hadith book logo

Mishkaat Shareef

149. غصہ اور تکبر کا بیان

مشكاة المصابيح

4962
Mishkaat Shareef
صحیح
رفق عنف کی ضد ہے اور اس کے معنی ہیں نرمی و ملائمت اور فروتنی کا رویہ اختیار کرنا اپنے ساتھیوں کے حق میں مہربان نرم خو ہونا اور ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا اور ہر کام اطمینان و خوش اسلوبی سے کرنا۔ حیاء سے مراد شرمندہ اور محبوب ہونا اور حیاء دراصل اس کیفیت کا نام ہے جو کسی انسان پر عیب برائی کے خوف و ندامت کے وقت طاری ہو اسی لئے کہا جاتا ہے کہ بہترین حیاء وہی ہے جو نفس کو اس چیز میں مبتلا ہونے سے روکے جس کو شریعت نے بری قرار دیا ہے۔ حضرت جنید کا یہ قول کہ حیاء اس کیفیت کا نام ہے جو اللہ کی نعمتوں کے حاصل ہونے اور ان نعمتوں کا شکر ادا نہ کرنے کی وجہ سے وحشت کے ساتھ دل میں پائی جائے اور حضرت رقاق کا قول یہ ہے کہ حیاء اس کیفیت کا نام ہے جو آقا کے سامنے درخواست و طلب سے باز رکھتی ہے۔ حسن خلق یعنی خوش خلقی یا اچھے اخلاق کا سب سے واضح مطلب یہ ہے کہ اس چیز کی اتباع و پیروی کی جائے جس کو خاتم النبین حضرت محمد ﷺ نے اللہ کی طرف سے دنیا والوں کے سامنے پیش کیا ہے یعنی شریعت، آداب طریقت اور احوال حقیقت و معرفت۔ چناچہ جب حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا گیا کہ اللہ نے جو نبی کریم ﷺ کے بارے میں یہ فرمایا ہے کہ آیت (وانک لعلی خلق عظیم) ۔ تو آپ کے وہ اخلاق کیا تھے جن کو خلق عظیم کہا گیا ہے حضرت عائشہ (رض) نے جواب دیا کہ آپ کا خلق قرآن کریم ہے یعنی قرآن مجید میں اچھی خصلتیں اور اعلی اوصاف بیان کئے گئے ہیں (خواہ ان کا تعلق اللہ کی نافرمانی سے ہو یا مخلوق اللہ کے ساتھ بدمعالگی سے آپ ان سب سے اجتناب فرماتے تھے رہی اتباع درجات کی بات تو ظاہر ہے کہ اتباع بقدر محبت و توفیق متابعت کے حاصل ہوتی ہے یعنی جو شخص نبی کریم ﷺ کی محبت سے جتنا زیادہ سرشار ہوتا ہے اس کو اتباع کرنے کی جس قدر توفیق نصیب ہوتی ہے وہ اتنا ہی زیادہ اور اسی قدر اتباع بھی کرتا ہے اور جس شخص کو نبی کریم ﷺ کی محبت کا جتنا کم حصہ ہوتا ہے اور اتباع کرنے کی جس قدر کم توفیق نصیب ہوتی ہے وہ اتباع میں اسی قدر پیچھے رہتا ہے۔
4963
Mishkaat Shareef
صحیح
عن عائشة رضي الله عنها أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال إن الله تعالى رفيق يحب الرفق ويعطي على الرفق ما لا يعطي على العنف وما لا يعطي على ما سواه . رواه مسلم . وفي رواية له قال لعائشة عليك بالرفق وإياك والعنف والفحش إن الرفق لا يكون في شيء إلا زانه ولا ينزع من شيء إلا شانه
اور حضرت عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا بلاشبہ اللہ تعالیٰ نرم و مہربان ہے اور نرمی و مہربانی کو پسند کرتا ہے یعنی اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر خود بھی نرم و مہربان ہے اور ان کو ایسے امور کا مکلف قرار نہیں دیتا جو ان کی قوت برداشت سے باہر ہوں اور جن کی وجہ س سے وہ دشواریوں اور سختیوں میں مبتلا ہوں اور وہ بندے کے تئیں بھی اس بات کو پسند کرتا ہے اور اس سے راضی و خوشی ہوتا ہے کہ وہ آپس میں نرمی و مہربانی کریں اور ایک دوسرے کو سختیوں اور دشواریوں میں مبتلا نہ کریں۔ اس لئے وہ نرمی و مہربانی پر وہ چیز عطا فرماتا ہے جو درشتی سختی پر عطا نہیں فرماتا اور نرمی و مہربانی پر جو چیز عطا کرتا ہے وہ نرمی و مہربانی کے علاوہ کسی چیز پر عطا نہیں فرماتا۔ مسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں یہ الفاظ کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت عائشہ (رض) سے فرمایا نرمی و مہربانی کو لازمی طور پر اختیار کرو اور سختی اور بےحیائی سے اپنے آپ کو بچاؤ۔ کیونکہ جس چیز میں نرمی ہوتی ہے اور اس کو زینت بخشی جاتی ہے اور جس چیز میں سے نکالی جاتی ہے وہ عیب دار ہوجاتی ہے۔

تشریح
اللہ تعالیٰ نرم و مہربان ہے اور نرمی و مہربانی کو پسند کرتا ہے، کے ذریعے اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ اللہ کا نرمی و مہربانی کو پسند کرنا خود بندوں کے اس مفاد و مصالح کے پیش نظر ہے کہ آپس میں نفرمی و مہربانی اور شفقت و مروت کے جذبات کو فروغ دینا ایک ایسی خوبی ہے جس کے ذریعہ معاشرہ کو مطمئن و پر سکون اور انسانی زندگیوں کو مختلف پریشانیوں اور بےچینیوں سے محفوظ رکھنا ہے چناچہ جس معاشرہ کے افراد اپنے تمام امور میں ایک دوسرے سے نرم خوئی اور مہربانی کا برتاؤ کرتے ہیں ایک دوسرے کو سختیوں اور پریشانیوں میں مبتلا کرنے سے اجتناب کرتے ہیں اور باہمی معاملات کو سہولت و آسانی کی بنیاد پر استوار کرتے ہیں اور ان امور معاملات کا تعلق خواہ حصول معاش سے یا اس کے علاوہ معاشرتی زندگی کے کسی بھی پہلو سے ہو تو اس معاشرہ کا ہر فرد اپنے آپ کو فلاح یاب محسوس کرتا ہے اور پورے معاشرہ پر حق تعالیٰ کی طرف سے خیر و برکت اور اس کی نعمتوں کا نزول ہوتا ہے چنانچہ، ویعطی علی الرفق۔ کے ذریعہ نہ صرف یہ ترغیب دلائی گئی کہ اپنے امور معاملات میں باہمی نرمی و مہربانی کو اختیار کرو تاکہ حصول مقصد کو پہنچ سکو بشارت بھی دی گئی ہے کہ جو لوگ سختی کے بجائے نرمی و مہربانی کا طریقہ اختیار کرتے ہیں ان کو حق تعالیٰ اجر وثواب عطا فرماتا ہے اور مقاصد میں کامیاب و کامران کرتا ہے۔ اور نرمی و مہربانی پر جو چیز عطا کرتا ہے یہ جملہ ماقبل عبارت کے مفہوم کو ایک دوسرے انداز میں کر رہا ہے یعنی پہلے تو نرمی و مہربانی کو سختی پر ترجیح دی گئی ہے اور یہ فرمایا گیا ہے کہ اللہ کی طرف سے اجر وثواب اور حصول مقصد کی جو نعمت نرمی و مہربانی اختیار کرنے پر ہوتی ہے وہ سختی اختیار کرنے پر نہیں ہوتی اور پھر آگے اس جملہ کے ذریعہ اس طرف اشارہ فرمایا کہ نرمی و مہربانی اپنی ضد یعنی سختی ہی پر نہیں بلکہ حصول مقصد کے اور دوسرے اسباب و وسائل پر بھی ترجیح و فضیلت رکھتی ہے البتہ اس موقع پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ اگر وہ اسباب وسائل از قسم نرمی ہوں تو ترجیح و فضیلت کا کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور اگر از قسم سختی ہوں تو نرمی و مہربانی کا سختی پر فضیلت و ترجیح رکھنا ماقبل عبارت سے واضح ہو ہی چکا ہے اس کے بعد اسی مفہوم کو دورباہ بیان کرنے کی کیا ضرورت تھی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ دونوں جملوں کی عبارت میں ظاہری طور پر تفاوت ہے مگر حقیقت میں یہ دوسرا جملہ ماقبل عبارت کو مؤ کد کرنے کے لئے استعمال کیا گیا ہے اور دونوں جملوں کا مقصد اس بات کو زیادہ اہمیت دینا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ اپنے مقاصد جیسے حصول معاش وغیرہ کی طلب اور سعی اور جدوجہد میں ایسا رویہ اختیار کرے جو نرم خوئی مہربانی اور ایک دوسرے کے ساتھ لحاظ و مروت کا ہو کیونکہ انسان کو اس کی مطلوب چیز دینے والا حقیقت میں اللہ ہے اور چونکہ نرمی و مہربانی اس کے نزدیک محبوب ہے اس لئے وہ نرمی و مہربانی کا رویہ اختیار کرنے والے کو زیادہ عطا فرماتا ہے بہ نسبت اس شخص کے جو اپنے مقاصد کے حصول میں سختی و درشتی اور عامیانہ انداز و رویہ اختیار کرتا ہے۔
4964
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جرير عن النبي صلى الله عليه وسلم من يحرم الرفق يحرم الخير . رواه مسلم
اور حضرت جریر (رض) رسول اللہ ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جس شخص کو نرمی و مہربانی سے محروم کیا جاتا ہے وہ گویا نیکی سے محروم سے کیا جاتا ہے۔ (مسلم)

تشریح
جامع صغیر کی روایت میں ہے کہ خیبر کے ساتھ کلہ کا لفظ بھی ہے لہذا حدیث کا مطلب یہ ہوا کہ جو شخص نرمی و مہربانی کی خوبیوں سے عاری ہوتا ہے وہ تمام بھلائیوں سے محروم قرار پاتا ہے گویا اس ارشاد گرامی کا مقصد نرمی و مہربانی کے وصف کی فضیلت بیان کرنا اس عظیم وصف کو حاصل کرنے کی ترغیب دلانا اور سختی کی مذمت کرنا اور یہ بات واضح کرنا ہے کہ نرمی و مہربانی تمام بھلائیوں کے حاصل ہونے کا سبب ذریعہ ہے۔
4965
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر أن رسول الله صلى الله عليه وسلم مر على رجل من الأنصار وهو يعظ أخاه في الحياء فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم دعه فإن الحياء من الإيمان . متفق عليه
اور حضرت ابن عمر (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ایک انصاری صحابی کے پاس سے گزرے جو اپنے بھائی کو حیاء کے بارے میں نصیحت کر رہا تھا تو رسول اللہ ﷺ نے اس سے فرمایا کہ اس کو کچھ مت کہو کیونکہ حیاء ایک شاخ ہے ایمان کی۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
وہ صحابی اپنے بھائی کو زیادہ حیاء کرنے سے منع کر رہے تھے کہ جو شخص زیادہ حیاء کرنے لگتا ہے وہ رزق علم حاصل کرنے سے باز رہتا ہے چناچہ جب نبی کریم ﷺ نے ان کو اس طرح کہتے ہوئے سنا تو ان کو منع کیا کہ تم اپنے اس بھائی کو حیاء کرنے سے نہ روکو کیونکہ حیاء بذات خود بہت اعلی وصف ہے اور ایمان کی ایک شاخ ہے۔ طیبی نے لفظ یعظ سے مراد ینذر ہے یعنی وہ صحابی اپنے بھائی کو ڈرا دھمکا رہے تھے امام راعب نے لکھا ہے کہ وعظ کے معنی ہیں کسی کو اس طرح تنبیہ کرنا کہ اس میں کچھ ڈر بھی ہو۔ خلیل نے یہ بیان کیا ہے کہ وعظ کہتے ہیں کہ خیر بھلائی کی اس طرح نصیحت کرنا کہ اس کے اس سے دل نرم ہوجائے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں وعظ عتاب کے معی میں ہے جیسا کہ ایک روایت میں یعظ کے بجائے یعاتب کا لفظ منقول ہے۔
4966
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عمران بن حصين قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الحياء لا يأتي إلا بخير . وفي رواية الحياء خير كله متفق عليه
اور حضرت عمران بن حصین (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا حیاء نیکی اور بھلائی کے سوا کوئی بات پیدا نہیں کرتا ایک اور روایت میں یہ ہے کہ حیاء کی تمام صورتیں بہتر ہیں۔

تشریح
یہاں ایک اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بسا اوقات حیاء بعض حقوق کی ادائیگی جیسے امربالمعروف میں مخل ہوتی ہے تو اس اعتبار سے حیاء کی تمام صورتیں کو بہتر قرار دینا کیسے درست ہوسکتا ہے اس کا جواب یہ ہے کہ جو حیاء اظہار حقیقت اور حق کی ادائیگی سے باز رکھے اس کو حیاء کہا جاتا ہی نہیں ہے بلکہ اس کو عجز اور بزدلی کہیں گے جو ایک طرح کی خرابی اور نقصان ہے اور اگر اس کو حیاء کہا بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ مجازا کہا جاسکتا ہے کیونکہ شریعت کی نظر میں حقیقی حیاء وہی ہے کہ جو برائی کو ترک کرنے کا باعث بنے علاوہ ازیں یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ حیاء کے زیادہ صحیح معنی نفس کا برائی سے رک جانا خواہ وہ برائی طبعی ہو یا شرعی۔ اور شریعت میں جس حیاء کو بہتر اور قابل تعریف کہا گیا ہے اس کی صحیح پہچان یہ ہے کہ نفس اس چیز کو اختیار کرنے سے باز رہے جس کو شریعت نے برائی قرار دیا ہے خواہ وہ حرام ہو یا مکروہ یا ترک اولی لہذا مذکورہ بالا اشکال کا زیادہ واضح جواب یہ ہے کہ یہ کلیہ حیاء خیر کلہ، حیاء کی ان صورتوں کے ساتھ خاص ہے جو حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کے مطابق ہوں۔
4967
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن مسعود قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن مما أدرك الناس من كلام النبوة الأولى إذا لم تستحي فاصنع ما شئت رواه البخاري
اور حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا لوگوں نے پہلے انبیاء پر اترنے والے کلام میں سے جو بات پائی ہے وہ یہ کہ جب تو بےشرم ہوجائے تو جو جی چاہے کرے۔ (بخاری)

تشریح
ان مما ادرک الناس۔ کا مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بات پہلے انبیاء پر اترنے والے کلام سے ماخوذ ہے اور جس کا حکم ابھی تک باقی ہے نہ اس کو منسوخ قرار دیا گیا ہے اور نہ اس میں کوئی تغیر و تبدل ہوا ہے۔ واضح رہے کہ مذکورہ جملہ میں جو امر کا صیغہ استعمال ہوا ہے یعنی جو جی چاہے کر اس سے حکم دینا طلب مراد نہیں ہے بلکہ یہ امر بطور خبر کے ہے جس کا مطلب ہے کہ جو چیز بری باتوں سے باز رکھتی ہے وہ حیاء ہے اور جب حیاء نہ رہے اور آدمی بےحیائی کا شیوہ اپنا لے تو پھر وہ جو چاہے کرے گا اور اس سے کسی گناہ اور کسی برائی کو اختیار کرنے میں کوئی باک نہیں ہوگا یا یہ کہ امر کا صیغہ بطور تہدید و توبیخ کے ہے اور اس سے مقصد یہ آگاہی دینا ہے کہ جب تم نے بےحیائی کی کمر باندھ لی تو جی چاہے کرو۔ لیکن یاد رکھو کہ وہ وقت بہت جلد آنے والا ہے کہ جب تمہیں اپنے سارے کرتوتوں کی سزا بھگتنی پڑے گی گویا یہ جملہ ایسا ہی ہے جیسا کہ آیت (اعملو ماشئتم)
4968
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن النواس بن سمعان قال سألت رسول الله صلى الله عليه وسلم عن البر والإثم فقال البر حسن الخلق والإثم ما حاك في صدرك وكرهت أن يطلع عليه الناس . رواه مسلم
اور حضرت نو اس بن سمعان (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے نیکی اور گناہ کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ نیکی خوش خلقی کا نام ہے اور گناہ وہ کام ہے جو تمہارے دل میں تردد پیدا کرے اور تم اس بات کو پسند نہ کرو لوگ تمہارے اس کام سے واقف ہوجائیں۔ (مسلم)

تشریح
تردد پیدا کرے کا مطلب یہ ہے کہ جب تم ایسا کام کرو جس پر تمہارے دل کو اطمینان نہ ہو بلکہ اس کی وجہ سے دل و دماغ میں ایک خلش پیدا ہوجائے تو سمجھو کہ تمہارا وہ کام بہتر نہیں ہے بلکہ گناہ کا باعث ہے لیکن واضح رہے کہ اس بات کا تعلق اس شخص سے ہے جس کے سینے کو اللہ نے اسلام کی دولت کے لئے کھول دیا ہے اور اس کا دل نور تقوی سے روش ہو علاوہ ازیں کام سے مراد وہ اعمال نہیں ہیں جن کی برائی کو شریعت نے واضح کردیا ہے اور جس کا گناہ ہونا کسی شک و شبہ سے بالاتر ہو بلکہ اس سے مراد کوئی ایسا فعل ہے جامم نوع ہونا شارع سے واضح طور پر منقول نہ ہو۔ اور اس کے متعلق علماء کے اختلافی اقوال ہوں اور تم اس بات کو پسند نہ کرو یہ گویا گناہ کی دوسری پہچان بیان فرمائی لیکن اس کا تعلق بھی انہی لوگوں سے ہے جو اچھے احوال کے ہوں۔
4969
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من أحبكم إلي أحسنكم أخلاقا . رواه البخاري
اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم میں سے وہ شخص مجھ کو بہت پیارا ہے جو اچھے اخلاق کا حامل ہو۔ (بخاری)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ تم میں سے وہ شخص میرے نزدیک بہت محبوب ہے جو اچھے طور و عادات رکھتا ہو اور بہترین خصلتوں کا حامل ہو بایں طور کہ اللہ کے حقوق بھی ادا کرتا ہو اور بندوں کے حقوق کی ادائیگی میں بھی تقصیر و کوتاہی نہ کرتا ہو۔
4970
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من خياركم أحسنكم أخلاقا
اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے بہترین شخص وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہوں۔
4971
Mishkaat Shareef
صحیح
عن عائشة رضي الله عنها قالت قال النبي صلى الله عليه وسلم من أعطي حظه من الرفق أعطي حظه من خير الدنيا والآخرة ومن حرم حظه من الرفق حرم حظه من خير الدنيا والآخرة . رواه في شرح السنة
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو نرمی میں سے حصہ دیا گیا اس کو گویا دنیا و آخرت کی بھلائیوں میں سے حصہ دیا گیا جو شخص نرمی میں سے اپنے حصے سے محروم رہا وہ گویا دنیا و آخرت کی بھلائیوں میں سے اپنے حصہ سے محروم رہا۔ (شرح السنہ۔