Mishkaat Shareef
193. حضرت علی بن ابی طالب کے مناقب کا بیان
مشكاة المصابيح
6036
Mishkaat Shareefسیدنا حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے مناقب و فضائل بیشمار ہیں جتنی زیادہ حدیثیں آپ کی تعریف و توصیف اور فضیلت میں منقول ہیں اتنی صحابہ میں سے کسی کے حق میں منقول نہیں ہیں، اگرچہ ان میں سے بہت سے روایتیں موضوع (گھڑی ہوئی) بھی ہیں چناچہ حضرت شیخ مجد الدین شیرازی نے جس طرح ان بعض روایتوں کے بارے میں، کہ جو حضرت ابوبکر صدیق کے مناقب میں نقل کی گئی ہیں، یہ وضاحت کی ہے کہ یہ موضوع روایتیں ہیں کیونکہ ان کا بےاصل وبے بنیاد ہونا معمولی عقل وفہم رکھنے والا بھی جان سکتا ہے اسی طرح انہوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ حضرت علی ابن ابی طالب کے مناقب میں لوگوں نے بیشمار جھوٹی حدیثیں بنالی ہیں اور ان جھوٹی حدیثوں کا سب سے بڑا ذخیرہ وہ ہے جس کو انہوں نے وصایا نامی کتاب میں جمع کیا ہے اور جس کی ہر حدیث یا علی کے الفاظ سے شروع ہوتی ہے۔ ہاں ان میں سے صرف ایک حدیث یا علی انت منی بمنزلۃ ہارون من موسیٰ بیشک ایسی حدیث ہے جو ثابت ہے۔ بہرحال حضرت علی کی مناقب میں سے جو صحیح احادیث منقول ہیں ان کے بارے میں امام احمد اور امام نسائی وغیرہ نے کہا ہے کہ ان کی تعداد ان احادیث سے کہیں زیادہ ہے جو دوسرے صحابہ کے حق میں منقول ہیں اور سیوطی نے اس کا سبب یہ بیان کیا ہے کہ سیدنا علی کرم اللہ وجہہ متاخر ہیں اور ان کے زمانہ میں نہ صرف یہ کہ مسلمانوں کے درمیان اختلاف ونزاع کی خراب صورت حال پیدا ہوگئی تھی بلکہ خود سیدنا علی کی مخالفت کرنے والوں کا ایک بہت بڑا طبقہ پیدا ہوگیا تھا جنہوں نے ان کے خلاف جنگیں بھی لڑیں اور ان کی خلافت سے انحراف بھی کیا، لہذا علماء اور محدیثین نے مقام علی کی حفاظتی اور مخالفین علی کی تردیدوتغلیط کی خاطر منقبت علی سے متعلق احادیث کو چن چن کر جمع بھی کیا اور ان احادیث کو پھیلانے میں بہت سرگرم جدوجہد بھی کی، ورنہ جہاں تک خلفاء ثلاثہ کے مناقب کا تعلق ہے تو وہ حقیقت میں حضرت علی کے مناقب سے بھی زیادہ ہیں۔
6037
Mishkaat Shareefعلی ابن ابی طالب بن ہاشم بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن مالک بن نضر ابن کنانہ۔ آپ کا نام حیدر بھی ہے، حیدر دراصل حضرت علی کے نانا اسد کا نام تھا، جب آپ پیدا ہوئے تو اس وقت آپ کی والدہ فاطمہ بنت اسد نے آپ کا نام اپنے باپ کے نام پر حیدر رکھا پھر بعد میں ابوطالب نے اپنی طرف سے بیٹے کا نام علی رکھا اور جیسا کہ ایک روایت میں آیا ہے حضرت علی فرمایا کرتے تھے خود میرے نزدیک ابوتراب سے زیادہ پسندیدہ کوئی نام نہیں ہے۔
6038
Mishkaat Shareefابو تراب سیدنا علی کی کنیت اس طرح پڑی کہ ایک دن رسول کریم ﷺ حضرت فاطمہ کے گھر تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت علی گھر نہیں ہیں۔ پوچھا علی کہاں ہیں ؟ حضرت فاطمہ نے جواب دیا میرے اور ان کے درمیان کچھ ان بن ہوگئی تھی، اسی غصہ میں گھر سے چلے گئے ہیں، آج تو انہوں نے اس گھر میں قیلولہ بھی نہیں کیا ہے، آنحضرت ﷺ نے جبھی حضرت انس کو حکم دیا کہ جا کر دیکھو، علی کہاں ہیں، حضرت انس نے بتایا کہ یا رسول اللہ ﷺ ؟ وہ تو مسجد میں سوئے ہوئے ہیں۔ آنحضرت ﷺ فورا مسجد میں تشریف لائے تو دیکھا کہ حضرت علی مسجد کی دیوار سے لگے ہوئے ننگی زمین پر لیٹے محوخواب ہیں، چادر کاندھے سے کھسک کر الگ ہوگئی تھی اور پیٹھ وپہلو پر مٹی لگی ہوئی تھی، اس وقت آنحضرت ﷺ ان کے جسم کے اوپر سے مٹی صاف کرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے، اے ابوتراب اٹھو، جبھی سے حضرت علی کی کنیت ابوتراب مشہور ہوگئی۔
6039
Mishkaat Shareefعن سعد بن أبي وقاص قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم لعلي : أنت مني بمنزلة هارون من موسى إلا أنه لا نبي بعدي . متفق عليه
حضرت سعد بن ابی وقاص کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا تھا (دنیا وآخرت میں قرابت و مرتبہ میں اور دینی مددگار ہونے کے اعتبار سے) تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہارون (علیہ السلام) تھے بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ جب اپنی زندگی کے آخری غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جا رہے تھے تو حضرت علی کو اپنے اہل و عیال کی خبر گیری و حفاظت کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا تھا، اس پر منافقوں نے حضرت علی کو طعنہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں بےقدر جان کر مدینہ میں چھوڑ گئے ہیں، حضرت علی نے منافقوں کا یہ طعنہ سنا تو بڑی غیرت محسوس کی اور فورا ہتھیار باندھ کر نکل کر کھڑے ہوئے اور جرف پہنچ گئے جو مدینہ سے تقریبا تین میل شمال میں واقعہ ایک جگہ ہے اور جہاں آنحضرت ﷺ اسلامی لشکر کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے تھے، انہوں نے حضرت اقدس ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! منافقین میرے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ جھوٹے ہیں میں نے تو تمہیں مدینہ میں اپنے اہل و عیال پر بھی میرا خلیفہ بن کر رہو اور پھر اسی وقت آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ علی ! کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ تمہارا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ سے تھا کہ جب موسیٰ چلا دینے کوہ طور پر گئے تھے تو اپنی قوم میں ہارون کو اپنا خلیفہ بنا کر چھوڑ گئے تھے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ جب اپنی زندگی کے آخری غزوہ تبوک کے لئے تشریف لے جا رہے تھے تو حضرت علی کو اپنے اہل و عیال کی خبر گیری و حفاظت کے لئے مدینہ میں چھوڑ دیا تھا، اس پر منافقوں نے حضرت علی کو طعنہ دیا کہ رسول اللہ ﷺ تمہیں بےقدر جان کر مدینہ میں چھوڑ گئے ہیں، حضرت علی نے منافقوں کا یہ طعنہ سنا تو بڑی غیرت محسوس کی اور فورا ہتھیار باندھ کر نکل کر کھڑے ہوئے اور جرف پہنچ گئے جو مدینہ سے تقریبا تین میل شمال میں واقعہ ایک جگہ ہے اور جہاں آنحضرت ﷺ اسلامی لشکر کے ساتھ پڑاؤ کئے ہوئے تھے، انہوں نے حضرت اقدس ﷺ میں حاضر ہو کر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! منافقین میرے بارے میں ایسی ایسی باتیں کہہ رہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا وہ جھوٹے ہیں میں نے تو تمہیں مدینہ میں اپنے اہل و عیال پر بھی میرا خلیفہ بن کر رہو اور پھر اسی وقت آپ ﷺ نے یہ فرمایا تھا کہ علی ! کیا تم اس سے خوش نہیں ہو کہ تمہارا مجھ سے وہی تعلق ہے جو ہارون (علیہ السلام) کا موسیٰ سے تھا کہ جب موسیٰ چلا دینے کوہ طور پر گئے تھے تو اپنی قوم میں ہارون کو اپنا خلیفہ بنا کر چھوڑ گئے تھے۔
6040
Mishkaat Shareefحضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کہے گئے آنحضرت ﷺ کے ان الفاظ کو شیعہ لوگ ماروگھٹنا پھوٹے آنکھ کے مصداق اپنے بےبنیاد عقیدے کی دلیل بنا کر بیٹھ گئے ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اس ارشاد کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اس موقع پر حضرت علی کو خلافت کا بار سونپا تھا۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ کے وصال کے بعد خلافت کا اولین استحقاق حضرت علی کا تھا۔ اسی پر بس نہیں بلکہ روافض نے تو اس کج رائی کا شکار ہو کر تمام صحابہ کو کافر تک کہہ ڈالا ہے، اس وجہ سے کہ ان کے بقول ان صحابہ نے آنحضرت ﷺ کی وصیت سے انحراف کیا اور خلافت کے بارے میں حضرت علی پر دوسروں کو مقدم کیا، بلکہ ان میں سے بعض ستم ظریفوں نے تو حضرت علی کو بھی نہیں بخشا اور کہا ہے کہ حضرت علی نے چونکہ اپنا حق طلب نہیں کیا اور خلافت کا دعویٰ لے کر مضبوطی سے نہیں اٹھے اس لئے وہ بھی کافر ایسے نادانوں سے بس یہی کہنا چاہئے کہ تم سے بڑا کافر کون ہوسکتا ہے جو لوگ تمام امت کو کافر کہیں خصوصا طبقہ اول (صحابہ) پر کفر کا اطلاق کریں اور اس طرح گویا یہ ثابت کریں کہ وہ پوری شریعت کو غیر معتبر قرار دے رہے ہیں اور اسلام کی ساری عمارت کو ڈھا رہے ہیں تو ان کے کفر میں کس کو شک ہوگا۔ بہرحال اہل سنت والجماعت نے اس حدیث سے شیعوں کے مذکورہ استدلال کو دوراز کار قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ الفاظ حدیث سے جو بات مفہوم ہوتی ہے وہ یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت علی کو اپنا خلیفہ محض اس عرصہ کے لئے بنایا تھا جو غزوہ تبوک کے سلسلہ میں آپ ﷺ نے مدینہ سے باہر گزارا تھا، جیسا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اس عرصہ کے لئے اپنی قوم پر خلیفہ بنایا تھا، جو انہوں نے چلہ کے لئے کوہ طور پر گزارا تھا اگر اس عرصہ کے لئے حضرت علی کو اپنا خلیفہ بنانا سے آنحضرت ﷺ کا مقصد اس بات کی وصیت کرنا یا اس طرف اشارہ کرنا ہوتا کہ اسی طرح میرے وصال کے بعد بھی خلیفہ علی ہونگے تو آپ ﷺ اس موقع پر حضرت علی کو حضرت ہارون (علیہ السلام) سے تشبیہ نہ دیتے کیونکہ حضرت ہارون (علیہ السلام) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے خلیفہ نہیں بنے تھے، وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے انتقال سے چالیس سال پہلے ہی وفات پاچکے تھے، علاوہ ازیں آنحضرت ﷺ نے مدینہ میں اپنی عدم موجودگی اسی عرصہ میں امامت نماز کے لئے اپنا خلیفہ ایک دوسرے صحابی حضرت ام مکتوم کو بنایا تھا چناچہ اس عرصہ میں حضرت علی تو آنحضرت ﷺ کے اہل و عیال کی خبر گیری اور حفاظت کے فرائض انجام دیتے تھے اور حضرت ام مکتوم نماز میں لوگوں کی امامت کرتے تھے، اگر خلافت مطلق ہوتی تو اصول کے مطابق آنحضرت ﷺ امامت نماز کی ذمہ داری بھی یقینا حضرت علی ہی کو سونپ کر جاتے، اس کے لئے ایک دوسرے آدمی کو نامزد نہ فرماتے۔
6041
Mishkaat Shareefآنحضرت ﷺ نے حضرت علی (رض) سے فرمایا تھا کہ تم میرے لئے ایسے ہی ہو جیسے موسیٰ (علیہ السلام) کے لئے ہارون (علیہ السلام) تھے ان الفاظ کے ذریعہ حضرت علی کو حضرت ہارون (علیہ السلام) سے تشبیہ دینا تو صاف سمجھ میں آتا ہے لیکن وجہ تشبیہ ظاہر نہیں ہوئی تھی کہ آپ ﷺ نے ان کو حضرت ہارون (علیہ السلام) کے ساتھ کس اعتبار سے تشبیہ دی، اسی بات کی وضاحت کے لئے آپ ﷺ نے آگے فرمایا بس فرق یہ ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا یعنی اگر تم دونوں میں کچھ فرق ہے تو بس یہ ہے کہ ہارون (علیہ السلام) ایک نبی تھے اور تم نبی نہیں ہو، پس معلوم ہوا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت ہارون (علیہ السلام) کی باہمی قرابت و وابستگی کی مثال کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اور حضرت علی کے درمیان جس قرابت و وابستگی کو ظاہر کیا وہ نبوت کے اعتبار سے نہیں تھی بلکہ خلافت کے اعتبار سے تھی جو مرتبہ میں نبوت کے قریب ہے، لیکن خلافت کا اعتبار بھی دونوں صورتوں کو محتمل ہوسکتا تھا کہ یا تو آپ ﷺ کی مراد اپنی زندگی میں ایک خاص عرصہ کے لئے حضرت علی کو اپنا خلیفہ بنا کر ان کے تئیں اپنی قربت و وابستگی اور اعتماد کو ظاہر کرنا تھا یا اپنی وفات کے بعد ان کے استحقاق خلافت کی طرف اشارہ کرکے قربت و وابستگی اور اعتماد کو ظاہر کرنا تھا جہاں تک اس دوسری صورت کا تعلق ہے تو یہ یوں خارج ازامکان قرار پائی جاتی ہے کہ حضرت ہارون (علیہ السلام) تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پہلے وفات پاگئے تھے اور وہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد خلیفہ کب بنے تھے کہ ان کی مثال کے ذریعہ آنحضرت ﷺ اپنی وفات کے بعد حضرت علی کی خلافت کی طرف اشارہ کرتے لامحالہ ماننا پڑے گا کہ آنحضرت ﷺ کے مذکورہ الفاظ سے جو مفہوم متعین طور پر ثابت ہوتا ہے وہ وہی ہے جو پہلی صورت میں بیان ہوا، یعنی یہ کہ آپ ﷺ نے اس موقعہ پر حضرت علی کو صرف اس عرصہ کے لئے خلیفہ بنانے کی بات کہی تھی جو غزوہ تبوک کے لئے آپ ﷺ نے مدینہ سے باہر گزارا، خلاصہ کے طور پر یہ بات یوں بھی کہی جاسکتی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے حکم کے مطابق حضرت علی کی وہ خلافت جزوی تھی جو آنحضرت ﷺ کی زندگی ہی میں ایک خاص عرصہ کے لئے عارضی اور وقتی انتظام کے طور پر عمل میں آئی تھی اس صورت میں کہ وہ عرصہ ختم ہونے پر یعنی عزوہ تبوک سے آنحضرت ﷺ کی واپسی کے بعد وہ خلافت ختم ہوگئی تھی، وہ جزوی خلافت آنحضرت ﷺ کی وفات کے بعد ان کی کلی خلافت کی دلیل کیسے بن سکتی ہے۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا اس بات کی بھی دلیل ہے کہ حضرت عیسیٰ بن مریم (علیہ السلام) جب آسمان سے اترینگے تو نبی کے طور پر نہیں اتریں گے بلکہ دین محمد ﷺ کانفاذ کرنے والے اور اسلامی امراء و حکام میں سے ایک امیر وحاکم بن کر اتریں گے اور ان کا کام ہی یہ ہوگا کہ لوگوں کو شریعت محمدی ﷺ کا پابندومتبع بائیں، لیکن ملا علی قاری کا کہنا ہے کہ حدیث کے الفاظ اس بات کے منافی نہیں ہیں کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نبی کی حیثیت میں اتریں اور ہمارے نبی کی ﷺ کی شریعت کے متبع کے طور پر دین محمدی کے اجراء ونفاذ اور اسوہ رسالت محمدی کی ترویج و اشاعت کا فریضہ انجام دیں اور اس میں بھی کوئی استبعاد نہیں کہ اس فریضہ کی ادائیگی میں ان کی راہنمائی وحی کے ذریعہ ہو، اس صورت میں میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا کی مراد یہ بیان کی جائے گی کہ آنحضرت ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی پیدا نہیں ہوگا اور آپ ﷺ خاتم النبیین اس اعتبار سے ہیں کہ نئے پیدا ہونے والے نبیوں کا سلسلہ آپ ﷺ پر ختم ہوگیا ہے، آپ ﷺ کے بعد کوئی نیا نبی اس دنیا میں نہیں آئے گا۔ اس حدیث میں حضرت علی کی جس بڑی فضیلت ومنقبت کی طرف اشارہ ہے فرمایا گیا کہ اگر آنحضرت ﷺ خاتم النبیین نہ ہوتے اور آپ ﷺ کے بعد نبوت کا دروازہ بند نہ ہوگیا ہوتا تو حضرت علی بھی ایک نبی ہوتے، مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ پھر یہ حدیث اس حدیث کے منافی ہوجائے گی جو صراحت کے حضرت عمر کے حق میں وارد ہوئی ہے کہ اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر ہوتے درحقیقت ان دونوں حدیثوں کا مفہوم فرضی اور تقدیری ہے، یعنی آپ ﷺ نے ایک امر محال کو فرض کرکے گویا یوں فرمایا کہ اگر بالفرض میرے بعد اگر نبوت کا دروازہ کھلا رہتا تو میرے صحابہ میں سے متعدد لوگ نبی ہوتے لیکن یہ حقیقت اپنی جگہ اٹل ہے کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہوگا۔
6042
Mishkaat Shareefایک حدیث علماء امتی کانبیاء بنی اسرائیل ( میری امت کے علماء بنی اسرائیل کے انبیاء کے مانند ہیں) کا بڑا چرچا کیا جاتا ہے اور اچھے اچھے پڑھے لکھے لوگ بھی اس غلط فہمی کا شکار ہیں کہ یہ واقعی حدیث ہے لیکن جیسا کہ حفاظ حدیث مثلا زرکشی عسقلانی دمیری سیوطی سے تصریح کی ہے اس کی کچھ اصل نہیں ہے۔
6043
Mishkaat Shareefوعن زر بن حبيش قال : قال علي رضي الله عنه : والذي فلق الحبة وبرأ النسمة إنه لعهد النبي الأمي صلى الله عليه و سلم إلي : أن لا يحبني إلا مؤمن ولا بيغضني إلا منافق . رواه مسلم
اور حضرت زربن حبیش (تابعی) کہتے ہیں کہ سیدنا علی نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس نے دانہ کو پھاڑا (یعنی اگایا) اور ذی روح کو پیدا کیا درحقیقت نبی امی ﷺ نے مجھ کو یقین دلایا تھا کہ جو (کامل) مؤمن ہوگا وہ مجھ سے (یعنی علی سے) محبت رکھے گا اور جو منافق ہوگا وہ مجھ سے عداوت رکھے گا۔ (مسلم)
تشریح
محبت سے مراد وہ محبت ہے جو شرعی تقاضوں کے ہم آہنگ واقع کے مطابق اور نقصان و زیادتی کے بغیر ہو پس جس طرح وہ لوگ کہ جو حضرت علی کے حقیقی مقام و مرتبہ کو گھٹاتے ہیں جیسے فرقہ خارجیہ کے لوگ حب علی کی محرومی کے سبب اس حدیث میں مذکورہ مؤمن کا مصداق نہیں بن سکتے اسی طرح وہ لوگ بھی کہ جو حضرت علی کی محبت میں غیرشرعی اور غیرحقیقی غلو کرتے ہیں اور اس غلو کے نتیجہ میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے بغض و عداوت رکھتے ہیں جیسے شیعوں کے بعض طبقے، اس حدیث میں مذکور مؤمن کا مصداق ہرگز نہیں ہوسکتے۔ بہرحال حضرت علی (رض) سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض و عداوت نفاق کی نشانی ہے ایک اور روایت میں جو حضرت علی ہی سے منقول ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا من احبنی واحب ہذین واباہما وامہما کان معی فی درجتی یوم القیامۃ۔ جس شخص نے مجھ سے اور ان دونوں (حسن و حسین) سے اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت رکھی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔ (احمد و ترمذی ) لیکن آنحضرت ﷺ حضرت علی اور اہل بیت نبوی سے محبت کا عین تقاضہ یہ ہے کہ ان سب صحابہ سے محبت وعقیدت رکھنی چاہے جن سے آنحضرت ﷺ ، حضرت علی اور اہل بیت نبوی ﷺ محبت وتعلق رکھتے ہیں تھے جس طرح حضرت علی کی محبت ایمان کی علامت ہے اسی طرح تمام صحابہ کی محبت ایمان کی علامت ہے اور جس طرح حضرت علی (رض) سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے اسی طرح دوسرے کسی صحابی سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے، ابن عساکر نے حضرت جابر سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے حب ابی بکر وعمر من الایمان وبغضہما کفر وحب الانصار من الایمان وبغضہم کفر وحب العرب من الایمان وبغضہم کفر ومن سب اصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ ومن حفظنی فیہم انا احفظہ یوم القیامۃ۔ ابوبکر وعمر کی محبت جزو ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے انصار کی محبت جزو ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے اہل عرب کی محبت جز و ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے اور جس شخص نے میرے صحابہ کو سب وشتم کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو اور جس شخص نے صحابہ کو (دوسروں کے سب وشتم سے بچایا اس کو قیامت کے دن کی ہولنا کیوں اور سختیوں سے) میں بچاؤں گا۔
تشریح
محبت سے مراد وہ محبت ہے جو شرعی تقاضوں کے ہم آہنگ واقع کے مطابق اور نقصان و زیادتی کے بغیر ہو پس جس طرح وہ لوگ کہ جو حضرت علی کے حقیقی مقام و مرتبہ کو گھٹاتے ہیں جیسے فرقہ خارجیہ کے لوگ حب علی کی محرومی کے سبب اس حدیث میں مذکورہ مؤمن کا مصداق نہیں بن سکتے اسی طرح وہ لوگ بھی کہ جو حضرت علی کی محبت میں غیرشرعی اور غیرحقیقی غلو کرتے ہیں اور اس غلو کے نتیجہ میں حضرت ابوبکر اور حضرت عمر سے بغض و عداوت رکھتے ہیں جیسے شیعوں کے بعض طبقے، اس حدیث میں مذکور مؤمن کا مصداق ہرگز نہیں ہوسکتے۔ بہرحال حضرت علی (رض) سے محبت رکھنا ایمان کی علامت ہے اور ان سے بغض و عداوت نفاق کی نشانی ہے ایک اور روایت میں جو حضرت علی ہی سے منقول ہے یوں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا من احبنی واحب ہذین واباہما وامہما کان معی فی درجتی یوم القیامۃ۔ جس شخص نے مجھ سے اور ان دونوں (حسن و حسین) سے اور ان دونوں کے باپ اور ان دونوں کی ماں سے محبت رکھی وہ قیامت کے دن میرے ساتھ ہوگا۔ (احمد و ترمذی ) لیکن آنحضرت ﷺ حضرت علی اور اہل بیت نبوی سے محبت کا عین تقاضہ یہ ہے کہ ان سب صحابہ سے محبت وعقیدت رکھنی چاہے جن سے آنحضرت ﷺ ، حضرت علی اور اہل بیت نبوی ﷺ محبت وتعلق رکھتے ہیں تھے جس طرح حضرت علی کی محبت ایمان کی علامت ہے اسی طرح تمام صحابہ کی محبت ایمان کی علامت ہے اور جس طرح حضرت علی (رض) سے بغض رکھنا نفاق کی نشانی ہے اسی طرح دوسرے کسی صحابی سے بغض رکھنا نفاق کی علامت ہے، ابن عساکر نے حضرت جابر سے آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد نقل کیا ہے حب ابی بکر وعمر من الایمان وبغضہما کفر وحب الانصار من الایمان وبغضہم کفر وحب العرب من الایمان وبغضہم کفر ومن سب اصحابی فعلیہ لعنۃ اللہ ومن حفظنی فیہم انا احفظہ یوم القیامۃ۔ ابوبکر وعمر کی محبت جزو ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے انصار کی محبت جزو ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے اہل عرب کی محبت جز و ایمان ہے اور ان سے بغض کفر ہے اور جس شخص نے میرے صحابہ کو سب وشتم کیا اس پر اللہ کی لعنت ہو اور جس شخص نے صحابہ کو (دوسروں کے سب وشتم سے بچایا اس کو قیامت کے دن کی ہولنا کیوں اور سختیوں سے) میں بچاؤں گا۔
6044
Mishkaat Shareefوعن سهل بن سعد أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال يوم خيبر : لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله على يديه يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله . فلما أصبح الناس غدوا على رسول الله صلى الله عليه و سلم كلهم يرجو أن يعطاها فقال : أين علي بن أبي طالب ؟ فقالوا : هو يا رسول الله يشتكي عينيه . قال : فأرسلوا إليه . فأتي به فبصق رسول الله صلى الله عليه و سلم في عينيه فبرأ حتى كأن لم يكن به وجع فأعطاه الراية فقال علي : يا رسول الله أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا ؟ فقال : انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم ثم ادعهم إلى الإسلام وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله فيه فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن يكون لك حمر النعم . متفق عليه وذكر حديث البراء قال لعلي : أنت مني وأنا منك في باب بلوغ الصغير
اور حضرت سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا کل میں یہ جھنڈا (کہ جو کمانداری کی علامت ہے) ایسے شخص کو عطا کروں گا کہ جس کے ہاتھ پر اللہ تعالیٰ فتح عطافر مائے گا اور وہ شخص اللہ اور اللہ کے رسول کو دوست رکھتا ہے اور اللہ اور اللہ کا رسول اس کو دوست رکھتے ہیں چناچہ تمام صحابہ نے اس انتظار اور شوق میں پوری رات جاگ کر گزاری کہ دیکھئے کل صبح یہ سرفرازی کس کے حصہ میں آتی ہے اور جب) صبح ہوئی تو ہر شخص اس آرزو کے ساتھ رسول کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا کہ جھنڈا اسی کو ملے، آنحضرت ﷺ نے (تمام صحابہ پر نظر ڈال کر فرمایا کہ علی ابن ابی طالب کہاں ہیں دراصل حضرت علی آشوب چشم میں مبتلا ہوگئے تھے اور اس وجہ سے اس وقت وہاں حاضر نہیں تھے) صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آنکھوں نے ان کو پریشان کر رکھا ہے (اور اس عذر کی بنا پر وہ یہاں موجود نہیں ہیں آنحضرت ﷺ نے فرمایا کسی کو بھیج کر ان کو بلوالو، چناچہ حضرت علی کو بلا کر لایا گیا، رسول کریم ﷺ نے اپنا لعاب دہن ان کی آنکھوں میں ڈالا اور وہ آنکھیں ایک دم اس طرح اچھی ہوگئیں جیسے ان میں کوئی تکلیف اور خرابی تھی نہیں، اس کے بعد آپ ﷺ نے ان کو جھنڈا عطا فرمایا۔ حضرت علی (اس سرفرازی سے بہت خوش ہوئے اور) بولے یا رسول اللہ ﷺ ! میں ان لوگوں (دشمنوں سے) اس وقت تک لڑتا رہوں جب تک وہ ہماری طرح مسلمان نہ ہوجائیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جاؤ اور نرمی وبردباری کے ساتھ چل کر ان (دشمنوں) علاقہ میں پہنچو، پھر (سب سے پہلے) ان کو اسلام کی دعوت دو اور ان کو اللہ کے وہ حقوق بتاؤ جو اسلام میں ان پر عائد ہوتے ہیں (اور پھر اگر وہ دعوت اسلام کو ٹھکرادیں تو ان سے جزیہ طلب کرو، اگر وہ جزیہ پر صلح کرنے سے انکار کردیں تو پھر آخر میں ان کے خلاف اعلان جنگ کرو اور ان سے اس وقت تک لڑتے رہو جب تک کہ وہ مسلمان نہ ہوجائیں یا جزیہ دے کر اسلامی نظام کی سیاسی اطاعت قبول کرنے پر تیار نہ ہوجائیں) پس (اے علی) اللہ کی قسم، یہ بات کہ اللہ تعالیٰ تمہارے ذریعہ کسی ایک شخص کو بھی ہدایت دے دے، تمہیں ملنے والے سرخ اور چوپائیوں سے کہیں بہتر ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
خیبر ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے ساٹھ میل دور ملک شام کی سمت واقع ہے، یہ غزوہ ٧ ھ میں پیش آیا تھا۔ پس (اے علی) اللہ کی قسم۔۔۔۔۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت عل کی جو راہ نمائی فرمائی تھی کہ کفار کو اپنے اسلام کی دعوت دیں تو اسی کی تاکید کے لئے آپ ﷺ نے آگے کے جملے قسم کھا کر ارشاد فرمائے، اس پر تاکید راہنمائی کی وجہ یہ احساس تھا کہ جنگ و قتال کی صورت میں اگرچہ مال غنیمت مثلا اعلی و عمدہ اونٹ اور چوپائے وغیرہ حاصل ہوتے ہیں لیکن اگر کفار کو نرمی وبردباری کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ دعوت اکثر بارآور ہوجاتی ہے اور مخالفین اسلام کی بڑی تعداد جنگ وجدل کے بغیر مسلمان ہوجاتی ہے جو اسلام کا اصل منشاء ومقصد ہے علامہ ابن ہمام نے اسی بنیاد پر بڑی پیاری بات کہی ہے کہ ایک مؤمن کا پیدا کرنا ہزار کفار کو معدوم کرنے سے بہتر ہے۔
تشریح
خیبر ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ سے ساٹھ میل دور ملک شام کی سمت واقع ہے، یہ غزوہ ٧ ھ میں پیش آیا تھا۔ پس (اے علی) اللہ کی قسم۔۔۔۔۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت عل کی جو راہ نمائی فرمائی تھی کہ کفار کو اپنے اسلام کی دعوت دیں تو اسی کی تاکید کے لئے آپ ﷺ نے آگے کے جملے قسم کھا کر ارشاد فرمائے، اس پر تاکید راہنمائی کی وجہ یہ احساس تھا کہ جنگ و قتال کی صورت میں اگرچہ مال غنیمت مثلا اعلی و عمدہ اونٹ اور چوپائے وغیرہ حاصل ہوتے ہیں لیکن اگر کفار کو نرمی وبردباری کے ساتھ اسلام کی دعوت دی جاتی ہے تو وہ دعوت اکثر بارآور ہوجاتی ہے اور مخالفین اسلام کی بڑی تعداد جنگ وجدل کے بغیر مسلمان ہوجاتی ہے جو اسلام کا اصل منشاء ومقصد ہے علامہ ابن ہمام نے اسی بنیاد پر بڑی پیاری بات کہی ہے کہ ایک مؤمن کا پیدا کرنا ہزار کفار کو معدوم کرنے سے بہتر ہے۔
6045
Mishkaat Shareefعن عمران بن حصين أن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن عليا مني وأنا منه وهو ولي كل مؤمن . رواه الترمذي
حضرت عمران ابن حصین سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ علی مجھ سے اور میں علی سے ہوں نیز وہ علی تمام اہل ایمان کے دوست و مددگار ہیں۔ (ترمذی)
تشریح
علی مجھ سے ہیں۔۔۔۔۔ یہ ارشاد گرامی دراصل کمال قرب وتعلق اخلاص ویگانگت اور نسب ونسل میں باہم اشتراک سے کنایہ ہے وہ (علی) تمام اہل ایمان۔۔۔۔ ان الفاظ میں قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے (اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ 55) تمہارے دوست ومدد گار تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اہل ایمان ہیں جو اس طرح نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں کہ ان میں خشوع ہوتا ہے۔
تشریح
علی مجھ سے ہیں۔۔۔۔۔ یہ ارشاد گرامی دراصل کمال قرب وتعلق اخلاص ویگانگت اور نسب ونسل میں باہم اشتراک سے کنایہ ہے وہ (علی) تمام اہل ایمان۔۔۔۔ ان الفاظ میں قرآن کریم کی اس آیت کی طرف اشارہ ہے (اِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللّٰهُ وَرَسُوْلُه وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوا الَّذِيْنَ يُقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَيُؤْتُوْنَ الزَّكٰوةَ وَهُمْ رٰكِعُوْنَ ) 5 ۔ المائدہ 55) تمہارے دوست ومدد گار تو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اور اہل ایمان ہیں جو اس طرح نماز کی پابندی رکھتے ہیں اور زکوٰۃ دیتے ہیں کہ ان میں خشوع ہوتا ہے۔