hadith book logo

Mishkaat Shareef

49. اختلافات قرأت ولغات اور قرآن جمع کرنے کا بیان

مشكاة المصابيح

2226
Mishkaat Shareef
صحیح
مشکوۃ کے اکثر نسخوں میں یہاں صرف باب لکھ کر عنوان قائم کیا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ باب متعلقات قرآن کے بیان میں ہے مگر بعض نسخوں میں اس موقع پر یہ عنوان لکھا ہوا ہے باب اختلاف القرآن وجمع القرآن یعنی اختلافات قرأت ولغات اور قرآن جمع کرنے سے مراد ہے کتابت قرآن یعنی اس کا مصحف میں لکھا جانا۔
2227
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عمر بن الخطاب رضي الله عنه قال : سمعت هشام بن حكيم بن حزام يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرؤوها . وكان رسول الله صلى الله عليه و سلم أقرأنيها فكدت أن أعجل عليه ثم أمهلته حتى انصرف ثم لببته بردائه فجئت به رسول الله صلى الله عليه و سلم . فقلت يا رسول الله إني سمعت هذا يقرأ سورة الفرقان على غير ما أقرأتنيها . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أرسله اقرأ فقرأت القراءة التي سمعته يقرأ . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هكذا أنزلت . ثم قال لي : اقرأ . فقرأت . فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هكذا أنزلت إن القرآن أنزل على سبعة أحرف فاقرءوا ما تيسر منه . متفق عليه . واللفظ لمسلم
امیرالمومنین حضرت عمر بن الخطاب (رض) فرماتے ہیں کہ (ایک دن جب) میں نے ہشام بن حکیم بن حزام (رض) کو سنا کہ وہ سورت فرقان اس طریقہ کے خلاف پڑھ رہے ہیں جس طریقہ کے مطابق میں پڑھتا ہوں اور جس طریقہ سے مجھے رسول کریم ﷺ نے وہ سورت پڑھائی تھی تو قریب تھا کہ میں ان کی طرف جھپٹ پڑوں یعنی قرأت ختم کرنے سے پہلے ہی میں ان سے لڑ پڑوں مگر پھر میں نے ان کو اتنی مہلت دی کہ وہ پڑھنے سے فارغ ہوئے اس کے بعد میں نے ان کی چادر ان کی گردن میں ڈالی اور انہیں کھینچتا ہوا رسول کریم ﷺ کی خدمت میں لایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے سنا ہے کہ یہ سورت فرقان اس طریقہ کے خلاف پڑھتے ہیں جس طریقہ سے آپ نے مجھے وہ سورت پڑھائی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا۔ عمر ! انہیں چھوڑ دو ۔ پھر ہشام سے کہا کہ تم پڑھو، پھر ہشام نے اسی طریقے سے پڑھا جس طریقے سے میں نے انہیں پڑھتے ہوئے سنا۔ آنحضرت ﷺ نے ان کی قرأت سن کر فرمایا کہ یہ سورت اسی طرح اتاری گئی ہے۔ پھر مجھ سے فرمایا کہ اب تم پڑھو۔ چناچہ میں نے پڑھا (تو آپ نے میری قرأت بھی سن کر فرمایا کہ یہ سورت اس طرح اتاری گئی ہے یاد رکھو کہ یہ قرآن سات طریقہ پر اتارا گیا ہے لہٰذا ان میں سے جس طریقہ سے ہو سکے پڑھو ! (اس روایت کو بخاری ومسلم نے نقل کیا ہے مگر الفاظ مسلم کے ہیں)

تشریح
اس حدیث کے معنی و مفہوم میں علماء کا بہت زیادہ اختلاف ہے چناچہ اس کی تشریح و وضاحت کے سلسلے میں تقریبا چالیس اقوال منقول ہیں ان میں سے ایک قول یہ بھی ہے کہ یہ حدیث متشابہات میں سے ہے جس کے معنی پورے بسط کے ساتھ کسی کو بھی معلوم نہیں ہیں۔ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ اختلاف قرأت اگرچہ سات طریقوں سے زائد منقول ہے لیکن وہ تمام اختلاف سات وجہوں کی طرف راجع ہیں اور سات وجہیں یہ ہیں۔ (١) اختلاف کی پہلی وجہ کلمہ کی ذات میں یعنی کلمہ کی کمی وزیادت کا اختلاف ہونا (٢) دوسری وجہ صیغہ جمع وواحد کے ساتھ متغیر ہونا۔ (٣) تیسری وجہ مذکر ومونث کا اختلاف (٤) چوتھی وجہ حروف کا صرفی اختلاف یعنی تخفیف وتشدید، فتح وکسرہ اور ضمہ اختلاف جیسے مَیِّت بھی پڑھا جاتا ہے اور مَیْت بھی ایسے یَقْنِطُ اور یَقْنُطُ یا یَعْرِشُ اور یَعْرُشُ وغیرہ (٥) پانچویں وجہ حرکات کا اختلاف (٦) وجہ حروف کا اختلاف جیسے لکن الشیاطین کہ بعض تو اسے نون کی تشدید کے ساتھ پڑھتے ہیں اور بعض نون کی تخفیف کے ساتھ (٧) ساتویں وجہ ادائیگی لغات کا اختلاف جیسے تفخیم اور امالہ۔ کتاب العم (مظاہر حق جدید جلد اول باب علم) میں اس باب کو یہاں کی بہ نسب زیادہ وضاحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے) ۔
2228
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن مسعود رضي الله عنه قال : سمعت رجلا قرأ وسمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقرأ خلافها فجئت به النبي صلى الله عليه و سلم فأخبرته فعرفت في وجهه الكراهية فقال : كلاكما محسن فلا تختلفوا فإن من كان قبلكم اختلفوا فهلكوا . رواه البخاري
حضرت ابن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے ایک شخص کو قرآن پڑھتے ہوئے سنا اور رسول کریم ﷺ کو سنا کہ آپ کی قرأت اس شخص کی قرأت سے مختلف تھی چناچہ میں اس شخص کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں لایا اور آپ ﷺ سے صورت حال بیان کی (کہ اس شخص کی قرأت آپ کی قرأت سے مختلف ہے) پھر میں نے محسوس کیا کہ (میرے جھگڑے اور اختلاف کی وجہ سے) آپ کے چہرہ اقدس پر ناگواری کے آثار نمایاں ہیں بہرکیف آپ نے فرمایا تم دونوں صحیح اور اچھا پڑھتے ہو (دیکھو) آپس میں اختلاف نہ کرو کیونکہ وہ لوگ جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں (یعنی پہلی امتوں کے لوگ) وہ آپس کے اختلاف کی وجہ سے ہلاک ہوگئے یعنی وہ لوگ آپس میں ایک دوسرے کو جھٹلایا کرتے تھے۔ (بخاری)

تشریح
یہاں اختلاف سے مراد قرآن کے ان وجوہ میں سے کسی ایک وجہ کا انکار ہے کہ جن کے مطابق قرآن کریم نازل کیا گیا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا جا چکا ہے کہ قرآن کریم کی جتنی بھی قرأتیں منقول اور رائج ہیں وہ سب برحق ہیں ان میں سے کسی ایک قرأت کا بھی انکار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ اگر کسی شخص نے ان میں سے کسی ایک قرأت کا بھی انکار کیا تو گویا اس نے قرآن کریم ہی کا انکار کیا اس موقع پر یہ تفصیل بھی ذہن میں رکھنی چاہئے کہ بعض قرآتیں تو متواتر ہیں اور بعض آحاد متواتر وہ سات قرآتیں ہیں جو پڑھی جاتی ہیں۔
2229
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي بن كعب قال : كنت في المسجد فدخل رجل يصلي فقرأ قراءة أنكرتها عليه ثم دخل آخر فقرأ قراءة سوى قراءة صاحبه فلما قضينا الصلاة دخلنا جميعا على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقلت إن هذا قرأ قراءة أنكرتها عليه ودخل آخر فقرأ سوى قراءة صاحبه فأمرهما النبي صلى الله عليه و سلم فقرآ فحسن شأنهما فسقط في نفسي من التكذيب ولا إذ كنت في الجاهلية فلما رأى رسول الله صلى الله عليه و سلم ما قد غشيني ضرب في صدري ففضت عرقا وكأنما أنظر إلى الله عز و جل فرقا فقال لي : يا أبي أرسل إلي أن اقرأ القرآن على حرف فرددت إليه أن هون على أمتي فرد إلي الثانية اقرأه على حرفين فرددت إليه أن هون على أمتي فرد إلي الثالثة اقرأه على سبعة أحرف ولك بكل ردة رددتكها مسألة تسألنيها فقلت اللهم اغفر لأمتي اللهم اغفر لأمتي وأخرت الثالثة ليوم يرغب إلي الخلق كلهم حتى إبراهيم صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم
حضرت ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن میں مسجد میں تھا کہ ایک شخص وہاں آیا اور نماز پڑھنے لگا اس نے نماز ہی میں یا نماز کے بعد ایسی قرأت پڑھی (یعنی ایسے لہجے میں قرآن شریف پڑھا) کہ میں نے اسے درست نہیں سمجھا پھر ایک اور شخص آیا اور اس نے پہلے شخص کے خلاف طریقہ سے قرأت پڑھی جب ہم سب نماز سے فارغ ہوچکے تو رسول کریم ﷺ کے پاس (مسجد ہی میں آپ ﷺ کی نماز کی جگہ یا آپ کے حجرہ مبارک میں) حاضر ہوئے میں نے عرض کیا کہ حضرت ! اس شخص نے ایسی قرأت پڑھی جسے میں نے درست نہیں سمجھا اس کے بعد یہ دوسرا شخص آیا اس نے پہلے شخص کے خلاف طریقہ سے قرأت پڑھی ! نبی کریم ﷺ نے یہ سن کر دونوں کو اپنے سامنے قرآن پڑھنے کا حکم دیا ان دونوں نے پڑھا آپ ﷺ نے ان دونوں کی قرأت کی تحسین و توثیق کی یہ دیکھ کر میرے دل میں اس بات کی تکذیب کا وسوسہ پیدا ہوگیا ایسا وسوسہ اور شبہ جو ایام جاہلیت میں پیدا نہیں ہوا تھا جب آنحضرت ﷺ نے میری یہ کیفیت دیکھی جو مجھ پر طاری تھی یعنی جب آنحضرت ﷺ کو معلوم ہوا کہ میرے دل میں تردد و شبہ پیدا ہوگیا تو آپ ﷺ نے اپنا دست مبارک میرے سینے پر مارا تاکہ اس کی برکت سے وسوسہ ختم ہوجائے چناچہ میں پسینہ پسینہ ہوگیا اور خوف کی وجہ سے میری ایسی حالت ہوگئی کہ گویا میں اللہ کو دیکھ رہا ہوں اس کے بعد آپ ﷺ نے مجھ سے فرمایا کہ ابی ! جب قرآن نازل ہوا تو میرے پاس حضرت جبرائیل کے ذریعہ سے یہ حکم بھیجا گیا کہ میں ایک طریقہ یعنی ایک قرأت پر یا ایک لغت پر قرآن پڑھوں میں نے بارگاہ الوہیت میں درخواست پیش کی کہ میری امت پر آسانی عطا فرمائی جائے تاکہ آسانی ہو بایں طور کہ ایک ہی قرأت میں قرآن پڑھنا مشکل ہے اس لئے کئی قرأتوں کے مطابق پڑھنے کی اجازت دے دی جائے تاکہ آسانی ہو چناچہ دوسری مرتبہ مجھے حکم یہ دیا گیا کہ میں دو قرأتوں پر قرآن پڑھوں ! میں نے پھر درخواست پیش کی کہ میری امت کو مزید آسانی عطا فرمائی جائے چناچہ تیسری مرتبہ مجھے یہ حکم دیا گیا کہ میں قرآن کریم کو سات طریقوں سے یعنی سات لغات یا سات قرأت کے مطابق پڑھوں اور یہ بھی فرمایا کہ جتنی مرتبہ ہم نے آپ کو حکم دیا ہے اتنی ہی مرتبہ آپ ہم سے دعا مانگئے ہم اسے قبول کریں گے چناچہ میں نے بارگاہ الوہیت میں دو مرتبہ یہ دعا کی کہ اے اللہ میری امت میں سے کبیرہ گناہ کرنے والوں کو بخش دے اے اللہ میری امت میں سے صغیرہ گناہ کرنے والوں کو بخش دے اور تیسری دعا میں نے اس دن کے لئے رکھ چھوڑی ہے جس دن مخلوق مجھ سے سفارش و شفاعت کی خواہش کرے گی یہاں تک کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) بھی مجھ سے شفاعت کی خواہش کریں گے۔ (مسلم)

تشریح
میرے دل میں تکذیب کا وسوسہ پیدا ہوگیا۔ جب آنحضرت ﷺ نے دونوں قرأتوں کی تحسین و توثیق کی تو حضرت ابی (رض) کے دل میں اس بات کی تکذیب کا وسوسہ اور شبہ اس لئے پیدا ہوا کہ آنحضرت ﷺ نے تو دونوں قرأتوں کو اچھا کہا حالانکہ قرآن کریم چونکہ اللہ رب العزت کا کلام ہے اس لئے وہ کسی ایک خاص طریقہ کے مطابق ہی پڑھا جانا چاہئے یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک ہی کلام کوئی شخص کئی طریقہ سے پڑھیں اور ان سب کا پڑھنا درست ہو ؟ ایسا وسوسہ اور شبہ جو ایام جاہلیت میں بھی پیدا نہیں ہوا تھا۔ کا مطلب یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں چونکہ میرا قلب و دماغ ایمان یقین کی روشنی سے منور نہیں تھا۔ اس لئے اس حالت میں بڑے سے بڑا وسوسہ اور شبہ بھی اتنا بعید اور بڑا معلوم نہیں ہوتا تھا لیکن اب جب اللہ کے فضل سے قلب و دماغ ایمان واسلام کے نور سے منور ہیں اور یقین و معرفت کی دولت حاصل ہے تو یہ وسوسہ اور شبہ بھی بہت ہی زیادہ بڑا اور سنگین معلوم ہوا۔ جتنی مرتبہ ہم نے آپ ﷺ کو حکم دیا الخ۔ اس ارشاد ربانی کا مطلب یہ تھا کہ ہم نے آپ کو تین مرتبہ حکم دیا یعنی ایک مرتبہ تو ایک قرأت کے مطابق دوسری مرتبہ دو قرأت کے مطابق اور تیسری مرتبہ سات قرأت کے مطابق قرآن پڑھنے کا حکم دیا اب آپ ان تینوں مرتبہ کے عوض ہم سے تین سوال کیجئے تاکہ ہم تینوں کو پورا کریں۔ چناچہ رحمت عالم ﷺ نے تینوں سوال اپنی امت کی مغفرت کے لئے ہی کئے کیونکہ اصل چیز تو مغفرت ہی ہے اگر مغفرت نہ ہو تو کسی کی نجات ممکن نہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ آیت (وان لم تغفرلنا وترحمنا لنکونن من الخاسرین) (اے اللہ اگر تو ہمیں نہ بخشے اور ہم پر رحم نہ کرے تو بلاشبہ ہم ٹوٹا پانے والوں میں سے ہونگے) لیکن آپ ﷺ نے اس موقع پر مغفرت کو تین زمروں میں تقسیم کیا دو مغفرت تو آپ ﷺ نے اپنی امت کے لئے یعنی گناہ کبیرہ اور صغیرہ گناہ کرنے والوں کے لئے چاہی اور تیسری مغفرت کو تمام ہی مخلوق کے لئے قیامت کے دن پر چھوڑا اسی کو شفاعت کبریٰ کہتے ہیں یعنی قیامت کے دن جب سب ہی نفسی نفسی کہتے ہوں گے اور کوئی بھی نبی و پیغمبر مخلوق اللہ کی شفاعت کی جرات نہیں کر پائے گا تو آخر کار شافع محشر سرکار دو عالم ﷺ سے درخواست کی جائے گی کہ آپ ﷺ پروردگار کے حضور مخلوق اللہ کی شفاعت کیجئے نبی کریم ﷺ سب کی شفاعت کریں گے اسی طرح وہ تیسری دعا جس کی قبولیت کا وعدہ بارگاہ رب العزت سے اس وقت کیا گیا تھا اور جسے سرکار دو عالم ﷺ نے آج کے لئے رکھ چھوڑا تھا وہ اس موقع پر کام آئے گا۔ اگرچہ پوری مخلوق یہاں تک کہ تمام ہی انبیاء آنحضرت ﷺ سے شفاعت کی آرزو و خواہش کریں گے لیکن اس جگہ حضرت ابراہیم کا نام بطور خاص اس لئے ذکر کیا گیا ہے کہ حضرت ابراہیم تمام انبیاء میں آنحضر ﷺ کے بعد سب سے افضل ہیں۔
2230
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أقرأني جبريل على حرف فراجعه فلم أزل أستزيده ويزيدني حتى انتهى إلى سبعة أحرف . قال ابن شهاب : بلغني أن تلك السبعة الأحرف إنما هي في الأمر تكون واحدا لا تختلف في حلال ولا حرام
حضرت ابن عباس (رض) راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا۔ حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نے پہلی مرتبہ مجھے ایک قرأت یعنی ایک لہجہ پر قرآن پڑھایا پھر میں نے اپنی امت کی آسانی کے لئے اللہ کی طرف مراجعت کی اور میں آسانی میں برابر زیادتی طلب کرتا رہا جس کے نتیجہ میں مجھے زیادہ آسانی حاصل ہوتی رہی یہاں تک کہ سات قرأتوں تک نوبت پہنچ گئی اور یہ آخری فیصلہ دے دیا گیا کہ قرآن کریم سات لغات پر پڑھا جاسکتا ہے۔ اس حدیث کے راوی حضرت ابن شہاب زہری (تابعی) (رح) کہتے ہیں کہ یہ بات مجھ تک تحقیق طور پر پہنچی ہے کہ قرأت کے یہ سات طریقے دینی احکام و امور میں متفق و متحد ہیں حلال و حرام میں ان سے کوئی اختلاف واقع نہیں ہوتا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اختلاف قرأت سے قرآن کریم میں مذکور احکام و مسائل میں تغیر و تبدل نہیں ہوتا یعنی ایسا نہیں ہوتا کہ قرآن کی کوئی آیت اگر ایک قرأت سے پڑھی جائے اور اس آیت میں کسی چیز کے حلال ہونے کا ذکر موجود ہو اور پھر جب وہی آیت دوسری قرأت سے پڑھی جائے تو اس اختلاف قرأت سے حکم میں تغیر ہوجائے اور وہی چیز جو پہلی قرأت سے حلال ثابت ہو رہی تھی اب دوسری قرأت کی بنا پر حرام ہوجائے ایسا نہیں بلکہ ایک قرأت سے کسی چیز کے حلال ہونے کا حکم ثابت ہوتا ہے تو دوسری قرأت سے بھی اس چیز کے حلال ہونے ہی کا حکم ثابت ہوتا ہے حاصل یہ کہ اختلاف قرأت کا تعلق صرف الفاظ لہجہ اور صوت سے ہے احکام ومعانی سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔
2231
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي بن كعب رضي الله عنه قال : لقي رسول الله صلى الله عليه و سلم جبريل فقال : يا جبريل إني بعثت إلى أمة أميين منهم العجوز والشيخ الكبير والغلام والجارية والرجل الذي لم يقرأ كتابا قط قال : يا محمد إن القرآن أونزل على سبعة أحرف . رواه الترمذي وفي رواية لأحمد وأبي داود : قال : ليس منها إلا شاف كاف . وفي رواية للنسائي قال : إن جبريل وميكائيل أتياني فقعد جبريل عن يميني وميكائيل عن يساري فقال جبريل : اقرأ القرآن على حرف قال ميكائيل : استزده حتى بلغ سبعة أحرف فكل حرف شاف كاف
حضرت ابی بن کعب (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت جبرائیل (علیہ السلام) سے ملاقات کی اور ان سے فرمایا کہ جبریل ! میں ایک ناخواندہ قوم کی طرف بھیجا گیا ہوں میری قوم میں بوڑھی عورتیں اور بڑے بوڑھے مرد ہیں لڑکے اور لڑکیاں ہیں اور اس قوم میں ایسا شخص بھی ہے جس نے کبھی کوئی کتاب نہیں پڑھی، حضرت جبرائیل نے کہا اے محمد ﷺ ! قرآن کریم سات طرح پر یعنی سات لغات یا سات قرأت پر اتارا گیا ہے لہٰذا جسے جو قرأت آسان معلوم ہو اس کے مطابق قرآن کریم پڑھے۔ (ترمذی) اور احمد و ابوداؤد کی روایت میں ہے کہ حضرت جبرائیل نے (لفظ) حرف کے بعد آخر میں یہ بھی کہا کہ ان سات میں سے ہر قرأت شافی ہے یعنی ( کفر وشرک اور ظلم وجہل کے روگ کو دفع کرتی ہے) اور کافی ہے یعنی نبی کی صداقت دین اسلام کی حقانیت اور منکرین دین کے رد کے لئے کافی ہے۔ نسائی کی روایت میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جبرائیل ومیکائیل میرے پاس آئے جبرائیل تو میرے طرف بیٹھ گئے۔ اور میکائیل میرے بائیں طرف۔ اس کے بعد جبرائیل نے کہا کہ ایک قرأت کے مطابق قرآن پڑھو۔ یہ سن کر میکائیل نے مجھ سے کہا کہ ایک قرأت سے زیادہ کی طلب کیجئے یعنی اللہ تعالیٰ سے درخواست کیجئے کہ اور قرأتوں کے مطابق بھی پڑھنے کا حکم دیا جائے یا جبرائیل سے کہئے کہ اس کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے عرض کر کے اسانی دلائیں چناچہ میں زیادتی کرتا رہا اور مجھے زیادہ قرأتوں کی اجازت حاصل ہوتی رہی یہاں تک کہ سات قرأتوں تک نوبت پہنچ گئی لہٰذا ان میں سے ہر قرأت شافی اور کافی ہے۔

تشریح
ناخواندہ قوم کی طرف، کا مطلب یہ ہے کہ میں ایک ایسی قوم میں بھیجا گیا ہوں جس میں اکثریت ایسے لوگوں کی ہے جو اچھی طرح پڑھنا نہیں جانتے اگر میں ان کو کسی ایک کے مطابق قرآن کریم پڑھاؤں تو وہ اس پر قادر نہیں ہوسکتے کیونکہ مثال کے طور پر ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جن کی زبان صرف امالہ یا فتح پر چلتی ہے اور بعض لوگ ایسے ہیں جن کی زبان پر ادغام یا اظہار غالب ہوتا ہے پھر یہ کہ قوم میں بوڑی عورتیں بھی ہیں اور بوڑھے مرد بھی ہیں اور صغیر السن بچے بھی ہیں ان کے لئے ناممکن ہے کہ وہ اپنے بڑھاپے یا اپنی کم عمری کی وجہ سے کوئی مخصوص قرأت سیکھ سکیں لہٰذا ان کے لئے ضروری ہے کہ کئی قرأتیں ہوں تاکہ جسے جو آسان معلوم ہو اور جو جس قرأت پر قادر ہو اس کے مطابق قرآن کریم پڑھا کرے۔
2232
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن عمران بن حصين رضي الله عنهما أنه مر على قاص يقرأ ثم يسأل . فاسترجع ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قرأ القرآن فليسأل الله به فإنه سيجيء أقوام يقرؤون القرآن يسألون به الناس . رواه أحمد والترمذي
حضرت عمران بن حصین (رض) کے بارے میں مروی ہے کہ وہ ایک مرتبہ ایک قصہ گو کے پاس سے گزرے جو قرآن کریم پڑھتا تھا اور لوگوں سے بھیک مانگتا تھا حضرت عمران (رض) نے یہ سن کر انتہائی تکلیف کے ساتھ کہا۔ انا للہ وانا الیہ راجعون۔ کیونکہ یہ بدعت اور علامت قیامت میں سے ہے پھر انہوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو شخص قرآن پڑھے تو اسے چاہئے کہ وہ اس کے ذریعہ اللہ ہی سے مانگے اور وہ وقت آنے والا ہے جب لوگ قرآن کریم پڑھیں گے اور اس کے ذریعہ دوسروں کے آگے دست سوال دراز کریں گے۔ (احمد و ترمذی)

تشریح
اس حدیث میں ان لوگوں کے لئے تنبیہ اور وعید ہے جو قرآن کریم کو بھیک مانگنے کا ذریعہ بناتے ہیں یوں تو یہ بات بطور خود انسانی شرف کے خلاف ہے کہ کوئی شخص اپنے اللہ کو چھوڑ کر اپنے ہی جیسے ایک انسان کے سامنے دست سوال دراز کرے اور اسے حاجت رو قرار دے چہ جائیکہ اس قبیح فعل کے لئے قرآن کریم کو ذریعہ بنایا جائے اسی لئے فرمایا جا رہا ہے کہ قرآن پڑھ کر صرف اللہ کے آگے دست سوال دراز کرو۔ اپنے اخروی و دنیوی امور میں سے جو چاہو صرف اسی سے مانگو لوگوں کے آگے ہاتھ نہ پھیلاؤ کیونکہ وہ خود اسی ذات کے محتاج ہیں وہ تمہاری کیا حاجت پوری کریں گے تلاوت قرآن کے وقت اللہ سے مانگنے کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ جب آیت رحمت یا جنت کے ذکر پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ سے اس کی رحمت اور جنت کا طلب گار ہوا ور جب آیت عذاب اور ذکر دوزخ پر پہنچے تو اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے۔ یا پھر یہ کہ قرأت سے فارغ ہونے کے بعد وہ دعائیں مانگے جو ماثورہ ہیں نیز اس موقع پر ایسی دعا مانگنا لائق ہے جس کا تعلق آخرت کی باتوں اور دین و دنیا میں مومنین کی بہتری و بھلائی سے ہو۔
2233
Mishkaat Shareef
ضعیف
عن بريدة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من قرأ القرآن يتأكل به الناس جاء يوم القيامة ووجهه عظم ليس عليه لحم . رواه البيهقي في شعب الإيمان
حضرت بریدہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن کریم اس لئے پڑھے کہ اس کے ذریعہ لوگوں سے کمائے (یعنی قرآن کریم کو دنیاوی فائدہ کے لئے وسیلہ بنائے) تو وہ قیامت کے دن اس حالت میں اٹھ کر آئے گا کہ اس کا چہرہ صرف ہڈی ہوگا اس پر گوشت نہیں ہوگا۔ (بیہقی)
2234
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم لا يعرف فصل السورة حتى ينزل عليه بسم الله الرحمن الرحيم . رواه أبو داود
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ایک سورت سے دوسری سورت کا فرق نہیں کر پاتے تھے یہاں تک کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم نازل ہوئی۔ (ابو داؤد)

تشریح
یہ حدیث وضاحت کے ساتھ یہ بات ثابت کرتی ہے کہ بسم اللہ الرحمن الرحیم قرآن کی ایک آیت ہے جو دو سورتوں کے درمیاں فرق و امتیاز کو ظاہر کرنے کے لئے نازل فرمائی گئی جیسا کہ حنفیہ کا مسلک ہے۔
2235
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن علقمة قال : كنا بحمص فقرأ ابن مسعود سورة يوسف فقال رجل : ما هكذا أنزلت . فقال عبد الله : والله لقرأتها على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : أحسنت فبينا هو يكلمه إذ وجد منه ريح الخمر فقال : أتشرب الخمر وتكذب بالكتاب ؟ فضربه الحد
حضرت علقمہ (رح) کہتے ہیں کہ ہم حمص میں کہ (جو ایک شہر کا نام ہے) مقیم تھے وہیں ایک مرتبہ ابن مسعود نے سورت یوسف کی قرأت کی تو ایک شخص نے ان کی قرأت سن کر کہا کہ یہ سورت اس طرح نازل نہیں کی گئی ہے۔ حضرت ابن مسعود (رض) نے فرمایا کہ اللہ کی قسم ! میں نے یہ سورت اسی طرح رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں پڑھی ہے چناچہ آپ ﷺ نے اسے سن کر فرمایا کہ تم نے خوب پڑھا۔ وہ شخص جب حضرت ابن مسعود (رض) سے گفتگو کر رہا تھا تو اچانک حضرت ابن مسعود (رض) نے اس کے منہ سے آتی ہوئی شراب کی بو محسوس کی حضرت ابن مسعود (رض) نے اس سے فرمایا تم شراب پیتے ہو ؟ یعنی قرآن کے خلاف عمل کرتے ہو اور اس پر طرہ یہ کہ قرآن کریم کو یعنی اس کی قرأت کو یا قرأت کے لہجہ وطرز ادائیگی کو جھٹلاتے بھی ہو۔ پھر حضرت ابن مسعود (رض) نے اس پر حد جاری کی یعنی شراب پینے کی سزا کے طور پر اسے کوڑے مارے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اگر حضرت ابن مسعود (رض) کی قرأت، قرأت مشہورہ (یعنی متواترہ) تھی تو اس شخص نے اس قرت کی تکذیب کر کے کتاب اللہ کی تکذیب کی لہٰذا اس کے اس انکار اور تکذیب نے یقینا اسے کفر کی حد میں داخل کردیا تھا اور اگر ابن مسعود (رض) کی قرأت قرأت شاذ تھی تو ان کی اس قرأت کی تکذیب کتاب اللہ کی تکذیب کو مستلزم نہیں تھی اس لئے کہا جائے گا کہ اس صورت میں ابن مسعود (رض) کا اس شخص سے یہ کہنا کہ تم کتاب اللہ کی تکذیب کرتے ہو۔ تغلیظا اور تہدیداً تھا اور بظاہر یہی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے کہ اس موقع پر حضرت ابن مسعود (رض) کسی قرأت شاذ کے مطابق سورت یوسف پڑھ رہے تھے یہی وجہ ہے کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے اس شخص کے مرتد ہوجانے کا حکم نہیں لگایا تھا بلکہ صرف شراب کی حد جاری کردینے ہی پر اکتفا کیا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ حضرت ابن مسعود (رض) نے اس شخص کی یہ بات تغلیظاً ہی کہی کیونکہ قرأت و قرآن کے اصل کلمہ کا انکار اور جھٹلانا کفر ہے نہ کہ لہجہ اور ادائیگی کلمات کا انکار کفر کو مستلزم ہے۔ حاصل یہ کہ اس شخص نے لہجہ اور ادائیگی کلمات کا انکار کیا تھا اصل قرآن یا اصل قرأت کا انکار نہیں کیا تھا اسی لئے حضرت ابن مسعود (رض) نے اس پر صرف شراب کی حد جاری کی مرتد ہونے کی حد جاری نہیں کی۔ حدیث کے ظاہری مفہوم سے ایک اور مسئلہ پر روشنی پڑ رہی ہے اور وہ یہ کہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے اس شخص کو شراب پینے کی سزا دی یعنی اس پر حد جاری کردی جب کہ شراب نوشی کا بظاہر واحد ثبوت اس کے منہ سے آنے والی بو تھی چناچہ علماء کی ایک جماعت کا یہی مسلک ہے یعنی ان کے نزدیک شراب نوشی کا جرم منہ سے شراب کی بو آنے سے بھی ثابت ہوجاتا ہے لیکن حنفیہ اور شوافع دونوں کا مسلک یہ ہے کہ شراب نوشی کا جرم محض منہ سے شراب کی بو آنے سے ثابت نہیں ہوتا اور نہ کسی ایسے شخص پر شراب کی حد جاری کی جاسکتی ہے جس کے منہ سے شراب کی بو آرہی ہو اور اس کے علاوہ اس کی شراب نوشی کا اور کوئی ثبوت نہ ہو کیونکہ بسا اوقات ترش سیب اور امرود کی بو بعض شراب کی بو کے مشابہ ہوتی ہے۔ جہاں تک حضرت ابن مسعود (رض) کے اس واقعہ کا تعلق ہے اس کے بارے میں ان حضرات کی طرف سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ اس شخص نے خود شراب نوشی کا اقرار کیا ہوگا یا اس کی شراب نوشی پر گواہ قائم ہوگئے ہوں گے اس وجہ سے انہوں نے حد جاری کی۔