hadith book logo

Mishkaat Shareef

138. کھانوں کے ابواب

مشكاة المصابيح

4067
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يأكلن أحدكم بشماله ولا يشربن بها فإن الشيطان يأكل بشماله ويشرب بها . رواه مسلم
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ، تم میں سے کوئی شخص بائیں ہاتھ سے کھانا نہ کھائے اور نہ بائیں ہاتھ سے ( کوئی چیز) پئے کیوں کہ (یہ شیوہ شیطان کا ہے کہ وہ) اپنے بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ (مسلم )

تشریح
تورپشتی نے۔ بائیں ہاتھ سے کھاتا اور بائیں ہاتھ سے پیتا ہے۔ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ جو لوگ شیطان کے زیر اثر اور اس کے تابعدار ہوتے ہیں، وہ ان کو بائیں ہاتھ سے کھانے پینے پر ابھارتا ہے جب کہ طیبی نے کہا ہے کہ یہ حدیث اپنے ظاہری معنی پر محمول ہے یعنی حقیقت میں شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا پیتا ہے حسن بن سفیان نے اپنی مسند میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے بسند یہ روایت نقل کی ہے کہ جب تم میں سے کوئی شخص کھانا کھائے تو اس کو چاہئے کہ دائیں ہاتھ سے کھائے اور دائیں ہاتھ سے پئے (اگر کسی کو کوئی چیز دے یا کسی سے کوئی چیز لے تو) دائیں ہاتھ سے لے اور دائیں ہاتھ سے دے کیوں کہ شیطان بائیں ہاتھ سے کھاتا ہے۔ بائیں سے پیتا ہے اور بائیں ہاتھ سے لیتا دیتا ہے۔
4068
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن كعب بن مالك قال : كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يأكل بثلاثة أصابع ويلعق يده قبل أن يمسحها . رواه مسلم
اور حضرت کعب (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ تین انگلیوں سے ( یعنی انگوٹھے شہادت کی انگلی اور بیچ کی انگلی کے ساتھ) کھانا کھایا کرتے اور ( کھانے سے فراغت کے بعد) اپنا ہاتھ ( کسی رومال وغیرہ سے) پونچھنے ( یا دھو نے) سے پہلے چاٹ لیا کرتے تھے (مسلم )

تشریح
نووی کہتے ہیں کہ انگلیوں سے کھانا سنت ہے لہذا ان تینوں کے ساتھ چوتھی اور پانچویں انگلی نہ ملائی جائے الاّ یہ کہ چوتھی اور پانچویں انگلی کو ملانا ضروی ہو۔ ہاتھ کو چاٹنے سے مراد یہ ہے کہ جن انگلیوں سے کھاتے تھے ان کو چاٹ لیا کرتے تھے چناچہ پہلے بیچ کی انگلی کو چاٹتے پھر اس کے پاس کی انگلی کو پھر انگوٹھے کو چاٹتے تھے۔ طبرانی نے عامر بن ربیعہ سے اس طرح نقل کیا ہے کہ أنحضرت ﷺ تین انگلیوں سے کھاتے تھے اور ان کی مدد کے لئے چوتھی انگلی بھی ملا لیا کرتے تھے ! نیز ایک حدیث مرسل میں یوں بیان کیا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ پانچ انگلیوں سے کھاتے تھے۔ یا تو یہ پتلی چیز کھانے پر محمول ہے یہ کہ آپ ﷺ بیان جواز کی خاطر کبھی کبھی اس طرح بھی کھاتے تھے، لیکن اکثر اوقات تین ہی انگلیوں سے کھانے کی عادت تھی۔ بعض روایت میں یمسحہا کے بعد بشئی کا لفظ بھی منقول ہے اور یہ الفاظ بھی نقل کئے گئے ہیں کہ ثم یغسلہا یعنی (ہاتھ کو چاٹتے اور) پھر اس کو دھو لیتے۔
4069
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر : أن النبي صلى الله عليه وسلم أمر بلعق الأصابع والصفحة وقال : إنكم لا تدرون : في أية البركة ؟ . رواه مسلم
اور حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے انگلیوں اور رکابی کو چاٹنے کا حکم دیا اور فرمایا کہ تم نہیں جانتے کہ کس انگلی یا نوالے میں برکت ہے۔ (مسلم)

تشریح
والصحفحۃ میں حرف واو مطلق جمع کے لئے ہے لہٰذا پہلے رکابی وبرتن وغیرہ کو صاف کیا جائے اور پھر انگلی کو چاٹا جائے۔ لفظ ایۃ تاء تانیث کے ساتھ منقول ہے اس لئے ترجمہ انگلی یا نوالہ کیا گیا ہے۔ لیکن بعض نسخوں میں یہ لفظ ہ ( یعنی مذکر) ضمیر کے ساتھ ہے۔ اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ( تم نہیں جانتے کہ) کس کھانے میں برکت ہے ( آیا اس کھانے میں جو کھاچکے ہو یا اس کھانے میں جو چاٹو گے) اس کی تائید آگے آنے والی حدیث کے ان الفاظ سے بھی ہوتی ہے۔ کہ فانہ لایدری فی ای طعام تکون البرکتہ اس سے معلوم ہوا کہ اصل میں سنت انگلیوں کو چاٹنا ہے اور اس چیز کو صاف کرنا ہے جو انگلیوں کو لگی ہے نہ کہ محض انگلیوں کو بمبالغہ منہ میں داخل کرنا۔
4070
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه وسلم قال : إذا أكل أحدكم فلا يمسح يده حتى يلعقها أو يلعقها
اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جب تم سے کوئی شخص کھانا کھاچکے تو وہ ہاتھ کو اس وقت تک (کسی چیز سے) نہ پونچھے (اور نہ دھوئے) جب تک کہ ہاتھ کی انگلیوں کو چاٹ نہ لے یا چٹوا نہ دے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
چٹوا نہ دے کا مطلب یہ ہے کہ اگر انگلیوں کو خود نہ چاٹے تو ان لوگوں میں کسی کو چٹوا دے جو اس سے گھن اور کراہت محسوس نہ کریں جیسے بیوی، بچے، لونڈی اور خادم و غلام وغیرہ کیونکہ ان کو اپنے طبعی تعلق و محبت کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ اس سے کوئی گھن اور کراہت محسوس نہیں ہوتی، بلکہ ایک خاص قسم کی لذت محسوسس کرتے ہیں، انہیں کے حکم میں شاگرد اور وہ لوگ بھی شامل ہیں جو اس کو حصول سعادت سمجھتے ہوں۔
4071
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : النبي صلى الله عليه وسلم يقول : إن الشيطان يحضر أحدكم عند كل شيء من شأنه حتى يحضره عند طعامه فإذا سقطت من أحدكم لقمة فليمط ما كان بها من أذى ثم ليأكلها ولا يدعها للشيطان فإذا فرع فليلعق أصاب فانه لا يدري : في أي طعامه يكون البركة ؟ . رواه مسلم
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا کہ شیطان تمہارے ہر کام کے وقت تمہارے پاس موجود ہوتا ہے۔ یہاں تک کہ تمہارے کھانے کے وقت بھی تمہارے پاس موجود رہتا ہے، لہٰذا تم میں سے جب کسی شخص کا کوئی نوالہ گرجائے تو چاہئے کہ ( اس کو اٹھا لے اور از قسم مٹی وغیرہ) جو چیز اس کو لگ گئی ہو اس کو صاف کر کے کھالے، اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے، نیز جب کھانا کھاچکے تو چاہئے کہ اپنی انگلیاں چاٹ لیں کیونکہ اس کو یہ نہیں معلوم کہ اس کے کون سے کھانے میں (یعنی کھانے کے کس حصہ میں) برکت ہے۔ (مسلم)

تشریح
اس کو صاف کر کے کھالے لیکن اگر وہ لقمہ کسی نجاست و گندگی پر گرا ہو تو اس کو دھو کر کھائے، بشرطیکہ اس کو دھونا ممکن ہو، یا طبیعت اس پر آمادہ ہو اور اگر یہ ممکن نہ ہو، تو پھر اس کو کتے یا بلی وغیرہ کو کھلا دے۔ اس کو شیطان کے لئے نہ چھوڑے یہ یا تو حقیقت پر محمول ہے کہ وہ واقعۃ کھاتا ہے، یا یہ کنایہ ہے اس لقمہ کو ضائع کرنے اور اس کو حقیر جاننے سے، نیز اس میں اس طرف اشارہ ہے کہ ایسا کرنا (یعنی اس گرئے ہوئے لقمہ کو حقیر و کمتر جان کر نہ اٹھانا) دراصل متکبر لوگوں کی مشابہت اور ان کی عادت کو اختیار کرنا کیونکہ وہ (متکبر لوگ) گرے ہوئے لقمہ کو اٹھا کر کھانا عار سمجھتے ہیں اور یہ ساری چیزیں (یعنی اس لقمہ کو ضائع کرنا اور اس کو حقیر جاننا اور اس متکبر لوگوں کی عادت اختیار کرنا) شیطانی افعال میں سے ہیں۔ نیز جب کھانا کھاچکے تو الخ یہ اگرچہ ایک علیحدہ حکم ہے۔ مگر حقیقت میں پہلے حکم سے حاصل ہونے والے مفہوم تکبر کو ترک کرنے اور تواضع و انکساری کو اختیار کرنے کو مؤ کد کرنے کے لئے ہے کہ کھانا کھا چکنے کے بعد ہاتھ کو دھونے سے پہلے انگلیوں کو چاٹ لیا جائے تاکہ اللہ کے رزق کے تئیں اپنے کامل احتیاج اور تواضع و انکساری کا اظہار ہو اور تکبر و نخوت کا کوئی شائبہ نہ پایا جائے۔
4072
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي جحيفة قال : قال رسول الله صلى الله عليه وسلم : لا آكل متكئا . رواه البخاري
اور حضرت ابوجحیفہ (رض) کہتے ہیں نبی کریم ﷺ نے فرمایا میں ٹیک لگا کر کھانا نہیں کھاتا۔ (بخاری)

تشریح
سفر السعادت کے مصنف نے لکھا ہے کہ کھانا کھاتے وقت ٹیک لگانے کی تین صورتیں ہیں، ایک تو یہ کہ پہلو زمین پر رکھا جائے، دوسرے یہ کہ چار زانو بیٹھا جائے اور تیسرا یہ کہ ایک ہاتھ ٹیک کر بیٹھا جائے اور دوسرے ہاتھ سے کھانا کھایا جائے، یہ تینوں صورتیں مذموم ہیں اور بعض حضرات نے چوتھی صورت یہ بیان کی ہے کہ تکیہ یا دیوار اور اسی طرح کی کسی اور چیز سے ٹیک لگا کر بیٹھا جائے ! مسنون یہ ہے کہ کھاتے وقت کھانے کی طرف جھک کر اور متوجہ ہو کر بیٹھا جائے اور اکثر حضرات نے ٹیک لگانے کی وضاحت یہ کی ہے کہ دونوں پہلوؤں میں سے کسی ایک پہلو کی طرف جھک کر اور اس پر سہارا لے کر بیٹھا جائے۔ کھاتے وقت بیٹھنے کی یہ صورت اس لئے غیر مسنون ہے کہ ایسی حالت میں کھانا ضرر پہنچاتا ہے بایں طور کہ وہ بدن میں اپنی جگہ پر ٹھیک طرح سے نہیں پہنچتا، جو طبیعت پر گراں ہو کر سؤ ہضم کی شکایت پیدا کرتا ہے۔ سیوطی نے کتاب عمل الیوم واللیلۃ میں لکھا ہے کہ ٹیک لگا کر، منہ کے بل پڑ کر اور کھڑے ہو کر کھانا نہ کھایا جائے۔ بلکہ اس طرح بیٹھ کر کھائے کہ یا تو دو زانو ہو یا بصورت اقعاء ہو یعنی دونوں کو ل ہے ٹیک لے اور دونوں زانو کھڑے کرلے یا دونوں پاؤں پر بیٹھے اکڑوں اور یا داہنا زانو کھڑا کرلے اور بائیں زانو پر بیٹھ جائے۔
4073
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن قتادة عن أنس قال : ما أكل النبي صلى الله عليه وسلم على خوان ولا في سكرجة ولا خبز له مرقق قيل لقتادة : على م يأكلون ؟ قال : على السفر . رواه البخاري
اور حضرت قتادہ (رض) عنہ، حضرت انس (رض) سے روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی خوان پر کھانا نہیں کھایا اور نہ طشتری میں کھایا اور نہ آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی ! حضرت قتادہ (رض) سے پوچھا گیا کہ وہ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے ؟ انہوں نے کہا کہ دسترخوان پر۔ (بخاری)

تشریح
خوان یا خوان کے معنی دسترخوان کے ہیں، لیکن خوان سے مراد چوکی یا میز ہے جس پر کھانا رکھ کر کھایا جائے تاکہ کھانے میں جھکنا نہ پڑے چناچہ یہ مال دار عیش پسند متکبر اور غیر اسلامی تہذیب کے حامل لوگوں کا شیوہ ہے کہ وہ میز پر یا چوکی پر کھانا رکھ کر کھاتے ہیں اسی لئے أنحضرت ﷺ نے کبھی بھی اس طریقہ سے کھانا پسند نہیں فرمایا۔ سکرجۃ یا جیسا کہ بعض حضرات نے سکرجۃ کو زیادہ فصیح کہا ہے کے معنی چھوٹی پیالی یا طشتری کے ہیں جس میں دستر خوان پر چٹنی اچار اور جوارش و مربہ وغیرہ رکھا جاتا ہے اس غرض سے کہ کھانے کے ساتھ اس کو کھاتے جائیں تاکہ بھوک بڑھے کھانے کی طرف رغبت زیادہ ہو اور جو کچھ کھایا جائے ہضم ہو، چناچہ اس حدیث میں بتایا گیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے دسترخوان پر کوئی طشتری یا پیالی نہیں ہوتی تھی جیسا کہ عام طور پر مال دار، عیش پسند اور متکبر لوگوں کے دسترخوان پر ایسی تشتریاں رکھنے کا رواج ہے۔ اور نہ آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی۔ کا مطلب یہ ہے کہ نہ تو کبھی خاص طور پر آپ ﷺ کے لئے چپاتی پکائی گئی اور نہ کبھی آپ ﷺ نے چپاتی کھائی، خواہ آپ ﷺ کے لئے پکائی گئی ہو یا دوسروں کے لئے پکائی گئی ہو، جیسا کہ دوسری حدیث میں بیان کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے کبھی بھی چپاتی نہیں کھائی ! حضرت شیخ عبد الحق نے کتاب میں اس موقع پر جو قول نقل کیا ہے اس سے بظاہر یہ معلوم ہوتا ہے کہ خاص طور پر آنحضرت ﷺ کے لئے چپاتی نہیں پکائی جاتی تھی لیکن کوئی شخص اپنے چپاتی پکاتا یا پکواتا اور پھر وہ چپاتی آپ ﷺ کے سامنے لاتا تو آپ ﷺ تناول فرما لیتے تھے۔ اس کو کھانے میں سے انکار نہیں فرماتے تھے ! مگر یہ آگے آنے والی حدیث کے منافی ہے، جو حضرت انس (رض) نے بیان کی ہے۔ حدیث میں چپاتی کے علاوہ دو چیزوں کی نفی کے بیان کی گئی ہے، ایک تو خوان پر کھانے کی اور دوسری طشتری میں کھانے کی، ان دونوں میں سے طشتری میں کھانے کی نفی کے بیان کے وقت کسی سوال کا کوئی موقع نہ تھا کیوں کہ اس کی نفی مطلق ہے جب کہ خوان پر کھانے کی نفی کے بیان کے وقت سوال کا موقع تھا کہ پھر کھانا کس چیز پر رکھ کر کھاتے تھے آیا خوان کے علاوہ کوئی اور چیز تھی جس پر کھانا رکھا جاتا تھا یا کوئی بھی چیز نہیں ہوتی تھی، چناچہ یہ سوال کیا گیا اور حضرت قتادہ (رض) نے جواب دیا کہ دسترخوان پر۔ چناچہ مسنون طریقہ یہی ہے کہ کھانے والا جہاں بھی بیٹھے وہاں دسترخوان بچھا کر اس پر کھانا رکھ کر کھائے۔ وہ کس چیز پر کھانا کھاتے تھے سے سائل کی مراد صحابہ کے بارے میں معلوم کرنا تھا کیونکہ صحابہ اصل میں آنحضرت ﷺ کی سنت ہی کے پیرو اور آپ ﷺ کے طریقہ پر عامل تھے اس لئے صحابہ کے بارے میں سوال کرنا حقیقت میں آنحضرت ﷺ کے بارے میں سوال کرنا تھا، یا یہ بھی صحیح ہے کہ یاکلون کی ضمیر آنحضرت ﷺ اور صحابہ دونوں کی طرف راجع کی جائے۔ روایت کے آخری جز سے ثابت ہوا کہ دسترخوان پر کھانا رکھ کر کھانا سنت ہے اور خالص اسلامی تہذیب ہے، جب کہ خوان (یعنی میز یا چوکی وغیرہ پر) رکھ کر کھانا بدعت اور تکلفات محض میں سے ہے، ہاں اگر میز و چوکی پر کھانے کی صورت میں کسی تکبر و نخوت کی نیت کار فرما نہ ہو، تو پھر مجبوری کے تحت میز و چوکی پر کھانا رکھ کر کھانا بھی جائز ہوگا۔
4074
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال : ما أعلم النبي صلى الله عليه وسلم رأى رغيفا مرققا حتى لحق بالله ولا رأى شاة سميطا بعينه قط . رواه البخاري
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ میں نہیں جانتا کہ نبی کریم ﷺ نے کبھی پتلی روٹی یعنی چپاتی دیکھی ہو، یہاں تک کہ آپ ﷺ نے اللہ سے ملاقات کی (یعنی آپ ﷺ اپنی پوری زندگی میں کبھی چپاتی کی صورت بھی نہیں دیکھی چہ جائیکہ کبھی چپاتی کھائی ہو) اسی طرح آپ ﷺ نے دم پخت بکری بھی کبھی اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھی۔ (بخاری)

تشریح
سمیط اس بکری یا بکری کے بچے کو کہتے ہیں جس کو بال صاف کرنے کے بعد چمڑے سمیت پانی کی بھاپ کے ذریعہ بھونا یا پکایا گیا ہو۔ یہ اس زمانہ میں اہل چین کا خاص کھانا تھا جو اپنے دور میں انتہائی متمول و متمدن اور عیش پرست تھے، اسی لئے خاص طور پر اس کا ذکر یہاں کیا گیا ہے لفظ بعینہ محض تاکید کے طور پر استعمال ہوا ہے۔ جیسا کہ کہا جاتا ہے کتب بیدہ ( اس نے اپنے ہاتھ سے لکھا) یا مشی برجلہ (وہ اپنے پیروں کے ذریعہ چلا )
4075
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن سهل بن سعد قال : ما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم النقي من حين ابتعثه الله حتى قبضه الله وقال : ما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم منخلا من حين ابتعثه الله حتى قبضه قيل : كيف كنتم تأكلون الشعير غير منخول ؟ قال : كنا نطحنه وننفخه فيطير ما طار وما بقي ثريناه فأكلناه . رواه البخاري
اور حضرت سہل بن سعد (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جب رسول بنایا آپ ﷺ نے اس وقت سے کبھی میدہ کو نہیں دیکھا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کی روح قبض کی، نیز حضرت سہل (رض) نے کہا کہ رسول کریم ﷺ کو اللہ تعالیٰ نے جب سے رسول بنایا آپ ﷺ نے اس وقت سے کبھی چھلنی کو نہیں دیکھا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی روح قبض کی (یعنی آنحضرت ﷺ مرتبہ رسالت پر فائز ہونے کے وقت اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک میدہ کی تیار کی ہوئی کوئی چیز یا چھلنی کے چھنے ہوئے آٹے کی روٹی کیا کھاتے کہ کبھی آپ ﷺ نے ان چیزوں کی صورت بھی نہیں دیکھی) حضرت سہیل سے پوچھا گیا پھر آپ لوگ جو (کے بغیر چھنے آٹے کی روٹی) کس طرح کھاتے تھے ؟ حضرت سہیل (رض) نے کہا کہ ہم جو کو پیسنے کے بعد اس میں پھونک مارتے، چناچہ اس میں سے جو چیز اڑنے والی ہوتی (یعنی بھوسی) وہ اڑ جاتی اور جو چیز باقی رہتی (یعنی آٹا) اس کو ہم پانی میں گوندھ لیتے، (اور پھر اس کی روٹی پکا کر) کھالیتے۔ ( بخاری)

تشریح
اللہ تعالیٰ نے جب سے رسول بنایا آپ ﷺ اس وقت سے۔۔۔۔۔ الخ۔ عسقلانی کہتے ہیں کہ میرا گمان ہے کہ حضرت سہل (رض) نے ان الفاظ کے ذریعہ اس زمانہ کو ذکر کرنے سے احتراز کیا ہے، جو مرتبہ رسالت پر فائز ہونے سے پہلے گزرا تھا اور اس احتراز کا سبب یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے جو دو مرتبہ ملک شام کا تجارتی سفر اختیار فرمایا تھا وہ بعثت رسالت کے قبل کے زمانہ ہی کا واقعہ ہے اور اس سفر کے دوران بحیرہ راہب نے آپ ﷺ کی میزبانی کا شرف حاصل کیا اور آپ ﷺ نے اس کے یہاں دعوت کھائی اور چونکہ وہاں کے لوگ خوش حال و مالدار تھے اس لئے بظاہر یہ امکان ہے کہ آپ ﷺ نے ان کے یہاں چیزیں ضرور دیکھی ہوں گی، لیکن آپ ﷺ نے بعثت رسالت کے بعد سے اپنی زندگی کے آخری لمحہ تک جو زمانہ گذارا وہ تنگی معاش اور اقتصادی زبوں حالی کے لئے مشہور و معروف ہے ظاہر ہے کہ اس میں ایسی چیزوں کا کیا ذکر تھا۔ یہ حدیث دراصل آنحضرت ﷺ کی سادہ طبیعت اور بےتکلف زندگی کی واضح غماز ہے کہ آپ ﷺ کو اپنے کھانے پینے کا اتنا اہتمام بھی عزیز نہیں تھا، جتنا مالی طور پر ایک معمولی حیثیت کے انسان کے یہاں بھی ہوتا ہے اور یہی وہ بنیادی سبق ہے جو ہمیں یہ بتاتا ہے کہ کھانے پینے کی چیزوں کی طرف متوجہ رہنا محض مقصد آشنا، بیوقوف اور غافل لوگوں کا شیوہ زندگی ہے۔
4076
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة قال : ما عاب النبي صلى الله عليه وسلم طعاما قط إن اشتهاه أكله وإن كرهه تركه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے کبھی بھی کسی کھانے کو برا نہیں کہا اگر آپ ﷺ کو رغبت ہوتی تو اس کو کھالیتے اور اگر ناپسند فرماتے تو اس کو چھوڑ دیتے۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ کھانے کی چیزوں کے سلسلہ میں آپ ﷺ کا یہ معمول تھا جو چیز آپ ﷺ کی پسندیدہ ہوتی، اس کو آپ ﷺ رغبت کے ساتھ کھالیتے اور جو چیز آپ ﷺ کو مرغوب و پسندیدہ نہ ہوتی تھی، اس کو نہیں کھاتے تھے، یہ نہیں تھا کہ جو چیز پسندیدہ نہ ہوتی اس کو برا کہتے اس میں عیب نکالتے۔