Mishkaat Shareef
26. میت کو نہلانے اور کفنانے کا بیان
مشكاة المصابيح
1609
Mishkaat Shareefاس باب میں وہ احادیث نقل کی جائیں گی جن سے مردہ کو نہلانے اور کفنانے کے احکام و مسائل اور آداب کا علم ہوگا۔ تمام علماء کے نزدیک میت کو غسل دینا فرض کفایہ ہے یعنی اگر کچھ لوگ نہلا دیں گے تو سب کے ذمہ سے فرض ادا ہوجائے گا اور اگر کوئی بھی شخص میت کو نہ نہلائے تو سب کے سب گنہ گار ہوں گے۔ اس بارے میں علماء کے یہاں اختلاف ہے کہ غسل میت میں نیت شرط ہے یا نہیں ؟ چناچہ بعض حضرات کے نزدیک شرط ہے اور بعض کے نزدیک شرط نہیں ہے لیکن صحیح یہی ہے کہ نیت شرط ہے جیسا کہ حضرت شیخ ابن ہمام (رح) کا قول ہے۔
1610
Mishkaat Shareefعن أم عطية قالت : دخل علينا رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن نغسل ابنته فقال : اغسلنها ثلاثا أو خمسا أو أكثر من ذلك إن رأيتن ذلك بماء وسدر واجعلن في الاخرة كافورا أو شيئا من كافور فإذا فرغتن فآذنني فلما فرغنا آذناه فألقى إلينا حقوه وقال : أشعرنها إياه وفي رواية : اغسلنها وترا : ثلاثا أو خمسا أو سبعا وابدأن بميامنها ومواضع الوضوء منها . وقالت فضفرنا شعرها ثلاثة قرون فألقيناها خلفها
حضرت ام عطیہ (رض) فرماتی ہیں کہ ہمارے پاس رسول کریم ﷺ تشریف لائے جب کہ ہم آپ کی بیٹی (حضرت زینب (رض) کو نہلا رہے تھے آپ نے فرمایا تم تین مرتبہ یا پانچ مرتبہ اور اگر مناسب سمجھو (یعنی ضرورت ہو تو اس سے بھی زیادہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے (یعنی بیری کے پانی میں جوش دے کر اس پانی سے نہلاؤ (کیونکہ بیری کے پتوں کے جوش دئیے ہوئے پانی سے بہت زیادہ پاکی اور صفائی حاصل ہوتی ہے) اور آخری مرتبہ میں کافور یا یہ فرمایا کہ کافور کا کچھ حصہ (پانی میں) ڈال دینا۔ اور جب تم (نہلانے سے) فارغ ہوجاؤ تو مجھے خبر دینا، چناچہ جب ہم فارغ ہوگئے تو آنحضرت ﷺ کو اطلاع دی گئی، آپ نے اپنا تہ بند ہماری طرف بڑھا دیا اور فرمایا کہ اس تہ بند کو اس کے بدن سے لگا دو (یعنی اس تہ بند کو اس طرف کفن کے نیچے رکھ دو کہ وہ زینب کے بدن سے لگا رہے) اور ایک دوسری روایت کے الفاظ یہ ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا اسے طاق یعنی تین بار یا پانچ بار یا سات بار غسل دو اور غسل اس کی دائیں طرف سے اور اس کے اعضاء وضو سے شروع کرو۔ حضرت ام عطیہ فرماتی ہیں کہ ہم نے ان کے بالوں کی تین چوٹیاں گوندھ کر ان کے پیچھے ڈال دیں۔ (صحیح بخاری و مسلم)
تشریح
حدیث کے الفاظ اغسلنہا ثلاثا او خمسا او اکثر من ذالک اور اغسلنہا وترا ثلاثا او خمسا او سبعا میں حرف او ترتیب کے لئے ہے تخییر کے لئے نہیں ہے کیونکہ اگر پہلے غسل میں پاکی حاصل ہوجائے تو تین مرتبہ نہلانا مستحب ہے اور اس سے تجاوز کرنا مکروہ ہے اور اگر پاکی دو بار یا تین بار میں حاصل ہو تو پھر پانچ مرتبہ نہلانا مستحب ہے یا زیادہ سے زیادہ سات مرتبہ، سات مرتبہ سے زیادہ نہلانا منقول نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ نہلانا مکروہ ہے۔ بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے غسل میت میت کو بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے نہلانا چاہئے اس سلسلہ میں ضابطہ یہ ہے کہ دو دو مرتبہ تو بیری کے پتوں کے پانی سے نہلایا جائے جیسا کہ کتاب ہدایہ سے معلوم ہوتا ہے نیز ابوداؤد کی روایت ہے کہ ابن سیرین (رح) نے حضرت ام عطیہ (رض) سے غسل میت سیکھا تھا۔ وہ بیری کے پتوں کے پانی سے دو مرتبہ غسل دیتی تھیں۔ اور تیسری مرتبہ کافور کے پانی سے غسل دیا جائے۔ کافور پانی میں ملایا جائے یا خوشبو میں ؟ شیخ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ کافور اس پانی میں ملایا جائے جس سے میت کو نہلایا جا رہا ہو چناچہ جمہور علماء کی بھی یہی رائے ہے، جب کہ کوئی کہتے ہیں کہ کافور حنوط میں یعنی اس خوشبو میں ملایا جائے جس سے میت کو معطر کیا جا رہا ہو اور میت کے نہلانے اور اس کے بدن کو خشک کرنے کے بعد بدن پر لگایا جائے نیز علماء نے لکھا ہے کہ اگر کافور میسر نہ ہو تو پھر مشک اس کا قائم مقام قرار دیا جاتا ہے۔ بیری کے پتوں اور کافور کی خاصیت علماء لکھتے ہیں کہ بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے میت کو غسل دینے اور میت کے بدن پر کافور ملنے کی وجہ یہ ہے کہ بیری کے پتوں سے تو بدن کا میل اچھی طرح صاف ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے مردہ جلدی بگڑتا نہیں نیز بیری کے پتوں اور کافور کے استعمال کی وجہ سے موذی جانور پاس نہیں آتے۔ حصول برکت کے لئے بزرگوں کا کوئی کپڑا کفن میں شامل کیا جاسکتا ہے آنحضرت ﷺ نے اپنا تہ بند صاحبزادی کے کفن کے ساتھ لگانے کے لئے اس لئے عنایت فرمایا تاکہ اس کی برکت اسے پہنچے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح کوئی شخص اہل اللہ اور بزرگان دین سے اس کے لباس کا کوئی کپڑا موت سے پہلے حاصل کر کے اپنے پاس برکت کے لئے رکھتا ہے یا اسے استعمال کرتا ہے اس طرح موت کے بعد بزرگوں کے لباس سے برکت حاصل کرنا مستحب ہے بایں طور کہ ان کا کوئی کپڑا لے کر کفن میں شامل کردیا جائے لیکن اس سلسلہ میں یہ امر ملحوظ رہے کہ وہ کپڑا کفن کے کپڑوں سے زیادہ نہ ہو۔ ابدان بمیا منہا کا مطلب یہ ہے کہ میت کو اس کے دائیں ہاتھ دائیں پہلو اور دائیں پاؤں کی طرف سے نہلانا شروع کرو اسی طرح مواضع الوضو منہا میں حر واو مطلق جمع کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غسل میت میں پہلے اعضاء وضو دھونے چاہئیں اس کے بعد دوسرے اعضاء دھوئے جائیں اور اعضاء وضو سے مراد وہ اعضاء ہیں کہ جن کا دھونا فرض ہے۔ چناچہ غسل میت میں کلی اور ناک میں پانی دینا حنفیہ کے نزدیک مشروع نہیں بعض علماء نے اس بات کو مستحب کہا ہے کہ میت کو نہلانے والا اپنی انگلیوں پر کپڑا لپیٹ لے اور اس سے میت کے دانتوں کو، تالو، کو اندر سے دونوں کلوں کو اور نتھنوں کو ملے، چناچہ اب یہی معمول بہ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ غسل کے وقت میت کے سر پر مسح کیا جائے اور اس کے پاؤں غسل کے بعد نہ دھوئے جائیں بلکہ جب دوسرے اعضاء وضو دھوئے جاتے ہیں تو اسی وقت پیروں کو بھی دھویا جائے۔ نیز میت کے ہاتھ پہلے نہ دھوئے جائیں بلکہ غسل کی ابتداء منہ دھونے سے کرنی چاہئے بخلاف جنبی (ناپاک شخص) کے کہ وہ جب غسل کرتا ہے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ اس لئے دھوتا ہے تاکہ دوسرے اعضاء دھونے کے لئے دونوں ہاتھ پاک ہوجائیں جب کہ میت دوسروں کے ہاتھوں نہلائی جاتی ہے اس لئے اس کے دونوں ہاتھوں کو دھلانے کی حاجت نہیں ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ اگر عورت کی میت ہو تو غسل کے بعد اس کے بال کھلے ہی رہنے دئیے جائیں انہیں گودھا نہ جائے۔
تشریح
حدیث کے الفاظ اغسلنہا ثلاثا او خمسا او اکثر من ذالک اور اغسلنہا وترا ثلاثا او خمسا او سبعا میں حرف او ترتیب کے لئے ہے تخییر کے لئے نہیں ہے کیونکہ اگر پہلے غسل میں پاکی حاصل ہوجائے تو تین مرتبہ نہلانا مستحب ہے اور اس سے تجاوز کرنا مکروہ ہے اور اگر پاکی دو بار یا تین بار میں حاصل ہو تو پھر پانچ مرتبہ نہلانا مستحب ہے یا زیادہ سے زیادہ سات مرتبہ، سات مرتبہ سے زیادہ نہلانا منقول نہیں ہے بلکہ اس سے زیادہ نہلانا مکروہ ہے۔ بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے غسل میت میت کو بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے نہلانا چاہئے اس سلسلہ میں ضابطہ یہ ہے کہ دو دو مرتبہ تو بیری کے پتوں کے پانی سے نہلایا جائے جیسا کہ کتاب ہدایہ سے معلوم ہوتا ہے نیز ابوداؤد کی روایت ہے کہ ابن سیرین (رح) نے حضرت ام عطیہ (رض) سے غسل میت سیکھا تھا۔ وہ بیری کے پتوں کے پانی سے دو مرتبہ غسل دیتی تھیں۔ اور تیسری مرتبہ کافور کے پانی سے غسل دیا جائے۔ کافور پانی میں ملایا جائے یا خوشبو میں ؟ شیخ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اس حدیث کی مراد یہ ہے کہ کافور اس پانی میں ملایا جائے جس سے میت کو نہلایا جا رہا ہو چناچہ جمہور علماء کی بھی یہی رائے ہے، جب کہ کوئی کہتے ہیں کہ کافور حنوط میں یعنی اس خوشبو میں ملایا جائے جس سے میت کو معطر کیا جا رہا ہو اور میت کے نہلانے اور اس کے بدن کو خشک کرنے کے بعد بدن پر لگایا جائے نیز علماء نے لکھا ہے کہ اگر کافور میسر نہ ہو تو پھر مشک اس کا قائم مقام قرار دیا جاتا ہے۔ بیری کے پتوں اور کافور کی خاصیت علماء لکھتے ہیں کہ بیری کے پتوں اور کافور کے پانی سے میت کو غسل دینے اور میت کے بدن پر کافور ملنے کی وجہ یہ ہے کہ بیری کے پتوں سے تو بدن کا میل اچھی طرح صاف ہوجاتا ہے اور اس کی وجہ سے مردہ جلدی بگڑتا نہیں نیز بیری کے پتوں اور کافور کے استعمال کی وجہ سے موذی جانور پاس نہیں آتے۔ حصول برکت کے لئے بزرگوں کا کوئی کپڑا کفن میں شامل کیا جاسکتا ہے آنحضرت ﷺ نے اپنا تہ بند صاحبزادی کے کفن کے ساتھ لگانے کے لئے اس لئے عنایت فرمایا تاکہ اس کی برکت اسے پہنچے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جس طرح کوئی شخص اہل اللہ اور بزرگان دین سے اس کے لباس کا کوئی کپڑا موت سے پہلے حاصل کر کے اپنے پاس برکت کے لئے رکھتا ہے یا اسے استعمال کرتا ہے اس طرح موت کے بعد بزرگوں کے لباس سے برکت حاصل کرنا مستحب ہے بایں طور کہ ان کا کوئی کپڑا لے کر کفن میں شامل کردیا جائے لیکن اس سلسلہ میں یہ امر ملحوظ رہے کہ وہ کپڑا کفن کے کپڑوں سے زیادہ نہ ہو۔ ابدان بمیا منہا کا مطلب یہ ہے کہ میت کو اس کے دائیں ہاتھ دائیں پہلو اور دائیں پاؤں کی طرف سے نہلانا شروع کرو اسی طرح مواضع الوضو منہا میں حر واو مطلق جمع کے لئے ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ غسل میت میں پہلے اعضاء وضو دھونے چاہئیں اس کے بعد دوسرے اعضاء دھوئے جائیں اور اعضاء وضو سے مراد وہ اعضاء ہیں کہ جن کا دھونا فرض ہے۔ چناچہ غسل میت میں کلی اور ناک میں پانی دینا حنفیہ کے نزدیک مشروع نہیں بعض علماء نے اس بات کو مستحب کہا ہے کہ میت کو نہلانے والا اپنی انگلیوں پر کپڑا لپیٹ لے اور اس سے میت کے دانتوں کو، تالو، کو اندر سے دونوں کلوں کو اور نتھنوں کو ملے، چناچہ اب یہی معمول بہ ہے۔ صحیح یہ ہے کہ غسل کے وقت میت کے سر پر مسح کیا جائے اور اس کے پاؤں غسل کے بعد نہ دھوئے جائیں بلکہ جب دوسرے اعضاء وضو دھوئے جاتے ہیں تو اسی وقت پیروں کو بھی دھویا جائے۔ نیز میت کے ہاتھ پہلے نہ دھوئے جائیں بلکہ غسل کی ابتداء منہ دھونے سے کرنی چاہئے بخلاف جنبی (ناپاک شخص) کے کہ وہ جب غسل کرتا ہے تو پہلے اپنے دونوں ہاتھ اس لئے دھوتا ہے تاکہ دوسرے اعضاء دھونے کے لئے دونوں ہاتھ پاک ہوجائیں جب کہ میت دوسروں کے ہاتھوں نہلائی جاتی ہے اس لئے اس کے دونوں ہاتھوں کو دھلانے کی حاجت نہیں ہے۔ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک مسئلہ یہ ہے کہ اگر عورت کی میت ہو تو غسل کے بعد اس کے بال کھلے ہی رہنے دئیے جائیں انہیں گودھا نہ جائے۔
1611
Mishkaat Shareefوعن عائشة رضي الله عنها قالت : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم كفن في ثلاثة أثواب يمانية بيض سحولية من كرسف ليس فيها قميص ولا عمامة
حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ تین کپڑوں میں کفنائے گئے تھے جو سفید یمنی اور سحول کی بنی ہوئی روئی کے تھے، نہ ان میں (سیا ہوا) کرتہ تھا نہ پگڑی تھی۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
لیس فیہا قمیص ولا عمامۃ (نہ ان میں کرتہ تھا اور نہ پگڑی تھی) کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کفن میں ان کپڑوں کے علاوہ کرتہ اور عمامہ بالکل نہ تھا۔ بعض حضرات نے اس جملہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کرتہ اور عمامہ ان تین کپڑوں میں نہیں تھا بلکہ کرتہ اور عمامہ ان تین کپڑوں کے علاوہ تھا۔ اس صورت میں آنحضرت ﷺ کے کفن میں پانچ کپڑوں کا ہونا لازم آئے گا۔ حالانکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کفن میں تین کپڑے تھے لہٰذا اس جملہ کا یہی مطلب صحیح ہے کہ آپ ﷺ کے کفن میں کرتہ و عمامہ بالکل نہیں تھا صرف تین کپڑے تھے۔ اس جملہ کے پیش نظر علماء کے مسلک میں بھی یہ اختلاف واقع ہوا ہے کہ آیا یہ مستحب ہے کہ کفن میں کرتہ اور عمامہ ہو یا نہ ہو ؟ چناچہ حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ کفن میں تین لفافہ ہوں (یعنی صرف تین چادریں ہوں جن میں میت کو لپیٹا جاسکے) اور ان میں کرتہ و عمامہ نہ ہو۔ جب کہ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ کفن میں تین کپڑے ہونے چاہئیں (١) ازار یعنی لنگی (٢) قمیص یعنی کفن (٣) لفافہ یعنی پوٹ کی چادر۔ لہٰذا حدیث میں قمیص کی جو نفی فرمائی گئی ہے اس کی تاویل حنفیہ یہ کرتے ہیں کہ سیا ہوا قمیص نہیں تھا بلکہ بغیر سیا ہوا قمیص تھا جس کو کفنی کہا جاتا ہے۔ سحولیہ سحول کی طرف منسوب ہے اور سحول یمن کی ایک بستی کا نام ہے۔
تشریح
لیس فیہا قمیص ولا عمامۃ (نہ ان میں کرتہ تھا اور نہ پگڑی تھی) کا مطلب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کفن میں ان کپڑوں کے علاوہ کرتہ اور عمامہ بالکل نہ تھا۔ بعض حضرات نے اس جملہ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ کرتہ اور عمامہ ان تین کپڑوں میں نہیں تھا بلکہ کرتہ اور عمامہ ان تین کپڑوں کے علاوہ تھا۔ اس صورت میں آنحضرت ﷺ کے کفن میں پانچ کپڑوں کا ہونا لازم آئے گا۔ حالانکہ یہ ثابت ہوچکا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے کفن میں تین کپڑے تھے لہٰذا اس جملہ کا یہی مطلب صحیح ہے کہ آپ ﷺ کے کفن میں کرتہ و عمامہ بالکل نہیں تھا صرف تین کپڑے تھے۔ اس جملہ کے پیش نظر علماء کے مسلک میں بھی یہ اختلاف واقع ہوا ہے کہ آیا یہ مستحب ہے کہ کفن میں کرتہ اور عمامہ ہو یا نہ ہو ؟ چناچہ حضرت امام مالک، حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ کفن میں تین لفافہ ہوں (یعنی صرف تین چادریں ہوں جن میں میت کو لپیٹا جاسکے) اور ان میں کرتہ و عمامہ نہ ہو۔ جب کہ حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ کفن میں تین کپڑے ہونے چاہئیں (١) ازار یعنی لنگی (٢) قمیص یعنی کفن (٣) لفافہ یعنی پوٹ کی چادر۔ لہٰذا حدیث میں قمیص کی جو نفی فرمائی گئی ہے اس کی تاویل حنفیہ یہ کرتے ہیں کہ سیا ہوا قمیص نہیں تھا بلکہ بغیر سیا ہوا قمیص تھا جس کو کفنی کہا جاتا ہے۔ سحولیہ سحول کی طرف منسوب ہے اور سحول یمن کی ایک بستی کا نام ہے۔
1612
Mishkaat Shareefوعن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا كفن أحدكم أخاه فليحسن كفنه . رواه مسلم
حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو کفنائے تو اسے چاہئے کہ وہ اچھا کفن دے (مسلم)
تشریح
ابن عدی کی روایت ہے کہ اپنے مردوں کو اچھا کفن دو اس لئے کہ وہ مردے اپنی قبروں میں آپس میں (ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں) بہرحال اچھے کفن سے مراد یہ ہے کہ کفن کا کپڑا پورا ہو اور بغیر کسی اسراف کے لطیف و پاکیزہ ہو اور سفید ہو خواہ دھلا ہوا ہو یا نیا ہو۔ اچھے کفن سے وہ اعلیٰ و قیمتی کپڑوں کے کفن مراد نہیں ہیں جو بعض جاہل دنیا دار از راہ ناموری اور تکبر کے استعمال کرتے ہیں بلکہ ایسا کفن سخت حرام ہے۔ علامہ تورپشتی (رح) فرماتے ہیں کہ اسراف کرنے والوں نے یہ جو طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ بہت زیادہ قیمتی کپڑے کفن میں دیتے ہیں یہ شرعی اعتبار سے ممنوع ہے کیونکہ اس سے مال کا خواہ مخواہ ضائع ہونا لازم آتا ہے۔
تشریح
ابن عدی کی روایت ہے کہ اپنے مردوں کو اچھا کفن دو اس لئے کہ وہ مردے اپنی قبروں میں آپس میں (ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں) بہرحال اچھے کفن سے مراد یہ ہے کہ کفن کا کپڑا پورا ہو اور بغیر کسی اسراف کے لطیف و پاکیزہ ہو اور سفید ہو خواہ دھلا ہوا ہو یا نیا ہو۔ اچھے کفن سے وہ اعلیٰ و قیمتی کپڑوں کے کفن مراد نہیں ہیں جو بعض جاہل دنیا دار از راہ ناموری اور تکبر کے استعمال کرتے ہیں بلکہ ایسا کفن سخت حرام ہے۔ علامہ تورپشتی (رح) فرماتے ہیں کہ اسراف کرنے والوں نے یہ جو طریقہ اختیار کیا ہوا ہے کہ بہت زیادہ قیمتی کپڑے کفن میں دیتے ہیں یہ شرعی اعتبار سے ممنوع ہے کیونکہ اس سے مال کا خواہ مخواہ ضائع ہونا لازم آتا ہے۔
1613
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عباس قال : إن رجلا كان مع النبي صلى الله عليه و سلم فوقصته ناقته وهو محرم فمات ن فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : اغسلوه بماء وسدر وكفنوه في ثوبيه ولا تمسوه بطيب ولا تخمروا رأسه فإنه يبعث يوم القيامة ملبيا وسنذكر حديث خباب : قتل مصعب بن عمير في باب جامع المناقب إن شاء الله
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ ایک شخص (سفر حج کے دوران) آنحضرت ﷺ کے ہمراہ تھا، اس کی اونٹنی نے (اس کو گرا دیا اور) اس کی گردن توڑ دی، وہ شخص محرم (یعنی حج کی نیت سے اور احرام باندھے ہوئے) تھا اسی حال میں وہ مرگیا۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اسے پانی اور بیری کے پتوں سے نہلاؤ اسے اسی کے دونوں کپڑوں میں کفناؤ اور نہ اسے خوشبو لگاؤ نہ اس کا سر ڈھانکو کیونکہ وہ قیامت کے دن لبیک کہتا ہوا اٹھایا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے تو اسے اسی کے لباس میں کہ جسے وہ بطور احرام استعمال کرتا تھا کفنا دیا جائے اور اس پر خوشبو نہ لگائی جائے۔ چناچہ حضرت امام شافعی اور امام احمد کا یہی مسلک ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک کفن کے بارے میں محرم اور غیر محرم دونوں برابر ہیں۔ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اسی کے دونوں کپڑوں میں کہ جسے وہ بطور محرم کے استعمال کرتا تھا کفنانے کا حکم دیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس ان دونوں کپڑوں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہ تھا کہ اسے علیحدہ سے پورا کفن دیا جاتا اسی طرح آپ ﷺ نے اس کے سر کو ڈھانکنے سے جو منع فرمایا تو یہ ممانعت بھی صرف اس شخص کے لئے تھی عام طور پر سب کے لئے یہ حکم نہیں ہے۔ و سنذکر حدیث خباب قتل مصعب بن عمیر فی باب جامع المناقب انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور خباب کی وہ حدیث کہ جس کی ابتداء یہ ہے قتل مصعب بن عمیر ہم انشاء اللہ باب جامع المناقب میں نقل کریں گے۔
تشریح
اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر کوئی شخص حالت احرام میں انتقال کر جائے تو اسے اسی کے لباس میں کہ جسے وہ بطور احرام استعمال کرتا تھا کفنا دیا جائے اور اس پر خوشبو نہ لگائی جائے۔ چناچہ حضرت امام شافعی اور امام احمد کا یہی مسلک ہے جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک کفن کے بارے میں محرم اور غیر محرم دونوں برابر ہیں۔ جہاں تک اس بات کا سوال ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اسی کے دونوں کپڑوں میں کہ جسے وہ بطور محرم کے استعمال کرتا تھا کفنانے کا حکم دیا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس ان دونوں کپڑوں کے علاوہ اور کوئی کپڑا نہ تھا کہ اسے علیحدہ سے پورا کفن دیا جاتا اسی طرح آپ ﷺ نے اس کے سر کو ڈھانکنے سے جو منع فرمایا تو یہ ممانعت بھی صرف اس شخص کے لئے تھی عام طور پر سب کے لئے یہ حکم نہیں ہے۔ و سنذکر حدیث خباب قتل مصعب بن عمیر فی باب جامع المناقب انشاء اللہ تعالیٰ ۔ اور خباب کی وہ حدیث کہ جس کی ابتداء یہ ہے قتل مصعب بن عمیر ہم انشاء اللہ باب جامع المناقب میں نقل کریں گے۔
1614
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : البسوا من ثيابكم البياض فإنها من خير ثيابكم وكفنوا فيها موتاكم ومن خير أكحالكم الإثمد فإنه ينبت الشعر ويجلوا البصر . رواه أبو داود والترمذي
حضرت ابن عباس (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم سفید کپڑے پہنو اس لئے کہ تمہارے لئے وہ بہترین کپڑے ہیں اور اپنے مردوں کو سفید کپڑوں میں کفناؤ، نیز تمہارے لئے بہترین سرمہ اثمد ہے کیونکہ وہ تمہاری پلکوں کے بال اگاتا ہے اور آنکھ کی بینائی کو بڑھاتا ہے ابوداؤد ترمذی نے اس روایت کو لفظ موتاکم تک نقل کیا ہے۔
تشریح
مردوں کو سفید کپڑے میں کفنانے کا حکم استحباب کے طور پر ہے چناچہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ کفن کا کپڑا اگر سفید ہو تو اولی بہتر ہے ورنہ تو مردوں کے کفن کے لئے برد (یعنی دھاری دار کپڑا) اور کتان کے کپڑے اور عورتوں کے کفن کے لئے ریشمی، زعفرانی اور سرخ رنگ کے کپڑے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ مرد ہو یا عورت اس کے لئے اس کی زندگی میں جن کپڑوں کا استعمال جائز ہے مرنے کے بعد انہیں کپڑوں کا کفن دینا بھی جائز ہے۔ اثمد اسی سرمہ کو کہتے ہیں جو عام طور پر ہمارے یہاں استعمال ہوتا ہے، اس سرمہ کے استعمال کے بارے میں یہ افضل ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کے پیش نظر اسے سوتے وقت لگایا جائے پھر یہ کہ سوتے وقت سرمہ لگانا اپنے فوائد کے اعتبار سے بہت زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔
تشریح
مردوں کو سفید کپڑے میں کفنانے کا حکم استحباب کے طور پر ہے چناچہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ کفن کا کپڑا اگر سفید ہو تو اولی بہتر ہے ورنہ تو مردوں کے کفن کے لئے برد (یعنی دھاری دار کپڑا) اور کتان کے کپڑے اور عورتوں کے کفن کے لئے ریشمی، زعفرانی اور سرخ رنگ کے کپڑے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے کیونکہ مرد ہو یا عورت اس کے لئے اس کی زندگی میں جن کپڑوں کا استعمال جائز ہے مرنے کے بعد انہیں کپڑوں کا کفن دینا بھی جائز ہے۔ اثمد اسی سرمہ کو کہتے ہیں جو عام طور پر ہمارے یہاں استعمال ہوتا ہے، اس سرمہ کے استعمال کے بارے میں یہ افضل ہے کہ آنحضرت ﷺ کی اتباع کے پیش نظر اسے سوتے وقت لگایا جائے پھر یہ کہ سوتے وقت سرمہ لگانا اپنے فوائد کے اعتبار سے بہت زیادہ تاثیر رکھتا ہے۔
1615
Mishkaat Shareefوعن علي قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا تغالوا في الكفن فإنه يسلب سلبا سريعا . رواه أبو داود
حضرت علی (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کفن میں زیادہ قیمتی کپڑا نہ لگاؤ اس لئے کہ وہ بہت جلد چھین لیا جاتا ہے ( ابوداؤد)
تشریح
جلد چھین لیا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جلد ہی خراب اور پرانا ہوجاتا ہے پھر کیا ضرورت ہے کہ نفیس اور زیادہ قیمت کا کپڑا کفن میں لگایا جائے غرض کہ حدیث کا حاصل کفن کے بارے میں اسراف کرنے سے منع کرنا ہے اسی لئے علماء لکھتے ہیں کہ کفن میں اوسط درجہ کا کپڑا لگانا مستحب ہے۔
تشریح
جلد چھین لیا جاتا ہے کا مطلب یہ ہے کہ وہ جلد ہی خراب اور پرانا ہوجاتا ہے پھر کیا ضرورت ہے کہ نفیس اور زیادہ قیمت کا کپڑا کفن میں لگایا جائے غرض کہ حدیث کا حاصل کفن کے بارے میں اسراف کرنے سے منع کرنا ہے اسی لئے علماء لکھتے ہیں کہ کفن میں اوسط درجہ کا کپڑا لگانا مستحب ہے۔
1616
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد الخدري أنه لما حضره الموت . دعا بثياب جدد فلبسها ثم قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : الميت يبعث في ثيابه التي يموت فيها . رواه أبو داود
حضرت ابوسعید خدری (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ جب ان کی موت کا وقت قریب آیا تو انہوں نے نئے کپڑے منگوائے اور انہیں زیب تن کیا پھر فرمایا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ مردہ انہیں کپڑوں میں اٹھایا جاتا ہے جن میں وہ مرتا ہے۔ ( ابوداؤد )
تشریح
حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت ابوسعید (رض) نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی پر عمل کرنے کے لئے نئے کپڑے منگوائے اور انہیں زیب تن کیا۔ بظاہر حدیث کی مراد یہ ہوئی کہ قیامت میں جب مردوں کو دوبارہ زندگی بخشی جائے گی اور وہ اٹھ کر میدان حشر میں آئیں گے تو اس وقت ان کے بدن پر کپڑا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہی مفہوم حدیث کا مراد ہے تو مسئلہ بڑا نازک ہوجاتا ہے کیونکہ صحیح حدیث کے ذریعہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قیامت کے روز لوگ ننگے بدن اور ننگے پاؤں اٹھیں گے۔ اس لئے علماء نے اس حدیث کے معنی یہ لکھے ہیں کہ حدیث میں کپڑوں سے مراد وہ اعمال ہیں جن پر زندگی ختم ہوتی ہے چناچہ ایسا ہوتا ہے کہ اہل عرب کبھی کبھی لفظ ثیاب (یعنی کپڑے) بولتے ہیں اور اس سے اعمال مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح کپڑے بدن سے لگے رہتے ہیں اسی طرح اعمال بھی بدن سے متعلق ہوتے ہیں یہی وجہ کہ آیت کریمہ (وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ) 74 ۔ المدثر 4) کی تاویل بعض مفسرین نے یہ کی ہے کہ اپنے اعمال صحیح کرو۔ حضرت ابوسعید نے اس وقت جب کہ وہ دنیا سے رخصت ہو رہے تھے محض صفائی و ستھرائی اور پاکیزگی کے لئے نئے کپڑے زیب تن کئے۔ اتفاقاً یہ حدیث بھی ان کے ذہن میں آگئی جسے انہوں نے بیان کیا نہ یہ کہ حضرت ابوسعید نے اس نئے کپڑے پہننے کی دلیل کے طور پر یہ حدیث بیان کی تھی۔ اس ارشاد گرامی کی مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جن کپڑوں میں موت واقع ہوگی وہ اپنی قبر سے تو انہیں کپڑوں میں اٹھے گا میدان حشر میں برہنہ حالت میں پہنچے گا۔
تشریح
حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ معلوم ہوا کہ حضرت ابوسعید (رض) نے آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد گرامی پر عمل کرنے کے لئے نئے کپڑے منگوائے اور انہیں زیب تن کیا۔ بظاہر حدیث کی مراد یہ ہوئی کہ قیامت میں جب مردوں کو دوبارہ زندگی بخشی جائے گی اور وہ اٹھ کر میدان حشر میں آئیں گے تو اس وقت ان کے بدن پر کپڑا ہوگا۔ ظاہر ہے کہ اگر یہی مفہوم حدیث کا مراد ہے تو مسئلہ بڑا نازک ہوجاتا ہے کیونکہ صحیح حدیث کے ذریعہ یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ قیامت کے روز لوگ ننگے بدن اور ننگے پاؤں اٹھیں گے۔ اس لئے علماء نے اس حدیث کے معنی یہ لکھے ہیں کہ حدیث میں کپڑوں سے مراد وہ اعمال ہیں جن پر زندگی ختم ہوتی ہے چناچہ ایسا ہوتا ہے کہ اہل عرب کبھی کبھی لفظ ثیاب (یعنی کپڑے) بولتے ہیں اور اس سے اعمال مراد لیتے ہیں۔ کیونکہ جس طرح کپڑے بدن سے لگے رہتے ہیں اسی طرح اعمال بھی بدن سے متعلق ہوتے ہیں یہی وجہ کہ آیت کریمہ (وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ ) 74 ۔ المدثر 4) کی تاویل بعض مفسرین نے یہ کی ہے کہ اپنے اعمال صحیح کرو۔ حضرت ابوسعید نے اس وقت جب کہ وہ دنیا سے رخصت ہو رہے تھے محض صفائی و ستھرائی اور پاکیزگی کے لئے نئے کپڑے زیب تن کئے۔ اتفاقاً یہ حدیث بھی ان کے ذہن میں آگئی جسے انہوں نے بیان کیا نہ یہ کہ حضرت ابوسعید نے اس نئے کپڑے پہننے کی دلیل کے طور پر یہ حدیث بیان کی تھی۔ اس ارشاد گرامی کی مراد یہ بھی ہوسکتی ہے کہ جن کپڑوں میں موت واقع ہوگی وہ اپنی قبر سے تو انہیں کپڑوں میں اٹھے گا میدان حشر میں برہنہ حالت میں پہنچے گا۔
1617
Mishkaat Shareefوعن عبادة بن الصامت عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : خير الكفن الحلة وخير الأضحية الكبش الأقرن . رواه أبو داود
حضرت عبادہ بن صامت (رض) رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا بہترین کفن حلہ ہے اور بہترین قربانی سینگوں والا دنبہ ہے۔ ترمذی نے اور ابن ماجہ نے یہ روایت حضرت ابوامامہ سے نقل کی ہے ( ابوداؤد )
تشریح
حلہ سے چادر، لنگی اور اس کے نیچے کی قمیص یعنی کفنی مراد ہے، کفن میں یہ تینوں کپڑے مسنون ہیں یا پھر یہ کہ حلہ سے مراد قمیص (کفنی) کے علاوہ صرف چادر اور لنگی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کفن میں ایک کپڑے پر اکتفاء نہ کیا جائے گا بلکہ کم سے کم دو کپڑے ہونے بہتر ہیں کیونکہ یہ کفن کفایہ اور ادنیٰ درجہ ہے اور اگر کفن میں تین کپڑے یعنی چادر، لنگی اور اس کے ساتھ قمیص بھی دیں تو یہ سنت اور درجہ کمال ہے۔ سینگوں والا دنبہ چونکہ اکثر فربہ اور قیمتی ہوتا ہے اس لئے اس کی قربانی کو بہتر فرمایا گیا ہے۔
تشریح
حلہ سے چادر، لنگی اور اس کے نیچے کی قمیص یعنی کفنی مراد ہے، کفن میں یہ تینوں کپڑے مسنون ہیں یا پھر یہ کہ حلہ سے مراد قمیص (کفنی) کے علاوہ صرف چادر اور لنگی ہے اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ کفن میں ایک کپڑے پر اکتفاء نہ کیا جائے گا بلکہ کم سے کم دو کپڑے ہونے بہتر ہیں کیونکہ یہ کفن کفایہ اور ادنیٰ درجہ ہے اور اگر کفن میں تین کپڑے یعنی چادر، لنگی اور اس کے ساتھ قمیص بھی دیں تو یہ سنت اور درجہ کمال ہے۔ سینگوں والا دنبہ چونکہ اکثر فربہ اور قیمتی ہوتا ہے اس لئے اس کی قربانی کو بہتر فرمایا گیا ہے۔
1618
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم بقتلى أحد أن ينزع عنهم الحديد والجلود وأن يدفنوا بدمائهم وثيابهم . رواه أبو داود وابن ماجه
حضرت ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے جنگ احد کے شہداء کے بارے میں فرمایا کہ ان کے لوہے (ہتھیار، زرہیں) اور چمڑے (کی پوستیں وغیرہ یعنی وہ اشیاء جو خون آلود نہیں ہیں) ان کے بدن سے اتار لی جائیں پھر انہیں ان کے (خون آلودہ) کپڑوں اور خون سمیت دفن کردیا جائے ۔ ( ابوداؤد، ابن ماجہ)
تشریح
حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک میں شہید کے لئے نہ غسل ہے اور نہ نماز جنازہ ہے جب کہ حضرت امام اعطم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک شہداء کے لئے غسل تو نہیں ہے مگر نماز جنازہ ہے۔
تشریح
حضرت امام شافعی (رح) کے مسلک میں شہید کے لئے نہ غسل ہے اور نہ نماز جنازہ ہے جب کہ حضرت امام اعطم ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک شہداء کے لئے غسل تو نہیں ہے مگر نماز جنازہ ہے۔