Mishkaat Shareef
197. مناقب کا جامع بیان
مشكاة المصابيح
6184
Mishkaat Shareefاس باب میں مؤلف نے کسی خاص جماعت و زمرہ کی تخصیص کے بغیر اور الگ الگ باب قائم کرنے کے بجائے مجموعی طور پر کچھ مشاہیر صحابہ کے فضائل و مناقب پر مشتمل احادیث نقل کی ہیں ان مشاہیر میں خلفائے راشدین بھی ہیں اور اہل بیت بھی، عشرہ مبشرہ بھی ہیں اور ازواج مطہرات بھی مہاجرین بھی ہیں اور انصار بھی اور ان کے علاوہ دوسرے صحابہ بھی۔
6185
Mishkaat Shareefعن عبد الله بن عمر قال : رأيت في المنام كأن في يدي سراقة من حرير لا أهوي بها إلى مكان في الجنة إلا طارت بي إليه فقصصتها على حفصة فقصتها حفصة على رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن أخاك رجل صالح - أو إن عبد الله رجل صالح - . متفق عليه
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں میں نے ایک روز خواب میں دیکھا کہ گویا میرے ہاتھ میں ریشم کے کپڑے کا ایک ٹکڑا ہے اور میں ریشمی ٹکڑے کے ذریعہ جنت کے جس محل کی طرف بھی جانا چاہتا ہوں وہ ٹکڑا مجھ کو اڑا کر وہاں تک پہنچا دیتا ہے یعنی مجھ کو ایسا لگا جیسے وہ ٹکڑا میرے لئے پنکھ بن گیا ہے اور میں جنت کے جس بلند درجہ و محل تک جانا چاہتا ہوں اس پنکھ کے ذریعہ اڑ کر پہنچ جاتا ہوں پھر میں نے یہ خواب اپنی بہن ام المؤمنین حفصہ (رض) سے بیان کیا اور انہوں نے اس کا ذکر نبی کریم ﷺ سے کیا تو آپ ﷺ نے فرمایا حقیقت یہ ہے کہ تمہارا بھائی مرد صالح ہے یا یہ الفاظ فرمائے حقیقت یہ ہے کہ عبداللہ مرد صالح ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
گویا آپ ﷺ نے یہ تعبیر دی کہ وہ ریشمی ٹکڑا دراصل عبداللہ کے نیک اعمال اور اس کی پاکیزہ زندگی کے اوراق ہیں جو ان کو جنت کے بلند مراتب و مدارج تک پہنچائیں گے عبداللہ بن عمر (رض) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق (رض) کے بیٹے ہیں جس سال آنحضرت ﷺ نبوت سے سرفراز ہوئے اس سے ایک سال قبل ان کی ولادت ہوئی، چھوٹی ہی عمر میں انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت عمر (رض) کے ساتھ مکہ میں اسلام قبول کرلیا تھا۔ غزوہ خندق کے بعد کے تمام عزوؤں میں شریک رہے ہیں علم و دانائی زہد ورع اور تقویٰ میں کامل جانے جاتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرمایا کرتے تھے۔ مامنا احد الا مالت بہ الدنیا ومال الیہا ما خلا عمر و ابنہ عبداللہ حضرت نافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے مرتے دم تک جن انسانوں غلاموں کو آزاد کیا ان کی تعداد ایک ہزار بلکہ اس سے بھی متجاوز ہے۔ ابتاع نبوی اور حب رسول میں ابن عمر (رض) کا امتیازی مقام ہے۔ وہ جب بھی حج کو جاتے تو ان مقامات پر کہ جہاں آنحضرت ﷺ حج میں ٹھہرا کرتے تھے جیسے عرفات وغیرہ تمام حاجیوں سے پہلے پہنچ جایا کرتے تھے۔ منقول ہے کہ ایک دن حجاج بن یوسف نے فجر یا عصر کی نماز میں تاخیر کی تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اس سے کہا کہ نماز پڑھ لو، ورنہ سورج تمہارا انتظار نہیں کرے گا حجاج کو ان کا یہ کہنا بہت ناگوار گزرا، چناچہ وہ بولا جی چاہتا ہے کہ تمہاری آنکھیں پھوڑ دوں یا یوں کہا کہ جی چاہتا ہے کہ تمہارا سر قلم کر دوں حضرت عبداللہ (رض) نے یہ سن کر فرمایا اگر تم ایسا کر گزرو تو کیا بعید کیونکہ تم تو ایک نادان حاکم کی صورت میں ہم پر مسلط ہو۔ اور بعض حضرات نے یہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے یہ بات آہستہ سے کہی تھی اور حجاج نے نہیں سنا تھا بہرحال حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی اس حق گوئی و صاف بیانی کے سبب یا کسی اور وجہ سے حجاج ان سے سخت ناراض ہوگیا اور اس نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ابن عمر (رض) کا نیزہ قبضہ میں لے کر ان کو نہتا کردو اور پھر اس نے نہ صرف یہ کہ راستہ میں ان پر پتھراؤ کرایا بلکہ زہر میں بجھے ہوئے حربہ سے ان کے پاؤں کی پشت میں کاری زخم لگوایا۔ اسی کے سبب حضرت ابن عمر (رض) چند روز سخت بیمار رہ کر انتقال فرما گئے۔ یہ واقعہ حضرت ابن زبیر (رض) کے حادثہ شہادت کے تین ماہ بعد ٧٣ ھ میں پیش آیا۔ اس وقت حضرت ابن عمر (رض) ٨٤ سال کی تھے ان کا جسد خاکی ذی طوی میں سپرد خاک کیا گیا۔
تشریح
گویا آپ ﷺ نے یہ تعبیر دی کہ وہ ریشمی ٹکڑا دراصل عبداللہ کے نیک اعمال اور اس کی پاکیزہ زندگی کے اوراق ہیں جو ان کو جنت کے بلند مراتب و مدارج تک پہنچائیں گے عبداللہ بن عمر (رض) حضرت عبداللہ بن عمر (رض) امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق (رض) کے بیٹے ہیں جس سال آنحضرت ﷺ نبوت سے سرفراز ہوئے اس سے ایک سال قبل ان کی ولادت ہوئی، چھوٹی ہی عمر میں انہوں نے اپنے والد ماجد حضرت عمر (رض) کے ساتھ مکہ میں اسلام قبول کرلیا تھا۔ غزوہ خندق کے بعد کے تمام عزوؤں میں شریک رہے ہیں علم و دانائی زہد ورع اور تقویٰ میں کامل جانے جاتے ہیں۔ حضرت جابر بن عبداللہ (رض) فرمایا کرتے تھے۔ مامنا احد الا مالت بہ الدنیا ومال الیہا ما خلا عمر و ابنہ عبداللہ حضرت نافع (رض) بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن عمر (رض) نے مرتے دم تک جن انسانوں غلاموں کو آزاد کیا ان کی تعداد ایک ہزار بلکہ اس سے بھی متجاوز ہے۔ ابتاع نبوی اور حب رسول میں ابن عمر (رض) کا امتیازی مقام ہے۔ وہ جب بھی حج کو جاتے تو ان مقامات پر کہ جہاں آنحضرت ﷺ حج میں ٹھہرا کرتے تھے جیسے عرفات وغیرہ تمام حاجیوں سے پہلے پہنچ جایا کرتے تھے۔ منقول ہے کہ ایک دن حجاج بن یوسف نے فجر یا عصر کی نماز میں تاخیر کی تو حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے اس سے کہا کہ نماز پڑھ لو، ورنہ سورج تمہارا انتظار نہیں کرے گا حجاج کو ان کا یہ کہنا بہت ناگوار گزرا، چناچہ وہ بولا جی چاہتا ہے کہ تمہاری آنکھیں پھوڑ دوں یا یوں کہا کہ جی چاہتا ہے کہ تمہارا سر قلم کر دوں حضرت عبداللہ (رض) نے یہ سن کر فرمایا اگر تم ایسا کر گزرو تو کیا بعید کیونکہ تم تو ایک نادان حاکم کی صورت میں ہم پر مسلط ہو۔ اور بعض حضرات نے یہ نقل کیا ہے کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے یہ بات آہستہ سے کہی تھی اور حجاج نے نہیں سنا تھا بہرحال حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کی اس حق گوئی و صاف بیانی کے سبب یا کسی اور وجہ سے حجاج ان سے سخت ناراض ہوگیا اور اس نے ایک شخص کو حکم دیا کہ ابن عمر (رض) کا نیزہ قبضہ میں لے کر ان کو نہتا کردو اور پھر اس نے نہ صرف یہ کہ راستہ میں ان پر پتھراؤ کرایا بلکہ زہر میں بجھے ہوئے حربہ سے ان کے پاؤں کی پشت میں کاری زخم لگوایا۔ اسی کے سبب حضرت ابن عمر (رض) چند روز سخت بیمار رہ کر انتقال فرما گئے۔ یہ واقعہ حضرت ابن زبیر (رض) کے حادثہ شہادت کے تین ماہ بعد ٧٣ ھ میں پیش آیا۔ اس وقت حضرت ابن عمر (رض) ٨٤ سال کی تھے ان کا جسد خاکی ذی طوی میں سپرد خاک کیا گیا۔
6186
Mishkaat Shareefوعن حذيفة قال : إن أشبه الناس دلا وسمتا وهديا برسول الله صلى الله عليه و سلم لابن أم عبد من حين يخرج من بيته إلى أن يرجع إليه لا تدري ما يصنع أهله إذا خلا . رواه البخاري
اور حضرت حذیفہ (رض) کہتے ہیں کہ وقار، میانہ روی اور راست روی میں رسول کریم ﷺ سے سب سے زیادہ مشابہت رکھنے والا آدمی ام عبد کا بیٹا ہے، اس وقت سے کہ اپنے گھر سے باہر آتے ہیں اور اس وقت تک کہ جب وہ گھر میں جاتے ہیں۔ گھر والوں کے درمیان یعنی گھر میں اہل و عیال کے ساتھ یا تنہا وہ کس حال میں رہتے ہیں یہ ہم کو معلوم نہیں۔ (بخاری ) ۔
تشریح
ام عبد کے بیٹے سے مراد حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ہیں۔ ان کی والدہ کی کنیت ام عبد تھی۔ دلّ کے معنی سیرت، حالت ہیبت کے بھی آتے ہیں اور بعض حضرات نے اس کے معنی خوش کلامی، خوش گوئی بھی بیان کئے ہیں کہ یہ لفظ گویا دلالت سے ماخوذ ہے اور جس کے ذریعہ کسی انسان کی اس ظاہری حالت و خوبی کو تعبیر کیا جاتا ہے جو اس کے حسن سیرت اور اس کی نیک خصلتی پر دلالت کرے قاموس میں لکھا ہے کہ دل کے قریب قریب وہ ہی معنی ہیں جو ھدی کے ہیں لیکن یہاں حدیث میں اس لفظ سے سکینت یعنی متانت وسنجیدگی وقار اور خوبصورتی کے معنی مراد ہیں۔ اور مجمع البحار میں لکھا ہے دل کا لفظ شکل و شمائل کے معنی رکھتا ہے سمت کے معنی ہیں راستہ، میانہ روی اور اس لفظ کا استعمال اہل خیر و صلاح کے طور طریق اور اس کی ہیت و حالت کے لئے بھی کیا جاتا ہے چناچہ قاموس میں سمت کے معنی طریق یعنی راستہ اور اہل خیر کی ہیئت کے لکھے ہیں۔ اور صراح میں لکھا ہے سمت کے معنی ہیں نیک راہ روش ھدی کے معنی طریقہ سیرت، اہل خیر کی ہیئت و حالت کے ہیں۔ حاصل یہ کہ یہ تینوں لفظ یعنی دل سمت ھدی معنی و مفہوم میں قریب قریب ہیں اور عام طور پر یہ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ ہی استعمال ہوتے ہیں۔ اس وقت سے ہی یعنی عبداللہ بن مسعود (رض) کی جو ظاہری زندگی ہمارے سامنے ہے اور ان کے جو احوال ہم پر عیاں ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہایت پاکیزہ نفس اور راست رو ہیں اور ہم ظاہری احوال ہی کے بارے میں گواہی دے سکتے ہیں باطن کا حال ہمیں معلوم نہیں، کہ اندر کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔
تشریح
ام عبد کے بیٹے سے مراد حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ہیں۔ ان کی والدہ کی کنیت ام عبد تھی۔ دلّ کے معنی سیرت، حالت ہیبت کے بھی آتے ہیں اور بعض حضرات نے اس کے معنی خوش کلامی، خوش گوئی بھی بیان کئے ہیں کہ یہ لفظ گویا دلالت سے ماخوذ ہے اور جس کے ذریعہ کسی انسان کی اس ظاہری حالت و خوبی کو تعبیر کیا جاتا ہے جو اس کے حسن سیرت اور اس کی نیک خصلتی پر دلالت کرے قاموس میں لکھا ہے کہ دل کے قریب قریب وہ ہی معنی ہیں جو ھدی کے ہیں لیکن یہاں حدیث میں اس لفظ سے سکینت یعنی متانت وسنجیدگی وقار اور خوبصورتی کے معنی مراد ہیں۔ اور مجمع البحار میں لکھا ہے دل کا لفظ شکل و شمائل کے معنی رکھتا ہے سمت کے معنی ہیں راستہ، میانہ روی اور اس لفظ کا استعمال اہل خیر و صلاح کے طور طریق اور اس کی ہیت و حالت کے لئے بھی کیا جاتا ہے چناچہ قاموس میں سمت کے معنی طریق یعنی راستہ اور اہل خیر کی ہیئت کے لکھے ہیں۔ اور صراح میں لکھا ہے سمت کے معنی ہیں نیک راہ روش ھدی کے معنی طریقہ سیرت، اہل خیر کی ہیئت و حالت کے ہیں۔ حاصل یہ کہ یہ تینوں لفظ یعنی دل سمت ھدی معنی و مفہوم میں قریب قریب ہیں اور عام طور پر یہ تینوں ایک دوسرے کے ساتھ ہی استعمال ہوتے ہیں۔ اس وقت سے ہی یعنی عبداللہ بن مسعود (رض) کی جو ظاہری زندگی ہمارے سامنے ہے اور ان کے جو احوال ہم پر عیاں ہیں ان سے ثابت ہوتا ہے کہ وہ نہایت پاکیزہ نفس اور راست رو ہیں اور ہم ظاہری احوال ہی کے بارے میں گواہی دے سکتے ہیں باطن کا حال ہمیں معلوم نہیں، کہ اندر کا حال اللہ ہی جانتا ہے۔
6187
Mishkaat Shareefوعن أبي موسى الأشعري قال : قدمت أنا وأخي من اليمن فمكثنا حينا ما نرى إلا أن عبد الله بن مسعود رجل من أهل بيت النبي صلى الله عليه و سلم لما نرى من دخوله ودخول أمه على النبي صلى الله عليه و سلم . متفق عليه
حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کہتے ہیں کہ میں اور میرا بھائی یمن سے مدینہ منورہ آئے تو یہاں در نبوت پر ایک عرصہ مقیم رہے، اس دوران ہم نے ہمیشہ یہی خیال کیا کہ عبداللہ بن مسعود (رض) نبی کریم ﷺ کے گھر والوں میں سے ایک آدمی ہیں، کیونکہ ہم ان کو اور ان کی والدہ کو نبی کریم ﷺ کی خدمت میں بےوقت آتے جاتے دیکھا کرتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ایک روایت میں آیا ہے آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن مسعود (رض) کو کہا تھا کہ اگر ایک آدمی میرے پاس دیکھو تو اجازت طلب کئے بغیر آ جایا کرو اور ایک روایت میں ضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے یوں بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ سے فرما رکھا تھا کہ جب پردہ نہ پڑا ہوا ہو اور تم میری آواز سنو تو بس یہی تمہارے لئے اجازت ہے، جب تک میں تمہیں منع نہ کروں اجازت طلب کئے بغیر آیا جایا کرو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی، ہذلی ہیں۔ صاحب السواد والسواک کے لقب سے مشہور تھے ان کو ابتدائے دعوت ہی میں قبول اسلام کی توفیق نصیب ہوگئی تھی چناچہ آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں منتقل ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے۔ اس وقت تک حضرت عمر (رض) نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ چھٹے مسلمان ہیں، ان سے پہلے صرف پانچ آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا قبول اسلام کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنے پاس رکھ لیا تھا اور اپنی متعدد خدمتیں ان کے سپرد کردی تھیں، چناچہ آپ ﷺ کی مسواک انہی کے پاس رہا کرتی تھی، آپ ﷺ کو جوتی پہنایا کرتے تھے۔ سفر میں آپ ﷺ کے لئے طہارت و وضو وغیرہ کا پانی رکھتے تھے اور جب آنحضرت ﷺ غسل فرماتے تو یہ پردہ کے لئے کھڑے ہوتے تھے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے حبشہ کو بھی ہجرت کی تھی اور پھر مدینہ کی بھی ہجرت کی بدر اور دوسرے غزوات و مشاہد میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہے آنحضرت ﷺ نے ان کو جنت کی بشارت کی تھی۔ اور فرمایا تھا میں اپنی امت کے لئے وہ چیز پسند کرتا ہوں جو ابن ام عبد ( عبداللہ بن مسعود) کو پسند ہے اور میں اپنی امت کے حق میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جو ام عبد کو ناپسند ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) گندم گوں تھے۔ اور ان کا جسم اس قدر دبلا و نحیف اور قد اتنا چھوٹا تھا کہ بیٹھا تھا کہ بیٹھا ہوا لانبا آدمی ان کے برابر نظر آتا تھا۔ ابتدائی عہد تک اسی منصب پر فائز رہے۔ پھر مدینہ آگئے تھے۔ اور مدینہ ہی میں ٣٢ ھ میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر کچھ اوپر ساٹھ سال تھی ان سے روایت حدیث کرنے والوں میں صحابہ وتابعین کی ایک بڑی جماعت کے علاوہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) ، بھی شامل ہیں۔ ہمارے ائمہ کا کہنا ہے کہ خلفائے اربعہ کے استثناء کے بعد تمام صحابہ میں سب سے بڑے فقیہہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ہی تھے۔
تشریح
ایک روایت میں آیا ہے آنحضرت ﷺ نے عبداللہ بن مسعود (رض) کو کہا تھا کہ اگر ایک آدمی میرے پاس دیکھو تو اجازت طلب کئے بغیر آ جایا کرو اور ایک روایت میں ضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے یوں بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے مجھ سے فرما رکھا تھا کہ جب پردہ نہ پڑا ہوا ہو اور تم میری آواز سنو تو بس یہی تمہارے لئے اجازت ہے، جب تک میں تمہیں منع نہ کروں اجازت طلب کئے بغیر آیا جایا کرو۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ان کی کنیت ابوعبدالرحمن تھی، ہذلی ہیں۔ صاحب السواد والسواک کے لقب سے مشہور تھے ان کو ابتدائے دعوت ہی میں قبول اسلام کی توفیق نصیب ہوگئی تھی چناچہ آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں منتقل ہونے سے پہلے ہی مسلمان ہوگئے تھے۔ اس وقت تک حضرت عمر (رض) نے اسلام قبول نہیں کیا تھا، بعض حضرات کہتے ہیں کہ یہ چھٹے مسلمان ہیں، ان سے پہلے صرف پانچ آدمیوں نے اسلام قبول کیا تھا قبول اسلام کے بعد آنحضرت ﷺ نے ان کو اپنے پاس رکھ لیا تھا اور اپنی متعدد خدمتیں ان کے سپرد کردی تھیں، چناچہ آپ ﷺ کی مسواک انہی کے پاس رہا کرتی تھی، آپ ﷺ کو جوتی پہنایا کرتے تھے۔ سفر میں آپ ﷺ کے لئے طہارت و وضو وغیرہ کا پانی رکھتے تھے اور جب آنحضرت ﷺ غسل فرماتے تو یہ پردہ کے لئے کھڑے ہوتے تھے حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) نے حبشہ کو بھی ہجرت کی تھی اور پھر مدینہ کی بھی ہجرت کی بدر اور دوسرے غزوات و مشاہد میں آنحضرت ﷺ کے ساتھ رہے آنحضرت ﷺ نے ان کو جنت کی بشارت کی تھی۔ اور فرمایا تھا میں اپنی امت کے لئے وہ چیز پسند کرتا ہوں جو ابن ام عبد ( عبداللہ بن مسعود) کو پسند ہے اور میں اپنی امت کے حق میں اس چیز کو ناپسند کرتا ہوں جو ام عبد کو ناپسند ہے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) گندم گوں تھے۔ اور ان کا جسم اس قدر دبلا و نحیف اور قد اتنا چھوٹا تھا کہ بیٹھا تھا کہ بیٹھا ہوا لانبا آدمی ان کے برابر نظر آتا تھا۔ ابتدائی عہد تک اسی منصب پر فائز رہے۔ پھر مدینہ آگئے تھے۔ اور مدینہ ہی میں ٣٢ ھ میں وفات پائی۔ اس وقت ان کی عمر کچھ اوپر ساٹھ سال تھی ان سے روایت حدیث کرنے والوں میں صحابہ وتابعین کی ایک بڑی جماعت کے علاوہ حضرت ابوبکر، حضرت عمر اور حضرت عثمان (رض) ، بھی شامل ہیں۔ ہمارے ائمہ کا کہنا ہے کہ خلفائے اربعہ کے استثناء کے بعد تمام صحابہ میں سب سے بڑے فقیہہ حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) ہی تھے۔
6188
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عمرو أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : استقرؤوا القرآن من أربعة : من عبد الله بن مسعود وسالم مولى أبي حذيفة وأبي بن كعب ومعاذ بن جبل . متفق عليه
اور حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قرآن ان چار آدمیوں سے حاصل کرو اور ان سے پڑھو عبداللہ بن مسعود (رض) سے، ابوحذیفہ کے آزاد کردہ غلام سالم (رض) سے، ابی بن کعب (رض) سے اور معاذ بن جبل (رض) سے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
ان چاروں حضرات صحابہ نے قرآن کریم براہ راست سرکار دو عالم ﷺ سے حاصل کیا اور سیکھا تھا جب کہ اوروں نے دوسرے حضرات سے قرآن سیکھا اور حاصل کیا تھا۔ یہ چاروں حافظ قرآن بھی تھے اور صحابہ میں بڑے قاری بھی تھے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان چاروں کی خصوصی فضیلت سے لوگوں کو آگاہ فرمایا۔ حضرت سالم (رض) ان کا نام سالم بن معقل (رض) ہے حضرت حذیفہ بن عتبہ بن رببیعہ بن عبد شمس کے آزاد کردہ غلام ہیں فارس ایران کے شہر اصرخ یا اصطحرخ کے رہنے والے تھے ارباب فضل و کمال جلیل القدر اور بزرگ صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے غزوہ بدر میں شریک تھے مدینہ میں ان مہاجرین کی امامت نماز کا شرف انہی کو حاصل ہوتا تھا جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہجرت کر کے آگئے تھے باوجودیکہ ان میں عمر (رض) اور حضرت ابوسلمہ بھی موجود ہوتے تھے۔ حضرت اوحذیفہ (رض) کا اصل نام ہشام تھا۔ فضلائے صحابہ اور مہاجرین اولین میں ہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں آنے میں سے پہلے ہی مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے۔ حضرت ابی بن کعب حضرت ابی بن کعب (رض) انصار صحابہ کرام میں سے ہیں بڑے قاری ہیں، ان کو سید القراء کہا جاتا تھا حضرت عمر (رض) ان کو سید المسلمین کے لقب سے یاد کرتے تھے آنحضرت ﷺ کے کاتب وحی ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) بھی انصار سے ہیں۔ ان کے فضائل و مناقب بھی بیشمار ہیں آنحضرت ﷺ نے ان کے اور حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا۔
تشریح
ان چاروں حضرات صحابہ نے قرآن کریم براہ راست سرکار دو عالم ﷺ سے حاصل کیا اور سیکھا تھا جب کہ اوروں نے دوسرے حضرات سے قرآن سیکھا اور حاصل کیا تھا۔ یہ چاروں حافظ قرآن بھی تھے اور صحابہ میں بڑے قاری بھی تھے۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے ان چاروں کی خصوصی فضیلت سے لوگوں کو آگاہ فرمایا۔ حضرت سالم (رض) ان کا نام سالم بن معقل (رض) ہے حضرت حذیفہ بن عتبہ بن رببیعہ بن عبد شمس کے آزاد کردہ غلام ہیں فارس ایران کے شہر اصرخ یا اصطحرخ کے رہنے والے تھے ارباب فضل و کمال جلیل القدر اور بزرگ صحابہ میں ان کا شمار ہوتا ہے غزوہ بدر میں شریک تھے مدینہ میں ان مہاجرین کی امامت نماز کا شرف انہی کو حاصل ہوتا تھا جو آنحضرت ﷺ سے پہلے ہجرت کر کے آگئے تھے باوجودیکہ ان میں عمر (رض) اور حضرت ابوسلمہ بھی موجود ہوتے تھے۔ حضرت اوحذیفہ (رض) کا اصل نام ہشام تھا۔ فضلائے صحابہ اور مہاجرین اولین میں ہے ہیں۔ آنحضرت ﷺ کے دار ارقم میں آنے میں سے پہلے ہی مشرف بہ اسلام ہوگئے تھے۔ حضرت ابی بن کعب حضرت ابی بن کعب (رض) انصار صحابہ کرام میں سے ہیں بڑے قاری ہیں، ان کو سید القراء کہا جاتا تھا حضرت عمر (رض) ان کو سید المسلمین کے لقب سے یاد کرتے تھے آنحضرت ﷺ کے کاتب وحی ہیں۔ حضرت معاذ بن جبل (رض) بھی انصار سے ہیں۔ ان کے فضائل و مناقب بھی بیشمار ہیں آنحضرت ﷺ نے ان کے اور حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کے درمیان بھائی چارہ کرایا تھا۔
6189
Mishkaat Shareefوعن علقمة قال : قدمت الشام فصليت ركعتين ثم قلت : اللهم يسر لي جليسا صالحا فأتيت قوما فجلست إليهم فإذا شيخ قد جاء حتى جلس إلى جنبي قلت : من هذا ؟ قالوا : أبو الدرداء . قلت : إني دعوت الله أن ييسر لي جليسا صالحا فيسرك لي فقال : من أنت ؟ قلت : من أهل الكوفة . قال : أو ليس عندكم ابن أم عبد صاحب النعلين والوسادة والمطهرة وفيكم الذي أجاره الله من الشيطان على لسان نبيه ؟ يعني عمارا أو ليس فيكم صاحب السر الذي لا يعلمه غيره ؟ يعني حذيفة . رواه البخاري
اور حضرت علقمہ (رح) (تابعی) بیان کرتے ہیں کہ جب میں ملک شام پہنچا اور دمشق کی جامع مسجد میں حاضر ہوا تو وہاں دو رکعت نماز پڑھی اور پھر میں نے دعا مانگی کہ اے اللہ ! مجھ کو نیک ہمنشیں میسر فرما ! پھر میں ایک جماعت میں جا کر بیٹھا ہی تھا کہ اچانک ایک بزرگ آئے اور میرے پہلو میں بیٹھ گئے۔ میں نے (لوگوں سے پوچھا) کہ یہ بزرگ کون ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا کہ یہ مشہور صحابی حضرت ابودرداء (رض) ہیں میں یہ سن کر خوشی سے کھل اٹھا اور حضرت ابودرداء (رض) سے بولا کہ میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تھی کہ مجھ کو نیک ہمنشین میسر فرما اور اللہ تعالیٰ نے آپ جیسا نیک ہمنشین مجھ کو میسر فرمادیا یہ سن کر حضرت ابودرداء (رض) نے مجھ سے پوچھا کہ تم کون ہو اور کہاں سے آئے ہو ؟ میں نے جواب دیا کہ میں کوفہ کا رہنے والا ہوں اور وہیں سے آیا ہوں حضرت ابودرداء (رض) بولے کیا تمہارے یہاں (کوفہ میں) ابن ام عبد یعنی عبداللہ ابن مسعود (رض) نہیں ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ کی جوتیاں تکیہ اور چھاگل رکھنے کا شرف حاصل تھا کیا تمہارے یہاں وہ صاحب نہیں ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کی لسان مبارک کے ذریعہ شیطان سے پناہ وامان عطا کی ہے، یعنی عمار اور کیا تمہارے یہاں وہ صاحب نہیں ہیں جن کو رسول اللہ ﷺ کے اس راز کا محرم ہونے کا شرف حاصل ہے جس کو ان کے سوا کوئی دوسرا نہیں جانتا ہے یعنی حذیفہ۔ (بخاری)
تشریح
نیک ہمنشیں میں نیک سے مراد یا تو عالم با عمل ہے یا وہ شخص کہ جو اللہ کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے بھی آئے اور میرے پہلو میں بیٹھ گئے یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی دعا کا جواب کہ انہوں نے نیک ہمنشیں کی مخلصانہ درخواست کی اور حق تعالیٰ نے صحابی رسول جیسی جلیل القدر ہستی ان کے پاس بھیج دی یہاں وہ روایت مد نظر رہنی چاہئے کہ جس میں فرمایا گیا ہے۔ ان اللہ ملائکۃ تجر الا ہل الی الاہل۔ اور چھاگل رکھنے کا شرف حاصل تھا حضرت ابودرداء (رض) کی مراد حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ وہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذاتی خادم ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ آپ ﷺ کی خدمت میں موجود رہتے تھے سفر وحضر میں آپ ﷺ کی ساتھ ساتھ رہتے، جب آنحضرت ﷺ سونے کا ارادہ فرماتے تو وہ آپ کا بستر ٹھیک کرتے اور آپ ﷺ کا تکیہ لا کر رکھتے جب آپ ﷺ وضو کے لئے اٹھتے تو وہ وضو کا پانی تیار رکھتے اور سفر وغیرہ میں آپ کے پانی کی چھاگل اپنے ساتھ رکھتے اور ضرورت کے وقت آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیتے۔ پس حضرت ابودرداء (رض) نے حضرت علقمہ (رض) کو گویا توجہ دلائی کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کو آنحضرت ﷺ کی صحبت و خدمت میں جس زبر دست قربت و وابستگی اور لزوم وتسلسل کے ساتھ رہنے کا موقع ملا ہے اس نے ان کو دین و شریعت کے علم میں یقینا اتنا لائق وفائق اور اتنا کامل بنادیا ہے کہ کوئی طالب علم ان کو چھوڑ کر کسی دوسرے صاحب علم کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرسکتا۔ اس سے ایک تو اس بات کی تائید ہوتی ہے جو علماء نے طلب علم اور طالبان علم کے آداب میں بیان کی ہے کہ طالب علم کو پہلے اپنے شہر اور اپنے علاقہ کے علماء سے علم حاصل کرنا اور ان سے خوب استفادہ کرنا چاہئے اگر مزید علم حاصل کرنے کا ارادہ ہو تب دوسرے شہروں کو جائے اور سفر ومسافرت کے تعب و پریشانی میں مبتلا ہو۔ دوسرے یہ بات معلوم ہوئی کہ عالم کو چاہئے کہ اگر دوسرے عالم کو اپنے سے افضل جانتا ہے تو طالب علم کو اس کا حوالہ دیدے۔ یعنی عمار حضرت عمار (رض) کو آنحضرت ﷺ نے طیب اور مطیب (پاک اور پاکیزہ) سے تعبیر فرمایا تھا، ان کو جنت کی بشارت عطا فرمائی تھی اور جب دشمنان دین ان کو سخت اذیتیں پہنچایا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ ان کو آگ میں ڈال دیا گیا تو اس وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا، اے آگ ! عمار کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن جا جیسا کہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن گئی تھی، نیز ایک موقع پر آپ ﷺ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا تھا ! تم کو باغیوں کا گروہ قتل کرے گا۔ تم ان کو جنت کی طرف بلاؤ گے اور وہ تم کو آگ کی طرف لے جانا چاہیں گے، پس حضرت عمار (رض) کے حق میں آنحضرت ﷺ کے ان ارشادات اور بشارتوں کا مطلب یہ تھا کہ وہ راہ حق پر ثابت قدم رہیں اور شیطانی وسوسے ان کو بھٹکائیں نہیں۔ اور اسی کو حضرت ابودرداء نے اس بات سے تعبیر کیا کہ اللہ تعالیٰ عمار کو اپنے پیغمبر کی لسان مبارک کے ذریعہ شیطان سے پناہ وامان عطا کی ہے۔ حضرت عمار (رض) کے والد کا نام یاسر اور والدہ کا نام سمیہ ہے، یاسر کا وطن یمن تھا لیکن مکہ میں آکر رہ پڑے تھے اور یہاں انہوں نے ابوحذیفہ بن مغیرہ سے، جو بنو مخزوم میں سے تھے، حلف کی دوستی کرلی تھی اور انہی کی لونڈی سمیہ سے نکاح کرلیا تھا حضرت عمار انہی سمیہ سے پیدا ہوئے ان کے پیدا ہونے کے بعد ابوحذیفہ نے ان کو آزاد کردیا تھا۔ اور اسی اعتبار سے حضرت عمار بنو مخزوم کے آزاد کردہ غلام کہے جاتے ہیں۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کی طرف سبقت کی تھی، ابتدائے اسلام میں کفار مکہ جن کمزور و لاچار مسلمانوں کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بناتے تھے اور ان کو اسلام سے منحرف کرنے کے لئے نہایت سخت اور وحشیانہ اذیتیں پہنچاتے تھے اور ان میں حضرت عمار (رض) سر فہرست تھے۔ شقی القلب مشرک ان کو آگ کے عذاب میں مبتلا کیا کرتے تھے۔ اور آنحضرت ﷺ ان کے پاس پہنچتے تو ان کے سر اور جسم پر اپنا دست مبارک پھیرتے جاتے اور فرماتے جاتے۔ یانار کونی بردا وسلم ا علی عمار کما کنت علی ابراہیم (اے آگ ! عمار پر ٹھنڈی ہو جیسا کہ تو ابراہیم خلیل اللہ پر ٹھنڈی ہوگئی تھی) حضرت عمار اولین مہاجرین میں ہیں، غزوہ بدر اور دوسرے تمام جہادوں میں شریک ہوئے اور ٣٧ ھ میں جنگ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اس وقت ان کی عمر ٩٣ سال تھی۔ یعنی حذیفہ حضرت حذیفہ کو صاحب سر رسول اللہ ﷺ کہا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ان پر وہ مختلف راز اور بھید منکشف فرما رکھے تھے جن کا عام انکشاف دینی وملی مصالح کے تحت مناسب نہیں تھا ان بھیدوں میں ایک بھید تو یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کو منافقین اسلام کے نام، ان کے نسب اور نفاق کی علامتیں بتادی تھیں، اس بناء پر ان کو پوری طرح معلوم تھا کہ کون شخص مخلص مسلمان نہیں ہے بلکہ منافق ہے، منقول ہے کہ ایک روز امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق نے پوچھا کہ اے حذیفہ کیا تم میرے اندر نفاق کی کوئی علامت دیکھتے ہو ؟ حضرت حذیفہ نے جواب دیا نہیں، اللہ کی قسم آپ میں مجھ کو نفاق کی کوئی علامت نظر نہیں آتی، ہاں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے دسترخوان پر رنگ برنگ کے کھانے موجود ہوتے ہیں لیکن جب اس کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ دسترخوان پر کچھ انڈے رکھے ہوتے تھے جو توڑے جانے کے بعد زرد وسفید رنگ کی صورت میں الگ الگ چیز معلوم ہوتے تھے۔ حضرت حذیفہ نے ٣٥ ھ میں بمقام مدائن اور وہیں مدفون ہوئے۔
تشریح
نیک ہمنشیں میں نیک سے مراد یا تو عالم با عمل ہے یا وہ شخص کہ جو اللہ کے حقوق بھی ادا کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ کے بندوں کے بھی آئے اور میرے پہلو میں بیٹھ گئے یہ دراصل اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کی دعا کا جواب کہ انہوں نے نیک ہمنشیں کی مخلصانہ درخواست کی اور حق تعالیٰ نے صحابی رسول جیسی جلیل القدر ہستی ان کے پاس بھیج دی یہاں وہ روایت مد نظر رہنی چاہئے کہ جس میں فرمایا گیا ہے۔ ان اللہ ملائکۃ تجر الا ہل الی الاہل۔ اور چھاگل رکھنے کا شرف حاصل تھا حضرت ابودرداء (رض) کی مراد حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کی اس خصوصیت کی طرف اشارہ کرنا تھا کہ وہ سرکار دو عالم ﷺ کے ذاتی خادم ہونے کی حیثیت سے ہمیشہ آپ ﷺ کی خدمت میں موجود رہتے تھے سفر وحضر میں آپ ﷺ کی ساتھ ساتھ رہتے، جب آنحضرت ﷺ سونے کا ارادہ فرماتے تو وہ آپ کا بستر ٹھیک کرتے اور آپ ﷺ کا تکیہ لا کر رکھتے جب آپ ﷺ وضو کے لئے اٹھتے تو وہ وضو کا پانی تیار رکھتے اور سفر وغیرہ میں آپ کے پانی کی چھاگل اپنے ساتھ رکھتے اور ضرورت کے وقت آپ ﷺ کی خدمت میں پیش کردیتے۔ پس حضرت ابودرداء (رض) نے حضرت علقمہ (رض) کو گویا توجہ دلائی کہ حضرت عبداللہ ابن مسعود (رض) کو آنحضرت ﷺ کی صحبت و خدمت میں جس زبر دست قربت و وابستگی اور لزوم وتسلسل کے ساتھ رہنے کا موقع ملا ہے اس نے ان کو دین و شریعت کے علم میں یقینا اتنا لائق وفائق اور اتنا کامل بنادیا ہے کہ کوئی طالب علم ان کو چھوڑ کر کسی دوسرے صاحب علم کے پاس جانے کی ضرورت محسوس نہیں کرسکتا۔ اس سے ایک تو اس بات کی تائید ہوتی ہے جو علماء نے طلب علم اور طالبان علم کے آداب میں بیان کی ہے کہ طالب علم کو پہلے اپنے شہر اور اپنے علاقہ کے علماء سے علم حاصل کرنا اور ان سے خوب استفادہ کرنا چاہئے اگر مزید علم حاصل کرنے کا ارادہ ہو تب دوسرے شہروں کو جائے اور سفر ومسافرت کے تعب و پریشانی میں مبتلا ہو۔ دوسرے یہ بات معلوم ہوئی کہ عالم کو چاہئے کہ اگر دوسرے عالم کو اپنے سے افضل جانتا ہے تو طالب علم کو اس کا حوالہ دیدے۔ یعنی عمار حضرت عمار (رض) کو آنحضرت ﷺ نے طیب اور مطیب (پاک اور پاکیزہ) سے تعبیر فرمایا تھا، ان کو جنت کی بشارت عطا فرمائی تھی اور جب دشمنان دین ان کو سخت اذیتیں پہنچایا کرتے تھے یہاں تک کہ ایک مرتبہ ان کو آگ میں ڈال دیا گیا تو اس وقت آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا، اے آگ ! عمار کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن جا جیسا کہ تو ابراہیم (علیہ السلام) کے لئے ٹھنڈک اور سلامتی کا ذریعہ بن گئی تھی، نیز ایک موقع پر آپ ﷺ نے ان کو مخاطب کر کے فرمایا تھا ! تم کو باغیوں کا گروہ قتل کرے گا۔ تم ان کو جنت کی طرف بلاؤ گے اور وہ تم کو آگ کی طرف لے جانا چاہیں گے، پس حضرت عمار (رض) کے حق میں آنحضرت ﷺ کے ان ارشادات اور بشارتوں کا مطلب یہ تھا کہ وہ راہ حق پر ثابت قدم رہیں اور شیطانی وسوسے ان کو بھٹکائیں نہیں۔ اور اسی کو حضرت ابودرداء نے اس بات سے تعبیر کیا کہ اللہ تعالیٰ عمار کو اپنے پیغمبر کی لسان مبارک کے ذریعہ شیطان سے پناہ وامان عطا کی ہے۔ حضرت عمار (رض) کے والد کا نام یاسر اور والدہ کا نام سمیہ ہے، یاسر کا وطن یمن تھا لیکن مکہ میں آکر رہ پڑے تھے اور یہاں انہوں نے ابوحذیفہ بن مغیرہ سے، جو بنو مخزوم میں سے تھے، حلف کی دوستی کرلی تھی اور انہی کی لونڈی سمیہ سے نکاح کرلیا تھا حضرت عمار انہی سمیہ سے پیدا ہوئے ان کے پیدا ہونے کے بعد ابوحذیفہ نے ان کو آزاد کردیا تھا۔ اور اسی اعتبار سے حضرت عمار بنو مخزوم کے آزاد کردہ غلام کہے جاتے ہیں۔ حضرت عمار بن یاسر (رض) ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے سب سے پہلے اسلام کی طرف سبقت کی تھی، ابتدائے اسلام میں کفار مکہ جن کمزور و لاچار مسلمانوں کو اپنے ظلم وستم کا نشانہ بناتے تھے اور ان کو اسلام سے منحرف کرنے کے لئے نہایت سخت اور وحشیانہ اذیتیں پہنچاتے تھے اور ان میں حضرت عمار (رض) سر فہرست تھے۔ شقی القلب مشرک ان کو آگ کے عذاب میں مبتلا کیا کرتے تھے۔ اور آنحضرت ﷺ ان کے پاس پہنچتے تو ان کے سر اور جسم پر اپنا دست مبارک پھیرتے جاتے اور فرماتے جاتے۔ یانار کونی بردا وسلم ا علی عمار کما کنت علی ابراہیم (اے آگ ! عمار پر ٹھنڈی ہو جیسا کہ تو ابراہیم خلیل اللہ پر ٹھنڈی ہوگئی تھی) حضرت عمار اولین مہاجرین میں ہیں، غزوہ بدر اور دوسرے تمام جہادوں میں شریک ہوئے اور ٣٧ ھ میں جنگ صفین میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی طرف سے لڑتے ہوئے جام شہادت نوش کیا اور اس وقت ان کی عمر ٩٣ سال تھی۔ یعنی حذیفہ حضرت حذیفہ کو صاحب سر رسول اللہ ﷺ کہا جاتا ہے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ان پر وہ مختلف راز اور بھید منکشف فرما رکھے تھے جن کا عام انکشاف دینی وملی مصالح کے تحت مناسب نہیں تھا ان بھیدوں میں ایک بھید تو یہ تھا کہ آنحضرت ﷺ نے ان کو منافقین اسلام کے نام، ان کے نسب اور نفاق کی علامتیں بتادی تھیں، اس بناء پر ان کو پوری طرح معلوم تھا کہ کون شخص مخلص مسلمان نہیں ہے بلکہ منافق ہے، منقول ہے کہ ایک روز امیر المؤمنین حضرت عمر فاروق نے پوچھا کہ اے حذیفہ کیا تم میرے اندر نفاق کی کوئی علامت دیکھتے ہو ؟ حضرت حذیفہ نے جواب دیا نہیں، اللہ کی قسم آپ میں مجھ کو نفاق کی کوئی علامت نظر نہیں آتی، ہاں کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آپ کے دسترخوان پر رنگ برنگ کے کھانے موجود ہوتے ہیں لیکن جب اس کی تحقیق کی گئی تو معلوم ہوا کہ دسترخوان پر کچھ انڈے رکھے ہوتے تھے جو توڑے جانے کے بعد زرد وسفید رنگ کی صورت میں الگ الگ چیز معلوم ہوتے تھے۔ حضرت حذیفہ نے ٣٥ ھ میں بمقام مدائن اور وہیں مدفون ہوئے۔
6190
Mishkaat Shareefوعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أريت الجنة فرأيت امرأة أبي طلحة وسمعت خشخشة أمامي فإذا بلال . رواه مسلم
اور حضرت جابر (رض) سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا مجھ کو جنت دکھائی گئی تو میں نے اس میں ابوطلحہ (رض) کی بیوی کو دیکھا، پھر میں نے اپنے آگے قدموں کی چاپ سنی تو کیا تو دیکھتا ہوں کہ بلال ہیں (جو آگے آگے جنت میں چلے جا رہے ہیں ) ۔ (مسلم)
تشریح
ابو طلحہ (رض) کی بیوی سے مراد حضرت ام سلیم ہیں جو حضرت انس (رض) کی والدہ ماجدہ ہیں۔ ان کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ ان کا پہلا نکاح مالک بن نضر سے ہوا تھا اور اسی سے حضرت انس (رض) پیدا ہوئے، مالک بن نضر مشرک تھا اور شرک ہی کی حالت میں مارا گیا، اس کے بعد ام سلیم مسلمان ہوگئیں اور ابوطلحہ (رض) نے ان سے نکاح کا پیغام دیا اس وقت تک ابوطلحہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا چناچہ حضرت ام سلیم نے ان کا پیغام رد کردیا اور ان کو اسلام کی دعوت دی ابوطلحہ نے اسلام قبول کیا تو حضرت ام سلیم (رض) نے ان سے نکاح کرلیا اور کہا کہ میں خود کو تمہارے اسلام کے عوض تمہاری زوجیت میں دیتی ہوں، تمہارا یہ اسلام قبول کرنا ہی میرا مہر ہے (رض) حضرت بلال (رض) ابورباح کے بیٹے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام ہیں، نہایت قدیم الاسلام ہیں مکہ میں اپنے اسلام کا سب سے پہلے اعلان و اظہار کرنے والے یہی ہیں، آنحضرت ﷺ کے مؤذن خاص تھے انہوں نے غزوہ بدر اور اس کے بعد جہادوں میں شرکت کی، آخر میں شام چلے گئے اور وہیں کے سکونت پزیر ہوگئے تھے۔ ٢٠ ھ میں بمقام دمشق فوت ہوئے اور باب الصغیر میں دفن کئے گئے اس وقت ان کی عمر ٦٣ سال تھی انہوں نے اپنا کوئی وارث نہیں چھوڑا، صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کو ان سے روایت حدیث کا شرف حاصل ہے، حضرت بلال (رض) بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو قبول اسلام کی پاداش میں کفار مکہ کے سخت ظلم وستم کا نشانہ بنے تھے۔ امیہ بن خلف ان کو نہایت سخت اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور تقدیر الہٰی سے ایسا ہوا کہ غزوہ بدر میں وہ موذی حضرت بلال ہی کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا، ایک روایت میں حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق (رض) فرمایا کرتے تھے۔ ابوبکر سیدنا واعتق سیدنا یعنی ابوبکر ہمارے آقا ہیں اور انہوں نے ہمارے آقا (بلال) کو آزاد کیا۔ امام احمد (رح) نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے جن لوگوں نے اسلام کا انکشاف و اظہار کیا وہ سات ہیں، رسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، حضرت عمار (رض) ، کی والدہ حضرت سمیہ (رض) ، حضرت صہیب (رض) ، حضرت بلال (رض) اور حضرت مقداد (رض) ، پس اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تو دشمنان دین کی اذیتوں سے آپ ﷺ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ محفوظ رکھا اور حضرت ابوبکر (رض) کو ان کے قبیلہ و خاندان کے سبب تحفظ حاصل رہا، باقی پانچوں کو مشرکوں نے کمزور و لاچار جان کر اپنا ہدف بنا لیا۔ وہ ظالم ان کو وحشیانہ سزائیں دیتے تھے، یہاں تک کہ ان کو لوہے کی زرہیں پہناکر تپتی ہوئی دھوپ میں ڈال دیا کرتے تھے۔ پھر ان پانچوں میں سے سوائے بلال (رض) کے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے پنجے سے نجات دلائی اور ان کو ذی عزت بنادیا۔ مگر بلال (رض) کمزور و لاچار ہی رہے، اللہ کی راہ میں مصائب وشدائد سے بچانے والی کوئی خاندانی وقبائلی طاقت ان کو حاصل نہیں ہوئی۔ مشرکین مکہ کی ظالمانہ گرفت ان پر سخت سے سخت ہوگئی، انہوں نے ان کو مکہ کے اوباش لونڈوں کے سپرد کردیا، وہ لونڈے ان کو (رسیوں میں جکڑ کر) مکہ کے گلی کوچوں میں گھسٹیتے پھرتے تھے اور ان کی زبان پر احد احد (اللہ ایک ہے) کا نعرہ ہوتا تھا۔
تشریح
ابو طلحہ (رض) کی بیوی سے مراد حضرت ام سلیم ہیں جو حضرت انس (رض) کی والدہ ماجدہ ہیں۔ ان کے بارے میں مختلف اقوال ہیں۔ ان کا پہلا نکاح مالک بن نضر سے ہوا تھا اور اسی سے حضرت انس (رض) پیدا ہوئے، مالک بن نضر مشرک تھا اور شرک ہی کی حالت میں مارا گیا، اس کے بعد ام سلیم مسلمان ہوگئیں اور ابوطلحہ (رض) نے ان سے نکاح کا پیغام دیا اس وقت تک ابوطلحہ نے اسلام قبول نہیں کیا تھا چناچہ حضرت ام سلیم نے ان کا پیغام رد کردیا اور ان کو اسلام کی دعوت دی ابوطلحہ نے اسلام قبول کیا تو حضرت ام سلیم (رض) نے ان سے نکاح کرلیا اور کہا کہ میں خود کو تمہارے اسلام کے عوض تمہاری زوجیت میں دیتی ہوں، تمہارا یہ اسلام قبول کرنا ہی میرا مہر ہے (رض) حضرت بلال (رض) ابورباح کے بیٹے تھے اور حضرت ابوبکر صدیق کے آزاد کردہ غلام ہیں، نہایت قدیم الاسلام ہیں مکہ میں اپنے اسلام کا سب سے پہلے اعلان و اظہار کرنے والے یہی ہیں، آنحضرت ﷺ کے مؤذن خاص تھے انہوں نے غزوہ بدر اور اس کے بعد جہادوں میں شرکت کی، آخر میں شام چلے گئے اور وہیں کے سکونت پزیر ہوگئے تھے۔ ٢٠ ھ میں بمقام دمشق فوت ہوئے اور باب الصغیر میں دفن کئے گئے اس وقت ان کی عمر ٦٣ سال تھی انہوں نے اپنا کوئی وارث نہیں چھوڑا، صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت کو ان سے روایت حدیث کا شرف حاصل ہے، حضرت بلال (رض) بھی ان لوگوں میں سے ہیں جو قبول اسلام کی پاداش میں کفار مکہ کے سخت ظلم وستم کا نشانہ بنے تھے۔ امیہ بن خلف ان کو نہایت سخت اذیتیں پہنچایا کرتا تھا اور تقدیر الہٰی سے ایسا ہوا کہ غزوہ بدر میں وہ موذی حضرت بلال ہی کے ہاتھوں جہنم رسید ہوا، ایک روایت میں حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق (رض) فرمایا کرتے تھے۔ ابوبکر سیدنا واعتق سیدنا یعنی ابوبکر ہمارے آقا ہیں اور انہوں نے ہمارے آقا (بلال) کو آزاد کیا۔ امام احمد (رح) نے اپنی مسند میں نقل کیا ہے کہ سب سے پہلے جن لوگوں نے اسلام کا انکشاف و اظہار کیا وہ سات ہیں، رسول اللہ ﷺ ، حضرت ابوبکر صدیق (رض) ، حضرت عمار (رض) ، کی والدہ حضرت سمیہ (رض) ، حضرت صہیب (رض) ، حضرت بلال (رض) اور حضرت مقداد (رض) ، پس اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو تو دشمنان دین کی اذیتوں سے آپ ﷺ کے چچا ابوطالب کے ذریعہ محفوظ رکھا اور حضرت ابوبکر (رض) کو ان کے قبیلہ و خاندان کے سبب تحفظ حاصل رہا، باقی پانچوں کو مشرکوں نے کمزور و لاچار جان کر اپنا ہدف بنا لیا۔ وہ ظالم ان کو وحشیانہ سزائیں دیتے تھے، یہاں تک کہ ان کو لوہے کی زرہیں پہناکر تپتی ہوئی دھوپ میں ڈال دیا کرتے تھے۔ پھر ان پانچوں میں سے سوائے بلال (رض) کے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ نے مشرکوں کے پنجے سے نجات دلائی اور ان کو ذی عزت بنادیا۔ مگر بلال (رض) کمزور و لاچار ہی رہے، اللہ کی راہ میں مصائب وشدائد سے بچانے والی کوئی خاندانی وقبائلی طاقت ان کو حاصل نہیں ہوئی۔ مشرکین مکہ کی ظالمانہ گرفت ان پر سخت سے سخت ہوگئی، انہوں نے ان کو مکہ کے اوباش لونڈوں کے سپرد کردیا، وہ لونڈے ان کو (رسیوں میں جکڑ کر) مکہ کے گلی کوچوں میں گھسٹیتے پھرتے تھے اور ان کی زبان پر احد احد (اللہ ایک ہے) کا نعرہ ہوتا تھا۔
6191
Mishkaat Shareefوعن سعد قال : كنا مع النبي صلى الله عليه و سلم ستة نفر فقال المشركون للنبي صلى الله عليه و سلم : اطرد هؤلاء لا يجترؤون علينا . قال : وكنت أنا وابن مسعود ورجل من هذيل وبلال ورجلان لست أسميهما فوقع في نفس رسول الله صلى الله عليه و سلم ما شاء الله أن يقع فحدث نفسه فأنزل الله تعالى : [ ولا تطرد الذين يدعون ربهم بالغداة والعشي يريدون وجهه ] . رواه مسلم
اور حضرت سعد بن ابی وقاص (جو عشرہ مبشرہ میں سے ہیں) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ کے ساتھ چھ آدمی تھے (مکہ کے) مشرکین (میں سے بعض سرداروں نے) نبی کریم ﷺ سے مطالبہ کیا کہ تم ( اگر چاہتے ہو کہ ہم لوگ تمہارے پاس آئیں جائیں، تمہاری دعوتی باتیں سنیں اور قبول اسلام کے بارے میں سوچیں تو اپنے ساتھیوں میں سے) ان لوگوں کو ( جو آزاد کردہ غلام ہیں اور ہماری سماجی زندگی میں بےوقعت وبے حیثیت مانے جاتے ہیں اپنی مجلس سے) دور رکھو تاکہ یہ لوگ (ہمارے برابر میں بیٹھنے اور ہمارے ساتھ بات چیت میں شریک ہونے کا فائدہ اٹھا کر) ہم پر جری اور دلیر نہ ہوجائیں۔ حضرت سعد (رض) کہتے ہیں کہ کہ ان چھ آدمیوں میں ایک تو میں تھا، ایک عبداللہ بن مسعود (رض) تھے، ایک قبیلہ ہذیل کا تھا اور دو آدمی اور تھے، جن کے نام میں نہیں بتاتا۔ (ان سرداروں کا مطالبہ سن کر) رسول کریم ﷺ کے خیال میں وہ بات آئی جو اللہ نے چاہا کہ آئے پھر آپ ﷺ نے (اس بارے میں سوچا ہی تھا کہ یہ آیت نازل ہوئی (وَلَا تَطْرُدِ الَّذِيْنَ يَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَالْعَشِيِّ يُرِيْدُوْنَ وَجْهَه) 6 ۔ الانعام 52) یعنی ان لوگوں کو نہ ہٹائیے جو صبح وشام اپنے رب کو یاد کرتے اور پکارتے ہیں اور اس (عبادت وذکر) سے ان کا مقصد اپنے رب کی خوشنودی چاہنے کے سوا اور کچھ نہیں ہوتا۔ (مسلم)
تشریح
دو آدمی اور تھے کے تحت شارحین نے لکھا ہے کہ وہ دونوں آدمی حضرت خباب بن ارت اور حضرت عمار بن یاسر (رض) تھے اور بیان کرنے والے نے جو یہ کہا ہے کہ جن کے نام میں نہیں بتاتا تو یہ بات انہوں نے اس بناء پر کہی کہ اپنی کس مصلحت کے تحت وہ ان دونوں ناموں کا ذکر کرنا نہیں چاہتے تھے۔ یا جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، انہوں نے یہ نام اس لئے نہیں بتائے کہ روایت حدیث کے وقت ان کو یاد نہیں رہا تھا کہ وہ دو آدمی کون تھے، تاہم روایت کے الفاظ سے پہلا ہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے خیال میں وہ بات آئی، یعنی وہ سرداران قریش چونکہ اپنی سماجی برتری و وجاہت کے زعم میں یہ بات گوارا نہیں کرتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھیں تو اس مجلس میں وہ مسلمان بھی موجود ہوں اور برابری کی سطح پر شریک گفتگو رہیں جو کبھی غلام ہوا کرتے تھے اور اس اعتبار سے قریش مکہ کی سماجی زندگی میں ان کو حقیر و کمتر مانا جاتا تھا لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے اس لالچ میں کہ شائد ان سرداران قریش کو اسلام کی توفیق نصیب ہوجائے، ان کی بات رکھنے کا ارادہ فرمایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسئلہ بہت اہم تھا۔ ایک طرف تو آپ ﷺ کی یہ شدید خواہش کہ اتنے بڑے بڑے سرداران قریش اسلام قبول کرلیں، دوسری طرف ان کا مطالبہ تھا جس سے بعض مخلص اور جان نثار مسلمانوں کی تحقیر ہوتی تھی، چناچہ آپ ﷺ کچھ اس طرح کی تدبیر سوچ رہے تھے جس سے ان سرداروں کی تالیف قلب بھی ہوجائے جو آخر کار ان کے قبول اسلام کا باعث بن سکے اور اسلام کی نظر میں ان مخلص مسلمانوں کو جو عزت و توقیر ہے اس کو بھی تحفظ حاصل رہے۔ اس کی صورت آپ ﷺ کے ذہن میں یہ آئی ہوگی کہ جب وہ سرداران قریش مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوں تو وہ مسلمان از خود مجلس میں نہ آئیں یا اگر وہ مجلس نبوی ﷺ میں پہلے سے ہی موجود ہوں اور سرداران قریش آجائیں تو از خود اٹھ کر چلے جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مخلص اور سچے مسلمانوں کو عزت و توقیر قائم کرنے کے لئے اس صورت کو بھی ناپسند فرمایا اور مذکورہ آیت کریمہ کے ذریعہ گویا واضح فرمایا کہ ان سرداران قریش کے مطالبہ کو کسی صورت میں قبول نہیں کرنا چاہئے۔
تشریح
دو آدمی اور تھے کے تحت شارحین نے لکھا ہے کہ وہ دونوں آدمی حضرت خباب بن ارت اور حضرت عمار بن یاسر (رض) تھے اور بیان کرنے والے نے جو یہ کہا ہے کہ جن کے نام میں نہیں بتاتا تو یہ بات انہوں نے اس بناء پر کہی کہ اپنی کس مصلحت کے تحت وہ ان دونوں ناموں کا ذکر کرنا نہیں چاہتے تھے۔ یا جیسا کہ بعض حضرات نے کہا ہے، انہوں نے یہ نام اس لئے نہیں بتائے کہ روایت حدیث کے وقت ان کو یاد نہیں رہا تھا کہ وہ دو آدمی کون تھے، تاہم روایت کے الفاظ سے پہلا ہی قول زیادہ صحیح معلوم ہوتا ہے۔ رسول کریم ﷺ کے خیال میں وہ بات آئی، یعنی وہ سرداران قریش چونکہ اپنی سماجی برتری و وجاہت کے زعم میں یہ بات گوارا نہیں کرتے تھے کہ وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور آپ ﷺ کی مجلس میں بیٹھیں تو اس مجلس میں وہ مسلمان بھی موجود ہوں اور برابری کی سطح پر شریک گفتگو رہیں جو کبھی غلام ہوا کرتے تھے اور اس اعتبار سے قریش مکہ کی سماجی زندگی میں ان کو حقیر و کمتر مانا جاتا تھا لہٰذا رسول اللہ ﷺ نے اس لالچ میں کہ شائد ان سرداران قریش کو اسلام کی توفیق نصیب ہوجائے، ان کی بات رکھنے کا ارادہ فرمایا اس میں کوئی شبہ نہیں کہ مسئلہ بہت اہم تھا۔ ایک طرف تو آپ ﷺ کی یہ شدید خواہش کہ اتنے بڑے بڑے سرداران قریش اسلام قبول کرلیں، دوسری طرف ان کا مطالبہ تھا جس سے بعض مخلص اور جان نثار مسلمانوں کی تحقیر ہوتی تھی، چناچہ آپ ﷺ کچھ اس طرح کی تدبیر سوچ رہے تھے جس سے ان سرداروں کی تالیف قلب بھی ہوجائے جو آخر کار ان کے قبول اسلام کا باعث بن سکے اور اسلام کی نظر میں ان مخلص مسلمانوں کو جو عزت و توقیر ہے اس کو بھی تحفظ حاصل رہے۔ اس کی صورت آپ ﷺ کے ذہن میں یہ آئی ہوگی کہ جب وہ سرداران قریش مجلس میں بیٹھے ہوئے ہوں تو وہ مسلمان از خود مجلس میں نہ آئیں یا اگر وہ مجلس نبوی ﷺ میں پہلے سے ہی موجود ہوں اور سرداران قریش آجائیں تو از خود اٹھ کر چلے جائیں۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ان مخلص اور سچے مسلمانوں کو عزت و توقیر قائم کرنے کے لئے اس صورت کو بھی ناپسند فرمایا اور مذکورہ آیت کریمہ کے ذریعہ گویا واضح فرمایا کہ ان سرداران قریش کے مطالبہ کو کسی صورت میں قبول نہیں کرنا چاہئے۔
6192
Mishkaat Shareefوعن أبي موسى أن النبي صلى الله عليه و سلم قال له : يا أبا موسى لقد أعطيت مزمارا من مزامير آل داود . متفق عليه
اور حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا اے ابوموسیٰ ! تمہیں ایسی خوش آوازی عطا کی گئی ہے جو داؤد (علیہ السلام) کی خوش آوازی کا ایک حصہ ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مزمار اصل میں تو ساز یعنی بانسری، دف اور طنبور وغیرہ کے ساتھ گانے کو کہتے ہیں نہ کہ محض آواز کے ساتھ گانے کو۔ لیکن یہاں حدیث میں اس لفظ سے خوش آوازی وخوش الحانی مراد ہے۔ نیز آل داؤد سے مراد خود حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ذات ہے اور آل کا لفظ زائد ہے کیونکہ خوش آوازی وخوش الحانی کی صفت حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ مشہور ہے نہ کہ آل داؤد کے ساتھ، بعض حضرات نے لکھا ہے کہ یہاں آل کا لفظ شخص واحد کے معنی میں ہے۔ اور وہ خود حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ذات ہے بہرحال مشہور پیغمبر حضرت داؤد (علیہ السلام) نہایت خوش آواز اور خوش الحان تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کو بھی خوش آوازی اور خوش الحانی کی بڑی صفت عطا فرمائی تھی، جب وہ اپنی پرسوز اور خوش الحان آواز میں کلام اللہ کی تلاوت کرتے تو آنحضرت ﷺ بھی نہایت شوق سے ان کی تلاوت سنتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ ان کا اصل نام عبداللہ بن قیس اشعری ہے، ابوموسیٰ کی کنیت سے مشہور ہیں، انہوں نے مکہ ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اور حبشہ کو ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے بعد میں حبشہ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس وقت آئے جب آپ ﷺ خیبر میں تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق (رض) نے ٢٠ ھ میں ان کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان غنی (رض) کے شروع عہد خلافت تک بصرہ ہی میں مقیم رہے، پھر معزول ہو کر بصرہ کی سکونت ترک کی اور کوفہ آگئے۔ جب اہل کوفہ نے سعید بن عاص (حاکم کوفہ) کو وہاں سے نکال دیا اور حضرت عثمان (رض) سے درخواست کی کہ ابوموسیٰ کو ہمارا حاکم بنا دیجئے تو حضرت عثمان (رض) نے ان کو دوبارہ کوفہ کا حاکم بنادیا۔ حضرت عثمان (رض) کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان کو معزول کردیا اور پھر واقعہ تحکیم کے بعد حضرت ابوموسیٰ (رض) مکہ مکرمہ میں منتقل ہوگئے اور وہیں ٥٢ ھ میں فوت ہوئے۔
تشریح
مزمار اصل میں تو ساز یعنی بانسری، دف اور طنبور وغیرہ کے ساتھ گانے کو کہتے ہیں نہ کہ محض آواز کے ساتھ گانے کو۔ لیکن یہاں حدیث میں اس لفظ سے خوش آوازی وخوش الحانی مراد ہے۔ نیز آل داؤد سے مراد خود حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ذات ہے اور آل کا لفظ زائد ہے کیونکہ خوش آوازی وخوش الحانی کی صفت حضرت داؤد (علیہ السلام) کے ساتھ مشہور ہے نہ کہ آل داؤد کے ساتھ، بعض حضرات نے لکھا ہے کہ یہاں آل کا لفظ شخص واحد کے معنی میں ہے۔ اور وہ خود حضرت داؤد (علیہ السلام) کی ذات ہے بہرحال مشہور پیغمبر حضرت داؤد (علیہ السلام) نہایت خوش آواز اور خوش الحان تھے اللہ تعالیٰ نے حضرت ابوموسیٰ اشعری (رض) کو بھی خوش آوازی اور خوش الحانی کی بڑی صفت عطا فرمائی تھی، جب وہ اپنی پرسوز اور خوش الحان آواز میں کلام اللہ کی تلاوت کرتے تو آنحضرت ﷺ بھی نہایت شوق سے ان کی تلاوت سنتے تھے۔ حضرت ابوموسیٰ ان کا اصل نام عبداللہ بن قیس اشعری ہے، ابوموسیٰ کی کنیت سے مشہور ہیں، انہوں نے مکہ ہی میں اسلام قبول کرلیا تھا اور حبشہ کو ہجرت کرنے والوں میں شامل تھے بعد میں حبشہ سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں اس وقت آئے جب آپ ﷺ خیبر میں تھے۔ امیرالمؤمنین حضرت عمر فاروق (رض) نے ٢٠ ھ میں ان کو بصرہ کا حاکم مقرر کیا تھا اور حضرت عثمان غنی (رض) کے شروع عہد خلافت تک بصرہ ہی میں مقیم رہے، پھر معزول ہو کر بصرہ کی سکونت ترک کی اور کوفہ آگئے۔ جب اہل کوفہ نے سعید بن عاص (حاکم کوفہ) کو وہاں سے نکال دیا اور حضرت عثمان (رض) سے درخواست کی کہ ابوموسیٰ کو ہمارا حاکم بنا دیجئے تو حضرت عثمان (رض) نے ان کو دوبارہ کوفہ کا حاکم بنادیا۔ حضرت عثمان (رض) کی شہادت کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے ان کو معزول کردیا اور پھر واقعہ تحکیم کے بعد حضرت ابوموسیٰ (رض) مکہ مکرمہ میں منتقل ہوگئے اور وہیں ٥٢ ھ میں فوت ہوئے۔
6193
Mishkaat Shareefوعن أنس قال : جمع القرآن على عهد رسول الله صلى الله عليه و سلم أربعة : أبي بن كعب ومعاذ بن جبل وزيد بن ثابت وأبو زيد قيل لأنس : من أبو زيد ؟ قال : أحد عمومتي . متفق عليه
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں جن چار صحابہ کرام رضوان اللہ علہیم اجمعین نے قرآن کو جمع کیا یعنی پورا قرآن حفظ یاد کیا وہ ہیں، ابی بن کعب، معاذ بن جبل، زید بن ثابت اور ابوزید (رض) حضرت انس (رض) سے پوچھا گیا کہ ابوزید کون ہیں تو انہوں نے کہا، میرے ایک چچا ہیں۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
حضرت ابوزید (رض) کے نام میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے سعید بن عمیر لکھا ہے اور بعض نے قیس بن سکن۔ یہ چاروں صحابہ انصار مدینہ کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں جو حضرت انس (رض) کا قبیلہ ہے، اس اعتبار سے کہنا چاہئے کہ حضرت انس (رض) نے جو بات کہی ہے وہ انہوں نے اظہار فخر کے طور پر کہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہمارے قبیلہ کے چار آدمیوں کو پورے کلام اللہ کا حافظ ہونے کا فخر حاصل تھا اور اگر ان کے الفاظ کو (اظہار فخر کے طور پر نہیں بلکہ) عام بیان پر بھی محمول کیا جائے تو بھی ان الفاظ میں ایسی کوئی تصریح نہیں ہے جس کی بنا پر کہا جاسکے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مذکوہ چار صحابہ کے علاوہ اور کوئی صحابی پورے کلام اللہ کا حافظ نہیں تھا۔ ایک بات تو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر عدد کا مفہوم کوئی خاص اعتبار نہیں رکھتا دوسرے یہ کہ صحابہ کی ایک بڑی جماعت کا پورے کلام اللہ کا حافظ ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، ان میں سے ایک صحیح حدیث تو وہی ہے جس میں مذکور ہے کہ یمامہ میں جن ستر صحابہ کو شہید کیا گیا تھا وہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے پورا قرآن مجید حفظ یاد کر رکھا تھا، نیز خود خلفاء اربعہ بھی حفاظ قرآن صحابہ میں شامل ہیں۔
تشریح
حضرت ابوزید (رض) کے نام میں اختلاف ہے۔ بعض حضرات نے سعید بن عمیر لکھا ہے اور بعض نے قیس بن سکن۔ یہ چاروں صحابہ انصار مدینہ کے قبیلہ خزرج سے تعلق رکھتے ہیں جو حضرت انس (رض) کا قبیلہ ہے، اس اعتبار سے کہنا چاہئے کہ حضرت انس (رض) نے جو بات کہی ہے وہ انہوں نے اظہار فخر کے طور پر کہی ہے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ہمارے قبیلہ کے چار آدمیوں کو پورے کلام اللہ کا حافظ ہونے کا فخر حاصل تھا اور اگر ان کے الفاظ کو (اظہار فخر کے طور پر نہیں بلکہ) عام بیان پر بھی محمول کیا جائے تو بھی ان الفاظ میں ایسی کوئی تصریح نہیں ہے جس کی بنا پر کہا جاسکے کہ آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں مذکوہ چار صحابہ کے علاوہ اور کوئی صحابی پورے کلام اللہ کا حافظ نہیں تھا۔ ایک بات تو یہ ہے کہ ایسے مواقع پر عدد کا مفہوم کوئی خاص اعتبار نہیں رکھتا دوسرے یہ کہ صحابہ کی ایک بڑی جماعت کا پورے کلام اللہ کا حافظ ہونا احادیث صحیحہ سے ثابت ہے، ان میں سے ایک صحیح حدیث تو وہی ہے جس میں مذکور ہے کہ یمامہ میں جن ستر صحابہ کو شہید کیا گیا تھا وہ ان صحابہ میں سے تھے جنہوں نے پورا قرآن مجید حفظ یاد کر رکھا تھا، نیز خود خلفاء اربعہ بھی حفاظ قرآن صحابہ میں شامل ہیں۔