hadith book logo

Mishkaat Shareef

57. مختلف اوقات کی دعاؤں کا بیان

مشكاة المصابيح

2445
Mishkaat Shareef
صحیح
جو اذکار یعنی دعائیں وغیرہ شارع سے کسی بھی وقت اور کسی بھی حالت سے متعلق منقول ہیں ان کو اختیار کرنا اور ان اذکار کو ان کے منقول اوقات میں پورا کرنا ہر شخص کے لئے مسنون ہے اگر ان اذکار کو پابندی کے ساتھ اختیار کیا جائے تو کیا ہی کہنے اور اگر یہ ممکن نہ ہو تو کم سے کم ایک مرتبہ تو ضرور ہی ان کو پورا کیا جائے تاکہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کی سعادت حاصل ہوجائے۔
2446
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لو أن أحدكم إذا أراد أن يأتي أهله قال : بسم الله اللهم جنبنا الشيطان وجنب الشيطان ما رزقتنا فإنه إن يقدر بينهما ولد في ذلك لم يضره شيطان أبدا
حضرت ابن عباس (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص اپنی بیوی یا لونڈی کے پاس صحبت کے لئے آئے تو دعا پڑھے اگر اس وقت (ان دونوں) مرد و عورت کے جماع کے نتیجہ میں فرزند دیا جانا مقدر ہوا یعنی بچہ پیدا ہوا تو اس بچہ کو شیطان کبھی ضرر نہیں پہنچائے گا اور وہ دعا یہ ہے کہ (بسم اللہ اللہم جنبنا الشیطان وجنب الشیطان ما رزقتنا) ہم مدد چاہتے ہیں اللہ کے نام کے ساتھ اے اللہ تو ہمیں جو اولاد نصیب کرے اس شیطان سے اور شیطان کو اس سے دور رکھ۔

تشریح
اگر یہ اشکال پیدا ہو کہ اکثر لوگ یہ دعا پڑھتے ہیں مگر اس کے باوجود ان کی اولاد شیطان کے تصرف اور اس کے ضرر سے محفوظ نہیں رہتی ؟ تو اس کا جواب یہ ہوگا کہ شیطان کبھی ضرر نہیں پہنچائے گا سے مراد یہ ہے کہ شیطان انہیں کفر کی کھائیوں میں نہیں پھینک سکتا، لہٰذا اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ صحبت کے وقت ذکر اللہ کی برکت سے اولاد خاتمہ بخیر کی سعادت ابدی سے نوازی جاتی ہے یا پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ شیطان اس کی اولاد کو آسیب اور صرع یعنی ہاتھ پاؤں ٹیڑھے کردینے یا اسی قسم کی دوسری بلاؤں میں مبتلا کر کے ضرر پہنچانے پر قادر نہیں رہتا۔ حضرت امام جوزی کے قول کے مطابق اس کا مطلب یہ ہے کہ شیطان اس شخص کی اولاد کے دین و اعتقاد پر اثر انداز نہیں ہوتا اور جس طرح کہ شیطان دوسروں کے صحیح اعتقادات اور دینی رحجانات میں نقصان پہنچاتا ہے ان کی بہ نسبت اس شخص کی اولاد کے حق میں اس کا ضرر و نقصان بےاثر رہتا ہے۔ بعض دوسرے حضرات فرماتے ہیں کہ ضرر پہنچانے سے مراد یہ ہے کہ شیطان جو پیدائش کے وقت ہر بچہ کی کوکھ میں انگلی ماتا ہے جس کی وجہ سے بچہ روتا چلاتا پیدا ہوتا ہے اس دعا کی وجہ سے وہ زور سے انگلی نہیں مار پاتا۔
2447
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان يقول عند الكرب : لا إله إلا الله العظيم الحليم لا إله إلا الله رب العرش العظيم لا إله إلا الله رب السماوات ورب الأرض رب العرش الكريم
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ شدت فکر و غم کے وقت یہ دعا پڑھتے (لا الہ الا اللہ العظیم الحلیم لا الہ اللہ رب العرش العظیم لا الہ الا اللہ رب السموات ورب الارض رب العرش الکریم) نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے جو بزرگ اور بردبار ہے نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے جو پروردگار ہے عرش عظیم کا نہیں کوئی معبود سوائے اللہ کے جو پروردگار ہے آسمانوں کا پروردگار ہے زمین کا اور پروردگار ہے عرش کریم کا۔
2448
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سليمان بن صرد قال : استب رجلان عند النبي صلى الله عليه و سلم ونحن عنده جلوس وأحدهما يسب صاحبه مغضبا قد احمر وجهه فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إني لأعلم كلمة لو قالها لذهب عنه ما يجد أعوذ بالله من الشيطان الرجيم . فقالوا للرجل : لا تسمع ما يقول النبي صلى الله عليه و سلم ؟ قال : إني لست بمجنون
حضرت سلیمان بن صرد (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن ہم نبی کریم ﷺ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ ﷺ کی مجلس میں دو آدمی آپس میں ایک دوسرے کو برا بھلا کہنے لگے ان میں سے ایک آدمی تو دوسرے کو بہت ہی برا بھلا کہہ رہا تھا وہ غصہ میں بھرا ہوا تھا اس کا چہرہ سرخ ہو رہا تھا نبی کریم ﷺ نے اس کی یہ کیفیت دیکھ کر فرمایا کہ میں ایک کلمہ جانتا ہوں اگر یہ شخص اس کلمہ کو پڑھے تو اس کا غصہ جاتا رہے جو اس پر سوار ہے اور وہ کلمہ یہ ہے۔ (اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم۔ میں اللہ کی پناہ چاہتا ہوں شیطان مردود سے۔ صحابہ نے جب یہ دیکھا کہ اس شخص نے کلمہ نہیں پڑھا تو اس سے کہا کیا تم سن نہیں رہے، آنحضرت ﷺ کیا فرما رہے ہیں ؟ اس شخص نے کہا کہ میں کوئی دیوانہ نہیں ہوں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ غصہ فرو کرنے کا بڑا آسان طریقہ یہ ہے کہ اعوذ باللہ پڑھ لیا جائے اس سے غصہ فرو ہوجائے گا اس حدیث کی بنیاد یہ آیت ہے (وَاِمَّا يَنْزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطٰنِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰهِ اِنَّه سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ ٢٠٠) 7 ۔ الاعراف 200) اور اگر تمہیں شیطان بہکا کر اپنے جال میں پھانسے تو اللہ سے پناہ مانگو بلاشبہ وہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔ جس شخص کو آنحضرت ﷺ نے یہ کلمہ تعلیم فرمایا وہ علم شریعت کے زیور سے آراستہ نہیں تھا ور دین کی سمجھ سے بالکل کورا تھا۔ چناچہ اس کے ذہن میں یہ بات آئی کہ یہ کلمہ پڑھنے کے لئے اس شخص کو کہا جاتا ہے جو دیوانگی میں مبتلا ہو میں دیوانگی میں مبتلا نہیں ہوں اس لئے یہ کلمہ کیوں پڑھوں اسی لئے جب صحابہ نے اس کو آنحضرت ﷺ کی تعلیم کی طرف متوجہ کیا تو اس نے اس بد فہمی کی بنا پر کہ اس کلمہ کو تو دیوانے پڑھتے ہیں یہی جواب دیا کہ میں دیوانہ نہیں ہوں جو اس کلمہ کو پڑھوں حالانکہ اس نے نہیں سمجھا کہ غصہ بھی شیطان کے بہکانے کا ہی اثر ہوتا ہے جو بسا اوقات دیوانگی کا ہی روپ دھار لیتا ہے اس لئے غصہ کے وقت بھی اس کلمہ کو پڑھنا نافع ہے۔ آنحضرت ﷺ کی اس تعلیم کی طرف اس شخص کے بےاعتنائی کے سلسلہ میں علامہ طیبی تو یہ فرماتے ہیں کہ ہوسکتا ہے کہ وہ شخص منافق رہا ہو یا پھر پرلے درجے کا بدخو، اجڈ اور گنوار۔
2449
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا سمعتم صياح الديكة فسلوا الله من فضله فإنها رأت ملكا وإذا سمعتم نهيق الحمار فتعوذوا بالله من الشيطان الرجيم فإنه رأى شيطانا
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم مرغ کو بانگ دیتے سنو تو اللہ تعالیٰ سے اس کا فضل مانگو کیونکہ وہ فرشتے کو دیکھتے ہیں اور جب گدھے کا رینگنا سنو تو شیطان مردود سے اللہ کی پناہ مانگو۔ وہ شیطان کو دیکھتا ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس ارشاد گرامی کا مطلب یہ ہے کہ مرغ فرشتے کو دیکھ کر بانگ دیتا ہے اس سے اس وقت تم اللہ سے دعا مانگو تاکہ وہ آمین کہے۔ اور تمہارے لئے بخشش چاہے اور جب گدھے کی آواز سنو تو۔ اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم پڑھو کیونکہ وہ شیطان کو دیکھ کر رینگتا ہے۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ نیک ہستیوں کے آنے کے وقت اللہ کی رحمت اور برکت نازل ہوتی ہے اور لہٰذا اس وقت دعا مانگنی مستحب ہے نیز اس میں اس بات کی طرف بھی اشارہ ہے کہ کافروں پر چونکہ اللہ کا غضب اور عذاب نازل ہوتا ہے اس لئے کفار کے سامنے گزرنے کے وقت اللہ کی پناہ مانگنا مستحب ہے اس خوف سے کہ کہیں ان بدبختوں کی نحوست اور ان کی برائی کے جراثیم اپنے تک نہ پہنچ جائیں۔
2450
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم كان إذا استوى على بعيره خارجا إلى السفر كبر ثلاثا ثم قال : ( سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنين وإنا إلى ربنا لمنقلبون ) اللهم إنا نسألك في سفرنا هذا البر والتقوى ومن العمل ما ترضى اللهم هون علينا سفرنا هذا واطو لنا بعده اللهم أنت الصاحب في السفر والخليفة في الأهل والمال اللهم إني أعوذ بك من وعثاء السفر وكآبة المنظر وسوء المنقلب في المال والأهل . وإذا رجع قالهن وزاد فيهن : آيبون تائبون عابدون لربنا حامدون . رواه مسلم
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سفر کے لئے نکلتے اور اونٹ پر سوار ہوجاتے تو پہلے تین بار اللہ اکبر اور پھر یہ پڑھتے دعا (سبحان الذی سخرلنا ہذا وما کنا لہ مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون اللہم انا نسألک فی سفرنا ہذا البر والتقوی ومن العمل ماترضی اللہم ہون علینا سفرنا ہذا اطولنا بعدہ اللہم انت الصاحب فی السفر والخلیفۃ فی الاہل والمال اللہم انی اعوذبک من وعثاء السفر وکابۃ المنظر وسورء المنقلب فی المال والاہل) ۔ پاک ہے وہ ذات جس نے اس سواری کو ہمارا تابعدار بنایا جب کہ ہم اس کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور بلاشبہ ہم اپنے پروردگار کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں اے اللہ ! ہم مانگتے ہیں تجھے اپنے اس سفر میں نیکی اور تقویٰ ایسا عمل ہے جس سے تو راضی ہوتا ہے یعنی اسے قبول کرتا ہے اے پروردگار ! آسان کر دے ہمارے لئے ہمارے اس سفر کو اور لپیٹ دے ہمارے لئے اس کی درازی کو یعنی سفر کی طوالت کو جلد ختم کر دے) اے اللہ ! سفر میں تو ہی ہمارا نگہبان ہے اور ہمارے گھر والوں کا تو ہی خبر گیراں ہے اے اللہ میں تیری پناہ چاہتا ہوں سفر کی مشقت سے اور بری حالت دیکھنے سے یعنی اس بات سے پناہ مانگتا ہوں کہ اپنے اہل و عیال اور اپنے اسباب و مال میں نقصان دیکھ کر غمگین ہوں اور اس سے بری حالت ہو اور واپسی کی برائی سے اپنے گھر والوں اور اپنے مال میں یعنی اس سے بھی پناہ مانگتا ہوں کہ سفر سے واپس آنے کے بعد اپنے گھر والوں میں اور اپنے مال میں کوئی نقصان دیکھوں اور اس کی وجہ سے میں رنج اٹھاؤں۔ جب آپ ﷺ سفر سے واپس ہوتے تو یہی دعا پڑھتے اور اس میں ان الفاظ کا اضافہ کرتے۔ دعا (اٰئبون تائبون عابدون لربنا حامدون) ۔ ہم سفر سے پھرنے والے ہیں سلامتی کے ساتھ اپنے وطن کو توبہ کرنے والے ہیں اپنے رب کی عبادت کرنے والے ہیں اور تعریف کرنے والے ہیں۔ (مسلم)
2451
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن سرجس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا سافر يتعوذ من وعثاء السفر وكآبة المنقلب والحور بعد الكور ودعوة المظلوم وسوء المنظر في الأهل والمال . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن سرجس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب سفر کرتے تو پناہ مانگتے، سفر کی مشقت اور محنت سے واپسی سے بری حالت سے (اعمال صالح اور اہل و مال میں) زیادتی کے بعد نقصان سے، مظلوم کی بد دعا سے اور واپس آ کر اہل و مال کو بری حالت میں دیکھنے سے (مسلم)

تشریح
مظلوم کی بد دعا سے پناہ مانگنے سے مراد یہ ہے کہ درحقیقت آپ ﷺ ظلم سے پناہ مانگتے تھے کہ خدایا مجھے اس بات سے محفوظ و مامون رکھ کہ دانستہ یا نادانستہ کسی پر ظلم نہ کراؤں تاکہ کوئی مظلوم میرے لئے بد دعا نہ کرسکے۔
2452
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن خولة بنت حكيم قالت : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من نزل منزلا فقال : أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم يضره شيء حتى يرحل من منزله ذلك . رواه مسلم
حضرت خولہ بنت حکیم (رض) کہتی ہیں کہ میں نے سنا کہ رسول کریم ﷺ فرماتے تھے جو شخص کسی نئی جگہ (خواہ سفر کی حالت میں یا حضر میں) آئے اور پھر یہ کلمات کہے تو اس کو کوئی چیز نقصان نہیں پہنچائے گی یہاں تک کہ وہ اس جگہ سے کوچ کر جائے اور وہ کلمات یہ ہیں دعا (اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق) پناہ مانگتا ہوں میں اللہ تعالیٰ کے کامل کلمات (یعنی اس کے اسماء وصفات یا اس کی کتابوں) کے ذریعہ اس چیز کی برائی سے جو پیدا کی ہے۔ (مسلم )
2453
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : جاء رجل إلى رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله ما لقيت من عقرب لدغتني البارحة قال : أما لو قلت حين أمسيت : أعوذ بكلمات الله التامات من شر ما خلق لم تضرك . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن ایک شخص رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! میں ایک بچھو کی وجہ سے اذیت میں مبتلا ہوگیا ہوں۔ جس نے گزشتہ رات میں مجھے ڈس لیا تھا۔ آپ ﷺ نے فرمایا جان لو اگر تم شام کے وقت یہ کلمات کہہ لیتے تو بچھو تمہیں ضرر نہ پہنچاتا اور وہ کلمات یہ ہیں دعا (اعوذ بکلمات اللہ التامات من شر ماخلق) ۔ (مسلم)

تشریح
ترمذی کی ایک روایت میں ہے کہ جو شخص ان مذکورہ بالا کلمات کو شام کے وقت تین مرتبہ پڑھ لے تو اسے اس رات میں کسی بھی زہریلے جانور کا زہر ضرر نہیں پہنچائے گا۔ نیز ایک روایت میں ان کلمات کو صبح کے وقت بھی پڑھنا منقول ہے یعنی اگر ان کلمات کو صبح کے وقت پڑھا جائے تو اس دن زہریلے جانوروں سے حفاظت حاصل رہتی ہے۔ حضرت معقل بن یسار (رض) جو صحابی ہیں سے منقول ہے کہ جو شخص ان کلمات کو پڑھتا ہے اس کے ساتھ ستر ہزار فرشتے متعین کئے جاتے ہیں جو اس شخص کے لئے بخشش کی دعا کرتے ہیں نیز وہ شخص اگر اسی حالت میں مرجاتا ہے تو شہید مرتا ہے۔
2454
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم كان إذا كان في سفر وأسحر يقول : سمع سامع يحمد الله وحسن بلائه علينا وربنا صاحبنا وأفضل علينا عائذا بالله من النار . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ جب سفر میں ہوتے تو بوقت سحر یہ کہتے۔ سنی سننے والے نے اللہ کی تعریف کو جو میں نے کی اور اس کی نعمتوں کی خوبی کے اقرار کو جو میں نے کیا، اے ہمارے پروردگار ہماری نگہبانی کر اور ہم دوزخ کی آگ سے پناہ مانگتے ہیں۔ (مسلم)