hadith book logo

Mishkaat Shareef

3. علم کا بیان

مشكاة المصابيح

192
Mishkaat Shareef
صحیح
علم کیا ہے ؟ یہ وہ عظیم وصف ہے جو انسان کو نہ صرف یہ کہ شرافت و تہذیب کا سرمایہ بخشتا ہے عزّت و عظمت کی دولت سے نوازتا ہے، اخلاق و عادات میں جلا پیدا کرتا ہے اور انسانیت کو انتہائی بلندیوں پر پہنچاتا ہے، بلکہ قلب انسانی کو عرفان الہٰی کی مقدّس روشنی سے منوّر کرتا ہے، ذہن و فکر کو صحیح عقیدے کی معراج بخشتا ہے اور دل و دماغ کو اللہ تعالیٰ کی عبادت و اطاعت گزاری کی راہ مستقیم پر لگاتا ہے۔ اسلام ! جو انسان کے لئے ترقی و عظمت کی راہ میں سب سے عظیم مینارۂ نور ہے، وہ اس عظیم و صف کو انسانی برادری کے لئے ضروری قرار دیتا ہے اور اس کے حصول کو دینی و دنیوی ترقی و کامیابی کا زینہ بناتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہئے کہ اسلام ہر اس علم کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو اسلامی عقیدہ و عمل سے مزاحم ہوئے بغیر انسانی معراج کا ضامن ہو، اسلام کسی بھی علم کے حصول کو منع نہیں کرتا۔ لیکن ایسے علم سے وہ بیزاری کا اظہار بھی کرتا ہے جو ذہن و فکر کو گمراہی کی طرف موڑ دے یا انسان کو اللہ کے رسول سے نا آشنا رکھ کر دہریت کے راستہ پر لگا دے۔ یہاں ( کتاب العلم) کا عنوان قائم کر کے جس علم کی ضرورت و فضیلت پر مشتمل، احادیث بیان کی جارہی ہیں وہ علم دین ہے جو شریعت کی نظر میں بنیادی اور ضروری حیثیت رکھتا ہے۔ دینی علم دوسرے علوم کے مقابلے میں اسلام کی نظر میں سے سب مقدّم اور ضروری ہے جس کا حاصل کرنا ہر مسلمان کے لئے ضروری قرار دیا گیا ہے۔ چناچہ ارشاد منقول ہے۔ الحدیث (طَلَبُ الْعِلْمِ فَرِیْضَۃٌ عَلٰی کُلَّ مُسْلِمٍ ) ۔ علم کا حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ ظاہر ہے کہ اسلام جس زندگی کا تقاضا کرتا ہے اور انسان کو عبودیت کی معراج پر دیکھنا چاہتا ہے وہ علم دین ہی پر موقوف ہے علم دین کی بناء پر انسان، انسان بنتا ہے اور بندہ اپنی حقیقت کو پہچان کر ذات حق کا عرفان حاصل کرتا ہے، نیز عقیدہ و عمل کی تمام راہیں اسی سے نکلتی ہیں جس پر چل کر بندہ اپنے پروردگار کا حقیقی اطاعت گزار، رسول کا فرماں بردار اور دین و شریعت کا پابند بنتا ہے۔ (علم دین) جو کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ ﷺ پر مشتمل ہے۔ اس کی دو قسمیں کی جاتی ہیں۔ اول (مبادی) یعنی وسائل، دوم (مقاصد) مبادی۔ اس علم کو کہتے ہیں جس کے حصول پر کتاب و سنت کی معرفت موقوف ہے، یعنی جب تک یہ علم حاصل نہ کیا جائے قرآن و حدیث کے علوم و معارف کا عرفان حاصل نہیں ہوسکتا مثلاً لغت، صرف و نحو وغیرہ کے علوم کہ جب تک ان کو حاصل نہ کیا جائے اور ان پر نظر نہ ہو کتاب و سنت کا علم صحیح طور پر نہیں آسکتا اور نہ ان کے حقیقی منشا، و مقصد کو حاصل کیا جاسکتا ہے۔ مقاصد۔ وہ علم ہے جو عقائد، اعمال اور اخلاق سے متعلق ہے۔ یعنی یہی وہ علم ہے جو مقصود بالذات اور فی نفسہ ضروری ہے اور اسی کو حاصل کر کے دین و شریعت کی پابندی کا سیدھا راستہ سامنے آتا ہے۔ ان سب کو علم معاملات بھی کہا جاتا ہے۔ اسی طرح ایک علم مکاشفہ بھی ہوتا ہے۔ یہ دراصل وہ نور ہوتا ہے جو علم پر عمل کرنے سے قلب میں پیدا ہوتا ہے جس کی مقدّس روشنی سے ہر چیز کی حقیقت واشگاف ہوجاتی ہے اور حق تعالیٰ کی ذات وصفات اور احوال کی معرفت پیدا ہوتی ہے اس علم مکاشفہ کو علم حقیقت اور علم وراثت میں کہتے ہیں جیسے کہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے۔ الحدیث (مَنْ عَمِلَ بِمَا عَلِمَ وَرَّثَہُ ا مَالَمْ یُعْلَمْ ) ۔ جو آدمی علم پر عمل کرتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو اس چیز کا علم نصیب کرتا ہے جو نہ جانا جاتا ہے اور نہ پڑھا جاتا ہے۔ بہر حال، علم ظاہر و علم باطن کی جو اقسام مشہور ہیں وہ یہی ہیں۔ یہ ایک دوسرے کے لئے لازم و ملزوم ہیں اور ان دونوں میں بدن و روح اور پوست و مغز کی نسبت ہے۔ نیز علم کی فضیلت میں جو آیتیں وارد ہیں، یا احادیث منقول ہیں وہ ان تمام اقسام کو مراتب درجات کے تفاوت کے ساتھ شامل ہیں۔
193
Mishkaat Shareef
صحیح
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍوص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بَلِّغُوْا عَنِّیْ وَلَوْ اٰےَۃً وَّحَدِّثُوْا عَنْ بَنِیْ اِسْرَائِےْلَ وَ لَا حَرَجَ وَ مَنْ کَذَبَ عَلَیَّ مُتَعَمِّدًا فَلْےَتَبَوَّأْ مَقْعَدَہُ مِنَ النَّارِ ۔ (رواہ بخاری)
حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ میری طرف سے پہنچاؤ اگرچہ ایک ہی آیت ہو۔ اور بنی اسرائیل سے جو قصے سنو لوگوں کے سامنے بیان کرو یہ گناہ نہیں ہے اور جو آدمی قصدًا میری طرف جھوٹ بات منسوب کرے اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانہ دوزخ میں ڈھونڈ لے۔ (صحیح البخاری)

تشریح
آیت سے مراد وہ احادیث ہے جو بظاہر چھوٹی چھوٹی ہیں لیکن افادیت کے اعتبار سے علوم و معارف کر بحر بیکراں اپنے اندر سموئے ہوئے ہوتی ہیں جیسے ایک چھوٹی سی حدیث ہے کہ الحدیث (من صمت نجا) یعنی جو خاموش رہا وہ نجات پا گیا۔ یا اسی طرح دوسری مختصر مگر جامع احادیث۔ گویا اس جملہ کا مطلب یہ ہوا کہ اگرچہ تم میری کسی ایسی حدیث کو پاؤ جو بااعتبار جملہ و الفاظ کے بہت چھوٹی اور مختصر ہو مگر اس کو دوسروں تک ضرور پہنچاؤ اور اس کی افادیت سے دوسروں کو روشناس کراؤ۔ علماء لکھتے ہیں کہ اس حدیث کا اصل مقصد علم کو پھیلانے اور دوسروں کو علم کی روشنی سے منوّر کرنے کی ترغیب دلانا ہے کہ جہاں تک ہو سکے علم کے پھیلانے اور دین کی بات کو پہنچانے میں سعی و کوشش کرنی چاہئے۔ ہوسکتا ہے کہ تم جس کو دوسروں تک پہنچا رہے ہو اگرچہ وہ بہت مختصر ہے مگر کیا تعجب کہ اسی سے اس کی دنیا بھی سنور جائے اور دین بھی بن جائے اور وہ راہ ہدایت کو پالے جس کے نتیجے میں نہ صرف یہ کہ ایک آدمی کی ہدایت ہوگی اور وہ راہ راست پر لگ جائے گا بلکہ اس کی وجہ سے تمہیں بھی اجر ملے گا اور بیشمار حسنات سے نوازے جاؤ گے۔ حدیث میں دوسری بات یہ بتائی گئی ہے کہ اگر بنی اسرائیل سے کوئی قصہ سنو یا تمہیں ان سے کوئی واقعہ معلوم ہو تو تم اس کو لوگوں سے بیان کرسکتے ہو مگر ان کے احکام وغیرہ کو نقل کرنے کی اجازت نہیں ہے جیسا کہ گذشتہ احادیث میں گزر چکا ہے۔ اس لئے کہ کسی واقعہ یا قصہ کو محض خبر کے طور پر بیان کردینا شرعی امور میں کوئی نقصان پیدا نہیں کرتا مگر ان کے احکام کو نقل کرنا یا ان کی تبلیغ کرنا شریعت محمدی کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے کیونکہ جب اس دنیا میں شریعت محمدی کا نفاذ ہوگیا ہے تو اب تمام دوسری شریعتیں منسوخ اور کالعدم قرار دے دی گئی ہیں۔ لہٰذا شریعت محمدی کو چھوڑ کو دوسری شریعت کے احکام و اعمال کی تبلیغ کی اجازت نہیں دی جاسکتی۔ اخر حدیث میں رسول اللہ ﷺ کی طرف کسی غلط بات کو منسوب کرنے پر نہایت سخت الفاظ میں زجر و توبیح فرمائی گئی ہے۔ چناچہ فرمایا گیا ہے کہ جو آدمی میری طرف کسی غلط بات کا انتساب کرتا ہے اور مجھ پر بہتان باندھتا ہے تو اسے چاہئے کہ وہ جہنم کی آگ میں جلنے کے لئے تیار ہوجائے۔ اس لئے کہ ایسا بدبخت جو دنیا کی سب سے بڑے صادق و مصدوق ہستی پر بہتان باندھتا ہے وہ اسی سزا کا مستحق ہے کہ اسے جہنم کے شعلوں کے حوالے کردیا جائے۔ اس بارے میں جہاں تک مسئلہ کا تعلق ہے علماء متفقہ طور پر یہ لکھتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی ذات اقدس کی طرف کسی ایسی بات یا ایسے عمل کی نسبت کرنا جو واقعہ میں آپ ﷺ سے ثابت نہیں ہے حرام اور گناہ کبیرہ ہے اور ایسا کا ذب انسان اللہ کے سخت عذاب میں گرفتار کیا جائے گا اور بعض علماء مثلاً امام محمد جوینی (رح) نے تو اس جرم کو اتنا قابل نفرت اور سخت خیال کیا ہے کہ وہ ایسے آدمی کے بارے میں کفر کا حکم لگاتے ہیں۔ حدیث من کذب علی متعمدا فلیتبوا مقعدہ من النار یعنی جو آدمی قصدا میری طرف جھوٹ بات کی نسبت کرے اسے چاہئے کہ وہ اپنا ٹھکانا دوزخ میں تلاش کرے۔ کہ بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ بڑے پایہ اور اونچے درجہ کی حدیث ہے اور اس کا شمار متواترات میں ہوتا ہے بلکہ دوسری متواتر حدیثیں اس کے مرتبہ کو نہیں پہنچتی ہیں۔ اس لئے کہ اس حدیث کو صحابہ کی ایک بہت بڑی جماعت نقل کرتی ہے چناچہ بعض محدثین نے لکھا ہے کہ اس حدیث کو باسٹھ صحابہ کر امن رضوان اللہ علیہم اجمعین نے روایت کیا ہے جن میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں۔
194
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ سَمُرَۃَ بْنِ جُنْدُبٍص وَالْمُغِےْرَۃِص بْنِ شُعْبَۃَ قَالَا قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ حَدَّثَ عَنِّیْ بِحَدِےْثٍ ےَّرٰی اَنَّہُ کَذِبٌ فَھُوَ اَحَدُ الْکَاذِبِےْن ۔ (مسلم)
اور حضرت سمرہ بن جندب (رض) ( اسم گرامی سمرہ ابن جندب اور کنیت ابوسعد ہے ٥٨ ھ، ٥٩ ھ میں ان کا انتقال ہوا ہے۔ (اسد الغابہ) اور مغیرہ بن شعبہ رضی عنہما (اسم گرامی مغیرہ بن شعبہ ہے کنیت ابوعبداللہ اور بعض حضرات کے قول کے مطابق ابوعیسٰی ہے ٥٠ ھ میں انتقال فرمایا۔ (اسد الغابہ) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی میری (طرف منسوب کر کے کوئی ایسی) حدیث بیان کرے جس کے بارے میں اس کا خیال ہو کہ وہ جھوٹی ہے تو وہ جھوٹے آدمیوں میں سے ایک جھوٹا ہے۔ (صحیح مسلم)

تشریح
مطلب یہ کہ اگر کوئی آدمی کسی ایسی حدیث کو لوگوں کے سامنے بیان کرے اور اس کی اشاعت کرے جو واقعتًہ میری حدیث نہیں ہے اور پھر اس کو یہ معلوم بھی ہو کہ میں جو حدیث بیان کر رہا ہوں وہ حقیقت میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث نہیں ہے بلکہ وضع کی گئی ہے تو وہ آدمی جس نے یہ جھوٹی حدیث وضع کی ہے اس لئے جھوٹا ہے کہ اس نے ذات رسالت ﷺ کی طرف غلط اور جھوٹ بات کی نسبت کی ہے تو یہ آدمی بھی جو اس حدیث کو بیان کر رہا ہے اس لئے جھوٹا اور کذّاب ہے کہ وہ اشاعت کر کے اور یہ جان کر بھی کہ یہ غلط حدیث ہے دوسروں تک پہنچا کر اس آدمی کی مدد کر رہا ہے۔ اور ظاہر ہے کہ جس طرح جھوٹی حدیث بنانے والا اللہ کے عذاب میں گرفتار ہوگا اسی طرح اس کو بیان کرنے والے سے بھی آخرت میں مواخذہ کیا جائے گا اور اسے سخت سزادی جائے گی۔
195
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ مُّعَاوِیَۃَص قَالَ قَالَ رَسُوْل ُاللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ ےُّرِدِ اللّٰہُ بِہٖ خَےْرًا ےُّفَقِّھْہُ فِی الدِّےْنِ وَاِنَّمَا اَنَا قَاسِمٌ وَّاللّٰہُ ےُعْطِیْ۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت معاویہ (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جس آدمی کے لئے اللہ تعالیٰ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے اسے دین کی سمجھ عطا فرما دیتا ہے اور میں (علم کو) تقسیم کرنے والا ہوں عطا کرنے والا تو اللہ ہی ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

تشریح
اس حدیث سے علم اور عالم کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کہ جس آدمی کو خداوند تعالیٰ خیر و بھلائی کے راستہ پر لگانا چاہتا ہے اسے علم کی دولت عنایت فرماتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ اللہ کی بہت بڑی نعمت ہے کہ وہ کسی آدمی کو دینی امور یعنی احکام شریعت اور راہ طریقت و حقیقت کی سمجھ عنایت فرما دے جو ہدایت و راستی اور خیر و بھلائی کی سب سے بڑی شاہراہ ہے۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ علم کا مبداء حقیقی تو باری تعالیٰ کی ذات ہے میرا کام تو صرف یہ ہے کہ میں دینی مسائل اور شرعی احکام لوگوں تک پہنچا دوں اور حدیث بیان کر دوں۔ اب آگے اللہ تعالیٰ کی مرضی ہے کہ وہ جسے جتنا چاہے ان پر عمل کرنے کی توفیق اور غور و فکر کی صلاحیت عنایت فرمائے۔
196
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم النَّاسُ مَعَادِنُ کَمَعَادِنِ الذَّھَبِ وَالْفِضَّۃِ خِےَارُھُمْ فِی الْجَاھِلِےَّۃِ خِےَارُھُمْ فِی الْاِسْلَامِ اِذَا فَقِھُوْا (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ آدمی کان ہیں جس طرح سونے اور چاندی کی کان ہوتی ہے جو لوگ ایام جاہلیت میں بہتر تھے وہ زمانہ اسلام میں بہتر ہیں اگر وہ سمجھیں۔ (صحیح مسلم)

تشریح
انسان کو معدن یعنی کان سے تشبیہ دی گئی ہے اور یہ تشبیہ نیک اخلاقی و عادات اور صفات و کمالات کی استعداد و صلاحیت کے تفاوت میں دی گئی ہے کہ جس طرح ایک کان میں لعل و یاقوت پیدا ہوتے ہیں تو دوسری کان میں سونا، چاندی اور بعض کان میں چونا، سرمہ، پتھر وغیرہ ہی پیدا ہوتے ہیں اسی طرح انسان کی ذات ہے کہ بعض تو اپنے اخلاق و عادات اور صفات و کمالات کی بنا پر با عظمت اور با شوکت ہوتے ہیں بعض ان سے کچھ کم درجہ کے ہوتے ہیں اور بہت سے ایسے بھی ہوتے ہیں جو ان صفات میں انتہائی کمتر و بےوقعت ہوتے ہیں۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ ایمان لانے سے پہلے حالت کفر میں بہترین خصائل و عادات کے مالک تھے مثلاً سخاوت و شجاعت، اخلاق و دیانتداری اور محبت و مروّت کی بہترین صفات سے متصف تھے تو وہ اسلام لانے کے بعد بھی ان صفات کی بناء پر بہترین قرار دئیے گئے ہیں۔ ٹھیک ایسے ہی جیسے کہ سونا اور چاندی جب تک کان میں پڑے رہتے ہیں کہ وہ خاک میں پڑے رہنے کی وجہ سے اپنی اصلی حالت میں نہیں ہوتے جب انہیں کان سے نکال لیا جاتا ہے اور بھٹی میں ڈال کر تیار کیا جاتا ہے تو نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اصلی صورت میں آجاتے ہیں بلکہ ان کی آب و تاب میں بھی اضافہ ہوجاتا ہے۔ اسی طرح جب تک کوئی آدمی کفر کی ظلمت میں چھپا رہتا ہے تو خواہ وہ کتنا باوقار ہو اور اس کے اندر کتنی ہی سخاوت ہو کتنی ہی شجاعت ہو اسے برتری حاصل نہیں ہوتی، مگر جب کفر کے تمام پردوں کو چاک کر کے ظلم سے باہر نکلتا ہے اور ایمان و اسلام کو قبول کر کے علم دین میں کمال حاصل کرلیتا ہے اور پھر اپنے آپ کو ریاضت و مجاہد اور دینی محنت و مشقت کی بھٹیوں کے حوالہ کردیتا ہے تو اس کے بعد نہ صرف یہ کہ وہ اپنی اصل حالت میں آجاتا ہے بلکہ علم و معرفت کی روشنی سے اس کا قلب و دماغ منوّر ہوجاتا ہے اور وہ عزت کی انتہائی بلندیوں پر جا پہنچتا ہے۔
197
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم لَا حَسَدَ اِلَّا فِی اثْنَےْنِ رَجُلٌ اَتَاہُ اللّٰہُ مَالًا فَسَلَّطَہُ عَلٰی ھَلَکَتِہٖ فِی الْحَقِّ وَرَجُلٌ اَتَاہُ اللّٰہُ الْحِکْمَۃَ فَھُوَ ےَقْضِیْ بِھَا وَےُعَلِّمُھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ دو آدمیوں کے بارے میں حسد کرنا ٹھیک ہے ایک تو وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا اور پھر اسے راہ حق میں خرچ کرنے کی توفیق عنایت فرمائی۔ دوسرا وہ آدمی جسے اللہ نے علم دیا چناچہ وہ اس علم کے مطابق حکم کرتا اور دوسروں کو سکھاتا ہے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

تشریح
حسد اسے فرماتے ہیں کہ کسی دوسرے کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو کی جائے کہ یہ نعمت میرے پاس آجائے اور اس کے پاس سے ختم ہوجائے۔ ظاہر ہے کہ یہ ایک بہت بری خصلت اور انتہائی ذلت نفس کی بات ہے۔ اسلام جو اخلاق، پاکیزگی کا سب سے بڑا علمبردار ہے اس غیر اخلاقی اور ذلیل خصلت کو پسند نہیں کرتا اور اس سے بچنے کا حکم دیتا ہے۔ حسد کے مقابلہ میں غبطہ ہے۔ غِبط اسے فرماتے ہیں کہ کسی کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر یہ آرزو کی جائے کہ جیسی نعمت اس کے پاس ہے اللہ اس نعمت سے مجھے بھی سرفراز فرمائے۔ شریعت اس کو جائز قرار دیتی ہے مگر یہ بھی اچھی باتوں مثلاً نیک اخلاق و عادات، بہترین خصائل اور فضل و کمال کے بارے میں جائز ہے چناچہ اس حدیث میں جس حسد کے بارے میں فرمایا گیا ہے وہ غطبہ ہے۔
198
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ اَبِیْ ہُرَےْرَۃَ صقَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا مَاتَ الْاِنْسَانُ اِنْقَطَعَ عَنْہُ عَمَلُہُ اِلَّا مِنْ ثَلاَثَۃً اِلاَّمِنْ صَدَقَۃٍ جَارِےَۃٍ اَوْ عِلْمٍ ےُنْتَفَعُ بِہٖ اَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ ےَّدْعُوْ لَہُ ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرۃ (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جب انسان مرجاتا ہے تو اس کے عمل کے ثواب کا سلسلہ اس سے منقطع ہوجاتا ہے مگر تین چیزوں کے ثواب کا سلسلہ باقی رہتا ہے۔ (١) صدقہ جاریہ (٢) علم جس سے نفع حاصل کیا جائے (٣) صالح اولاد جو مرنے کے بعد اس کے لئے دعا کرے۔ (صحیح مسلم)

تشریح
ایسے اعمال جن کا تعلق دنیاوی زندگی سے ہوتا ہے ان کے اثرات مرنے کے بعد دنیا ہی میں ختم ہوجاتے ہیں مثلاً نماز، روزہ وغیرہ ایسے اعمال ہیں جو انسان کی زندگی میں ادا ہوتے تھے گو کہ ان کا ثواب بأیں طور باقی رہتا ہے کہ وہ ذخیرہ آخرت ہوجاتے ہیں اور مرنے کے بعد اس پر جزاء ملتی ہے مگر ان کا سلسلہ مرنے کے بعد آئندہ جاری نہیں رہتا۔ کیونکہ زندگی میں جب تک یہ اعمال ہوتے تھے اس کا ثواب ملتا رہتا تھا جب زندگی ختم ہوگئی تو یہ اعمال بھی ختم ہوگئے اور جب یہ اعمال ختم ہوگئے تو اس پر جزاء سزا کا ترتب بھی ختم ہوگیا۔ لیکن کچھ اعمال ایسے بھی ہیں جن کے ثواب کا سلسلہ نہ صرف یہ کہ زندگی میں ملتا ہے بلکہ مرنے کے بعد باقی و جاری رہتا ہے۔ ایسے ہی اعمال کے بارے میں اس حدیث میں ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ تین اعمال ایسے ہیں کہ زندگی ختم ہوجانے کے بعد بھی ان کے ثواب کا سلسلہ برابر جاری رہتا ہے اور مرنے والا برابر اس سے منتفع ہوتا رہتا ہے۔ پہلی چیز صدقہ جاریہ ہے، یعنی اگر کوئی آدمی اللہ کی راہ میں زمین وقف کر گیا ہے یا کنواں و تالاب بنوا گیا ہے یا ایسے ہی اللہ کی مخلوق کے فائدہ کی خاطر کوئی دوسری چیز اپنے پیچھے چھوڑ گیا ہے تو جب تک یہ چیزیں قائم رہیں گی اور لوگ اس سے فائدہ اٹھاتے رہیں گے اس کو برابر ثواب ملتا رہے گا۔ دوسری چیز علم نافع ہے یعنی کسی ایسے عالم نے وفات پائی جو اپنی زندگی میں لوگوں کو اپنے علم سے فائدہ پہنچاتا رہا اور پھر اپنے علوم و معارف کو کسی کتاب کے ذریعہ محفوظ کر گیا جو ہمیشہ لوگوں کے لئے فائدہ مند اور رشد و ہدایت کا سبب بنی ہے یا کسی ایسے آدمی کو اپنا شاگرد بنا گیا جو اس کے علم کا صحیح وارث ہے جس سے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں تو یہ سب چیزیں ایسی ہیں جو زندگی ختم ہونے کے بعد اس کے لئے سرمایہ وسعادت ثابت ہوں گی اور جن کا ثواب اسے وہاں برابر ملتا رہے گا۔ تیسری چیز اولاد صالح ہے ظاہر ہے کہ کسی انسان کے لئے سب سے بڑی سعادت اور وجہ افتخار اس کی اولاد صالح ہی ہوتی ہے اس لئے کہ صالح اولاد نہ صرف یہ کہ ماں باپ کے لئے دنیا میں سکون و راحت کا باعث بنتی ہے بلکہ ان کے مرنے کے بعد ان کے لئے وسیلہ نجات اور ذریعہ فلاح بھی بنتی ہے اور اس طرح سے کہ لائق و نیک لڑکا اپنے والدین کی قبروں پر جاتا ہے وہاں فاتحہ پڑھتا ہے دعائے مغفرت کرتا ہے، قرآن پڑھ کر ان کو بخشتا ہے اور ان کی طرف سے خیرات و صدقات کرتا ہے اور ظاہر ہے کہ یہ سب چیزیں مردہ کے لئے ثواب کا باعث ہیں جن سے وہ اخروی زندگی میں کامیاب ہوتا ہے۔
199
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْہ، قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَنْ نَّفَّسَ عَنْ مُّؤْمِنٍ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ الدُّنْےَا نَفَّسَ اللّٰہُ عَنْہُ کُرْبَۃً مِّنْ کُرَبِ ےَوْمِ الْقِےٰمَۃِ وَمَنْ ےَّسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ ےَسَّرَ اللّٰہُ عَلَےْہِ فِی الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَہُ اللّٰہُ فِی الدُّنْےَا وَالْاٰخِرَۃِ وَاللّٰہُ فِیْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا کَانَ الْعَبْدُ فِیْ عَوْنِ اَخِےْہِ وَمَنْ سَلَکَ طَرِےْقًا ےَّلْتَمِسُ فِےْہِ عِلْمًا سَھَّلَ اللّٰہُ لَہُ بِہٖ طَرِےْقًا اِلَی الْجَنَّۃِ وَ مَا اجْتَمَعَ قَوْمٌ فِی بَےْتٍ مِّنْ بُےُوْتِ اللّٰہِ ےَتْلُوْنَ کِتَابَ اللّٰہِ وَےَتَدَارَسُوْنَہُ بَےْنَھُمْ اِلَّا نَزَلَتْ عَلَےْھِمُ السَّکِےْنَۃُ وَغَشِےَتْھُمُ الرَّحْمَۃُ وَحَفَّتْھُمُ الْمَلٰئِکَۃُ وَذَکَرَھُمُ اللّٰہُ فِےْمَنْ عِنْدَہُ وَمَنْ بَطَّأَ بِہٖ عَمَلُہُ لَمْ ےُسْرِعْ بِہٖ نَسَبُہُ ۔ (مسلم)
اور حضر ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ جو آدمی دنیا کی سختیوں میں سے کسی مسلمان کی کوئی سختی اور تنگی دور کرے تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن وہاں کی سختیاں اس سے دور کرے گا اور جس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کی پردہ پوشی کرے گا اور اللہ تعالیٰ اس وقت تک بندوں کی مدد کرتا ہے جب تک وہ اپنے بھائی مسلمان کی مدد کرتا رہتا ہے اور جو آدمی علم کی تلاش میں کسی راستہ پر چلتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر جنت کے راستہ کو آسان کردیتا ہے اور جب کوئی جماعت اللہ کے گھر (مسجد یا مدرسہ) میں قرآن پڑھتی پڑھاتی ہے تو اس پر (اللہ کی جانب سے) تسکین نازل ہوتی ہے۔ رحمت الٰہی اس کو اپنے اندر چھپا لیتی ہے اور فرشتے اس کو گھیر لیتے ہیں، نیز اللہ تعالیٰ اس جماعت کا ذکر ان (فرشتوں) میں کرتا ہے جو اس کے پاس رہتے ہیں اور جس نے عمل میں تاخیر کی آخرت میں اس کا نسب کام نہیں آئے گا۔ (صحیح مسلم)

تشریح
اس حدیث سے اسلام کی اخلاقی تعلیمات کی عظمت و برتری کا پتہ چلتا ہے، اسلام اپنی تعلیمات کے ذریعہ پوری انسانی براداری کے درمیان محبت و مروت، انسانی ہمدردی و رواداری، امدادومعاونت اور حسن سلوک کی اعلیٰ روح پیدا کرنا چاہتا ہے تاکہ انسان اخلاق و محبت کی ایک کڑی میں منسلک ہو کر پورے امن و سکون اور چین و راحت کے ساتھ حقوق عبدیت ادا کرسکیں۔ چنانچہ فرمایا جا رہا ہے کہ اگر تم قیامت کے دن کی سختی سے بچنا چاہتے ہو تو تم اپنے بھائی کی خبر گیری کرو جو دنیا کی سختی میں پھنسا ہوا ہے، اگر اس پر کوئی سخت وقت آپڑا ہے تو اس کی مدد کرو۔ اگر وہ زندگی کی کسی الجھن میں پھنسا ہوا ہے تو اسے چھٹکارادلاؤ۔ اگر وہ مصائب و تکلیف میں مبتلا ہے تو ان کو اس سے دور کرو۔ اس لئے کہ حسن سلوک کا یہی وہ راستہ ہے جس پر چل کر تم آخرت کی سختیوں سے نہایت آسانی کے ساتھ گزر جاؤ گے۔ اعلان کیا جا رہا ہے کہ اگر تم دین و دنیا دونوں جگہ کی آسانیاں چاہتے ہو، اگر تم اس کے متمنی ہو کہ دنیا کی کامیابی و کامرانی تمہارے قدم چومے اور آخرت کی فلاح وسعادت تمہارے حصہ میں آئے تو اپنے اس بھائی کی مدد کرو جو تنگدست ہے۔ مفلسی و متلاشی کے جال میں پھنسا ہوا ہے، بےروزگاری و تباہ حالی کی چکی میں پس رہا ہے، مثلاً اگر وہ مقروض ہے اور اللہ نے تمہیں وسعت دی ہے تو اس کا قرض ادا کردو۔ اگر کوئی خود تمہارا مقروض ہے اور تم جانتے ہو کہ وہ قرض ادا کرنے پر قادر نہیں ہے تو تم اس کا قرض معاف کردو، اگر کوئی انتہائی تباہ حال و پریشان ہے تو اس کی مدد کر کے تنگدستی سے اسے چھٹکار دلاؤ۔ اگر کوئی اپنی ناداری و مفلسی کی بناء پر اپنی کسی سخت ضرورت کو پورا نہیں کرسکتا تو تم اس کی اس ضرورت کو پورا کردو اور پھر دیکھو اللہ کی رحمت کسی طرح بڑھ کر تمہیں اپنے دامن میں چھپاتی ہے۔ دنیا کی عزت و عظمت تمہارے قدموں میں کھیلتی نظر آئے گی اور زندگی کی ہر آسانی تمہارے لئے مہیا ہوگی اور نہ صرف دنیا میں بلکہ آخرت میں بھی اللہ کی رحمت تمہارے ساتھ ہوگی، وہاں کی ہر سختی اور ہر آزمائش میں تمہارا ہی حسن سلوک مددگار و معاون ہوگا اور تم وہاں کے ہر امتحان میں کامیاب رہو گے۔ اسی طرح فرمایا گیا ہے کہ اگر تم دنیا و آخرت میں اپنے عیوب کی پردہ پوشی چاہتے ہو تو تم دنیا میں اپنے بھائی کی پردہ پوشی کرو۔ یعنی کسی کے عیب کو لوگوں کے سامنے بیان کر کے اسے رسوا اور ذلیل نہ کرو۔ اگر کسی سے کوئی گناہ سرزد ہوگیا ہے تو اسے لوگوں کے سامنے ظاہر کر کے اور برسر عام اچھال کے اسے شرمندہ نہ کرو کیونکہ یہ اللہ کا معاملہ ہے وہ اگر چاہے گا تو اسے دنیا ہی میں یا آخرت میں سزا دے دے گا ورنہ اپنی رحمت سے اسے معاف کر دے گا۔ یا پردہ پوشی کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی اپنی ناداری و مفلسی کی بنا پر لباس کی نعمت سے محروم ہے اور اتنا تنگدست و غریب ہے کہ اپنے ستر کو بھی نہیں چھپا سکتا تو چاہئے کہ اپنے اس نادار بھائی کی ستر پوشی کرے اس لئے کہ جو اپنے بھائی کی ستر پوشی کرے گا اللہ تعالیٰ دنیا میں اور قیامت میں اس کے عیوب اور گناہوں کی پردہ پوشی فرمائے گا اور آخر میں عمومی طور پر یہ کلیہ بتادیا گیا ہے کہ جب تک کوئی بندہ اپنے کسی بھائی کی مدد میں لگا رہتا ہے اور اللہ کی مخلوق کی خبر گیری میں مصروف رہتا ہے تو اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی مدد و نصرت رہتی ہے۔ حدیث میں طلب علم اور طالب علم کی فضیلت بھی ظاہر فرمائی جا رہی ہے، چناچہ ارشاد ہے ہو رہا ہے کہ جو آدمی علم دین کے حصول کے لئے اپنے وطن و شہر کو چھوڑ کر عزیز و اقا رب سے جدا ہو کر اور عیش و آرام پر لات مار کر حصول علم کے جذبہ سے باہر نکلتا ہے اور تلاش علم کے لئے راہ مسافرت پر گامزن ہوتا ہے تو رب قدوس اس کی ریاضت و مشقت اور جان کا ہی و پریشانی کی وجہ سے اس پر بہشت کی راہ آسان کردیتا ہے یعنی طالب علم کی کوششوں کے صلہ میں اسے جنت میں داخل کیا جائے گا یا یہ کہ اسے خداوند کیجانب سے اس عظیم سعادت کی توفیق ہوگی کہ اس نے جس علم کی تلاش میں اتنی مصیبتوں اور پریشانیوں کو برادشت کیا اس پر وہ نیک عمل بھی کرے جو جنت میں داخل ہونے کا سبب اور باعث ہے۔ اسی طرح جو لوگ مساجد و مدارس میں حصول علم میں منہمکم ہوتے ہیں اور قرآن کے علوم و معارف سے استفادہ کرنے اور دوسروں کو پڑھانے میں مشغول ہوتے ہیں ان پر اللہ کی جانب سے بےپایاں رحمت کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں اور ان پر اللہ کی جانب سے تسکین کا نزول ہوتا ہے یعنی طلب علم کے سلسلہ میں ان کے اندر خاطر جمعی اور دل بستگی ودیعت فرمائی جاتی ہے جس کی وجہ سے ان کے قلوب دنیا کے عیش و عشرت، راحت و آرام اور غیر اللہ کے خوف و ڈر سے پاک صاف ہو کر ہر وقت اللہ کی طرف لو لگائے رہتے ہیں اور ان کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے دل نور الہٰی کی مقدس روشنی سے جگمگا اٹھتے ہیں نیز فرشتے ان کی عزت و توقیر کرتے ہیں اور فرط عقیدت سے ان لوگوں کو گھیرے رہتے ہیں اور پھر رب قدوس اس مقدس جماعت کا تذکرہ جو درس و تدریس میں مشغول ہوتی ہے اپنے ان فرشتوں کے درمیان کرتا ہے جو اس کے پاس ہوتے ہیں یہ اس جماعت کی انتہائی عظمت و فضیلت کی دلیل ہے۔ آخر حدیث میں اس طرف اشارہ فرمایا گیا ہے کہ آخرت کی کامیابی و کامرانی اور فلاح وسعادت کا درا و مدار عمل پر ہے۔ اگر دنیا میں عمل خیر میں کوتاہی نہیں تو آخرت میں عزت و عظمت کا حقدار ہوگا اور دنیا میں کسی نے عمل میں کوتاہی کی اگرچہ وہ دنیا میں کتنا ہی با اقبال و با عظمت کیوں نہ رہا ہو اور کتنا ہی بڑا حسب و نسب والا کیوں نہ ہو آخرت میں اس سے باز پرس ہوگی اور وہاں دنیا کی عالی نسبی اور وجاہیت کچھ کام نہیں دے گی بندہ عشق شدی ترک نسب کن جامی کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست (یعنی اے جامی) جب تم اسیر عشق ہوگئے تو حسب و نسب کے چکر میں نہ پڑو کیونکہ اس راہ میں فلاں ابن فلاں کوئی چیز نہیں ہے۔
200
Mishkaat Shareef
صحیح
ووَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اَوَّلَ النَّاسِ ےُقْضٰی عَلَےْہِ ےَوْمَ الْقِےٰمَۃِ رَجُلٌ اُسْتُشْھِدَ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہ، نِعَمَہ، فَعَرَفَھَا فَقَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ قَاتَلْتُ فِےْکَ حَتَّی اسْتُشْھِدْتُّ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ قَاتَلْتَ لِاَنْ ےُّقَالَ جَرِیٌّ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ تَعَلَّمَ الْعِلْمَ وَعَلَّمَہُ وَقَرَءَ الْقُرْآنَ فَاُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ تَعَلَّمْتُ الْعِلْمَ وَعَلَّمْتُہُ وَقَرَاْتُ فِےْکَ الْقُرْآنَ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ تَعَلَّمْتَ الْعِلْمَ لِےُقَالَ اِنَّکَ عَالِمٌ وَقَرَأْتَ الْقُرْآنَ لِیُقَالَ ھُوَ قَارِیٌ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ حَتّٰی اُلْقِیَ فِی النَّارِ وَرَجُلٌ وَّسَّعَ اللّٰہُ عَلَےْہِ وَاَعْطَاہُ مِنْ اَصْنَافِ الْمَالِ کُلِّہٖ فَأُتِیَ بِہٖ فَعَرَّفَہُ نِعَمَہُ فَعَرَفَھَا قَالَ فَمَا عَمِلْتَ فِےْھَا قَالَ مَا تَرَکْتُ مِنْ سَبِےْلٍ تُحِبُّ اَنْ ےُّنْفَقَ فِےْھَا اِلَّا اَنْفَقْتُ فِےْھَا لَکَ قَالَ کَذَبْتَ وَلٰکِنَّکَ فَعَلْتَ لِےُقَالَ ھُوَ جَوَّادٌ فَقَدْ قِےْلَ ثُمَّ اُمِرَ بِہٖ فَسُحِبَ عَلٰی وَجْھِہٖ ثُمَّ اُلْقِیَ فِی النَّارِ۔ (صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ قیامت کے دن پہلا آدمی جس پر (خلوص نیت کو ترک کردینے کا) حکم لگایا جائے گا وہ ہوگا جسے (دنیا میں) شہید کردیا گیا تھا۔ چناچہ (میدان حشر میں) وہ پیش کیا جائے گا اور اللہ تعالیٰ اس کو اپنی (دی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا کام کیا ؟ یعنی اللہ اسے اپنی نعمتیں جتا کر الزاماً فرمائے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکرانہ میں کیا اعمال کئے ؟ وہ کہے گا میں تیری راہ میں لڑا یہاں تک کہ شہید کردیا گیا۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تو جھوٹا ہے کیونکہ تو اس لئے لڑا تھا کہ تجھے بہادر کہا جائے چناچہ تجھے (بہادر کہا گیا) اور تیرا اصل مقصد مخلوق سے حاصل ہوا اب مجھ سے کیا چاہتا ہے، پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل کھینچا جائے، یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا، پھر (دوسرا) وہ آدمی ہوگا جس نے علم حاصل کیا، دوسروں کو تعلیم دی اور قرآن کو پڑھا چناچہ اسے بھی (اللہ کے حضور میں) لایا جائے گا، اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی عطا کی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی پھر اللہ پوچھے گا کہ تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا اعمال کئے ؟ وہ کہے گا میں نے علم حاصل کیا اور دوسروں کو سکھایا اور تیرے ہی لئے قرآن پڑھا اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو نے تو علم محض اس لئے حاصل کیا تھا تاکہ تجھے عالم کہا جائے اور قرآن اس لئے پڑھا تھا تاکہ تجھے لوگ قاری کہیں، چناچہ تجھے (عالم و قاری) کہا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ پھر (تیسرا) وہ آدمی ہوگا جس کو اللہ نے (معیشت میں) وسعت دی اور ہر قسم کا مال عطا فرمایا۔ اس کو بھی اللہ کے حضور میں لایا جائے گا اللہ تعالیٰ اس کو (اپنی عطا کی ہوئی) نعمتیں یاد دلائے گا جو اسے یاد آجائیں گی۔ پھر اللہ تعالیٰ اس سے فرمائے گا تو نے ان نعمتوں کے شکر میں کیا اعمال کئے ؟ وہ کہے گا میں نے کوئی ایسی راہ نہیں چھوڑی جس میں تو خرچ کرنا پسند کرتا ہو اور تیری خوشنودی کے لئے میں اس میں خرچ نہ کیا ہو، اللہ تعالیٰ فرمائے گا تو جھوٹا ہے، تو نے خرچ اس لئے کیا تاکہ تجھے (سخی) کہا جائے اور تجھے (سخی) کہا گیا۔ پھر حکم دیا جائے گا کہ اسے منہ کے بل گھسیٹا جائے یہاں تک کہ اسے آگ میں ڈال دیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)

تشریح
اعمال میں نیت کا کیا درجہ ہے ؟ اور خلوص کی کتنی ضرورت ہے ؟ اس حدیث سے بخوبی واضح ہوتا ہے بندہ کتنا بڑے سے بڑا عمل خیر کرے، بڑی سے بڑی نیکی کر ڈالے لیکن اگر اس کی نیت بخیر نہیں ہے تو اس کا وہ عمل اور نیکی کسی کام نہیں آئے گی اللہ تعالیٰ کو وہی عمل پسند ہے جس میں محض اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور اس کی رضا کی نیت ہو اور جذبہ اطاعت خلوص سے بھر پور ہو، ورنہ جو بھی عمل بغیر اخلاص اور بغیر نیت خیر کیا جائے گا چاہے وہ کتنا ہی عظیم عمل کیوں نہ ہو بارگاہ الوہیت سے ٹھکرا دیا جائے گا اور اس پر کوئی مفید نتیجہ مرتب نہیں ہوگا بلکہ الٹا اللہ تعالیٰ کے عذاب میں گرفتار کیا جائے گا جیسا کہ اس حدیث سے معلوم ہوا۔
201
Mishkaat Shareef
صحیح
وعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَمْرٍورَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِنَّ اللّٰہَ لَا ےَقْبِضُ الْعِلْمَ انْتِزَاعًا ےَنْتَزِعُہُ مِنَ الْعِبَادِ وَلٰکِنْ ےَّقْبِضُ الْعِلْمَ بِقَبْضِ الْعُلَمَآءِ حَتّٰی اِذَا لَمْ ےَبْقَ عَالِمًا اتَّخَذَالنَّاسُ رُءُ ْوسًا جُھَّالاً فَسُئِلُوْا فَأَفْتَوْا بِغَےْرِ عِلْمٍ فَضَلُّوْا وَاَضَلُّوْا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو (رض) راوی ہیں کہ سرکار دو عالم ﷺ نے ارشاد فرمایا۔ اللہ تعالیٰ علم کو (آخری زمانہ میں) اس طرح نہیں اٹھالے گا کہ لوگوں (کے دل و دماغ) سے اسے نکال لے بلکہ علم کو اس طرح اٹھاے گا کہ علماء کو (اس دنیا سے) اٹھالے گا یہاں تک کہ جب کوئی عالم باقی نہیں رہے گا تو لوگ جاہلوں کو پیشوا بنالیں گے ان سے مسئلے پوچھے جائیں گے اور وہ بغیر علم کے فتویٰ دیں گے لہٰذا وہ خود بھی گمراہ ہوں گے اور لوگوں کو بھی گمراہ کریں گے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)