Mishkaat Shareef
83. غصب اور عاریت کا بیان
مشكاة المصابيح
2970
Mishkaat Shareefغصب کے معنی چھیننے کے ہیں اور اصطلاح شریعت میں غصب کہتے ہیں چوری کے بغیر ازراہ ظلم وجور کسی کا مال زبردستی چھین لینا ایسے شخص کو کہ جو کسی کی کوئی چیز زبردستی چھین لے یا ہڑپ کرلے غاصب کہتے ہیں اور مغصوب اس چھینی ہوئی یا ہڑپ کی ہوئی چیز کو کہتے ہیں خواہ وہ کچھ ہو۔ عاریت کے معنی ہیں ما نگی ہوئی چیز اصطلاحی طور پر بغیر کسی عوض کے کسی دوسرے شخص کو اپنی کسی چیز کے نفع و فائدہ کا مالک بنادینا عاریت کہلاتا ہے۔
2971
Mishkaat Shareefعن سعيد بن زيد قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أخذ شبرا من الأرض ظلما فإنه يطوقه يوم القيامة من سبع أرضين
حضرت سعید ابن زید کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص کسی کی بالشت بھر زمین بھی ازراہ ظلم لے گا قیامت کے دن ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین اس کے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی ( بخاری ومسلم)
تشریح
کسی کی کوئی بھی چیز خواہ وہ زیادہ ہو یا کتنی کم ہو اور راہ زور زبردستی چھین لینا یا ہڑپ کرلینا نہ صرف سماجی طور پر ایک ظلم اور اخلاقی طور پر ایک بھیانک برائی ہے بلکہ شرعی طور پر بھی انتہائی سخت جرم اور گناہ ہے۔ اسلام نے انسانی حقوق کے تحفظ کا جو اعلی تصور پیش کیا ہے اور اسلامی شریعت نے حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو جن سخت سزاؤں اور عقوبتوں کا مستوجب گردانا ہے۔ یہ حدیث گرامی اس کا ایک نمونہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کی زمین کا ایک بالشت بھر حصہ بھی زبردستی ہتھیائے گا اسے اس کے ظلم وجور کی یہ سزا دی جائے گی کہ قیامت کے دن زمین کا صرف وہی حصہ نہیں جو وہ غصب کرے گا بلکہ ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین لے کر اس کے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی العیاذ باللہ۔ شرح السنۃ میں طوق ڈالنے کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص کسی کی زمین کا بالشت بھر حصہ بھی غصب کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے زمین میں دھنسائے گا چناچہ زمین کا وہ قطعہ جو اس نے غصب کیا ہوگا اس کے گلے کو طوق کی مانند جکڑ لے گا۔
تشریح
کسی کی کوئی بھی چیز خواہ وہ زیادہ ہو یا کتنی کم ہو اور راہ زور زبردستی چھین لینا یا ہڑپ کرلینا نہ صرف سماجی طور پر ایک ظلم اور اخلاقی طور پر ایک بھیانک برائی ہے بلکہ شرعی طور پر بھی انتہائی سخت جرم اور گناہ ہے۔ اسلام نے انسانی حقوق کے تحفظ کا جو اعلی تصور پیش کیا ہے اور اسلامی شریعت نے حقوق العباد پر ڈاکہ ڈالنے والوں کو جن سخت سزاؤں اور عقوبتوں کا مستوجب گردانا ہے۔ یہ حدیث گرامی اس کا ایک نمونہ ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جو شخص کسی دوسرے کی زمین کا ایک بالشت بھر حصہ بھی زبردستی ہتھیائے گا اسے اس کے ظلم وجور کی یہ سزا دی جائے گی کہ قیامت کے دن زمین کا صرف وہی حصہ نہیں جو وہ غصب کرے گا بلکہ ساتوں زمینوں میں سے اتنی ہی زمین لے کر اس کے گلے میں بطور طوق ڈالی جائے گی العیاذ باللہ۔ شرح السنۃ میں طوق ڈالنے کا مفہوم یہ بیان کیا گیا ہے کہ جو شخص کسی کی زمین کا بالشت بھر حصہ بھی غصب کرے گا قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اسے زمین میں دھنسائے گا چناچہ زمین کا وہ قطعہ جو اس نے غصب کیا ہوگا اس کے گلے کو طوق کی مانند جکڑ لے گا۔
2972
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يحلبن أحد ماشية امرئ بغير أذنه أيحب أحدكم أن يؤتى مشربته فتكسر خزانته فينتقل طعامه وإنما يخزن لهم ضروع مواشيهم أطعماتهم . رواه مسلم
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کے جانور کا دودھ اس کی اجازت یعنی اس کے حکم ورضا کے بغیر نہ دوہے کیا تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرسکتا ہے کہ کوئی شخص اس کے خزانہ یعنی اس کے غلہ کو گودام میں آئے اور اس کا خزانہ گودام کھول دے یہاں تک کہ اس کا غلہ اٹھا لیا جائے اسی طرح جان لو کہ دوسروں کے جانوروں کے تھن ان کی غذائی ضرورت یعنی دودھ کی حفاظت کرتے ہیں۔ (مسلم)
تشریح
جانوروں کے تھن کو غلہ وغیرہ کے گودام سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح تم اپنے غلوں کو گوداموں میں بھر کر محفوظ رکھتے ہو اسی طرح دوسرے لوگوں کے جانور اپنے تھنوں میں اپنے مالک کی غذائی ضرورت یعنی دودھ کو محفوظ رکھتے ہیں لہذا جس طرح تم اس بات کو کبھی بھی پسند و گوارا نہیں کرسکتے کہ کوئی دوسرا شخص تمہارے گوداموں اور تمہارے خزانوں کو غیر محفوظ بن کر وہاں سے غلہ یا دوسری محفوظ اشیاء نکال لے اسی طرح تمہارا یہ فعل بھی جانوروں کے مالکوں کو کیسے گوارہ ہوسکتا ہے کہ تم ان جانوروں کے تھنوں سے دودھ نکال لو۔ حاصل یہ کہ تم دوسروں کے مال پر بری نگاہ نہ ڈالو اور دوسروں کے حقوق کو غصب نہ کرو تاکہ کوئی دوسرا تمہارے مال کو غصب نہ کرے۔ اور جس طرح تم اپنا مال غصب کیا جانا گوارہ نہیں کرسکتے اسی طرح کسی دورے کا مال خود غصب کرنا بھی گوارہ نہ کرو۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اکثر علماء نے اس ارشاد گرامی پر عمل کرتے ہوئے یہ فتوی دیا ہے کہ کسی کے جانور کا دودھ مالک کی اجازت کے بغیر دوہنا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص بھوک سے بےحال ہو رہا ہو تو اس کے لئے اتنی اجازت ہے کہ وہ بقدر ضرورت کسی کے جانور کا دودھ پی لے مگر پھر اس کی قیمت ادا کرے۔ اگر اس کے پاس موجود ہو تو اسی وقت یہ قیمت دیدے ورنہ بعد میں جب بھی قادر ہو قیمت کی ادائیگی کر دے۔ ایک واقعہ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ اپنی کسی زوجہ مطہرہ (یعنی حضرت عائشہ) کے ہاں قیام فرماتے کہ ازواج مطہرات میں سے کسی نے (یعنی حضرت زینب یا حضرت صفیہ اور یا حضرت ام سلمہ نے) ایک رکابی بھیجی جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی اسے دیکھتے ہی ان زوجہ مطہرہ نے کہ جن کے ہاں آپ ﷺ قیام فرما تھے ( یعنی حضرت عائشہ نے) خادم کے ہاتھ پر اس طرح مارا کہ وہ رکابی گر پڑی اور ٹوٹ گئی۔ نبی کریم ﷺ نے رکابی کے وہ ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اکٹھا کئے اور پھر ان ٹکڑوں میں کھانے کی وہ چیز جمع کی جو رکابی میں تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آگئی تھی بہرکیف آپ ﷺ نے کچھ دیر خادم کو روکے رکھا یہاں تک کہ جن زوجہ مطہرہ کے گھر آپ ﷺ قیام فرما تھے ( یعنی حضرت عائشہ ان کے ہاں سے دوسری رکابی مہیا کی گئی اور پھر آپ ﷺ نے اسی خادم کے ذریعہ ان زوجہ مطھرہ کے ہاں کہ جن کے ہاں رکابی ٹوٹ گئی تھی وہ صحیح وسالم رکابی بھیج دی اور وہ ٹوٹی ہوی رکابی ان زوجہ مطہرہ کے گھر رکھ لی جنہوں نے اس رکابی کو توڑا تھا ( بخاری) تشریح خادم غلام کو بھی کہتے ہیں اور لونڈی کو بھی چناچہ یہاں خادم سے مراد لونڈی ہی ہے کیونکہ حضرت عائشہ کے ہاں لونڈی ہی وہ رکابی اور اس میں کھانے کی کوئی چیز لے کر آئی تھی۔ جب وہ رکابی گر کر ٹوٹ گئی اور اس میں سے کھانے کی وہ چیز بھی زمین پر گرگئی جو اس رکابی میں تھی تو آنحضرت ﷺ نے نہ صرف رکابی کے ٹکڑوں کو اکٹھا کیا بلکہ کھانے کی اس چیز کو بھی نہایت احتیاط کے ساتھ جمع کیا اس فعل سے آپ ﷺ کے کمال تحمل انتہائی توضع اور ازواج مطہرات کے ساتھ آپ ﷺ کی خوش مزاجی اور عفو درگزر کے عالی جذبات ہی کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ تمہاری ماں کو غیرت آگئی تھی یہ دراصل اس واقعہ کو سننے پڑھنے والوں سے آپ ﷺ کا خطاب عام ہے اس ارشاد کے ذریعہ گویا آپ ﷺ نے حضرت عائشہ کی طرف سے عذر بیان کیا کہ حضرت عائشہ (رض) جو یہ اضطراری فعل صادر ہوا وہ درحقیقت اس غیرت کی بناء پر تھا جو ہر عورت کی جبلت وسرشت میں داخل ہے کہ کوئی بھی عورت خواہ وہ کتنے ہی اونچے مقام پر کیوں فائز ہو اپنی سوکن کے تئیں مخصوص رقیبانہ اور رشک آمیز جذبات و احساسات سے عاری نہیں ہوسکتی اور نہ کسی بھی عورت کے بس کی یہ بات ہے کہ وہ اپنی طبیعت اور اپنے نفس کو اس طبعی اور جبلی جذبہ سے محفوظ رکھ لے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تاکہ لوگ حضرت عائشہ کے اس فعل کو برائی پر محمول نہ کریں بلکہ یہ جان لیں کہ ان سے یہ فعل بتقاضائے بشریت سرزد ہوگیا تھا جس میں ان کے مقصد و ارادے یا کسی برائی کا قطعًا کوئی دخل نہیں تھا۔ قاضی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو اس باب میں نقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ رکابی توڑ دینا ایک طرح کا غصب تھا کیونکہ اس سے ایک دوسرئے کا مال تلف ہوا اگرچہ اس کا سبب خواہ کچھ ہی رہا ہو۔ یا پھر یہ کہ کھانے کی جو چیز بھیجی گئی تھی وہ تو تحفہ کے طور پر تھی لیکن جس رکابی میں وہ چیز بھیجی گئی تھی وہ بطریق عاریت کے تھی اس لئے اس مناسبت سے یہ حدیث اس باب میں ذکر کی گئی ہے۔
تشریح
جانوروں کے تھن کو غلہ وغیرہ کے گودام سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح تم اپنے غلوں کو گوداموں میں بھر کر محفوظ رکھتے ہو اسی طرح دوسرے لوگوں کے جانور اپنے تھنوں میں اپنے مالک کی غذائی ضرورت یعنی دودھ کو محفوظ رکھتے ہیں لہذا جس طرح تم اس بات کو کبھی بھی پسند و گوارا نہیں کرسکتے کہ کوئی دوسرا شخص تمہارے گوداموں اور تمہارے خزانوں کو غیر محفوظ بن کر وہاں سے غلہ یا دوسری محفوظ اشیاء نکال لے اسی طرح تمہارا یہ فعل بھی جانوروں کے مالکوں کو کیسے گوارہ ہوسکتا ہے کہ تم ان جانوروں کے تھنوں سے دودھ نکال لو۔ حاصل یہ کہ تم دوسروں کے مال پر بری نگاہ نہ ڈالو اور دوسروں کے حقوق کو غصب نہ کرو تاکہ کوئی دوسرا تمہارے مال کو غصب نہ کرے۔ اور جس طرح تم اپنا مال غصب کیا جانا گوارہ نہیں کرسکتے اسی طرح کسی دورے کا مال خود غصب کرنا بھی گوارہ نہ کرو۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اکثر علماء نے اس ارشاد گرامی پر عمل کرتے ہوئے یہ فتوی دیا ہے کہ کسی کے جانور کا دودھ مالک کی اجازت کے بغیر دوہنا جائز نہیں ہے۔ ہاں اگر کوئی شخص بھوک سے بےحال ہو رہا ہو تو اس کے لئے اتنی اجازت ہے کہ وہ بقدر ضرورت کسی کے جانور کا دودھ پی لے مگر پھر اس کی قیمت ادا کرے۔ اگر اس کے پاس موجود ہو تو اسی وقت یہ قیمت دیدے ورنہ بعد میں جب بھی قادر ہو قیمت کی ادائیگی کر دے۔ ایک واقعہ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ اپنی کسی زوجہ مطہرہ (یعنی حضرت عائشہ) کے ہاں قیام فرماتے کہ ازواج مطہرات میں سے کسی نے (یعنی حضرت زینب یا حضرت صفیہ اور یا حضرت ام سلمہ نے) ایک رکابی بھیجی جس میں کھانے کی کوئی چیز تھی اسے دیکھتے ہی ان زوجہ مطہرہ نے کہ جن کے ہاں آپ ﷺ قیام فرما تھے ( یعنی حضرت عائشہ نے) خادم کے ہاتھ پر اس طرح مارا کہ وہ رکابی گر پڑی اور ٹوٹ گئی۔ نبی کریم ﷺ نے رکابی کے وہ ٹوٹے ہوئے ٹکڑے اکٹھا کئے اور پھر ان ٹکڑوں میں کھانے کی وہ چیز جمع کی جو رکابی میں تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ تمہاری ماں کو غیرت آگئی تھی بہرکیف آپ ﷺ نے کچھ دیر خادم کو روکے رکھا یہاں تک کہ جن زوجہ مطہرہ کے گھر آپ ﷺ قیام فرما تھے ( یعنی حضرت عائشہ ان کے ہاں سے دوسری رکابی مہیا کی گئی اور پھر آپ ﷺ نے اسی خادم کے ذریعہ ان زوجہ مطھرہ کے ہاں کہ جن کے ہاں رکابی ٹوٹ گئی تھی وہ صحیح وسالم رکابی بھیج دی اور وہ ٹوٹی ہوی رکابی ان زوجہ مطہرہ کے گھر رکھ لی جنہوں نے اس رکابی کو توڑا تھا ( بخاری) تشریح خادم غلام کو بھی کہتے ہیں اور لونڈی کو بھی چناچہ یہاں خادم سے مراد لونڈی ہی ہے کیونکہ حضرت عائشہ کے ہاں لونڈی ہی وہ رکابی اور اس میں کھانے کی کوئی چیز لے کر آئی تھی۔ جب وہ رکابی گر کر ٹوٹ گئی اور اس میں سے کھانے کی وہ چیز بھی زمین پر گرگئی جو اس رکابی میں تھی تو آنحضرت ﷺ نے نہ صرف رکابی کے ٹکڑوں کو اکٹھا کیا بلکہ کھانے کی اس چیز کو بھی نہایت احتیاط کے ساتھ جمع کیا اس فعل سے آپ ﷺ کے کمال تحمل انتہائی توضع اور ازواج مطہرات کے ساتھ آپ ﷺ کی خوش مزاجی اور عفو درگزر کے عالی جذبات ہی کا اظہار نہیں ہوتا بلکہ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ آپ ﷺ اللہ تعالیٰ کی نعمت کی بہت زیادہ تعظیم کرتے تھے۔ تمہاری ماں کو غیرت آگئی تھی یہ دراصل اس واقعہ کو سننے پڑھنے والوں سے آپ ﷺ کا خطاب عام ہے اس ارشاد کے ذریعہ گویا آپ ﷺ نے حضرت عائشہ کی طرف سے عذر بیان کیا کہ حضرت عائشہ (رض) جو یہ اضطراری فعل صادر ہوا وہ درحقیقت اس غیرت کی بناء پر تھا جو ہر عورت کی جبلت وسرشت میں داخل ہے کہ کوئی بھی عورت خواہ وہ کتنے ہی اونچے مقام پر کیوں فائز ہو اپنی سوکن کے تئیں مخصوص رقیبانہ اور رشک آمیز جذبات و احساسات سے عاری نہیں ہوسکتی اور نہ کسی بھی عورت کے بس کی یہ بات ہے کہ وہ اپنی طبیعت اور اپنے نفس کو اس طبعی اور جبلی جذبہ سے محفوظ رکھ لے۔ اسی لئے آنحضرت ﷺ نے یہ الفاظ ارشاد فرمائے تاکہ لوگ حضرت عائشہ کے اس فعل کو برائی پر محمول نہ کریں بلکہ یہ جان لیں کہ ان سے یہ فعل بتقاضائے بشریت سرزد ہوگیا تھا جس میں ان کے مقصد و ارادے یا کسی برائی کا قطعًا کوئی دخل نہیں تھا۔ قاضی نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو اس باب میں نقل کرنے کی وجہ یہ ہے کہ رکابی توڑ دینا ایک طرح کا غصب تھا کیونکہ اس سے ایک دوسرئے کا مال تلف ہوا اگرچہ اس کا سبب خواہ کچھ ہی رہا ہو۔ یا پھر یہ کہ کھانے کی جو چیز بھیجی گئی تھی وہ تو تحفہ کے طور پر تھی لیکن جس رکابی میں وہ چیز بھیجی گئی تھی وہ بطریق عاریت کے تھی اس لئے اس مناسبت سے یہ حدیث اس باب میں ذکر کی گئی ہے۔
2973
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن يزيد عن النبي صلى الله عليه و سلم : أنه نهى عن النهبة والمثلة . رواه البخاري
اور حضرت عبداللہ بن یزید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے لوٹنے اور مثلہ کرنے سے منع فرمایا ہے ( بخاری)
تشریح
کسی مسلمان کا مال لوٹنا حرام ہے لیکن اس کا یہ مطلب قطعًا نہیں ہے کہ غیر مسلم کا مال لوٹنا حرام نہیں ہے بلکہ مقصد تو صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو کسی بھی حال میں اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مسلمان بھائیوں کے مال کو ناحق طور پر اور زور زبردستی سے لوٹ مار لیں کیونکہ اس کا تعلق صرف حقوق العباد کی پامالی ہی سے نہیں ہے بلکہ معاشرہ اور سوسائٹی کے امن و سکون کی مکمل تباہی سے بھی ہے لہذا امن و سلامتی کے سرچشمہ اسلام کا تابعدار ہونے کے ناطے ایک مسلمان پر یہ ذمہ داری سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے معاشرہ اپنی قوم اور اپنے ملک کے نظام امن وامان کو درہم برہم ہونے اور لاقانونیت پھیلنے سے بچائے جس کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ دوسرے کے مال دوسرے کی جائیداد اور دوسرے کے حقوق کی پامالی اور لوٹ مار کو اسی طرح ناقابل برداشت سمجھا جائے جس طرح اپنے مال اپنی جائیداد اور اپنے حقوق پر کسی کی دست درازی قطعًا برداشت نہیں ہوسکتی۔ مثلہ جسم کے کسی عضو مثلا ناک اور کان وغیرہ کاٹ ڈالنے کو کہتے ہیں اسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس طرح اللہ کی تخلیق میں بگاڑ اور بد نمائی پیدا کرنا لازم آتا ہے۔
تشریح
کسی مسلمان کا مال لوٹنا حرام ہے لیکن اس کا یہ مطلب قطعًا نہیں ہے کہ غیر مسلم کا مال لوٹنا حرام نہیں ہے بلکہ مقصد تو صرف یہ ظاہر کرنا ہے کہ اسلام اپنے ماننے والوں کو کسی بھی حال میں اس کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ مسلمان بھائیوں کے مال کو ناحق طور پر اور زور زبردستی سے لوٹ مار لیں کیونکہ اس کا تعلق صرف حقوق العباد کی پامالی ہی سے نہیں ہے بلکہ معاشرہ اور سوسائٹی کے امن و سکون کی مکمل تباہی سے بھی ہے لہذا امن و سلامتی کے سرچشمہ اسلام کا تابعدار ہونے کے ناطے ایک مسلمان پر یہ ذمہ داری سب سے زیادہ عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے معاشرہ اپنی قوم اور اپنے ملک کے نظام امن وامان کو درہم برہم ہونے اور لاقانونیت پھیلنے سے بچائے جس کا بنیادی پہلو یہ ہے کہ دوسرے کے مال دوسرے کی جائیداد اور دوسرے کے حقوق کی پامالی اور لوٹ مار کو اسی طرح ناقابل برداشت سمجھا جائے جس طرح اپنے مال اپنی جائیداد اور اپنے حقوق پر کسی کی دست درازی قطعًا برداشت نہیں ہوسکتی۔ مثلہ جسم کے کسی عضو مثلا ناک اور کان وغیرہ کاٹ ڈالنے کو کہتے ہیں اسے شریعت نے حرام قرار دیا ہے کیونکہ اس طرح اللہ کی تخلیق میں بگاڑ اور بد نمائی پیدا کرنا لازم آتا ہے۔
2974
Mishkaat Shareefوعن جابر قال : انكسفت الشمس في عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم يوم مات إبراهيم بن رسول الله صلى الله عليه و سلم فصلى بالناس ست ركعات بأربع سجدات فانصرف وقد آضت الشمس وقال : ما من شيء توعدونه إلا قد رأيته في صلاتي هذه لقد جيء بالنار وذلك حين رأيتموني تأخرت مخافة أن يصيبني من لفحها وحتى رأيت فيها صاحب المحجن يجر قصبه في النار وكان يسرق الحاج بمحجته فإن فطن له قال : إنما تعلق بمحجتي وإن غفل عنه ذهب به وحتى رأيت فيها صاحبة الهرة التي ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت جوعا ثم جيء بالجنة وذلك حين رأيتموني تقدمت حتى قمت في مقامي ولقد مددت يدي وأنا أريد أن أتناول من ثمرتها لتنظروا إليه ثم بدا لي أن لا أفعل . رواه مسلم
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانے میں آپ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کی وفات کے دن سورج گرہن ہوا چناچہ آپ ﷺ نے لوگوں کو سورج گرہن کی نماز چھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھائی (یعنی دو رکعتیں پڑھیں اور ہر رکعت میں تین تین رکوع اور دو دو سجدے کئے) اور جب آپ ﷺ نماز سے فارغ ہوئے تو سورج پہلے کی طرح روشن ہوچکا تھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ جس چیز کا یعنی جنت اور دوزخ کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے وہ میں آج اپنی اس نماز میں دیکھ لی ہے چناچہ دوزخ کو میرے سامنے پیش کیا گیا اور یہی وہ وقت تھا جب نماز کے دوران تم نے مجھے پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا تھا اور میں اس خوف سے پیچھے ہٹ گیا تھا کہ کہیں اس کی گرمی مجھ تک نہ پہنچ جائے میں نے اس وقت دوزخ میں خمدار لکڑی والے یعنی عمرو ابن لحی کو اس حال میں دیکھا کہ وہ اس میں اپنی انتڑیوں کو کھینچ رہا تھا یہ شخص اپنی خمدار لکڑی کے ذریعہ حاجیوں کا سامان چرایا کرتا تھا (جس کا طریقہ یہ ہوتا تھا کہ وہ چلتے چلتے کسی کی کوئی چیز اپنی خمدار لکڑی میں الجھا لیتا تھا) اگر کوئی اس کی یہ حرکت دیکھ لیتا تو وہ یہ کہہ دیتا کہ یہ چیز اپنے آپ میری لکڑی میں الجھ آئی ہے اور اگر کوئی نہ دیکھ پاتا تو وہ اس چیز کو غائب کردیتا تھا۔ نیز میں نے اس وقت دوزخ میں اس بلی والی عورت کو بھی دیکھا جس نے ایک بلی باندھ رکھی تھی جسے نہ وہ کچھ کھلاتی تھی اور نہ اسے چھوڑتی تھی کہ وہ حشرات الارض یعنی چوہے وغیرہ کھالے یہاں تک کہ وہ بلی مارے بھوک کے مرگئی۔ پھر میرے سامنے جنت کو پیش کیا گیا اور یہی وہ وقت تھا کہ جب تم نے مجھے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تھا مگر پھر میں اپنی جگہ ٹھہر گیا اور میں نے اپنا ہاتھ آگے بڑھایا تاکہ میں اس کے پھل توڑ لوں جسے تم بھی دیکھ لو لیکن میں نے سوچا کہ مجھے ایسا نہیں کرنا چاہئے تاکہ تمہارے ایمان بالغیب میں رخنہ نہ پڑے) (مسلم)
تشریح
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ جنت اور دوزخ عالم وجود میں آچکی ہیں اور موجود ہیں چناچہ اہل سنت کا یہی مسلک ہے دوم یہ کہ عذاب اور ہلاکت کی جگہ سے ہٹ جانا سنت ہے سوم یہ کہ بعض لوگ اس وقت بھی دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہیں اور چہارم یہ کہ تھوڑا سا عمل نماز کو باطل نہیں کرتا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نماز کے دوران جنت اور دوزخ کو دیکھ کر آگے بڑھے اور پیچھے ہٹے۔
تشریح
اس حدیث سے کئی باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ جنت اور دوزخ عالم وجود میں آچکی ہیں اور موجود ہیں چناچہ اہل سنت کا یہی مسلک ہے دوم یہ کہ عذاب اور ہلاکت کی جگہ سے ہٹ جانا سنت ہے سوم یہ کہ بعض لوگ اس وقت بھی دوزخ کے عذاب میں گرفتار ہیں اور چہارم یہ کہ تھوڑا سا عمل نماز کو باطل نہیں کرتا جیسا کہ آنحضرت ﷺ نماز کے دوران جنت اور دوزخ کو دیکھ کر آگے بڑھے اور پیچھے ہٹے۔
2975
Mishkaat Shareefوعن قتادة قال : سمعت أنسا يقول : كان فزع بالمدينة فاستعار النبي صلى الله عليه و سلم فرسا من أبي طلحة يقال له : المندوب فركب فلما رجع قال : ما رأينا من شيء وإن وجدناه لبحرا
اور حضرت قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے حضرت انس (رض) سے سنا وہ فرماتے تھے کہ ایک دن (ایک دن اس خیال سے کہ کفار کا لشکر مدینہ کے قریب آگیا ہے) مدینہ میں گھبراہٹ اور خوف کی ایک فضا پیدا ہوگئی ہے۔ (یہ دیکھ کر) نبی کریم ﷺ نے حضرت طلحہ کا گھوڑا کہ جسے مندوب یعنی سست کہا جاتا تھا عاریۃً مانگا اور اس پر سوار ہو کر تحقیق حال کے لئے مدینہ سے باہر نکلے پھر جب آپ ﷺ واپس آئے تو فرمایا کہ میں نے خوف و گھبراہٹ کی کوئی چیز نہیں دیکھی ہے نیز میں نے اس گھوڑے کو کشادہ قدم یعنی تیز رفتار پایا ہے ( بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت ابوطلحہ کا گھوڑا پہلے بہت ڈھیلا اور سست رفتار تھا اسی واسطے اس کا نام ہی مندوب یعنی سست رکھ دیا گیا تھا مگر جب آنحضرت ﷺ اس پر سوار ہوئے تو آپ ﷺ کی برکت سے وہ گھوڑا بڑا چاق وچوبند اور تیز رفتار ہوگیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی جانور کو عاریۃً مانگنا اور اسے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے نیز کسی جانور کو کسی نام سے موسوم کردینا بھی جائز ہے اسی طرح سامان جنگ کا نام رکھنا بھی جائز ہے۔ یہ حدیث جہاں آنحضرت ﷺ کی شجاعت وبہادری اور کمال جانبازی کو ظاہر کرتی ہے کہ جب دشمن کی فوج کے مدینہ کے قریب آجانے کے خوف سے پورے مدینہ میں اضطراب و گھبراہٹ کی ایک عام فضا پیدا ہوگئی تھی تو آپ ﷺ بالکل بےخوف ہو کر تحقیق حال کے لے تن تنہا مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے وہیں یہ حدیث اس بات کی بھی غماز ہے کہ دشمنوں کی ٹوہ لینی اور ان کے حالات پر مطلع ہونے کے لئے سعی کرنا ضروری ہے۔ نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی خوف و اضطراب کے موقع پر خوف کے خاتمہ کی خوشخبری لوگوں کو دینا مستحب ہے۔
تشریح
حضرت ابوطلحہ کا گھوڑا پہلے بہت ڈھیلا اور سست رفتار تھا اسی واسطے اس کا نام ہی مندوب یعنی سست رکھ دیا گیا تھا مگر جب آنحضرت ﷺ اس پر سوار ہوئے تو آپ ﷺ کی برکت سے وہ گھوڑا بڑا چاق وچوبند اور تیز رفتار ہوگیا۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ کسی جانور کو عاریۃً مانگنا اور اسے اپنے استعمال میں لانا جائز ہے نیز کسی جانور کو کسی نام سے موسوم کردینا بھی جائز ہے اسی طرح سامان جنگ کا نام رکھنا بھی جائز ہے۔ یہ حدیث جہاں آنحضرت ﷺ کی شجاعت وبہادری اور کمال جانبازی کو ظاہر کرتی ہے کہ جب دشمن کی فوج کے مدینہ کے قریب آجانے کے خوف سے پورے مدینہ میں اضطراب و گھبراہٹ کی ایک عام فضا پیدا ہوگئی تھی تو آپ ﷺ بالکل بےخوف ہو کر تحقیق حال کے لے تن تنہا مدینہ سے نکل کھڑے ہوئے وہیں یہ حدیث اس بات کی بھی غماز ہے کہ دشمنوں کی ٹوہ لینی اور ان کے حالات پر مطلع ہونے کے لئے سعی کرنا ضروری ہے۔ نیز حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ کسی خوف و اضطراب کے موقع پر خوف کے خاتمہ کی خوشخبری لوگوں کو دینا مستحب ہے۔
2976
Mishkaat Shareefعن سعيد بن زيد عن النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال : من أحيى أرضا ميتة فهي له وليس لعرق ظالم حق . رواه أحمد والترمذي وأبو داود
حضرت سعید بن زید نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص مردہ زمین کو زندہ کرے یعنی بنجر وویران زمین کو آباد کرے وہ اسی کی ہے اور ظالم کی رگ کا کوئی استحقاق نہیں ہے اس روایت کو احمد ترمذی ابوداؤد نے بطریق اتصال نقل کیا ہے جب کہ مالک نے اس روایت کو عروہ سے بطریق ارسال کیا ہے نیز امام ترمذی نے کہا ہے کہ یہ حدیث حسن غریب ہے۔
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی زمین ویران وبنجرپڑی ہوئی ہو اور کوئی شخص اپنی محنت ومشقت سے اس زمین کو قابل کاشت بنائے یا اس کو آباد کرے تو وہ زمین اس شخص کی ملکیت ہوجاتی ہے بشرطیکہ وہ پہلے کسی مسلمان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ شہر وگاؤں کی کسی ضرورت و مصلحت سے متعلق ہو جیسے وہ جانوروں کے بیٹھنے کی جگہ ہو کھلیان کے کام آتی ہو یا دھوبی کپڑے دھو کر وہاں پھیلاتے ہوں اور یا اس سے کسی بھی عوامی فائدہ کا تعلق ہو، حضرت امام اعظم کے نزدیک بنجر وویران زمین کو قابل کاشت یا قابل آبادی کر کے اپنی ملکیت بنانے کی ایک شرط امام یعنی حکومت وقت کی اجازت بھی ہے اگر اسے سرکار کی طرف سے اجازت مل جائے تب وہ اس کا مالک ہوسکتا ہے جبکہ حضرت امام شافعی حضرت امام احمد اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے ہاں یہ اجازت شرط نہیں ہے ان سب کی دلیلیں فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ اور ظالم کی رگ کا کوئی استحقاق نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی آباد کی ہوئی زمین میں کاشت کرے یا اس میں کوئی درخت لگا لے تو وہ اس کی وجہ سے اس زمین کا مالک نہیں بن جائے گا۔
تشریح
حدیث کے پہلے جزء کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی زمین ویران وبنجرپڑی ہوئی ہو اور کوئی شخص اپنی محنت ومشقت سے اس زمین کو قابل کاشت بنائے یا اس کو آباد کرے تو وہ زمین اس شخص کی ملکیت ہوجاتی ہے بشرطیکہ وہ پہلے کسی مسلمان کی ملکیت میں نہ ہو اور نہ شہر وگاؤں کی کسی ضرورت و مصلحت سے متعلق ہو جیسے وہ جانوروں کے بیٹھنے کی جگہ ہو کھلیان کے کام آتی ہو یا دھوبی کپڑے دھو کر وہاں پھیلاتے ہوں اور یا اس سے کسی بھی عوامی فائدہ کا تعلق ہو، حضرت امام اعظم کے نزدیک بنجر وویران زمین کو قابل کاشت یا قابل آبادی کر کے اپنی ملکیت بنانے کی ایک شرط امام یعنی حکومت وقت کی اجازت بھی ہے اگر اسے سرکار کی طرف سے اجازت مل جائے تب وہ اس کا مالک ہوسکتا ہے جبکہ حضرت امام شافعی حضرت امام احمد اور حنفیہ میں سے حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد کے ہاں یہ اجازت شرط نہیں ہے ان سب کی دلیلیں فقہ کی کتابوں میں مذکور ہیں۔ اور ظالم کی رگ کا کوئی استحقاق نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی دوسرے کی آباد کی ہوئی زمین میں کاشت کرے یا اس میں کوئی درخت لگا لے تو وہ اس کی وجہ سے اس زمین کا مالک نہیں بن جائے گا۔
2977
Mishkaat Shareefوعن أبي حرة الرقاشي عن عمه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ألا تظلموا ألا لا يحل مال امرئ إلا بطيب نفس منه . رواه البيهقي في شعب الإيمان والدارقطني في المجتبى
اور حضرت ابوحرہ رقاشی تابعی اپنے چچا سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا خبردار کسی پر ظلم نہ کرنا جان لو کسی بھی دوسرے شخص کا مال لینا یا استعمال کرنا اس کی مرضی و خوشی کے بغیر حلال نہیں ہے۔ اس روایت و بیہقی نے شعب الایمان میں اور دارقطنی نے مجتبی میں نقل کیا ہے۔ کسی کا مال لوٹنے والا اسلامی برادری کا فرد بننے کے قابل نہیں اور حضرت عمران بن حصین نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا نہ جلب جائز ہے اور نہ جنب اور نہ شغار اسلام میں جائز ہے اور یاد رکھو جو شخص کسی کو لوٹتا ہے وہ ہم میں سے نہیں ہے یعنی وہ ہماری جماعت میں سے نہیں ہے یا ہمارے طریقہ پر نہیں ہے حاصل یہ کہ ایسا شخص اس قابل نہیں کہ اسے اسلامی برادری کا ایک فرد سمجھ جائے (ترمذی)
تشریح
جلب اور جنب یہ دو اصطلاحی الفاظ ہیں۔ ان کا تعلق سباق سے بھی ہے اور صدقہ سے بھی سباق ومسابقت یعنی گھوڑ دوڑ کے مقابلے کو کہتے ہیں مثلا دو آدمی اس شرط کے ساتھ آپس میں گھوڑے دوڑائیں کہ دیکھیں کون آگے نکل جاتا ہے لہذا سباق میں جلب یہ ہے کہ گھوڑا دوڑانے والا ایک آدمی اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھے جس کا کام یہ ہو کہ وہ گھوڑے کو مارے آوازیں لگائے اور اس کو دوڑائے۔ اور جنب یہ ہے کہ گھوڑا اپنے ساتھ رکھے تاکہ سواری کا گھوڑا اگر تھک جائے تو اس دوسرے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے نکل جائے۔ صدقہ میں جلب کی صورت یہ ہے کہ صدقات وزکوۃ وصول کرنیوالا جب صدقہ وزکوۃ وصول کرنے لوگوں کے پاس جائے تو آبادی سے باہر یا ان لوگوں سے دور کہیں بھی دوسری جگہ ٹھہر جائے اور کسی دوسرے آدمی کو ان لوگوں کے پاس یہ کہلا کر بھیجے کہ جن جن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہے وہ اپنی زکوٰۃ کا مال لے کر یہاں آجائیں۔ اسی طرح جنب یہ ہے کہ جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہو وہ اپنا مال لے کر اپنے مکان سے کہیں دور چلاجائے اور زکوٰۃ وصول کرنے والے سے کہے کہ وہ اس کے پاس وہیں پہنچ کر زکوٰۃ وصول کرے اس کا بیان کتاب زکوٰۃ میں گزر چکا ہے چناچہ یہاں بھی جلب و جنب سے منع فرمایا گیا ہے خواہ ان کا تعلق سباق سے یا ہو صدقہ سے۔ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کر دے اور مہر کچھ نہ مقرر ہو بلکہ یہ شرط ہی مہر کے قائم مقام ہو۔ حدیث میں اس قسم کے عقد کو اسلام کے طریقہ کے خلاف فرمایا گیا ہے چناچہ اکثر علماء کے نزدیک ایسا عقد فاسد ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ اور سفیان کے نزدیک یہ عقد نہ کرنا چاہئے۔
تشریح
جلب اور جنب یہ دو اصطلاحی الفاظ ہیں۔ ان کا تعلق سباق سے بھی ہے اور صدقہ سے بھی سباق ومسابقت یعنی گھوڑ دوڑ کے مقابلے کو کہتے ہیں مثلا دو آدمی اس شرط کے ساتھ آپس میں گھوڑے دوڑائیں کہ دیکھیں کون آگے نکل جاتا ہے لہذا سباق میں جلب یہ ہے کہ گھوڑا دوڑانے والا ایک آدمی اپنے گھوڑے کے پیچھے رکھے جس کا کام یہ ہو کہ وہ گھوڑے کو مارے آوازیں لگائے اور اس کو دوڑائے۔ اور جنب یہ ہے کہ گھوڑا اپنے ساتھ رکھے تاکہ سواری کا گھوڑا اگر تھک جائے تو اس دوسرے گھوڑے پر سوار ہو کر آگے نکل جائے۔ صدقہ میں جلب کی صورت یہ ہے کہ صدقات وزکوۃ وصول کرنیوالا جب صدقہ وزکوۃ وصول کرنے لوگوں کے پاس جائے تو آبادی سے باہر یا ان لوگوں سے دور کہیں بھی دوسری جگہ ٹھہر جائے اور کسی دوسرے آدمی کو ان لوگوں کے پاس یہ کہلا کر بھیجے کہ جن جن لوگوں پر زکوٰۃ واجب ہے وہ اپنی زکوٰۃ کا مال لے کر یہاں آجائیں۔ اسی طرح جنب یہ ہے کہ جس شخص پر زکوٰۃ واجب ہو وہ اپنا مال لے کر اپنے مکان سے کہیں دور چلاجائے اور زکوٰۃ وصول کرنے والے سے کہے کہ وہ اس کے پاس وہیں پہنچ کر زکوٰۃ وصول کرے اس کا بیان کتاب زکوٰۃ میں گزر چکا ہے چناچہ یہاں بھی جلب و جنب سے منع فرمایا گیا ہے خواہ ان کا تعلق سباق سے یا ہو صدقہ سے۔ شغار یہ ہے کہ ایک شخص اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح کسی سے اس شرط کے ساتھ کرے کہ وہ اپنی بہن یا بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کر دے اور مہر کچھ نہ مقرر ہو بلکہ یہ شرط ہی مہر کے قائم مقام ہو۔ حدیث میں اس قسم کے عقد کو اسلام کے طریقہ کے خلاف فرمایا گیا ہے چناچہ اکثر علماء کے نزدیک ایسا عقد فاسد ہے لیکن حضرت امام ابوحنیفہ اور سفیان کے نزدیک یہ عقد نہ کرنا چاہئے۔
2978
Mishkaat Shareefيزيد عن أبيه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا يأخذ أحدكم عصا أخيه لاعبا جادا فمن أخذ عصا أخيه فليردها إليه . رواه الترمذي وأبو داود وروايته إلى قوله : جادا
اور حضرت سائب بن یزید اپنے والد مکرم سے نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے کسی بھائی کا عصا (لاٹھی) ہنسی مذاق میں اس مقصد سے نہ لے کہ وہ اس کو رکھ لے گا جو شخص اپنے کسی بھائی سے عصا لے تو اسے واپس کردینا چاہئے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مثلا کوئی شخص کسی سے اس کی لاٹھی یا چھڑی بظاہر تو ہنسی مذاق میں لے مگر مقصد یہ ہو کہ اسے ہڑپ کرلوں گا جیسا کہ آج کل اس کا بہت رواج ہے کہ ایک دوسرے کی چیز ہنسی مذاق میں چھپا دی جاتی ہے اگر مالک کو اس کا علم ہوجاتا ہے تو وہ چیز اسے واپس دیدی جاتی ہے اگر اسے علم نہیں ہو پاتا تو پھر ہمیشہ کے لئے غائب کردی جاتی ہے اس سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں بطور خاص عصاء کا ذکر بطریق مبالغہ ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ جب اتنی حقیر اور کم تر چیز کا لینا منع ہے تو اس سے زیادہ حیثیت کی چیز کا لینا بطریق اولی ممنوع ہوگا۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مثلا کوئی شخص کسی سے اس کی لاٹھی یا چھڑی بظاہر تو ہنسی مذاق میں لے مگر مقصد یہ ہو کہ اسے ہڑپ کرلوں گا جیسا کہ آج کل اس کا بہت رواج ہے کہ ایک دوسرے کی چیز ہنسی مذاق میں چھپا دی جاتی ہے اگر مالک کو اس کا علم ہوجاتا ہے تو وہ چیز اسے واپس دیدی جاتی ہے اگر اسے علم نہیں ہو پاتا تو پھر ہمیشہ کے لئے غائب کردی جاتی ہے اس سے آپ ﷺ نے منع فرمایا ہے۔ حدیث میں بطور خاص عصاء کا ذکر بطریق مبالغہ ہے جس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ جب اتنی حقیر اور کم تر چیز کا لینا منع ہے تو اس سے زیادہ حیثیت کی چیز کا لینا بطریق اولی ممنوع ہوگا۔
2979
Mishkaat Shareefوعن سمرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من وجد عين ماله عند رجل فهو أحق به ويتبع البيع من باعه . رواه أحمد وأبو داود والنسائي
اور حضرت سمرۃ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا جو شخص اپنا مال بعینہ کسی کے پاس دیکھے تو وہ اس کو لے لینے کا حقدار ہے اور اس کو خریدنے والا اس شخص کا پیچھا کرے جس نے اسے بیچا ہے ( احمد ابوداؤد نسائی)
تشریح
حدیث کے مفہوم کا حاصل یہ ہے کہ مثلا ایک شخص نے کسی کا کوئی مال غصب کیا یا کسی کی کوئی چیز چوری کی یا کسی شخص کی کوئی گمشدہ چیز اس کے ہاتھ لگ گئی اور اس نے وہ چیز کسی دوسرے شخص کو بیچ دی تو اب اگر مالک اپنی وہ چیز خریدنے والے کے پاس دیکھے تو اسے اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی چیز اس سے لے لے اور خریدنے والے نے وہ چیز جس سے خریدی ہے اس کا پیچھا کر کے اس سے اپنی قیمت واپس لے لے۔
تشریح
حدیث کے مفہوم کا حاصل یہ ہے کہ مثلا ایک شخص نے کسی کا کوئی مال غصب کیا یا کسی کی کوئی چیز چوری کی یا کسی شخص کی کوئی گمشدہ چیز اس کے ہاتھ لگ گئی اور اس نے وہ چیز کسی دوسرے شخص کو بیچ دی تو اب اگر مالک اپنی وہ چیز خریدنے والے کے پاس دیکھے تو اسے اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ اپنی چیز اس سے لے لے اور خریدنے والے نے وہ چیز جس سے خریدی ہے اس کا پیچھا کر کے اس سے اپنی قیمت واپس لے لے۔