hadith book logo

Mishkaat Shareef

60. افعال حج کا بیان

مشكاة المصابيح

2534
Mishkaat Shareef
صحیح
لغت کے اعتبار سے حج کے معنی ہیں کسی باعظمت چیز کی طرف جانے کا قصد کرنا اور اصطلاح شریعت میں کعبہ مکرمہ کا طواف اور مقام عرفات میں قیام انہیں خاص طریقوں سے جو شارع نے بتائے ہیں اور اسی خاص زمانے میں جو شریعت سے منقول ہے، حج کہلاتا ہے۔ حج دین کے ان پانچ بنیادی ستونوں میں سے ایک عظیم القدر ستون ہے جن پر اسلم کے عقائد و اعمال کی پوری عمارت کھڑی ہوئی ہے حج کا ضروری ہونا (جس کو اصطلاح فقہ میں فرض کہا جاتا ہے) قرآن مجید سے اسی طرح صراحت کے ساتھ ثابت ہے جس طرح زکوٰۃ کی فرضیت ثابت ہے۔
2535
Mishkaat Shareef
صحیح
فرضیت حج کی سعادت عظمی ہمارے آقا سرکار دو عالم ﷺ کی امت کے ساتھ مختص ہے گو کہنے کو تو حج کا رواج حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کے وقت سے ہے مگر اس وقت اس کی فرضیت کا حکم نہ تھا۔ چناچہ صحیح مسلک یہی ہے کہ حج صرف امت محمدیہ پر فرض ہوا ہے۔ حج کب فرض ہوا ؟ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں، کچھ حضرات کہتے ہیں سن ٥ ھجری میں فرض ہوا، اکثر علما سن ٦ ھجری میں فرضیت کے قائل ہیں لیکن زیادہ صحیح قول ان علماء کا ہے جو یہ کہتے ہیں کہ حج سن ٩ ھ کے آخر میں فرض ہوا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کا یہ حکم نازل ہوا آیت (وللہ علی الناس حج البیت من استطاع الیہ سبیلا) ۔ یعنی اللہ کی خوشنودی کے لئے لوگوں پر کعبہ کا حج (ضروری) ہے اور یہ اس شخص پر جو وہاں تک جاسکے۔ چونکہ یہ حکم سال کے آخر میں نازل ہوا تھا اس لئے آپ ﷺ تو فعال حج کی تعلیم میں مشغولیت اور آئندہ سال کے لئے سفر حج کے اسباب کی تیاری میں مصروفیت کی وجہ سے خود حج کے لئے تشریف نہیں لے جاسکے، بلکہ اس سال یعنی سن ٩ ھ میں حضرت ابوبکر (رض) کو حاجیوں کا امیر مقرر فرما کر مکہ بھیج دیا تاکہ وہ لوگوں کو حج کرا دیں اور پھر آپ ﷺ خود سال آئندہ یعنی سن ١٠ ھ میں اس حکم الٰہی کی تعمیل میں حج کے لئے تشریف لے گئے یہ عجیب اتفاق ہے کہ فرضیت کے بعد آپ ﷺ نے یہی پہلا حج کیا جو آخری حج بھی ثابت ہوا۔ چناچہ یہی حج حجۃ الوداع کے نام سے مشہور ہے اسی حج کے بعد آپ ﷺ کے چہرہ عالمتاب اور وجود پر نور نے اس دنیا سے پردہ کیا۔
2536
Mishkaat Shareef
صحیح
حج عمر میں ایک بار فرض ہے جب کہ وہ تمام شرائط پائی جائیں جن سے حج فرض ہوتا ہے ان شرائط کے پائے جانے کے باوجود جو شخص حج نہ کرے وہ فاسق و گنہگار ہے اور جو شخص حج کی فرضیت کا انکار کرے وہ کافر ہے۔ صحیح یہ ہے کہ جب حج کے شرائط پائے جائیں تو فی الفور حج کرنا فرض ہے۔ دوسرے سال تک اس میں تاخیر کرنا گناہ ہے۔ حج ہے اس شخص پر جو میقات کے اندر بغیر احرام باندھے چلا جائے اور اس کے بعد حج کا احرام باندھے اسی طرح اس شخص پر حج فرض ہے جس نے حج کی نذر کی ہو۔ ناجائز مال سے حج کرنا حرام ہے اور مکروہ تحریمی ہے اس شخص کے لئے جو ان لوگوں کو کی اجازت کے بغیر حج کرے جن سے اجازت لینا ضروری ہے اس شخص کے لئے بھی حج مکروہ تحریمی ہے جو ان لوگوں کے نفقہ کا انتظام کئے بغیر حج کرے جن کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے۔
2537
Mishkaat Shareef
صحیح
حج ان شرائط کے پائے جانے کے بعد فرض ہوتا ہے۔ (١) مسلمان ہونا، کافر پر حج فرض نہیں ہے (٢) آزاد ہونا، لونڈی غلام پر حج فرض نہیں ہے۔ (٣) عاقل ہونا، مجنون، مست اور بےہوش پر حج فرض نہیں۔ (٤) بالغ ہونا، نابالغ بچوں پر حج فرض نہیں۔ (٥) صحت مند و تندرست ہونا، بیمار، اندھے، لنگڑے، اپاہج پر حج فرض نہیں (٦) قادر ہونا یعنی اس قدر مال کا مالک ہونا جو ضرورت اصلیہ اور قرض سے زائد ہو اور اس کے زاد راہ اور سواری کے کرایہ و خرچ کے لئے کافی ہوجائے نیز جن لوگوں کا نفقہ اس کے ذمہ واجب ہے ان کے لئے بھی اس میں سے اس قدر چھوڑ جائے جو اس کی واپسی تک ان لوگوں کو کفایت کرسکے۔ (٧) راستے میں امن ہونا، اس بارے میں اکثر کا اعتبار ہے یعنی اگر اکثر لوگ امن وامان سے پہنچ جاتے ہوں تو حج فرض ہوگا، مثلا اگر اکثر لوگ راستے میں ڈاکہ زنی وغیرہ سے لٹ جاتے ہوں یا کوئی ایسا دریا اور سمندر حائل ہو جس میں بکثرت جہاز ڈوب جاتے ہوں اور اکثر ہلاک ہوجاتے ہوں یا راستے میں اور کسی قسم کا خوف ہو تو ایسی حالت میں حج فرض نہیں ہوگا، ہاں اگر یہ حادثات کبھی کبھی اتفاقی طور پر ہوجاتے ہیں تو پھر حج کی فرضیت ساقط نہیں ہوگی (٨) عورت کے لئے ہمراہی میں شوہر یا کسی اور محرم کا موجود ہونا جب کہ اس کے یہاں سے مکہ کی دوری بقدر مسافت سفر یعنی تین دن کی ہو۔ اگر شوہر یا محرم ہمراہی میں نہ ہوں۔ تو پھر عورت کے لئے سفر حج اختیار کرنا جائز نہیں ہے اور محرم کا عاقل بالغ ہونا اور مجوسی و فاسق نہ ہونا بھی شرط ہے۔ محرم کا نفقہ اس عورت پر ہوگا جو اپنے اپنے ساتھ حج میں لے جائے گی۔ نیز جس عورت پر حج فرض ہو وہ اپنے شوہر کی اجازت کے بغیر بھی محرم کے ساتھ حج کے لئے جاسکتی ہے۔ اگر کوئی نابالغ لڑکا یا غلام احرام باندھنے کے بعد بالغ ہوجائے یا آزاد ہوجائے اور پھر وہ حج پورا کرے تو اس صورت میں فرض ادا نہیں ہوگا ! ہاں اگر لڑکا فرض حج کے لئے از سر نو احرام باندھے گا تو صحیح ہوجائے گا۔ لیکن غلام کا احرام فرض حج کے لئے اس صورت میں بھی درست نہیں ہوگا۔
2538
Mishkaat Shareef
صحیح
حج میں پانچ چیزیں فرض ہیں۔ (١) احرام، یہ حج کے لئے شرط بھی ہے اور رکن یعنی فرض بھی ہے۔ (٢) وقوف عرفات یعنی عرفات میں ٹھہرنا خواہ ایک ہی منٹ کے بقدر ہو اور خواہ دن میں ہو یا رات میں (٣) طواف الزیارۃ اس کو طواف الافاضہ اور طواف الرکن بھی کہتے ہیں (٤) مذکورہ بالا فرائض میں ترتیب کا لحاظ یعنی احرام کو وقوف اور وقوف کو طواف زیارت پر مقدم کرنا (٥) ہر فرض کو اسی مکان مخصوص میں ادا کرنا یعنی وقوف کا خاص عرفات میں اور طواف کا حاصل مسجد حرام کعبہ مکرمہ کے گرد ہونا اور ہر فرض کا اسی خاص وقت میں ادا کرنا جو شریعت سے اس کے لئے مقرر ہے یعنی وقوف کا نویں ذی الحجہ کی ظہر کے وقت سے دسویں تاریخ کی فجر سے پہلے تک ادا کرنا اور طواف کا اس کے بعد ادا کرنا۔
2539
Mishkaat Shareef
صحیح
حج میں یہ چیزیں واجب ہیں۔ (١) وقوف مزدلفہ (٢) صفا اور مروہ کے درمیان سعی (٣) رمی جمار (٤) آفاقی یعنی غیر مکی کے لئے طواف قدوم (٥) حلق یا تقصیر یعنی بال منڈوانا یا کترانا (٦) اور ہر وہ چیز جس کو ترک کردینے پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوجاتا ہو۔ ان فرائض و واجبات کے علاوہ اور بہت سی چیزیں جو حج کے سنن و آداب کے تحت آتی ہیں وہ آئندہ صفحات میں موقع بموقع بیان ہوں گی۔
2540
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : : خطبنا رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : يا أيها الناس قد فرض عليكم الحج فحجوا فقال رجل : أكل عام يا رسول الله ؟ فسكت حتى قالها ثلاثا فقال : لو قلت : نعم لوجبت ولما استطعتم ثم قال : ذروني ما تركتكم فإنما هلك من كان قبلكم بكثرة سؤالهم واختلافهم على أنبيائهم فإذا أمرتكم بشيء فأتوا منه ما استطعتم وإذا نهيتكم عن شيء فدعوه . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ رسول کریم ﷺ نے ہمارے سامنے خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ لوگو ! تم پر حج فرض کیا گیا ہے لھذا تم حج کرو یہ سن کر ایک شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا ہم ہر سال حج کریں ؟ آپ ﷺ خاموش رہے یہاں تک کہ اس شخص نے تین مرتبہ یہی بات کہی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر میں ہاں کہہ دیتا ہوں تو یقینا حج ہر سال کے لئے فرض ہوجاتا اور تم ہر سال حج کرنے پر قادر نہیں ہوسکتے تھے ؟ پھر آپ ﷺ نے فرمایا جب تک میں تمہیں چھوڑوں تم مجھے چھوڑ دو (یعنی جو کچھ میں نہ کہا کروں مجھ سے مت پوچھا کرو) کیونکہ جو لوگ تم سے پہلے گزرے ہیں یعنی یہود و نصاریٰ وہ اسی سبب سے ہلاک ہوئے کہ وہ اپنے انبیاء سے پوچھتے اور ان سے اختلاف کرتے تھے (جیسا کہ بنی اسرائیل کے بارے میں منقول ہے) لہٰذا جب میں تمہیں کسی بات کا حکم دوں تو اس میں سے جو کچھ تم کرنے کی طاقت رکھتے ہو کرو اور جب میں تمہیں کسی بات سے منع کروں تو اس کو چھوڑ دو ۔ (مسلم)

تشریح
اللہ تعالیٰ نے جب حج کی فرضیت کا فرمان نازل فرمایا تو آنحضرت ﷺ نے اس کو امت کے اوپر نافذ کرنے کے لئے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ حج کریں چناچہ جب آپ ﷺ لوگوں کے سامنے حج کی فرضیت بیان فرما رہے تھے اور انہیں حج کرنے کا حکم دے رہے تھے تو ایک صحابی جن کا نام اقرع بن حابس (رض) تھا پوچھ بیٹھے کہ حج ہر سال کیا جائے گا ؟ وہ یہ سمجھے کہ جس طرح دیگر عبادتیں یعنی نماز، روزہ، زکوٰۃ بار بار ادا کی جاتی ہیں اسی طرح یہ حج بھی مکرر ہی ہوگا اسی لئے انہوں نے یہ سوال کیا۔ لیکن آنحضرت ﷺ کو یہ بات ناگوار ہوئی اس لئے آپ ﷺ نے پہلے تو تنبیہا سکوت اختیار فرمایا اور کوئی جواب نہیں دیا۔ جب انہوں نے کئی بار پوچھا تو آخر کار آنحضرت ﷺ نے جواب دیا کہ اگر میں اس سوال کے جواب میں ہاں کہہ دیتا تو یقینا ہر سال حج کرنا فرض ہوجاتا کیونکہ میں یہ جواب اللہ تعالیٰ کے حکم کے بموجب دیتا بغیر اس کے حکم سے میری زبان سے کوئی تشریعی بات نہیں نکلتی اور اگر ہر سال حج فرض ہوجاتا تو تم میں اتنی طاقت نہ ہوتی کہ ہر سال اس کی ادائیگی پر قادر نہ ہوتے۔ پھر آپ ﷺ نے متنبہ فرمایا کہ کسی بھی دینی حکم کو مجھ پر چھوڑ دو ، جب میں کسی فعل کا حکم دوں تو مجھ سے یہ نہ پوچھوں کہ یہ فعل کتنا ہے اور کیسا ہے جب تک میں خود یہ بیان نہ کروں کہ یہ فعل کتنا کیا جائے اور کس طرح کیا جائے۔ میں جس طرح کہوں تم اسی طرح ادا کرو۔ اگر کسی فعل کے بارے میں بلا قید و تعین اعداد کے مطلق حکم کروں تو اس حکم کی اسی طرح بجا آوری کرو اور اگر یہ بیان کروں کہ اس فعل کو اتنی بار اور اس طرح کرو تو اسے اتنی ہی بار اور اسی طرح کرو۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ میں دنیا میں اسی لئے آیا ہوں کہ تم تک اسلام کے احکام پوری وضاحت کے ساتھ پہنچا دوں اور شریعت کو بیان کر دوں جو بات جس طرح ہوتی ہے اسے اسی طرح بیان کردیتا ہوں۔ تمہارے سوال کی کوئی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ پھر آخر میں آپ ﷺ نے احکام کی بجا آوری کے سلسلے میں تائید و مبالغہ کے طور پر فرمایا کہ فا توا منہ ما استطعتم (اس میں سے جو کچھ تم کرنے کی طاقت رکھتے ہو کرو) یعنی اللہ اور رسول ﷺ کے احکام پر عمل کرنے کی تم جتنی بھی طاقت رکھتے ہو اس کے مطابق عمل کرو یا پھر یہ کہ اس جملے کے ذریعہ آپ ﷺ نے رفع حرج پر اشارہ فرمایا کہ مثلاً نماز کے بعض شرائط و ارکان ادائیگی سے تم اگر عاجز ہو تو جس قدر ہو سکے اسی قدر کرو، جو تم سے نہ ہو سکے اسے چھوڑ دو جیسے اگر تم میں اتنی طاقت نہیں ہے کہ کھڑے ہو کر نماز ادا کرسکو تو بیٹھ کر نماز پڑھو، اگر بیٹھ کر پڑھنے سے بھی عاجز ہو تو لیٹے ہی لیٹے پڑھو مگر پڑھو ضرور، اسی پر دوسرے احکام و اعمال کو بھی قیاس کیا جاسکتا ہے۔
2541
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : سئل رسول الله صلى الله عليه و سلم : أي العمل أفضل ؟ قال : إيمان بالله ورسوله قيل : ثم ماذا ؟ قال : الجهاد في سبيل الله . قيل : ثم ماذا ؟ قال : حج مبرور
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ سے پوچھا گیا کہ کون سا عمل سب سے بہتر ہے ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانا۔ پوچھا گیا کہ پھر کون سا عمل ؟ فرمایا اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، پوچھا گیا کہ پھر کون سا، فرمایا حج مقبول۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
افضل اعمال کے سلسلے میں سب سے بہتر عمل کون سا ہے۔ مختلف احادیث منقول ہیں کسی حدیث میں کسی عمل کو افضل فرمایا گیا ہے اور کسی میں کسی کو، ان سب میں مطابقت و موافقت یوں پیدا کی جاتی ہے کہ یہ اختلاف بیان سائلین کے اقوال، حیثیات اور مقامات کے فرق و تفاوت کی بناء پر ہے، اس حدیث کو تفصیل کے ساتھ کتاب الصلوۃ میں بھی ایک موقع پر بیان کیا جا چکا ہے۔
2542
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من حج فلم يرفث ولم يفسق رجع كيوم ولدته أمه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ کے لئے حج کرے اور حج کے دوران نہ ہم بستری اپنی عورت سے کرے اور نہ فسق میں مبتلا ہو تو وہ اس طرح بےگناہ ہو کر واپس آتا ہے جیسے اس دن بےگناہ تھا کہ جس دن اس کو اس کی ماں نے جنا تھا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
جو شخص اللہ کے لئے حج کرے کا مطلب یہ ہے کہ وہ محض اللہ تعالیٰ کی رضا اور خوشنودی اور صرف اس کے حکم کی بجا آوری کے لئے حج کرے، دکھانے، سنانے کا جذبہ یا غرض و مقصد پیش نظر نہ ہو۔ اس سلسلے میں اتنی بات ضرور جان لینی چاہئے کہ جو شخص حج اور تجارت یا مال وغیرہ لانے، دونوں کے قصد سے حج کے لئے جائے گا تو اسے ثواب کم ملے گا بہ نسبت اس شخص کے جو صرف حج کے لئے جائے گا کہ اسے ثواب زیادہ ملے گا۔ رفث کے معنی ہیں جماع کرنا، فحش گوئی میں مبتلا ہونا اور عورتوں کے ساتھ ایسی باتیں کرنا جو جماع کا داعیہ اور اس کا پیش خیمہ بنتی ہے۔ اور نہ فسق میں مبتلا ہو کا مطلب یہ ہے کہ حج کے دوران گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کرے اور صغیرہ گناہوں پر اصرار نہ کرے۔ یہ ذہن میں رہے کہ گناہوں سے توبہ نہ کرنا بھی کبیرہ گناہوں ہی میں شمار ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ربانی سے واضح ہوتا ہے آیت (ومن لم یتب فاولئک ہم الظالمون) ۔ اور جس نے توبہ نہیں کی تو یہی وہ ہیں جو اپنے حق میں ظالم ہیں۔ حاصل یہ کہ جو شخص خالصۃ للہ حج کرے اور اس حج کے دوران جماع اور فحش گوئی میں مبتلا نہ ہو اور نہ گناہ کی دوسری چیزوں کو اختیار کرے تو گناہ سے ایسا ہی پاک و صاف ہو کر حج سے واپس آتا ہے جیسا کہ گناہوں سے پاک و صاف ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔
2543
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العمرة إلى العمرة كفارة لما بينهما والحج المبرور ليس له جزاء إلا الجنة
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایک عمرہ سے دوسرے عمرہ تک کفارہ ہے ان صغیرہ گناہوں کے لئے جو ان دونوں عمروں کے درمیان ہوں اور حج مقبول کا بدلہ جنت کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم )