Mishkaat Shareef
144. نیکی و صلہ رحمی کا بیان
مشكاة المصابيح
4806
Mishkaat Shareefبر باء کے زیر کے ساتھ کے معنی نیکی و احسان کے ہیں اور عام طور پر اس لفظ کا اطلاق اس نیکی و بھلائی پر ہوتا ہے جس کا تعلق ماں باپ کی اطاعت و فرمانبرداری اور ان کے ساتھ اچھے برتاؤ سے ہوتا ہے اسی لئے لغت کی کتابوں میں لکھا ہے کہ بر کے معنی ماں باپ کی فرمانبرداری و اطاعت کرنا۔ مذکورہ بالا عنوان میں بھی اس لفظ کے یہی معنی مراد ہیں واضح رہے کہ اس لفظ کی ضد عقوق ہے جس کے معنی ماں باپ کی نافرمانی کرنا اور ان کے ساتھ سرکشی و ایذاء رسانی کا برتاؤ کرنا۔ صلہ کے لغوی معنی ملانا اور پیوند لگانا ہے لیکن عام اصطلاح میں اس کے معنی ہیں اپنے اعزاء و اقا رب کے ساتھ احسان اور اچھے سلوک کا معاملہ کرنا اور ان کو عطاء و بخشش اور اپنی مالی و اخلاقی مدد و اعانت کے ذریعہ فائدہ و راحت پہنچانا، چناچہ عنوان میں اس لفظ کے یہی معنی مراد ہیں۔
4807
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال قال رجل يا رسول الله من أحق بحسن صحابتي ؟ قال أمك . قال ثم من ؟ قال أمك . قال ثم من ؟ قال أمك . قال ثم من ؟ قال أبوك . وفي رواية قال أمك ثم أمك ثم أمك ثم أباك ثم أدناك أدناك . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے عرض کیا یا رسول اللہ میری اچھی رفاقت یعنی میری طرف سے حسن سلوک و احسان اور خدمت گزاری کا سب سے زیادہ مستحق کون شخص ہے ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں اس نے عرض کیا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا تمہاری ماں اس نے عرض کیا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا تیری ماں اس نے عرض کیا پھر کون ؟ آپ نے فرمایا تمہارا باپ ایک روایت میں یوں ہے کہ آپنے اس شخص کے سوال کے جواب میں فرمایا کہ تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہاری ماں پھر تمہارا باپ پھر تمہارا وہ عزیز جو نزدیک کی قرابت رکھتا ہو۔ بخاری ومسلم
تشریح
اس دنیا کے معاشرہ کی اصلاح و فلاح دراصل باہمی حقوق و نگہداشت تعلق و قرابت کی پاسداری ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور احسان و بھلائی کے برتاؤ اور اس حسن سلوک میں فرق مراتب کے احساس پر منحصر ہے شریعت اسلامی کا تقاضا ہے کہ انسان اس دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ جس تعلق و قربت کا رشتہ رکھتا ہے اور اس تعلق و قرابت میں جو فرق مراتب سے ادائیگی حقوق اور حسن سلوک کے باہمی معاملات میں اس کا لحاظ ضروری ہے ظاہر ہے کہ قرابت کے اعتبار سے ماں کا رشتہ سب سے زیادہ گہرا اور اس کا تعلق سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے لہذا کسی شخص کے احسان و حسن سلوک اور خدمت گزاری کی سب سے زیادہ مستحق جو ذات ہوسکتی ہے وہ ماں ہے ماں کے بعد باپ ہے اور پھر دوسرے قرابتی رشتہ دار ہیں لیکن ان قرابتی رشتہ داروں میں بھی تعلق و قرابت کے درجات و مراتب کی رعایت کی جائے گی جو رشتہ دار اپنے رشتہ کے اعتبار سے جتنا زیادہ قریب ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ مقدم رکھا جائے گا مذکورہ بالا حدیث میں اسی ضابطہ کو بیان فرمایا گیا ہے۔ بعض حضرات نے اس حدیث کے الفاظ سے ایک مسئلہ یہ اخذ کیا ہے کہ کسی شخص پر والدین کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی کرنے کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں ماں کا حصہ باپ سے تین گنا بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ حمل کا بوجھ اٹھاتی ہے ولادت کی تکلیف و مشقت اور دودھ پلانے کی محنت و برداشت کرتی ہے۔ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اولاد پر ماں کا حق باپ کے حق سے بڑا ہے اور اس کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی اور اس کی خدمت و دیکھ بھال کرنا زیادہ واجب ہے اور اگر ایسی صورت پیش آجائے جس میں بیک وقت دونوں کے حقوق کی ادائیگی دشوار ہوجائے مثلا ماں باپ کے درمیان کسی وجہ سے ان ابن ہو اور لڑکا اگر ماں کے حقوق کی رعایت کرتا ہے تو باپ ناراض ہوتا ہے اور اگر باپ کے حقوق کا لحاظ کرتا ہے تو ماں آزردہ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں یہ درمیانی راہ نکالی جائے گی کہ تعظیم و احترام میں تو باپ کے حقوق کو فوقیت دے اور خدمت گزاری نیز مالی امداد و عطا میں ماں کے حق کو فوقیت دے۔ ماں باپ کے حقوق کی فہرست بہت طویل ہے بلکہ ان کے مربہ و درجہ کو دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ اولاد اگر اپنی پوری زندگی بھی ان کے حقوق کی ادائیگی میں صرف کر دے تب بھی ان کے تئیں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتی تاہم شریعت نے کچھ چیزیں ایسی بیان کردی ہیں جو زیادہ اہمیت کی ہیں اور جن کا لحاظ ہر صورت میں ہونا چاہیے مثلا سب سے پہلے تو یہ کہ ان کی جائز خواہشات کی تکمیل اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم جانا جائے اور ان کی رضا و خوشنودی کو اپنے حق میں ایک بڑی سعادت سمجھی جائے اپنی حثییت و استطاعت کے ان کی ضروریات اور ان کے آرام و راحت میں اپنا مال و اسباب خرچ کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے جو ان کی شان کے مطابق ہو اولاد ان کے سامنے تواضع و انکساری اختیار کرے ان کے سامنے ملائمت و نرمی اور خوشامدی و عاجز کا رویہ اپنائے اور جہاں تک ہو سکے ان کی خدمت کرتے تاآنکہ وہ راضی اور خوش ہوں، ان کی اطاعت و فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، لیکن اطاعت و فرمانبرداری ان ہی امور میں کی جانی چاہیے جو مباح ہوں ان کے ساتھ کوئی ایسا رویہ نہیں اپنانا چاہیے جس سے ان کی شان میں بےادبی و گستاخی ظاہر ہوتی ہو اور نہ ان کے ساتھ تکبر و انانیت کے ساتھ پیش آنا چاہیے خواہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں بات چیت کے وقت اپنی آواز کو ان کی آواز سے اونچی نہ کرے اور نہ ان کا نام لے کر ان کو یاد مخاطب کرنا چاہیے کسی کام میں ان سے پہل نہ کرنا چاہیے اور نہ ان کے مقابلہ پر خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اسی طرح اس بات کو بھی ملحوط رکھنا چاہیے کہ اگر والدین غیر شرعی امور کے مرتکب ہوں تو ان کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی کے وقت بھی ادب کو اور نرمی و ملائمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے اور ایک دفعہ کہنے پر وہ باز نہ آئیں تو پھر سکوت اختیار کرلیا جائے اور ان کے حق میں دعا و استغفار کرتے رہنا چاہیے اور یہ بات قرآن کی اس آیت سے اخذ کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم کی طرف سے اپنے باپ کے سامنے نصیحت و موعظت کا ذکر ہے۔
تشریح
اس دنیا کے معاشرہ کی اصلاح و فلاح دراصل باہمی حقوق و نگہداشت تعلق و قرابت کی پاسداری ایک دوسرے کے ساتھ حسن سلوک اور احسان و بھلائی کے برتاؤ اور اس حسن سلوک میں فرق مراتب کے احساس پر منحصر ہے شریعت اسلامی کا تقاضا ہے کہ انسان اس دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ جس تعلق و قربت کا رشتہ رکھتا ہے اور اس تعلق و قرابت میں جو فرق مراتب سے ادائیگی حقوق اور حسن سلوک کے باہمی معاملات میں اس کا لحاظ ضروری ہے ظاہر ہے کہ قرابت کے اعتبار سے ماں کا رشتہ سب سے زیادہ گہرا اور اس کا تعلق سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے لہذا کسی شخص کے احسان و حسن سلوک اور خدمت گزاری کی سب سے زیادہ مستحق جو ذات ہوسکتی ہے وہ ماں ہے ماں کے بعد باپ ہے اور پھر دوسرے قرابتی رشتہ دار ہیں لیکن ان قرابتی رشتہ داروں میں بھی تعلق و قرابت کے درجات و مراتب کی رعایت کی جائے گی جو رشتہ دار اپنے رشتہ کے اعتبار سے جتنا زیادہ قریب ہوگا وہ اتنا ہی زیادہ مقدم رکھا جائے گا مذکورہ بالا حدیث میں اسی ضابطہ کو بیان فرمایا گیا ہے۔ بعض حضرات نے اس حدیث کے الفاظ سے ایک مسئلہ یہ اخذ کیا ہے کہ کسی شخص پر والدین کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی کرنے کے جو حقوق عائد ہوتے ہیں ان میں ماں کا حصہ باپ سے تین گنا بڑھا ہوا ہے کیونکہ وہ حمل کا بوجھ اٹھاتی ہے ولادت کی تکلیف و مشقت اور دودھ پلانے کی محنت و برداشت کرتی ہے۔ فقہ کی کتابوں میں لکھا ہے کہ اولاد پر ماں کا حق باپ کے حق سے بڑا ہے اور اس کے ساتھ حسن سلوک و بھلائی اور اس کی خدمت و دیکھ بھال کرنا زیادہ واجب ہے اور اگر ایسی صورت پیش آجائے جس میں بیک وقت دونوں کے حقوق کی ادائیگی دشوار ہوجائے مثلا ماں باپ کے درمیان کسی وجہ سے ان ابن ہو اور لڑکا اگر ماں کے حقوق کی رعایت کرتا ہے تو باپ ناراض ہوتا ہے اور اگر باپ کے حقوق کا لحاظ کرتا ہے تو ماں آزردہ ہوتی ہے تو ایسی صورت میں یہ درمیانی راہ نکالی جائے گی کہ تعظیم و احترام میں تو باپ کے حقوق کو فوقیت دے اور خدمت گزاری نیز مالی امداد و عطا میں ماں کے حق کو فوقیت دے۔ ماں باپ کے حقوق کی فہرست بہت طویل ہے بلکہ ان کے مربہ و درجہ کو دیکھا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ اولاد اگر اپنی پوری زندگی بھی ان کے حقوق کی ادائیگی میں صرف کر دے تب بھی ان کے تئیں اپنی ذمہ داری سے عہدہ برآ نہیں ہوسکتی تاہم شریعت نے کچھ چیزیں ایسی بیان کردی ہیں جو زیادہ اہمیت کی ہیں اور جن کا لحاظ ہر صورت میں ہونا چاہیے مثلا سب سے پہلے تو یہ کہ ان کی جائز خواہشات کی تکمیل اور ان کی اطاعت و فرمانبرداری کو لازم جانا جائے اور ان کی رضا و خوشنودی کو اپنے حق میں ایک بڑی سعادت سمجھی جائے اپنی حثییت و استطاعت کے ان کی ضروریات اور ان کے آرام و راحت میں اپنا مال و اسباب خرچ کیا جائے اور ان کے ساتھ ایسا سلوک کیا جائے جو ان کی شان کے مطابق ہو اولاد ان کے سامنے تواضع و انکساری اختیار کرے ان کے سامنے ملائمت و نرمی اور خوشامدی و عاجز کا رویہ اپنائے اور جہاں تک ہو سکے ان کی خدمت کرتے تاآنکہ وہ راضی اور خوش ہوں، ان کی اطاعت و فرمانبرداری میں کوئی کوتاہی نہیں کرنی چاہیے، لیکن اطاعت و فرمانبرداری ان ہی امور میں کی جانی چاہیے جو مباح ہوں ان کے ساتھ کوئی ایسا رویہ نہیں اپنانا چاہیے جس سے ان کی شان میں بےادبی و گستاخی ظاہر ہوتی ہو اور نہ ان کے ساتھ تکبر و انانیت کے ساتھ پیش آنا چاہیے خواہ وہ مشرک ہی کیوں نہ ہوں بات چیت کے وقت اپنی آواز کو ان کی آواز سے اونچی نہ کرے اور نہ ان کا نام لے کر ان کو یاد مخاطب کرنا چاہیے کسی کام میں ان سے پہل نہ کرنا چاہیے اور نہ ان کے مقابلہ پر خود کو نمایاں کرنے کی کوشش کرنی چاہیے اسی طرح اس بات کو بھی ملحوط رکھنا چاہیے کہ اگر والدین غیر شرعی امور کے مرتکب ہوں تو ان کے سامنے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضہ کی ادائیگی کے وقت بھی ادب کو اور نرمی و ملائمت کی راہ اختیار کرنی چاہیے اور ایک دفعہ کہنے پر وہ باز نہ آئیں تو پھر سکوت اختیار کرلیا جائے اور ان کے حق میں دعا و استغفار کرتے رہنا چاہیے اور یہ بات قرآن کی اس آیت سے اخذ کی گئی ہے کہ حضرت ابراہیم کی طرف سے اپنے باپ کے سامنے نصیحت و موعظت کا ذکر ہے۔
4808
Mishkaat Shareefوعنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم رغم أنفه رغم أنفه رغم أنفه . قيل من يا رسول الله ؟ قال من أدرك والديه عند الكبر أحدهما أو كلاهما ثم لم يدخل الجنة . وراه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا خاک آلودہ ہو ناک اس شخص کی، خاک آلودہ ہو ناک اس شخص کی، یعنی آپ نے تین مرتبہ گویا یہ بد دعا فرمائی کہ وہ شخص ذلیل خوار ہو پوچھا گیا یا رسول اللہ وہ کون شخص ہے جس کے حق میں بد دعا فرمائی جا رہی ہے آپ نے فرمایا وہ شخص جو اپنے والدین میں سے کسی ایک یا دونوں کو بڑھاپے کی حالت میں پائے اور پھر جنت میں داخل نہ ہو یعنی جس شخص کے ماں باپ یا دونوں میں سے کوئی ایک بڑھاپے کی حالت میں ہو اور وہ شخص ان کی خدمت کر کے ان کو راضی نہ کرے تو وہ انتہائی بدقسمت ہے کیونکہ خصوصیت سے بوڑھے ماں باپ کی خدمت کرنا بڑے اجر کی بات ہے اور جنت میں داخل ہونے کا سبب ہے۔ (مسلم)
4809
Mishkaat Shareefوعن أسماء بنت أبي بكر رضي الله عنه قالت قدمت علي أمي وهي مشركة في عهد قريش فقلت يا رسول الله إن أمي قدمت علي وهي راغبة أفأصلها ؟ قال نعم صليها . متفق عليه
اور حضرت اسماء بنت ابوبکر (رض) کہتی ہیں کہ میری والدہ شرک کی حالت میں مکہ سے مدینہ آئیں جبکہ قریش کے ساتھ صلح کا زمانہ تھا یعنی مدینہ میں میری والدہ کے آنے کا یہ واقعہ اس زمانہ کا ہے جبکہ صلح حدیبیہ کی صورت میں آنحضرت ﷺ اور قریش کے درمیان جنگ نہ کرنے کا معاہدہ ہوچکا تھا اور میری والدہ اس وقت تک مشرف بہ اسلام نہیں ہوئی تھیں چناچہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ میری والدہ میرے پاس آئیں ہیں اور وہ اسلام سے بےزار ہیں کیا میں ان کے ساتھ اچھا سلوک کروں ؟ آپ نے فرمایا ہاں ان کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ (بخاری ومسلم)
4810
Mishkaat Shareefوعن عمرو بن العاص قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول إن آل فلان ليسوا لي بأولياء إنما وليي الله وصالح المؤمنين ولكن لهم رحم أبلها ببلالها . متفق عليه
اور حضرت عمر بن عاص (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ابوفلاں کی اولاد میرے دوست نہیں ہیں میرا دوست اللہ ہے یا نیک بخت مومنین البتہ ان لوگوں سے میری قرابت داری ہے جس کو میں تر چیزوں سے تر کرتا رہتا ہوں۔
تشریح
ابوفلاں کی اولاد کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں صریح نام لیا تھا کہ راوی نے اس ارشاد گرامی کو بیان کرتے وقت اس نام کو صریح ذکر نہیں کیا بلکہ لفظ ابوفلاں کے ذریعہ اشارہ فرمایا اور صریح ذکر نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ راوی نے جس موقع پر اس ارشاد گرامی کو بیان کیا اس وقت اس نام کو صراحتہ ذکر کرنے سے کسی فتنہ کے اٹھ کھڑے ہونے کا خوف ہوگا، بخاری ومسلم کے اصل نسخوں میں بھی لفظ ابی کے بعد جگہ کو خالی چھوڑا گیا ہے کسی نام کو صراحتہ ذکر نہیں کیا گیا اور اس کی علت بھی وہی ہے رہی ہے یہ بات کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد میں جس نام کو صراحتہ ذکر فرمایا تھا وہ کیا ہے ؟ تو محقیقن نے کہا ہے کہ وہ ابولہب ہے اور بعض حضرات نے ابوسفیان یا حکم بن العاص بیان کیا ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا جو مفہوم ہے اس کا تعلق کسی خاص فرد کی اولاد سے نہیں ہے بلکہ آپ کی مراد عمومی طور پر اپنے قبیلہ و خاندان کے افراد ہیں جیسے کہ اہل قریش یا بنو ہاشم اور یا ا نحضرت ﷺ کے چچاؤں کی اولاد۔ میرے دوست نہیں ہیں سے آنحضرت ﷺ کی مراد اس بات کو واضح کرنا تھا کہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ میری مالی امداد ومعاونت اور ان کو دینا دلانا اس سبب سے نہیں ہے کہ میں ان کو زیادہ محبوب رکھتا ہوں اور مجھ کو ان سے کچھ زیادہ روحانی و باطنی تعلق ہے بلکہ چونکہ وہ میرے قرابتی ہیں اس لئے میں قرابت کا حق ادا کرنے کے لئے ان کی مالی امداد کرتا رہتا ہوں ورنہ جہاں تک باطنی و روحانی تعلق اور محبت کا سوال ہے تو مجھ کو زیادہ تعلق اور زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو مومن صالح ہے خواہ وہ میرا قرابتی ہو یا غیر قرابتی چناچہ میرا دوست اللہ ہے یا نیک بخت مومنین میں نیک بخت سے جنس صلحاء یعنی تمام نیک وبخت مسلمان مراد ہیں اگرچہ بعض حضرات نے حضرت ابوبکر (رض) کو اور بعض حضرات نے حضرت علی (رض) کو مراد قرار دیا ہے۔ جس کو میں تر چیزوں سے تر کرتا رہتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ چونکہ میری قرابت دار ہیں اس لئے میں ان کے ساتھ مدد و تعاون کا سلوک کرتا ہوں اور ان کو مال وغیرہ دیتا رہتا ہوں تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کرسکیں دراصل تری اور نرمی چونکہ متفرق اجزاء اور اشیاء میں جوڑنے اور ملانے کا ایک ذریعہ بنتی ہیں اور اس کے برخلاف خشکی اور سختی چونکہ اشیاء کے باہمی افتراق و انتظار کا سبب بنتی ہے اس لئے اہل عرب اپنے کلام میں بطور استعارہ لفظ بل یعنی تری اور نرمی کو صلہ رحم، ناتا جوڑنے کے معنی میں اور یبس یعنی خشکی کو ناتا توڑنے اور ترک تعلق کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔
تشریح
ابوفلاں کی اولاد کے بارے میں علماء نے لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے اس ارشاد میں صریح نام لیا تھا کہ راوی نے اس ارشاد گرامی کو بیان کرتے وقت اس نام کو صریح ذکر نہیں کیا بلکہ لفظ ابوفلاں کے ذریعہ اشارہ فرمایا اور صریح ذکر نہ کرنے کی وجہ بظاہر یہ معلوم ہوتی ہے کہ راوی نے جس موقع پر اس ارشاد گرامی کو بیان کیا اس وقت اس نام کو صراحتہ ذکر کرنے سے کسی فتنہ کے اٹھ کھڑے ہونے کا خوف ہوگا، بخاری ومسلم کے اصل نسخوں میں بھی لفظ ابی کے بعد جگہ کو خالی چھوڑا گیا ہے کسی نام کو صراحتہ ذکر نہیں کیا گیا اور اس کی علت بھی وہی ہے رہی ہے یہ بات کہ آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد میں جس نام کو صراحتہ ذکر فرمایا تھا وہ کیا ہے ؟ تو محقیقن نے کہا ہے کہ وہ ابولہب ہے اور بعض حضرات نے ابوسفیان یا حکم بن العاص بیان کیا ہے لیکن زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کے ارشاد کا جو مفہوم ہے اس کا تعلق کسی خاص فرد کی اولاد سے نہیں ہے بلکہ آپ کی مراد عمومی طور پر اپنے قبیلہ و خاندان کے افراد ہیں جیسے کہ اہل قریش یا بنو ہاشم اور یا ا نحضرت ﷺ کے چچاؤں کی اولاد۔ میرے دوست نہیں ہیں سے آنحضرت ﷺ کی مراد اس بات کو واضح کرنا تھا کہ اپنے خاندان والوں کے ساتھ میری مالی امداد ومعاونت اور ان کو دینا دلانا اس سبب سے نہیں ہے کہ میں ان کو زیادہ محبوب رکھتا ہوں اور مجھ کو ان سے کچھ زیادہ روحانی و باطنی تعلق ہے بلکہ چونکہ وہ میرے قرابتی ہیں اس لئے میں قرابت کا حق ادا کرنے کے لئے ان کی مالی امداد کرتا رہتا ہوں ورنہ جہاں تک باطنی و روحانی تعلق اور محبت کا سوال ہے تو مجھ کو زیادہ تعلق اور زیادہ محبت اس شخص سے ہے جو مومن صالح ہے خواہ وہ میرا قرابتی ہو یا غیر قرابتی چناچہ میرا دوست اللہ ہے یا نیک بخت مومنین میں نیک بخت سے جنس صلحاء یعنی تمام نیک وبخت مسلمان مراد ہیں اگرچہ بعض حضرات نے حضرت ابوبکر (رض) کو اور بعض حضرات نے حضرت علی (رض) کو مراد قرار دیا ہے۔ جس کو میں تر چیزوں سے تر کرتا رہتا ہوں کا مطلب یہ ہے کہ وہ لوگ چونکہ میری قرابت دار ہیں اس لئے میں ان کے ساتھ مدد و تعاون کا سلوک کرتا ہوں اور ان کو مال وغیرہ دیتا رہتا ہوں تاکہ وہ اپنی ضروریات پوری کرسکیں دراصل تری اور نرمی چونکہ متفرق اجزاء اور اشیاء میں جوڑنے اور ملانے کا ایک ذریعہ بنتی ہیں اور اس کے برخلاف خشکی اور سختی چونکہ اشیاء کے باہمی افتراق و انتظار کا سبب بنتی ہے اس لئے اہل عرب اپنے کلام میں بطور استعارہ لفظ بل یعنی تری اور نرمی کو صلہ رحم، ناتا جوڑنے کے معنی میں اور یبس یعنی خشکی کو ناتا توڑنے اور ترک تعلق کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔
4811
Mishkaat Shareefوعن المغيرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن الله حرم عليكم عقوق الأمهات ووأد البنات ومنع وهات . وكره لكم قيل وقال وكثرة السؤال وإضاعة المال . متفق عليه
اور حضرت مغیرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے تم پر اس امر کو حرام قرار دیا ہے کہ ماں کی نافرمانی کر کے اس کا دل دکھا جائے لڑکیوں کو زندہ درگور کیا جائے جیسا کہ زمانہ جاہلیت میں لوگ فقر محتاجی اور عار کے خوف سے لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے اور بخیلی و گدائی اختیار کی جائے نیز قیل وقال سوال کی زیادتی اور مال ضائع کرنے کو تمہارے لئے مکروہ قرار دیا جائے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
خاص طور پر ماں کا ذکر کرنا اس سبب سے ہے کہ اولاد پر ماں کے حقوق باپ سے زیادہ ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا ہے یا اس تخصیص کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ ماں طبعی طور پر باپ سے زیادہ حساس اور کمزور دل ہوتی ہے باپ تو اولاد کی بڑی سے بڑی اذیت رسانی کو برداشت کرلیتا ہے لیکن ماں اپنی اولاد کی طرف سے ذرا سی بات میں رنجیدہ ہوجاتی ہے اگر اولاد اس کے حقوق کی ادائیگی اور اطاعت و فرمانبرداری کرنے میں معمولی بھی غفلت و کوتاہی کرتی ہے تو اس کا دل فورا متاثر ہوجاتا ہے اور سخت تکلیف محسوس کرتی ہے اور یہ بات ہے کہ اولاد کی تقصیر و کوتاہی سے جس قدر ماں درگزر کرتی ہے اتنا درگزر باپ نہیں کرتا اور اس کا سبب بھی ماں کا کمزور دل ہونا ہے۔ منع یا منع کے معنی روکنے کے ہیں اور اس سے مراد بخیل اور کنجوسی ہے۔ ھات دراصل لفظ اٰت کے معنی میں ہے جو ایتاء کا صیغہ امر ہے اور جس کے معنی ہیں لاؤ دو یہاں لفظ کو مانگنے کے اور سوال کرنے یعنی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے علماء نے لکھا ہے کہ منع و ھات سے مراد یہ ہے کہ اپنے مال پر دوسرے لوگوں کا جو حق واجب ہو تو اس کو ادانہ کرے اور دوسروں کے مال میں سے وہ چیز لے جو اس کے لئے حلال نہیں بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ نہ صرف مال میں منع وہات کو حرام قرار دیا گیا ہے بلکہ ہر طرح کے حقوق واجبہ کو ادا نہ کرنا حرام ہے اور ان کا تعلق خواہ مال و ذر سے ہو یا افعال و احوال سے اور خواہ قوال و گفتار سے ہو اخلاق و کردار سے اسی طرح کسی ایسی چیز کا مطالبہ کرنا اور مانگنا جو دوسروں پر کسی بھی طرح کے حق کے طور پر واجب نہ ہو اور دوسروں کو کسی ایسی چیز کی ادائیگی و انجام دہی کی محنت و کلفت میں مبتلا کرنا جو ان پر واجب نہیں ہے حرام ہے۔ قیل وقال یہ ایک محاورہ ہے جو ہماری زبان میں بھی اسی طرح مستعمل ہے اس کا اطلاق عام طور پر بےفائدہ بحث و مباحثہ، رد و کد اور حجت و تکرار پر ہوتا ہے یہاں حدیث میں بھی قیل و قال کو مکروہ قرار دینے کا مطلب بےفائدہ باتیں کرنے اور بک بک لگانے سے منع کرنا ہے جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ جب بےفکر لوگ کہیں آپس میں مل بیٹھتے ہیں تو ادھر ادھر کی لایعنی باتوں میں لگ جاتے ہیں نہ کسی گفتگو کا کوئی بامقصد موضوع ہوتا ہے اور نہ کسی بات کا کوئی دینی و دنیاوی فائدہ ان کی بات چیت کا زیادہ تر موضوع غلط و سلط واقعات کو نقل کرنا اور جھوٹے سچے اقول کو بیان کرنا ہوتا ہے چناچہ جب کوئی شخص کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کہا فلاں آدمی نے اس طرح کہا تو فلاں شخص نے یوں جواب دیا غرضیکہ اسی طرح کے بےسروپا اور لغو باتیں کر کے اور گب شب میں مشغول رہ کر وقت جیسی قابل قدر شئے کو ضائع کرتے رہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ قیل و قال کی ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ اس بحث و مباحثہ اور باہمی بات چیت کا مقصد کسی مسئلہ معاملہ کی تحقیق اور حصول معلومات نہ ہوں ہاں اگر کسی معاملہ کی تحقیق حصول معاملہ میں اور دوسرے نیک مقصد کے لئے باتوں میں مشغول رہا جائے اور لوگوں کے اقوال بیان کئے جائیں تو اس پر مذکورہ ممانعت کا اطلاق نہیں ہوگا بعض حضرات نے قیل قال کی مراد بہت زیادہ باتیں کرنا اور لکھنا ہے اور واضح کیا ہے کہ بہت زیادہ باتیں کرنا دل پر غفلت و مردنی طاری کرتا ہے بےحسی اور لاپرواہی میں مبتلا کرتا ہے اور وقت کو ضائع کرتا ہے۔ کثرۃ السوال یعنی سوال کی زیادتی کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ دوسرے لوگوں کے احوال و معاملات کی بہت زیادہ پوچھا یا پاچھی اور تجسس معلومات کرنا دوسرے کے یہ اپنے علم کی برتری کو ظاہر کرنے یا کسی کو امتحان و آزمائش میں مبتلا کرنے یا لاحاصل بحث و مناظرہ کی خاطر بہت زیادہ علمی سوالات کرنا اور کسی بات کو بہت زیادہ گھما پھرا کر پوچھنا اور تیسرے یہ کہ اس ممانعت کے مخاطب خاص طور پر صحابہ تھے جنہیں اس بات کی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دینی احکام و مسائل میں آنحضرت ﷺ سے زیادہ سوالات نہ کریں اور نہ ادھر ادھر کے معاملات میں آپ سے پوچھ پاچھ کیا کریں کیونکہ سوالات کی زیادہ کثرت اور غیر ضروری پوچھا پا چھی کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کی طبیعت ناگوار ہوتی ہے بلکہ زیادہ پوچھنا احکام و مسائل میں شدت و سختی اور مزید پابندیوں کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا آیت (لاتسئلو عن اشیاء) ۔ اضاعۃ المال یعنی مال کو ضائع کرنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے مال اور اور اپنے روپے کو اسراف یعنی فضول خرچیوں میں بہایا جائے یا اس کو ایسی جگہ خرچ کیا جائے جس کا حق تعالیٰ کی طاعت و خوشنودی سے کوئی تعلق نہ ہو جیسے کوئی شخص اپنا سارا مال اور روپیہ یا اس کا کچھ حصہ کسی دوسرے شخص کو دیدے مگر اس کے وہ عزیز و اقا رب اور متعلقین محروم رہیں جو نہ صرف اپنے تعلق کی وجہ سے بلکہ اپنے احتیاج و ضرورت کی بنا پر بھی اس کے مال اور روپیہ اور پیسہ پر اپنا حق رکھتے ہوں یا کوئی شخص اپنے مال و اسباب اور دولت کو پانی میں ڈال دے یا نذر آتش کر دے اور یا کسی ایسے فاسق کو دیدے جو اس کو گناہ و معصیت کے کاموں میں خرچ کرے۔ اضاعۃ المال کے مذکورہ بالا مسئلہ کو زیادہ تفصیل کے ساتھ یوں سمجھنا چاہیے کہ اپنے مال و دولت اور روپیہ پیسہ کو جہاں کرچ کرنا ہے حرام یا مکروہ ہے وہاں اپنے مال اور روپیہ پیسہ کو صرف بلاشبہ اسراف اور ضائع کرنا کہلائے گا لیکن یہ دونوں صورتوں میں بالکل واضح ہیں اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں اشتباہ اس جگہ ہے جہاں کرچ کرنا بظاہر معلوم ہوتا ہے لیکن اگر اچھی طرح غور و فکر کیا جائے تو اس خرچ کے نتیجہ سے برائیاں اور ظاہری باطنی خرابیاں نکلتی ہیں مثلا بلا ضرورت دور دراز کے علاقوں میں مکانات بنوانا، مکانات میں بےضرورت تعمیر و ترمیم کر کے ان کو وسیع کرنا اور ان کی نار وا آرائش و زیبائش کرنا اور اس کی خاطر مال خرچ کرنا جہاں جس قدر خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں اس سے زائدخرچ کرنا، محض نفس و طبعیت کے حظ اور مزہ لذت حاصل کرنے کے لئے حد اعتدال سے زیادہ اچھے اچھے کھانے کھانا بڑائی جتانے اور اپنے کو برتر ثابت کرنے کے لے اعلی پوشاک پہننا اور اپنی شان و شوکت کو ظاہر کرنے کے لئے اونچے درجہ کی طرف معاشرت اختیار کرنا اور ان سب صورتوں میں فقراء مساکین اور مفلس وقلاش لوگوں کی ضروریات سے صرف نظر کرنا اور ان کی خستہ حالی و محتاجگی کی قطعا کوئی رعایت نہ کرنا جیسا کہ خالص دنیا دار اور فضول خرچ کرنے والوں کا شیواہ ہے یہ ایسی چیزیں ہیں جن پر اپنا مال اور روپیہ پیسہ خرچ کرنا اگرچہ شریعت کے ظاہری حکم کی روشنی میں حرام قرار نہ پائے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس طرح کے اخراجات قلب و طبیعت پر تنگی و سختی اور بےمروتی طاری ہونے کا سبب بنتے ہیں اس صورت حال سے سماج و معاشرہ میں غیر فطری عدم توازن و ناہمواری کی فضا بھی پیدا ہوجاتی ہے جس سے مختلف قسم کی برائیوں ظہور میں آتی ہیں۔ اسی طرح برتن باسنوں ہتھیاروں اور استعمال میں آنے والی دوسری چیزوں کو سونے جواہرات اور دیگر قیمتی اشیاء سے مزین کرنا، خریدو فروخت کے معاملات میں اس طرح لاپرواہی برتنا کہ نہ تو مال کے ڈوبنے کا خوف ہو جیسے ادھار لین دین کی مدت کو ضرورت سے زائد بڑھانے اور نہ اپنے روپے پیسے کی حفاظت کا لحاظ ہو جیسے ایسی تجارت یا معاملہ میں اپنا روپیہ لگانا جس میں نقصان کا یقین ہو یا کسی چیز کو خواہ مخواہ بلاضرورت گراں قیمت پر خریدنا اس طرح کی چیزیں بھی اسراف یعنی فضول خرچی اور اپنے مال کو ضائع کرنے کے حکم میں داخل ہیں۔
تشریح
خاص طور پر ماں کا ذکر کرنا اس سبب سے ہے کہ اولاد پر ماں کے حقوق باپ سے زیادہ ہیں جیسا کہ پہلے گزر چکا ہے کہ ماں کا حق باپ سے تین گنا ہے یا اس تخصیص کی بنیاد اس حقیقت پر ہے کہ ماں طبعی طور پر باپ سے زیادہ حساس اور کمزور دل ہوتی ہے باپ تو اولاد کی بڑی سے بڑی اذیت رسانی کو برداشت کرلیتا ہے لیکن ماں اپنی اولاد کی طرف سے ذرا سی بات میں رنجیدہ ہوجاتی ہے اگر اولاد اس کے حقوق کی ادائیگی اور اطاعت و فرمانبرداری کرنے میں معمولی بھی غفلت و کوتاہی کرتی ہے تو اس کا دل فورا متاثر ہوجاتا ہے اور سخت تکلیف محسوس کرتی ہے اور یہ بات ہے کہ اولاد کی تقصیر و کوتاہی سے جس قدر ماں درگزر کرتی ہے اتنا درگزر باپ نہیں کرتا اور اس کا سبب بھی ماں کا کمزور دل ہونا ہے۔ منع یا منع کے معنی روکنے کے ہیں اور اس سے مراد بخیل اور کنجوسی ہے۔ ھات دراصل لفظ اٰت کے معنی میں ہے جو ایتاء کا صیغہ امر ہے اور جس کے معنی ہیں لاؤ دو یہاں لفظ کو مانگنے کے اور سوال کرنے یعنی کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے کے مفہوم میں استعمال کیا گیا ہے علماء نے لکھا ہے کہ منع و ھات سے مراد یہ ہے کہ اپنے مال پر دوسرے لوگوں کا جو حق واجب ہو تو اس کو ادانہ کرے اور دوسروں کے مال میں سے وہ چیز لے جو اس کے لئے حلال نہیں بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ نہ صرف مال میں منع وہات کو حرام قرار دیا گیا ہے بلکہ ہر طرح کے حقوق واجبہ کو ادا نہ کرنا حرام ہے اور ان کا تعلق خواہ مال و ذر سے ہو یا افعال و احوال سے اور خواہ قوال و گفتار سے ہو اخلاق و کردار سے اسی طرح کسی ایسی چیز کا مطالبہ کرنا اور مانگنا جو دوسروں پر کسی بھی طرح کے حق کے طور پر واجب نہ ہو اور دوسروں کو کسی ایسی چیز کی ادائیگی و انجام دہی کی محنت و کلفت میں مبتلا کرنا جو ان پر واجب نہیں ہے حرام ہے۔ قیل وقال یہ ایک محاورہ ہے جو ہماری زبان میں بھی اسی طرح مستعمل ہے اس کا اطلاق عام طور پر بےفائدہ بحث و مباحثہ، رد و کد اور حجت و تکرار پر ہوتا ہے یہاں حدیث میں بھی قیل و قال کو مکروہ قرار دینے کا مطلب بےفائدہ باتیں کرنے اور بک بک لگانے سے منع کرنا ہے جیسا کہ عام طور پر ہوتا ہے کہ جب بےفکر لوگ کہیں آپس میں مل بیٹھتے ہیں تو ادھر ادھر کی لایعنی باتوں میں لگ جاتے ہیں نہ کسی گفتگو کا کوئی بامقصد موضوع ہوتا ہے اور نہ کسی بات کا کوئی دینی و دنیاوی فائدہ ان کی بات چیت کا زیادہ تر موضوع غلط و سلط واقعات کو نقل کرنا اور جھوٹے سچے اقول کو بیان کرنا ہوتا ہے چناچہ جب کوئی شخص کہ فلاں شخص نے ایسا ایسا کہا فلاں آدمی نے اس طرح کہا تو فلاں شخص نے یوں جواب دیا غرضیکہ اسی طرح کے بےسروپا اور لغو باتیں کر کے اور گب شب میں مشغول رہ کر وقت جیسی قابل قدر شئے کو ضائع کرتے رہتے ہیں اس سے معلوم ہوا کہ قیل و قال کی ممانعت اس صورت میں ہے جب کہ اس بحث و مباحثہ اور باہمی بات چیت کا مقصد کسی مسئلہ معاملہ کی تحقیق اور حصول معلومات نہ ہوں ہاں اگر کسی معاملہ کی تحقیق حصول معاملہ میں اور دوسرے نیک مقصد کے لئے باتوں میں مشغول رہا جائے اور لوگوں کے اقوال بیان کئے جائیں تو اس پر مذکورہ ممانعت کا اطلاق نہیں ہوگا بعض حضرات نے قیل قال کی مراد بہت زیادہ باتیں کرنا اور لکھنا ہے اور واضح کیا ہے کہ بہت زیادہ باتیں کرنا دل پر غفلت و مردنی طاری کرتا ہے بےحسی اور لاپرواہی میں مبتلا کرتا ہے اور وقت کو ضائع کرتا ہے۔ کثرۃ السوال یعنی سوال کی زیادتی کے کئی معنی بیان کئے گئے ہیں ایک تو یہ کہ دوسرے لوگوں کے احوال و معاملات کی بہت زیادہ پوچھا یا پاچھی اور تجسس معلومات کرنا دوسرے کے یہ اپنے علم کی برتری کو ظاہر کرنے یا کسی کو امتحان و آزمائش میں مبتلا کرنے یا لاحاصل بحث و مناظرہ کی خاطر بہت زیادہ علمی سوالات کرنا اور کسی بات کو بہت زیادہ گھما پھرا کر پوچھنا اور تیسرے یہ کہ اس ممانعت کے مخاطب خاص طور پر صحابہ تھے جنہیں اس بات کی ہدایت کی گئی تھی کہ وہ دینی احکام و مسائل میں آنحضرت ﷺ سے زیادہ سوالات نہ کریں اور نہ ادھر ادھر کے معاملات میں آپ سے پوچھ پاچھ کیا کریں کیونکہ سوالات کی زیادہ کثرت اور غیر ضروری پوچھا پا چھی کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کی طبیعت ناگوار ہوتی ہے بلکہ زیادہ پوچھنا احکام و مسائل میں شدت و سختی اور مزید پابندیوں کا سبب بھی بن سکتا ہے جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا آیت (لاتسئلو عن اشیاء) ۔ اضاعۃ المال یعنی مال کو ضائع کرنے سے مراد یہ ہے کہ اپنے مال اور اور اپنے روپے کو اسراف یعنی فضول خرچیوں میں بہایا جائے یا اس کو ایسی جگہ خرچ کیا جائے جس کا حق تعالیٰ کی طاعت و خوشنودی سے کوئی تعلق نہ ہو جیسے کوئی شخص اپنا سارا مال اور روپیہ یا اس کا کچھ حصہ کسی دوسرے شخص کو دیدے مگر اس کے وہ عزیز و اقا رب اور متعلقین محروم رہیں جو نہ صرف اپنے تعلق کی وجہ سے بلکہ اپنے احتیاج و ضرورت کی بنا پر بھی اس کے مال اور روپیہ اور پیسہ پر اپنا حق رکھتے ہوں یا کوئی شخص اپنے مال و اسباب اور دولت کو پانی میں ڈال دے یا نذر آتش کر دے اور یا کسی ایسے فاسق کو دیدے جو اس کو گناہ و معصیت کے کاموں میں خرچ کرے۔ اضاعۃ المال کے مذکورہ بالا مسئلہ کو زیادہ تفصیل کے ساتھ یوں سمجھنا چاہیے کہ اپنے مال و دولت اور روپیہ پیسہ کو جہاں کرچ کرنا ہے حرام یا مکروہ ہے وہاں اپنے مال اور روپیہ پیسہ کو صرف بلاشبہ اسراف اور ضائع کرنا کہلائے گا لیکن یہ دونوں صورتوں میں بالکل واضح ہیں اس میں کسی شک وشبہ کی گنجائش نہیں اشتباہ اس جگہ ہے جہاں کرچ کرنا بظاہر معلوم ہوتا ہے لیکن اگر اچھی طرح غور و فکر کیا جائے تو اس خرچ کے نتیجہ سے برائیاں اور ظاہری باطنی خرابیاں نکلتی ہیں مثلا بلا ضرورت دور دراز کے علاقوں میں مکانات بنوانا، مکانات میں بےضرورت تعمیر و ترمیم کر کے ان کو وسیع کرنا اور ان کی نار وا آرائش و زیبائش کرنا اور اس کی خاطر مال خرچ کرنا جہاں جس قدر خرچ کرنے کی ضرورت ہو وہاں اس سے زائدخرچ کرنا، محض نفس و طبعیت کے حظ اور مزہ لذت حاصل کرنے کے لئے حد اعتدال سے زیادہ اچھے اچھے کھانے کھانا بڑائی جتانے اور اپنے کو برتر ثابت کرنے کے لے اعلی پوشاک پہننا اور اپنی شان و شوکت کو ظاہر کرنے کے لئے اونچے درجہ کی طرف معاشرت اختیار کرنا اور ان سب صورتوں میں فقراء مساکین اور مفلس وقلاش لوگوں کی ضروریات سے صرف نظر کرنا اور ان کی خستہ حالی و محتاجگی کی قطعا کوئی رعایت نہ کرنا جیسا کہ خالص دنیا دار اور فضول خرچ کرنے والوں کا شیواہ ہے یہ ایسی چیزیں ہیں جن پر اپنا مال اور روپیہ پیسہ خرچ کرنا اگرچہ شریعت کے ظاہری حکم کی روشنی میں حرام قرار نہ پائے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ اس طرح کے اخراجات قلب و طبیعت پر تنگی و سختی اور بےمروتی طاری ہونے کا سبب بنتے ہیں اس صورت حال سے سماج و معاشرہ میں غیر فطری عدم توازن و ناہمواری کی فضا بھی پیدا ہوجاتی ہے جس سے مختلف قسم کی برائیوں ظہور میں آتی ہیں۔ اسی طرح برتن باسنوں ہتھیاروں اور استعمال میں آنے والی دوسری چیزوں کو سونے جواہرات اور دیگر قیمتی اشیاء سے مزین کرنا، خریدو فروخت کے معاملات میں اس طرح لاپرواہی برتنا کہ نہ تو مال کے ڈوبنے کا خوف ہو جیسے ادھار لین دین کی مدت کو ضرورت سے زائد بڑھانے اور نہ اپنے روپے پیسے کی حفاظت کا لحاظ ہو جیسے ایسی تجارت یا معاملہ میں اپنا روپیہ لگانا جس میں نقصان کا یقین ہو یا کسی چیز کو خواہ مخواہ بلاضرورت گراں قیمت پر خریدنا اس طرح کی چیزیں بھی اسراف یعنی فضول خرچی اور اپنے مال کو ضائع کرنے کے حکم میں داخل ہیں۔
4812
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عمرو قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من الكبائر شتم الرجل والديه . قالوا يا رسول الله وهل يشتم الرجل والديه ؟ قال نعم يسب أبا الرجل فيسب أباه ويسب أمه فيسب أمه . متفق عليه
اور حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے ماں باپ کو گالی دینا گناہ کبیرہ ہے صحابہ (رض) نے یہ سن کر عرض کیا یا رسول اللہ کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو گالی دیتا ہے ؟ آپ نے فرمایا ہاں کیوں نہیں کبھی کبھار تو حقیقت میں بھی کوئی جاہل شخص اپنے ماں باپ کو گالی بک دیتا ہے اور یہ تو اکثر ہوتا ہے کہ لوگ اپنے ماں باپ کو اگرچہ حقیقت خود گالی نہیں دیتے مگر ان کو گالی دلوانے کا سبب ضرور بنتے ہیں اور وہ اس طرح کہ اگر کوئی شخص کسی کے باپ کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے اور اگر کوئی شخص کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔ (بخاری)
تشریح
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ اپنے ماں باپ کو گالی دینا اور برا بھلا کہنا تو گناہ کبیر ہے ہی لیکن جو شخص کسی کے ماں باپ کو گالی دے کر اپنے ماں باپ کو گالی دینے اور ان کو برا بھلاکہلوانے کا سبب بنے وہ بھی گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار پایا جائے کیونکہ اگر وہ اس شخص کے ماں باپ کو گالی نہ دیتا تو وہ شخص بھی اس کے ماں باپ کو گالی نہ دیتا لہذا جب وہ اپنے ماں باپ کو گالی دینے کا باعث بنا تو گویا اس نے خود کو گالی دی اور ماں کو گالی دینا عقوق والدین یعنی نافرمانی اور تمردد و سرکشی میں داخل ہے جو حرام ہے۔ گر مادر خویش دوست داری وشنام مدہ بمادر من مذکورہ بالا حدیث سے یہ مسئلہ بھی نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی فسق و معصیت کا سبب و ذریعہ بنے گا تو اس کا شمار بھی فسق و معصیت کے مرتکب کی حثییت سے ہوگا اور درجہ کا گناہ گار بھی ہوگا۔
تشریح
اس حدیث سے یہ بات واضح ہوئی کہ اپنے ماں باپ کو گالی دینا اور برا بھلا کہنا تو گناہ کبیر ہے ہی لیکن جو شخص کسی کے ماں باپ کو گالی دے کر اپنے ماں باپ کو گالی دینے اور ان کو برا بھلاکہلوانے کا سبب بنے وہ بھی گناہ کبیرہ کا مرتکب قرار پایا جائے کیونکہ اگر وہ اس شخص کے ماں باپ کو گالی نہ دیتا تو وہ شخص بھی اس کے ماں باپ کو گالی نہ دیتا لہذا جب وہ اپنے ماں باپ کو گالی دینے کا باعث بنا تو گویا اس نے خود کو گالی دی اور ماں کو گالی دینا عقوق والدین یعنی نافرمانی اور تمردد و سرکشی میں داخل ہے جو حرام ہے۔ گر مادر خویش دوست داری وشنام مدہ بمادر من مذکورہ بالا حدیث سے یہ مسئلہ بھی نکلا کہ اگر کوئی شخص کسی فسق و معصیت کا سبب و ذریعہ بنے گا تو اس کا شمار بھی فسق و معصیت کے مرتکب کی حثییت سے ہوگا اور درجہ کا گناہ گار بھی ہوگا۔
4813
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من أبر البر صلة الرجل أهل ود أبيه بعد أن يولي . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا سب سے اعلی نیکیوں میں ایک اعلی نیکی یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے باپ کے مرنے کے بعد یا اس کی غیر موجودگی میں اس کے دوستوں کے ساتھ احسان و سلوک کرے۔ (مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کا باپ مرگیا ہو یا سفر پر گیا ہو تو اس کے دوستوں کے ساتھ احسان و مروت کا معاملہ کرنا اور حسن سلوک کا برتاؤ کرنا گویا اپنے باپ کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنا ہے اور اس کا یہ معاملہ چونکہ اپنے باپ کی غیر موجودگی میں ہوگا اس لئے وہ بہترین اور اعلی نیکی کرنے والا شخص شمار ہوگا۔ حدیث شریف میں صرف باپ کے دوستوں کا ذکر کرنا اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ماں کی سکھیوں سہلیوں کے ساتھ احسان و حسن سلوک کا بدرجہ اولی ایک بہترین نیکی ہوگا۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کسی کا باپ مرگیا ہو یا سفر پر گیا ہو تو اس کے دوستوں کے ساتھ احسان و مروت کا معاملہ کرنا اور حسن سلوک کا برتاؤ کرنا گویا اپنے باپ کے ساتھ احسان اور حسن سلوک کرنا ہے اور اس کا یہ معاملہ چونکہ اپنے باپ کی غیر موجودگی میں ہوگا اس لئے وہ بہترین اور اعلی نیکی کرنے والا شخص شمار ہوگا۔ حدیث شریف میں صرف باپ کے دوستوں کا ذکر کرنا اور اس طرف اشارہ کرتا ہے کہ ماں کی سکھیوں سہلیوں کے ساتھ احسان و حسن سلوک کا بدرجہ اولی ایک بہترین نیکی ہوگا۔
4814
Mishkaat Shareefوعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من أحب أن يبسط له في رزقه وينسأ له في أثره فليصل رحمه . متفق عليه . ( متفق عليه )
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو شخص چاہتا ہے کہ اس کے رزق میں وسعت و فراخی اور اس کی موت میں تاخیر کی جائے یعنی اس کی عمر دراز ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اپنے رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
اثر اصل میں پیروں کے اس نشان کو کہتے ہیں جو چلتے وقت زمین پر پڑتا ہے اور وہ نشان گویا زندگی کی علامت ہوتا ہے جو شخص مرگیا اس کا نشان قدم زمین پر نہیں پڑا اس اعتبار سے عرب میں مدت عمر کو اثر کہا جانے لگا۔ حدیث کے اس جملہ اس کے رزق میں وسعت فراخی اور اس کی موت تاخیر کی جانے کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہ اسلامی عقیدے میں رزق کا تعلق تقدیر سے ہے کہ جس شخص کے مقدر میں جس قدر رزق لکھ دیا گیا ہے اس کو اسی قدر ملے گا اس میں نہ کمی ہوسکتی ہے اور نہ زیادتی ہوسکتی ہے اور اسی طرح موت کا وقت بھی متعین ہے جس کی موت کا جو وقت کاتب تقدیر نے لکھ دیا ہے اس وقت سے نہ ایک لمحہ پہلے موت آسکتی ہے اور نہ ایک لمحہ بعد جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے، آیت (فاذا جاء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولایستقدمون) ۔ پھر جب وہ میعاد ختم ہوگی یعنی عمر پوری ہوگی اس وقت نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں گے اور نہ آگے بڑھیں گے۔ لہذا اس واضح عقیدے کی روشنی میں حدیث کے مذکورہ بالا جملے کے معنی کیا ہوں گے اس کا جواب یہ ہے کہ رزق میں وسعت فراخی اور درازی عمر سے مراد رزق میں برکت کا محسوس ہونا، شب و روز کا خوشی و مسرت اور اطمینان و سکون کے ساتھ گزرنا عمر کے بیشتر لمحات کو طاعات و عبادات کی زیادہ سے زیادہ توفیق حاصل ہونا اور قلب کو نورانیت اور باطن کو صفائی و پاکیزگی کا نصیب ہونا ہے یا درازی عمر سے مراد دنیا جہان میں نام کو نیک بقا حاصل رہنا ہے یا یہ کہ درازی عمر سے اولاد صالح مراد ہے جو اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے حق میں دعا و مغفرت اور ایصال ثواب کرتی ہے اور اس کے نیک نام کو باقی رکھتی ہے اس لئے کہا گیا ہے کہ بقائے اولاد مردہ کے لئے پیدائش ثانی ہے یعنی صاحب اولاد شخص مرنے کے بعد بھی اس اولاد کی صورت میں ایک طرح سے اپنا وجود باقی رکھتا ہے۔ اور اگر زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ رزق و عمر کے بارے میں مذکورہ بالا عقیدہ اور حدیث کے مفہوم کے درمیان کوئی ایسا تضاد نہیں ہے جس کو دور کرنے کے لئے دقیق تاویلات اختیار کی جائیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ نے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کو فراخی و رزق اور درازی عمر کا سبب قرار دیا ہے جیسا کہ اس نے ہر چیز کے لئے کوئی نہ کوئی سبب ضرور پیدا کیا ہے چناچہ وہ جس کے رزق میں وسعت، فراخی اور عمر درازی کرنا چاہتا ہے اس کو رشتہ داروں کے تئیں ادائے حقوق کی توفیق بخش دیتا ہے اور یہ بات ایسی نہیں ہے کہ جس کو تقدیر الٰہی میں ترمیم و تغیر کا نام دیا جائے زیادہ سے زیادہ اس بات کو خلق کی نسبت سے محو سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جیسے لوح محفوظ میں لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص کی عمر ساٹھ سال کی ہے لیکن اگر یہ شخص اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرے تو اس کی عمر چالیس سال کا اضافہ ہوجائے۔ اس مسئلہ میں بحث کی خاطر علمی اور تحقیقی طور پر بہت سی باتیں کہی جاسکتی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ صرف شارع نے جو بیان کردیا ہے اور جس طرح فرمایا ہے بس اسی پر ایمان اور اعتقاد رکھا جائے نہ کہ بحث و مباحثہ کے ذریعہ شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں چناچہ سعادت کی نشانی میں ہے کہ اس طرح کی چیزوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے جتنا ارشاد فرما دیا ہے اسی کو اختیار کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے اور دور دراز کی بحثوں اور تحیقی موشگافیوں میں الجھ کر اپنے ذہن و فکر کو بوجھل نہ بنایا جائے۔
تشریح
اثر اصل میں پیروں کے اس نشان کو کہتے ہیں جو چلتے وقت زمین پر پڑتا ہے اور وہ نشان گویا زندگی کی علامت ہوتا ہے جو شخص مرگیا اس کا نشان قدم زمین پر نہیں پڑا اس اعتبار سے عرب میں مدت عمر کو اثر کہا جانے لگا۔ حدیث کے اس جملہ اس کے رزق میں وسعت فراخی اور اس کی موت تاخیر کی جانے کے متعلق یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کہ اسلامی عقیدے میں رزق کا تعلق تقدیر سے ہے کہ جس شخص کے مقدر میں جس قدر رزق لکھ دیا گیا ہے اس کو اسی قدر ملے گا اس میں نہ کمی ہوسکتی ہے اور نہ زیادتی ہوسکتی ہے اور اسی طرح موت کا وقت بھی متعین ہے جس کی موت کا جو وقت کاتب تقدیر نے لکھ دیا ہے اس وقت سے نہ ایک لمحہ پہلے موت آسکتی ہے اور نہ ایک لمحہ بعد جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا ہے، آیت (فاذا جاء اجلھم لایستاخرون ساعۃ ولایستقدمون) ۔ پھر جب وہ میعاد ختم ہوگی یعنی عمر پوری ہوگی اس وقت نہ ایک گھڑی پیچھے ہٹیں گے اور نہ آگے بڑھیں گے۔ لہذا اس واضح عقیدے کی روشنی میں حدیث کے مذکورہ بالا جملے کے معنی کیا ہوں گے اس کا جواب یہ ہے کہ رزق میں وسعت فراخی اور درازی عمر سے مراد رزق میں برکت کا محسوس ہونا، شب و روز کا خوشی و مسرت اور اطمینان و سکون کے ساتھ گزرنا عمر کے بیشتر لمحات کو طاعات و عبادات کی زیادہ سے زیادہ توفیق حاصل ہونا اور قلب کو نورانیت اور باطن کو صفائی و پاکیزگی کا نصیب ہونا ہے یا درازی عمر سے مراد دنیا جہان میں نام کو نیک بقا حاصل رہنا ہے یا یہ کہ درازی عمر سے اولاد صالح مراد ہے جو اپنے ماں باپ کے مرنے کے بعد اس کے حق میں دعا و مغفرت اور ایصال ثواب کرتی ہے اور اس کے نیک نام کو باقی رکھتی ہے اس لئے کہا گیا ہے کہ بقائے اولاد مردہ کے لئے پیدائش ثانی ہے یعنی صاحب اولاد شخص مرنے کے بعد بھی اس اولاد کی صورت میں ایک طرح سے اپنا وجود باقی رکھتا ہے۔ اور اگر زیادہ گہرائی کے ساتھ دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ رزق و عمر کے بارے میں مذکورہ بالا عقیدہ اور حدیث کے مفہوم کے درمیان کوئی ایسا تضاد نہیں ہے جس کو دور کرنے کے لئے دقیق تاویلات اختیار کی جائیں کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ اللہ نے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کرنے کو فراخی و رزق اور درازی عمر کا سبب قرار دیا ہے جیسا کہ اس نے ہر چیز کے لئے کوئی نہ کوئی سبب ضرور پیدا کیا ہے چناچہ وہ جس کے رزق میں وسعت، فراخی اور عمر درازی کرنا چاہتا ہے اس کو رشتہ داروں کے تئیں ادائے حقوق کی توفیق بخش دیتا ہے اور یہ بات ایسی نہیں ہے کہ جس کو تقدیر الٰہی میں ترمیم و تغیر کا نام دیا جائے زیادہ سے زیادہ اس بات کو خلق کی نسبت سے محو سے تعبیر کیا جاسکتا ہے جیسے لوح محفوظ میں لکھ دیا جاتا ہے کہ فلاں شخص کی عمر ساٹھ سال کی ہے لیکن اگر یہ شخص اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کے ساتھ حسن سلوک کرے تو اس کی عمر چالیس سال کا اضافہ ہوجائے۔ اس مسئلہ میں بحث کی خاطر علمی اور تحقیقی طور پر بہت سی باتیں کہی جاسکتی ہیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ صرف شارع نے جو بیان کردیا ہے اور جس طرح فرمایا ہے بس اسی پر ایمان اور اعتقاد رکھا جائے نہ کہ بحث و مباحثہ کے ذریعہ شکوک و شبہات پیدا کئے جائیں چناچہ سعادت کی نشانی میں ہے کہ اس طرح کی چیزوں کے بارے میں آنحضرت ﷺ نے جتنا ارشاد فرما دیا ہے اسی کو اختیار کیا جائے اور اس پر عمل کیا جائے اور دور دراز کی بحثوں اور تحیقی موشگافیوں میں الجھ کر اپنے ذہن و فکر کو بوجھل نہ بنایا جائے۔
4815
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم خلق الله الخلق فلما فرغ منه قامت الرحم فأخذت بحقوي الرحمن فقال مه ؟ قالت هذا مقام العائذ بك من القطيعة . قال ألا ترضين أن أصل من وصلك وأقطع من قطعك ؟ قالت بلى يا رب قال فذاك . متفق عليه
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے مخلوقات کو پیدا کیا یعنی اللہ نے تمام مخلوقات کو ان کی پیدائش سے پہلے ان صورتوں کے ساتھ اپنے علم ازلی میں مقدر کردیا جن وہ پیدا ہوں گے جب اس سے فارغ ہوا تو رحم یعنی رشتہ ناتا کھڑا ہو اور پروردگا کی کمر تھام لی، پروردگار نے فرمایا کیا چاہتا ہے ؟ رحم نے عرض کیا کہ یہ کاٹے جانے کے خوف سے تیری پناہ کے طلبگار کے کھڑے ہونے کی جگہ ہے یعنی میں تیرے روبرو کھڑا ہوں اور تیرے دامن عزت و عظمت کی طرف دست سوال دراز ہوں تجھ سے اس امر کی پناہ چاہتا ہوں کہ کوئی شخص مجھ کو کاٹ دے اور میرے دامن عزت و عظمت کی طرف دست سوال دراز کئے ہوئے ہوں تجھ سے اس امر کی پناہ چاہتا ہوں کہ کوئی شخص مجھ کو کاٹ دے اور میرے دامن کو جوڑنے کے بجائے اس کو تار تار کر دے۔ پروردگار نے فرمایا کہ تو اس پر راضی نہیں ہے کہ جو شخص رشتہ داروں اور عزیزوں کے ساتھ حسن سلوک کا ذریعہ) تجھ کو قائم رکھے اور اس کو میں بھی اپنے احسان و انعام اور اجر و بخشش کے ذریعہ قائم برقرار رکھوں گا اور جو شخص رشتہ داری کے تعلق کو پامالی کا ذریعہ تجھ کو منقطع کر دے میں بھی اپنے احسان و انعام کا تعلق اس سے منقطع کرلوں ؟ رحم نے عرض کیا کہ پروردگار بیشک میں اس پر راضی ہوں پروردگار نے فرمایا اچھا تو یہ وعدہ تیرے لئے ثابت و برقرار ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
جب اس سے فارغ ہوا کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ مخلوقات کو پیدا کرچکا اگرچہ ظاہری طور پر ان دونوں جملوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن اس میں ایک لطیف نکتہ ہے کہ لغوی طور پر فراغت کا حقیقی مفہوم اپنے تحقق کے لئے پہلے اشتغال کا متقاضی ہوتا ہے یعنی فراغت کا مفہوم اس صورت پر صادق آتا ہے کہ جب کسی کام میں مشغولیت رہی ہو اور اس کام کے علاوہ دیگر امور سے باز رکھتی ہے اس لئے کہا جائے گا کہ جب اس سے فارغ ہوا میں فراغت اپنے اس حقیقی مفہوم میں استعمال نہیں ہوا ہے کیونکہ حق تعالیٰ اس سے پاک منزہ ہے کہ اس کو ایک کام دوسرے کام سے باز رکھے جیسا کہ ایک دعائے ماثورہ میں یوں آیا ہے، سبحان من لا تشغلہ شان عن شان، ،۔ حقو دراصل اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں ازار باندھا جائے اور چونکہ ازار کو باندھنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے دونوں کناروں کو ملا کر باندھنا اس اعتبار سے یہاں اس لفظ کا تثنیہ استعمال کرتے ہوئے بحقوی الرحمن فرمایا گیا یعنی وہ جگہ جہاں ازار کے دونوں کنارے باندھے جاتے ہیں ویسے لفظ، حقو، کا اطلاق خود ازار باندھنے کی جگہ اور کمر جیسی چیزوں سے پاک ومنزہ ہے اس لئے یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ یہ جملہ اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں ہے بلکہ اہل عرب کے ایک مخصوص اور اپنے بیان کا مظہر ہے اور یہاں جس بات کو بیان کرنا مقصود تھا ان کو انہی کے طرز کلام کی مثالی صورت میں واضح کیا گیا ہے چناچہ اہل عرب کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کی پناہ میں آنا چاہتا یا اس کی مدد کا خواہاں ہوتا جو اس کو سخت اضطراب و پریشانی میں ڈالنے والی ہوتی اور وہ پناہ یا مدد چاہنے کی اپنی ضروریات کو زیادہ اہمیت رکھتا اور تاکید کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا تو جس کی پناہ یا مدد درکار ہوتی اس کے حقو ازار پر دونوں ہاتھ مارتا تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوجائے اور یہ پوچھنے پر مجبور ہو کہ تیرا مقصد کیا ہے اور مجھ سے کیا چاہتا ہے چناچہ رشتہ ناطے کا اپنے کاٹے جانے سے اللہ کی پناہ مانگنے کے مفہوم ہے جو کسی انسان کو پکڑنے کا ہوتا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اہل عرب کے ہاں جب کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یداہ مبسوطتان یعنی اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں تو اس سے مراد اس کی نہایت سخاوت و فیاضی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے خواہ وہ واقعتا ہاتھوں والا ہو یا خلقی طور پر سرے سے اس کے ہاتھ ہی نہ ہوں اور خواہ وہ ایسی ذات ہو جس کے لئے ہاتھوں کا وجود ہی محال ہو جیسے حق تعالیٰ کی ذات حاصل یہ ہے کہ اس طرح کے طرز کلام اہل عرب میں محاورہ کے طور پر بہت مستعمل ہیں جن کے الفاظ اپنے حقیقی معنی کو ادا کرنے کے بجائے دوسرے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور چونکہ قرآن کریم کا نزول اور احادیث نبوی کا صدور اہل عرب ہی کے طرز کلام پر اور اسلوب بیان کے مطابق ہوا ہے اس لئے قرآن و حدیث کے ایسے مقام کہ جہاں اس طرح کے جملے آتے ہیں اور جن پر متشابہات کا اطلاق ہوتا ہے اور ان کی تاویل وضاحت کے لئے یہ بات ایک بنیاد کی حثییت رکھتی ہے ویسے اس امر کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ رحم یعنی رشتہ و ناطہ کوئی ذات و جسم تو ہے نہیں کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر حق تعالیٰ سے پناہ کا طلبگار ہو بلکہ حقیقت میں وہ ایک معنی ہے لہذا اس کے لئے کھڑے ہونے اور پناہ چاہنے کے الفاظ استعمال کرنا بطور تشبیہ و تمثیل ہی ہوسکتا ہے جس سے اس بات کو واضح کرنا مراد ہے کہ رحم گویا ایک ہستی یا ایک ایسے شخص کی طرح ہے جو کھڑا ہو اور حق تعالیٰ کی عزت و عظمت اور اس کی کبریائی کا دامن پکڑ کر پناہ کا طلب گار ہو۔ اسی طرح کی بات نووی نے بھی بیان کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ رحم جس کو جوڑا جاتا ہے یا کاٹا جاتا ہے کوئی ذات یا جسم نہیں ہے بلکہ معانی میں سے ایک معنی ہے جو نہ کھڑا ہوسکتا ہے اور نہ اس سے کلام و گفتگو ہوسکتی ہے لہذا اس کے بارے میں مذکورہ ارشاد کی مراد دراصل رحم یعنی ناطے کی اہمیت کو ظاہر کرنا، ناطے کو جوڑنے والے کی فضیلت کو بیان کرنا اور ناطے کی مذمت کرنا ہے کیونکہ ناطے کو جوڑنا فی الجملہ واجب ہے اور اس کو توڑنا گناہ کبیرہ ہے اگرچہ صلہ رحم کے درجات متعین کردیئے گئے ہیں جن میں سے بعض کو زیادہ اہمیت اور برتری حاصل ہے اور سب سے ادنیٰ درجہ ترک مہاجرت یعنی میل ملاقات کو اختیار کرنا ہے کیونکہ صلہ رحم کا ایک ذریعہ کلام و ملاقات بھی ہے اگرچہ وہ محض سلام کی حد تک ہو۔ واضح رہے کہ صلہ رحم کے ان درجات کے درمیان تفاوت و اختلاف کی بنیاد مواقع و حالات اور ضرورت قدرت کے مختلف ہونے پر ہے چناچہ بعض صورتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں رشتہ داری کے تعلق کی رعایت اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کی زیادہ اہمیت و ضرورت ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں زیادہ اہم ہے اور بعض میں مستحب لہذا اگر کسی شخص نے ناتا جوڑنے کے حق کو جزوی طور پر ادا کیا اور اس کو پورے طور پر ادا نہیں کرسکتا تو اس کو ناتا توڑنے والا نہیں کہیں گے لیکن اگر کسی شخص نے رشتہ داری کے حقوق میں سے کسی ایسے حق کو پورا کرنے میں کوتاہی کی جس کو پورا کرنے پر وہ قادر تھا نیز اس حق کو پورا کرنا اس لئے مناسب بھی تھا تو اس شخص کو ناتا جوڑنے والا کہا جائے گا۔
تشریح
جب اس سے فارغ ہوا کا مطلب یہ ہے کہ جب وہ مخلوقات کو پیدا کرچکا اگرچہ ظاہری طور پر ان دونوں جملوں میں کوئی فرق نہیں ہے لیکن اس میں ایک لطیف نکتہ ہے کہ لغوی طور پر فراغت کا حقیقی مفہوم اپنے تحقق کے لئے پہلے اشتغال کا متقاضی ہوتا ہے یعنی فراغت کا مفہوم اس صورت پر صادق آتا ہے کہ جب کسی کام میں مشغولیت رہی ہو اور اس کام کے علاوہ دیگر امور سے باز رکھتی ہے اس لئے کہا جائے گا کہ جب اس سے فارغ ہوا میں فراغت اپنے اس حقیقی مفہوم میں استعمال نہیں ہوا ہے کیونکہ حق تعالیٰ اس سے پاک منزہ ہے کہ اس کو ایک کام دوسرے کام سے باز رکھے جیسا کہ ایک دعائے ماثورہ میں یوں آیا ہے، سبحان من لا تشغلہ شان عن شان، ،۔ حقو دراصل اس جگہ کو کہتے ہیں جہاں ازار باندھا جائے اور چونکہ ازار کو باندھنے کی صورت یہ ہوتی ہے کہ اس کے دونوں کناروں کو ملا کر باندھنا اس اعتبار سے یہاں اس لفظ کا تثنیہ استعمال کرتے ہوئے بحقوی الرحمن فرمایا گیا یعنی وہ جگہ جہاں ازار کے دونوں کنارے باندھے جاتے ہیں ویسے لفظ، حقو، کا اطلاق خود ازار باندھنے کی جگہ اور کمر جیسی چیزوں سے پاک ومنزہ ہے اس لئے یہ بات ملحوظ رکھنی چاہیے کہ یہ جملہ اپنے حقیقی معنی پر محمول نہیں ہے بلکہ اہل عرب کے ایک مخصوص اور اپنے بیان کا مظہر ہے اور یہاں جس بات کو بیان کرنا مقصود تھا ان کو انہی کے طرز کلام کی مثالی صورت میں واضح کیا گیا ہے چناچہ اہل عرب کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی شخص کسی دوسرے کی پناہ میں آنا چاہتا یا اس کی مدد کا خواہاں ہوتا جو اس کو سخت اضطراب و پریشانی میں ڈالنے والی ہوتی اور وہ پناہ یا مدد چاہنے کی اپنی ضروریات کو زیادہ اہمیت رکھتا اور تاکید کے ساتھ ظاہر کرنا چاہتا تو جس کی پناہ یا مدد درکار ہوتی اس کے حقو ازار پر دونوں ہاتھ مارتا تاکہ وہ اس کی طرف متوجہ ہوجائے اور یہ پوچھنے پر مجبور ہو کہ تیرا مقصد کیا ہے اور مجھ سے کیا چاہتا ہے چناچہ رشتہ ناطے کا اپنے کاٹے جانے سے اللہ کی پناہ مانگنے کے مفہوم ہے جو کسی انسان کو پکڑنے کا ہوتا ہے یہ ایسا ہی ہے جیسا کہ اہل عرب کے ہاں جب کسی کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یداہ مبسوطتان یعنی اس کے دونوں ہاتھ کھلے ہوئے ہیں تو اس سے مراد اس کی نہایت سخاوت و فیاضی کو ظاہر کرنا ہوتا ہے خواہ وہ واقعتا ہاتھوں والا ہو یا خلقی طور پر سرے سے اس کے ہاتھ ہی نہ ہوں اور خواہ وہ ایسی ذات ہو جس کے لئے ہاتھوں کا وجود ہی محال ہو جیسے حق تعالیٰ کی ذات حاصل یہ ہے کہ اس طرح کے طرز کلام اہل عرب میں محاورہ کے طور پر بہت مستعمل ہیں جن کے الفاظ اپنے حقیقی معنی کو ادا کرنے کے بجائے دوسرے مفہوم کی طرف اشارہ کرتے ہیں اور چونکہ قرآن کریم کا نزول اور احادیث نبوی کا صدور اہل عرب ہی کے طرز کلام پر اور اسلوب بیان کے مطابق ہوا ہے اس لئے قرآن و حدیث کے ایسے مقام کہ جہاں اس طرح کے جملے آتے ہیں اور جن پر متشابہات کا اطلاق ہوتا ہے اور ان کی تاویل وضاحت کے لئے یہ بات ایک بنیاد کی حثییت رکھتی ہے ویسے اس امر کو بھی ملحوظ رکھنا چاہیے کہ رحم یعنی رشتہ و ناطہ کوئی ذات و جسم تو ہے نہیں کہ وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہو کر حق تعالیٰ سے پناہ کا طلبگار ہو بلکہ حقیقت میں وہ ایک معنی ہے لہذا اس کے لئے کھڑے ہونے اور پناہ چاہنے کے الفاظ استعمال کرنا بطور تشبیہ و تمثیل ہی ہوسکتا ہے جس سے اس بات کو واضح کرنا مراد ہے کہ رحم گویا ایک ہستی یا ایک ایسے شخص کی طرح ہے جو کھڑا ہو اور حق تعالیٰ کی عزت و عظمت اور اس کی کبریائی کا دامن پکڑ کر پناہ کا طلب گار ہو۔ اسی طرح کی بات نووی نے بھی بیان کی ہے انہوں نے کہا ہے کہ رحم جس کو جوڑا جاتا ہے یا کاٹا جاتا ہے کوئی ذات یا جسم نہیں ہے بلکہ معانی میں سے ایک معنی ہے جو نہ کھڑا ہوسکتا ہے اور نہ اس سے کلام و گفتگو ہوسکتی ہے لہذا اس کے بارے میں مذکورہ ارشاد کی مراد دراصل رحم یعنی ناطے کی اہمیت کو ظاہر کرنا، ناطے کو جوڑنے والے کی فضیلت کو بیان کرنا اور ناطے کی مذمت کرنا ہے کیونکہ ناطے کو جوڑنا فی الجملہ واجب ہے اور اس کو توڑنا گناہ کبیرہ ہے اگرچہ صلہ رحم کے درجات متعین کردیئے گئے ہیں جن میں سے بعض کو زیادہ اہمیت اور برتری حاصل ہے اور سب سے ادنیٰ درجہ ترک مہاجرت یعنی میل ملاقات کو اختیار کرنا ہے کیونکہ صلہ رحم کا ایک ذریعہ کلام و ملاقات بھی ہے اگرچہ وہ محض سلام کی حد تک ہو۔ واضح رہے کہ صلہ رحم کے ان درجات کے درمیان تفاوت و اختلاف کی بنیاد مواقع و حالات اور ضرورت قدرت کے مختلف ہونے پر ہے چناچہ بعض صورتیں ایسی ہوتی ہیں جن میں رشتہ داری کے تعلق کی رعایت اور رشتہ داروں سے نیک سلوک کی زیادہ اہمیت و ضرورت ہوتی ہے اور بعض صورتوں میں زیادہ اہم ہے اور بعض میں مستحب لہذا اگر کسی شخص نے ناتا جوڑنے کے حق کو جزوی طور پر ادا کیا اور اس کو پورے طور پر ادا نہیں کرسکتا تو اس کو ناتا توڑنے والا نہیں کہیں گے لیکن اگر کسی شخص نے رشتہ داری کے حقوق میں سے کسی ایسے حق کو پورا کرنے میں کوتاہی کی جس کو پورا کرنے پر وہ قادر تھا نیز اس حق کو پورا کرنا اس لئے مناسب بھی تھا تو اس شخص کو ناتا جوڑنے والا کہا جائے گا۔