Mishkaat Shareef
48. فضائل قرآن کا بیان
مشكاة المصابيح
2117
Mishkaat Shareefقرآن مجید کیا ہے ؟ یہ وہ سب سے مقدس اور سب سے عظیم کتاب ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کاروان انسانیت کے سب سے آخری اور سب سے عظیم راہنما رسول کریم ﷺ پر نازل ہوئی جو ظلم و جہل کی تاریکیوں میں منارہ نور، کفر و شرک کے تابوت کی آخری کیل اور پوری انسانی برادری کے لئے اللہ کی طرف سے اتارا ہوا سب سے آخری اور سب سے جامع قانون ہے۔ اور جسے حبل متین کہا گیا ہے۔ قرآن مجید کی عظمت و بزرگی اور اس کی فضیلت و رفعت کے لئے اسی قدر کافی ہے کہ وہ خداوند عالم، مالک ارض و سماء اور خلق لوح و قلم کا کلام ہے تمام عیوب اور تمام نقائس سے بری اور پاک ہے فصاحت و بلاغت کا وہ آخری نقطہ عروج کہ بڑے بڑے عرب فصیح وبلیغ اس کے سامنے طفل مکتب علوم و معارف اور فکر و دانش کا وہ کوہ ہمالہ کہ دنیا کے بڑے بڑے مفکر، فلسفی، دانشور اور ارباب فکر و نظر اس سے سر ٹکرائیں۔ قرآن مجید کی تلاوت اور پڑھنے پڑھانے کا ثواب محتاج بیان نہیں تمام علماء اس پر متفق ہیں کہ کوئی ذکر، تلاوت کلام مجید سے زیادہ ثواب نہیں رکھتا، خصوصا نماز میں اس کی قرأت کا ثواب اور اس کی فضیلت اتنی ہے کہ وہ دائرہ تحریر سے باہر ہے، قرآن کریم کی تلاوت کے وقت اس کے ہر حرف کے عوض دس نیکیاں اور نماز میں اس کی قرأت کے وقت اس کے ہر حرف کے عوض پچیس نیکیاں لکھی جاتی ہیں۔ قرآن کا پڑھنا بندہ کو اللہ کا قرب بخشتا ہے، قلب کو عرفان الٰہی اور ذکر اللہ کے نور سے روشن کرتا ہے اور قیامت کے روز اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں شفاعت کرے گا۔ تلاوت قرآن کا مقصد اعلیٰ یہ ہے کہ وہ تفکر اور تذکر یعنی امور دین کو یاد دلانے اور آخرت کی طرف توجہ کا باعث ہو اور کثرت تلاوت کی وجہ سے احکام الٰہی یاد اور مستحضرت ہوں تاکہ احکام الٰہی پر عمل کیا جائے اور عبرت حاصل کی جائے تلاوت کا یہ مقصد نہیں کہ محض آواز و حروف کو آراستہ کیا جائے اور دل غفلت کے اندھیروں میں پڑا رہے چناچہ جو شخص قرآن پڑھے مگر اس پر عمل نہ کرے تو قرآن ایسے شخص کا دشمن ہوتا ہے۔ اس لئے حدیث شریف میں آتا ہے کہ بعض لوگ ایسے ہیں جو قرآن تو پڑھتے ہیں اور قرآن ان پر لعنت بھیجتا ہے کیونکہ قرآن صرف پڑھنے کی چیز نہیں ہے بلکہ اس پر عمل کرنا ہے اور جو شخص قرآن پڑھتا تو ہے مگر اس پر عمل نہیں کرتا وہ گویا قرآن کی اہانت کرتا ہے۔ لہٰذا قرآن پڑھنا اور اس پر عمل کرنا اس کے حق میں آخرت کے نقصان و خسران کی دلیل ہوگا۔ یہ بات بھی سمجھ لینی چاہئے کہ تفکر و تذکر اور فہم معانی اسی وقت حاصل ہوسکتا ہے جب کہ آہستگی، وقار، ترتیل اور حضور دل کے ساتھ قرآن پڑھا جائے اسی لئے قرآن کی تجوید لازم ہے اور قرآن کا کم پڑھنا مشروع ہوا ہے چناچہ فقہ کی کتابوں میں مذکور ہے کہ قرآن کے حق کی ادائیگی کے لئے یہ کافی ہے کہ چالیس دن میں ایک قرآن ختم کیا جائے بلکہ ایک سال میں قرآن ختم کرنا بھی کافی ہے، نیز عبادت مثلا تراویح وغیرہ میں بھی ایک قرآن کم سے کم سات دن میں ختم کرنا چاہئے اور جس قدر اس سے زیادہ عرصہ میں ختم کرے افضل ہے۔ جو شخص عربی زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے قرآن کے معانی نہ جانتا ہو اس کو بھی چاہئے کہ وہ حضور دل کے ساتھ قرآن کی تلاوت شروع کرے اور اپنے ذہن میں یہ خیال جمائے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا کلام ہے اور اس کے وہ احکام ہیں جو اس نے دنیا پر نازل فرمائے ہیں نیز وہ اس عاجز اور فروتنی کے ساتھ بیٹھ کر تلاوت کرے گا کہ گویا وہ قرآن نہیں پڑھ رہا ہے بلکہ احکم الحاکمین کا کلام براہ راست سن رہا ہے۔
2118
Mishkaat Shareefقرآن کریم اللہ رب العزت کا براہ راست کلام اور بارگاہ الوہیت سے اترے ہوئے الفاظ کا مجموعہ ہے اس کلام کی نسبت جس ذات کی طرف ہے وہ حاکموں کا حاکم، بادشاہوں کا بادشاہ اور پوری کائنات کا بلاشرکت غیرے مالک ہے۔ لہٰذا اس کی تلاوت کے وقت وہی آداب ملحوظ ہونے چاہئیں جو کلام اور صاحب کلام کی عطمت شان کے مطابق ہوں اس لئے مناسب ہے کہ اس موقع پر آداب تلاوت کا ذکر وضاحت سے بیان کردیا جائے۔ سب سے پہلے مسواک کے ساتھ وضو کیجئے اس کے بعد کسی اچھی جگہ متواضع اور رو بقبلہ بیٹھے اپنے آپ کو کمتر و ذلیل اور عاجز جان کر اور قلب و دماغ کے حضور کے ساتھ بیٹھئے کہ گویا اللہ رب العزت کے سامنے بیٹھ کر عرض و نیاز اور التجا کر رہے ہیں پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر تلاوت کیجئے دل میں یہ تصور جمائیے کہ میں اللہ کا کلام بغیر کسی واسطہ کے سن رہا ہوں قرآن کی آیتوں کو آہستہ آہستہ تدبر، تفکر اور ترتیل کے ساتھ پڑھئے۔ جہاں بندوں کے حق میں وعدہ و رحمت کی آیت آئے تو تسبیح کیجئے، جہاد و وعید و عذاب کے متعلق آیت آئے اللہ سے پناہ مانگئے۔ جب اللہ رب العزت کی تنزیہ اور تقدیس پر مشتمل آیت آئے تو تسبیح کیجئے، یعنی جس آیت میں اللہ کی پاکی اور اس کی بڑائی و بزرگی کا بیان ہو اسے پڑھ کر سبحان اللہ کہئے، تلاوت کے درمیان الحاح وزاری اختیار کیجئے اگر رونا نہ آئے تو رونے کی صورت بنا لیجئے۔ حاصل یہ کہ تلاوت قرآن گویا بارگاہ الوہیت میں حاضری کا وقت ہے اس لئے اس موقع پر اللہ رب العزت کی عظمت و رفعت کے احساس سے اپنے اوپر مکمل عاجزی، ذلت اور فروتنی طاری کیجئے، اس بات کی کوشش نہ کیجئے کہ قرآن جلد ختم ہو اور اس کی وجہ سے تیز تیز پڑھنا شروع کردیا جائے کیونکہ غور و فکر کے ساتھ کم پڑھنا آداب تلاوت کا لحاظ کئے بغیر زیادہ پڑھنے سے بہتر ہے۔ پھر یہ کہ زیادہ سے زیادہ پڑھنے سے ختم شماری کے علاوہ اور کچھ حاصل نہیں ہوتا، بلکہ یہ امر ممنوع ہے لہٰذا آج کل جو یہ رسم چل گئی ہے کہ لوگ پورا قرآن ایک دن میں ختم کرنے یا زیادہ تیز پڑھنے کو فخر یا کمال کی بات سمجھتے ہیں۔ یہ نہایت بری اور غفلت و نادانی کی بات ہے۔ خواجہ پندارد کہ طاعت می کند بے خبر کز معصیت جان می کند بعض بزرگوں سے جو زیادہ سے زیادہ پڑھنا ثابت ہے تو وہ ان کی کرامت ہے اس بارے میں ان کی پیروی نہ کیجئے حاصل یہ کہ تدبر، ذوق، حضور قلب اور آداب تلاوت کی رعایت کے ساتھ جس قدر بھی تلاوت کر پائیں اسی کو غنیمت سمجھئے۔ جس مجلس میں لوگ کسی دوسرے کام میں مشغول ہوں یا شور و غوغا ہو وہاں تلاوت نہ کیجئے ہاں اگر تلاوت ضروری ہی ہو اور کوئی دوسری جگہ میسر نہ ہو تو تلاوت کیجئے مگر آہستہ آواز کے ساتھ، البتہ اگر لوگ تلاوت سننے کے مشتاق ہوں اور خاموش و پر سکون ہوں تو بآواز بلند تلاوت افضل ہوگی کیونکہ حدیث شریف میں آتا ہے کہ تلاوت سننے والا اور تلاوت کرنے والا دونوں اجر وثواب میں یکساں شریک ہیں۔ اسی طرح مصحف (قرآن) میں دیکھ کر پڑھنا بغیر دیکھے پڑھنے سے افضل ہے کیونکہ اس طرح آنکھیں اور دوسرے اعصاب بھی عبادت میں شریک ہوتے ہیں اور حضور قلب بھی زیادہ میسر ہوتا ہے۔ قرآن کریم کو رحل یا کسی دوسری بلند چیز (مثلاً تکیہ) پر رکھئے تاکہ قرآن کی تعظیم و تکریم آشکارا ہو، تلاوت کے دوران دنیوی کلام و گفتگو، کھانے پینے اور دوسرے سب کاموں سے باز رہئے اگر کوئی ضرورت پیش آجائے تو قرآن کو بند کر کے کلام و گفتگو کیجئے اس کے بعد پھر اعوذ باللہ اور بسم اللہ پڑھ کر تلاوت شروع کیجئے، غلط پڑھنے سے احتراز کیجئے۔ ترتیل و تجوید کے ساتھ بےتکلف اور بےساخت پڑھئے۔ غلط طریقہ سے آواز و لہجہ بنانے کی ضرورت نہیں، تلاوت کے وقت کسی کی تعظیم نہ کیجئے۔ ہاں اگر عالم باعمل، استاد یا والدین کے لئے کھڑے ہوجانا اور ان کی تعظیم جائز ہے جب قرآن ختم ہونے کو ہو تو اپنے عزیز و اقا رب اور محبین و متعلقین کو جمع کیجئے ان کی مجلس میں قرآن ختم کیجئے اور ان سب کو دعا میں شامل کیجئے کیونکہ وہ قبولیت دعا کا وقت ہوتا ہے۔ قرآن ختم کرنے کے بعد پھر سورت فاتحہ اور سورت بقرہ مفلحون تک پڑھ کر قرآن بند کیجئے کیونکہ یہ افضل ہے۔ تکیہ لگا کر یا لیٹ کر قرآن پڑھنا اگرچہ جائز ہے لیکن افضل یہی ہے کہ مؤدب بیٹھ کر پڑھا جائے اسی طرح راستہ چلتے قرآن پڑھنا جائز ہے اگر جنگل ہو تو بآواز بلند پڑھا جائے ورنہ بصورت دیگر بآواز آہستہ۔ نجس اور مکروہ جگہوں مثلا حمام اور کمیلے وغیرہ میں قرآن پڑھنا مکروہ ہے۔ قرآن کی تقطیع بہت چھوٹی نہ رکھی جائے اور نہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر کے متفرق کیا جائے تاکہ اس کے احترام و عظمت میں کچھ کمی واقع نہ ہو ہاں ضرورت کے تحت مثلا بچوں کے پڑھنے کے لئے یا کسی مناسب آسانی و سہولت کے پیش نظر پارہ پارہ یا ہفت سورت وغیرہ کی شکل میں کرنا جائز ہے۔ قرآن کو ایسے لشکر میں لے جانا جہاں امن پر اعتماد نہ ہو مناسب نہیں ہے اسی طرح دارالحرب میں بھی قرآن نہ لے جانا چاہئے کہ ایسا نہ ہو کہ وہ کافروں کے ہاتھ میں پڑجائے اور وہ اس کی بےحرمتی کریں۔ قرآن کی اتنی آیتوں کا یاد کرنا کہ جن سے نماز ہوجائے ہر مسلمان پر عین فرض ہے اور پورا قرآن شریف یاد کرنا فرض کفایہ ہے کہ اگر ایک شخص حفظ کرے تو سب کے ذمہ سے فرض ساقط ہوجاتا ہے۔ فقہا لکھتے ہیں کہ سورت فاتحہ اور کوئی ایک سورت یاد کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے اور باقی قرآن کا یاد کرنا اور اس کے احکام کو جاننا اور سیکھنا نفل نماز سے اولیٰ ہے۔ مصحف کی طرف پاؤں پھیلانے مکروہ نہیں بشرطیکہ وہ پاؤں کے برابر نہ ہو، اسی طرح مصحف اگر کھونٹی پر لٹکا ہوا ہو یا طاق میں رکھا ہوا ہو تو ادھر پاؤں پھیلانا مکروہ نہیں ہے۔ سفر میں حفاظ کی خاطر مصحف کو خرجی (بیگ زنبیل اور جھولا) میں رکھ کر اس پر سوار ہونا یا تکیہ کے نیچے رکھ کر سونے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے، جس مکان میں یا کمرہ میں مصحف رکھا ہو اس میں جماع کرنے میں بھی کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ جب قرآن شروع ہو تو پہلے یہ دعا پڑھئے۔ دعا (اللہم انی اشہد ان ھذا کتابک المنزل من عندک علی رسولک محمد بن عبداللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وا صحابہ واتباعہ اجمعین وکلامک الناطق علی لسان نبیک جعلتہ ہادیا منک لخلقک وحبلا متصلا فیما بینک وبین عبادک اللہم فاجعل نظری فیہ عبادۃ وقرائتی فکروفکری فیہ اعتبارا انک انت الرؤ ف الرحیم رب اعوذبک من ہمزات الشیاطین واعوذبک رب ان یحضرون) ۔ اے اللہ ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیری یہ کتاب تیری طرف سے تیرے رسول پر اتاری گئی ہے جن کا نام نامی محمد بن عبداللہ ہے رحمت ہو اللہ کی ان پر، ان کی اولاد پر، ان کے اصحاب پر اور ان کے تمام تابعداروں پر اور میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرا کلام ناطق ہے تیرے رسول کی زبان پر، اس کلام کو تو نے اپنی مخلوق کی ہدایت کرنے والا بنایا ہے اور اس کو اپنے اور اپنے بندوں کے درمیان واسطہ متصل بنایا ہے۔ لہٰذا اے اللہ ! تو میری نظر کو اس میں عبادت گزار میری قرأت کو اس میں بافکر اور میرے بافکر کو اس میں عبرت پذیر بنا، بلاشبیہ تیری ذات بڑی مہربان ہے اور تو بڑا رحم کرنے والا ہے اور اے میرے رب میں اس بات سے تیری پناہ مانگتا ہوں اور اے میرے رب ! میں اس بات سے تیری پناہ کا طلبگار نہیں کہ میرے پاس شیاطین آئیں۔ اس دعا کے بعدا یت (قل اعوذ برب الناس) پڑھئے اور پھر یہ دعا مانگئے۔ دعا (اللہم بالحق انزلتہ وبالحق نزل اللہم عطم رغبی جہ واجعلہ نورا لیبضری و شفاء لصدری وہ ذھابالھمی وحزنی وبیض بہ وجہی وارزقنی تلاوتہ وفہم معانیہ برحمتک یا ارحم الراحمین) ۔ اے اللہ تو نے قرآن کو حق کے ساتھ اتارا اور یہ حق کے ساتھ اترا۔۔ اے اللہ قرآن میں میری رغبت بڑی بنا اور اسے میری آنکھوں کو نور میرے سینے کے لئے شفاء اور میرے فکر و غم کے دور ہونے کا سبب بنا اس کے ذریعہ میرے چہرے کو روشن ومنور فرما اور اپنی رحمت کے صدقہ اے ارحم الراحمین اس کی تلاوت مجھے نصیب کر اور اس کے معنی کی سمجھ عطا فرما ہر روز تلاوت کے بعد ہاتھ اٹھا کر یہ دعا پڑھئے۔ دعا (اللہم اجعل القرآن لنا فی الدنیا قرینا وفی الآخرۃ شافعا وہ فی القبر مونسا وفی القیامۃ صاحبا وعلی الصراط نورا وفی الجنۃ رفیقا ومن النار سترا) ۔ اے اللہ قرآن پاک کو میرے لئے دنیا میں ہم نشین، آخرت میں شافع، قبر میں غم خوار، قیامت میں مونس، پل صراط پر نور، جنت میں رفیق اور آگے سے پردہ دینا۔ پھر آپ نے دینی اور دنیوی مقاصد و عزائم کے لئے جو بھی دعا چاہیں مانگیں انشاء اللہ آپ کی ہر درخواست مجیب الدعوات کی بارگاہ میں شرف قبولیت سے نوازری جائے گی۔ ابن مردویہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ جب قرآن ختم کرتے تو کھڑے ہو کر دعا مانگتے، اسی طرح بیہقی نے شعب الایمان میں حضرت ابوہریرہ ہی سے نقل کیا کہ رول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص قرآن پڑھے اللہ کی حمد و ثنا کرے محمد پر درود بھیجے اور پھر اپنے رب سے اپنی بخشش چاہے تو بلاشبہ اس نے بہترین طریقے سے خیر و بھلائی کی دعا مانگی۔ بیہقی نے شعب الایمان میں نقل کیا کہ آنحضرت ﷺ جب قرآن ختم فرماتے تو کھڑے ہو کر اللہ تعالیٰ کی بہت زیادہ حمد و ثنا کرتے چناچہ حمد و ثنا اور دعا کے کلمات یہ ہوتے۔ الحمد للہ رب العالیمن الحمد للہ الذی خلق السماوات والرض وجعل الظلمت والنور ثم الذین کفروا بربہم یعدلون۔ لا الہ الا اللہ وکذب العادلون باللہ وضلوا ضللا بعیدا لا الا اللہ وکذب المشر کون باللہ من العرب والمجوس والیہود النصاریٰ والصابئین ومن دعا للہ ولد وصاحبۃ او ندا او شبہا او مثلا او سمیا او عدلا فانت ربنا اعطم من ان نتخذ فیما خلقت والحمد للہ الذی لم یتخذ صاحبۃ ولا ولدا ولم یکن لہ شریک فی الملک ولم یکن لو ولی من الذل وکبری تکبیرا اللہ اکبر کبیرا والحمد للہ کثیرا وسبھان اللہ بکرۃ واصیلا۔ والحمدللہ الذی انزل علی عبدہ الکتٰب ولم یجعل لہ عوفا قیما لتنذر بہ باسا شدیدا من لدنہ وبشر المومنین الذی یعمولن الصالحات ان لھم اجرا حسان ماکثین فیہ ابدا وینذر الذین قالوا اتخذا للہ ولدا مالھم بہ میں علم ولا لاباہ م کبرت کلمۃ تخرج من افواہہم ان یقولون الا کذبا۔ الحمد للہ الذی لہ مافی السموات وما فی الارض ولہ الحمد فی الآخرۃ وہو الحکیم الخبیر۔ یعلم مایلج فی الارض وما یخرج من السماء وما یعرج فیہا وہو الرحیم الغفور۔ الحمدللہ فاطر السماوات والارض جاعل الملئکۃ رسلا اولی اجنحۃ مثنی وثلث ارباع یزید فی الخق مایشاء ان اللہ علی کل چیز قدیر۔ مایفتح اللہ للناس من رحمۃ فلا ممسک ہا وما یمسک فلا مرسل لہ من بعد وہو العزیز الحکم۔ الحمدللہ وسلم علی عبادہ الذین اصطفی آللہ خیر اما یشرکون۔ بل اللہ خیر وابقی وا حکم واکرم و اعظم ممایشرکون۔ فالحمدللہ بل اکثرھم لایعلمون۔ صدق اللہ وبلغت رسلہ الکرام وانا علی ذالکم من الشاہدین۔ اللہم صل علی جمیع الملائکۃ والمرسلین وارحم عبادک المومنین مب اہل السماوات والارض واختم لنا بخیر وافتح لنا بخیر وبارک لنا فی القرآن العظیم وانفسنا بالآیت والذکر الحکیم ربنا تقبل منا انک انت السمیع العلیم۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جو رب ہے تمام عالم کا، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے آسمان اور زمین پیدا کئے اور اندھیرا اور اجالا بنایا پھر بھی یہ کافر اپنے رب کے ساتھ دوسروں کو برابر کردیتے ہیں، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جھوٹے ہیں وہ لوگ جو برابر کردیتے ہیں دوسروں کو اللہ کے ساتھ اور گمراہ ہیں وہ لوگ اور بھٹک گئے ہیں وہ صحیح راستہ سے کامل بھٹک جانا، اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور جھوٹے ہیں وہ لوگ جو اہل عرب میں سے ہیں اور آتش پرست، یہود و نصاریٰ اور کو کب پرست وہ دوسروں کو اللہ کا شریک مان رہے ہیں جو شخص ثابت کرتا ہے اللہ کے لئے اولاد کو یا بیوی کو یا ہمسر کو یا مشابہ کو یا مثیل کو اس کے ہمنام کو یا اس کی ذات وصفات میں برابر کو، تو وہ کیا کرے کیونکہ وہ بھی جھوٹا ہے اور آپ تو اے ہمارے پروردگار ! اس سے برتر و بلند ہیں کہ اپنی مخلوق میں سے کسی کو اپنا شریک و ساجھی بنائیں۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے ہمیں بنایا اور نہ بنایا اپنے لئے بیوی کو اور نہ بیٹے کو اور نہیں ہے کوئی اس کا ساجھ سلطنت میں اور نہ کوئی اس کا مددگار ہے ذلت کے وقت پر اور اس کی بڑائی بیان کرو بڑا جان کر اللہ سب سے بڑا بہت بڑا اور بےانتہاء، بیشمار تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور تمام چیزیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں صبح کے وقت بھی اور شام کے وقت بھی اور تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس نے اپنے بندہ محمد پر کتاب اتاری جس میں کوئی کجی نہیں رکھی، بالکل ٹھیک ٹھیک اتاری تاکہ خوف دلائے ایک سخت آفت کا اللہ کی طرف سے اور خوشخبری دے ایمان لانے والوں کو جو نیکیاں کرتے ہیں اس بات کی کہ ان کے لئے اچھا بدلہ جنت ہے جس میں وہ ہمیشہ رہا کریں گے اور ان کو متنبہ کر دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے لئے اولاد بنائی ہے کچھ خبر نہیں ان کو اس بات کی نہ ان کے باپ دادوں کو، کیا بڑی بات ہے جو ان کے منہ سے نکلتی ہے، سب کچھ جھوٹ ہے جس کو وہ کہہ رہے ہیں، تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں جس کی مملوک میں وہ تمام چیزیں ہیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور تمام تعریفیں اس کے لئے ہیں عالم آخرت میں اور وہ بڑی حکمت والا اور ہر بات کی خبر رکھنے والا ہے وہ جانتا ہے ان تمام چیزوں کو جو زمین میں داخل ہوتی ہیں اور اس سے باہر نکلتی ہیں اور جو آسمانوں سے اترتی ہیں اور اسمانوں پر چڑھتی ہیں وہ بڑا رحم کرنے والا اور بہت زیادہ مغفرت کرنے والا ہے، تمام تعریفیں اس اللہ کے لئے ہیں جو پیدا کرنے والا ہے تمام آسمانوں کو اور زمین کو اور بنانے والا ہے فرشتوں کو اپنا پیغام پہچانے والا جو بازوؤں والے ہیں کسی کے دو بازو ہیں کسی کے تین اور کسی کے چار، اپنی مخلوق میں وہ زیادتی کرتا ہے جتنا چاہتا ہے یقینا اللہ تمام چیزوں پر بڑی قدرت رکھنے والا ہے جو کچھ کھول دے، اللہ تعالیٰ لوگوں پر اپنی رحمت میں سے تو کوئی نہیں اس کو روکنے والا اور جو کچھ کہ روک رکھے تو کوئی نہیں اس کو بھیجنے والا اس کے سوا اور وہی ہے زبردست حکمتوں والا۔ تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں اور سلامتی ہو اللہ کی اللہ کے ان بندوں پر جن کو اس نے پسند فرما لیا ہے کیا اللہ سب سے بہتر ہے یا وہ (بت) جن کو وہ (کافر و مشرک) اللہ کا ساجھی ٹھہرا رہے ہیں (یہ بات نہیں ہے) بلکہ اللہ ہی سب سے بہتر اور وہی باقی رہنے والا ہے، وہی مضبوط حکم والا ہے اور وہی عزت والا ہے وہ ان تمام چیزوں سے جن کو یہ کافر شریک ٹھہرا رہے ہیں سب سے عظمت والا ہے، پس تمام تعریفیں اللہ کے لئے ہیں لیکن اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے، اللہ نے سچ فرمایا ہے اور اس کے کریم رسولوں نے اس کا پیغام (صحیح صحیح) پہنچایا ہے اور میں تمام باتوں پر گواہی دینے والوں میں سے ہوں، اے اللہ ! اپنی رحمت نازل فرما، تمام فرشتوں پر، تمام پیغمبروں پر اور رحم فرما اپنے مومن بندوں پر آسمان کے رہنے والوں اور زمین پر بسنے والوں سے، ہمارا خاتمہ کیجئے خیر کے ساتھ اور کھول دیجئے ہمارے لئے خیر کے دروازہ کو اور برکت دیجئے ہمارے لئے قرآن عظیم کے علوم میں اور نفع دیجئے ہم کو آیات قرآنی سے اور اپنے مستحکم ذکر سے، اے ہمارے رب ! ہماری یہ دعا قبول فرما لے یقینا آپ ہماری دعاؤں کو سننے والے اور ہماری باتوں کو جاننے والے ہیں۔
2119
Mishkaat Shareefعن عثمان رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : خيركم من تعلم القرآن وعلمه . رواه البخاري
حضرت عثمان (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جس نے قرآن سیکھا اور سکھایا۔ (بخاری)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن سیکھے جیسا کہ سیکھنے کا حق ہے اور پھر دوسروں کو سکھائے تو وہ سب سے بہتر ہے کیونکہ جس طرح قرآن اور اس کے علوم دنیا کی تمام کتابوں اور علوم سے افضل اور اعلیٰ وارفع ہیں اسی طرح قرآنی علوم کو جاننے والا بھی دنیا کے افراد میں سب سے ممتاز اور کسی بھی علم کے جاننے والے سے افضل اور اعلیٰ ہے۔ سیکھے کا حق، سے مراد یہ ہے کہ قرآنی علوم میں غور و فکر کرے اور اس کے احکام و معنی اور اس کے حقائق و دقائق کو پوری توجہ اور ذہنی و قلبی بیداری کے ساتھ سیکھے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن سیکھے جیسا کہ سیکھنے کا حق ہے اور پھر دوسروں کو سکھائے تو وہ سب سے بہتر ہے کیونکہ جس طرح قرآن اور اس کے علوم دنیا کی تمام کتابوں اور علوم سے افضل اور اعلیٰ وارفع ہیں اسی طرح قرآنی علوم کو جاننے والا بھی دنیا کے افراد میں سب سے ممتاز اور کسی بھی علم کے جاننے والے سے افضل اور اعلیٰ ہے۔ سیکھے کا حق، سے مراد یہ ہے کہ قرآنی علوم میں غور و فکر کرے اور اس کے احکام و معنی اور اس کے حقائق و دقائق کو پوری توجہ اور ذہنی و قلبی بیداری کے ساتھ سیکھے۔
2120
Mishkaat Shareefوعن عقبة بن عامر قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم ونحن في الصفة فقال : أيكم يحب أن يغدو كل يوم إلى بطحان أو إلى العقيق فيأتي منه بناقتين كوماوين في غير إثم ولا قطع رحم فقلنا يا رسول الله نحب ذلك قال : أفلا يغدو أحدكم إلى المسجد فيعلم أو يقرأ آيتين من كتاب الله عز و جل خير له من ناقة أو ناقتين وثلاث خير له من ثلاث وأربع خير له من أربع ومن أعدادهن من الإبل . رواه مسلم
حضرت عقبہ بن عامر (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن رسول کریم ﷺ باہر تشریف لائے۔ تو ہم صفہ پر بیٹھے ہوئے تھے۔ آپ ﷺ نے ہم سے فرمایا کہ تم میں سے کون شخص یہ پسند کرتا ہے کہ وہ ہر روز بطحان یا عقیق کی طرف جائے اور وہاں سے دو اونٹنیاں بڑے کوہان والی بغیر کسی گناہ کے اور بغیر انقطاع صلہ رحمی کے لائے ؟ ہم نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! ہم سب پسند کرتے ہیں۔ آپ ﷺ نے فرمایا تو پھر سن لو کہ تم میں سے جو شخص مسجد میں جاتا ہے اور وہاں کتاب اللہ کی دو آیتیں کسی کو سکھاتا ہے یا خود پڑھتا ہے تو وہ اس کے لئے دو اونٹنیوں سے بہتر ہے تین آیتیں اس کے لئے تین اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چار آیتیں اس کے لئے چار اونٹنیوں سے بہتر ہیں۔ حاصل یہ کہ آیتوں کی تعداد اونٹنیوں کی تعداد سے بہتر ہے (یعنی پانچ آیتیں پانچ اونٹنیوں سے بہتر ہیں اور چھ آیتیں چھ اونٹنیوں سے بہتر ہیں اسی طرح آگے تک قیاس کیا جائے۔ (مسلم)
تشریح
صفہ وہ سایہ دار چبوترہ تھا جو مسجد نبوی کے سامنے بنا ہوا تھا اور وہ مہاجرین صحابہ جن کے نہ گھر بار تھا اور نہ بیوی بچے اور عبادت و زہد کے انتہائی بلند مقام پر تھے وہ اسی چبوترہ پر رہا کرتے اور ہمہ وقت ابرگاہ نبوت سے اکتساب فیض کرتے رہتے تھے گویا وہ اسلام کی سب سے پہلی اق امتی اور تربیتی درگاہ تھی جس کے معلم اول خود سرکار رسالت مآب ﷺ تھے اور طلباء کی جماعت صحابہ (رض) پر مشتمل تھی۔ بطحان مدینہ کے قریب ایک نالہ تھا اسی طرح عقیق بھی ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ کے مضافات میں تقریبا چار میل کے فاصلہ پر ہے ان دونوں جگہوں پر اس زمانہ میں بازار لگا کرتے تھے جس میں اونٹوں کی خریدو فروخت ہوا کرتی تھی اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ اہل عرب کے ہاں اونٹ ایک متاع گرانمایہ کے درجہ کی چیز تھی خصوصا بڑے کوہان کے اونٹ کی قدر و قیمت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے بڑے بلیغ اسلوب میں صحابہ سے مذکورہ سوال کر کے اس چیز کی طرف رغبت دلائی جو باقی رہنے والی ہے اور اس چیز سے نفرت دلائی جو دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی قدر و قیمت کی کیوں نہ ہو لیکن مآل کار فانی اور ختم ہوجانے والی ہے۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ آپ نے اونٹ کا ذکر ان کو سمجھانے کے لئے صرف بطریق تمثیل فرمایا ورنہ تو دنیا کی تمام چیزیں بھی ایک آیت کے مقابلہ پر کوئی حقیقت اور قدر و قیمت نہیں رکھتیں۔
تشریح
صفہ وہ سایہ دار چبوترہ تھا جو مسجد نبوی کے سامنے بنا ہوا تھا اور وہ مہاجرین صحابہ جن کے نہ گھر بار تھا اور نہ بیوی بچے اور عبادت و زہد کے انتہائی بلند مقام پر تھے وہ اسی چبوترہ پر رہا کرتے اور ہمہ وقت ابرگاہ نبوت سے اکتساب فیض کرتے رہتے تھے گویا وہ اسلام کی سب سے پہلی اق امتی اور تربیتی درگاہ تھی جس کے معلم اول خود سرکار رسالت مآب ﷺ تھے اور طلباء کی جماعت صحابہ (رض) پر مشتمل تھی۔ بطحان مدینہ کے قریب ایک نالہ تھا اسی طرح عقیق بھی ایک جگہ کا نام ہے جو مدینہ کے مضافات میں تقریبا چار میل کے فاصلہ پر ہے ان دونوں جگہوں پر اس زمانہ میں بازار لگا کرتے تھے جس میں اونٹوں کی خریدو فروخت ہوا کرتی تھی اور یہ تو معلوم ہی ہے کہ اہل عرب کے ہاں اونٹ ایک متاع گرانمایہ کے درجہ کی چیز تھی خصوصا بڑے کوہان کے اونٹ کی قدر و قیمت کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ تھا چناچہ آنحضرت ﷺ نے بڑے بلیغ اسلوب میں صحابہ سے مذکورہ سوال کر کے اس چیز کی طرف رغبت دلائی جو باقی رہنے والی ہے اور اس چیز سے نفرت دلائی جو دنیاوی اعتبار سے کتنی ہی قدر و قیمت کی کیوں نہ ہو لیکن مآل کار فانی اور ختم ہوجانے والی ہے۔ لیکن یہ بات ملحوظ رہے کہ آپ نے اونٹ کا ذکر ان کو سمجھانے کے لئے صرف بطریق تمثیل فرمایا ورنہ تو دنیا کی تمام چیزیں بھی ایک آیت کے مقابلہ پر کوئی حقیقت اور قدر و قیمت نہیں رکھتیں۔
2121
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيحب أحدكم إذا رجع إلى أهله أن يجد فيه ثلاث خلفات عظام سمان . قلنا : نعم . قال : فثلاث آيات يقرأ بهن أحدكم في صلاته خير له من ثلاث خلفات عظام سمان . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص اس بات کو پسند کرتا ہے کہ وہ جب گھر میں لوٹ جائے تو وہاں تین حاملہ اور فربہ و بڑی اونٹنیاں پائے ؟ ہم نے عرض کیا کہ جی ہاں آپ ﷺ نے فرمایا تم میں سے جو شخص اپنی نماز میں قرآن کی تین آیتیں پڑھتا ہے تو وہ اس کے لئے تین حاملہ اور بڑی موٹی اونٹنیوں سے بہتر ہے۔ (مسلم)
2122
Mishkaat Shareefوعن عائشة رضي الله عنها قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : الماهر بالقرآن مع السفرة الكرام البررة والذي يقرأ القرآن ويتتعتع فيه وهو عليه شاق له أجران
حضرت عائشہ (رض) راویہ ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ماہر قرآن ان فرشتوں کے ساتھ ہے جو لکھنے والے اور بزرگ و نیکوکار ہیں اور وہ شخص کہ جو قرآن کو اٹک اٹک کر پڑھتا ہے اور قرآن پڑھنا اس کے لئے مشکل ہوتا ہے تو اس کے لئے دو ثواب ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ماہر قرآن وہ شخص ہے جس کو قرآن خوب یاد ہو، اٹکے بغیر پوری روانی سے پڑھتا ہو اور اس کے لئے قرآن پڑھنا کوئی مشکل اور دشوار امر نہ ہو۔ اسی طرح فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہیں جو لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ کی کتابیں نقل کرتے ہیں یا وہ فرشتے بھی مراد ہوسکتے ہیں جو بندوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ ماہر قرآن ان عظیم فرشتوں کے ساتھ ہے بایں طور کہ وہ دنیا میں ان ہی جیسا عمل کرتا ہے اور آخرت میں اسے جو منازل اور درجات عالیہ حاصل ہوں گے ان میں وہ فرشتوں کا رفیق ہوگا۔ جس شخص کو قرآن اچھی طرح یاد نہ ہو اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہو تو اسے دو ثواب کی بشارت دی گئی ہے ایک ثواب تو پڑھنے کا اور دوسرا ثواب اس مشقت کا جو اسے قرآن پڑھنے میں ہوتی ہے اس طرح گویا قرآن شریف پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے وہ ماہر قرآن سے زیادہ ثواب پاتا ہے ! کیونکہ ماہر قرآن کو تو بہت زیادہ ثواب ملتا ہے بایں طور کہ ملائکہ مذکورین کی رفاقت جیسی عظیم سعادت کی بشارت دی گئی ہے بہرحال حاصل یہ کہ افضل تو ماہر قرآن ہے لیکن اٹک اٹک کر پڑھنے والے کے لئے بھی باعتبار مشقت ایک طرح کی فضیلت اور ثواب ثابت ہے۔
تشریح
ماہر قرآن وہ شخص ہے جس کو قرآن خوب یاد ہو، اٹکے بغیر پوری روانی سے پڑھتا ہو اور اس کے لئے قرآن پڑھنا کوئی مشکل اور دشوار امر نہ ہو۔ اسی طرح فرشتوں سے وہ فرشتے مراد ہیں جو لوح محفوظ سے اللہ تعالیٰ کی کتابیں نقل کرتے ہیں یا وہ فرشتے بھی مراد ہوسکتے ہیں جو بندوں کے اعمال لکھنے پر مامور ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا حاصل یہ ہے کہ ماہر قرآن ان عظیم فرشتوں کے ساتھ ہے بایں طور کہ وہ دنیا میں ان ہی جیسا عمل کرتا ہے اور آخرت میں اسے جو منازل اور درجات عالیہ حاصل ہوں گے ان میں وہ فرشتوں کا رفیق ہوگا۔ جس شخص کو قرآن اچھی طرح یاد نہ ہو اور اٹک اٹک کر پڑھتا ہو تو اسے دو ثواب کی بشارت دی گئی ہے ایک ثواب تو پڑھنے کا اور دوسرا ثواب اس مشقت کا جو اسے قرآن پڑھنے میں ہوتی ہے اس طرح گویا قرآن شریف پڑھنے کی ترغیب دلائی گئی ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ جو شخص قرآن اٹک اٹک کر پڑھتا ہے وہ ماہر قرآن سے زیادہ ثواب پاتا ہے ! کیونکہ ماہر قرآن کو تو بہت زیادہ ثواب ملتا ہے بایں طور کہ ملائکہ مذکورین کی رفاقت جیسی عظیم سعادت کی بشارت دی گئی ہے بہرحال حاصل یہ کہ افضل تو ماہر قرآن ہے لیکن اٹک اٹک کر پڑھنے والے کے لئے بھی باعتبار مشقت ایک طرح کی فضیلت اور ثواب ثابت ہے۔
2123
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا حسد إلا على اثنين : رجل آتاه الله القرآن فهو يقوم به آناء الليل وآناء النهار ورجل آتاه الله مالا فهو ينفق منه آناء الليل وآناء النهار
حضرت ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا صرف دو اشخاص کے بارے میں حسد جائز ہے ایک تو وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے قرآن کی نعمت عطا فرمائی اور وہ شخص بعض اوقات کے علاوہ دن رات کے اکثر حصہ میں اس قرآن میں مشغول رہتا ہے دوسرا وہ شخص کہ جس کو اللہ تعالیٰ نے مال عطا فرمایا ہو اور وہ اس کو دن و رات کے اکثر حصہ میں خرچ کرتا ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حسد کے معنیٰ ہیں دوسرے سے نعمت کے زوال اور اپنے لئے اس نعمت کے حصول کی تمنا کرنا چناچہ حضرت میرک (رح) فرماتے ہیں کہ حسد کی دو قسمیں ہیں (١) حقیق۔ (٢) مجازی۔ حقیقی کا مطلب تو یہی ہے کہ کسی شخص سے نعمت کے زائل ہوجانے کی خواہش و تمنا کرنا حسد کی یہ قسم احکام قرآنی اور تعلیمات حدیث کے پیش نظر تمام علماء امت کے نزدیک متفقہ طور پر حرام ہے مجازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر اپنے لئے اس کے حصول کی خواہش و تمنا کرنا بغیر اس آرزو کے کہ وہ دوسرے شخص سے زائل ہو مجازی حسد کی قسم غبطہ کہلاتی ہے جسے رشک بھی کہا جاتا ہے۔ حسد مجازی یعنی غبطہ (رشک) اگر دنیاوی امور کے سلسلہ میں ہو تو مباح ہے اور اگر دینی امور کے سلسلہ میں ہو تو پھر وہ مستحب ہوگا۔ مثلا کسی شخص کو مسجد بناتا ہوا دیکھ کر یہ آرزوں و خواہش کرے کہ کاش اگر میرے پاس بھی روپیہ ہو تو میں بھی ایسی مسجد بناؤں۔ یہ رشک پسندیدہ ہے اور اس پر ثواب بھی ملتا ہے۔ بہرکیف یہاں حدیث میں حسد سے مراد غبطہ ہے مگر اس حدیث میں غبطہ کی اجازت صرف انہیں دو چیزوں میں منحصر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی نعمت ان دو نعمتوں سے بڑھ کر نہیں ہے کہ جس کے حاصل ہونے کی خواہش کی جائے چناچہ اسی لئے مظہر فرماتے ہیں کہ کسی کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر ویسی ہی نعمت حاصل ہوجانے کی آرزو و خواہش کرے۔ ہاں اگر وہ نعمت ایسی ہو کہ قرب الٰہی کا ذریعہ بنتی ہو جیسے تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات اور ان کے علاوہ دوسری نیکیاں و بھلائیاں تو ایسی نعمت کے حصول کی خواہش و آرزو پسندیدہ ہوگی۔ قرآن کی نعمت عطا فرمائی، سے مراد یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے اور یاد کرنے کی توفیق عطا فرمائی چناچہ اس کو قرآن اس طرح یاد ہو جیسا کہ ہوناچا ہئے اس طرح قرآن میں مشغول رہنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کرتا ہو، اس کے مفہوم و معنی کو یاد کرتا ہو اس کے علم و احکام میں غور و فکر کرتا ہو، یا پھر یہ کہ اس کے امر و نواہی پر عمل کرتا ہو یا اس کو نماز میں پڑھتا ہو۔
تشریح
حسد کے معنیٰ ہیں دوسرے سے نعمت کے زوال اور اپنے لئے اس نعمت کے حصول کی تمنا کرنا چناچہ حضرت میرک (رح) فرماتے ہیں کہ حسد کی دو قسمیں ہیں (١) حقیق۔ (٢) مجازی۔ حقیقی کا مطلب تو یہی ہے کہ کسی شخص سے نعمت کے زائل ہوجانے کی خواہش و تمنا کرنا حسد کی یہ قسم احکام قرآنی اور تعلیمات حدیث کے پیش نظر تمام علماء امت کے نزدیک متفقہ طور پر حرام ہے مجازی کا مطلب یہ ہے کہ کسی شخص کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر اپنے لئے اس کے حصول کی خواہش و تمنا کرنا بغیر اس آرزو کے کہ وہ دوسرے شخص سے زائل ہو مجازی حسد کی قسم غبطہ کہلاتی ہے جسے رشک بھی کہا جاتا ہے۔ حسد مجازی یعنی غبطہ (رشک) اگر دنیاوی امور کے سلسلہ میں ہو تو مباح ہے اور اگر دینی امور کے سلسلہ میں ہو تو پھر وہ مستحب ہوگا۔ مثلا کسی شخص کو مسجد بناتا ہوا دیکھ کر یہ آرزوں و خواہش کرے کہ کاش اگر میرے پاس بھی روپیہ ہو تو میں بھی ایسی مسجد بناؤں۔ یہ رشک پسندیدہ ہے اور اس پر ثواب بھی ملتا ہے۔ بہرکیف یہاں حدیث میں حسد سے مراد غبطہ ہے مگر اس حدیث میں غبطہ کی اجازت صرف انہیں دو چیزوں میں منحصر کرنا مقصود نہیں ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ کوئی نعمت ان دو نعمتوں سے بڑھ کر نہیں ہے کہ جس کے حاصل ہونے کی خواہش کی جائے چناچہ اسی لئے مظہر فرماتے ہیں کہ کسی کے لئے بھی یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی دوسرے کے پاس کوئی نعمت دیکھ کر ویسی ہی نعمت حاصل ہوجانے کی آرزو و خواہش کرے۔ ہاں اگر وہ نعمت ایسی ہو کہ قرب الٰہی کا ذریعہ بنتی ہو جیسے تلاوت قرآن، صدقہ و خیرات اور ان کے علاوہ دوسری نیکیاں و بھلائیاں تو ایسی نعمت کے حصول کی خواہش و آرزو پسندیدہ ہوگی۔ قرآن کی نعمت عطا فرمائی، سے مراد یہ ہے کہ اس کو اللہ تعالیٰ نے قرآن پڑھنے اور یاد کرنے کی توفیق عطا فرمائی چناچہ اس کو قرآن اس طرح یاد ہو جیسا کہ ہوناچا ہئے اس طرح قرآن میں مشغول رہنے سے مراد یہ ہے کہ قرآن کی تلاوت کرتا ہو، اس کے مفہوم و معنی کو یاد کرتا ہو اس کے علم و احکام میں غور و فکر کرتا ہو، یا پھر یہ کہ اس کے امر و نواہی پر عمل کرتا ہو یا اس کو نماز میں پڑھتا ہو۔
2124
Mishkaat Shareefوعن أبي موسى الأشعري قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : مثل المؤمن الذي يقرأ القرآن كمثل الأترجة ريحها طيب وطعمها طيب ومثل المؤمن الذي لا يقرأ القرآن كمثل التمرة لا ريح لها وطعمها حلوومثل المنافق الذي لا يقرأ القرآن كمثل الحنظلة ليس لها ريح وطعمها مر ومثل المنافق الذي يقرأ القرآن مثل الريحانة ريحها طيب وطعمها مر . متفق عليه . وفي رواية : المؤمن الذي يقرأ القرآن ويعمل به كالأترجة والمؤمن الذي لا يقرأ القرآن ويعمل به كالتمرة
حضرت ابوموسی (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا وہ مسلمان جو قرآن کریم پڑھتا ہے اس کی مثال سنگترے کی سی ہے کہ اس کی خوشبو بھی بہت لطیف اور اس کا مزہ بھی بہت اچھا اور وہ مسلمان جو قرآن کریم نہیں پڑھتا اس کی مثال کھجور کی سی ہے کہ اس میں خوشبو نہیں ہوتی اور اس کا مزہ شیریں ہوتا ہے اور وہ منافق جو قرآن نہیں پڑھتا اس کی مثال اندرائن کے پھول کی سی ہے جس میں نہ خوشبو ہے اور اس کا مزہ نہایت نلخ ہے۔ (بخاری ومسلم) ایک دوسری روایت میں یوں ہے کہ وہ مسلمان جو قرآن کریم پڑھتا بھی ہے اور اس پر عمل بھی کرتا ہے تو اس کی مثال سنگترے کی سی ہے اور مسلمان جو قرآن پڑھتا تو نہیں مگر اس پر عمل کرتا ہے اس کی مثال کھجور کی سی ہے۔
تشریح
قرآن کریم پڑھنے والا مسلمان سنگترے کی مانند یوں ہوا کہ وہ خوش مزہ اور لطیف تو اس وجہ سے ہے کہ اس میں ایمان کی چاشنی جاگزیں ہوتی ہے اور خوشبو صفت اس لئے ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ لوگ اس کی قرأت و تلاوت سن کر ثواب پاتے ہیں بلکہ اس سے قرآن سیکھتے بھی ہیں۔
تشریح
قرآن کریم پڑھنے والا مسلمان سنگترے کی مانند یوں ہوا کہ وہ خوش مزہ اور لطیف تو اس وجہ سے ہے کہ اس میں ایمان کی چاشنی جاگزیں ہوتی ہے اور خوشبو صفت اس لئے ہوتا ہے کہ نہ صرف یہ کہ لوگ اس کی قرأت و تلاوت سن کر ثواب پاتے ہیں بلکہ اس سے قرآن سیکھتے بھی ہیں۔
2125
Mishkaat Shareefوعن عمر بن الخطاب قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن الله يرفع بهذا الكتاب أقواما ويضع به آخرين . رواه مسلم
حضرت عمر بن حطاب (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا یقیناً اللہ تعالیٰ اس کتاب یعنی کلام اللہ کے ذریعہ کتنے لوگوں کو بلند کرتا ہے اور اس کے ذریعہ کتنے لوگوں کو پست کرتا ہے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا درجہ بلند کرتا ہے بایں طور کہ دنیا میں تو اسے عزت و وقار کی زندگی عطا فرماتا ہے اور عقبی میں ان لوگوں کے ساتھ رکھتا ہے جن پر اس نے اپنا انعام کیا ہے اس طرح جو شخص نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے اس کا درجہ پست کردیتا ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص قرآن پڑھتا ہے اور اس پر عمل کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس کا درجہ بلند کرتا ہے بایں طور کہ دنیا میں تو اسے عزت و وقار کی زندگی عطا فرماتا ہے اور عقبی میں ان لوگوں کے ساتھ رکھتا ہے جن پر اس نے اپنا انعام کیا ہے اس طرح جو شخص نہ قرآن پڑھتا ہے اور نہ اس پر عمل کرتا ہے اس کا درجہ پست کردیتا ہے۔
2126
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد الخدري أن أسيد بن حضير قال : بينما هو يقرأ من الليل سورة البقرة وفرسه مربوطة عنده إذ جالت الفرس فسكت فسكتت فقرأ فجالت الفرس فسكت فسكتت الفرس ثم قرأ فجالت الفرس فانصرف وكان ابنه يحيى قريبا منها فأشفق أن تصيبه فلما آخره رفع رأسه إلى السماء فإذا مثل الظلة فيها أمثال المصابيح فلما أصبح حدث النبي صلى الله عليه و سلم فقال : اقرأ يا ابن حضير اقرأ يا ابن حضير . قال فأشفقت يا رسول الله أن تطأ يحيى وكان منها قريبا فرفعت رأسي فانصرفت إليه ورفعت رأسي إلى السماء فإذا مثل الظلة فيها أمثال المصابيح فخرجت حتى لا أراها قال : وتدري ما ذاك ؟ قال لا قال : تلك الملائكة دنت لصوتك ولو قرأت لأصبحت ينظر الناس إليها لا تتوارى منهم . متفق عليه . واللفظ للبخاري وفي مسلم : عرجت في الجو بدل : خرجت على صيغة المتكلم
حضرت ابوسعید خدری (رض) حضرت اسید بن حضیر (رض) کے بارے میں روایت کرتے تھے کہ ایک دن جب کہ وہ (یعنی اسید) رات میں سورت بقرہ پڑھ رہے تھے ان کا گھوڑا جو ان کے قریب ہی بندھا تھا اچانک اچھلنے کودنے لگا چناچہ انہوں نے پڑھنا بند کردیا (تاکہ دیکھیں کیوں اچھل کود رہا ہے) گھوڑنے بھی اچھل کود بند کردی۔ (اسید نے یہ سوچ کر کہ یونہی اچھل کود رہا ہوگا) پھر پڑھنا شروع کردیا گھوڑا بھی پھر اچھلنے کودنے لگا وہ پھر رک گئے تو گھوڑا بھی رک گیا، پھر جب انہوں نے پڑھنا شروع کیا تو گھوڑے نے اچھل کود شروع کی (اب انہیں احساس ہوا کہ گھوڑے کی اچھل کود یوں ہی نہیں ہے بلکہ اس کی خاص وجہ ہے) چناچہ انہوں نے پڑھنا موقوف کردیا (اتفاق سے) ان کا بچہ جس کا نام یحییٰ تھا گھوڑے کے قریب ہی تھا انہیں خوف ہوا کہ کہیں گھوڑا (اس اچھل کود میں) اس بچہ کو کوئی تکلیف نہ پہنچا دے اس لئے وہ اٹھ کر گھوڑے کے پاس گئے تاکہ بچہ کو وہاں سے ہٹا دیں جب انہوں نے بچہ کو وہاں سے ہٹایا اور ان کی نظر آسمان کی طرف اٹھی تو اچانک کیا دیکھتے ہیں کہ بادل کی مانند کوئی چیز ہے جس میں چراغ سے جل رہے ہیں۔ جب صبح ہوئی تو اسید نے یہ واقعہ نبی کریم ﷺ کے سامنے بیان کیا آپ ﷺ نے فرمایا کہ ابن حضیر تم پڑھتے رہتے۔ اسید نے عرض کیا یا رسول اللہ ! میں اس بات سے ڈرا کہ کہیں گھوڑا یحییٰ کو کچل نہ ڈالے کیونکہ یحییٰ گھوڑے کے قریب ہی تھا چناچہ جب میں یحییٰ کی طرف پھرا اور اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا تو کیا دیکھتا ہوں کہ کوئی چیز بادل کی مانند ہے جس میں چراغ سے جل رہے ہیں پھر میں تحقیق حال کے لئے اپنے گھر سے باہر نکلا مگر وہ چراغاں مجھے پھر نظر نہیں آیا۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جانتے ہو وہ کیا تھا ؟ انہوں نے کہا کہ نہیں ! فرمایا وہ فرشتے تھے جو تمہاری قرأت کی آواز سننے کے لئے قریب آگئے تھے اگر تم اسی طرح پڑھتے رہتے تو اسی طرح صبح ہوجاتی اور لوگ فرشتوں کو دیکھتے اور وہ فرشتے لوگوں کی نگاہوں سے اوجھل نہ ہوتے۔ اس روایت کو بخاری و مسلم نے نقل کیا ہے مگر الفاظ بخاری کے ہیں۔ مسلم کی روایت میں فخرجت کے بجائے عرجت فی الجو (یعنی وہ چیز جو زمین و آسمان کے درمیان ہوا میں چڑھ گئی) کے الفاظ ہیں۔
تشریح
گھوڑے کی اچھل کود کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت اسید قرآن کریم پڑھ رہے تھے تو قرأت سننے کے لئے فرشتے نیچے آئے تھے اور ان کو دیکھ کر گھوڑا بدکتا اور اچھلتا کودتا تھا اسی وجہ سے جب حضرت اسید تلاوت بند کردیتے تھے اور فرشتے اوپر چلے جاتے تھے تو گھوڑا بھی اچھل کود سے رک جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی اقرأ یا ابن حضیر (ابن حضیر تم پڑھتے رہتے) میں لفظ اقرأ کے معنی ابن حجر نے یہ لکھے ہیں کہ اس سورت کو ہمیشہ پڑھتے رہو جو ایسی عجیب و غریب حالت کے پیش آنے کا سبب ہے اگر آئندہ بھی کبھی اس سورت کو پڑھنے کے دوران ایسی صورت پیش آئے تو چھوڑنا مت بلکہ پڑھتے رہنا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس لفط کا مقصد زمانہ ماضی میں طلب زیادتی ہے یعنی آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مقصد گویا یہ تھا کہ تم نے اس وقت پڑھنا کیوں چھوڑ دیا بلکہ پڑھنے میں اور زیادتی کیوں نہ کی تمہیں چاہئے تھا کہ تم اس صورت میں زیادہ سے زیادہ پڑھتے رہتے ! آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے جواب میں حضرت اسید (رض) نے جو کچھ کہا (یعنی یا رسول اللہ میں اس بات سے ڈرا الخ) اس سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے چناچہ یہاں ترجمہ علامہ طیبی کی وضاحت کے تحت ہی کیا گیا ہے۔ بادل کی مانند کوئی چیز ہے، وجہ تشبیہ ہے کہ ملائکہ قرآن سننے کے لئے اتنا اژدحام کرتے ہیں کہ کوئی اگر انہیں دیکھے تو ایسا محسوس ہو کہ پردہ کی مانند کوئی چیز ہے جو دیکھنے والے اور آسمان کے درمیان حائل ہوگئی ہے حضرت اسید (رض) نے اسی چیز کو باد سے تعبیر کیا اور اس میں جو چراغ سے جل رہے تھے وہ دراصل ان فرشتوں کے منہ تھے جو چراغ کی مانند روشن ومنور تھے۔
تشریح
گھوڑے کی اچھل کود کی وجہ یہ تھی کہ جب حضرت اسید قرآن کریم پڑھ رہے تھے تو قرأت سننے کے لئے فرشتے نیچے آئے تھے اور ان کو دیکھ کر گھوڑا بدکتا اور اچھلتا کودتا تھا اسی وجہ سے جب حضرت اسید تلاوت بند کردیتے تھے اور فرشتے اوپر چلے جاتے تھے تو گھوڑا بھی اچھل کود سے رک جاتا تھا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی اقرأ یا ابن حضیر (ابن حضیر تم پڑھتے رہتے) میں لفظ اقرأ کے معنی ابن حجر نے یہ لکھے ہیں کہ اس سورت کو ہمیشہ پڑھتے رہو جو ایسی عجیب و غریب حالت کے پیش آنے کا سبب ہے اگر آئندہ بھی کبھی اس سورت کو پڑھنے کے دوران ایسی صورت پیش آئے تو چھوڑنا مت بلکہ پڑھتے رہنا۔ علامہ طیبی فرماتے ہیں کہ اس لفط کا مقصد زمانہ ماضی میں طلب زیادتی ہے یعنی آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی کا مقصد گویا یہ تھا کہ تم نے اس وقت پڑھنا کیوں چھوڑ دیا بلکہ پڑھنے میں اور زیادتی کیوں نہ کی تمہیں چاہئے تھا کہ تم اس صورت میں زیادہ سے زیادہ پڑھتے رہتے ! آنحضرت ﷺ کے اس ارشاد کے جواب میں حضرت اسید (رض) نے جو کچھ کہا (یعنی یا رسول اللہ میں اس بات سے ڈرا الخ) اس سے بھی یہی مفہوم واضح ہوتا ہے چناچہ یہاں ترجمہ علامہ طیبی کی وضاحت کے تحت ہی کیا گیا ہے۔ بادل کی مانند کوئی چیز ہے، وجہ تشبیہ ہے کہ ملائکہ قرآن سننے کے لئے اتنا اژدحام کرتے ہیں کہ کوئی اگر انہیں دیکھے تو ایسا محسوس ہو کہ پردہ کی مانند کوئی چیز ہے جو دیکھنے والے اور آسمان کے درمیان حائل ہوگئی ہے حضرت اسید (رض) نے اسی چیز کو باد سے تعبیر کیا اور اس میں جو چراغ سے جل رہے تھے وہ دراصل ان فرشتوں کے منہ تھے جو چراغ کی مانند روشن ومنور تھے۔