hadith book logo

Mishkaat Shareef

88. عطایا کا بیان

مشكاة المصابيح

3033
Mishkaat Shareef
صحیح
عطایا لفظ عطیہ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں بخشش یعنی اپنی کسی چیز کی ملکیت اور اس کے حق تصرف کو کسی دوسرے کی طرف منتقل کردینا یا کسی کو اپنی کوئی چیز بلا کسی عوض دے دینا چناچہ اس باب میں عطاء و بخشش کی تمام قسموں مثلًا وقف ہبہ عمری اور رقبی کا ذکر کیا جائے گا۔ ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ عطایا سے مراد امراء و سلاطین اور سربراہان مملکت کی بخششیں اور ان کے انعام ہیں۔ امام غزالی نے منہاج العابدین میں لکھا ہے کہ امراء و سلاطین کی بخششوں اور سرکاری انعامات کو قبول کرنے کے سلسلے میں میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں چناچہ بعض علاء تو یہ کہتے ہیں کہ اگر وہ بخشش انعام کسی ایسے مال کی صورت میں ہو جس کے حرام ہونے کا یقین نہ ہو تو اسے قبول کرلینا درست ہے لیکن بعض حضرات کا یہ قول ہے کہ جب تک اس مال کے حلال ہوجانے کا یقین نہ ہو تو اسے قبول نہ کرنا ہی اولی ہے اور زیادہ بہتر ہے کیونکہ موجودہ زمانے میں سلاطین کے پاس اور سرکاری خزانوں میں اکثر وبیشتر غیرشرعی ذرائع سے حاصل ہونیوالا مال وزر ہوتا ہے۔ بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ غنی اور فقیر (یعنی مستطیع ومفلس) دونوں کے لئے امراء و سلاطین کے صلے (تحفے وہدایا) حلال ہیں جب کہ ان کا مال حرام ہونا تحقیقی طور پر ثابت نہ ہو۔ ان کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے اسکندریہ کے بادشاہ مقوقس کا تحفہ قبول فرمایا تھا اور ایک یہودی سے قرض لیا تھا باوجود یہ کہ یہودیوں کے بارے میں قرآن کریم نے آیت (اکالون للسحت) ( حرام مال کھانیوالے) فرمایا ہے۔ اور بعضوں نے یہ کہا ہے کہ جس مال کے حرام ہونے کا یقین نہ ہو وہ فقیر (مفلس) کے لئے تو حلال ہے لیکن غنی مستطیع کے لئے حلال نہیں ہے۔ آخر میں خلاصہ طے طور پر یہ مسئلہ جان لیجئے کہ جو شخص مفلس ونادار ہو اس کے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ وہ سلاطین کا مال قبول کرے کیونکہ اگر وہ مال سلطان کی ذاتی ملکیت میں سے ہے تو اس کو لے لینا بلاشبہ درست ہے اور اگر وہ مال فئی مال غنیمت خراج یا عشر میں سے ہے تو پھر مفلس اس کا حقدار ہی ہے اسی طرح ایسے مال میں جو فئی اور خراج عشر میں حاصل ہوا ہو اہل علم کا بھی حق ہے کہ اسے وہ مال لے لینا چاہئے چناچہ منقول ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے فرمایا تھا کہ جو شخص برضا ورغبت اسلام میں داخل ہوا اور اس نے قرآن یاد کیا تو وہ بیت المال سے ہر سال دو سو درہم لینے کا حق دار ہے اگر وہ اپنے اس حق کو دنیا میں نہیں لے گا تو وہ یعنی اس کا اجر اسے عقبی میں مل جائے گا۔ لہذا ثابت ہوا کہ مفلس اور عالم دین کو بیت المال سے اپنا حق لے لینا چاہئے۔
3034
Mishkaat Shareef
صحیح
عن ابن عمر رضي الله عنهما أن عمر أصاب أرضا بخيبر فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال : يا رسول الله إني أصبت أرضا بخيبر لم أصب مالا قط أنفس عندي منه فما تأمرني به ؟ قال : إن شئت حبست أصلها وتصدقت بها . فتصدق بها عمر : أنه لا يباع أصلها ولا يوهب ولا يورث وتصدق بها في الفقراء وفي القربى وفي الرقاب وفي سبيل الله وابن السبيل والضيف لا جناح على من وليها أن يأكل منها بالمعروف أو يطعم غير متمول قال ابن سيرين : غير متأثل مالا
حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ خیبر کی کچھ زمین کہ جس میں کھجوریں پیدا ہوتی تھیں حضرت عمر کو مال غنیمت کے حصے کے طور پر ملی تو وہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ میں نے خیبر میں اپنے حصے کی ایسی زمین پائی ہے کہ اس سے زیادہ بہتر و عمدہ مال مجھے کبھی نہیں ملا ہے اور اب میں چاہتا ہوں کہ اس زمین کو اللہ تعالیٰ کی رضا میں دیدوں اس لئے) آپ ﷺ مجھے حکم فرمائیے ( کہ میں اس بارے میں کیا کروں) آپ ﷺ نے فرمایا کہ اگر تم یہی چاہتے ہو تو اصل زمین کو وقف کردو اور اس سے جو کچھ پیدا ہو اسے بطور صدقہ تقسیم کردو چناچہ حضرت عمر نے اس زمین کو اس شرط کے ساتھ اللہ کی راہ میں دیدیا یعنی اسے وقف کردیا کہ اصل زمین کو نہ تو فروخت کیا جائے نہ ہبہ کیا جائے اور نہ اسے کسی کی میراث قرار دی جائے اور اس کی پیداوار کو بطور صدقہ اس طرح صرف کیا جائے کہ اس سے فقیروں قربتداروں کو نفع پہنچایا جائے غلاموں کی مدد کی جائے یعنی جس طرح مکاتب کو زکوٰۃ دیدی جاتی ہے تاکہ وہ اس کے ذریعے اپنے مالک کو بدل کتابت دے کر آزاد ہوجائے اسی طرح اس زمین کی پیداوار سے بھی مکاتب کی اعانت کی جائے اللہ کی راہ میں یعنی غازیوں اور حاجیوں پر خرچ کیا جائے مسافروں کی ضرورتیں پوری کی جائیں باوجودیکہ وہ اپنے وطن میں مال و زر کے مالک ہوں) اور مہمانوں کی مہمانداری کی جائے اور اس زمین کا متولی بھی بقدر حاجت اس میں سے کھائے یا اپنے اہل و عیال کو کہ جو مستطیع نہ ہونے کی وجہ سے اس کے زیر کفالت ہوں کھلائے تو اس میں کوئی گناہ کی بات نہیں ہے بشرطیکہ وہ متولی اس وقف کی آمدنی سے مالدار نہ بنے یعنی جو شخص اس زمین کی دیکھ بھال کرنے اور اس کی پیداوار کو مذکورہ بالا لوگوں پر خرچ کرنے کی ذمہ داری پر بطور متولی معمور کیا جائے اگر وہ بھی اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی پوری کرنے کے لئے اس زمین کی پیداوار اور آمدنی میں سے کچھ لے لیا کرے تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے ہاں البتہ اس بات کی اجازت نہیں ہوگی کہ وہ اس زمین کے ذریعے مالدار ومتمول بن جائے چناچہ ابن سیرین نے غیرمتمول کا مطلب یہی بیان کیا ہے کہ وہ متولی اس زمین کو اپنے لئے مال و زر جمع کرنے کا ذریعہ نہ بن جائے ( بخاری ومسلم)

تشریح
یہ حدیث وقف کے صحیح ہونے کی دلیل ہے چناچہ تمام مسلمانوں کا بالاتفاق یہ مسلک ہے کہ اگر کوئی شخص اپنی کوئی جائیداد مثلا زمین ومکان وغیرہ کسی نیک مقصد اور اچھے کام کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی راہ میں وقف کردیتا ہے تو یہ جائز ہے اور وہ وقف کرنیوالا بیشمار اجر وثواب سے نوازا جاتا ہے نیز یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وقف جائیداد نہ فروخت کی جاسکتی ہے اور نہ ہبہ ہوسکتی ہے اور نہ کسی کی میراث بن سکتی ہے۔ یہ حدیث وقف کو بھی ظاہر کرتی ہے کیونکہ وقف ایک صدقہ جاریہ ہے جس کا ثواب وقف کرنیوالے کو برابر ملتا رہتا ہے۔ خیبر ایک بستی کا نام ہے جو مدینہ سے تقریبا ٦٠ میل شمال میں ایک حرے کے درمیان واقع ہے اس علاقے میں کھجور وغیرہ کی کاشت ہوتی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں اس بستی پر مسلمانوں نے عنوۃ یعنی بزور طاقت فتح اور غلبہ حاصل کیا تھا اسی موقع پر غانمین یعنی مال غنیمت لینے والے اس کی زمین و باغات کے مالک قرار پائے اور انہوں نے اسے آپس میں تقسم کیا جس کا ایک حصہ حضرت عمر فاروق کو بھی ملا اپنے اسی حصے کی زمین کو انہوں نے اللہ کی راہ میں وقف کردیا شرح السن میں لکھا ہے کہ یہ حدیث اس بات کی بھی دلیل ہے کہ وقف کرنیوالے کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنے اس وقف سے بقدر ضرورت نفع حاصل کرے بایں طور کہ اس آمدنی کا کچھ حصہ اپنی اور اپنے اہل و عیال کی ضروریات زندگی پر خرچ کرے یا اس سے فائدہ اٹھائے کیونکہ آنحضرت ﷺ نے حضرت عمر کے مذکورہ وقف نامہ کی شرائط کی گویا توثیق فرما کر وقف کی آمدنی میں سے بقدر ضرورت حصہ اس شخص کے لئے مباح قرار دیا جو اس کا متولی ہو اور یہ بالکل ظاہر بات ہے کہ وقف کرنیوالا اپنے وقف کا متولی ہوتا ہے۔ نیز اس بات کی دلیل یہ بھی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایک موقع پر یہ فرمایا کہ ایسا کوئی شخص ہے جو بیر رومہ مدینہ کا ایک کنواں جو ایک یہودی کی ملکیت تھا) خریدے جو شخص اس کنویں کو خرید کر عام مسلمانوں کے لئے وقف کر دے گا تو اس کنویں میں اس شخص کا ڈول مسلمانوں کے ڈول کی طرح ہوگا یعنی جس طرح عام مسلمان اس کنویں سے پانی حاصل کریں گے اسی طرح وہ شخص بھی اس سے پانی حاصل کرتا رہے گا چناچہ حضرت عثمان غنی نے اس کنویں کو خرید لیا اور عام مسلمانوں کے لئے وقف کردیا۔
3035
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : العمرى جائزة
اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا عمری جائز ہے (بخاری ومسلم)

تشریح
آپ کا لین دین معاشرہ انسانی کے باہمی ربط وتعلق کے استحکام کا ذریعہ ہے آپس کے تعلقات ایک دوسرے سے محبت اور باہمی ارتباط کی خوشگواری وپائیداری آپس کے ہدایا وتحائف پر بھی منحصر ہوتی ہے کیونکہ اس ذریعہ فطرت انسانی ایک خاص قسم کی محبت ومسرت اور جذبہ ممنونیت سے سرشار ہوتی ہے۔ یہ آپس کا لین دین کئی طریقوں سے ہوتا ہے ہدیہ وتحفہ اور ہبہ کے ساتھ ساتھ ایک صورت عمری بھی ہے جو بظاہر ہبہ کی ایک شاخ ہے چناچہ حدیث بالا اسی کے جواز کو ظاہر کر رہی ہے۔
3036
Mishkaat Shareef
صحیح
ابتداء باب کے حاشیہ میں عمری کے معنی بیان کئے جا چکے ہیں چناچہ اس موقع پر بھی جان لیجیے کہ عمری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا کوئی شخص کسی سے یہ کہے کہ میں نے اپنا یہ مکان تمہیں تمہاری زندگی تک کے لئے دیا یہ جائز ہے اس صورت میں جب تک وہ شخص جس کو مکان دیا گیا ہے زندہ ہے اس سے وہ مکان واپس نہیں لیا جاسکتا۔ لیکن اس کے مرنے کے بعد وہ مکان واپس لیا جاسکتا ہے یا نہیں اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں جس کی تفصیل یہ ہے کہ عمری کی تین صورتیں ہوتی ہیں۔ اول یہ کہ کوئی شخص مثلا اپنا مکان کسی کو دے اور یہ کہے کہ میں نے اپنا یہ مکان تمہیں دیدیا جب تک تم زندہ رہو گے یہ تمہاری ملکیت میں رہے گا تمہارے مرنے کے بعد تمہارے وارثوں اور اولاد کا ہوجائے گا اس صورت کے بارے میں تمام علماء کا بالاتفاق یہ مسلک ہے کہ یہ ہبہ ہے اس صورت میں مکان مالک کی ملکیت سے نکل جاتا ہے اور جس شخص کو دیا گیا ہے اس کی ملکیت میں آجاتا ہے اس شخص کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء اس مکان کے مالک ہوجاتے ہیں اگر ورثاء نہ ہوں تو بیت المال میں داخل ہوجاتا ہے۔ عمری کی دوسری صورت یہ ہوتی ہے کہ دینے والا بلا کسی قید وشرط کے یعنی مطلقا یہ کہے کہ یہ مکان تمہاری زندگی تک تمہارا ہے اس صورت کے بارے میں علماء کی اکثریت یہ کہتی ہے کہ اس کا بھی حکم وہی ہے جو پہلی صورت کا حکم ہے چناچہ حنفیہ کا مسلک بھی یہی ہے اور بعد اس کے وارثوں کا حق نہیں ہوتا بلکہ اصل مالک یعنی جس نے اس شخص کو دیا تھا کی ملکیت میں واپس آجاتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہے کہ دینے والا یوں کہے کہ یہ مکان تمہاری زندگی تک تمہارا ہے تمہارے مرنے کے بعد میری اور میرے وارثوں کی ملکیت میں آجائے گا اس صورت کے بارے میں بھی زیادہ صحیح یہی بات ہے کہ اس کا حکم بھی وہی ہے جو پہلی صورت ہے حنفیہ کے نزدیک یہ شرط کہ تمہارے مرنے کے بعد میری اور میرے وارثوں کی ملکیت میں آجائے گا فاسد ہے اور مسئلہ یہ ہے کہ کسی فاسد شرط کی وجہ سے فاسد نہیں ہوتا۔ حضرت امام شافعی کا بھی زیادہ صحیح قول یہی ہے لیکن حضرت امام احمد یہ فرماتے ہیں کہ عمری کی یہ صورت ایک فاسد شرط کی وجہ سے فاسد ہے۔ عمری کے بارے میں حضرت امام مالک کا یہ قول ہے کہ اس کی تمام صورتوں میں بنیادی مقصد دی جانیوالی چیز کی منفعت کا مالک کرنا ہوتا ہے۔
3037
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : إن العمرى ميراث لأهلها . رواه مسلموعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أيما رجل أعمر عمرى له ولعفبه فإنها الذي أعطيها لا ترجع إلى الذي أعطاها لأنه أعطى عطاء وقعت فيه المواريث
اور حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا عمری اپنے مالک یعنی معمرلہ کے ورثاء کی میراث ہوجاتا ہے ( مسلم)

تشریح
معمرلہ اس شخص کو کہتے ہیں جسے بطور عمری کوئی چیز دی جاتی ہے چناچہ حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جس شخص کو مثلا کوئی مکان بطور عمری دیا جاتا ہے وہ مکان اس کی زندگی تک تو اس کی ملکیت رہتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ملکیت بن جاتا ہے گویا یہ حدیث اپنے ظاہری مفہوم کے اعتبار سے جمہور علماء کے مسلک کی دلیل ہے۔ اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی شخص اور اس کے ورثاء کو کوئی چیز بطور عمری دی جاتی ہے تو وہ عمری اسی شخص کا ہوجاتا ہے جسے وہ دیا گیا ہے (یعنی وہ چیز اس کی ملکیت ہوجاتی ہے) عمری دینے والے کی ملکیت میں واپس نہیں آتا کیونکہ دینے والے نے اس طرح دیا ہے کہ اس میں میراث جاری ہوجاتی ہے (بخاری ومسلم) تشریح حدیث کا حاصل یہ ہے کہ جو چیز کسی شخص کو بطور عمری دی جاتی ہے وہ اس شخص کی ہوجاتی ہے اور اس کے مرنے کے بعد اس کے وارثوں کی ملکیت میں چلی جاتی ہے دینے والے کی ملکیت میں واپس نہیں آتی۔ حضرت ابوہریرہ کی جو روایت (٢) اوپر گزری ہے اس کی تشریح کے ضمن میں عمری کی تین صورتیں بیان کی گئی تھیں اس حدیث میں انہیں سے پہلی صورت کا بیان ہے اس بارے میں جو فقہی اختلاف ہے اس کی تفصیل وہاں ذکر کی جا چکی ہے
3038
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قال : إنما العمرى التي أجاز رسول الله صلى الله عليه و سلم أن يقول : هي لعقبك فأما إذا قال : هي لك ما عشت فإنها ترجع إلى صاحبها
اور حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے عمری کی جس صورت کو جائز قرار دیا ہے وہ یہ ہے کہ مالک یعنی دینے والا یوں کہے کہ یہ چیز تمہاری زندگی تک تمہاری ہے اور تمہارے مرنے کے بعد تمہارے ورثاء کی ہے اور اگر صرف یوں کہے کہ یہ عمری تمہاری زندگی تک تمہارے لئے ہے تو اس صورت میں اس شخص کے مرنے کے بعد وہ عمری مالک یعنی دینے والے کی ملکیت میں واپس آجائے گا ( بخاری ومسلم)

تشریح
یہ حدیث بظاہر جمہور علماء کے مسلک کے خلاف ہے اور جمہور علماء کا مسلک حضرت ابوہریرہ (رض) کی روایت کی تشریح میں ذکر کیا جا چکا ہے۔ لہذا جمہور علماء اس حدیث کے بارے میں یہ کہتے ہیں کہ یہ حدیث مرفوع نہیں ہے یعنی یہ آنحضرت ﷺ کا ارشاد نہیں ہے بلکہ خود حضرت جابر کا اپنا قول ہے جو ان کی اپنی رائے اور اپنے اجتہاد پر مبنی ہے اس صورت میں اس قول کا جمہور علماء کے مسلک پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
3039
Mishkaat Shareef
صحیح
عن جابر عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : لا ترقبوا أو لا تعمروا فمن أرقب شيئا أو أعمر فهي لورثته . رواه أبو داودوعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : العمرى جائزة لأهلها والرقبى جائزة لأهلها . رواه أحمد والترمذي وأبو داود
حضرت جابر نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا کہ رقبی کرو اور نہ عمری کرو کیونکہ جو چیز یعنی مثلا مکان یا زمین) بطور رقبی یا بطور عمری دی جاتی ہے وہ اس کے ورثاء کی ملکیت میں چلی جاتی ہے ( ابوداؤد)

تشریح
عمری کی طرح رقبی بھی ہبہ ہی کی ایک شاخ ہے اس کی وضاحت بھی ابتداء باب کے حاشیہ میں کی جا چکی ہے چناچہ رقبی کی صورت یہ ہوتی ہے کہ مثلا کوئی شخص کسی دوسرے شخص سے یہ کہے کہ میں اپنا مکان تمہیں اس شرط کے ساتھ دیتا ہوں کہ اگر میں تم سے پہلے مرگیا تو یہ مکان تمہاری ملکیت میں رہے گا اور اگر تم مجھ سے پہلے مرگئے تو پھر یہ میری ملکیت میں آجائے گا رقبی مشتق ہے ارقاب سے جو مراقبہ کے معنی میں ہے گویا رقبی میں ہر ایک دوسرے کی موت کا منتظر رہتا ہے۔ اس حدیث میں عمری اور رقبی سے منع کیا گیا ہے اور اس کی علت یہ بیان کی گئی ہے کہ تم جو چیز بطور عمری یا رقبی کسی کو دیتے ہو وہ اس شخص کی ملکیت میں چلی جاتی ہے اور تمہاری ملکیت چونکہ کلیۃً ختم ہوجاتی ہے اس لئے اس شخص کے مرنے کے بعد وہ چیز اس کے ورثاء کی ملکیت میں منتقل ہوجاتی ہے لہذا تم اپنے مال کو بطور عمری یا رقبی اپنی ملکیت سے نکال کر اپنا نقصان نہ کرو۔ اب رہی یہ بات کہ جب پہلے ہمیں یہ معلوم ہوچکا ہے کہ عمری اور رقبی جائز ہیں تو پھر اس ممانعت کا محمول کیا ہوگا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یا تو یہ ممانعت اس وقت فرمائی گئی ہوگی جب یہ دونوں جائز نہیں تھے اس صورت میں یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ یہ حدیث منسوخ ہے یا پھر اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ظاہر کرنا ہے کہ عمری اور رقبی اگرچہ مصلحت کے خلاف ہیں لیکن جب یہ وقوع پذیر ہوجاتے ہیں (یعنی کسی کو کوئی چیز بطور عمری یا رقبی دیدی جاتی ہے) تو شرعی طور پر یہ صحیح ہوجاتے ہیں جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ چیز نہ صرف اس کی ملکیت میں آجاتی ہے کہ جس کو دی گئی ہے بلکہ اس کے مرنے کے بعد اس کے ورثاء کی ملکیت میں پہنچ جاتی ہے اس صورت میں اس حدیث کو منسوخ قرار دینے کی کوئی ضرورت نہیں رہے گی۔ عمری کے بارے میں یہ بتایا جا چکا ہے کہ یہ حنفیہ کے ہاں جائز ہے لیکن رقبی کے بارے میں ملا علی قاری یہ لکھتے ہیں کہ یہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام محمد کے نزدیک تو جائز نہیں ہے لیکن حضرت امام ابویوسف کے قول کے مطابق جائز ہے۔ حنفی علماء میں سے بعض شارحین حدیث نے اس حدیث کے بارے میں یہ لکھا ہے کہ یہ نہی (ممانعت) ارشادی ہے جس کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اپنا مال کسی مدت متعینہ تک کے لئے ہبہ نہ کرو کہ جب وہ مدت پوری ہوجائے تو اپنا مال واپس لے لو کیونہ جب تم اپنی کوئی چیز کسی کو دیدو تو وہ تمہاری ملکیت سے نکل گئی اب وہ تمہاری ملکیت میں نہیں آئے گی خواہ تم وہ چیز ہبہ کی صراحت کر کے دو یا عمری اور رقبی کے طور پر دو ۔
3040
Mishkaat Shareef
صحیح
عن جابر قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : أمسكوا أموالكم عليكم لا تفسدوها فإنه من أعمر عمرى فهي للذي أعمر حيا وميتا ولعقبه . رواه مسلم
حضرت جابر کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم اپنے مال اپنے پاس رکھو ان میں نقصان پیدا نہ کرو کیونکہ جو شخص کسی کو اپنی کوئی چیز عمری کے طور پر دیتا ہے تو وہ چیز یعنی مکان یا زمین کہ جو بطور عمری دی گئی ہے زندگی وموت دونوں حالت میں اس شخص کی ملکیت رہتی ہے جسے وہ چیز بطور عمری دی گئی ہے بایں طور کہ جب تک وہ زندہ رہتا ہے تو خود اس چیز کا مالک رہتا ہے اور اس کے مرنے کے بعد پھر اس کی اولاد مالک ہوجاتی ہے (مسلم)

تشریح
اس حدیث کے ظاہری مفہوم کے پیش نظر عمری کے جواز میں اشکال پیدا ہوسکتا ہے لیکن دوسری فصل کی حدیث نمبر ٦ کی وضاحت اگر پیش نظر رہے تو یہ اشکال ختم ہوجائے گا کیونکہ اس حدیث کی تاویل بھی وہی ہے جو اس حدیث کی بیان کی گئی ہے۔
3041
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من عرض عليه ريحان فلا يرده فإنه خفيف المحمل طيب الريح . رواه مسلم (2/183) 3017 - [ 2 ] ( صحيح ) وعن أنس : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان لا يرد الطيب . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص کو خوشبودار پھول تحفہ کے طور پر دیا جائے تو وہ اسے واپس نہ کرے کیونکہ اول تو وہ سبکسار (یعنی بہت ہلکا احسان) ہے اور دوسرے یہ کہ وہ ایک اچھی خوشبو ہے ( مسلم)

تشریح
یہی حکم کہ اسے واپس نہ کیا جائے ہر اس تحفہ کا ہے جو بظاہر کم تر ہونے کی وجہ سے زیادہ احسان نہ رکھتا ہو مگر نفع وخوشگواری کے اعتبار سے بہت مفید اور نافع ہو تاکہ جس شخص نے وہ تحفہ دیا ہے اس کی دل شکنی نہ ہو ٢) اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ خوشبو کے تحفے کو واپس نہیں کیا کرتے تھے ( بخاری)
3042
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العائد في هبته كالكلب يعود في قيئه ليس لنا مثل السوء . رواه البخاري
اور حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے ہبہ کو واپس لینے والا یعنی کسی کو کوئی چیز بطور ہدیہ وتحفہ دے کر پھر اسے واپس لے لینے والا) اس کتے کی طرح ہے جو اپنی قے چاٹتا ہے اور ہمارے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ ہم کسی بری مثال سے تشبیہ دئیے جائیں ( بخاری)

تشریح
حدیث کے آخری جملے کا مطلب یہ ہے کہ ہماری ملت اور ہماری قوم جس عزوشرف کی حامل ہے اور اس انسانیت کے جن اعلی اصول اور شرافت وتہذیب کے جس بلند معیار سے کے نوازا گیا ہے اس کے پیش نظر ہماری ملت وقوم کے کسی بھی فرد کے لئے یہ بات قطعًا مناسب نہیں ہے کہ وہ کوئی بھی ایسا کام کرے جو اس کے ملی شرف اور اس کی قومی عظمت کے منافی ہو اور اس کی وجہ سے اس پر کوئی بری مثال چسپاں کی جائے۔ اس سے گویا آپ ﷺ نے اس طرف اشارہ فرمایا کہ کسی کو کوئی چیز بطور ہدیہ وتحفہ دے کر واپس لینا چونکہ ایسا ہی ہے جیسا کہ کتا اپنی قے چالٹ لیتا ہے اس لئے کسی مسلمان کے لئے یہ مناسب نہیں ہے کہ وہ کسی کو اپنی کوئی چیز ہدیہ کرے اور پھر اسے واپس لے لے اور اس طرح اس پر یہ بری مثال چسپاں کی جانے لگے۔ یہ تو حدیث کی وضاحت اور اس سے پیدا ہونیوالا ایک اخلاقی اور نفسیاتی پہلو تھا لیکن اس کا فقہی اور شرعی پہلو یہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ کے مسلک کے مطابق کسی کو کوئی چیز بطور ہبہ یا بطور صدقہ دینا اور پھر لینے والے کے قبضے میں اس چیز کے چلے جانے کے بعد اس کو واپس لے لینا جائز تو ہے مگر مکروہ ہے البتہ بعض صورتوں میں جائز نہیں ہے جس کی تفصیل دوسری فصل کی پہلی حدیث کے ضمن میں ذکر کی جائے گی اور اس بارے میں ایک حدیث بھی منقول ہے۔ یہاں مذکور بہ حدیث کے بارے میں حنفیہ یہ کہتے ہیں کہ یہ کراہت پر محمول ہے اور اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ کسی کوئی چیز دے کر واپس لے لینا بےمروتی اور غیرپسندیدہ بات ہے لیکن بقیہ تینوں ائمہ یعنی حضرت امام شافعی حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد بن حنبل کے نزدیک چونکہ یہ حدیث حرمت پر محمول ہے اس لئے ان تینوں کا مسلک یہ ہے کہ ہدیہ اور صدقہ دے کر واپس لے لینا جائز نہیں ہے البتہ حضرت امام شافعی یہ فرماتے ہیں کہ اگر کوئی باپ اپنے بیٹے کو کوئی چیز ہبہ کرے تو وہ اس سے واپس لے سکتا ہے۔ ایک روایت کے مطابق حضرت امام احمد کا قول بھی یہی ہے اور آگے آنیوالی بعض احادیث بھی ان پر دلالت کرتی ہیں لیکن ان احادیث کے جو معنی حنفیہ نے مراد لئے ہیں وہ بھی آگے مذکور ہوں گے۔