Mishkaat Shareef
41. رویت ہلال کا بیان
مشكاة المصابيح
1971
Mishkaat Shareefعن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تصوموا حتى تروا الهلال ولا تفطروا حتى تروه فإن غم عليكم فاقدروا له . وفي رواية قال : الشهر تسع وعشرون ليلة فلا تصوموا حتى تروه فإن غم عليكم فأكملوا العدة ثلاثين
حضرت ابن عمر (رض) روی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (شعبان کی تیرویں تاریخ کو رمضان کی نیت سے) روزہ نہ رکھو یہاں تک کہ چاند دیکھ لو، اسی طرح روزہ اس وقت ختم نہ کرو جب تک کہ عید کا چاند نہ دیکھ لو لہٰذا (تیسویں شب یعنی انتیسویں تاریخ کو) اگر (گرد و غبار اور ابر وغیرہ یا کسی اور سبب سے) چاند نظر نہ آئے تو اس کا اعتبار کرو (یعنی اس مہینے کو تیس دن کا سمجھ لو) ایک روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا مہینہ کبھی تیس رات کا بھی ہوتا ہے اس لئے جب تک چاند نہ دیکھ لو (رمضان کی نیت سے) روزہ نہ رکھو اور اگر انتیس تاریخ کو ابر وغیرہ ہو اور چاند نظر نہ آئے تو تیس دن پورے کرو (یعنی تیس دن کا مہینہ سمجھو) ۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو یا معتبر شہادت اور معتبر ذرائع سے جب تک رویت ہلال ثابت نہ ہوجائے نہ تو روزہ رکھو اور روزہ ختم کر کے عید مناؤ۔ مہینہ کبھی انتیس رات کا بھی ہوتا ہے، سے دراصل اس بات کی ترغیب دلانا مقصود ہے کہ تیسویں شب یعنی انتیس تاریخ کو چاند تلاش کیا جائے، چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ شعبان کی انتیسویں تارخ کو لوگوں پر واجب کفایہ ہے کہ رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب تک چاند نہ دیکھ لو یا معتبر شہادت اور معتبر ذرائع سے جب تک رویت ہلال ثابت نہ ہوجائے نہ تو روزہ رکھو اور روزہ ختم کر کے عید مناؤ۔ مہینہ کبھی انتیس رات کا بھی ہوتا ہے، سے دراصل اس بات کی ترغیب دلانا مقصود ہے کہ تیسویں شب یعنی انتیس تاریخ کو چاند تلاش کیا جائے، چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ شعبان کی انتیسویں تارخ کو لوگوں پر واجب کفایہ ہے کہ رمضان کا چاند دیکھنے کی کوشش کریں۔
1972
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : صوموا لرؤيته وأفطروا لرؤيته فإن غم عليكم فأكملوا عدة شعبان ثلاثين
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ چاند دیکھنے کے بعد روزہ رکھو اور چاند دیکھ کر ہی افطار یعنی عید کرو، لہٰذا انتیسویں تاریخ کو اگر ابر وغیرہ ہوجائے اور رویت ہلال ثابت نہ ہو تو شعبان کے مہینے کو تیس دن کا قرار دو (اسی طرح رمضان کے مہینے کا بھی اعتبار کرو) بخاری ومسلم)
1973
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إنا أمة أمية لا تكتب ولا تحسب الشهر هكذا وهكذا وهكذا . وعقد الإبهام في الثالثة . ثم قال : الشهر هكذا وهكذا وهكذا . يعني تمام الثلاثين يعني مرة تسعا وعشرين ومرة ثلاثين
حضرت ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ ہم اہل عرب امی قوم ہیں کہ حساب کتاب نہیں جانتے مہینہ اتنا اور اتنا اور اتنا ہوتا ہے (لفظ اتنا تین مرتبہ کہتے ہوئے آپ ﷺ نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں دو مرتبہ بند کیں اور پھر کھول دیں) اور تیسری مرتبہ میں ہاتھوں کی انگلیاں بند کر کے پھر نو انگلیاں تو کھول دیں اور انگوٹھا بند کئے رکھا جس کا مطلب یہ تھا کہ کبھی تو مہینے میں ایک کم تیس دن ہوتے ہیں یعنی انتیس کا مہینہ ہوتا ہے اور پھر فرمایا مہینہ اتنا اور اتنا (اور اس مرتبہ آپ ﷺ نے تیس کا عدد بتانے لئے پہلے کی طرح تیس مرتبہ میں انگوٹھا بند نہیں رکھا) یعنی پورے تیس دن کا ہوتا ہے آپ ﷺ کا مطلب یہ تھا کہ کبھی تو مہینہ انتیس دن کا ہوتا ہے اور کبھی تیس دن کا ہوتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اہل عرب کو امی اس لئے فرمایا گیا کہ وہ جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے ویسے ہی رہتے تھے پڑھتے لکھتے نہیں تھے۔ مگر آپ ﷺ نے یہ اکثر کے اعتبار سے فرمایا ہے کیونکہ اگرچہ عرب میں تعلیم عام نہیں تھی اور اکثریت بےپڑھے لکھے لوگوں کی تھی مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ لوگ علم کے زیور سے آراستہ ہوتے ہی تھے یا اس جملے سے آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اہل عرب حساب کتاب اچھی طرح نہیں جانتے۔ بہرحال حدیث کے معنی یہ ہیں کہ نجوم کے قواعد پر عمل کرنا ہمارا شیوہ اور طریقہ نہیں ہے اور نہ نجوم کے قواعد و حساب سے جیسا کہ جنتری وغیر میں لکھا ہوتا ہے چاند کا ثبوت معتبر ہوسکتا ہے بلکہ اس بارے میں ہمارا علم صرف رویت ہلال سے متعلق ہے کہ اگر چاند دیکھا جائے گا یا چاند کی رویت شرعی قواعد و ضوابط کے تحت ثابت ہوجائے گی تو روزہ شروع ہوگا یا اس کا اختتام ہوگا اسی بات کے آخر میں وضاحت کی گئی کہ کسی مہینے میں چاند انتیس تاریخ کو ہوتا ہے اور کسی مہینے میں تیس تاریخ کو۔ روایت کی آخری عبارت کے دونوں جملے یعنی تمام الثلثین اور یعنی مرۃ تسعا الخ راوی کے الفاظ ہیں پہلے جملہ سے تو راوی نے آنحضرت ﷺ کے آخری اشارے کو بیان کیا ہے اور دوسرے جملے کے ذریعے دونوں چیزوں کی وضاحت کردی ہے۔
تشریح
اہل عرب کو امی اس لئے فرمایا گیا کہ وہ جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتے تھے ویسے ہی رہتے تھے پڑھتے لکھتے نہیں تھے۔ مگر آپ ﷺ نے یہ اکثر کے اعتبار سے فرمایا ہے کیونکہ اگرچہ عرب میں تعلیم عام نہیں تھی اور اکثریت بےپڑھے لکھے لوگوں کی تھی مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ لوگ علم کے زیور سے آراستہ ہوتے ہی تھے یا اس جملے سے آپ ﷺ کی مراد یہ تھی کہ اہل عرب حساب کتاب اچھی طرح نہیں جانتے۔ بہرحال حدیث کے معنی یہ ہیں کہ نجوم کے قواعد پر عمل کرنا ہمارا شیوہ اور طریقہ نہیں ہے اور نہ نجوم کے قواعد و حساب سے جیسا کہ جنتری وغیر میں لکھا ہوتا ہے چاند کا ثبوت معتبر ہوسکتا ہے بلکہ اس بارے میں ہمارا علم صرف رویت ہلال سے متعلق ہے کہ اگر چاند دیکھا جائے گا یا چاند کی رویت شرعی قواعد و ضوابط کے تحت ثابت ہوجائے گی تو روزہ شروع ہوگا یا اس کا اختتام ہوگا اسی بات کے آخر میں وضاحت کی گئی کہ کسی مہینے میں چاند انتیس تاریخ کو ہوتا ہے اور کسی مہینے میں تیس تاریخ کو۔ روایت کی آخری عبارت کے دونوں جملے یعنی تمام الثلثین اور یعنی مرۃ تسعا الخ راوی کے الفاظ ہیں پہلے جملہ سے تو راوی نے آنحضرت ﷺ کے آخری اشارے کو بیان کیا ہے اور دوسرے جملے کے ذریعے دونوں چیزوں کی وضاحت کردی ہے۔
1974
Mishkaat Shareefوعن أبي بكرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : شهرا عيد لا ينقصان : رمضان وذو الحجة
حضرت ابوبکرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ عید کے دونوں مہینے یعنی رمضان اور ذی الحجہ ناقص نہیں ہوتے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
رمضان کو عید اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ یہ عید کے قریب ہوتا ہے بہرحال حدیث کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ایک سال میں رمضان اور ذی الحجہ دونوں مہینے ناقص یعنی انتیس انتیس دن کے نہیں ہوتے یا اس کے معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں یہ دونوں مہینے ناقص نہیں ہوئے ہوں گے۔ یا پھر اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ دونوں مہینے حکم اور ثواب کے اعتبار سے ناقص نہیں ہوتے اگرچہ ان میں سے ایک انتیس دن کا اور دوسرا تیس دن کا ہو یا دونوں ہی انتیس انتیس دن کے ہوں مگر ثواب پورے تیس دن کا ہی ملتا ہے۔
تشریح
رمضان کو عید اس اعتبار سے فرمایا گیا ہے کہ یہ عید کے قریب ہوتا ہے بہرحال حدیث کا مطلب یا تو یہ ہے کہ ایک سال میں رمضان اور ذی الحجہ دونوں مہینے ناقص یعنی انتیس انتیس دن کے نہیں ہوتے یا اس کے معنی ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ مبارک میں یہ دونوں مہینے ناقص نہیں ہوئے ہوں گے۔ یا پھر اس ارشاد کا مطلب یہ ہوگا کہ یہ دونوں مہینے حکم اور ثواب کے اعتبار سے ناقص نہیں ہوتے اگرچہ ان میں سے ایک انتیس دن کا اور دوسرا تیس دن کا ہو یا دونوں ہی انتیس انتیس دن کے ہوں مگر ثواب پورے تیس دن کا ہی ملتا ہے۔
1975
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتقدمن أحدكم رمضان بصوم يوم أو يومين إلا أن يكون رجل كان يصوم صوما فليصم ذلك اليوم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا۔ تم میں سے کوئی شخص رمضان سے ایک دن یا دو دن قبل روزہ نہ رکھے ہاں جو شخص روزہ رکھنے کا عادی ہو وہ اس دن روزہ رکھ سکتا ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حدیث کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممانعت اس شخص کے حق میں نہیں ہے جو ان ایام میں روزہ رکھنے کا عادی ہو مثلا کوئی شخص پیر یا جمعرات کے دن نفل روزہ رکھنے کا عادی ہو اور اتفاق سے شعبان کے انتیس یا تیس تاریخ اسی دن ہوجائے تو اس کے لئے اس دن روزہ رکھنا ممنوع نہیں ہے ہاں جو شخص ان دنوں میں روزہ رکھنے کا عادی نہ ہو وہ نہ رکھے ؟ تاہم اتنی بات ملحوظ رہے کہ یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ رمضان سے ایک دن یا دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت اس لئے ہے تاکہ نفل اور فرض دونوں روزوں کا اختلاط نہ ہوجائے اور اہل کتاب کے ساتھ مشابہت نہ ہو کیونکہ وہ فرض روزوں کے ساتھ دوسرے روزے بھی ملا لیتے تھے۔ مظہر کا قول ہے کہ شعبان کے آخری ایام میں رمضان سے صرف ایک دن یا دو دن قبل روزہ رکھنا مکرو ہے۔ مولانا اسحق رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جس روزے سے منع کیا جا رہا ہے وہ یوم الشک کا روزہ نہیں بلکہ مطلقاً شعبان کے آخری ایام میں رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے البتہ جو شخص ان ایام میں روزہ رکھنے کا عادی ہو وہ اس ممانعت سے مستثنی ہے۔
تشریح
حدیث کے آخری جز کا مطلب یہ ہے کہ یہ ممانعت اس شخص کے حق میں نہیں ہے جو ان ایام میں روزہ رکھنے کا عادی ہو مثلا کوئی شخص پیر یا جمعرات کے دن نفل روزہ رکھنے کا عادی ہو اور اتفاق سے شعبان کے انتیس یا تیس تاریخ اسی دن ہوجائے تو اس کے لئے اس دن روزہ رکھنا ممنوع نہیں ہے ہاں جو شخص ان دنوں میں روزہ رکھنے کا عادی نہ ہو وہ نہ رکھے ؟ تاہم اتنی بات ملحوظ رہے کہ یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے۔ علماء فرماتے ہیں کہ رمضان سے ایک دن یا دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت اس لئے ہے تاکہ نفل اور فرض دونوں روزوں کا اختلاط نہ ہوجائے اور اہل کتاب کے ساتھ مشابہت نہ ہو کیونکہ وہ فرض روزوں کے ساتھ دوسرے روزے بھی ملا لیتے تھے۔ مظہر کا قول ہے کہ شعبان کے آخری ایام میں رمضان سے صرف ایک دن یا دو دن قبل روزہ رکھنا مکرو ہے۔ مولانا اسحق رحمۃ اللہ فرماتے ہیں کہ یہاں جس روزے سے منع کیا جا رہا ہے وہ یوم الشک کا روزہ نہیں بلکہ مطلقاً شعبان کے آخری ایام میں رمضان سے ایک دو دن قبل روزہ رکھنے کی ممانعت فرمائی گئی ہے البتہ جو شخص ان ایام میں روزہ رکھنے کا عادی ہو وہ اس ممانعت سے مستثنی ہے۔
1976
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا انتصف شعبان فلا تصوموا . رواه أبو داود والترمذي وابن ماجه والدارمي
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب شعبان کا آدھا مہینہ گزر جائے تو روزے نہ رکھو (ابو داؤد) ، ترمذی ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ شعبان کے آخری نصف مہینے میں قضا یا کسی واجب روزہ کے علاوہ اور روزے نہ رکھے جائیں مگر یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور اس کا تعلق امت کی آسانی و شفقت سے ہے یعنی آپ ﷺ نے رمضان کے بالکل قریبی ایام میں روزے رکھنے سے اس لئے منع فرمایا ہے تاکہ ان روزوں کی وجہ سے لوگوں کو ضعف و نا تو انی لاحق نہ ہوجائے کہ جس کی وجہ سے رمضان کے روزے دشوار اور بھاری ہوجائیں۔ قاضی کا قول ہے کہ اس ممانعت کا تعلق اس شخص سے ہے کہ جس کو پے در پے متواتر روزے کی طاقت میسر نہ ہو لہٰذا اس کے لئے ان دنوں میں روزے نہ رکھنا ہی مستحب ہے جیسا کہ ان لوگوں کو جو قوت برداشت نہ رکھتے ہوں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے تاکہ وہ روزہ کی غیر متحمل مشقت سے بچ کر اس دن ذکر و دعا میں مشغول رہیں ہاں جن لوگوں کے اندر قوت برداشت ہو ان کے لئے شعبان کے آخری نصف مہنے میں روزے رکھنے ممنوع نہیں ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ ﷺ شعبان میں پورے مہینے میں روزے رکھا کرتے تھے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ شعبان کے آخری نصف مہینے میں قضا یا کسی واجب روزہ کے علاوہ اور روزے نہ رکھے جائیں مگر یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے اور اس کا تعلق امت کی آسانی و شفقت سے ہے یعنی آپ ﷺ نے رمضان کے بالکل قریبی ایام میں روزے رکھنے سے اس لئے منع فرمایا ہے تاکہ ان روزوں کی وجہ سے لوگوں کو ضعف و نا تو انی لاحق نہ ہوجائے کہ جس کی وجہ سے رمضان کے روزے دشوار اور بھاری ہوجائیں۔ قاضی کا قول ہے کہ اس ممانعت کا تعلق اس شخص سے ہے کہ جس کو پے در پے متواتر روزے کی طاقت میسر نہ ہو لہٰذا اس کے لئے ان دنوں میں روزے نہ رکھنا ہی مستحب ہے جیسا کہ ان لوگوں کو جو قوت برداشت نہ رکھتے ہوں عرفہ کے دن روزہ نہ رکھنا مستحب ہے تاکہ وہ روزہ کی غیر متحمل مشقت سے بچ کر اس دن ذکر و دعا میں مشغول رہیں ہاں جن لوگوں کے اندر قوت برداشت ہو ان کے لئے شعبان کے آخری نصف مہنے میں روزے رکھنے ممنوع نہیں ہیں کیونکہ نبی کریم ﷺ کے بارے میں ثابت ہے کہ آپ ﷺ شعبان میں پورے مہینے میں روزے رکھا کرتے تھے۔
1977
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أحصوا هلال شعبان لرمضان . رواه الترمذي
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ رمضان کے لئے شعبان کا مہینہ شمار کرو۔ (ترمذی)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ماہ شعبان کے دنوں کو گنتے رہو اور انہیں یاد رکھو تاکہ رمضان کی آمد کا علم رہے۔ آنحضرت ﷺ شعبان کے پورے مہینے میں روزے رکھتے تھے ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صرف دو مہینوں یعنی شعبان اور رمضان میں متواتر روزے رکھتے تھے دیکھا ہے۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) تشریح یعنی نبی کریم ﷺ جس طرح رمضان کے پورے مہینے میں روزے رکھا کرتے تھے۔ ایسے ہی شعبان کے پورے مہینے میں بھی روزے سے رہتے تھے اس حدیث کی مفصل وضاحت انشاء اللہ باب صیام التطوع میں مذکور ہوگی۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ ماہ شعبان کے دنوں کو گنتے رہو اور انہیں یاد رکھو تاکہ رمضان کی آمد کا علم رہے۔ آنحضرت ﷺ شعبان کے پورے مہینے میں روزے رکھتے تھے ام المومنین حضرت ام سلمہ (رض) فرماتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو صرف دو مہینوں یعنی شعبان اور رمضان میں متواتر روزے رکھتے تھے دیکھا ہے۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ) تشریح یعنی نبی کریم ﷺ جس طرح رمضان کے پورے مہینے میں روزے رکھا کرتے تھے۔ ایسے ہی شعبان کے پورے مہینے میں بھی روزے سے رہتے تھے اس حدیث کی مفصل وضاحت انشاء اللہ باب صیام التطوع میں مذکور ہوگی۔
1978
Mishkaat Shareefوعن عمار بن ياسر رضي الله عنهما قال : من صام اليوم الذي يشك فيه فقد عصى أبا القاسم صلى الله عليه و سلم . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي
حضرت عمار بن یاسر (رض) کا ارشاد ہے کہ جس شخص نے یوم الشک کو روزہ رکھا اس نے ابوالقاسم ﷺ کی نافرمانی کی۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
شعبان کی تیسویں شب یعنی انتیس تاریخ کو ابر وغیرہ کی وجہ سے چاند نہیں دیکھا گیا مگر ایک شخص نے چاند دیکھنے کی شہادت دی اور اس کی شہادت قبول نہیں کی گئی اسی طرح دو فاسق لوگوں نے چاند دیکھنے کی گواہی دی اور ان کی گواہی قبول نہیں کی گئی اس کی صبح کو جو دن ہوگا یعنی تیس تاریخ کو یوم الشک (شک کا دن) کہلائے گا کیونکہ اس دن کے بارے میں یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ رمضان شروع ہوگیا ہو اور یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ رمضان شروع نہ ہوا ہو لہٰذا اس غیر یقینی صورت کی وجہ سے اسے شک کا دن کہا جاتا ہے ہاں اگر انتیس تاریخ کو ابر وغیرہ نہ ہو اور کوئی بھی شخص چاند نہ دیکھے تو تیس تاریخ کو یوم الشک نہ کہیں گے۔ اس حدیث میں اسی دن کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یوم الشک کو رمضان یا کسی واجب کی نیت سے روزہ رکھنا مکروہ ہے البتہ اس دن نفل روزہ رکھنے کے بارے میں کچھ تفصیل ہے، چناچہ اگر کوئی شخص شعبان کی پہلی ہی تاریخ سے نفل روزہ رکھتا چلا آ رہا ہو یا تیس تاریخ اتفاق سے اس دن ہوجائے کہ جس میں کوئی شخص روزہ رکھنے کا عادی ہو جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے تو اس کے لئے اس دن روزہ رکھنا افضل ہوگا۔ اسی طرح یوم الشک کو روزہ رکھنا اس شخص کے لئے بھی افضل ہے جو شعبان کے آخری تین دنوں میں روزے رکھتا ہو اور اگر یہ صورتیں نہ ہوں تو پھر یوم الشک کا مسئلہ یہ ہے کہ خواص تو اس دن نفل کی نیت کے ساتھ روزہ رکھ لیں اور عوام دوپہر تک کچھ کھائے پئے بغیر انتظار کریں اگر چاند کی کوئی قابل قبول شہادت نہ آئے تو دوپہر کے بعد افطار کرلیں۔ حضرت ابن عمر (رض) اور دوسرے صحابہ کا یہ معمول نقل کیا جاتا ہے کہ یہ حضرات شعبان کی انتیس تاریخ کو چاند تلاش کرتے اگر چاند دیکھ لیتے یا معتبر شہادت کے ذریعے رویت ہلال کا ثبوت ہوجاتا تو اگلے روز روزہ رکھتے ورنہ بصورت دیگر ابرو غبار وغیرہ سے مطلع صاف ہونے کی صورت میں روزہ نہ رکھتے ہاں اگر مطلع صاف نہ ہوتا تو روزہ رکھ لیتے تھے اور علماء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ان کا یہ روزہ نفل ہوتا تھا۔ خواص سے مراد وہ لوگ ہیں جو شک کے دن کے روزے کی نیت کرنا جانتے ہوں اور جو لوگ اس دن کے روزے کی نیت کرنا نہ جانتے ہوں انہیں عوام کہا جاتا ہے چناچہ اس دن روزہ کی نیت یہ ہے کہ جو شخص اس دن کہ جس میں رمضان کے بارے میں شک واقع ہو رہا ہے روزہ رکھنے کا عادی نہ ہو وہ یہ نیت کرے کہ میں آج کے دن نفل روزے کی نیت کرتا ہوں اور اس کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اگر آج رمضان کا دن ہو تو یہ روزہ رمضان کا بھی ہے اس طرح نیت کرنی مکروہ ہے۔ کہ اگر کل رمضان کا دن ہو تو یہ روزہ رمضان میں محسوب ہو اور اگر رمضان کا دن نہ ہو تو نفل یا کسی اور واجب میں محسوب ہو۔ تاہم اگر کسی نے اس طرح کرلیا اور اس دن رمضان کا ہونا ثابت ہوگیا تو وہ روزہ رمضان ہی میں محسوب ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر کوئی شخص اس نیت کے ساتھ روزہ رکھے کہ اگر آج رمضان کا دن ہوگا تو میرا بھی روزہ ہوگا اور اگر رمضان کا دن نہیں ہوگا تو میرا روزہ بھی نہیں ہوگا۔ تو اس طرح نہ نفل کا روزہ ہوگا اور نہ رمضان کا ہوگا چاہے اس دن رمضان کا ہونا ہی ثابت کیوں نہ ہوجائے۔
تشریح
شعبان کی تیسویں شب یعنی انتیس تاریخ کو ابر وغیرہ کی وجہ سے چاند نہیں دیکھا گیا مگر ایک شخص نے چاند دیکھنے کی شہادت دی اور اس کی شہادت قبول نہیں کی گئی اسی طرح دو فاسق لوگوں نے چاند دیکھنے کی گواہی دی اور ان کی گواہی قبول نہیں کی گئی اس کی صبح کو جو دن ہوگا یعنی تیس تاریخ کو یوم الشک (شک کا دن) کہلائے گا کیونکہ اس دن کے بارے میں یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ رمضان شروع ہوگیا ہو اور یہ بھی احتمال ہوتا ہے کہ رمضان شروع نہ ہوا ہو لہٰذا اس غیر یقینی صورت کی وجہ سے اسے شک کا دن کہا جاتا ہے ہاں اگر انتیس تاریخ کو ابر وغیرہ نہ ہو اور کوئی بھی شخص چاند نہ دیکھے تو تیس تاریخ کو یوم الشک نہ کہیں گے۔ اس حدیث میں اسی دن کے بارے میں فرمایا گیا ہے کہ یوم الشک کو رمضان یا کسی واجب کی نیت سے روزہ رکھنا مکروہ ہے البتہ اس دن نفل روزہ رکھنے کے بارے میں کچھ تفصیل ہے، چناچہ اگر کوئی شخص شعبان کی پہلی ہی تاریخ سے نفل روزہ رکھتا چلا آ رہا ہو یا تیس تاریخ اتفاق سے اس دن ہوجائے کہ جس میں کوئی شخص روزہ رکھنے کا عادی ہو جس کی وضاحت پہلے کی جا چکی ہے تو اس کے لئے اس دن روزہ رکھنا افضل ہوگا۔ اسی طرح یوم الشک کو روزہ رکھنا اس شخص کے لئے بھی افضل ہے جو شعبان کے آخری تین دنوں میں روزے رکھتا ہو اور اگر یہ صورتیں نہ ہوں تو پھر یوم الشک کا مسئلہ یہ ہے کہ خواص تو اس دن نفل کی نیت کے ساتھ روزہ رکھ لیں اور عوام دوپہر تک کچھ کھائے پئے بغیر انتظار کریں اگر چاند کی کوئی قابل قبول شہادت نہ آئے تو دوپہر کے بعد افطار کرلیں۔ حضرت ابن عمر (رض) اور دوسرے صحابہ کا یہ معمول نقل کیا جاتا ہے کہ یہ حضرات شعبان کی انتیس تاریخ کو چاند تلاش کرتے اگر چاند دیکھ لیتے یا معتبر شہادت کے ذریعے رویت ہلال کا ثبوت ہوجاتا تو اگلے روز روزہ رکھتے ورنہ بصورت دیگر ابرو غبار وغیرہ سے مطلع صاف ہونے کی صورت میں روزہ نہ رکھتے ہاں اگر مطلع صاف نہ ہوتا تو روزہ رکھ لیتے تھے اور علماء فرماتے ہیں کہ اس صورت میں ان کا یہ روزہ نفل ہوتا تھا۔ خواص سے مراد وہ لوگ ہیں جو شک کے دن کے روزے کی نیت کرنا جانتے ہوں اور جو لوگ اس دن کے روزے کی نیت کرنا نہ جانتے ہوں انہیں عوام کہا جاتا ہے چناچہ اس دن روزہ کی نیت یہ ہے کہ جو شخص اس دن کہ جس میں رمضان کے بارے میں شک واقع ہو رہا ہے روزہ رکھنے کا عادی نہ ہو وہ یہ نیت کرے کہ میں آج کے دن نفل روزے کی نیت کرتا ہوں اور اس کے دل میں یہ خیال پیدا نہ ہو کہ اگر آج رمضان کا دن ہو تو یہ روزہ رمضان کا بھی ہے اس طرح نیت کرنی مکروہ ہے۔ کہ اگر کل رمضان کا دن ہو تو یہ روزہ رمضان میں محسوب ہو اور اگر رمضان کا دن نہ ہو تو نفل یا کسی اور واجب میں محسوب ہو۔ تاہم اگر کسی نے اس طرح کرلیا اور اس دن رمضان کا ہونا ثابت ہوگیا تو وہ روزہ رمضان ہی میں محسوب ہوگا۔ اس کے برخلاف اگر کوئی شخص اس نیت کے ساتھ روزہ رکھے کہ اگر آج رمضان کا دن ہوگا تو میرا بھی روزہ ہوگا اور اگر رمضان کا دن نہیں ہوگا تو میرا روزہ بھی نہیں ہوگا۔ تو اس طرح نہ نفل کا روزہ ہوگا اور نہ رمضان کا ہوگا چاہے اس دن رمضان کا ہونا ہی ثابت کیوں نہ ہوجائے۔
1979
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : جاء أعرابي إلى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : إني رأيت الهلال يعني هلال رمضان فقال : أتشهد أن لا إله إلا الله ؟ قال : نعم قال : أتشهد أن محمدا رسول الله ؟ قال : نعم . قال : يا بلال أذن في الناس أن يصوموا غدا . رواه أبو داود والترمذي والنسائي وابن ماجه والدارمي
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک اعرابی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میں نے رمضان کا چاند دیکھا ہے آنحضرت ﷺ نے اس سے فرمایا کہ تم کیا اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ ہاں آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ محمد ﷺ اللہ کے پیغمبر ہیں ؟ اس نے کہا ہاں اس کے بعد آنحضرت ﷺ نے حضرت بلال (رض) سے فرمایا کہ بلال لوگوں میں اعلان کردو کہ کل روزہ رکھیں۔ (ابو داؤد، ترمذی، نسائی، ابن ماجہ، دارمی)
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص مستور الحال ہو یعنی اس کا فاسق ہونا معلوم نہ ہو تو رمضان کے چاند کے بارے میں اس کی شہادت معتبر اور قابل قبول ہوگی نیز یہ کہ رمضان کے چاند کی گواہی دیتے ہوئے لفظ شہادت کا استعمال شرط نہیں ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہلال رمضان شریف شہادت میں صرف ایک شخص کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے چناچہ حنفی مسلک میں صحیح مسئلہ یہی ہے کہ ہلال رمضان کی رویت ایک عادل یا مستور الحال شخص کی شہادت سے ثابت ہوجاتی ہے نیز یہ کہ ہلال رمضان کی شہادت میں لفظ شہادت کا استعمال شرط نہیں ہے مگر ایک شخص کی گواہی اسی صورت میں معتبر ہوگی جب کہ مطلع ابرو غبار آلود ہو اگر عید کی چاند رات کو ابرو غبار ہو تو پھر دو مرد یا ایک مرد اور دو عادل و آزاد عورتوں کی شہادت ہی معتبر ہوگی نیز یہ کہ اس موقع پر لفظ شہادت کا استعمال بھی شرط ہوگا پھر موقع و محل کے پیش نظر شہادت کی صورت بھی بدلتی رہتی ہے۔ مطلع صاف ہو تو جماعت کثیرہ کی شہادت ضروری ہوگی۔
تشریح
یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص مستور الحال ہو یعنی اس کا فاسق ہونا معلوم نہ ہو تو رمضان کے چاند کے بارے میں اس کی شہادت معتبر اور قابل قبول ہوگی نیز یہ کہ رمضان کے چاند کی گواہی دیتے ہوئے لفظ شہادت کا استعمال شرط نہیں ہے۔ نیز اس حدیث سے یہ بات بھی معلوم ہوئی کہ ہلال رمضان شریف شہادت میں صرف ایک شخص کی گواہی قبول کی جاسکتی ہے چناچہ حنفی مسلک میں صحیح مسئلہ یہی ہے کہ ہلال رمضان کی رویت ایک عادل یا مستور الحال شخص کی شہادت سے ثابت ہوجاتی ہے نیز یہ کہ ہلال رمضان کی شہادت میں لفظ شہادت کا استعمال شرط نہیں ہے مگر ایک شخص کی گواہی اسی صورت میں معتبر ہوگی جب کہ مطلع ابرو غبار آلود ہو اگر عید کی چاند رات کو ابرو غبار ہو تو پھر دو مرد یا ایک مرد اور دو عادل و آزاد عورتوں کی شہادت ہی معتبر ہوگی نیز یہ کہ اس موقع پر لفظ شہادت کا استعمال بھی شرط ہوگا پھر موقع و محل کے پیش نظر شہادت کی صورت بھی بدلتی رہتی ہے۔ مطلع صاف ہو تو جماعت کثیرہ کی شہادت ضروری ہوگی۔
1980
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر قال : تراءى الناس الهلال فأخبرت رسول الله صلى الله عليه و سلم أني رأيته فصام وأمر الناس بصيامه . رواه أبو داود والدارمي
حضرت ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ ایک مرتبہ چاند دیکھنے کے لئے لوگ جمع ہوئے چناچہ میں نے رسول کریم ﷺ کو بتایا کہ میں نے چاند دیکھا ہے آپ ﷺ نے روزہ رکھ لیا اور دوسرے لوگوں کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا ( ابوداؤد، نسائی)