hadith book logo

Mishkaat Shareef

67. ہدی کا بیان

مشكاة المصابيح

2671
Mishkaat Shareef
صحیح
ہدی ہا کے زبر اور دال کے سکون کے ساتھ، ان چوپایوں کو کہتے ہیں جو حرم میں طلب ثواب کی خاطر ذبح کئے جاتے ہیں، وہ بکری دنبہ، بھیڑہوں خواہ گائے، بھینس بیل اور خواہ اونٹ ہوں اور عمر وغیرہ کی جو شرائط قربانی کے جانوروں میں ہوتی ہیں وہی ہدی میں بھی ہوتی ہیں۔ بکری اور اس کی مانند دوسرے جانور جیسے دنبہ اور بھیڑ کی قربانی یوں تو ہر موقع پر جائز ہے لیکن اگر کوئی شخص حالت جنابت یا حیض میں طواف الزیارۃ کرے یا کوئی شخص وقوف عرفات کے بعد سر منڈانے سے پہلے ہی جماع کرے تو اس صورت میں بطور کفارہ وجزاء قربانی کے لئے بکری کا ذبح کرنا کافی ہوگا بلکہ بدنہ یعنی اونٹ یا گائے کی قربانی کرنی ہوگی۔ ہدی کی دو قسمیں ہیں (١) واجب (٢) تطوع یعنی نفل، پھر ہدی واجب کی کئی قسمیں ہیں۔ ہدی قران، ہدی تمتع، ہدی جنایات، ہدی نذر اور ہدی احصار۔ ہدی کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ بندہ بارگاہ حق جل مجدہ میں اس جانور کی قربانی کا ہدیہ بھیجتا ہے اور اس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ کی قربت حاصل کرتا ہے اس مناسبت سے اس جانور کو ہدی کہتے ہیں۔
2672
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ابن عباس قال : صلى رسول الله صلى الله عليه و سلم بذي الحليفة ثم دعا بناقته فأشعرها في صفحة سنامها الأيمن وسلت الدم عنها وقلدها نعلين ثم ركب راحلته فلما استوت به على البيداء أهل بالحج . رواه مسلم
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (سفر حج میں) ذوالحلیفہ پہنچ کر ظہر کی نماز پڑھی اور پھر اپنی اونٹنی کو (جو قربانی کے لئے تھی) طلب فرمایا اور اس کی کوہان کے داہنے پہلو کو زخمی کیا اور اس کے خون کو پونچھ کر اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈال دیا اور اس کے بعد اپنی (سواری کی) اونٹنی پر (کہ جس کا نام قصواء تھا) سوار ہوئے اور جب مقام بیداء میں اونٹنی آپ ﷺ کو لے کھڑی ہوئی تو آپ ﷺ نے لبیک کہی۔ (مسلم)

تشریح
پہلے یہ سمجھ لیجئے کہ اشعار اور تقلید کسے کہتے ہیں ؟ حج میں ہدی کا جو جانور ساتھ لے جایا جاتا ہے اس کے پہلو کو زخم آلود کردیتے ہیں جسے اشعار کہا جاتا ہے نیز اس جانور کے گلے میں جوتے یا ہڈی وغیرہ کا ہار ڈال دیتے ہیں جسے تقلید کہا جاتا ہے اور ان دونوں کا مقصد اس امر کی علامت کردینا ہوتا ہے کہ یہ ہدی کا جانور ہے۔ آنحضرت ﷺ جب حج کے لئے چلے اور ذوالحلیفہ کو جو اہل مدینہ کا میقات ہے پہنچے تو نماز پڑھنے کے بعد اس اونٹنی کو طلب فرمایا جسے آپ ﷺ بطور ہدی اپنے ساتھ لے چلے تھے، پہلے آپ ﷺ نے اس کی کوہان کے داہنے پہلو میں نیزہ مارا جب اس سے خون بہنے لگا تو اسے پونچھ دیا اور پھر اس کے گلے میں دو جوتیوں کا ہار ڈال دیا اس طرح آپ ﷺ نے یہ علامت مقرر فرما دی کہ یہ ہدی کا جانور ہے تاکہ لوگ جب اس نشانی و علامت کے ذریعہ یہ جانیں کہ یہ ہدی ہے تو اس سے کوئی تعارض نہ کریں اور قزاق وغیرہ اسے غائب نہ کریں اور اگر یہ جانور راستہ بھٹک جائے تو لوگ اسے اس کی جگہ پہنچا دیں۔ ایام جاہلیت میں لوگوں کا یہ شیوہ تھا کہ جس جانور پر ایسی کوئی علامت نہ دیکھتے اسے ہڑپ کر جاتے تھے اور جس جانور پر یہ علامت ہوتی تھی اسے چھوڑ دیتے تھے، چناچہ شارع اسلام نے بھی اس طریقہ کو مذکورہ بالا مقصد کے تحت جائز رکھا۔ اب اس فقہی مسئلہ کی طرف آئیے، جمہور ائمہ اس بات پر متفق ہیں کہ اشعار یعنی جانور کو اس طرح زخمی کرنا سنت ہے لیکن جثم یعنی بکری، دنبہ اور بھیڑ میں اشعار کو ترک کردینا چاہئے کیونکہ یہ جانور بہت کمزور ہوتے ہیں ان جانوروں کے لئے صرف تقلید یعنی گلے میں ہار ڈال دینا کافی ہے۔ حضرت امام ابوحنیفہ کے نزدیک تقلید تو مستحب ہے لیکن اشعار مطلقاً مکروہ ہے خواہ بکری و چھترہ ہو یا اونٹ وغیرہ علماء حضرت امام اعظم کی اس بات کی تاویل یہ کرتے ہیں کہ حضرت امام اعظم مطلق طور پر اشعار کی کراہت کے قائل نہیں تھے بلکہ انہوں نے صرف اپنے زمانے کے لئے اشعار کو مکروہ قرار دیا تھا کیونکہ اس وقت لوگ اس مقصد کے لئے ہدی کو بہت زیادہ زخمی کردیتے تھے جس سے زخم کے سرایت کر جانے کا خوف ہوتا تھا۔ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ کی مسجد میں پڑھی جب کہ باب صلوٰۃ السفر کی پہلی حدیث میں جو بخاری و مسلم نے روایت کی ہے یہ بات واضح طور پر ثابت ہوچکی ہے کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز تو مدینہ ہی میں پڑھ لی تھی اور عصر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی۔ لہٰذا ان دونوں روایتوں کے تضاد کو یوں دور کیا جائے کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز تو مدینہ ہی میں پڑھی تھی مگر حضرت ابن عباس (رض) نے چونکہ مدینہ میں ظہر کی نماز آپ ﷺ کے ہمراہ نہیں پڑھی ہوگی اس لئے جب انہوں نے آنحضرت ﷺ کو ذوالحلیفہ میں نماز پڑھتے دیکھا تو یہ گمان کیا کہ آپ ﷺ یہاں ظہر کی نماز پڑھ رہے ہیں اسی لئے انہوں نے یہاں یہ بیان کیا کہ آپ ﷺ نے ظہر کی نماز ذوالحلیفہ میں پڑھی۔ اھل بالحج ( آپ ﷺ نے حج کے لئے لبیک کہی) سے یہ نہ سمجھئے کہ آپ ﷺ نے واقعۃً صرف حج ہی کے لئے لبیک کہی بلکہ یہ مفہوم مراد لیجئے کہ آپ ﷺ نے حج اور عمرہ دونوں کے لئے لبیک کہی کیونکہ صحیحین میں حضرت انس (رض) سے منقول اس روایت نے اس بات کو بالکل واضح کردیا ہے کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو حج اور عمرہ کے لئے لبیک کہتے سنا ہے۔ چناچہ اس موقع پر راوی نے یا تو عمرہ کا ذکر اس لئے نہیں کیا کہ اصل چونکہ حج ہی ہے اس لئے صرف اسی کے ذکر پر اکتفاء کیا یا یہ کہ آنحضرت ﷺ نے جب دونوں کے لئے لبیک کہی تو راوی نے صرف حج کو سنا عمرہ کا ذکر نہیں سنا۔
2673
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : أهدى النبي صلى الله عليه و سلم مرة إلى البيت غنما فقلدها
ام المؤمنین حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے ایک مرتبہ بکریوں کو بطور ہدی خانہ کعبہ کو بھیجا اور ان کے گلے میں ہار ڈالا۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
علامہ طیبی کہتے ہیں کہ تمام علماء اس بات پر متفق ہیں کہ بکریوں میں اشعار یعنی ان کو زخمی کرنا مشروع نہیں ہے البتہ ان میں تقلید یعنی ان کے گلے میں ہار ڈالنا سنت ہے لیکن اس بارے میں حضرت امام مالک کا اختلافی قول ہے۔
2674
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : ذبح رسول الله صلى الله عليه و سلم عن عائشة بقرة يوم النحر . رواه مسلم
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے قربانی کے دن حضرت عائشہ (رض) کی طرف سے ایک گائے ذبح فرمائی۔ (مسلم)
2675
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : نحر النبي صلى الله عليه و سلم عن نسائه بقرة في حجته . رواه مسلم
حضرت جابر (رض) ہی کی یہ روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی ازواج مطہرات کی طرف سے ایک گائے ذبح کی۔ (مسلم)

تشریح
علماء لکھتے ہیں کہ دونوں حدیثیں اس بات پر محمول ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اپنی ازواج کی اجازت سے قربانی کی ہوگی کیونکہ دوسرے کی طرف سے قربانی اس کی اجازت کے بغیر جائز نہیں۔ ائمہ کے یہاں مشہور مسئلہ تو یہی ہے کہ ایک گائے میں سات ادمیوں تک کی طرف سے قربانی جائز ہوتی ہے لیکن حضرت امام مالک کا قول یہ ہے کہ ایک گائے یا ایک بکری وغیرہ کی قربانی تمام گھر والوں کی طرف سے کافی ہوجاتی ہے، لہٰذا یہ حدیث حضرت امام مالک کے اس قول کی دلیل ہوسکتی ہے بشرطیکہ آپ ﷺ نے سات سے زائد کی طرف سے ایک قربانی کی ہو جب کہ دوسرے ائمہ کے نزدیک یہ حدیث اس بات پر محمول ہے کہ آپ ﷺ نے ایک گائے کی قربانی صرف سات ہی کی طرف سے کی ہوگی۔
2676
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عائشة رضي الله عنها قالت : فتلت قلائد بدن النبي صلى الله عليه و سلم بيدي ثم قلدها وأشعرها وأهداها فما حرم عليه كان أحل له
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کے اونٹوں کے لئے اپنے ہاتھوں سے پٹے بنائے اور پھر انہیں اونٹوں کے گلے میں ڈالا اور ان (کے کوہان) کو زخمی کیا اور پھر ان کو بطور ہدی خانہ کعبہ روانہ کردیا (یعنی جب ٩ ھ میں حج فرض ہوا اور حضرت ابوبکر (رض) کو حاجیوں کا امیر مقرر کر کے مکہ مکرمہ بھیجا گیا تو ان کے ساتھ آنحضرت ﷺ کی طرف سے بطور ہدی اونٹ بھیجے گئے اور اس کی وجہ سے آنحضرت ﷺ پر ایسی کوئی چیز حرام نہیں ہوئی جو ان کے لئے حلال تھی۔ (بخاری و مسلم)

تشریح
حدیث کے آخری جملہ کا مطب یہ ہے کہ ان جانوروں کو بطور ہدی بھیجنے کی وجہ سے آنحضرت پر احرام کے احکام جاری نہیں ہوئے کہ احرام کی حالت میں جو چیزیں حرام ہوجاتی ہیں وہ آپ ﷺ پر حرام ہوگئی ہوں، یہ بات حضرت عائشہ (رض) نے اس لئے کہی کہ انہوں نے حضرت ابن عباس (رض) کے بارے میں سنا تھا کہ وہ یہ کہتے ہیں کہ جو شخص خود حج کو نہ جائے اور اپنی طرف سے ہدی مکہ بھیجے تو اس پر وہ تمام چیزیں کہ جو محرم پر حرام ہوتی ہیں اس وقت تک کے لئے حرام ہوجاتی ہیں جب کہ اس کی ہدی حرم میں نہ پہنچ جائے اور ذبح نہ ہوجائے۔ چناچہ حضرت عائشہ (رض) نے یہ حدیث بیان کرتے ہوئے حضرت عباس (رض) کے اس قول کی تردید کی۔
2677
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنها قالت : فتلت قلائدها من عهن كان عندي ثم بعث بها مع أبي
حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ میں نے اس صوف کے جو میرے پاس تھا پٹے بنائے اور پھر (یہ پٹے اونٹوں کے گلے میں ڈال کر) ان کو بطور ہدی اپنے والد ماجد (حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ہمراہ خانہ کعبہ روانہ کیا۔ (بخاری و مسلم)
2678
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم رأى رجلا يسوق بدنة فقال : اركبها . فقال : إنها بدنة . قال : اركبها . فقال : إنها بدنة . قال : اركبها ويلك في الثانية أو الثالثة
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ اونٹ ہانکتا ہوا جا رہا ہے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس اونٹ پر سوار ہوجاؤ۔ اس نے کہا کہ یہ تو ہدی ہے (میں اس پر کیسے سوار ہوجاؤں ؟ وہ یہ سمجھتا تھا کہ ہدی پر سوار ہونا کسی حال میں بھی جائز نہیں ہے) ۔ آنحضرت ﷺ نے پھر فرمایا کہ اس پر سوار ہوجاؤ۔ اس نے پھر کہا کہ یہ ہدی ہے۔ آپ ﷺ نے فرمایا اس پر سوار ہوجاؤ۔ افسوس ہے تم پر کہ میں تمہیں سوار ہونے کے لئے کہتا ہوں اور تم اپنی طرف سے عذر بیان کرتے ہو۔ آپ ﷺ نے یہ بات دوسری یا تیسری مرتبہ میں فرمائی۔ (بخاری و مسلم)
2679
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي الزبير قال : سمعت جابر بن عبد الله سئل عن ركوب الهدي فقال : سمعت النبي صلى الله عليه و سلم يقول : اركبها بالمعروف إذا ألجئت إليها حتى تجد ظهرا . رواه مسلم
حضرت ابوزبیر (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے سنا حضرت جابر بن عبداللہ (رض) سے ہدی پر سوار ہونے کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جب تک کہ تمہیں کوئی اور سواری نہ ملے اور تم سوار ہونے پر مجبور ہو تو اس ہدی پر (اس) احتیاط کے ساتھ سوار ہو (کہ اسے کوئی ضرر و تکلیف نہ پہنچے) (مسلم)

تشریح
اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں آیا ہدی پر سوار ہونا جائز ہے یا نہیں ؟ چناچہ بعض حضرات کہتے ہیں کہ اگر سوار ہونے کی صورت میں ہدی کو کوئی ضرر نہ پہنچے تو اس پر سوار ہونا جائز ہے۔ لیکن حنفیہ کے نزدیک یہ مسئلہ ہے کہ اگر ضرورت و مجبوری ہو تو ہدی پر سوار ہوا جاسکتا ہے ورنہ نہیں، لہٰذا جن روایتوں میں ہدی پر سوار ہونے کا مطلق طور پر جواز ملتا ہے وہ روایتیں ضرورت و مجبوری پر محمول ہیں۔
2680
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس رضي الله عنهما قال : بعث رسول الله صلى الله عليه و سلم ستة عشر بدنة مع رجل وأمره فيها . فقال : يا رسول الله كيف أصنع بما أبدع علي منها ؟ قال : انحرها ثم اصبغ نعليها في دمها ثم اجعلها على صفحتها ولا تأكل منها أنت ولا أحد من أهل رفقتك . رواه مسلم
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ایک شخص (جس کا نام ناجیہ اسلمی (رض) تھا) کے ہمراہ سولہ اونٹ مکہ روانہ کئے اور اس شخص کو ان اونٹوں کا محافظ بنایا (کہ نہ صرف ان اونٹوں کو حفاظت کے ساتھ لے جائے بلکہ مکہ پہنچ کر انہیں ذبح بھی کر دے) اس شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ان میں سے جو (تھک جانے کی وجہ سے) نہ چل سکے (یا کمزوری وغیرہ کی بناء پر قریب المرگ ہوجائے) تو اس کو کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تم اسے ذبح کردینا اور پھر وہ دونوں جوتیاں (جو بطریق ہار اس کے گلے میں پڑی ہوں) اس کے خون میں رنگ کر ان کے نشان اس کے کوہان کے کنارہ پر لگا دینا اور اس کا گوشت نہ تم کھانا اور نہ اپنے ساتھیوں میں سے کسی کو کھانے دینا۔ (مسلم)

تشریح
جوتیوں کو خون میں رنگ کر اونٹ کے کوہان پر نشان لگا دینے کے لئے آپ ﷺ نے اس لئے فرمایا تاکہ راستہ چلنے والے یہ جان لیں کہ یہ ہدی ہے اس طرح اس کا گوشت جو فقراء و مساکین ہوں وہ تو کھا لیں اور اغنیاء اس سے اجتناب کریں کیونکہ اس کا گوشت کھانا اغنیاء پر حرام ہے۔ آخر میں آپ ﷺ نے اس کی ہدایت فرما دی کہ اس اونٹ کو ذبح کر کے وہیں چھوڑ دینا، اس کا گوشت نہ تم خود کھانا اور نہ اپنے رفقاء سفر کو کھانے دینا خواہ فقراء و مساکین ہوں یا اغنیاء ان کو ہر حال میں ان کا گوشت کھانے سے منع اس لئے کیا کہ کہیں یہ لوگ اپنی ماندگی کا کوئی بہانہ کر کے اپنے کھانے کے لئے کوئی اونٹ ذبح نہ کر ڈالیں۔ اب یہ بات محل اشکال بن سکتی ہے کہ ایسی صورت میں کہ گوشت کھانے سے خود محافظ کو بھی منع کیا جا رہا ہے اور اس کے رفقاء قافلہ کو بھی، تو پھر اس گوشت کا مصرف کیا ہوگا ؟ ظاہر ہے کہ اس طرح وہ گوشت یوں ہی ضائع ہوگا۔ اس کا جواب یہ ہے کہ وہ گوشت ضائع نہیں ہوگا بلکہ جہاں وہ اونٹ ذبح ہوگا وہاں آس پاس کے رہنے والے اسے اپنے استعمال میں لے آئیں گے، یا قافلے تو آتے جاتے ہی رہتے ہیں ان کے بعد جو قافلہ وہاں سے گزرے گا وہ اس سے فائدہ اٹھائے گا۔ بہرکیف راستے میں جو ہدی قریب المرگ ہوجائے اور اس کو ذبح کردیا جائے تو اس کا حکم یہ ہے جو حدیث میں ذکر کیا گیا کہ اس کو گوشت اغنیاء اور اہل قافلہ کے لئے کھانا درست نہیں ہے لیکن اس بارے میں فقہی تفصیل ہے جس کو ملتقی الابحر اور درمختار میں یوں نقل کیا گیا ہے کہ (١) اگر ہدی واجب ہو اور وہ راستہ میں قریب المرگ ہوجائے یا ایسی عیب دار ہو کہ اس کی قربانی جائز نہ ہوتی ہو تو اس کے بجائے دوسری ہدی روانہ کرے، اس پہلی ہدی کو چاہے تو ذبح کر کے خود کھالے یا دوسروں کو کھلا دے یا اور جو چاہے کرے۔ (٢) اگر ہدی نفل ہو اور مرنے کے قریب ہو تو اس کو ذبح کرلے اور جوتیاں (جو بطور ہار اس کے گلے میں پڑی ہوں) اس کے خون میں رنگ کر اس کی گردن پر نشان کر دے اور اس کے گوشت میں سے نہ مالک کھائے اور نہ اغنیاء کھائیں۔ (٣) جو ہدی منزل مقصود پر پہنچ کر ذبح ہو اس کے بارے میں اسی فصل کی آخری حدیث کی تشریح میں بتایا گیا ہے کہ نفل تمتع اور قران کی ہدی اور قربانی کے گوشت میں سے مالک کو کھانا مستحب ہے۔ ان کے علاوہ دوسرے قسم کی ہدی کے گوشت میں سے مالک کو کھانا درست نہیں ہے۔ آخر میں ایک بات اور جان لیجئے کہ مذکورہ بالا حدیث کی شرح میں بعض شارحین سے کچھ چوک ہوگئی ہے کیوں کہ انہوں نے لکھا ہے کہ حدیث میں گوشت نہ کھانے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس ہدی سے متعلق ہے جسے اپنے اوپر واجب کیا گیا ہو جیسے نذر کی ہدی اور اگر ہدی نفل ہو تو اس کا گوشت کھانا جائز ہے، لہٰذا ان شارحین سے راستہ کی اس ہدی کو منزل مقصود پر پہنچ کر ذبح ہونے والی ہدی پر قیاس کر کے یہ بات لکھ دی ہے حالانکہ یہ بات حدیث کے منشاء و حقیقت کے بالکل خلاف ہے۔