Mishkaat Shareef
194. عشرہ مبشرہ کے مناقب کا بیان
مشكاة المصابيح
6073
Mishkaat Shareefعشرہ مبشرہ ان دس جلیل القدر صحابہ کی جماعت کو کہتے ہیں جنہیں آنحضرت ﷺ نے خصوصی بشارت عطا فرمائی تھی اور وہ ہیں حضرت ابوبکر، حضرت عمر، حضرت عثمان، حضرت علی، حضرت طلحہ، حضرت زبیر، حضرت سعد بن ابی وقاص، حضرت عبدالرحمن بن عوف، حضرت ابوعبیدہ بن الجراح اور حضرت سعید بن زید، یہ سب حضرات قریشی ہیں اور ان کے لئے جو افضلیت، مناقب اور احادیث منقول ہیں وہ اوروں کے حق میں منقول نہیں ہیں یہاں یہ واضح کردینا ضروری ہے کہ جنت کی یہ خصوصی بشارت صرف انہی دس صحابہ کے حق میں منقول نہیں ہے بلکہ اہل بیت نبوت یعنی آنحضرت ﷺ کی اولاد اور ازواج مطہرات کے حق میں بھی اور ان کے علاوہ کچھ دوسرے صحابہ کے حق میں بھی منقول ہے۔ صرف ان دس صحابہ کے ذکر کے لئے اس علیحدہ باب کے قائم کرنے کی وجہ اس کے علاوہ کچھ نہیں کہ کسی ایک حدیث میں یا الگ الگ حدیثوں میں مختلف خصوصی حیثیتوں سے ان کا جو ذکر آیا ہے وہ یکجا ہوجائے تاہم اس باب میں اس طرف اشارہ ضرورپایا جاتا ہے کہ صحابہ کی اس مبارک جماعت (عشرہ مبشرہ) کو اس ترتیب کے ساتھ تمام صحابہ پر فضیلت و برتری حاصل ہے کہ پہلے خلفاء اربعہ سب سے افضل ہیں اور پھر باقی حضرات دیگر تمام صحابہ سے افضل ہیں۔
6074
Mishkaat Shareefعن عمر رضي الله عنه قال : ما أحد أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو عنهم راض فسمى عليا وعثمان والزبير وطلحة وسعدا وعبد الرحمن . رواه البخاري
حضرت عمر فاروق سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنی وفات کے وقت ارباب حل وعقد اور اصحاب شورٰی کو مستحقین خلافت کم بارے میں وصیت کرتے ہوئے) فرمایا تھا اس امر یعنی منصب خلافت کا ان لوگوں سے زیادہ کوئی مستحق نہیں جن سے رسول اللہ ﷺ راضی اور خوش اس دنیا سے تشریف لے گئے اور پھر حضرت عمر نے یہ نام لئے علی، عثمان، زبیر، سعد اور عبدالرحمن،۔ (بخاری )
تشریح
راضی اور خوش اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ یوں تو آنحضرت ﷺ اپنے تمام ہی صحابہ سے راضی اور خوش تھے۔ مگر خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں سے بہت زیادہ راضی اور خوش تھے اور ان سے آپ ﷺ کا راضی اور خوش ہونا یقینی طور پر سب کو معلوم بھی تھا، یا حضرت عمر کی مراد ان لوگوں کے تئیں آنحضرت ﷺ کی ایسی مخصوص رضا اور خوشنودی کی طرف اشارہ کرنا تھا جس کے سبب ان کا مستحقین خلافت ہونا ثابت ہوتا تھا۔ بہرحال ان الفاظ کا اصل مقصد مذکورہ حضرات کی ترجیح حیثیت کو ظاہر کرنا تھا جس کی بنیاد حضرت عمر نے گویا یہ بیان کی کہ ان لوگوں کے عشرہ مبشر میں سے ہونے کے سبب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی بہ نسبت ان لوگوں سے زیادہ راضی اور خوش تھے۔ حضرت عمر نے اس موقع پر عشرہ مبشرہ میں سے محض چھ حضرات کا ذکر اس لئے کیا کہ حضرت ابوبکر اور خود حضرت عمر کا سب سے زیادہ افضل ہونا تو سب کو معلوم تھا، اس بنا پر ان دونوں ناموں کے ذکر کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ تیسرے صاحب حضرت ابوعبیدہ بن الجراح، جن کو آنحضرت ﷺ نے امین امت اور امین حق الامین فرمایا تھا حضرت عمر سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے اور چوتھے صحابہ حضرت سعید بن زید چونکہ حضرت عمر کے بہنوئی تھے اس لئے حضرت عمر نے اس احتیاط کے مدنظر ان کا ذکر نہیں کیا کہ کہیں کوئی یہ تہمت نہ دھر دے کہ مستحقین خلافت کی فہرست میں سعید کا نام قرابت داری کی جہت سے آیا ہے، ویسے بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے سعید کا نام ان لوگوں کے زمرہ میں تو ذکر کیا تھا جن سے رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے خوش وراضی تشریف لے گئے لیکن ارباب حل وعقد اور اصحاب شورٰی میں ان کا نام نہیں رکھا تھا۔
تشریح
راضی اور خوش اس دنیا سے تشریف لے گئے۔ یوں تو آنحضرت ﷺ اپنے تمام ہی صحابہ سے راضی اور خوش تھے۔ مگر خصوصیت کے ساتھ ان لوگوں سے بہت زیادہ راضی اور خوش تھے اور ان سے آپ ﷺ کا راضی اور خوش ہونا یقینی طور پر سب کو معلوم بھی تھا، یا حضرت عمر کی مراد ان لوگوں کے تئیں آنحضرت ﷺ کی ایسی مخصوص رضا اور خوشنودی کی طرف اشارہ کرنا تھا جس کے سبب ان کا مستحقین خلافت ہونا ثابت ہوتا تھا۔ بہرحال ان الفاظ کا اصل مقصد مذکورہ حضرات کی ترجیح حیثیت کو ظاہر کرنا تھا جس کی بنیاد حضرت عمر نے گویا یہ بیان کی کہ ان لوگوں کے عشرہ مبشر میں سے ہونے کے سبب آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی بہ نسبت ان لوگوں سے زیادہ راضی اور خوش تھے۔ حضرت عمر نے اس موقع پر عشرہ مبشرہ میں سے محض چھ حضرات کا ذکر اس لئے کیا کہ حضرت ابوبکر اور خود حضرت عمر کا سب سے زیادہ افضل ہونا تو سب کو معلوم تھا، اس بنا پر ان دونوں ناموں کے ذکر کی کوئی ضرورت ہی نہیں تھی۔ تیسرے صاحب حضرت ابوعبیدہ بن الجراح، جن کو آنحضرت ﷺ نے امین امت اور امین حق الامین فرمایا تھا حضرت عمر سے پہلے ہی وفات پاچکے تھے اور چوتھے صحابہ حضرت سعید بن زید چونکہ حضرت عمر کے بہنوئی تھے اس لئے حضرت عمر نے اس احتیاط کے مدنظر ان کا ذکر نہیں کیا کہ کہیں کوئی یہ تہمت نہ دھر دے کہ مستحقین خلافت کی فہرست میں سعید کا نام قرابت داری کی جہت سے آیا ہے، ویسے بعض روایتوں میں آیا ہے کہ حضرت عمر نے سعید کا نام ان لوگوں کے زمرہ میں تو ذکر کیا تھا جن سے رسول اللہ ﷺ اس دنیا سے خوش وراضی تشریف لے گئے لیکن ارباب حل وعقد اور اصحاب شورٰی میں ان کا نام نہیں رکھا تھا۔
6075
Mishkaat Shareefجاننا چاہئے کہ امامت و خلافت شرعی طور پر جائز اور قانونی (واجب التسلیم) یا تو اس صورت میں ہوئی ہے کہ ارباب حل وعقد اس شخص کو امام و خلیفہ تعین و صراحت کے ساتھ کسی ایسے شخص کو اپنا جانشین نامزد کر جائے جو منصب خلافت کی ذمہ ذاریاں نبھانے کی اہلیت و لیاقت رکھتا ہو جیسے حضرت ابوبکر کے نامزد کردینے سے حضرت عمر کی خلافت قائم ہوئی، نیز اگر کوئی ایسا شخص خلیفہ منتخب ومقرر ہوجائے جو اپنی وجاہت و حیثیت کے اعتبار سے منقول ہو اور اس سے افضل شخص موجود ہو تو اس کی خلافت شرعی اور قانونی طور پر جائز مانی جائے گی کیونکہ خلفاء راشدین کے بعد قریش میں سے ایسے بعض لوگوں کی خلافت پر علماء کا اجتماع ثابت ہے جو اپنے سے افضل لوگوں کی موجودگی میں خلیفہ مقرر ہوئے تھے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ کبھی ایک غیر افضل شخص ملکی وحکومتی اور سیاسی امور میں افضل شخص سے زیادہ با صلاحیت ثابت ہوتا ہے اور اس خصوصی صلاحیت کی بنا پر ایسا شخص دینی معاملات کی بہتر طور پر نگرانی رکھ سکتا ہے، کاربار حکومت کو کار گر طریقہ سے انجام دے سکتا ہے رعایا کی خبر گیری کرسکتا ہے، ملک وملت کو نقصان پہنچا نے والے فتنوں اور سازشوں سے مؤثر انداز میں نمٹ سکتا ہے اور یہ کہ ملکی وملی استحکام وسا لمیت کو اچھی طرح برقرار رکھ سکتا ہے۔ رہی بات کہ بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ امامت و خلافت کی سزا وار وہی ذات ہوسکتی ہے جو معصوم ہوہاشمی ہو اور اس کے ہاتھ پر کوئی ایسا معجزہ ظاہر ہو جس سے اس کی راستی اور سچائی جانی جائے تو یہ محض شیعوں کا خرافاتی نظر یہ ہے اور ان کی جہالت کا آئینہ دار بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ یہی نظریہ ان کی گمراہیوں کی تمہید اور مقدمہ ہے جن کے ذریعہ انہوں نے ملت اسلامیہ میں افتراق و انتشار اور طبقاتی وگروہی محاذ آرائی کی بنیاد ڈالی۔ ان میں سے ایک بڑی گمراہی تو ان کی یہی ہے کہ وہ حضرت علی کے علاوہ باقی تمام خلفاء کی امامت و خلافت کو بےاصل اور باطل مانتے ہیں۔
6076
Mishkaat Shareefوعن قيس بن حازم قال : رأيت يد طلحة شلاء وقى بها النبي صلى الله عليه و سلم يوم أحد . رواه البخاري
اور حضرت قیس بن ابی حازم (تابعی) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت طلحہ کا وہ ہاتھ دیکھا جو (سالہا سال بعد بھی) بالکل بیکار اور شل تھا، انہوں نے اس ہاتھ سے غزوہ احد کے دن نبی کریم ﷺ کو (کفار کے حملوں سے) بچایا تھا۔ (بخاری)
تشریح
غزوہ احد کے دن حضرت طلحہ نے کمال جانثاری کا ثبوت دیا تھا اور آنحضرت ﷺ کو کفار کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خود کو سپر بنالیا تھا، وہ تلواروں کو اپنے ہاتھ پر روک روک کر آنحضرت ﷺ کو گزند سے بچاتے تھے۔ چناچہ نہ صرف یہ کہ ان کا ہاتھ زندگی بھر کے لئے شل اور بےکار ہو کر رہ گیا تھا بلکہ ان کے پورے جسم پر اسی زخم لگے تھے اور عضو مخصوص بھی زخمی ہوگیا تھا صحابہ کر ام جب بھی غزوہ احد کے دن کا تذکرہ کرتے تو کہا کرتے تھے کہ وہ دن تو درحقیقت طلحہ کی جانثاری اور فدا کاری سے بھر پور دن تھا۔ حضرت طلحہ عبیداللہ کے بیٹے اور قریشی ہیں، کنیت ابومحمد (یا ایک قول کے مطابق ابوعمرو) تھی، قدیم الاسلام ہیں غزوہ بدر کے علاوہ اور تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک رہے ہیں غزوہ بدر میں اس وجہ سے شریک نہیں ہوسکے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے کام سے کہیں گئے ہوئے تھے۔ حضرت طلحہ کا رنگ گندمی تھا اور بال کثرت سے تھے، بڑے وجہیہ اور خوبصورت آدمی تھے ٦٤ سال کی عمر میں جنگ جمل کے موقع پر ٢٠ جمادی الثانی ٣٦ ھ پنجشنبہ کے دن شہید ہوئے اور بصرہ میں دفن کئے گئے۔
تشریح
غزوہ احد کے دن حضرت طلحہ نے کمال جانثاری کا ثبوت دیا تھا اور آنحضرت ﷺ کو کفار کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لئے خود کو سپر بنالیا تھا، وہ تلواروں کو اپنے ہاتھ پر روک روک کر آنحضرت ﷺ کو گزند سے بچاتے تھے۔ چناچہ نہ صرف یہ کہ ان کا ہاتھ زندگی بھر کے لئے شل اور بےکار ہو کر رہ گیا تھا بلکہ ان کے پورے جسم پر اسی زخم لگے تھے اور عضو مخصوص بھی زخمی ہوگیا تھا صحابہ کر ام جب بھی غزوہ احد کے دن کا تذکرہ کرتے تو کہا کرتے تھے کہ وہ دن تو درحقیقت طلحہ کی جانثاری اور فدا کاری سے بھر پور دن تھا۔ حضرت طلحہ عبیداللہ کے بیٹے اور قریشی ہیں، کنیت ابومحمد (یا ایک قول کے مطابق ابوعمرو) تھی، قدیم الاسلام ہیں غزوہ بدر کے علاوہ اور تمام غزوات میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ شریک رہے ہیں غزوہ بدر میں اس وجہ سے شریک نہیں ہوسکے تھے کہ آنحضرت ﷺ کے کام سے کہیں گئے ہوئے تھے۔ حضرت طلحہ کا رنگ گندمی تھا اور بال کثرت سے تھے، بڑے وجہیہ اور خوبصورت آدمی تھے ٦٤ سال کی عمر میں جنگ جمل کے موقع پر ٢٠ جمادی الثانی ٣٦ ھ پنجشنبہ کے دن شہید ہوئے اور بصرہ میں دفن کئے گئے۔
6077
Mishkaat Shareefوعن جابر قال : قال النبي صلى الله عليه و سلم : من يأتيني بخبر القوم يوم الأحزاب ؟ قال الزبير : أنا فقال النبي صلى الله عليه و سلم : إن لكل نبي حواريا وحواري الزبير متفق عليه
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب (یعنی غزوہ خندق) کے موقع پر ایک دن نبی کریم ﷺ نے فرمایا کون شخص ہے جو (دشمن کے) لوگوں کی خبر میرے پاس لائے ؟ زبیر بولے میں لاؤں گا۔ تب نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر نبی کے حواری (یعنی خاص دوست اور مددگار ہوتے ہیں اور میرے حواری زبیر ہیں (بخاری ومسلم)
تشریح
حزب کی جمع ہے جس کے معنی گروہ کے ہیں اس موقع پر چونکہ مختلف اسلام دشمن گروہ یعنی قریش اور غیر قریش کے قبائل اور مدینہ کے وہ یہودی جن کا تعلق بنوقریظہ اور جلاوطن بنونضیر سے تھا، متحد اور جمع ہو کر آنحضرت ﷺ سے لڑنے آئے تھے اس لئے اس غزوہ کو غزوہ احزاب کہا جاتا ہے اس غزوہ میں دشمن کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی اور مجاہدین اسلام کل تین ہزار نفر دشمن دراصل مرکز اسلام کو تاخت و تاراج کردینے کے منصوبے کے تحت حملہ آور ہوا تھا اور اس کا ٹڈی دل لشکر تقریبا ایک مہینہ تک مدینہ کو گھیرے پڑا رہا۔ آنحضرت ﷺ نے تمام مجاہدین اسلام کی مدد سے دفاعی کاروائی کے طور پر مدینہ شہر کے گرد خندق کھودی تھی اور اس مناسبت سے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ وہ بڑے سخت دن تھے اور اہل اسلام نہایت پریشانیوں اور دشواریوں میں گھر کر رہ گئے تھے۔ باقاعدہ صف آرائی اور جنگ کی نوبت نہیں آئی، تاہم سنگ باری اور تیر انداز کے واقعات پیش آتے رہتے تھے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا لشکر نازل کیا اور ایسی آندھی بھیجی کہ دشمن کے خیمے اکھڑے گئے، چولہوں پر سے دیگچیاں اوندھی ہوگئیں جابجا ڈیروں میں آگ گل ہوگئی اور ہیبت ناک اندھیرا چھا گیا اور دشمن کا لشکر خوف و دہشت کے مارے راتوں رات بھاگ کھڑا ہوا۔ ان دنوں چونکہ یہودیوں اور منافقوں کے سبب مدینہ شہر کے اندر اور دشمن کے محاصرہ کے سبب باہر تک ہر طرف ایسی خطرناک صورت حال تھی کہ جنگی مصالح ومفاد سے متعلق معلومات فراہم کرنا اور دشمنوں کے بارے میں خبریں منگانا سخت دشوار مرحلہ تھا، اس لئے جب حضرت زبیر نے تمام خطرات اور دشواریوں کے باوجود اس خدمت کے لئے خود کو پیش کیا تو آنحضرت ﷺ نے ان کی زبردست تحسین فرمائی اور ان کو اپنا حواری ہونے کا اعزاز عطا فرمایا۔
تشریح
حزب کی جمع ہے جس کے معنی گروہ کے ہیں اس موقع پر چونکہ مختلف اسلام دشمن گروہ یعنی قریش اور غیر قریش کے قبائل اور مدینہ کے وہ یہودی جن کا تعلق بنوقریظہ اور جلاوطن بنونضیر سے تھا، متحد اور جمع ہو کر آنحضرت ﷺ سے لڑنے آئے تھے اس لئے اس غزوہ کو غزوہ احزاب کہا جاتا ہے اس غزوہ میں دشمن کے لشکر کی تعداد بارہ ہزار تھی اور مجاہدین اسلام کل تین ہزار نفر دشمن دراصل مرکز اسلام کو تاخت و تاراج کردینے کے منصوبے کے تحت حملہ آور ہوا تھا اور اس کا ٹڈی دل لشکر تقریبا ایک مہینہ تک مدینہ کو گھیرے پڑا رہا۔ آنحضرت ﷺ نے تمام مجاہدین اسلام کی مدد سے دفاعی کاروائی کے طور پر مدینہ شہر کے گرد خندق کھودی تھی اور اس مناسبت سے اس غزوہ کو غزوہ خندق بھی کہا جاتا ہے۔ وہ بڑے سخت دن تھے اور اہل اسلام نہایت پریشانیوں اور دشواریوں میں گھر کر رہ گئے تھے۔ باقاعدہ صف آرائی اور جنگ کی نوبت نہیں آئی، تاہم سنگ باری اور تیر انداز کے واقعات پیش آتے رہتے تھے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کا لشکر نازل کیا اور ایسی آندھی بھیجی کہ دشمن کے خیمے اکھڑے گئے، چولہوں پر سے دیگچیاں اوندھی ہوگئیں جابجا ڈیروں میں آگ گل ہوگئی اور ہیبت ناک اندھیرا چھا گیا اور دشمن کا لشکر خوف و دہشت کے مارے راتوں رات بھاگ کھڑا ہوا۔ ان دنوں چونکہ یہودیوں اور منافقوں کے سبب مدینہ شہر کے اندر اور دشمن کے محاصرہ کے سبب باہر تک ہر طرف ایسی خطرناک صورت حال تھی کہ جنگی مصالح ومفاد سے متعلق معلومات فراہم کرنا اور دشمنوں کے بارے میں خبریں منگانا سخت دشوار مرحلہ تھا، اس لئے جب حضرت زبیر نے تمام خطرات اور دشواریوں کے باوجود اس خدمت کے لئے خود کو پیش کیا تو آنحضرت ﷺ نے ان کی زبردست تحسین فرمائی اور ان کو اپنا حواری ہونے کا اعزاز عطا فرمایا۔
6078
Mishkaat Shareefحضرت زبیر عوام کے بیٹے اور ابوعبداللہ قرشی کی کنیت سے مشہور ہیں۔ ان کی والدہ حضرت صفیہ بنت عبد المطلب آنحضرت ﷺ کی حقیقی پھوپھی تھیں، زبیربن العوام قدیم الاسلام ہیں یعنی ابتداء ہی میں اسلام کی دولت سے بہرہ مند ہوگئے تھے اور اس وقت سولہ سال کے تھے۔ اس چھوٹی سی عمر میں جب انہوں نے اسلام قبول کیا تو ان کے چچا نے ان پر بڑے ظلم ڈھائے یہاں تک کہ ان کو دھوئیں میں بند کردیا گیا تاکہ اس عذاب سے گھبرا کر اسلام ترک کردیں لیکن انہوں نے نہایت استقامت کے ساتھ اس سخت عذاب کو برداشت کیا اور اسلام سے پھیرے نہیں۔ آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک ہوئم اور سب سے پہلے اسلام کی راہ میں تلوار کھینچنے والے یہی زبیر بن العوام تھے۔ غزوہ احد کے دن بڑے استقلال اور ثابت قدمی سے آنحضرت ﷺ کے ساتھ میدان میں ڈٹے رہے اور شجاعت وجانثاری کے جوہر دکھائے۔ حضرت زبیر طویل قامت قدرے نحیف الجثہ اور گورے رنگ کے تھے۔ ٣٦ ھ میں جنگ صفین سے واپسی پر راستہ ہی میں بصرہ کے علاقہ میں سفوان پر عمر و بن جرموز نے ان کو شہید کردیا، اس وقت ان کی عمر ٦٤ سال کی تھی وادی اسباع میں دفن کئے گئے پھر نعش مبارک بصرہ منتقل کردی گئی اور مشہور ہے کہ ان کی قبر وہیں (بصرہ) میں ہے۔
6079
Mishkaat Shareefوعن الزبير قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من يأتي بني قريظة فيأتيني بخبرهم ؟ فانطلقت فلما رجعت جمع لي رسول الله صلى الله عليه و سلم أبويه فقال : فداك أبي وأمي . متفق عليه
اور حضرت زبیر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کون ہے جو بنی قریظہ (کے یہودیوں) میں جائے اور ان کے بارے میں ضروری معلومات لا کر مجھے دے، چناچہ (آپ ﷺ کا یہ ارشاد سن کر) میں روانہ ہوگیا اور جب ان کے بارے میں معلومات حاصل کرکے واپس آیا تو رسول اللہ ﷺ نے اپنے ماں باپ دونوں پر جمع کردیئے، چناچہ آپ ﷺ نے فرمایا میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
بنوقریظہ کے یہودیوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر ایسی عہد شکنی اور بد معاملگی کا ارتکاب کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کی سرکوبی ضروری سمجھا اور غزوہ احزاب سے فارغ ہوتے ہی ان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے پندرہ روز تک (ایک تاریخی روایت کے مطابق پچیس روز) ان کا محاصرہ کئے رکھا اور آخر کار ان کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ پس اسی موقع پر آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ کون بہادر ہے جو بنوقریظہ کے بارے میں جنگی معلومات فراہم کرکے میرے پاس لائے یا یہ کہ غزوہ احزاب میں بھی بنوقریظہ دشمن کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف جنگی کاروائیوں میں شامل تھے ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر بنوقریظہ کے بارے میں ضروری معلومات آپ ﷺ کو درکار ہوں اور آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی ہو۔ میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ یہ بارگاہ رسالت کی طرف سے حضرت زبیر کی قدر منزلت کی توثیق کرنا اور ان کے اس کارنامہ پر ان کو زبردست اعزاز عطا کرنا تھا جو انہوں نے نہایت جرأت وبہادری کے ساتھ انجام دیا تھا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بھی شخص یہ الفاظ اسی ہستی کے حق میں استعمال کرتا ہے جس کو وہ نہایت معزز ومکرم سمجھتا ہے اور اس کی تعظیم کرتا ہے اس اعتبار سے حضرت زبیر کی شان میں آنحضرت ﷺ نے دو مرتبہ اپنے ماں باپ دونوں مجھ پر جمع کئے (یعنی یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر صدقے) ایک مرتبہ تو جنگ احد کے موقع پر اور دوسری مرتبہ بنو قریظہ کے خلاف کاروائی کے موقع پر ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت زبیر نے اپنے بیٹے حضرت عروہ سے کہا برخوردار ! میرے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کی معیت میں (جنگوں کے دوران) زخمی نہ ہوا ہو۔
تشریح
بنوقریظہ کے یہودیوں نے غزوہ احزاب کے موقع پر ایسی عہد شکنی اور بد معاملگی کا ارتکاب کیا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کی سرکوبی ضروری سمجھا اور غزوہ احزاب سے فارغ ہوتے ہی ان کی طرف متوجہ ہوئے، آپ ﷺ نے پندرہ روز تک (ایک تاریخی روایت کے مطابق پچیس روز) ان کا محاصرہ کئے رکھا اور آخر کار ان کو کیفر کردار تک پہنچایا۔ پس اسی موقع پر آپ ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی کہ کون بہادر ہے جو بنوقریظہ کے بارے میں جنگی معلومات فراہم کرکے میرے پاس لائے یا یہ کہ غزوہ احزاب میں بھی بنوقریظہ دشمن کے ساتھ ملے ہوئے تھے اور مسلمانوں کے خلاف جنگی کاروائیوں میں شامل تھے ہوسکتا ہے کہ اس موقع پر بنوقریظہ کے بارے میں ضروری معلومات آپ ﷺ کو درکار ہوں اور آپ ﷺ نے یہ بات فرمائی ہو۔ میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ یہ بارگاہ رسالت کی طرف سے حضرت زبیر کی قدر منزلت کی توثیق کرنا اور ان کے اس کارنامہ پر ان کو زبردست اعزاز عطا کرنا تھا جو انہوں نے نہایت جرأت وبہادری کے ساتھ انجام دیا تھا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ کوئی بھی شخص یہ الفاظ اسی ہستی کے حق میں استعمال کرتا ہے جس کو وہ نہایت معزز ومکرم سمجھتا ہے اور اس کی تعظیم کرتا ہے اس اعتبار سے حضرت زبیر کی شان میں آنحضرت ﷺ نے دو مرتبہ اپنے ماں باپ دونوں مجھ پر جمع کئے (یعنی یوں فرمایا کہ میرے ماں باپ تم پر صدقے) ایک مرتبہ تو جنگ احد کے موقع پر اور دوسری مرتبہ بنو قریظہ کے خلاف کاروائی کے موقع پر ایک روایت میں آیا ہے کہ حضرت زبیر نے اپنے بیٹے حضرت عروہ سے کہا برخوردار ! میرے بدن کا کوئی حصہ ایسا نہیں ہے جو رسول اللہ ﷺ کی معیت میں (جنگوں کے دوران) زخمی نہ ہوا ہو۔
6080
Mishkaat Shareefوعن علي قال : ما سمعت النبي صلى الله عليه و سلم جمع أبويه لأحد إلا لسعد بن مالك فإني سمعته يقول يوم أحد : يا سعد ارم فداك أبي وأمي . متفق عليه
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو کسی کے لئے ماں باپ کو جمع کرتے نہیں سنا علاوہ سعد بن مالک کے۔ چناچہ جنگ احد کے دن (جبکہ سعد دشمن کافروں کو آنحضرت ﷺ تک پہنچنے سے روکنے کے لئے جواں مردی کے ساتھ تیر مار مار کر ان کو پیچھے ہٹا رہے تھے میں نے آنحضرت ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا سعد ! چلاؤ اور تیر چلاؤ میرے ماں باپ تم پر صدقے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
سعد بن مالک سے مراد سعد بن ابی وقاص ہیں، دراصل ابی وقاص کا نام مالک ابن وہب تھا اور اس اعتبار سے سعد بن ابی وقاص کو سعد بن مالک بھی کہا جاتا تھا۔ اوپر کی حدیث میں آنحضرت ﷺ کا اپنے ماں باپ کو جمع کرنا، حضرت زبیر کے حق میں بھی منقول ہے جبکہ یہاں حضرت علی یہ فرما رہے ہیں کہ سعد بن مالک کے علاوہ اور کسی کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے ماں باپ کو جمع نہیں کیا۔ لہٰذا اوپر کی حضرت زبیر کی روایت اور حضرت علی کی اس روایت دونوں کے درمیان مطابقت کی خاطر یہ کہا جائے گا کہ دراصل حضرت علی کو معلوم نہیں تھا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر کے حق میں بھی یہ جملہ ارشاد فرمایا یا کہ حضرت علی کی مراد یہ تھی کہ خود میں نے کسی واسطہ کے بغیر آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے جملہ سعد کے علاوہ اور کسی کے حق میں نہیں سنا پس ان کا یہ کہنا اس بات کے منافی نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ جملہ حضرت زبیر کے حق میں بھی فرمایا ہو اور اس کا علم حضرت علی کو بالواسطہ طور پر ہوا ہو۔
تشریح
سعد بن مالک سے مراد سعد بن ابی وقاص ہیں، دراصل ابی وقاص کا نام مالک ابن وہب تھا اور اس اعتبار سے سعد بن ابی وقاص کو سعد بن مالک بھی کہا جاتا تھا۔ اوپر کی حدیث میں آنحضرت ﷺ کا اپنے ماں باپ کو جمع کرنا، حضرت زبیر کے حق میں بھی منقول ہے جبکہ یہاں حضرت علی یہ فرما رہے ہیں کہ سعد بن مالک کے علاوہ اور کسی کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے ماں باپ کو جمع نہیں کیا۔ لہٰذا اوپر کی حضرت زبیر کی روایت اور حضرت علی کی اس روایت دونوں کے درمیان مطابقت کی خاطر یہ کہا جائے گا کہ دراصل حضرت علی کو معلوم نہیں تھا کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت زبیر کے حق میں بھی یہ جملہ ارشاد فرمایا یا کہ حضرت علی کی مراد یہ تھی کہ خود میں نے کسی واسطہ کے بغیر آنحضرت ﷺ کی زبان مبارک سے جملہ سعد کے علاوہ اور کسی کے حق میں نہیں سنا پس ان کا یہ کہنا اس بات کے منافی نہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ جملہ حضرت زبیر کے حق میں بھی فرمایا ہو اور اس کا علم حضرت علی کو بالواسطہ طور پر ہوا ہو۔
6081
Mishkaat Shareefحضرت سعد کی کنیت ابواسحاق ہے اور زہری وقرشی کرکے مشہور ہیں۔ قدیم الاسلام ہیں یعنی آغاز دعوت اسلام ہی میں سترہ سال کی عمر میں مشرف با اسلام ہوگئے تھے۔ وہ خود کہا کرتے تھے کہ میں تیسرا مسلمان ہوں مجھ سے پہلے صرف دو آدمی اسلام لائے تھے اور اللہ کی راہ میں اسلام کی طرف سے سب سے پہلے تیر چلانے والا میں ہوں۔ حضرت سعد آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تمام غزوات میں شریک ہوئے ہیں اور مستجاب الدعوات مانے جاتے تھے۔ ان کی حیثیت عوام و خواص میں اس قد ر مشہور تھی کہ لوگ ان کی بدعا سے ڈرتے تھے اور ان کی نیک دعاؤں کے طلب گار رہا کرتے تھے۔ دراصل ان کو یہ مقام اس بنا پر حاصل ہوا تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی تھی اے اللہ ! سعد کی دعائیں قبول فرما۔ حضرت زبیر کے علاوہ صرف حضرت سعد ہی وہ خوش نصیب ہستی ہیں جن کے لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے ماں باپ کو جمع کیا، یعنی الگ الگ موقعوں پر ان دونوں کو مخاطب کرکے فرمایا تھا میرے ماں باپ تم پر صدقے، یہ عظیم اعزاز ان دونوں کے علاوہ اور کسی کو حاصل نہیں ہوا۔ حضرت سعد کا رنگ گندمی تھا اور ان کے بدن پر بہت بال تھے ٥٥ ھ میں اس محل میں ان کا انتقال ہوا جو انہوں نے مدینہ شہر کے قریب وادی عتیق میں بنوایا تھا، جنازہ مدینہ منورہ لایا گیا اور اس وقت کے حاکم مدینہ ابن الحکم نے نماز جنازہ پڑھائی اور جنت البقیع میں تدفین ہوئی اس وقت حضرت سعد کی عمر کچھ اوپر ستر سال کی تھی اور عشرہ مبشرہ میں سب کے بعد ان کا انتقال ہوا۔ حضرت عمر نے ان کو کوفہ کا حکم مقرر کیا تھا، پھر بعد میں حضرت عثمان نے بھی اس منصب پر ان کو دوبارہ کوفہ بھیجا تھا۔ صحابہ اور تابعین کی ایک بڑی جماعت کو ان سے احادیث کی سماعت اور روایت کا شرف حاصل ہے۔
6082
Mishkaat Shareefوعن سعد بن أبي وقاص قال : إني لأول العرب رمى بسهم في سبيل الله . متفق عليه
اور حضرت سعد ابی وقاص کہتے ہیں کہ میں پہلاعرب مسلمان ہوں جس نے اللہ کی راہ میں تیر پھینکا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
یعنی میں وہ شخص ہوں جس نے اسلام میں سب سے پہلے اللہ کے دشمنوں پر تیر چلایا مجھ سے پہلے کسی نے اللہ کی راہ میں تیر نہیں چلایا تھا۔ یہ ١ ھ کا واقعہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الحارث کی سر کردگی میں ساٹھ سواروں کا ایک چھوٹا سا لشکر ابوسفیان بن حرب اور اس کے ساتھ مشرکین کے مقابلہ پر روانہ فرمایا تھا، جنگ کی نوبت نہیں آئی، صرف اتنا ہوا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے ان دشمنان اسلام کی طرف ایک تیرپھینکا اور یہ سب سے پہلا تیر تھا جو اہل اسلام کی طرف سے دشمنان اسلام پر چلایا گیا۔
تشریح
یعنی میں وہ شخص ہوں جس نے اسلام میں سب سے پہلے اللہ کے دشمنوں پر تیر چلایا مجھ سے پہلے کسی نے اللہ کی راہ میں تیر نہیں چلایا تھا۔ یہ ١ ھ کا واقعہ ہے۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الحارث کی سر کردگی میں ساٹھ سواروں کا ایک چھوٹا سا لشکر ابوسفیان بن حرب اور اس کے ساتھ مشرکین کے مقابلہ پر روانہ فرمایا تھا، جنگ کی نوبت نہیں آئی، صرف اتنا ہوا کہ حضرت سعد بن ابی وقاص (رض) نے ان دشمنان اسلام کی طرف ایک تیرپھینکا اور یہ سب سے پہلا تیر تھا جو اہل اسلام کی طرف سے دشمنان اسلام پر چلایا گیا۔