hadith book logo

Mishkaat Shareef

99. ولیمہ کا بیان

مشكاة المصابيح

3221
Mishkaat Shareef
صحیح
ولیمہ اس کھانے کو کہتے ہیں جو نکاح میں کھلایا جاتا ہے اور چونکہ ولیمہ مشتق ہے التیام سے جس کے معنی اجتماع کے ہیں اس لئے اس کھانے کو ولیمہ اسی لئے کہتے ہیں کہ وہ اجتماع زوجین کی تقریب میں کھلایا جاتا ہے۔ ولیمہ کی شرعی حیثیت اور اس کا وقت اکثر علماء کے قول کے مطابق ولیمہ مسنون ہے جب کہ بعض علماء اسے مستحب کہتے ہیں اور بعض حضرات کے نزدیک یہ واجب ہے اسی طرح ولیمہ کے وقت کے بارے میں بھی اختلافی اقوال ہیں۔ بعض علماء تو یہ فرماتے ہیں کہ ولیمہ کا اصل وقت دخول یعنی شب زفاف کے بعد ہے بعض حضرات کا یہ قول ہے کہ ولیمہ عقد نکاح کے وقت کھلانا چاہئے اور بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ عقد نکاح کے وقت بھی کھلانا چاہئے اور دخول کے بعد بھی۔ دو دن سے زیادہ وقت تک ولیمہ کھلانے کے بارے میں بھی علماء کے مختلف قول ہیں ایک طبقہ تو اسے مکروہ کہتا ہے یعنی علماء کے اس طبقہ کے نزدیک زیادہ سے زیادہ دو دن تک کھلایا جاسکتا ہے اس سے زیادہ وقت تک کھلانا مکروہ ہے حضرت امام مالک کے ہاں ایک ہفتہ تک کھلانا مستحب ہے لیکن اس سلسلہ میں زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ اس کا انحصار خاوند کی حیثیت و استطاعت پر ہے اگر وہ صرف ایک ہی وقت پر اکتفا کرے اور اگر کئی دن اور کئی وقت تک کھلانے کی استطاعت رکھتا ہے تو کئی دن اور کئی وقت تک کھلا سکتا ہے۔ ضیافت کی قسمیں مجمع البحار میں لکھا ہے کہ ضیافت یعنی دعوت کی آٹھ قسمیں ہیں ( ولیمہ) (خرس، اعذار، وکیرہ، نقیعہ، وضیمہ، عقیقہ، مادبہ چناچہ ولیمہ اس دعوت کو کہتے ہیں جو شادی بیاہ کے موقعہ پر کی جائے۔ خرس اس دعوت کو کہتے ہیں کہ جو بچہ کی پیدائش کی خوشی میں کی جائے اعزار اس دعوت کو کہتے ہیں جو ختنہ کی تقریب میں کی جائے وکیرہ اس دعوت کو کہتے ہیں جو مکان بننے کی خوشی میں کی جائے نقیعہ اس دعوت کو کہتے ہیں جو مسافر کے آنے کی تقریب میں کی جائے عقیقہ اس دعوت کو کہتے ہیں جو بچہ کا نام رکھنے کی تقرب میں کی جائے اور مادبہ ہر اس دعوت کو کہتے ہیں جو بلا کسی خاص تقریب کے کی جائے ضیافت کی یہ تمام قسمیں مستحب ہیں البتہ ولیمہ کے بارے میں بعض علماء کہتے ہیں کہ یہ دعوت واجب ہے۔
3222
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم رأى على عبد الرحمن بن عوف أثر صفرة فقال : ما هذا ؟ قال : إني تزوجت امرأة على وزن نواة من ذهب قال : بارك الله لك أولم ولو بشاة
حضرت انس کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ نے عبدالرحمن بن عوف کے بدن یا کپڑے پر زعفران کا زرد نشان دیکھا تو پوچھا کہ یہ کیا ہے عبدالرحمن نے کہا کہ میں نے ایک نواۃ سونے کے عوض ایک عورت سے نکاح کیا ہے، آنحضرت ﷺ نے یہ سن کر فرمایا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں مبارک کرے تم ولیمہ کرو یعنی کھانا پکوا کر کھلاؤ اگرچہ وہ ایک بکری کا ہو ( بخاری ومسلم)

تشریح
حضرت عبدالرحمن کے کپڑوں پر یا ان کے بدن پر زعفران کا نشان دیکھ کر آنحضرت ﷺ کا یہ فرمانا کہ یہ کیا ہے ؟ کا مطلب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ نے اس زعفران کے لگنے کا سبب دریافت فرمایا ہو اور یہ بھی احتمال ہے کہ آنحضرت ﷺ چونکہ مردوں کو خلوق استعمال کرنے سے منع فرماتے تھے (خلوق ایک خوشبو کا نام ہے جو زعفران وغیرہ سے بنتی ہے) اس لئے آپ ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعہ ان کو تنبیہ فرمائی کہ جب مردوں کے لئے یہ ممنوع ہے تو تم نے کیوں لگائی چناچہ عبدالرحمن نے جواب دیا کہ میں نے قصدًا نہیں لگائی ہے بلکہ دلہن سے اختلاط کی و جہ سے بغیر میرے قصد اور بغیر علم کے لگ گئی ہے۔ قاضی کہتے ہیں کہ جس طرح نش بیس درہم اور اوقیہ چالیس درہم کے برابر وزن کو کہتے ہیں اسی طرح نواۃ پانچ درہم کے برابر وزن کا نام ہے۔ لہذا ایک نواۃ سونے کے عوض کا مطلب یہ ہے کہ میں نے اس عورت کا مہر پانی درہم کے برابر یعنی پونے سولہ ماشہ سونا مقرر کیا ہے۔ بعض حضرات یہ بھی کہتے ہیں کہ نواۃ سے نواۃ تمر یعنی کھجور کی گٹھلی مراد ہے اور بظاہر یہی مراد زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اس صورت میں حضرت عبدالرحمن کے کہنے کا مطلب یہ ہوگا کہ میں نے کھجور کی گٹھلی کے بقدر سونے کا مہر باندھا ہے۔ تم ولیمہ کرنا اگرچہ ایک بکری کا ہو اس طرح کی عبارت تقلیل کم سے کم مقدار بیان کرنے کے لئے بھی استعمال ہوتی ہے اور یہاں تکثیر مراد ہے یعنی آنحضرت ﷺ کا مقصود یہ بیان کرنا تھا کہ اگرچہ زیادہ خرچ ہو تب بھی ولیمہ کرو اور تکثیر مراد لینے کی وجہ یہ ہے کہ اس زمانہ میں بکری کو ایک قلیل ترین مقدار کے اظہار کے لئے ذکر کرنا بعید از قیاس معلوم ہوتا ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اس زمانہ میں مسلمانوں کی مالی اور اقتصادی حالت بہت کمزور تھی لوگ ستو اور اسی قسم کی دوسری کم تر چیزوں کے ذریعہ ولیمہ کی سنت پوری کیا کرتے تھے پھر یہ کہ خود حضرت عبدا لرحمن بن عوف کی مالی حیثیت اس وقت اتنی زیادہ نہیں تھی کہ آنحضرت ﷺ ان کے سامنے بکری جیسی چیز کو کم سے کم مقدار کی صورت میں بیان فرماتے۔
3223
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : ما أولم رسول الله صلى الله عليه و سلم على أحد من نسائه ما أولم على زينب أولم بشاةوعنه قال : أولم رسول الله صلى الله عليه و سلم حين بنى بزينب بنت جحش فأشبع الناس خبزا ولحما . رواه البخاري
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اپنی کسی بھی زوجہ مطہرہ کا اتنا بڑا ولیمہ نہیں کیا جتنا بڑا ولیمہ حضرت زینب کے نکاح کے وقت کیا تھا، آنحضرت ﷺ نے ان کے نکاح میں ایک بکری کا ولیمہ کیا تھا (بخاری ومسلم)

تشریح
اس سے پہلے حدیث کی تشریح میں جو یہ بتایا گیا تھا کہ بکری کا ذکر بیان تکثیر کے لئے ہے تو اس حدیث سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ ایسا ولیمہ جس میں ایک بکری استعمال کی گی ہو ایک بڑے اور کثیر خرچ ولیمہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت زینب بنت جحش کے ساتھ شب زفاف گزارنے کے بعد ولیمہ کیا اور اس ولیمہ میں لوگوں کا پیٹ گوشت اور روٹی سے بھر دیا (بخاری )
3224
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : إن رسول الله صلى الله عليه أعتق صفية وتزوجها وجعل عتقها صداقها وأولم عليها بحيس . متفق عليه
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت صفیہ کو پہلے آزاد کیا اور پھر ان سے نکاح کرلیا آپ ﷺ نے ان کی آزادی ہی کو ان کا مہر قرار دیا اور ان کے نکاح میں حیس کا ولیمہ کیا (بخاری مسلم)

تشریح
حضرت صفیہ حیی بن اخطب کی بیٹی تھیں جو خیبر میں آباد قبیلہ بنوقریظہ و بنو نضیر کے سردار تھے جب خیبر کے یہودیوں سے مسلمانوں کی جنگ ہوئی اور اللہ تعالیٰ نے اس جنگ میں مسلمانوں کو فتح عطا کی تو صفیہ بھی ہاتھ لگیں اور بطور لونڈی آنحضرت ﷺ کی ملکیت میں آئیں مگر آپ ﷺ نے ان کو آزادی کے خلعت سے نوازا اور پھر اپنی زوجیت میں لے کر انہیں دین و دنیا کی سب سے بڑی سعادت سے سرفراز کیا۔ اس مسئلہ میں اہل علم کے اختلافی اقوال ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کو آزاد کر کے اس سے نکاح کرے اور اس کی آذادی ہی کو اس کا مہر قرار دے تو یہ جائز ہے یا نہیں ؟ چناچہ صحابہ کی ایک جماعت اور بعض علماء اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے پیش نظر اس کے جواز کے قائل ہیں جب کہ صحابہ اور علماء کی ایک جماعت نے اسے جائز نہیں کہا ہے اور حنفیہ کا بھی یہی مسلک ہے ان کی طرف سے اس حدیث کی یہ تاویل کی جاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کی طرف سے حضرت صفیہ کی آزادی کو ان کا مہر قرار دیا جانا ایک استثنائی صورت ہے جو صرف آنحضرت ﷺ کی ذات کے ساتھ مختص ہے لہذا یہ آنحضرت ﷺ کے خصائص میں سے تھا اور کسی کو جائز نہیں ہے۔ شرح ہدایہ میں لکھا ہے اگر کوئی شخص اپنی لونڈی کو آزاد کرے اور اس کی آزادی کو مہر قرار دے بایں طور کہ اس سے یہ کہے کہ میں نے تجھ کو اس شرط پر آزاد کیا کہ تو مجھ سے آزادی کے عوض نکاح کرلے اور پھر اس لونڈی نے اسے قبول کرلیا تو یہ آزاد کرنا صحیح ہوجائے گا یعنی وہ آزاد ہو جائیگی البتہ نکاح کے معاملے میں وہ خود مختار ہوگی یہاں تک کہ اگر اس نے اس شخص سے نکاح کرلیا تو اس کے لئے اس کا مہر مثل واجب ہوگا۔ حیس ایک کھانے کا نام ہے جو حلوے کی قسم کا ہوتا ہے اور کھجور گھی اور اقط سے بنتا ہے اقط کہ جس کا دوسرا نام قروط ہے پنیر کی طرح ہوتا ہے اور دہی سے بنایا جاتا ہے۔
3225
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : أقام النبي صلى الله عليه و سلم بين خيبر والمدينة ثلاث ليال يبنى عليه بصفية فدعوت المسلمين إلى وليمته وما كان فيها من خبز ولا لحم وما كان فيها إلا أن أمربالأنطاع فبسطت فألقي عليها التمر والأقط والسمن . رواه البخاري
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے خیبر اور مدینہ کے درمیان تین رات قیام فرمایا اور صفیہ کے ساتھ ان کے نکاح کے بعد شب زفاف گزاری اور میں نے مسلمانوں کو آپ ﷺ کی دعوت ولیمہ میں بلایا ولیمہ میں نہ تو گوشت تھا اور نہ روٹی تھی بلکہ آپ ﷺ نے دستر خوان بچھانے کا حکم دیا اور جب دستر خوان بچھا دیا گیا تو اس پر کھجوریں اقط اور گھی رکھ دیا گیا ( بخاری)

تشریح
اوپر کی حدیث میں حضرت صفیہ کے ولیمہ میں جس حیس کا ذکر کیا گیا ہے اسی کی تفصیل اس حدیث میں بیان کی گئی ہے کہ حیس کے اجزاء کھجور اقط اور گھی تھے
3226
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن صفية بنت شيبة قالت : أولم النبي صلى الله عليه و سلم على النبي صلى الله عليه و سلم على بعض نسائه بمدين من شعير . رواه البخاري
اور حضرت صفیہ بنت شیبہ کہتی ہیں کہ نبی کریم نے اپنی زوجہ مطہرہ غالبًا ام سلمہ کا ولیمہ دو سیر جو کے ساتھ کیا ( بخاری)
3227
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إذا دعي أحدكم إلى الوليمة فليأتها . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : فليجب عرسا كان أو نحوه (2/230) 3217 - [ 8 ] ( صحيح ) وعن جابر : قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا دعي أحدكم إلى طعام فليجب وإن شاء طعم وإن شاء ترك . رواه مسلم
اور حضرت عبداللہ بن عمرو راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو شادی کے کھانے پر بلایا جائے تو اسے جانا چاہئے اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ دعوت قبول کرنی چاہئے خواہ وہ ولیمہ کی دعوت ہو یا اسی قسم کی کوئی اور دعوت ( بخاری ومسلم)

تشریح
یا اسی قسم کی کوئی اور دعوت سے ختنہ و عقیقہ وغیرہ کی دعوت مراد ہے اس سے معلوم ہوا کہ ان روایتوں میں ولیمہ سے مراد صرف وہی کھانا ہے جو شادی بیاہ کے موقع پر کھلایا جائے۔ بعض حضرات یہ فرماتے ہیں کہ شادی بیاہ کے کھانے کی دعوت قبول کرنا واجب ہے اگر کوئی شخص بلا کسی عذر کے دعوت قبول نہ کرے تو وہ گنہگار ہوتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد گرامی ہے جس شخص نے دعوت قبول نہ کی اس نے اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی کی۔ اور بعض علماء کا قول یہ ہے کہ واجب نہیں ہے بلکہ مستحب ہے لیکن یہ بات ملحوظ رہنی چاہئے کہ قبول کرنے سے مراد دعوت میں جانا یعنی اگر کسی شخص کو شادی میں بلایا جائے تو اس کے لئے اس دعوت میں جانا بعض علماء کے نزدیک واجب ہے اور بعض علماء کے نزدیک مستحب ہے اب رہی یہ بات کہ کھانے میں شریک ہونے کی تو اس کے بارے میں متفقہ طور پر مسئلہ یہ ہے کہ اگر روزے سے نہ ہو تو کھانے میں شریک ہونا مستحب ہے شادی کے کھانے کی دعوت کے علاوہ دوسری دعوتوں کا قبول کرنا مستحب ہے۔ طیبی اور ابن ملک نے یہ بھی لکھا ہے کہ دعوت قبول کرنے کا وجوب یا استحباب بعض صورتوں میں ساقط ہوجاتا ہے یہ شبہ ہونا کہ دعوت میں جو کھانا کھلایا جائے گا وہ حلال مال کا نہیں ہوگا یا اس دعوت میں مالداروں کی تخصیص ہو یا اس دعوت میں کوئی ایسا شخص شریک ہو جس سے یا تو نقصان پہنچنے کا خطرہ ہو یا وہ اس قابل نہ ہو کہ اس کے ساتھ کہیں بیٹھا جائے ان صورتوں میں اگر کوئی شخص دعوت قبول نہ کرے تو کوئی مضائقہ نہیں ہے اسی طرح اگر کسی شخص کو دعوت میں محض اس لئے بلایا جائے کہ اس کی خوشنودی مزاج حاصل ہوجائے اور اس سے کوئی نقصان نہ پہنچے یا اس کی ذات وجاہ سے کوئی دنیاوی غرض پوری ہوئے تو ایسی دعوت کو قبول نہ کرنا ہی اولی ہے یا ایسے ہی اگر کچھ لوگ کسی شخص کو اس مقصد کے لئے دعوت میں بلائیں کہ وہ ان لوگوں کے باطل ارادوں یا غیرشرعی کاموں میں مدد کرے یا کسی دعوت میں ممنوع چیزیں جیسے شراب وغیرہ موجود ہو یا وہاں ناچ گانے یا غیر شرعی تفرحیات کی چیزیں ہوں یا جس جگہ دعوت ہو وہاں حریر وغیرہ کا فرش بچھا ہو تو ایسی دعوت میں شریک نہ ہونا چاہئے۔ یہ بات مد نظر رہنی چاہئے کہ آجکل کی مجالس مذکورہ بالا چیزوں سے خالی نہیں ہوتیں اگر سب چیزیں نہیں ہوتیں تو ان میں بعض چیزیں اکثر مجلسوں میں پائی جاتی ہیں اس لئے صوفیاء کا قول ہے کہ عزلت گوشہ نشینی) حلال ہوگئی ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ مناسب ہے کہ آجکل گوشہ نشینی واجب ہوگی ہے لہذا جو شخص احتیاط کے پیش نظر گوشہ نشینی اختیار کرنا چاہے اور کسی بھی مجلس یا دعوت میں شریک ہونا مناسب نہ سمجھتا ہو تو اس کے لئے گوشہ نشینی ہی بہتر ہے۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کسی کو شادی بیاہ اسی رسم کی کسی اور تقریب کے) کھانے پر بلایا جائے تو اسے چاہئے کہ وہ دعوت قبول کرلے یعنی دعوت میں چلا جائے پھر وہاں جا کر اس کی مرضی پر موقوف ہوگا کہ چاہے تو کھائے چاہے تو نہ کھائے (مسلم) تشریح اس حدیث سے بھی یہ معلوم ہوا کہ دعوت قبول کرنے کا مطلب داعی کے یہاں جانا ہے اور یہ واجب یا سنت ہے ہاں دعوت کے کھانے میں شریک ہونا سنت ہے بشرطیکہ روزہ سے نہ ہو۔ ابن ملک فرماتے ہیں کہ ارشاد گرامی میں دعوت کو قبول کا جو حکم دیا گیا ہے وہ بطریق وجوب ہے لیکن اس کا تعلق اس شخص سے ہے جس کو کوئی عذر لاحق نہ ہو اگر کوئی شخص معذور ہو مثلا دعوت کی جگہ اتنی دور ہے کہ وہاں جانا تکلیف و مشقت برداشت کرنے کا مرادف ہے تو اس صورت میں اس دعوت کو قبول نہ کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔
3228
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شر الطعام طعام الوليمة يدعى لها الأغنياء ويترك الفقراء ومن ترك الدعوة فقد عصى الله ورسوله
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں مالداروں کو بلایا جائے اور فقراء کو چھوڑ دیا جائے اور جس شخص نے دعوت کو کوئی عذر نہ ہونے کے باوجود قبول نہ کیا تو اس نے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمانی کی (بخاری)

تشریح
شر الطعام، یعنی برے کھانے کا مطلب یہ ہے کہ جہاں اور بہت سے برے کھانے ہیں اس میں سے ایک یہ بھی ہے یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ بعض کھانے اس سے بھی برے ہوتے ہیں چناچہ جہاں یہ فرمایا گیا ہے کہ (شر الناس من اکل وحدہ) (یعنی برا شخص وہ ہے جس نے تنہا کھانا کھایا ہو) وہاں یہ بھی مراد ہے کہ جہاں اور بہت سے برے شخص ہیں ان میں سے ایک برا شخص وہ بھی ہے جو تنہا کھانا کھاتا ہے۔ اس حدیث کا مقصد مطلق ولیمہ کے کھانے کی برائی بیان کرنا نہیں ہے کیونہ نہ صرف دعوت ولیمہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے بلکہ اس دعوت کو قبول کرنے کی تاکید بھی فرمائی گئی ہے اور جو شخص دعوت ولیمہ کو قبول نہیں کرتا وہ گنہگار ہوتا ہے لہذا حدیث کی مراد یہ ہے کہ جو ولیمہ ایسا ہو کہ اس میں صرف مالداروں کو بلایا جائے اور غربا کو نہ پوچھا جائے تو وہ ایک برا ولیمہ ہے چناچہ اس وقت کچھ لوگوں کی یہ عادت تھی کہ وہ اپنے ولیمہ میں صرف مالداروں کو بلاتے تھے اور انہیں اچھا اچھا کھانا کھلاتے اور بیچارے غریبوں کی بات بھی نہ پوچھتے تھے لہذا آپ ﷺ نے گویا اس ارشاد گرامی کے ذریعہ اس بری عادت سے منع فرمایا۔ دعوت قبول نہ کرنے کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی اس طرح ہوتی ہے کہ اللہ کے رسول ﷺ نے دعوت قبول کرنے کا حکم دیا ہے لہذا جس نے دعوت قبول نہ کر کے اللہ کے رسول کے حکم کی نافرمانی کی اس نے گویا اللہ ہی کے حکم کی نافرمانی کی۔ جو حضرات دعوت کے قبول کرنے کو واجب کہتے ہیں انہوں نے اس حدیث کو اپنے قول کی دلیل قرار دیا ہے جب کہ جمہور علماء نے اس حدیث کو تاکیدًا استحباب پر محمول کیا ہے۔
3229
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي مسعود الأنصاري قال : كان رجل من الأنصار يكنى أبا شعيب كان له غلام لحام فقال : اصنع لي طعاما يكفي خمسة لعلي أدعو النبي صلى الله عليه و سلم خامس خمسة فصنع له طعيما ثم أتها فدعاه فتبعهم رجل فقال النبي صلى الله عليه و سلم : يا أبا شعيب إن رجلا تبعنا فإن شئت أذنت له وإن شئت تركته . قال : لا بل أذنت له
اور حضرت ابومسعود انصاری کہتے ہیں کہ ایک انصاری صحابی کے ہاں جن کی کنیت ابوشعیب تھی ایک غلام تھا جو گوشت بیچا کرتا تھا ایک دن ان انصاری صحابہ یعنی ابوشعیب نے اپنے اس غلام سے کہا کہ میری ہدایت کے مطابق اتنا کھانا تیار کرو جو پانچ آدمیوں کے لئے کافی ہو کیونکہ میں رسول کریم ﷺ کی دعوت کروں گا اور آپ ﷺ پانچ آدمیوں میں سے ایک ہوں گے۔ یعنی ایک آنحضرت ﷺ ہوں گے اور چار آدمی آپ ﷺ کے ساتھ ہوں گے) چناچہ اس غلام نے ان کی ہدایت کے مطابق آنحضرت ﷺ کے لئے تھوڑا سا کھانا تیار کرلیا پھر وہ ابوشعیب آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ ﷺ کو اور آپ کے چار صحابہ کو اس کھانے پر مدعو کیا جب آنحضرت ﷺ ان کے گھر تشریف لے گئے) تو ایک شخص آپ ﷺ کے ساتھ ہو لیا آپ ﷺ نے ان کے گھر پہنچ کر فرمایا کہ ابوشعیب ایک اور شخص ہمارے ساتھ ہو لیا ہے اگر تم چاہو تو اس کو بھی کھانے پر آنے کی اجازت دے دو ورنہ اس کو دروازہ ہی پر چھوڑ دو اور دستر خوان پر بیٹھنے کی اجازت نہ دو ) ابوشعیب نے کہا کہ نہیں اس کو دسترخوان پر بیٹھنے کی اجازت نہ دینا میں مناسب نہیں سمجھتا بلکہ میں اس کو بھی اجازت دیتا ہوں ( بخاری ومسلم)

تشریح
یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ کسی بھی شخص کے لئے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ کسی کی دعوت میں بن بلائے پہنچ جائے اور اسی طرح کسی مہمان کے لئے بھی جائز نہیں ہے کہ وہ کسی بن بلائے شخص کو اپنے ساتھ دعوت میں لے جائے ہاں اگر میزبان نے اس بات کی تصریح اجازت دی ہو یا کوئی ایسی دعوت ہو جہاں اذان عام ہو یا مہمان یہ جانتا ہو کہ اگر میں کسی بن بلائے مہمان شخص کو اپنے ساتھ دعوت میں لے گیا تو میزبان کی مرضی کے خلاف نہیں ہوگا تو ان صورتوں میں مدعو کسی غیر مدعو کو اپنے ساتھ دعوت میں لے جاسکتا ہے۔ اس کے علاوہ اس حدیث سے اور بھی کئی باتیں معلوم ہوئیں اول یہ کہ صاحب خانہ کی اجازت کے بغیر اس کے گھر میں داخل ہونا جائز نہیں ہے دوم یہ کہ اگر کوئی شخص چند مخصوص آدمیوں کی دعوت کرے اور ان کے ساتھ کوئی بن بلایا شخص بھی ہو لے تو ان مہمانوں کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ صاحب خانہ یعنی میزبان سے اس شخص کے لئے کھانے میں شریک ہونے کی اجازت لے لیں، سوم یہ کہ بن بلائے مہمان کے بارے میں میزبان کے لئے یہ مستحب ہے کہ وہ اس کو دسترخوان پر بیٹھنے سے نہ روکے الاّ یہ کہ اس کی وجہ سے مہمانوں کو کوئی نقصان یا تکلیف پہنچنے کا خوف ہو اور اگر اس کو کھانے میں شریک کئے بغیر واپس کرے تو نرمی کے ساتھ واپس کرے لیکن بہتریہی ہے کہ اس کو کھانے میں سے کچھ دیدے بشرطیکہ وہ اس کا مستحق ہو۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ کسی غیر مدعو کو دعوت کے کھانے میں شریک ہونا جائز نہیں ہے اور بعض علماء نے یہ کہا ہے کہ جب ایک شخص نے کسی کی دعوت کی اور اس کے سامنے کھانا رکھ کر اس کو اس کھانے کا مالک بنادیا تو اب وہ شخص یعنی مہمان مختار ہے کہ چاہے تو اس کھانے کو خود کھائے چاہے کسی اور کو کھلائے اور چاہے اٹھا کر اپنے گھر لے جائے ہاں اگر یہ صورت ہو کہ میزبان دستر خوان بچھا کر اس پر کھانا چن دے جو اس بات کی علامت ہو کہ اس نے مہمان کو اس کھانے کا مالک نہیں بنایا ہے بلکہ اسے اس بات کی اجازت دی ہے کہ وہ یہیں بیٹھ کر کھائے اور جو کچھ بچ جائے اسے میزبان اٹھا کرلے جائے تو اب مہمان کے لئے ضروری ہوگا کہ وہ دستر خوان پر بیٹھ کر حسب قاعدہ اور حسب رواج کھانا کھائے نہ تو اس کھانے میں سے کچھ اٹھا کر اپنے گھر لے جائے اور نہ اس میں سے کسی اور کو کھلائے۔ بعض اہل علم نے اس چیز کو بہت اچھا جانا ہے کہ جب ایک دسترخوان پر کچھ لوگ کھانا کھانے بیٹھیں تو دستر خوان پر موجود کھانے کی چیزیں آپس میں ایک دوسرے کے سامنے کرتے رہیں ہاں اگر وہ لوگ دو دستر خوانوں پر بیٹھے ہوں تو ایک دستر خوان کے لوگوں کو دوسرے دستر خوان کے لوگوں کے سامنے اپنے دستر خوان پر بیٹھے ہوں تو ایک دستر خوان کے لوگوں کو دوسرے دستر خوان کے لوگوں کے سامنے اپنے دستر خوان کے کھانے پیش کرنے جائز نہیں ہے۔
3230
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس أن النبي صلى الله عليه و سلم أولم على صفية بسويق وتمر . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ام المؤمنین حضرت صفیہ کا ولیمہ ستو اور کھجور کے ساتھ کیا تھا۔ (احمد ترمذی ابوداؤد ابن ماجہ)

تشریح
حضرت صفیہ کے ولیمہ کے سلسلہ میں جو حدیث پہلے گزری ہے اس میں ان کے ولیمہ کا کھانا حیس ذکر کیا گیا تھا جب کہ یہاں ستو اور کھجور کا ذکر ہے۔ ان دونوں روایتوں میں اس طرح مطابقت ہوگی کہ حضرت صفیہ کے ولیمہ میں دونوں چیزیں تھیں حیس بھی تھا اور ستو اور کھجوریں بھی تھیں راویوں میں سے جس نے جو دیکھا اسی کو بیان کردیا۔