hadith book logo

Mishkaat Shareef

20. گرہن کے متعلق احادیث کی کتاب

مشكاة المصابيح

1453
Mishkaat Shareef
صحیح
مشہور اہل لغت اہل علم کا قول یہ ہے کہ خسوف چاند گرہن کو فرماتے ہیں کہ کسوف سورج گرہن کو۔ اس باب میں جتنی احادیث نقل کی جائیں گی سب کی سب سورج گرہن سے متعلق ہیں۔ ہاں صرف ایک حدیث جو پہلی فصل کی دوسری حدیث ہے اس کے بارے میں احتمال ہے کہ وہ چاند گرہن سے متعلق ہے لہٰذا مولف مشکوٰۃ کے لئے بہتر یہ تھا کہ وہ اس باب کا نام الصلوٰۃ الخسوف کی بجائے باب صلوٰۃ الکسوف رکھتے۔ بعض علماء نے لفظ کسوف دونوں جگہ استعمال کیا ہے سورج گرہن میں بھی چاند گرہن میں بھی، اسی طرح بعض حضرات نے لفظ خسوف کو بھی دونوں جگہ استعمال کیا ہے۔ سورج گرہن کی نماز بالا تفاق جمہور علماء کے نزدیک مسنون ہے۔ حنفیہ کے نزدیک سورج گرہن کی نماز دو رکعت باجماعت بغیر خطبہ کے ہے۔ چاند گرہن کی نماز میں دو رکعت ہے مگر اس میں جماعت نہیں ہے بلکہ ہر آدمی الگ الگ یہ نماز پڑھے حضرت امام شافعی (رح) کے نزدیک دونوں میں جماعت اور خطبہ ہے۔
1454
Mishkaat Shareef
صحیح
عَنْ عَائِشَۃَ رضی اللہ عنہاقَالَتْ اِنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَبَعَثَ مُنَادِےًا اَلصَّلٰوۃُ جَامِعَۃٌ فَتَقَدَّمَ فَصَلّٰی اَرْبَعَ رَکَعَاتٍ فِیْ رَکْعَتَےْنِ وَاَرْبَعَ سَجَدَاتٍ قَالَتْ عَآئِشَۃُ مَا رَکَعْتُ رُکُوْعًا قَطُّ وَلَا سَجَدْتُّ سُجُوْدًا قَطُّ کَانَ اَطْوَلَ مِنْہُ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانہ مبارک میں (ہجرت کے بعد ایک مرتبہ) سورج گرہین ہوا چناچہ آپ ﷺ نے ایک منادی والے کو (لوگوں کے درمیان) بھیجا کہ وہ منادی کر دے کہ الصلوٰۃ جامعۃ یعنی نماز جمع کرنے والی ہے چناچہ ( جب لوگ جمع ہوگے تو) آپ ﷺ آگے بڑھے اور دو رکعت نماز پڑھائی جن میں چار رکوع کئے اور چار سجدے کئے۔ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ (جتنے طویل رکوع اور سجدے میں نے اس دن نماز خسوف میں کئے) اس سے زیادہ طویل میں نے نہ کبھی رکوع کیا اور نہ کبھی سجدہ کیا۔ ( صحیح البخاری و صحیح مسلم)

تشریح
نماز خسوف میں لوگوں کو جمع کرنے کے لئے الصلوٰۃ جامعۃ پکار کر کہنا سنت ہے خاص طور پر جب کہ لوگ اس نماز کے لئے جمع نہ ہوئے ہوں۔ علماء کا اس بات پر اجماع ہے کہ یہ نماز جماعت کے ساتھ جامع مسجد میں یا عید گاہ میں پڑھی جائے نیز یہ نماز اوقات مکروہہ میں نہ پڑھی جائے۔ فصلی اربع رکعات الخ سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے چار رکوع اور چار سجدے کئے یعنی ہر رکعت میں دو رکوع اور دو سجدے کئے لیکن امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک میں دوسری نمازوں کی طرح اس نماز میں بھی ہر رکعت میں ایک ہی رکوع ہے ان کی دلیل وہ احادیث ہیں جن سے ایک ہی رکوع کرنا ثابت ہے بلکہ اس باب میں ایک حدیث قولی بھی منقول ہے اور یہ کلمہ ہے کہ جہاں قول اور فعل ثابت ہوتے ہیں تو فعل پر قول کو ترجیح دی جاتی ہے۔
1455
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْھَا قَالَتْ جَھَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ صَلٰوۃِ الْخُسُوْفِ بِقِرَآتِہٖ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں یہ رسول اللہ ﷺ نے نماز خسوف یعنی چاند گرہن کی نماز میں قرأت بآواز بلند پڑھی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)
1456
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ انْخَسَفَتِ الشَّمْسُ عَلٰی عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم وَالنَّاسُ مَعَہُ فَقَامَ قِےَامًا طَوِےْلًا نَّحْوًا مِّنْ قِرَآءَ ِۃ سُوْرَۃِ الْبَقَرَۃِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِےْلًا ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِےَامًا طَوِےْلًا وَھُوَ دُوْنَ الْقِےَامِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِےْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرَّکُوْعِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ قَامَ فَقَامَ قِےَامًا طَوِےْلًا وَّھُوَ دُوْنَ الْقِےَامِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعًا طَوِےْلًا وَھُوَ دُوْنَ الرُّکُوْعِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ فَقَامَ قِیَامًا طَوِیْلًا وَہُوَ دُوْنَ الْقِیَامِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَکَعَ رُکُوْعاً طَوِیْلاًوَہُوَ دُوْنَ الرَّکُوْعِ الْاَوَّلِ ثُمَّ رَفَعَ ثُمَّ سَجَدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدْ تَجَلَّتِ الشَّمْسُ فَقَالَ اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰےَتَانِ مِنْ اٰےَاتِ اللّٰہِ لاَ ےَخْسِفَانِ لِمَوْتِ اَحَدٍ وَلَا لِحَےٰوتِہٖ فَاِذَا رََاَےْتُمْ ذَالِکَ فَاذْکُرُواللّٰہَ قَالُوْا ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ رَاَےْنَاکَ تَنَاوَلْتَ شَےْئًا فِیْ مَقَامِکَ ھٰذَا ثُمَّ رَاَےْنَاکَ تَکَعْکَعْتَ فَقَالَ اِنِّیْ رَاَےْتُ الْجَنَّۃَ فَتَنَاوَلْتُ مِنْھَا عُنْقُوْدًا وَلَوْ اَخَذْتُہُ لَاَکَلْتُمْ مِنْہُ مَا بَقِےَتِ الدُّنْےَا وَرَاَےْتُ النَّارَ فَلَمْ اَرَ کَالْےَوْمِ مَنْظَرًا قَطُّ اَفْظَعَ وَرَاَےْتُ اَکْثَرَ اَھْلِھَا النِّسَآءَ فَقَالُوْا بِمَ ےَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ بِکُفْرِھِنَّ قِےْلَ ےَکْفُرْنَ بِاللّٰہِ قَالَ ےَکْفُرْنَ الْعَشِےْرَ وَےَکْفُرْنَ الْاِحْسَانَ لَوْ اَحْسَنْتَ اِلٰی اِحْدَاھُنَّ الدَّھْرَ ثُمَّ رَاَتْ مِنْکَ شَےْئًا قَالَتْ مَا رَاَےْتُ مِنْکَ خَےْرًا قَطُّ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم )
اور حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں سورج گرہن ہوا، آپ ﷺ نے لوگوں کے ساتھ ( اس طرح) نماز پڑھی کہ سورت بقرہ کی قرأت کی بقدر طویل قیام فرمایا (یعنی اتنی دیر تک قیام میں کھڑے رہے جتنی دیر تک سورت بقرہ پڑھی جاسکتی ہے) پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا، رکوع بھی اتنا طویل تھا، رکوع سے سر اٹھایا اور بڑی دیر تک کھڑے رہے لیکن یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا، پھر (دوبارہ) رکوع کیا، یہ رکوع بھی طویل تھا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر کھڑے ہوئے اور سجدہ کیا، پھر (دوسری رکعت کے لئے) کھڑے ہوئے اور بہت طویل قیام کیا مگر یہ قیام پہلی رکعت کے قیام سے کم تھا، پھر رکوع میں گئے یہ رکوع بھی طویل تھا مگر پہلے رکوع سے کم، پھر کھڑے اور دیر تک کھڑے رہے مگر یہ قیام پہلے قیام سے کم تھا، پھر رکوع میں گئے یہ رکوع بھی طویل تھا مگر پہلے رکوع سے کم پھر کھڑے ہوئے اور سجدہ کیا اس کے بعد (یعنی التحیات اور سلام کے بعد) نماز سے فارغ ہوئے تو سورج روشن ہوچکا تھا، آپ ﷺ نے فرمایا سورج اور چاند اللہ کی (قدرت کی) نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ! یہ نہ کسی مرنے کی وجہ سے گرہن ہوتے ہیں اور نہ کسی کے پیدا ہونے کی وجہ سے جب تم یہ دیکھو کہ (یہ گرہن میں آگئے ہیں) تو اللہ کی یاد میں مشغول ہوجاؤ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! ( نماز کے دوران) ہم نے دیکھا کہ آپ ﷺ نے اپنی جگہ سے کسی چیز کو لینے کا ارادہ کیا پھر ہم نے آپ ﷺ کو پیچھے ہٹتے ہوئے دیکھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا (جب تم نے مجھے کسی چیز کے لینے کیلئے آگے بڑھتے ہوئے دیکھا تھا تو اس وقت) میں نے جنت کو دیکھا تھا اور اس میں سے خوشہ انگور لینے کا ارادہ کیا تھا، اگر میں خوشہ انگور لے لیتا تو بلا شبہ تم اسے رہتی دنیا تک کھاتے اور جب تم نے مجھے پیچھے ہٹے ہوئے دیکھا تھا (اس وقت) میں نے دوزخ دیکھی تھی (اس کی گرمی کے پہنچنے کے ڈر سے پیچھے ہٹ گیا تھا) چناچہ آج کے دن کی طرح کسی دن میں نے ایسی ہو لناک جگہ کبھی نہیں دیکھی اور دوزخ میں میں نے زیادہ عورتیں ہی دیکھی ہیں۔ صحابہ کرام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کس وجہ سے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا۔ ان کے کفر کی وجہ سے صحابہ کرام نے عرض کیا کہ کیا عورتیں اللہ کے کفر میں مبتلا ہیں۔ ؟ فرمایا نہیں بلکہ وہ شوہروں کی نعمتوں اور احسان کا کفران کرتی ہیں (یعنی شوہروں کی ناشکر و نافرمائی کرتی ہیں اور کسی کا احسان نہیں مانتیں) چناچہ تم ان میں سے کسی کے ساتھ مدتوں تک بھلائی کرتے رہو مگر جب کبھی وہ کسی چیز کو اپنی مرضی کے خلاف پائے گی تو یہی کہے گئے کہ میں نے کبھی تمہارے یہاں بھلائی نہیں دیکھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

تشریح
آیتان من ایت اللہ کا مطلب یہ ہے کہ سورج و چاند اللہ کی الوہیت اور اس کی قدرت کی نشانیوں میں سے اس بات کی دو نشانیاں ہیں کہ یہ دونوں رب قدوس کے تابعدار اور فرمانبردار پیدا کئے گئے ہیں انہیں اپنی طرف سے کسی کو نفع و نقصان پہنچانے کی قدرت تو کیا ہوتی ہے ان میں اتنی بھی طاقت نہیں ہے کہ اپنے اندر کسی قسم کے پیدا ہوئے نقصان اور عیب کو ختم کرسکیں۔ لہٰذا کیسے بد عقل و کند فہم اور کور بخت ہیں وہ لوگ جو اس چیز کا مشاہدہ کرتے ہوئے چاند و سورج کو معبود قرار دیتے ہیں ان کے سامنے اپنی پیشانی جھکاتے ہیں ؟ اس کے بعد آپ ﷺ نے اہل جاہلیت کے اس عقیدہ کو ختم فرمایا کہ کس عظیم حادثہ مثلاً کسی بڑی آدمییت کے مرنے اور وباء عام یعنی قحط وغیرہ کی وجہ سے سورج و چاند گرہن میں آتے ہیں، چناچہ آپ ﷺ نے آگاہ فرمایا کہ یہ خیالات باطل اور اعتقادات فاسد ہیں حقیقت سے اس کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ اللہ ان دونوں کو گرہن میں مبتلا کر کے صرف اپنی قدرت کا اظہار کرتا ہے اور لوگوں کو اپنے غضب سے ڈراتا ہے۔ فاذکروا اللہ کا مطلب یہ ہے کہ چاند و سورج گرہن کے وقت اگر نماز کے وقت مکروہ نہ ہوں تو کسوف و خسوف کی نماز پڑھو اور اگر اوقات مکروہ ہوں تو پھر نماز نہ پڑھو بلکہ پروردگار کی تسبیح و تہلیل اور تکبیر نیز استغفار میں مشغول ہوجاؤ۔ لیکن یہ بات جان لو کہ یہ حکم امراستحبابی کے طور پر ہے وجوب کے طور پر نہیں ہے کیونکہ نماز کسوف و خسوف واجب نہیں ہے۔ بلکہ بالاتفاق تمام علماء کے نزدیک سنت ہے۔ رہتی دنیا تک کھاتے یعنی جیسا کہ بہشت کے میووں کی خاصیت ہے، انگور کے اس خوشہ میں سے جو دانہ کھاتے اس کی جگہ دوسرا دانہ پیدا ہوجاتا اسی طرح وہ خوشہ رہتی دنیا تک چلتا رہتا۔ جنت کے اس خوشہ انگور کو رسول اللہ ﷺ کے نہ لینے کا سبب یہ تھا کہ اگر آپ ﷺ اسے لئے لیتے اور لوگ اسے کچھ لیتے تو ایمان بالغیب کی کوئی حقیق و اہمیت باقی نہ رہ جاتی۔
1457
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ عَآئِشَۃَ رضی اللہ عنہا نَحْوَ حَدِےْثِ ابْنِ عَبَّاسٍ وَّقَالَتْ ثُمَّ سَجَدَ فَاَطَالَ السُّجُوْدَ ثُمَّ انْصَرَفَ وَقَدِ انْجَلَتِ الشَّمْسُ فَخَطَبَ النَّاسَ فَحَمِدَ اللّٰہَ وَاَثْنٰی عَلَےْہِ ثُمَّ قَالَ اِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ اٰےَتَانِ مِنْ اٰےَاتِ اللّٰہِ لَا ےَخْسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَّلَا لِحَےٰوتِہٖ فَاِذَا رَأَےتُمْ ذَالِکَ فَادْعُوْاللّٰہَ وَکَبِّرُوْا وَصَلُّوْاوَتَصَدَّقُوْا ثُمَّ قَالَ ےَا اُمَّۃَ مُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم وَاللّٰہِ مَا مِنْ اَحَدٍ أَغْےَرُ مِنَ اللّٰہِ اَنْ ےَّزْنِیَ عَبْدُہُ اَوْ تَزْنِیَ اَمَتُہُ ےَا اُمَّۃَمُحَمَّدٍ صلی اللہ علیہ وسلم وَّاللّٰہِ لَوْ تَعْلَمُوْنَ مَا اَعْلَمُ لَضَحِکْتُمْ قَلِےْلًا وَّلَبَکَےْتُمْ کَثِےْرًا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے (بھی) حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی مذکورہ بالا روایت کی طرح روایت منقول ہے چناچہ انہوں نے یہ (بھی) فرمایا ہے کہ پھر رسول اللہ ﷺ سجدہ میں گئے تو بڑا طویل سجدہ کیا پھر نماز سے فارغ ہوئے تو (آفتاب) روشن ہوچکا تھا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے (لوگوں کے سامنے) خطبہ ارشاد فرمایا چناچہ (پہلے) آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان فرمائی اور پھر فرمایا کہ سورج اور چاند اللہ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں، نہ تو کسی کی موت کی وجہ انہیں گرہن لگتا ہے اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے چناچہ جب تم گرہن دیکھو تو اللہ سے دعا مانگو، تکبیر کہو اور نماز پڑھو نیز اللہ کی راہ میں خیرات کرو۔ پھر فرمایا کہ اے امت محمد ﷺ ! قسم ہے پروردگار کی اللہ تعالیٰ سے زیادہ کوئی غیرت مند نہیں ہے۔ جب کہ اس کا کوئی بندہ زنا کرتا ہے یا اس کی کوئی بندی زنا میں مبتلاء ہوتی ہے اور اے امت محمد ﷺ ! قسم ہے خد ا کی، اگر تم لوگ وہ چیز جان لو جو میں جانتا ہوں (یعنی یوم آخرت کی ہو لنا کی اور پروردگار کا غضب) تو اس میں کوئی شک نہیں تمہارا ہنسنا کم اور تمہارا رونا زیادہ ہوجائے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

تشریح
اس روایت میں سجدہ کی طولات، خطبہ، دعا، تکبیر، نماز اور خیرات کرنے کا ذکر و حکم اور حدیث کے آخری الفاظ مزید منقول ہیں جب کہ حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) کی روایت میں ان کا ذکر نہیں ہے۔ غیرت کے اصل معنی ہیں اپنے حق میں کسی غیر کی شرکت کو برا جاننا۔ اور اللہ تعالیٰ کی غیرت کا مطلب ہے اپنے احکام میں بندوں کی نافرمانی اور امرو نہی کے خلاف کرنے کو برا جاننا۔ ارشاد کا حاصل یہ ہے کہ اللہ کا کوئی بندہ یا اس کی کوئی بندی جب زنا میں مبتلا ہوتی ہے تو اس معاملہ میں تمہیں جتنی غیرت محسوس ہوتی ہے اور ان دونوں سے تمہیں جتنی نفرت ہوتی ہے اللہ تعالیٰ کی غیرت اس سے کہیں زیادہ شدید اور اس کی نفرت تمہاری نفرت سے کہیں زیادہ سخت ہوتی ہے۔
1458
Mishkaat Shareef
صحیح
اور حضرت ابوموسی (رض) فرماتے ہیں کہ (جب) سورج گرہن ہو تو رسول اللہ ﷺ گھبرائے ہوئے کھڑے ہوگئے اور آپ ﷺ پر ایسا خوف طاری ہوا جیسے قیامت ہوگئی ہو۔ چناچہ آپ ﷺ مسجد میں تشریف لائے اور طویل قیام و رکوع اور سجود کے ساتھ نماز پڑھی میں نے اس طرح کبھی آپ ﷺ کو (اتنا طویل قیام و رکوع اور سجود) کرے ہوئے نہیں دیکھا پھر آپ ﷺ نے فرمایا یہ نشانیاں جو اللہ تعالیٰ بھیجتا ہے۔ نہ تو کسی کے مرنے کے سبب سے ( ظاہر ہوتی) ہیں اور نہ کسی کی پیدائش کی وجہ سے، ہاں اس ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے، لہٰذا جب تم ان نشانیوں میں سے کوئی نشانی دیکھو تو اللہ تعالیٰ سے ڈرتے ہوئے اس کا ذکر کرنے، اس سے دعا مانگنے اور استغفار کرنے میں مصروف ہوجاؤ۔ (صحیح مسلم صحیح البخاری

تشریح
الفاظ یخشی ان تکون الساعۃ دراصل راوی نے بطریق تمثیل استعمال کئے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس موقع پر اس طرح گھبرائے ہوئے اور خوف زدہ تھے جیسا کہ کوئی آدمی قیامت شروع ہوجانے پر گھبرا جائے اور خوف زدہ ہوجائے۔ آپ ﷺ کا یہ خوف اس وجہ سے نہیں تھا کہ آپ ﷺ یہ سمجھے ہوں کہ قیامت شروع ہوگئی ہے چونکہ آپ ﷺ پوری طرح جانتے تھے کہ جب تک کہ میں لوگوں میں موجود ہوں قیامت نہیں آسکتی۔ بہر حال، رسول اللہ ﷺ اللہ کی نشانیوں کے ظہور مثلاً سورج و چاند گرہن، زلزے، آندھی و طوفان اور چمک و کڑک کے وقت جو گھبراتے اور ڈرتے تھے تو اس میں صرف زمین کے اوپر بسنے والے انسانوں کی شفقت کا جذبہ کار فرما تھا چناچہ آپ ﷺ اپنی ذات کی طرف سے نہیں بلکہ دنیا والوں کی طرف سے خوف زدہ ہوجایا کرتے تھے کہ کہیں یہ اپنے دامن میں دنیا والوں کی تباہی و بربادی کا پیغام نہ لئے ہو اور اس صورت میں لوگوں پر اللہ کا عذاب نازل نہ ہوجائے۔ وقال ھذہ الا یات کا مطلب یہ ہے کہ چاند و سورج گرہن ہونا، زلزلوں اور آندھی اور طوفانوں کا آنا اور بجلی کی کڑک وغیرہ یہ سب اللہ کی قدرت کی نشانیاں ہیں جن کے ذریعہ وہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے اور انسانوں کو یہ بتانا چاہتا ہے کہ دیکھو میں تغیر حالت، قسمت کے چھین لینے اور عذاب نازل کرنے پر کیسا قادر ہوں ؟
1459
Mishkaat Shareef
صحیح
عَنْ جَابِرٍص قَالَ انْکَسَفَتِ الشَّمْسُ فِیْ عَھْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےَوْمَ مَاتَ اِبْرٰھِےْمُ بْنُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَصَلّٰی بِالنَّاسِ سِتَّ رَکَعَاتٍ بِاَرْبَعِ سَجَدٰتٍ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت جابر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جس دن رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم کا انتقال ہوا تھا سورج گرہن ہوا، چناچہ آپ ﷺ نے لوگوں کو چھ رکوع اور چار سجدے کے ساتھ نماز پڑھائی۔ (صحیح مسلم)

تشریح
حضرت ابر اہیم رسول اللہ ﷺ کے صاحبزادے تھے جو ماریہ قبطیہ کے بطن سے ٨ ھ میں پیدا ہوئے تھے اور ١٠ ھ میں حالت شیر خوارگی میں وفات پاگئے تھے، ان کی عمر صرف اٹھارہ مہینے یا اس سے کچھ زیادہ ہوئی تھی۔ جس دن ان کا انتقال ہوا اس دن سورج کو گرہن لگا۔ چناچہ لوگوں نے کہا کہ سورج گرہن ان کی وفات ہی کی وجہ سے ہوا ہے۔ جس کی رسول اللہ ﷺ نے تردید فرمائی جیسا کہ گذشتہ روایتوں میں معلوم ہوچکا ہے۔ چھ رکوع اور چار سجدے کے ساتھ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے دو رکعت نماز پڑھی اور ہر رکعت میں تین تین رکوع اور دو دو سجدے کئے۔ جیسا کہ اس باب کی احادیث میں اس نماز کے رکوع کی تعداد مختلف بیان ہوئی ہے۔ لہٰذا حضرت امام اعظم ابوحنیفہ نے ان احادیث کو ترجیح دی ہے جن میں ہر رکعت میں صرف ایک رکوع کا ذکر کیا گیا ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ اصل یہی ہے کہ ہر رکعت میں ایک رکوع ہو بلکہ اس بارے میں قولی اور فعلی دونوں طرح کی احادیث منقول ہیں۔ پھر یہ کہ حضرت امام ابوحنیفہ (رح) کی مستدل روایت کے علاوہ حضرت امام شافعی (رح) اور دوسرے اکثر اہل علم حضرات کے یہاں یہ بھی مسئلہ ہے کہ اگر گرہن دیر تک رہے تو یہ جائز ہے کہ ہر رکعت میں تین یا چار یا پانچ رکوع بھی کئے جاسکتے ہیں۔
1460
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ص قَالَ صَلّٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلمحِےْنَ کَسَفَتِ الشَّمْسُ ثَمَانِ رَکَعَاتٍ فِیْ اَرْبَعِ سَجَدَاتٍ وَّعَنْ عَلِیٍّ مِّثْلُ ذَالِکَ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے سورج گرہن کے وقت دو رکعت نماز آٹھ رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ اس طرح پڑھائی کہ ہر رکعت میں چار چار رکعت اور دو دو سجدے کئے) اور اسی طرح حضرت علی المرتضیٰ (رض) سے بھی منقول ہے۔ (صحیح مسلم)

تشریح
وعن علی مثل ذلک کا مطلب یہ ہے کہ یا تو حضرت علی المرتضیٰ (رض) نے بھی یہ روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اس طرح نماز ادا فرمائی یا پھر یہ کہ حضرت علی المرتضیٰ (رض) کے بارے میں یہ منقول ہے کہ انہوں نے بھی اس طرح نماز ادا فرمائی۔
1461
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ عَبْدِالرَّحْمٰنِ بْنِ سَمُرَۃَص قَالَ کُنْتُ اَرْتَمِیْ بِاَسْھُمٍ لِیْ بِالْمَدِےْنَۃِ فِیْ حَےَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذْ کَسَفَتِ الشَّمْسُ فَنَبَذْتُھَا فَقُلْتُ وَاللّٰہِ لَاَنْظُرَنَّ اِلٰی مَا حَدَثَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فِیْ کُسُوْفِ الشَّمْسِ قَالَ فَاَتَےْتُہُ وَھُوَ قَائِمٌ فِی الصَّلٰوۃِ رَافِعٌ ےَدَےْہِ فَجَعَلَ ےُسَبِّحُ وَےُھَلِّلُ وَےُکَبِّرُ وَےُحَمِّدُ وَےَدْعُوْحَتّٰی حُسِرَ عَنْھَا فَلَمَّا حُسِرَ عَنْھَا قَرَءَ سُوْرَتَےْنِ وَصَلّٰی رَکْعَتَےْنِ رَوَاہُ مُسْلِمٌ
اور حضرت عبدالرحمن ابن سمرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں رسول کریم ﷺ کے زمانہ حیات میں اپنے تیروں سے تیراندازی کیا کرتا تھا چناچہ ایک دن میں تیراندازی میں مشغول تھا) کہ سورج گرہن ہوا، میں نے تیروں کو پھینک دیا اور (دل میں) کہا کہ اللہ کی قسم میں یہ ضرور دیکھوں گا کہ سورج گرہن ہونے سے رسول اللہ ﷺ کی کیا حالت ہوتی ہے (یعنی یہ دیکھوں گا کہ آپ ﷺ اس وقت کیا کرتے ہیں ؟ ) حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ (یہ سوچ کر) میں رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا ( میں نے سنا کہ) آپ ﷺ سبحان اللہ لا الہ الا اللہ، اللہ اکبر اور الحمد اللہ پڑھنے اور دعا مانگنے لگے، یہاں تک سورج گرہن سے نکل آیا۔ جب سورج سے ظلمت دور ہوئی تو آپ ﷺ نے دو سورتیں پڑھیں اور دو رکعت نماز ادا فرمائی (یعنی آپ ﷺ نے نماز کی دو رکعتیں پڑھیں جن میں دو سورتوں کی قرأت کی ) ۔ یہ حدیث صحیح مسلم نے اپنی صحیح مسلم میں عبدالرحمن ابن سمرہ سے نقل کی ہے نیز شرح السنۃ میں بھی ( یہ روایت) اسی طرح ( عبدالرحمن ابن سمرہ سے) منقول ہے اور مصابیح کے نسخوں میں یہ روایات جابر ابن سمرہ سے نقل کی گئی ہے۔

تشریح
وھو قائم فی الصلوۃ کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے نماز کے سے انداز قبلہ کی طرف رخ کئے ہوئے کھڑے تھے اور لوگ صف باندھے کھڑے تھے۔ یا پھر یہ کہا جائے گا کہ یہاں صلوٰۃ یعنی نماز سے مراد دعا ہے۔ یہ تاویل اس لئے کی جاتی ہے کہ یہ کسی بھی مسلک سے معلوم نہیں ہوتا کہ رسول اللہ ﷺ سورج گرہن کے وقت حالت نماز میں اذکار کے وقت اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے۔ جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے، نماز کسوف کے رکوع کی تعداد کے بارے میں مختلف احادیث مروی ہیں چناچہ جن روایتوں سے ہر رکعت میں کئی کئی رکوع کا اثبات ہوتا ہے۔ وہ سب مضطرب ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس بارے میں خود راوی بھی مضطرب ہیں کہ بعض نے تین تین رکوع بیان کئے ہیں، بعض نے چار چار رکوع اور بعض نے پانچ رکوع تک کی تعداد اور روایت کی ہے اور یہ قاعدہ ہے کہ اضطراب موجب ضعف ہوتا ہے لہٰذا روایتوں کا ترک کرنا واجب ہوا جو تعداد رکوع کو ثابت کرتی ہیں اسی لئے حضرت امام ابوحنیفہ (رح) نے انہیں روایات کو اپنا مستدل قرار دیا ہے۔ جن سے ہر رکعت میں ایک ایک رکوع کرنا ثابت ہے۔
1462
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ اَسْمَاءَ بِنْتِ اَبِی بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاقَالَتْ لَقَدْ اَمَرَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم بِالْعِتَاقَۃِفی کُسُوفِ الشَّمْسِ(رواہ البخاری )
اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی صاحبزادی حضرت اسماء (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سورج گرہن میں غلام آزاد کرنے کا حکم فرمایا ہے۔ (صحیح البخاری)