد سریر آرائے خلافت اور حکومت و سلطنت ہوئے اور ان کے زمانہ اور اقتداروحکومت میں مسلمانوں کے ظاہری حالات و معاملات اور رعایا کے مفاد کے اعتبار سے سلطلنت و حکومت کا نظام مستحکم ومتوازن رہا اگرچہ ان میں سے بعض برسر اقتدار لوگ ظلم و بےانصافی کے راستہ پر بھی چلے، باہمی اختلاف ونزاع اور خرابیوں کا بھیانک ظہور ولید بن یزید بن عبد الملک بن مروان کے عہد اقتدار میں ہوا جو ان میں بارہواں شخص تھا، اس شخص کی امارت اس وقت قائم ہوئی جب اس کے چچا ہشام ابن عبد الملک کا انتقال ہوا پہلے تو لوگوں نے ولید ابن یزید کی امارت پر اتفاق کیا اور ان کا اتفاق چار برس تک قائم رہا لیکن چار برس کے بعد لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو مار ڈالا، اس دن سے صورت حال میں تغیر پیدا ہوگیا اور فتنہ و فساد پوری طرح پھیل گیا یہ قول قاضی عیاض مالکی کی طرف منسوب ہے اور علامہ ابن حجر عسقلانی (رح) نے اس قول کی تحسین کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی جتنی توجیہات کی گئی ہیں اور اس سلسلہ میں جتنے اقوال منقول ہیں ان سب میں یہی قول سب سے زیادہ مناسب اور سب سے زیادہ قابل ترجیح ہے اور اس کی تائید ان الفاظ سے ہوتی ہے جو اسی حدیث کے جزء کے طور پر بعض صحیح طرق میں منقول ہیں کہ کلہم یجتمع علیہ امر الناس اور جمع سے مراد ان خلفاء کی بیت پر لوگوں کا اتفاق و اجتماع اور ان کی قیادت وسرداری کو قبول کرنا ہے اگرچہ کراہت کے ساتھ ہو۔ نیز اس حدیث سے ان خلفاء کی جو مدح و توصیف مفہوم ہوتی ہے وہ دین عدالت اور حقانیت کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ سیاسی وانتظامی معاملات میں استحکام واستواری اور حکومت وامارت کے تئیں اتفاق و اتحاد کے اعتبار سے ہے رہی اس صحیح حدیث کی بات جس میں آپ ﷺ نے خلافت کو تیس سال میں منحصر بیان فرمایا ہے تو وہاں خلافت سے مراد خلافت کبریٰ ہے جو اصل میں خلافت نبوت ہے جب کہ اس حدیث میں خلافت امارت مراد ہے چناچہ خلفائے راشدین کے بعد جو امراء (سربراہان حکومت) گذرے ان کو بھی خلیفہ ہی کہا جاتا ہے، اگرچہ ان کو خلیفہ کہنا مجازی معنی کے اعتبار سے ہے مذکورہ بالا پہلے قول کو اگرچہ علامہ ابن حجر نے اولی وارجح قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ لایزال الاسلام عزیزا اور لایزال الدین قائما کے ساتھ یہ قول کھلی ہوئی عدم مناسبت کا حامل ہے کیونکہ یہ الفاظ ان بارہ خلفاء کی اس مدح و تعریف کا صریح مظہر ہیں کہ ان کے زمانہ خلافت وامارت میں دین کو استحکام حاصل رہے گا حق کا بول بالا ہوگا اور ان کے عدل و انصاف کے ذریعہ اسلام کی شان و شوکت اور قوت کا اظہار ہوگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خلفاء سے مراد عادل و انصاف پرور خلفاء اور نیک طینت وپاکباز امراء ہیں جو اپنے ذاتی اوصاف حمیدہ کی بناء پر خلافت کا صحیح مصداق اور منصب امارت کے اہل ہوں، اس صورت میں حدیث کا لازمی مطلب یہ بیان کرنا نہیں ہوگا کہ یہ بارہ خلفاء آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد متصلاً یکے بعد دیگرے منصب خلافت وامارت پر متمکن ہوں گے جب کہ ہوسکتا ہے کہ اصل مقصد اس طرح کے خلفاء وامراء کی محض تعداد بیان کرنا ہو خواہ ان کا ظہور کسی بھی عہد و زمانہ میں ہو اور بارہ کا عدد قیامت تک کسی وقت جا کر پوراہو تورپشتی کے مطابق اس حدیث اور اس بارے میں منقول دوسری احادیث کے مفہوم ومعنی کے تعین میں یہی قول زیادہ بہتر و مناسب اور قابل ترجیح ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس حدیث میں اس طرح کے ان بارہ خلفاء وامراء کا ذکر مراد ہے جو حضرت مہدی (علیہ السلام) کے زمانہ کے بعد منصب خلافت وامارت پر فائز ہوں گے گویا مخبر صادق ﷺ نے پیش خبری فرمائی کہ آخر زمانہ میں قریش سے نسبی تعلق رکھنے والے ایسے بارہ افراد مسلمانوں کی ملی وملکی اور حکومتی قیادت کے امین بنیں گے جن کے زمانہ اقتدار وامارت میں دین و مذہب کو عروج حاصل ہوگا اور اسلام کی شان و شوکت دوبالا ہوگی ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ جب مہدی کا انتقال ہوگا تو قیادت و اقتدار کے مالک، یکے بعد دیگرے جو پانچ آدمی ہوں گے وہ سبط اکبر یعنی حضرت امام حسن (رض) کی اولاد میں سے ہوں گے، ان کے بعد قیادت و اقتدار کی باگ ڈور یکے بعد دیگرے ان پانچ آدمیوں کے ہاتھ میں آئے گئی جو سبط اصغر حضرت سیدنا حسین (رض) شہید کی اولاد میں سے ہوں گے اور ان میں آخری شخص اپنا ولی عہد ایسے شخص کو بنائے گا جو حضرت امام حسن (رض) کی اولاد میں ہوگا اور مملکت وملت کی امامت وسربراہی کے سلسلہ کا گیارہواں فرد ہوگا پھر جب یہ گیارہواں شخص اپنا زمانہ اقتدار پورا کرکے انتقال کرے گا تو اس کا جانشین اس کا بیٹا ہوگا اور مسند اقتدار کا مالک بنے گا، اس طرح بارہ کا عدد پورا ہوجائے گا اور ان بارہ میں کا ہر شخص امام عادل اور ہادی مہدی ہوگا جس کی عدالت انصاف پسندی، دینداری اور رعایا سے اسلام اور مسلمانوں کو زبردست شان و شوکت اور سربلندی وہردلعزیزی حاصل ہوگی اگر یہ حدیث صحیح ہے تو پھر مذکورہ بالا دوسرے قول کو ایک معقول اور بہترین توجیہ قرار دیا جاسکتا ہے ویسے ایک روایت حضرت ابن عباس (رض) کی بھی نقل کی جاتی ہے جس میں انہوں نے حضرت امام مہدی کے اوصاف و محاسن بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان (امام مہدی) کے وجود سے ہر رنج وفکر کو دور کر دے گا اور ان کے عدل وفتنہ کا سد باب ہوجائے گا ان کے زمانہ کے بعد پھر قیادت و اقتدار کی باگ ڈور ان بارہ آدمیوں کے ہاتھ میں آجائے گی جو یکے بعد دیگرے ڈیڑھ سو سال تک مملکت کی زمام کار سنبھالے رہیں گے۔ اور چوتھا قول یہ ہے کہ اصل مراد ایک ہی زمانہ میں بارہ خلفاء کا پایا جانا ہے جو اپنی اپنی جگہ خود مختیار حیثیت کا دعوی کریں گے اور ان میں سے ہر ایک کی اطاعت کرنے والے لوگوں کا الگ الگ گروہ ہوگا اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ (ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا) وہ وقت آنے والا ہے جب میرے بعد خلیفہ ہوں گے اور بہت ہونگے اس ارشاد گرامی سے آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد یہ خبر دینا تھا کہ میرے بعد نت نئے فتنوں کا ظہور ہوگا اور طرح طرح کے اختلافی ونزاعی معاملات اٹھ کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ایک زمانہ میں بارہ خلفاء اپنی الگ الگ خلافت کا دعویٰ کریں گے اس آخری قول کے مطابق حدیث کی مراد گویا یہ ہوگی کہ بیک وقت بارہ خلفاء کے وجود کے زمانہ سے پہلے کے زمانہ تک تو مسلمانوں کی موثر اجتماعی وتنظیمی حیثیت برقرار رہے گی دین کا نظام مستحکم و استوار رہے گا اور اسلام کی عزت و شوکت بڑھتی رہے گی لیکن اس زمانہ میں (جب کہ بیک وقت بارہ خلفاء ہوں گے) اختلاف ونزاع کا فتنہ پھوٹ پڑے گا اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی منتشر ہونے لگے گی۔ لیکن پہلے اقوال کے مطابق حدیث کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان بارہ خلفاء کے زمانہ تک اسلام اور مسلمانوں کا نظام ملک وملت مستحکم و استوار رہے گا اس نظام میں جو خلل و اضطراب پیدا ہوگا وہ اس زمانہ کے بعد ہوگا۔ شیعوں نے اس حدیث میں بارہ خلفاء کے ذکر کو اس پر محمول ومنطبق کیا ہے کہ وہ اہل بیت میں سے ہوں گے خواہ وہ منصب خلافت پر حقیقۃ فائز ہوں خواہ خلافت کا استحقاق رکھنے کے باوجود منصب خلافت پر فائز نہ ہوسکیں ان شیعوں کے مطابق سب سے پہلے خلیفہ حضرت علی ہیں، پھر حضرت حسن، پھر حضرت حسین، پھر حضرت زین العابدین، پھر حضرت محمد باقر، پھر حضرت جعفر صادق، پھر حضرت موسیٰ کا ظم، پھر حضرت علی رضا، پھر حضرت محمد تقی، پھر حضرت حسین عسکری، پھر حضرت محمد مہدی۔
تشریح
اس حدیث کے معنی و مفہوم کے تعین میں مختلف اقوال بھی ہیں اور علماء نے اشکال کا اظہار بھی کیا ہے۔ اشکال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اس حدیث سے بظاہر جو بات مفہوم ہوتی ہے وہ یہ کہ آنحضرت ﷺ کے بعد متصلا یکے بعد دیگرے بارہ خلفاء ہوں گے جن کے زمانہ خلافت میں دین کا نظام مستحکم و برقرار رہے گا، ان کے وجود سے اسلام کو شان و شوکت حاصل ہوگی اور نہ صرف یہ کہ خود وہ تمام بارہ خلفاء دین و مذہب کے سچے پابند وتابعدار ہوں گے بلکہ ان کی خلافت و عدالت سے حق و انصاف کے مطابق احکام و ہدایات کا اجراء ونفاذ ہوگا حالانکہ تاریخی اور واقعاتی طور پر جو کچھ پیش آیا ہے وہ اس بات کی شہادت نہیں دیتا۔ چناچہ آنحضرت ﷺ کے منصب خلافت وامارت پر فائز ہونے والوں میں بنی مروان میں کہ وہ خلفاء وامراء بھی تھے جو نہ صرف یہ کہ اپنی سیرت اور طور طریقون کے اعتبار سے دین و مذہب سے مناسبت نہیں رکھتے تھے بلکہ ان کی ظالمانہ اور مفسدانہ کاروائیوں سے اسلام اور مسلمانوں کو شدید نقصانات اور مصائب برداشت کرنا پڑے علاوہ ازیں وہ صحیح حدیث بھی ہے جس کے مطابق آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد تیس سال تک خلافت کا نظام قائم رہے گا اور اس کے بعد ظلم و زیادتی پر مبنی بادشاہت آجائے گی چناچہ تمام علماء کرام رحمہم اللہ تعالیٰ علیہ کا اس بات پر اتفاق ہے کہ تیس برس کے عرصہ یعنی خلافت راشدہ کے بعد جو نظام حکومت ظاہر ہوا اس کو خلافت نہیں بلکہ بادشاہت وامارت کہنا چاہئے یہ ایک اہم اشکال ہے اور اسی بناء پر علماء کرام نے اس حدیث کی توجیہ و تاویل میں مختلف اقوال پیش کئے ہیں ان میں سے ایک قول یہ ہے کہ بارہ خلیفوں سے مراد وہ بارہ لوگ ہیں جو آنحضرت ﷺ کے بعد سریر آرائے خلافت اور حکومت و سلطنت ہوئے اور ان کے زمانہ اور اقتداروحکومت میں مسلمانوں کے ظاہری حالات و معاملات اور رعایا کے مفاد کے اعتبار سے سلطلنت و حکومت کا نظام مستحکم ومتوازن رہا اگرچہ ان میں سے بعض برسر اقتدار لوگ ظلم و بےانصافی کے راستہ پر بھی چلے، باہمی اختلاف ونزاع اور خرابیوں کا بھیانک ظہور ولید بن یزید بن عبد الملک بن مروان کے عہد اقتدار میں ہوا جو ان میں بارہواں شخص تھا، اس شخص کی امارت اس وقت قائم ہوئی جب اس کے چچا ہشام ابن عبد الملک کا انتقال ہوا پہلے تو لوگوں نے ولید ابن یزید کی امارت پر اتفاق کیا اور ان کا اتفاق چار برس تک قائم رہا لیکن چار برس کے بعد لوگ اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے اور اس کو مار ڈالا، اس دن سے صورت حال میں تغیر پیدا ہوگیا اور فتنہ و فساد پوری طرح پھیل گیا یہ قول قاضی عیاض مالکی کی طرف منسوب ہے اور علامہ ابن حجر عسقلانی (رح) نے اس قول کی تحسین کی ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کی جتنی توجیہات کی گئی ہیں اور اس سلسلہ میں جتنے اقوال منقول ہیں ان سب میں یہی قول سب سے زیادہ مناسب اور سب سے زیادہ قابل ترجیح ہے اور اس کی تائید ان الفاظ سے ہوتی ہے جو اسی حدیث کے جزء کے طور پر بعض صحیح طرق میں منقول ہیں کہ کلہم یجتمع علیہ امر الناس اور جمع سے مراد ان خلفاء کی بیت پر لوگوں کا اتفاق و اجتماع اور ان کی قیادت وسرداری کو قبول کرنا ہے اگرچہ کراہت کے ساتھ ہو۔ نیز اس حدیث سے ان خلفاء کی جو مدح و توصیف مفہوم ہوتی ہے وہ دین عدالت اور حقانیت کے اعتبار سے نہیں ہے بلکہ سیاسی وانتظامی معاملات میں استحکام واستواری اور حکومت وامارت کے تئیں اتفاق و اتحاد کے اعتبار سے ہے رہی اس صحیح حدیث کی بات جس میں آپ ﷺ نے خلافت کو تیس سال میں منحصر بیان فرمایا ہے تو وہاں خلافت سے مراد خلافت کبریٰ ہے جو اصل میں خلافت نبوت ہے جب کہ اس حدیث میں خلافت امارت مراد ہے چناچہ خلفائے راشدین کے بعد جو امراء (سربراہان حکومت) گذرے ان کو بھی خلیفہ ہی کہا جاتا ہے، اگرچہ ان کو خلیفہ کہنا مجازی معنی کے اعتبار سے ہے مذکورہ بالا پہلے قول کو اگرچہ علامہ ابن حجر نے اولی وارجح قرار دیا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ حدیث کے الفاظ لایزال الاسلام عزیزا اور لایزال الدین قائما کے ساتھ یہ قول کھلی ہوئی عدم مناسبت کا حامل ہے کیونکہ یہ الفاظ ان بارہ خلفاء کی اس مدح و تعریف کا صریح مظہر ہیں کہ ان کے زمانہ خلافت وامارت میں دین کو استحکام حاصل رہے گا حق کا بول بالا ہوگا اور ان کے عدل و انصاف کے ذریعہ اسلام کی شان و شوکت اور قوت کا اظہار ہوگا۔ دوسرا قول یہ ہے کہ خلفاء سے مراد عادل و انصاف پرور خلفاء اور نیک طینت وپاکباز امراء ہیں جو اپنے ذاتی اوصاف حمیدہ کی بناء پر خلافت کا صحیح مصداق اور منصب امارت کے اہل ہوں، اس صورت میں حدیث کا لازمی مطلب یہ بیان کرنا نہیں ہوگا کہ یہ بارہ خلفاء آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے بعد متصلاً یکے بعد دیگرے منصب خلافت وامارت پر متمکن ہوں گے جب کہ ہوسکتا ہے کہ اصل مقصد اس طرح کے خلفاء وامراء کی محض تعداد بیان کرنا ہو خواہ ان کا ظہور کسی بھی عہد و زمانہ میں ہو اور بارہ کا عدد قیامت تک کسی وقت جا کر پوراہو تورپشتی کے مطابق اس حدیث اور اس بارے میں منقول دوسری احادیث کے مفہوم ومعنی کے تعین میں یہی قول زیادہ بہتر و مناسب اور قابل ترجیح ہے۔ تیسرا قول یہ ہے کہ اس حدیث میں اس طرح کے ان بارہ خلفاء وامراء کا ذکر مراد ہے جو حضرت مہدی (علیہ السلام) کے زمانہ کے بعد منصب خلافت وامارت پر فائز ہوں گے گویا مخبر صادق ﷺ نے پیش خبری فرمائی کہ آخر زمانہ میں قریش سے نسبی تعلق رکھنے والے ایسے بارہ افراد مسلمانوں کی ملی وملکی اور حکومتی قیادت کے امین بنیں گے جن کے زمانہ اقتدار وامارت میں دین و مذہب کو عروج حاصل ہوگا اور اسلام کی شان و شوکت دوبالا ہوگی ایک دوسری حدیث میں آیا ہے کہ جب مہدی کا انتقال ہوگا تو قیادت و اقتدار کے مالک، یکے بعد دیگرے جو پانچ آدمی ہوں گے وہ سبط اکبر یعنی حضرت امام حسن (رض) کی اولاد میں سے ہوں گے، ان کے بعد قیادت و اقتدار کی باگ ڈور یکے بعد دیگرے ان پانچ آدمیوں کے ہاتھ میں آئے گئی جو سبط اصغر حضرت سیدنا حسین (رض) شہید کی اولاد میں سے ہوں گے اور ان میں آخری شخص اپنا ولی عہد ایسے شخص کو بنائے گا جو حضرت امام حسن (رض) کی اولاد میں ہوگا اور مملکت وملت کی امامت وسربراہی کے سلسلہ کا گیارہواں فرد ہوگا پھر جب یہ گیارہواں شخص اپنا زمانہ اقتدار پورا کرکے انتقال کرے گا تو اس کا جانشین اس کا بیٹا ہوگا اور مسند اقتدار کا مالک بنے گا، اس طرح بارہ کا عدد پورا ہوجائے گا اور ان بارہ میں کا ہر شخص امام عادل اور ہادی مہدی ہوگا جس کی عدالت انصاف پسندی، دینداری اور رعایا سے اسلام اور مسلمانوں کو زبردست شان و شوکت اور سربلندی وہردلعزیزی حاصل ہوگی اگر یہ حدیث صحیح ہے تو پھر مذکورہ بالا دوسرے قول کو ایک معقول اور بہترین توجیہ قرار دیا جاسکتا ہے ویسے ایک روایت حضرت ابن عباس (رض) کی بھی نقل کی جاتی ہے جس میں انہوں نے حضرت امام مہدی کے اوصاف و محاسن بیان کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ ان (امام مہدی) کے وجود سے ہر رنج وفکر کو دور کر دے گا اور ان کے عدل وفتنہ کا سد باب ہوجائے گا ان کے زمانہ کے بعد پھر قیادت و اقتدار کی باگ ڈور ان بارہ آدمیوں کے ہاتھ میں آجائے گی جو یکے بعد دیگرے ڈیڑھ سو سال تک مملکت کی زمام کار سنبھالے رہیں گے۔ اور چوتھا قول یہ ہے کہ اصل مراد ایک ہی زمانہ میں بارہ خلفاء کا پایا جانا ہے جو اپنی اپنی جگہ خود مختیار حیثیت کا دعوی کریں گے اور ان میں سے ہر ایک کی اطاعت کرنے والے لوگوں کا الگ الگ گروہ ہوگا اس کی تائید اس روایت سے ہوتی ہے کہ (ایک موقع پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا) وہ وقت آنے والا ہے جب میرے بعد خلیفہ ہوں گے اور بہت ہونگے اس ارشاد گرامی سے آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد یہ خبر دینا تھا کہ میرے بعد نت نئے فتنوں کا ظہور ہوگا اور طرح طرح کے اختلافی ونزاعی معاملات اٹھ کھڑے ہوں گے یہاں تک کہ ایک زمانہ میں بارہ خلفاء اپنی الگ الگ خلافت کا دعویٰ کریں گے اس آخری قول کے مطابق حدیث کی مراد گویا یہ ہوگی کہ بیک وقت بارہ خلفاء کے وجود کے زمانہ سے پہلے کے زمانہ تک تو مسلمانوں کی موثر اجتماعی وتنظیمی حیثیت برقرار رہے گی دین کا نظام مستحکم و استوار رہے گا اور اسلام کی عزت و شوکت بڑھتی رہے گی لیکن اس زمانہ میں (جب کہ بیک وقت بارہ خلفاء ہوں گے) اختلاف ونزاع کا فتنہ پھوٹ پڑے گا اور مسلمانوں کی شیرازہ بندی منتشر ہونے لگے گی۔ لیکن پہلے اقوال کے مطابق حدیث کی مراد یہ معلوم ہوتی ہے کہ ان بارہ خلفاء کے زمانہ تک اسلام اور مسلمانوں کا نظام ملک وملت مستحکم و استوار رہے گا اس نظام میں جو خلل و اضطراب پیدا ہوگا وہ اس زمانہ کے بعد ہوگا۔ شیعوں نے اس حدیث میں بارہ خلفاء کے ذکر کو اس پر محمول ومنطبق کیا ہے کہ وہ اہل بیت میں سے ہوں گے خواہ وہ منصب خلافت پر حقیقۃ فائز ہوں خواہ خلافت کا استحقاق رکھنے کے باوجود منصب خلافت پر فائز نہ ہوسکیں ان شیعوں کے مطابق سب سے پہلے خلیفہ حضرت علی ہیں، پھر حضرت حسن، پھر حضرت حسین، پھر حضرت زین العابدین، پھر حضرت محمد باقر، پھر حضرت جعفر صادق، پھر حضرت موسیٰ کا ظم، پھر حضرت علی رضا، پھر حضرت محمد تقی، پھر حضرت حسین عسکری، پھر حضرت محمد مہدی۔
5924
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : غفار غفر الله لها وأسلم سالمها الله وعصية عصت الله ورسوله . متفق عليه
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (قبیلہ) غفار کی اللہ تعالیٰ مغفرت فرمائے (قبیلہ) اسلم کو اللہ تعالیٰ سلامت رکھے اور (قبیلہ) عصیہ (تو وہ قبیلہ) جو اللہ اور اللہ کے رسول کی معصیت میں مبتلا ہوا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
غفار عرب کا ایک مشہور قبیلہ ہے، ممتاز صحابی حضرت ابورذر غفاری (رض) اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ قبیلہ حاجیوں کا مال چرایا کرتا تھا اور اپنی اس برائی کے سبب عام قبائل میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اسی پر آنحضرت ﷺ نے اس قبیلہ کے حق میں دعا فرمائی کہ اس قبیلہ کے دامن پر جو پہلا داغ لگا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مٹائے اور قبیلہ والوں کو مغفرت و بخشش سے نوازے کیونکہ اب اسی قبیلہ کے لوگ خوشی خوشی اسلام میں داخل ہوگئے ہیں اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ارشاد گرامی دعائیہ جملہ کے بجائے جملہ خبریہ ہے یعنی آپ ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعہ خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کی جاہلی زندگی کے واقعات کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور اب اہل قبیلہ کو ان کے ایمان واسلام کی بدولت مغفرت و بخشش سے نوازدیا ہے۔ اسلم بھی ایک قبیلہ کا نام ہے اس قبیلہ کے لوگوں نے چونکہ لڑائی کے بغیر اسلام قبول کرلیا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس قبیلہ کے لوگوں کو سلامت رکھے اس قبیلہ کے بارے میں مذکورہ جملہ بھی جملہ خبریہ کا احتمال رکھتا ہے یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس جملہ کے ذریعہ یہ خبر دی ہو کہ یہ وہ قبیلہ ہے جس نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو پسند نہیں کیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کے لوگوں کو قتل و تباہی سے سلامت و محفوظ رکھا۔ عصیہ اس بدنصیب قبیلہ کا نام ہے جس نے مسلمان قاریوں کو بیر معونہ پر مکروفریب کے ذریعہ بڑی بےدردی کے ساتھ شہید کردیا تھا آنحضرت ﷺ کو اس پر بڑا رنج ہوا تھا اور آپ ﷺ قنوت میں اس قبیلہ کے لوگوں پر لعنت اور بددعا فرمایا کرتے تھے۔ اس قبیلہ کے حق میں مذکورہ حدیث کے الفاظ صرف جملہ خبریہ کے طور پر ہیں، ان میں جملہ دعائیہ کا کوئی احتمال نہیں ہے تاہم ان الفاظ میں اس قبیلہ کا ذکر جس طرح شکوہ کو ظاہر کرتا ہے وہ بجائے خود بددعا کو مستلزم ہے لیکن اس مفہوم میں نہیں کہ اہل قبیلہ گناہ و معصیت میں زیادہ سے زیادہ مبتلا ہوں بلکہ اس مفہوم میں کہ قبیلے والوں نے جس عظیم معصیت اور سرکشی کا ارتکاب کیا اس پر ان کو دنیا وآخرت میں ذلت و خواری نصیب ہو۔
تشریح
غفار عرب کا ایک مشہور قبیلہ ہے، ممتاز صحابی حضرت ابورذر غفاری (رض) اسی قبیلہ سے تعلق رکھتے تھے، کہا جاتا ہے کہ زمانہ جاہلیت میں یہ قبیلہ حاجیوں کا مال چرایا کرتا تھا اور اپنی اس برائی کے سبب عام قبائل میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا تھا۔ اسی پر آنحضرت ﷺ نے اس قبیلہ کے حق میں دعا فرمائی کہ اس قبیلہ کے دامن پر جو پہلا داغ لگا ہوا ہے اللہ تعالیٰ اس کو مٹائے اور قبیلہ والوں کو مغفرت و بخشش سے نوازے کیونکہ اب اسی قبیلہ کے لوگ خوشی خوشی اسلام میں داخل ہوگئے ہیں اور یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ ارشاد گرامی دعائیہ جملہ کے بجائے جملہ خبریہ ہے یعنی آپ ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعہ خبردی کہ اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کی جاہلی زندگی کے واقعات کو کالعدم قرار دے دیا ہے اور اب اہل قبیلہ کو ان کے ایمان واسلام کی بدولت مغفرت و بخشش سے نوازدیا ہے۔ اسلم بھی ایک قبیلہ کا نام ہے اس قبیلہ کے لوگوں نے چونکہ لڑائی کے بغیر اسلام قبول کرلیا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی کہ اللہ تعالیٰ اس قبیلہ کے لوگوں کو سلامت رکھے اس قبیلہ کے بارے میں مذکورہ جملہ بھی جملہ خبریہ کا احتمال رکھتا ہے یعنی یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اس جملہ کے ذریعہ یہ خبر دی ہو کہ یہ وہ قبیلہ ہے جس نے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کو پسند نہیں کیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس قبیلہ کے لوگوں کو قتل و تباہی سے سلامت و محفوظ رکھا۔ عصیہ اس بدنصیب قبیلہ کا نام ہے جس نے مسلمان قاریوں کو بیر معونہ پر مکروفریب کے ذریعہ بڑی بےدردی کے ساتھ شہید کردیا تھا آنحضرت ﷺ کو اس پر بڑا رنج ہوا تھا اور آپ ﷺ قنوت میں اس قبیلہ کے لوگوں پر لعنت اور بددعا فرمایا کرتے تھے۔ اس قبیلہ کے حق میں مذکورہ حدیث کے الفاظ صرف جملہ خبریہ کے طور پر ہیں، ان میں جملہ دعائیہ کا کوئی احتمال نہیں ہے تاہم ان الفاظ میں اس قبیلہ کا ذکر جس طرح شکوہ کو ظاہر کرتا ہے وہ بجائے خود بددعا کو مستلزم ہے لیکن اس مفہوم میں نہیں کہ اہل قبیلہ گناہ و معصیت میں زیادہ سے زیادہ مبتلا ہوں بلکہ اس مفہوم میں کہ قبیلے والوں نے جس عظیم معصیت اور سرکشی کا ارتکاب کیا اس پر ان کو دنیا وآخرت میں ذلت و خواری نصیب ہو۔
5925
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : قريش والأنصار وجهينة ومزينة وأسلم وغفار وأشجع موالي ليس لهم مولى دون الله ورسوله . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قریش (کے مسلمان یعنی اہل مکہ وغیرہ) انصار (یعنی اہل مدینہ) قبیلہ جہینہ (کے مسلمان) قبیلہ غفار (کے مسلمان) اور قبیلہ اشجع (کے مسلمان) میرے دوست اور مددگار ہیں ان کا مددگار اور دوست اللہ اور اللہ کے رسول کے سوا کوئی نہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
لفظ موالی متکلم کی طرف مضاف ہے اور مولیٰ کی جمع ہے اور ایک روایت میں یہي لفظ (یہ متکل کے بغیر) موالٍ منقول ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ (ان قبائل کے مسلمان) آپس میں ایک دوسرے کے معین اور مددگار اور دوست ہیں۔
تشریح
لفظ موالی متکلم کی طرف مضاف ہے اور مولیٰ کی جمع ہے اور ایک روایت میں یہي لفظ (یہ متکل کے بغیر) موالٍ منقول ہے اس صورت میں ترجمہ یہ ہوگا کہ (ان قبائل کے مسلمان) آپس میں ایک دوسرے کے معین اور مددگار اور دوست ہیں۔
5926
Mishkaat Shareefوعن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أسلم وغفار ومزينة وجهينة خير من بني تميم وبني عامر والحليفين بني أسد وغطفان . متفق عليه
اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اسلم غفار مزینہ اور جہنینہ یہ سب قبیلے بنوتمیم سے اور دونوں حلیف قبیلوں یعنی بنواسد اور غطفان سے بہتر ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
دونوں حلیف قبیلے بنواسد اور غطفان بھی دو قبیلوں کے نام ہیں یہ دونوں قبیلے آپس میں ایک دوسرے کے حلیف تھے اور جیسا کہ اس زمانہ میں عرب کا عام دستور تھا ان دونوں نے ایک دوسرے کے سامنے قسم کھا کر عہد و پیمان کر رکھا تھا کہ باہم ایک دوسرے کے مددگار ومعین رہیں گے۔ حدیث میں مذکورہ قبیلوں کو اس لئے بہتر فرمایا کہ ان قبائل کے لوگوں نے قبول اسلام میں سبقت کا شرف حاصل کی اور اپنے اچھے احوال و معاملات کا قابل تحسین مظاہرہ کیا۔
تشریح
دونوں حلیف قبیلے بنواسد اور غطفان بھی دو قبیلوں کے نام ہیں یہ دونوں قبیلے آپس میں ایک دوسرے کے حلیف تھے اور جیسا کہ اس زمانہ میں عرب کا عام دستور تھا ان دونوں نے ایک دوسرے کے سامنے قسم کھا کر عہد و پیمان کر رکھا تھا کہ باہم ایک دوسرے کے مددگار ومعین رہیں گے۔ حدیث میں مذکورہ قبیلوں کو اس لئے بہتر فرمایا کہ ان قبائل کے لوگوں نے قبول اسلام میں سبقت کا شرف حاصل کی اور اپنے اچھے احوال و معاملات کا قابل تحسین مظاہرہ کیا۔
5927
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : ما زلت أحب بني تميم منذ ثلاث سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول فيهم سمعته يقول : هم أشد أمتي على الدجال قال : وجاءت صدقاتهم فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذه صدقات قومنا وكانت سبية منهم عند عائشة فقال : اعتقيها فإنها من ولد إسماعيل . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں بنوتمیم کو اس وقت سے ہمیشہ عزیز اور دوست رکھتا ہوں جب سے میں نے ان کی تین خاص خوبیوں کا ذکر رسول کریم ﷺ سے سنا ہے (چنانچہ ان کی پہلی خوبی کے بارے میں) آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں سے بنوتمیم ہی وہ لوگ ہوں گے جو دجال کے مقابلے پر سخت سے زیادہ سخت اور بھاری ثابت ہوں گے حضرت ابوہریرہ (رض) نے (ان کی دوسری خوبی کے بارے میں یہ) بیان کیا کہ (ایک مرتبہ سی تمیم کی طرف سے) صدقات (یعنی زکوٰۃ کے اموال ومویشی وغیرہ) آئے تو رسول کریم ﷺ نے فرمایا یہ ہماری قوم کی طرف سے آئے ہوئے صدقات ہیں اور (ان کی تیسری خوبی اس طرح ظاہر ہوئی کہ) بنی تمیم سے تعلق رکھنے والی ایک لونڈی حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے پاس تھی، اس بارے میں آنحضرت ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے فرمایا کہ اس لونڈی کو آزاد کردو کیونکہ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
سب سے زیادہ سخت اور بھاری ثابت ہوں گے یعنی جب دجال لعین کا ظہور ہوگا تو بنی تمیم ہی کے لوگ سب سے زیادہ اس کا مقابلہ کریں گے اس کے توڑ میں سب سے زیادہ سعی و کوشش کریں گے اور اس کی تردید وتغلیط میں سب سے آگے رہیں گے اس طرح ان الفاظ میں بنوتمیم کی خصوصیت و فضیلت کا تو ذکر ہم ہی لیکن اس کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی ہے کہ بنوتمیم کی نسل کے لوگ اسی کثرت کے ساتھ ظہوردجال کے زمانہ میں بھی ہونگے۔ یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں ان الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ نے بنوتمیم کو اس طرح شرف و فضیلت سے نوازا کہ ان کو اپنی طرف منسوب کر کے ان کی قوم کو اپنی قوم فرمایا۔ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے کا مطلب یہ تھا کہ یہ لونڈی بنو تمیم میں سے ہونے کی بناء پر عربی النسل ہے اور عرب چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس لئے یہ لونڈی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوئی اگرچہ یہ نسلی وصف تمام عرب کا مشترک وصف ہے، صرف بنوتمیم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے لیکن آپ ﷺ نے بنو تمیم کو ایک طرح سے فضل وشرف عطا فرمانے کے لئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔
تشریح
سب سے زیادہ سخت اور بھاری ثابت ہوں گے یعنی جب دجال لعین کا ظہور ہوگا تو بنی تمیم ہی کے لوگ سب سے زیادہ اس کا مقابلہ کریں گے اس کے توڑ میں سب سے زیادہ سعی و کوشش کریں گے اور اس کی تردید وتغلیط میں سب سے آگے رہیں گے اس طرح ان الفاظ میں بنوتمیم کی خصوصیت و فضیلت کا تو ذکر ہم ہی لیکن اس کے ساتھ یہ پیشین گوئی بھی ہے کہ بنوتمیم کی نسل کے لوگ اسی کثرت کے ساتھ ظہوردجال کے زمانہ میں بھی ہونگے۔ یہ ہماری قوم کے صدقات ہیں ان الفاظ کے ذریعہ آپ ﷺ نے بنوتمیم کو اس طرح شرف و فضیلت سے نوازا کہ ان کو اپنی طرف منسوب کر کے ان کی قوم کو اپنی قوم فرمایا۔ یہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہے کا مطلب یہ تھا کہ یہ لونڈی بنو تمیم میں سے ہونے کی بناء پر عربی النسل ہے اور عرب چونکہ حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد ہیں اس لئے یہ لونڈی حضرت اسماعیل (علیہ السلام) کی اولاد میں سے ہوئی اگرچہ یہ نسلی وصف تمام عرب کا مشترک وصف ہے، صرف بنوتمیم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے لیکن آپ ﷺ نے بنو تمیم کو ایک طرح سے فضل وشرف عطا فرمانے کے لئے یہ الفاظ ارشاد فرمائے۔