hadith book logo

Mishkaat Shareef

139. پینے کی چیزوں کا بیان

مشكاة المصابيح

4163
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يتنفس في الشراب ثلاثا . متفق عليه . وزاد مسلم في رواية ويقول : إنه أروى وأبرأ وأمرأ
حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ پانی پینے کے درمیان تین مرتبہ سانس لیتے تھے (بخاری و مسلم) اور مسلم نے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ۔۔۔۔۔ اور آپ ﷺ فرماتے کہ اس طرح (کئی سانس میں پانی پینا اچھی طرح سیراب کرتا ہے اور پیاس کو بجھاتا ہے بدن کو صحت بخشتا ہے اور خوب ہضم ہوتا ہے اور معدہ میں بڑی آسانی کے ساتھ جاتا ہے۔

تشریح
تین مرتبہ سانس لیتے تھے یعنی آپ ﷺ پانی تین سانس میں پیتے تھے، حضرت انس (رض) نے یہ بات اکثر کے اعتبار سے بیان کی ہے کہ آپ ﷺ اکثر و بیشتر اسی طرح پانی پیتے تھے اور بعض روایتوں میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں دو سانس میں بھی پینے کا ذکر آیا ہے بہرحال تین یا دو سانس میں پینے کا طریقہ یہ تھا کہ آپ ﷺ ہر مرتبہ برتن کو منہ سے جدا کرلیتے تھے۔
4164
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن الشرب من قي السقاء
اور حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مشک کے دھانے سے پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
مشک یا اس جیسی دوسری چیزوں (جیسے ہینڈ پمپ یا گھڑے وغیرہ) کے دہانہ (منہ) سے پانی پینے کی ممانعت اس بنا پر ہے کہ اس طریقہ سے اول تو پانی ضرورت سے زائد صرف ہوتا ہے، دوسرے وہ پانی کپڑوں وغیرہ پر گر کر ان کو خراب کرتا ہے تیسرے یہ کہ اس طرح پانی پینا کہ زیادہ مقدار میں دفعتا پیٹ میں جائے معدہ کے لئے نقصان دہ ہوتا ہے اور چوتھے یہ کہ پانی پینے کا جو مسنون طریقہ ہے اس کی خلاف ورزی ہوتی ہے۔
4165
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي سعيد الخدري قال : نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن اختناث الأسقية . زاد في رواية : واختناثها : أن يقلب رأسها ثم يشرب منه
اور حضرت ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مشک کا منہ موڑنے یعنی اس کا منہ موڑ کر پانی پینے سے منع فرمایا ہے۔ اور راوی نے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ مشک کا منہ موڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اس مشک کا سرا (یعنی منہ) الٹ دیا جائے اور پھر اس سے پانی پیا جائے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
اس ممانعت کی وجہ سے بھی وہی ہے کہ جو اوپر ذکر کی گئی، مشک کا منہ موڑ کر پانی پینے کی صورت میں ایک خدشہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس مشک میں کوئی کیڑا پتنگا ہو، یا کوئی زہریلا جانور اندر بیٹھا ہو اور وہ یکبارگی منہ کے اندر چلا جائے اور کوئی ضرر پہنچائے۔ ایک روایت میں یہ آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مشک کے منہ سے پانی پیا ہے، یہ روایت دوسری فصل میں آئے گی اس سے مشک کے منہ سے پانی پینے کا جواز ثابت ہوتا ہے، چناچہ بعض علماء نے فرمایا ہے کہ جن روایتوں سے ممانعت ثابت ہوتی ہے ان کا تعلق بڑی مشک سے ہے جن کا منہ زیادہ فراخ ہوتا ہے اور جہاں تک آنحضرت ﷺ کے عمل کا تعلق ہے تو وہ چھوٹی مشک پر محمول ہے کہ آپ ﷺ نے کسی ایسی مشک کے منہ سے پانی پیا ہوگا جو چھوٹی ہوگی اور اس کا دہانہ تنگ ہوگا، بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ ممانعت کا تعلق دوام اور عادت سے ہے یعنی مشک کے منہ سے پانی پینے کی عادت نہ ڈالنی چاہئے، کیونکہ اس کیوجہ سے مشک کے منہ سے رفتہ رفتہ بدبو پیدا ہونے لگے گی اور اگر گاہ بگاہ مشک کے منہ سے پانی پی لیا جائے تو یہ ممنوع نہیں ہوگا یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اباحت کا تعلق ضرورت و احتیاج سے ہے کہ اگر فرض کیجئے پانی پینے کی ضرورت ہو اور اس وقت کوئی ایسا برتن موجود نہ ہو جس میں پانی انڈیل کر پیا جاسکتا ہو تو پھر اس صورت میں اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہوگا کہ مشک یا گھڑے کے منہ سے پانی پی لیا جائے، ہاں بغیر ضرورت و احتیاج کے اس طرح پانی پینا ممنوع ہوگا کیونکہ اس طریقہ سے پانی پینے میں مذکورہ بالا مضرات کا خدشہ ہوسکتا ہے خاص طور پر مشک کے اندر کسی زہریلے جانور کی موجودگی کے خطرہ کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، چناچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ ایک شخص نے (مشک کے) دہانہ سے پانی پیا، تو اس کے اندر سے ایک سانپ نکل آیا۔ اور آخر میں ایک بات یہ بھی کہی جاسکتی ہے کہ اس طرح پانی پینا پہلے مباح تھا مگر بعد میں اس ممانعت کے ذریعہ اس اباحت کو منسوخ قرار دے دیا گیا۔
4166
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه نهى أن يشرب الرجل قائما . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا کہ کوئی شخص کھڑے ہو کر پئے۔ (مسلم )
4167
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا يشربن أحد منكم قائما فمن نسي منكم فليستقئ . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص کھڑا ہو کر نہ پئے اگر کسی شخص نے بھول سے کھڑے ہو کر پی لیا تو اس کو چاہئے کہ وہ قے کر ڈالے۔ (مسلم)

تشریح
حدیث میں قے کر ڈالنے کا جو امر (حکم) بیان کیا گیا ہے وہ وجوب کے طور پر نہیں ہے بلکہ بطریق استحباب ہے، چناچہ اس حدیث کی صراحت کے مطابق اگر کسی شخص نے بھول سے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے تو اس کے لئے یہ مستحب ہے وہ قے کر ڈالے۔ قاضی نے کہا ہے کہ کھڑے ہو کر پانی پینے کی یہ ممانعت اصل میں اولی و بہتر طریقہ (یعنی بیٹھ کر پانی پینے) کی تلقین اور اس کے خلاف پر تادیب و تنبیہ کے طور پر ہے نہ کہ یہ ممانعت نہی تحریمی کے طور پر ہے حاصل یہ کہ اس ارشاد سے یہ نہ سمجھا جائے کہ کھڑے ہو کر پانی پینا حرام ہے اس اعتبار سے یہ حدیث اس روایت کے منافی نہیں ہوگی جس میں یہ نقل کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک یا دو مرتبہ اس کے برخلاف عمل کیا ہے۔
4168
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : أتيت النبي صلى الله عليه وسلم بدلو من ماء زمزم فشرب وهو قائم
اور حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کی خدمت میں زمزم کے پانی کا ایک ڈول لے کر آیا تو آپ ﷺ نے اس کو اس حالت میں پیا کہ آپ ﷺ کھڑے ہوئے تھے۔ (بخاری ومسلم ) ۔

تشریح
آپ ﷺ کا زم زم کے پانی کو کھڑے ہو کر پینا یا تو تبرک کی بنا پر تھا، یا اس کی وجہ یہ تھی کہ لوگوں کے ازدہام کی وجہ سے آپ ﷺ کے لئے وہاں بیٹھنا ممکن نہیں تھا اور یا جہاں (زم زم کے کنویں کے پاس) آپ ﷺ کھڑے تھے وہاں آس پاس پانی گرنے کی وجہ سے کیچڑ ہوگیا تھا اور اس کیچڑ میں کس طرح بیٹھ سکتے تھے اور یا یہ کہ آپ ﷺ کے کھڑے ہو کر پانی پینے کا مقصد محض بیان جواز تھا۔
4169
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن علي رضي الله عنه : أنه صلى الظهر ثم قعد في حوائج الناس في رحبة الكوفة حتى حضرت صلاة العصر ثم أتي بماء فشرب وغسل وجهه ويديه وذكر رأسه ورجليه ثم قام فشرب فصله وهو قائم ثم قال : إن أناسا يكرهون الشرب قائما وإن النبي صلى الله عليه وسلم صنع مثل ما صنعت . رواه البخاري
اور حضرت علی (رض) سے روایت ہے کہ (ایک دن) انہوں نے ظہر کی نماز پڑھی اور پھر لوگوں کے معاملات و مقدمات کا فیصلہ کرنے کے لئے کوفہ کی ایک بلندو کشادہ جگہ پر اپنی مجلس قائم کی (اور وہاں لوگوں کے جھگڑوں اور معاملوں کو سن سن کر فیصلہ کرتے رہے) یہاں تک کہ عصر کا وقت آگیا جب (وضو کے لئے) پانی لایا گیا تو انہوں نے (اپنی پیاس بجھانے کے لئے وضو سے پہلے اس پانی میں سے) پیا اور پھر انہوں نے (وضو کے لئے) اپنا منہ اور اپنے ہاتھ دھوئے اور راوی نے یہ ذکر کیا کہ (انہوں نے) اپنا سر کا مسح اور اپنے پاؤں (دھوئے) اس کے بعد حضرت علی (رض) کھڑے ہوئے اور وضو کا بچا ہوا پانی اس حالت میں پیا کہ وہ کھڑے ہوئے تھے اور پھر فرمایا کہ بعض لوگ کھڑے ہو کر پینے کو کراہت پر محمول کرتے ہیں یعنی وہ یہ سمجھتے ہیں کہ کھڑے ہو کر پانی پینا مکروہ ہے جب کہ حقیقت یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ (ابھی) میں نے کیا۔ (بخاری)

تشریح
اور راوی نے یہ ذکر کیا الخ کا مقصد یہ واضح کرنا ہے کہ اوپر کے (یعنی پہلے) راوی نے جہاں ہاتھ اور منہ دھونے کا ذکر کیا تھا وہیں سر اور پیروں کے بارے میں بھی ذکر کیا تھا لیکن جب نیچے کے (یعنی بعد کے) راوی نے حدیث نقل کی تو وہ پہلے راوی کے قول کی تفصیل بھول گیا اور اسے یاد نہیں رہا کہ پہلے راوی نے یہ کہا تھا (کہ حضرت علی (رض) نے اپنے سر کا مسح کیا اور اپنے پیروں کو دھویا جیسا کہ بظاہر یہی واضح ہوتا ہے یا یہ کہ پہلے راوی نے یہ بیان کیا تھا کہ انہوں نے اپنے سر کا بھی مسح کیا اور پیروں کا بھی مسح کیا جیسا کہ اسی واقعہ کے بارے میں حضرت علی (رض) سے منقول ایک روایت میں یہی ذکر کیا گیا ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ پیروں کے مسح سے مراد پیروں کو ہلکے طور پر دھونا ہے اور یا یہ کہ حضرت علی (رض) نے اس وقت موزے پہن رکھے ہوں گے، اس لئے انہوں نے پیروں پر مسح کیا۔ اس حالت میں پیا کہ وہ کھڑے ہوئے تھے یہ جملہ دراصل تاکید کے طور پر ہے تاکہ یہ گمان نہ ہو کہ کھڑے ہونے کے بعد پھر بیٹھ کر انہوں نے پانی پیا ہوگا چناچہ اس بات کو مکرر واضح کیا گیا کہ انہوں نے اسی طرح کھڑے کھڑے وضو کا بچا ہوا پانی پیا۔ واضح رہے کہ احادیث میں کھڑے ہو کر پانی پینے کی ممانعت بیان کی گئی ہے جب کہ آنحضرت ﷺ اور اکابر صحابہ کا عمل اس کے برخلاف بھی ثابت ہے، چناچہ آنحضرت ﷺ کے بارے میں پہلے گزر ہی چکا ہے اور مواہب لدنیہ میں حضرت جبیر بن مطعم سے منقول ہے کہ انہوں نے کہا کہ میں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو دیکھا کہ وہ کھڑے ہو کر پانی پی رہے تھے اسی طرح حضرت امام مالک نے بیان کیا ہے کہ مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے کہ حضرت عمر (رض) عنہ، حضرت علی (رض) اور حضرت عثمان (رض) نے کھڑے ہو کر پانی پیا ہے۔ لہٰذا اس مسئلہ میں جو اس طرح کا تضاد و تعارض واقع ہوا ہے اس کو دور کرنے کے لئے علماء نے یہ کہا ہے کہ اس بارے میں جو ممانعت منقول ہے وہ اصل میں نہی تنزیہہ کے طور پر ہے، یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ ممانعت کا تعلق اس صورت سے ہے جب کہ لوگ کھڑے ہو کر پانی پینے کو ایک عادت و معمول بنالیں (ویسے گاہ بگاہ یا کسی عذر کی بنا پر کھڑے ہو کر پانی پی لینے میں کوئی مضائقہ) اسی لئے آنحضرت ﷺ نے جو کھڑے ہو کر پانی پیا اس کا مقصد محض اس جواز کو بیان کرنا تھا علاوہ ازیں آب زمزم اور وضو کا بچا ہوا پانی اس ممانعت سے مستثنیٰ ہے بلکہ ان کو تو کھڑے ہی ہو کر پینا مستحب ہے، چناچہ بعض فقہی روایات میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ زمزم اور وضو کا بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر پیا جائے البتہ اور پانی کھڑے ہو کر نہ پیا جائے۔
4170
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر أن النبي صلى الله عليه وسلم دخل على رجل من الأنصار ومعه صاحب له فسلم فرد الرجل وهو يحول الماء في حائط فقال النبي صلى الله عليه وسلم : إن كان عندك ماء بات في شنة وإلا كرعنا ؟ فقال : عندي ماء بات في شن فانطلق إلى العريش فسكب في قدح ماء ثم حلب عليه من داجن فشرب النبي صلى الله عليه وسلم ثم أعاد فشرب الرجل الذي جاء معه . رواه البخاري
اور حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ ایک انصاری (یعنی ابوالہیثم جن کا ذکر پہلے بھی گزرا ہے) کے باغ میں تشریف لے گئے آپ ﷺ کے ہمراہ صحابی (یعنی حضرت ابوبکر (رض) بھی تھے، آنحضرت ﷺ نے (باغ میں پہنچ کر) سلام علیک کی، ان انصاری نے جو اس وقت باغ میں پانی دے رہے تھے آپ کے سلام کا جواب دیا، نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اگر تمہارے پاس پرانی مشک میں باسی پانی ہو (تو لاؤ تاکہ ہم پئیں) اور اگر تمہارے پاس ایسا پانی نہ ہو تو پھر ہم ندی یا نہر سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے۔ (انہوں نے عرض کیا کہ (جی ہاں) میرے پاس پرانی مشک میں باسی پانی موجود ہیں۔ چناچہ وہ جھونپڑی میں گئے جو (انہوں نے اس باغ میں ڈال رکھی تھی) اور ایک پیالہ میں پانی لے کر پھر اس پر (یعنی اس پیالہ میں) گھر کی پلی ہوئی بکری کا دودھ دوہا (اور اس پیالہ کو آنحضرت ﷺ کی خدمت میں پیش کیا) جس کو نبی کریم ﷺ نے نوش فرمایا اس کے بعد وہ انصاری پہلے پیالہ کی طرح ایک اور پیالہ لے کر آئے، جس کو ان صاحب نے پیا جو آنحضرت ﷺ کے ہمراہ آئے تھے۔ (بخاری)

تشریح
کر عنا کے معنی ہیں ہم کرع میں سے پانی پی لیں گے اور کرع اس جگہ کو کہتے ہیں، جہاں بارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے، اسی طرح چھوٹی سی نہر اور تالاب کو بھی کرع کہتے ہیں اس اعتبار سے کر عنا کا مفہوم یہ ہوا کہ ہم بغیر کسی برتن کے اور بغیر ہاتھ لگائے نہر یا تالاب وغیرہ سے منہ لگا کر پانی پی لیں گے اور بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ کرع اس کو کہتے ہیں کہ بغیر برتن اور ہاتھ کے منہ ڈال کر پانی پیا جائے جس طرح چوپائے تالاب وغیرہ میں اپنے پاؤں ڈال کر کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر منہ لگا کر پانی پیتے ہیں۔ سیوطی کہتے ہیں کہ (اس حدیث سے مفہموم ہوتا ہے کہ کرع یعنی منہ ڈال کر پانی پینا جائز ہے جب کہ) ابن ماجہ کی ایک روایت میں کرع کی ممانعت منقول ہے اس صورت میں کہا جائے گا کہ ابن ماجہ کی روایت کا تعلق نہی تنزیہی سے ہے اور یہاں جو بیان کیا گیا ہے وہ جواز کو ظاہر کرنے کے لئے تھا (مطلب یہ ہے کہ عام حالات میں تو اس طرح جانوروں کے طریقہ پر پانی پینا مکروہ ہے لیکن مخصوص حالات میں اس طرح پانی پینے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ) ۔
4171
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أم سلمة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال : الذي يشرب في آنية الفضة إنما يجرجر في بطنه نار جهنم . متفق عليه . وفي رواية لمسلم : إن الذي يأكل ويشرب في آنية الفضة والذهب
اور حضرت ام سلمہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص چاندی کے برتن میں کوئی چیز پیتا ہے تو اس کا یہ پیتا اس کے علاوہ اور کوئی نتیجہ پیدا نہیں کرے گا کہ اس کے پیٹ میں دوزخ کی آگ کو غٹ غٹ اتارے گا ( بخاری ومسلم) اور مسلم کی ایک روایت میں ہے کہ جو شخص چاندی اور سونے کے برتن میں کھاتا اور پیتا ہے اس کا حشر بھی یہی ہوگا

تشریح
تمام علماء اور ائمہ کا اس مسئلہ پر اتفاق ہے کہ مرد اور عورت دونوں کے لئے چاندی اور سونے کے برتن میں کھانا پینا حرام ہے اسی طرح ان کے برتنوں میں پانی بھر کر وضو کرنے یا ان میں عطر رکھ کر ان سے عطر لگانے اور یا ان میں حقہ رکھ کر حقہ پینے وغیرہ جیسے کاموں میں استعمال کرنا بھی حرام ہے اگر کسی چاندی یا سونے کے برتن میں کھانے پینے کی چیز رکھی ہو تو اس کو پہلے اس میں سے نکال کر کسی دوسرے برتن میں رکھ لیا جائے اور پھر اس کو کھایا جائے، اسی طرح تیل یا عطر وغیرہ ہو تو پہلے اس تیل یا عطر کو بائیں ہاتھ کی ہتھیلی پر نکال لیا جائے اور پھر اس کو دائیں ہاتھ سے لگایا جائے اور اگر یہ صورت اختیار کی گئی کہ اس تیل یا عطر وغیرہ کو اس چاندی یا سونے کے برتن میں سے کسی ہاتھ کی ہتھیلی پر نکالا گیا اور پھر اسی ہتھیلی سے لگایا گیا تو یہ جائز نہیں ہوگا۔ ہدایہ میں لکھا ہے کہ مفضض برتن میں پانی پینا جائز ہے بشرطیکہ منہ لگانے کی جگہ چاندی نہ ہو، اسی طرح سونے یا چاندی کے مضبب پیالہ میں بھی پانی پینا جائز ہے کیوں کہ پیالہ پر ضباب کا ہونا (یعنی اس پر سونے پر چاندی کا پتر چڑھا ہوا ہونا) اس پیالہ کی مظبوطی کے لئے ہونا ہے نہ زینت و آرائش کے مقصد سے
4172
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن حذيفة قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول : لا تلبسوا الحرير ولا الديباج ولا تشربوا في آنية الذهب والفضة ولا تأكلوا في صحافها فإنها لهم في الدنيا وهي لكم في الآخرة
اور حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ریشمی کپڑا نہ پہنو اور نہ دیباج پہنو۔ (جو ایک طرح کا ریشمی ہی کپڑا ہوتا ہے) اسی طرح نہ سونے اور چاندی کے برتن میں پینے کی کوئی چیز پیو اور نہ سونے چاندی کی رکابیوں اور پیالوں میں کھاؤ کیونکہ یہ ساری چیزیں دنیا میں کافروں کے لئے ہیں اور تمہارے لئے آخرت میں ہیں۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
ریشمی کپڑا نہ پہنو اس حکم سے چار انگشت کے بقدر ریشمی کپڑا مستثنیٰ ہے جو دوسرے کپڑے کے کنارے پر لگایا جائے، مثلا الحالق (یعنی روئی کی عبایا انگر کھے) وغیرہ کی سنجاف یعنی گوٹ یا جھالر ریشمی کپڑے کی لگانا جائز ہے، بشرطیکہ وہ چار انگشت سے زائد چوڑی نہ ہو۔ اسی طرح وہ کپڑا پہننا جائز ہے جس کے تانے میں ریشم ہو اور بانے میں سوت اور اگر سوت تانے میں ہو اور ریشم بانے میں ہو تو اس کا پہننا جائز نہیں ہوگا لیکن لڑائی کے موقع پر اس کا پہننا بھی جائز ہوگا، اسی طرح اگر کسی کو خارش کا مرض لاحق ہو، یا جوؤں کی کثرت ہوگئی تو اس صورت میں ریشمی کپڑا پہننا جائز ہوگا۔