hadith book logo

Mishkaat Shareef

120. منصب قضا کی انجام دہی اور اس سے ڈرنے کا بیان

مشكاة المصابيح

3667
Mishkaat Shareef
صحیح
جیسا کے کتاب الامارۃ وقضاء کے ابتدائیہ میں بتایا گیا تھا کہ اسلامی نظام حکومت کا اصل محور و امیر یعنی سربراہ مملکت اور قاضی ہوتے ہیں، چناچہ گذشتہ دونوں ابواب میں امام و امیر کے متعلقات کو بیان کیا گیا اب اس باب میں منصف قضاء کا بیان ہوگا اور اس سلسلہ میں بطور خاص دونوں کا ذکر کیا گیا جائے گا ایک تو یہ قاضی اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی صرف اسلامی قانون کے مآخذ یعنی کتاب سنت اور اجتہاد کو رہنما بنائے اور اس کا کوئی فیصلہ وحکم ان چیزوں کے خلاف نہیں ہونا چاہئے دوسری بات یہ ہے کہ منصب قضاء اپنی اہمیت و عظمت اور اپنی بھر ذمہ داریوں کے اعتبار سے اتنا اونچا ہے۔ کہ صرف یہ کہ ہر شخص کو اس تک پہنچنے کی کوشش نہ کرنی چاہئے، بلکہ جہاں تک ہو سکے اس منصب کو قبول کرنے سے ڈرنا اور اجتناب کرنا چاہئے۔
3668
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي بكرة قال سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لا يقضين حكم بين اثنين وهو غضبان
حضرت ابوبکرہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جب کوئی حاکم وقاضی غصہ کی حالت میں ہو تو وہ اس وقت دو آدمیوں (کے نزاعی معاملے) میں فیصلہ نہ دے ( بخاری ومسلم)

تشریح
غصہ کی حالت میں چونکہ غور و فکر کی قوت مغلوب ہوجاتی ہے اور ایسی صورت میں مبنی بر انصاف کے فیصلے کا صادر ہونا محل نظر ہوجاتا ہے اس لئے حکم دیا گیا ہے کہ کوئی حاکم وقاضی غیض وغضب کی حالت میں کسی قضیہ کا فیصلہ نہ کرے تاکہ اس کا غیض وغضب، اس کے غور وفکر اور اجتہاد میں رکاوٹ نہ بنے اور وہ منصفانہ فیصلہ دے سکے اسی طرح سخت گرمی سردی، بھوک پیاس اور بیماری کی حالت میں بھی کوئی حکم و فیصلہ نہ دے کیونکہ ان اوقات میں بھی حو اس پوری طرح قابو میں نہیں ہوتے اور دماغ حاضر نہیں رہتا۔ لہٰذا اگر کوئی حاکم وقاضی ان احوال میں حکم و فیصلہ دے گا تو وہ کراہت کے ساتھ جاری ونافذ ہوگا۔
3669
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمرو وأبي هريرة قالا : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا حكم الحاكم فاجتهد فأصاب فله أجران وإذا حكم فاجتهد فأخطأ فله أجر واحد
اور حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت ابوہریرہ دونوں کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب کوئی حاکم فیصلہ دینے کا ارادہ کرے اور اجتہاد کرے یعنی غور وفکر کے ذریعہ حکم و فیصلہ دے) اور پھر اس کا وہ حکم و فیصلہ صحیح یعنی کتاب وسنت کے موافق ہو تو اس کو دوہرا اجر ملے گا (ایک اجر تو اجتہاد کرنے کا اور دوسرا اجر صحیح فیصلہ پر پہنچنے کا) اور اگر اس نے کوئی ایسا حکم و فیصلہ دیا جس میں اس نے اجتہاد کیا لیکن (نتیجہ اخذ کرنے میں) چوک گیا (یعنی صحیح حکم تک پہنچنے میں خطا کر گیا) تو اس کو ایک اجر ملے گا۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر حاکم وقاضی کسی سے قضیہ و معاملہ کا حکم و فیصلہ دینا چاہے جس کے بارے میں کتاب وسنت اور اسلامی فقہ میں کوئی صریح اور واضح ہدایت نہیں ہے اور پھر وہ اجتہاد کرے یعنی کتاب وسنت کے احکام وتعلیمات وفقہ اسلامی کے مسائل اور اسلامی عدالتوں کے نظائر میں پوری طرح غور وفکر کرنے کے بعد وہ کسی ایسے نتیجہ پر پہنچ جائے جس کے بارے میں اس کے ضمیر کی رہنمائی نہ ہو کہ یہ مبنی برحق ہے اور پھر وہی نتیجہ اس کا حکم و فیصلہ بن جائے تو وہ حکم و فیصلہ ظاہری قانون کے اعتبار سے تو بالکل صحیح تسلیم کیا جائے گا البتہ عقبیٰ کے لحاظ سے اس کی دو صورتیں ہوں گی ایک تو یہ کہ اگر حقیقت میں بھی وہ فیصلہ کتاب وسنت کی منشاء کے موافق رہا تو اس کو دو اجر ملیں گے اور اگر اس کا فیصلہ کتاب وسنت کے موافق نہیں ہوا ہے تو اس کو ایک ہی اجر ملے گا۔ بالکل یہی حکم مجتہد کا ہے کہ اگر وہ استنباط مسائل کے وقت اپنے اجتہاد کے نتیجے میں کتاب وسنت کی منشاء تک پہنچ گیا تو اس کو دو اجر ملیں گے اور اگر کتاب وسنت کی منشاء تک پہنچنے میں خطا کر گیا تو اس کو ایک ثواب ملے گا۔ لہٰذا یہ حدیث جہاں اس بات کی دلیل ہے کہ قاضی اسلام کو ایسی جزئیات میں اجتہاد کا اختیار حاصل ہے جو اسلامی قانون کے ماخذ میں صراحت کے ساتھ مذکور نہیں ہیں اور جن کا کوئی حکم واضح نہیں وہیں اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ مجتہد اپنے اجتہاد میں کبھی تو صحیح حکم تک پہنچ جاتا ہے اور کبھی خطا کرجاتا ہے یعنی صحیح حکم تک نہیں پہنچ پاتا لیکن اجر وثواب اس کو بہرصورت ملتا ہے۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ امام ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ اگر کسی چیز کا حکم ومسئلہ، نصوص یعنی کتاب اللہ، احادیث رسول اللہ اور اجماع امت میں مذکور نہ ہونے کی وجہ سے قیاس پر عمل کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہ ہو تو اس صورت میں قیاس پر عمل کرنا تحری قبلہ کی مانند ہوگا (جس طرح اگر کسی شخص کو کسی وجہ سے قبلہ کی سمت کا پتہ نہ چلے اور وہ نماز کے وقت غور وفکر اور تحری کر کے اپنے گمان غالب کے مطابق قبلہ کی کوئی سمت مقرر کرلے اور اس طرف منہ کر کے نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہوگی اگرچہ حقیقت میں قبلہ اس سمت نہ ہو اسی طرح قیاس پر عمل کرنے والا، مصیبت یعنی درست عمل کرنے والا ہوگا اگرچہ اس قیاس میں اس سے خطا (غلطی) ہوگئی ہو۔
3670
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من جعل قاضيا بين الناس فقد ذبح بغير سكين . رواه أحمد والترمذي وأبو داود وابن ماجه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص لوگوں کے درمیان قاضی مقرر کیا گیا (گویا) اس کو بغیر چھری کے ذبح کیا گیا۔ (احمد، ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )

تشریح
ذبح سے اس کے متعارف معنی (یعنی ہلاکت بدن) مراد نہیں ہے بلکہ غیر متعارف معنی ذہنی و روحانی ہلاکت مراد ہے۔ چناچہ جس شخص کو قاضی مقرر کیا جاتا ہے وہ نہ صرف یہ کہ ہمہ وقت کی الجھن و پریشانی اور روحانی، (اذیت) یا یوں کہئے۔ کہ درد بےدواء اور مفت کی بیماری میں مبتلا رہتا ہے بلکہ اس کو اپنی عاقبت کی خرابی کا خوف بھی رہتا ہے اور ظاہر ہے کہ چھری سے ذبح ہوجانا صرف لمحہ بھر کے لئے اذیت برداشت کرنا ہے جب کہ یہ اذیت عمر بھر کی ہے بلکہ اس کی حسرت و پیشمانی قیامت تک باقی رہنے والی ہے۔
3671
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من ابتغى القضاء وسأل وكل إلى نفسه ومن أكره عليه أنزل الله عليه ملكا يسدده . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه
اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص (اپنے دل میں) منصب وقضا کی طلب و خواہش کرے اور پھر (سربراہ مملکت سے) اس کا خواستگار ہو (یہاں تک کہ اس کی خواست گاری پر اس کو قاضی بنادیا جائے) تو وہ منصب اس کے نفس کے حوالے کردیا جاتا ہے (یعنی اس کو اپنے فرائض منصبی کی انجام دہی میں اللہ تعالیٰ کی مدد توفیق حاصل نہیں ہوتی) اور جس کو (اس کی طلب و خواہش کے بغیر) زبردستی اس منصب پر فائز کیا جاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس پر ایک فرشتے کو مقرر کردیتا ہے جو اس کو گفتار و کردار میں راست و درست رکھتا ہے۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
3672
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن بريدة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : القضاة ثلاثة : واحد في الجنة واثنان في النار فأما الذي في الجنة فرجل عرف الحق فقضى به ورجل عرف الحق فجار في الحكم فهو في النار ورجل قضى للناس على جهل فهو في النار . رواه أبو داود وابن ماجه (2/350) 3736 - [ 6 ] ( ضعيف ) وعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من طلب قضاء المسلمين حتى يناله ثم غلب عدله جوره فله الجنة ومن غلب جوره عدله فله النار . رواه أبو داود
اور حضرت بریدہ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قاضی تین طرح کے ہوتے ہیں ایک طرح کے تو جنت میں جانے والے اور دو طرح کے دوزخ میں جانے والے ! لہٰذا جنت میں جانے والا قاضی تو وہ شخص ہے جس نے حق کو جانا (یعنی یہ جانا کہ حق اس بات میں ہے) اور پھر حق ہی کے مطابق فیصلہ کیا اور جس نے حق کو جانا مگر (اس کے باوجود) اپنے حکم و فیصلہ میں ظلم کیا (یعنی اس نے دیدہ دانسۃ حق کو پامال کیا تو وہ دوزخی ہے، اسی طرح جو اپنی جہالت کی وجہ سے حق کو نہیں پہنچانا اور اسی حالت میں لوگوں کے تنازعات کا فیصلہ کیا تو وہ بھی دوزخی ہے (کیونکہ اس نے حق رسی میں کوتاہی اور تقصر کی۔ (ابو داؤد، ابن ماجہ) اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص مسلمانوں کے منصب قضاء کا طالب اور خواستگار ہوا یہاں تک کہ اس نے اس کو حاصل بھی کرلیا اور پھر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں) اس کا عدل و انصاف ظلم پر غالب ہوگا تو جنت ملے گی اور اگر ظلم غالب ہوگا تو دوزخ ملے گی۔ لیکن علماء نے لکھا ہے کہ دونوں ہی صورتوں میں غالب کا مطلب یہ ہے کہ وہ اس درجہ کا ہو کہ دوسرے کے لئے رکاوٹ بن جائے۔ مثلًا اس کے عدل و انصاف کا وصف اس طرح حاوی ہو کہ اس کا ظلم سر نہ اٹھا سکے۔ یا اس کے ظلم کی خصلت اتنی حاوی ہو کہ اس کے مقابلہ پر اس کا عدل ظاہر نہ ہو سکے۔
3673
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن معاذ بن جبل : أن رسول الله صلى الله عليه و سلم لما بعثه إلى اليمين قال : كيف تقضي إذا عرض لك قضاء ؟ قال : أقضي بكتاب الله قال : فإن لم تجد في كتاب الله ؟ قال : فبسنة رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : فإن لم تجد في سنة رسول الله ؟ قال : أجتهد رأيي ولا آلو قال : فضرب رسول الله صلى الله عليه و سلم على صدره وقال : الحمد لله الذي وفق رسول رسول الله لما يرضى به رسول الله . رواه الترمذي وأبو داود والدارمي
اور حضرت معاذ بن جبل (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے جب ان (معاذ) کو (قاضی وحاکم بنا کر) یمن بھیجا تو ان سے (بطور امتحان) پوچھا کہ جب تمہارے سامنے کوئی قضیہ پیش ہوگا تو تم کس طرح فیصلہ کرو گے ؟ انہوں نے کہا کہ میں کتاب اللہ (قرآن کریم) کے موافق فیصلہ کروں گا۔ فرمایا اگر تمہیں وہ مسئلہ (صراحتًہ) کتاب اللہ میں نہ ملا ؟ انہوں نے کہا پھر میں سنت رسول اللہ ﷺ (حدیث نبوی ﷺ کے موافق فیصلہ کروں گا فرمایا اگر تمہیں وہ مسئلہ سنت رسول ﷺ میں بھی نہ ملا ؟ انہوں نے کہا تو پھر میں اپنی عقل سے اجتہاد کروں گا اور (اپنے اجتہاد و حقیقت رسی میں) کوتاہی نہیں کروں گا۔ (یا وہ روای جنہوں نے یہ حدیث معاذ سے روایت کی ہے۔ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے (یہ سن کر) اپنا دست مبارک معاذ کے سینے پر مارا (تاکہ اس کی برکت سے وہ اپنی بات پر ثابت قدم رہیں اور ان کے علم میں اضافہ ہو اور فرمایا) تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے رسول کریم ﷺ کے رسول (یعنی معاذ) کو اس چیز کی توفیق عطا کی جس سے (اللہ) اور اس کا رسول ﷺ راضی ہو۔ (ترمذی، ابوداؤد، دارمی)

تشریح
میں اپنی عقل سے اجتہاد کروں گا کا مطلب یہ ہے کہ میں اس قضیہ کا حکم ان مسائل پر قیاس کے ذریعہ حاصل کروں گا جو نصوص یعنی کتاب وسنت میں مذکور ہیں بایں طور کہ کتاب وسنت میں اس قضیہ کے مشابہ جو مسائل مذکور ہیں ان کے مطابق اس قضیہ کا حکم و فیصلہ کروں گا۔ مظہر نے بھی اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے۔ کہ پہلے میں غور وفکر کروں گا کہ میرے سامنے جو قضیہ پیش ہوا ہے کہ جس کا کوئی حکم کتاب وسنت میں مذکور نہیں ہے وہ کون سے ایسے مسئلہ سے مشابہ ہے جو کتاب وسنت میں مذکور ہے جب میں ان دونوں کے درمیان مشابہت پاؤں گا تو اس کا وہی حکم و فیصلہ کروں گا جو کتاب اللہ یا سنت رسول اللہ میں مذکور مسئلہ کا ہے، چناچہ آئمہ مجتہدین کے یہاں اس قیاس پر بہت سے مسائل کا استنباط کیا گیا ہے، یہ الگ بات ہے کہ ان آئمہ مجتہدین نے قیاس کی علت و بنیاد میں اختلاف کی ہے مثلًا گیہوں کے ربوا (سود) کے حرام ہونے کے بارے میں نفس (یعنی صریح حکم ) جب کہ تربوز کے بارے میں ایسی نص نہیں ہے۔ لہٰذا حضرت امام شافعی نے تربوز کو گیہوں پر قیاس کرتے ہوئے اس کے ربوا کو بھی حرام قرار دیا ہے کیونکہ ان کے نزدیک گیہوں کے ربوا کے حرام ہونے علت اس کا کھائی جانے والی چیز ہے اس لئے گیہوں کے حکم پر قیاس کرتے ہوئے اس کا ربوا بھی حرام ہوگا۔ جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک گیہوں کے ربوا کے حرام ہونے کی علت چونکہ اس کا مکیل (یا موزون) ہونا ہے اس لئے انہوں نے گیہوں پر چونے کو قیاس کیا اور یہ مسئلہ اخذ کیا کہ چونے کا ربوا بھی حرام ہے۔ بہرحال یہ حدیث قیاس و اجتہاد کے مشروع ہونے کی علت کی بہت مضبوط دلیل ہے اور اصحاب ظواہر (غیر مقلدین) کے مسلک کے خلاف ہے جو قیاس و اجتہاد کے منکر ہیں۔
3674
Mishkaat Shareef
ضعیف
عن علي رضي الله عنه قال : بعثني رسول الله صلى الله عليه و سلم إلى اليمن قاضيا فقلت : يا رسول الله ترسلني وأنا حديث السن ولا علم لي بالقضاء ؟ فقال : إن الله سيهدي قلبك ويثبت لسانك إذا تقاضى إليك رجلان فلا تقض للأول حتى تسمع كلام الآخر فإنه أحرى أن يتبين لك القضاء . قال : فما شككت في قضاء بعد . رواه الترمذي وأبو داود وابن ماجه وسنذكر حديث أم سلمة : إنما أقضي بينكم برأيي في باب الأقضية والشهادات إن شاء الله تعالى
اور حضرت علی کہتے ہیں کہ (جب) رسول کریم ﷺ نے مجھے قاضی بنا کر بھیجنے کا ارادہ کیا تو میں نے عرض کیا کہ آپ مجھ نوجوان کو (قاضی بنا کر) بھیج رہے ہیں (جو کم عمری کی وجہ سے ناتجربہ کار بھی ہے اور) جس کو (منصب قضا کی ذمہ داریوں کا پوری طرح علم بھی نہیں ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (تم اس بارے میں فکر نہ کرو) اللہ تعالیٰ تمہارے دل کو فہم و فراست کی ہدایت عطا کرے گا اور تمہاری زبان کو صحیح اور برحق حکم و فیصلہ کرنے پر) ثابت رکھے گا۔ (پھر آنحضرت ﷺ نے منصب قضاء کی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے سلسلہ میں یہ تعلیم و ہدایت دی کہ جب تمہارے پاس دو آدمی اپنا قضیہ لے کر آئیں تو تم پہلے آدمی (یعنی مدعا علیہ) کا بیان نہ سن لو کیونکہ یہ (مدعا علیہ کا بیان تمہیں) صحیح حکم و فیصلہ دینے میں اچھی مدد دے گا۔ حضرت علی کہتے ہیں کہ (آنحضرت ﷺ کی) اس مبارک دعا کی برکت سے اور آپ ﷺ کی اس ہدایت وتعلیم پر عمل کرنے کے بعد میں کسی بھی قضیہ کا حکم فیصلہ کرنے میں مذبدب نہیں ہوا۔ (ترمذی، ابوداؤد، ابن ماجہ )
3675
Mishkaat Shareef
ضعیف
عن عبد الله بن مسعود قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما من حاكم يحكم بين الناس إلا جاء يوم القيامة وملك آخذ بقفاه ثم يرفع رأسه إلى السماء فإن قال : ألقه ألقاه في مهواة أربعين خريفا . رواه أحمد وابن ماجه والبيهقي في شعب الإيمان
حضرت عبداللہ بن مسعود کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر وہ حاکم جو لوگوں پر اپنا حکم و فیصلہ جاری ونافذ کرتا ہے قیامت کے دن (ا حکم الحاکمین کی بارگاہ میں) اس طرح پیش کیا جائے گا کہ ایک فرشتہ اس کی گدی پکڑے ہوگا، پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے (کھڑا رہے گا) یہاں تک کہ اگر اللہ تعالیٰ یہ حکم دے گا کہ اس کو (دوزخ میں) ڈال دو تو وہ اس کو دوزخ کے) گڑھے میں ڈال دے گا جو چالیس برس کی مسافت) کے بقدر (گہرا) ہوگا۔ (احمد، ابن ماجہ، بیہقی اور شعب الایمان )

تشریح
پھر وہ فرشتہ اپنا سر آسمان کی طرف اٹھائے گا سے مراد فرشتہ کی اس حالت کو بیان کرنا ہے جس میں وہ حکم الٰہی کا منتظر ہوگا، یعنی جس طرح بادشاہ کے ہاں یہ درباری آداب میں سے ہے کہ جب وہاں کوئی ملزم پیش کیا جاتا ہے کھڑا ہوجاتا ہے اور یہ انتظار کرتا ہے کہ بادشاہ حاکم کی طرف سے کیا حکم و فیصلہ صادر ہوتا ہے، اسی طرح وہ فرشتہ بھی اس حاکم کو بارگاہ رب العزت میں پیش کر کے اس انتظار میں کھڑا رہے گا کہ اس کے بارے میں کیا حکم ہوتا ہے۔ چالیس برس کے بقدر سے مراد اس گڑھے کی گہرائی کو زیادہ سے زیادہ کر کے بیان کرنا ہے نہ کہ اس سے اس کی مدت کی تعین وتحدید مراد ہے اس حدیث میں جس حاکم کا انجام بیان کیا گیا ظالم حاکم ہے، عدل و انصاف پرور کے بارے میں یہ حکم دیا گیا جائے گا کہ اس کو بہشت میں پہنچایا جائے گا۔ جیسا کہ کتاب الامارۃ والقضاء میں حضرت ابوامامہ کی روایت سے واضح ہوچکا ہے
3676
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن عائشة عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : ليأتين على القاضي العدل يوم القيامة يتمنى أنه لم يقض بين اثنين في تمرة قط . رواه أحمد
اور حضرت عائشہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن (جب حاکموں، سرداروں اور قانون و انصاف کے ذمہ داروں سے سخت مؤ اخذہ ہو رہا ہوگا تو) عادل ومنصف قاضی کے لئے بھی ایک ایسا لمحہ آئے گا جس میں وہ یہ آرزو کرے گا کہ کاش اس کو دو آدمیوں کے درمیان کھجور کے (بھی) قضیہ کا فیصلہ کرنے کی ذمہ داری انجام نہ دینا پڑتی ہو۔ (احمد)