Mishkaat Shareef
108. جنایات کی جن صورتوں میں تاوان واجب نہیں ہوتا ان کا بیان
مشكاة المصابيح
3478
Mishkaat Shareefجنایات جمع ہے جنایت کی۔ جنایت کے معنی ہیں قصور کرنا، جرم کرنا اس سے قبل وہ ابواب گزرے ہیں جن میں جنایات کی سزائیں تاوان اور قصاص وغیرہ کے سلسلہ میں احادیث گزری ہیں، اس باب کا مقصد جنایات کی ان صورتوں کو بیان کرنا ہے جن میں معاوضہ اور تاوان واجب نہیں ہوتا
3479
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : العجماء جرحها جبار والمعدن جبار والبئر جبار
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (چوپایوں کا زخمی کردینا معاف ہے، کان میں دب جانا بھی معاف ہے اور کنویں میں گرپڑنا بھی معاف ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اگر کسی کا جانور کسی آدمی کو اپنے پاؤں سے روندے یا کسی کو سینگ یا دم مار کر یا منہ سے کاٹ کر زخمی کر دے اور وہ آدمی مرجائے یا جو جانور کسی چیز کو نقصان وضائع کر دے تو اس کا کوئی تاوان نہیں ہے بشرطیکہ اس جانور کے ساتھ کوئی آدمی نہ ہو ہاں اگر جانور کے ساتھ کوئی ہانکنے والا یا کھینچنے والا یا اس جانور پر کوئی سوار ہو اور اس جانور سے کوئی چیز ضائع ہوگئی ہو تو اس صورت میں اس جانور کے ساتھ جو بھی آدمی ہوگا اس پر تاوان واجب ہوگا یہ حضرت امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے اس بارے میں حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اگر جانور نے دن میں کسی چیز کو ضائع کیا ہے تو اس کے مالک پر کوئی تاوان وغیرہ واجب نہیں ہوگا لیکن اگر جانور نے رات میں کسی چیز کو ضائع کیا ہے مثلا کسی کا کھیت چر گیا یا کسی کے باغ کو نقصان پہنچایا تو اس صورت میں جانور کے مالک پر تاوان واجب ہوگا کیونکہ رات میں جانوروں کی نگہبانی ان کے مالکوں پر لازم ہے اور دن میں اپنے کھیت و باغات اور دوسری چیزوں کی حفاظت کرنا ان کے مالکوں پر لازم ہے ھدایہ میں لکھا ہے کہ ( جانور سے کسی چیز کا نقصان ہوجانے کی صورت میں) جانور کو ہانکنے والے پر اسی چیز کا تاوان واجب ہوگا جو جانور کے ہاتھوں اور پیروں کے ذریعہ تلف ہوئی ہے اور جو شخص جانور کو پکڑ کر کھینچتا ہوا لے جا رہا ہو وہ اس چیز کے تاوان کا ذمہ دار ہوگا جو جانور کے پیروں کے ذریعہ نہیں بلکہ صرف ہاتھوں کے ذریعہ نقصان ہوئی ہے اور اگر کسی ایسے جانور نے کسی چیز کو ضائع کیا ہے جس پر کوئی شخص سوار ہو تو اس سوار پر اس چیز کا تاوان واجب ہوگا جو اس جانور کے ہاتھ یا پیر یا سر کے ذریعہ تلف ہوئی ہے۔ نیز اگر نقصان کرنے والا کوئی سوار ہو جانور ہو جس کے ساتھ اس کو ہانکنے والا بھی ہو اور اس پر کوئی سوار بھی ہو اس کو کھینچنے والا بھی ہو اور اس پر کوئی سوار بھی ہو تو اس نقصان کا تاوان دونوں پر واجب نہیں ہوگا۔ کان میں دب جانا معاف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کھدی ہوئی کان میں جائے یا اس کے اوپر کھڑا ہو اور پھر کان میں بیٹھ جائے جس کی وجہ سے وہ شخص ہلاک ہوجائے تو اس شخص پر کوئی تاوان واجب نہیں ہوگا جس نے کان کھودی ہے یا کسی مزدور کو کان کھودنے کے لئے اجرت پر لگایا اور اتفاق سے وہ مزدور کان میں دب کر مرگیا تو کان کے مالک پر کوئی تاوان واجب نہیں ہوگا یہ دوسری نوعیت صرف کان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ حکم اجارہ (مزدوری) کی دیگر صورتوں میں بھی نافذ ہوگا جب کہ پہلی نوعیت صرف اس صورت سے متعلق ہے جو حدیث کے آخری جزو (والبئر جبار) (کنوین میں گرپڑنا معاف ہے) کے مطابق ہو چناچہ کنویں میں گرپڑنا معاف ہے کا مطلب یہ ہے کہ مثلا کسی شخص نے اپنی زمین یا کسی اور مباح زمین میں کنواں کھودا اور پھر اس میں کوئی شخص گر کر مرگیا تو کنواں کھودنے والے پر کوئی تاوان واجب نہیں ہوگا۔
تشریح
اگر کسی کا جانور کسی آدمی کو اپنے پاؤں سے روندے یا کسی کو سینگ یا دم مار کر یا منہ سے کاٹ کر زخمی کر دے اور وہ آدمی مرجائے یا جو جانور کسی چیز کو نقصان وضائع کر دے تو اس کا کوئی تاوان نہیں ہے بشرطیکہ اس جانور کے ساتھ کوئی آدمی نہ ہو ہاں اگر جانور کے ساتھ کوئی ہانکنے والا یا کھینچنے والا یا اس جانور پر کوئی سوار ہو اور اس جانور سے کوئی چیز ضائع ہوگئی ہو تو اس صورت میں اس جانور کے ساتھ جو بھی آدمی ہوگا اس پر تاوان واجب ہوگا یہ حضرت امام ابوحنیفہ کا مسلک ہے اس بارے میں حضرت امام شافعی کا مسلک یہ ہے کہ اگر جانور نے دن میں کسی چیز کو ضائع کیا ہے تو اس کے مالک پر کوئی تاوان وغیرہ واجب نہیں ہوگا لیکن اگر جانور نے رات میں کسی چیز کو ضائع کیا ہے مثلا کسی کا کھیت چر گیا یا کسی کے باغ کو نقصان پہنچایا تو اس صورت میں جانور کے مالک پر تاوان واجب ہوگا کیونکہ رات میں جانوروں کی نگہبانی ان کے مالکوں پر لازم ہے اور دن میں اپنے کھیت و باغات اور دوسری چیزوں کی حفاظت کرنا ان کے مالکوں پر لازم ہے ھدایہ میں لکھا ہے کہ ( جانور سے کسی چیز کا نقصان ہوجانے کی صورت میں) جانور کو ہانکنے والے پر اسی چیز کا تاوان واجب ہوگا جو جانور کے ہاتھوں اور پیروں کے ذریعہ تلف ہوئی ہے اور جو شخص جانور کو پکڑ کر کھینچتا ہوا لے جا رہا ہو وہ اس چیز کے تاوان کا ذمہ دار ہوگا جو جانور کے پیروں کے ذریعہ نہیں بلکہ صرف ہاتھوں کے ذریعہ نقصان ہوئی ہے اور اگر کسی ایسے جانور نے کسی چیز کو ضائع کیا ہے جس پر کوئی شخص سوار ہو تو اس سوار پر اس چیز کا تاوان واجب ہوگا جو اس جانور کے ہاتھ یا پیر یا سر کے ذریعہ تلف ہوئی ہے۔ نیز اگر نقصان کرنے والا کوئی سوار ہو جانور ہو جس کے ساتھ اس کو ہانکنے والا بھی ہو اور اس پر کوئی سوار بھی ہو اس کو کھینچنے والا بھی ہو اور اس پر کوئی سوار بھی ہو تو اس نقصان کا تاوان دونوں پر واجب نہیں ہوگا۔ کان میں دب جانا معاف ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کھدی ہوئی کان میں جائے یا اس کے اوپر کھڑا ہو اور پھر کان میں بیٹھ جائے جس کی وجہ سے وہ شخص ہلاک ہوجائے تو اس شخص پر کوئی تاوان واجب نہیں ہوگا جس نے کان کھودی ہے یا کسی مزدور کو کان کھودنے کے لئے اجرت پر لگایا اور اتفاق سے وہ مزدور کان میں دب کر مرگیا تو کان کے مالک پر کوئی تاوان واجب نہیں ہوگا یہ دوسری نوعیت صرف کان ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے بلکہ یہ حکم اجارہ (مزدوری) کی دیگر صورتوں میں بھی نافذ ہوگا جب کہ پہلی نوعیت صرف اس صورت سے متعلق ہے جو حدیث کے آخری جزو (والبئر جبار) (کنوین میں گرپڑنا معاف ہے) کے مطابق ہو چناچہ کنویں میں گرپڑنا معاف ہے کا مطلب یہ ہے کہ مثلا کسی شخص نے اپنی زمین یا کسی اور مباح زمین میں کنواں کھودا اور پھر اس میں کوئی شخص گر کر مرگیا تو کنواں کھودنے والے پر کوئی تاوان واجب نہیں ہوگا۔
3480
Mishkaat Shareefوعن يعلى بن أمية قال : غزوت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم جيش العسرة وكان لي أجير فقاتل إنسانا فعض أحدهما الآخر فانتزع المعضوض يده من في العاض فأندر ثنيته فسقطت فانطلق إلى النبي صلى الله عليه و سلم فأهدر ثنيته وقال : أيدع يده في فيك تقضمها كالفحل
اور حضرت یعلی ابن امیہ کہتے ہیں کہ (غزوہ تبوک کے) صبر آزما لشکر کے ساتھ رسول کریم ﷺ ہمراہ (جہاد میں) شریک تھا، میرے ساتھ ایک نوکر بھی تھا، چناچہ وہ (کسی بات پر) ایک شخص سے لڑ پڑا اور ان دونوں میں سے ایک نے دوسرے کا ہاتھ کاٹ کھایا مگر اس نے اپنا ہاتھ کاٹنے والے کے منہ سے (اس طرح کھینچا کہ اس کے دانت جھڑ کر گرپڑے۔ وہ شخص کہ جس کے دانت گرپڑے تھے (داد رسی کے لئے) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا (تا کہ آپ ﷺ اس کے حق میں فیصلہ کریں) لیکن آپ ﷺ نے اس کے دانتوں کا کوئی تاوان واجب نہیں کیا اور اس سے فرمایا کہ وہ شخص اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دیتا تاکہ اس کو اسی طرح چباتے رہتے جس طرح اونٹ چباتا ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
کیا وہ شخص اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دیتا الخ اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس کے دانتوں کا تاوان واجب نہ کرنے کے سبب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس شخص کی وجہ سے تمہارے دانت ٹوٹ کر گرے ہیں وہ اس مدافعتی کاروائی پر مجبور تھا کہ اس نے دراصل اپنا ہاتھ بچانے کے لئے تمہارے منہ سے کھینچا۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اسی طرح اگر کوئی مرد کسی عورت سے بدکاری کرنا چاہے اور وہ عورت اپنی آبرو بچانے کے لئے اس پر حملہ کرے جس کے نتیجہ میں وہ مرد ہلاک ہوجائے تو اس کی وجہ سے عورت پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔ چناچہ منقول ہے کہ حضرت عمر کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ ایک لڑکی (کہیں جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہی تھی کہ ایک شخص نے اس کا پیچھے کیا اور اس سے منہ کالا کرنا چاہا، لڑکی نے اپنی آبرو خطرہ میں دیکھ کر ایک پتھر اٹھایا اور اس شخص کے کھینچ مارا جس سے وہ مرگیا، حضرت عمر نے اس کے بارے میں فیصلہ دیا کہ یہ قتل (حقیقت میں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے (کہ اس نے اس شخص کو سزا دے کر ایک پاک دامن لڑکی کی عصمت کو محفوظ رکھا) لہٰذا اللہ کی قسم اس کی دیت نہیں دلوائی جائے گی حضرت امام شافعی کا قول ہے۔ اسی طرح کوئی شخص کسی کا مال لوٹے خون ریزی کرنے اور اس کے گھر والوں کو تباہ برباد کرنے کا ارادہ کرے تو اس قسم کا ارادہ کرنے والے اور قتل کرنے والے کین مدافعت کرنا جائز ہے لہذا پہلے تو یہ چاہیے کہ ایسے شخص کو انسانیت کے ساتھ اس کے ارادہ وفعل سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے لیکن اگر وہ اپنے ارادہ قتل و قتال سے باز نہ آئے اور اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے اس کو مار ڈالا جائے تو اس کا خون معاف ہوگا۔
تشریح
کیا وہ شخص اپنا ہاتھ تمہارے منہ میں چھوڑ دیتا الخ اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے اس کے دانتوں کا تاوان واجب نہ کرنے کے سبب کی طرف اشارہ کیا ہے کہ جس شخص کی وجہ سے تمہارے دانت ٹوٹ کر گرے ہیں وہ اس مدافعتی کاروائی پر مجبور تھا کہ اس نے دراصل اپنا ہاتھ بچانے کے لئے تمہارے منہ سے کھینچا۔ شرح السنۃ میں لکھا ہے کہ اسی طرح اگر کوئی مرد کسی عورت سے بدکاری کرنا چاہے اور وہ عورت اپنی آبرو بچانے کے لئے اس پر حملہ کرے جس کے نتیجہ میں وہ مرد ہلاک ہوجائے تو اس کی وجہ سے عورت پر کوئی چیز واجب نہیں ہوگی۔ چناچہ منقول ہے کہ حضرت عمر کے پاس یہ مقدمہ آیا کہ ایک لڑکی (کہیں جنگل میں لکڑیاں کاٹ رہی تھی کہ ایک شخص نے اس کا پیچھے کیا اور اس سے منہ کالا کرنا چاہا، لڑکی نے اپنی آبرو خطرہ میں دیکھ کر ایک پتھر اٹھایا اور اس شخص کے کھینچ مارا جس سے وہ مرگیا، حضرت عمر نے اس کے بارے میں فیصلہ دیا کہ یہ قتل (حقیقت میں) اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوا ہے (کہ اس نے اس شخص کو سزا دے کر ایک پاک دامن لڑکی کی عصمت کو محفوظ رکھا) لہٰذا اللہ کی قسم اس کی دیت نہیں دلوائی جائے گی حضرت امام شافعی کا قول ہے۔ اسی طرح کوئی شخص کسی کا مال لوٹے خون ریزی کرنے اور اس کے گھر والوں کو تباہ برباد کرنے کا ارادہ کرے تو اس قسم کا ارادہ کرنے والے اور قتل کرنے والے کین مدافعت کرنا جائز ہے لہذا پہلے تو یہ چاہیے کہ ایسے شخص کو انسانیت کے ساتھ اس کے ارادہ وفعل سے باز رکھنے کی کوشش کی جائے لیکن اگر وہ اپنے ارادہ قتل و قتال سے باز نہ آئے اور اس کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے اس کو مار ڈالا جائے تو اس کا خون معاف ہوگا۔
3481
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن عمرو قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من قتل دون ماله فهو شهيد وعن أبي هريرة قال : جاء رجل فقال : يا رسول الله أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي ؟ قال : فلا تعطه مالك قال : أرأيت إن قاتلني ؟ قال : قاتله قال : أرأيت إن قتلني ؟ قال : فأنت شهيد . قال : أرأيت إن قتلته ؟ قال : هو في النار . رواه مسلم
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص اپنے مال کے لئے مارا جائے تو وہ شہید ہے (بخاری و مسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مال و اسباب کی حفاظت کر رہا تھا کہ کسی نے اس کو قتل کردیا تو وہ شہید ہے یہی حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (جناب رسالت مآب میں حاضر ہو کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے بتایئے اگر کوئی شخص میرے پاس میرا مال (زبردستی) لینے آئے (تو کیا میں مال اس حوالے کر دوں ؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں تم اس کو اپنا مال نہ دو اس نے عرض کیا یہ بتایئے اگر وہ مجھ سے لڑ پڑے (تو کیا کروں) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم بھی اس سے لڑو اس نے عرض کیا بتایئے اگر اس نے مجھے مار ڈالا آپ نے فرمایا تم شہید ہو گے دریافت کیا اگر وہ مرجائے (تو اس کا کیا حشر ہوگا ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں جائے گا (اور تم پر اس کا کوئی وبال نہیں ہوگا ) ۔ (مسلم ) تشریح یہ حدیث مسلمانوں کو اپنی جان ومال اور عزت وآبرو بچانے کے لئے حملہ آور کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تلقین کرتی ہے اور اللہ کے نام لیواؤں کے شعور یہ احساس جاگزیں کرنا چاہتی ہے کہ مسلمان کا یہ شیوہ نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کے مقابلہ میں کم ہمتی اور بزدلی کا ثبوت دے جو اس کے مال کو لوٹنا چاہتا ہے اور اس کی زندگی کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے، بلکہ ایک مسلمان کو ایمان و یقین اور اعتماد علی اللہ کی جو طاقت حاصل ہوتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حملہ آور اور فسادی کا پوری مردانگی سے مقابلہ کرے اور ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دے کر شہادت کا مرتبہ حاصل کرے یا اس حملہ آور فسادی کو ختم کر کے اس کو جہنم رسید کر دے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر قاتل وفسادی مسلمان بھی ہو تو اس کی مدافعت کرنا اور اس مدافعت میں اس کو ہلاک کردینا مباح ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص اپنے مال و اسباب کی حفاظت کر رہا تھا کہ کسی نے اس کو قتل کردیا تو وہ شہید ہے یہی حکم اس شخص کے بارے میں ہے جو اپنے اہل و عیال کی حفاظت کرتا ہوا مارا جائے۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے (جناب رسالت مآب میں حاضر ہو کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! مجھے بتایئے اگر کوئی شخص میرے پاس میرا مال (زبردستی) لینے آئے (تو کیا میں مال اس حوالے کر دوں ؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا نہیں تم اس کو اپنا مال نہ دو اس نے عرض کیا یہ بتایئے اگر وہ مجھ سے لڑ پڑے (تو کیا کروں) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم بھی اس سے لڑو اس نے عرض کیا بتایئے اگر اس نے مجھے مار ڈالا آپ نے فرمایا تم شہید ہو گے دریافت کیا اگر وہ مرجائے (تو اس کا کیا حشر ہوگا ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا وہ دوزخ میں جائے گا (اور تم پر اس کا کوئی وبال نہیں ہوگا ) ۔ (مسلم ) تشریح یہ حدیث مسلمانوں کو اپنی جان ومال اور عزت وآبرو بچانے کے لئے حملہ آور کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کی تلقین کرتی ہے اور اللہ کے نام لیواؤں کے شعور یہ احساس جاگزیں کرنا چاہتی ہے کہ مسلمان کا یہ شیوہ نہیں ہے کہ وہ کسی بھی ایسے شخص کے مقابلہ میں کم ہمتی اور بزدلی کا ثبوت دے جو اس کے مال کو لوٹنا چاہتا ہے اور اس کی زندگی کو تباہ و برباد کرنے پر تلا ہوا ہے، بلکہ ایک مسلمان کو ایمان و یقین اور اعتماد علی اللہ کی جو طاقت حاصل ہوتی ہے اس کا تقاضا یہ ہے کہ وہ حملہ آور اور فسادی کا پوری مردانگی سے مقابلہ کرے اور ذلت کی زندگی پر عزت کی موت کو ترجیح دے کر شہادت کا مرتبہ حاصل کرے یا اس حملہ آور فسادی کو ختم کر کے اس کو جہنم رسید کر دے۔ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ اگر قاتل وفسادی مسلمان بھی ہو تو اس کی مدافعت کرنا اور اس مدافعت میں اس کو ہلاک کردینا مباح ہے۔
3482
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : جاء رجل فقال : يا رسول الله أرأيت إن جاء رجل يريد أخذ مالي ؟ قال : فلا تعطه مالك قال : أرأيت إن قاتلني ؟ قال : قاتله قال : أرأيت إن قتلني ؟ قال : فأنت شهيد . قال : أرأيت إن قتلته ؟ قال : هو في النار . رواه مسلم ( متفق عليه ) وعنه أنه سمع رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : لو اطلع في بيتك أحد ولم تأذن له فخذفته بحصاة ففتأت عينه ما كان عليك من جناح ( متفق عليه ) وعن سهل بن سعد : أن رجلا اطلع في جحر في باب رسول الله صلى الله عليه و سلم ومع رسول الله صلى الله عليه و سلم مدرى يحك به رأسه فقال : لو أعلم أنك تنظرني لطعنت به في عينيك إنما جعل الاستئذان من أجل البصر
اور حضرت ابوہریرہ (رض) روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ اگر (تمہارا دروازہ بند ہو اور اس کی دراڑ میں سے) کوئی شخص تمہارے گھر میں جھانکے درا نحالی کہ تم نے اس کو (گھر میں آنے کی) اجازت نہیں دے رکھی ہے اور تم اس کے کنکری مارو اور اس کنکری سے اس کی آنکھ پھوٹ جائے تو تم پر کوئی گناہ (تاوان) نہیں۔ ( بخاری ومسلم )
تشریح
امام شافعی نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص پر سے آنکھ کے تاوان کو ساقط کیا ہے جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس پر تاوان واجب ہوگا، انہوں نے اس حدیث کو مبالغہ اور سخت تنبیہ پر محمول کیا ہے۔ اور حضرت سہل ابن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کے دروازے سے جھانکا اور اس وقت رسول کریم ﷺ پشت خار (کنگھے) سے اپنا سر کھجا رہے تھے آپ ﷺ نے (جب اس شخص کو جھانکتے ہوئے دیکھا تو) فرمایا کہ اگر میں جانتا (یعنی مجھ کو یقین ہوتا) کہ تم (قصداً جھانک کر) مجھ کو دیکھ رہے تو میں (یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں جھونک دیتا) کیا تم نہیں جانتے کہ کسی غیر کے گھر میں آنے کے وقت) اجازت لینے کا حکم اسی آنکھ کی وجہ سے دیا گیا ہے (کہ وہ کسی غیر محرم پر نہ پڑجائے ) ۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس سے ثابت ہوا کہ جس طرح بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں داخل ہونا برا ہے اسی طرح بغیر اجازت کے کسی گھر میں جھانکنا بھی برا ہے، نیز طیبی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی بلا قصد کسی کے گھر میں جھانکنے کا مرتکب ہوجائے مثلا کوئی شخص کسی کے گھر کے سامنے سے گزر رہا ہو اور اضطرارا اس کی نظر گھر میں چلی جائے تو اس پر کوئی برائی نہیں ہے۔
تشریح
امام شافعی نے اس حدیث کے ظاہری مفہوم پر عمل کرتے ہوئے ایسے شخص پر سے آنکھ کے تاوان کو ساقط کیا ہے جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ اس پر تاوان واجب ہوگا، انہوں نے اس حدیث کو مبالغہ اور سخت تنبیہ پر محمول کیا ہے۔ اور حضرت سہل ابن سعد کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ کے دروازے سے جھانکا اور اس وقت رسول کریم ﷺ پشت خار (کنگھے) سے اپنا سر کھجا رہے تھے آپ ﷺ نے (جب اس شخص کو جھانکتے ہوئے دیکھا تو) فرمایا کہ اگر میں جانتا (یعنی مجھ کو یقین ہوتا) کہ تم (قصداً جھانک کر) مجھ کو دیکھ رہے تو میں (یہ کنگھا تمہاری آنکھ میں جھونک دیتا) کیا تم نہیں جانتے کہ کسی غیر کے گھر میں آنے کے وقت) اجازت لینے کا حکم اسی آنکھ کی وجہ سے دیا گیا ہے (کہ وہ کسی غیر محرم پر نہ پڑجائے ) ۔ ( بخاری ومسلم ) تشریح اس سے ثابت ہوا کہ جس طرح بغیر اجازت کے کسی کے گھر میں داخل ہونا برا ہے اسی طرح بغیر اجازت کے کسی گھر میں جھانکنا بھی برا ہے، نیز طیبی فرماتے ہیں کہ اس حدیث میں اس طرف اشارہ ہے کہ اگر کوئی بلا قصد کسی کے گھر میں جھانکنے کا مرتکب ہوجائے مثلا کوئی شخص کسی کے گھر کے سامنے سے گزر رہا ہو اور اضطرارا اس کی نظر گھر میں چلی جائے تو اس پر کوئی برائی نہیں ہے۔
3483
Mishkaat Shareefوعن عبد الله بن مغفل أنه رأى رجلا يخذف فقال : لا تخذف فإن رسول الله صلى الله عليه و سلم نهى عن الخذف وقال : إنه لا يصاد به صيد ولا ينكأ به عدو ولكنها قد تكسر السن وتفقأ العين
اور حضرت عبداللہ ابن مغفل سے روایت ہے کہ انہوں نے ایک شخص کو انگوٹھے اور شہادت کی انگلی سے پکڑ کر کنکریاں پھینکتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ کنکریاں نہ پھینکو کیونکہ رسول کریم ﷺ اس طرح کنکریاں پھینکنے سے منع کیا ہے اور فرمایا کہ اس طرح کنکری پھینک کر نہ تو شکار کیا جاسکتا ہے اور نہ (دین کے) دشمن کو زخمی کیا جاسکتا ہے (بلکہ یہ محض لہو ولعب ہے جس سے نہ دنیا کا فائدہ ہے اور نہ دین کا اور مستزاد یہ کہ لوگوں کو اس سے ضرر پہنچتا ہے جیسا کہ خود آنحضور ﷺ نے فرمایا کہ) البتہ اس طرح کنکریاں پھینکنا دانت کو توڑ دیتا ہے اور آنکھ کو پھوڑ دیتا ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ابن ملک کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس طرح بلا قصد کنکریاں پھینکنے سے اس لئے منع فرمایا کہ اس میں مصلحت اور فائدہ تو ہوتا نہیں البتہ فتنہ و فساد پھوٹ پڑنے اور لڑائی جھگڑا ہوجانے کا خوف ضرور رہتا ہے چناچہ یہی حکم ہر ایسے عمل کے بارے میں ہے جس میں یہ بات موجود ہو۔
تشریح
ابن ملک کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے اس طرح بلا قصد کنکریاں پھینکنے سے اس لئے منع فرمایا کہ اس میں مصلحت اور فائدہ تو ہوتا نہیں البتہ فتنہ و فساد پھوٹ پڑنے اور لڑائی جھگڑا ہوجانے کا خوف ضرور رہتا ہے چناچہ یہی حکم ہر ایسے عمل کے بارے میں ہے جس میں یہ بات موجود ہو۔
3484
Mishkaat Shareefوعن أبي موسى قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا مر أحدكم في مسجدنا وفي سوقنا ومعه نبل فليمسك على نصالها أن يصيب أحدا من المسلمين منها بشيء
اور حضرت ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ہماری مسجد اور ہمارے بازار میں آئے یا وہاں سے گزرے اور اس کے پاس تیر ہوں تو اس کو چاہئے کہ ان کو بند کرے (یعنی ان کے پیکانوں پر ہاتھ رکھ لے) تاکہ اس سے کسی مسلمان کو کوئی ضرر نہ پہنچے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مساجد اور بازار ایسے تمام مقامات جہاں مسلمان جمع ہوں وہاں ہتھیاروں کو بہت دیکھ بھال کے ساتھ اپنے پاس رکھنا چاہئے خواہ وہ تیر ہوں یا دوسرے ہتھیار جیسے بندوق، تلوار نیزہ اور بلم وغیرہ تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی چوک اور غلطی سے کوئی مسلمان کسی کے ہتھیار سے زخمی گھائل ہوجائے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ مساجد اور بازار ایسے تمام مقامات جہاں مسلمان جمع ہوں وہاں ہتھیاروں کو بہت دیکھ بھال کے ساتھ اپنے پاس رکھنا چاہئے خواہ وہ تیر ہوں یا دوسرے ہتھیار جیسے بندوق، تلوار نیزہ اور بلم وغیرہ تاکہ ایسا نہ ہو کہ کسی چوک اور غلطی سے کوئی مسلمان کسی کے ہتھیار سے زخمی گھائل ہوجائے۔
3485
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يشير أحدكم على أخيه بالسلاح فإنه لا يدري لعل الشيطان ينزع في يده فيقع في حفرة من النار ( صحيح ) وعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أشار إلى أخيه بحديدة فإن الملائكة تلعنه حتى يضعها وإن كان أخاه لأبيه وأمه . رواه البخاري ( صحيح ) وعن ابن عمر وأبي هريرة رضي الله عنهم عن النبي صلى الله عليه و سلم قال : من حمل علينا السلاح فليس منا . رواه البخاري وزاد مسلم : ومن غشنا فليس منا ( صحيح ) وعن سلمة بن الأكوع قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من سل علينا السيف فليس منا . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرے اس لئے کہ اس کو نہیں معلوم کہ شاید شیطان اس کے ہاتھ سے ہتھیار کھینچ لے اور اس کی وجہ سے وہ ہتھیار کا مالک دوزخ کی آگ میں ڈال دیا جائے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
شیطان تو تاک میں رہتاہی ہے کہ جہاں کوئی انسان چوکا اور اس لعین نے اس کو گناہ میں مبتلا کیا اسی لئے فرمایا گیا کہ کسی مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرو کہ مبادا شیطان تم پر اثر انداز ہوجائے اور وہ ہتھیار اشارے اشارے میں مسلمان بھائی کے جا لگے اور اس کی وجہ سے تم دوزخ کے سزا وار بنو۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف لوہے (یعنی ہتھیار وغیرہ) سے اشارہ کرتا ہے اس پر فرشتے اس وقت تک لعنت بھیجتے ہیں جب تک کہ وہ اس لوہے کو رکھ نہیں دیتا اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی کیوں نہ ہو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے حقیقی بھائی کی طرف لوہے سے اشارہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس کو قتل کرنے یا اس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس کا تعلق ہنسی مذاق ہی سے ہوسکتا ہے مگر اس کے باوجود فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا مقصد گویا کسی مسلمان پر اشارۃً ہتھیار یا لوہا اٹھانے کی ممانعت کو بطور مبالغہ بیان کرنا ہے۔ اور حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص (ہنسی مذاق کے طور پر بھی) ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے یعنی ہمارے طریقہ پر عامل نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ (جو شخص اپنی کوئی چیز فروخت کرتے وقت فروخت کی جانے والی چیز کے کسی عیب و نقصان کو چھپا کر) ہمیں فریب دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور حضرت سلمہ ابن اکوع کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے (بلا ارادہ قتل ہنسی مذاق میں بھی) ہمارے اوپر تلوار کھینچی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (مسلم)
تشریح
شیطان تو تاک میں رہتاہی ہے کہ جہاں کوئی انسان چوکا اور اس لعین نے اس کو گناہ میں مبتلا کیا اسی لئے فرمایا گیا کہ کسی مسلمان بھائی کی طرف ہتھیار سے اشارہ نہ کرو کہ مبادا شیطان تم پر اثر انداز ہوجائے اور وہ ہتھیار اشارے اشارے میں مسلمان بھائی کے جا لگے اور اس کی وجہ سے تم دوزخ کے سزا وار بنو۔ اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ جو شخص اپنے (مسلمان) بھائی کی طرف لوہے (یعنی ہتھیار وغیرہ) سے اشارہ کرتا ہے اس پر فرشتے اس وقت تک لعنت بھیجتے ہیں جب تک کہ وہ اس لوہے کو رکھ نہیں دیتا اگرچہ وہ اس کا حقیقی بھائی کیوں نہ ہو۔ ( بخاری ومسلم) تشریح مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے حقیقی بھائی کی طرف لوہے سے اشارہ کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس کو قتل کرنے یا اس کو نقصان پہنچانے کا ارادہ رکھتا ہے بلکہ اس کا تعلق ہنسی مذاق ہی سے ہوسکتا ہے مگر اس کے باوجود فرشتے اس پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اس ارشاد گرامی کا مقصد گویا کسی مسلمان پر اشارۃً ہتھیار یا لوہا اٹھانے کی ممانعت کو بطور مبالغہ بیان کرنا ہے۔ اور حضرت ابن عمر اور حضرت ابوہریرہ نبی کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا جو شخص (ہنسی مذاق کے طور پر بھی) ہم پر ہتھیار اٹھائے وہ ہم میں سے نہیں ہے یعنی ہمارے طریقہ پر عامل نہیں ہے۔ (بخاری ومسلم) اور مسلم نے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ (جو شخص اپنی کوئی چیز فروخت کرتے وقت فروخت کی جانے والی چیز کے کسی عیب و نقصان کو چھپا کر) ہمیں فریب دے وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ اور حضرت سلمہ ابن اکوع کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے (بلا ارادہ قتل ہنسی مذاق میں بھی) ہمارے اوپر تلوار کھینچی وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ (مسلم)
3486
Mishkaat Shareefوعن هشام بن عروة عن أبيه أن هشام بن حكيم مر بالشام على أناس من الأنباط وقد أقيموا في الشمس وصب على رؤوسهم الزيت فقال : ما هذا ؟ قيل : يعذبون في الخراج فقال هشام : أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : إن الله يعذب الذين يعذبون الناس في الدنيا . رواه مسلم
اور حضرت ہشام ابن عروہ اپنے والد سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت ہشام ابن حکیم نے ملک شام (کے سفر کے دوران) انبطی قوم کے کچھ افراد کو اس حال میں دیکھا کہ انہیں دھوپ میں کھڑا کیا گیا تھا اور ان کے سروں پر گرم گرم تیل ڈالا گیا تھا، ہشام ابن حکیم نے (یہ روح فرسا منظر دیکھ کر) کہا کہ یہ کیا ہے ؟ (یعنی ان لوگوں کو کس جرم کی پاداش میں یہ غیر انسانی سزا دی جا رہی ہے ؟ ) انہیں بتایا گیا کہ خراج (زرعی ٹیکس نہ دینے) کی وجہ سے ان کو اس عذاب میں مبتلا کیا گیا ہے ؟ حضرت ہشام نے فرمایا میں شہادت دیتا ہوں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ (آخرت میں) ان لوگوں کو عذاب میں مبتلا کرے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب میں مبتلا کرے گا جو لوگوں کو دنیا میں عذاب میں مبتلا کرتے ہیں۔ (مسلم)
تشریح
یعنی جو شخص کسی کو دنیا میں ناحق کسی چیز کے عذاب میں مبتلا کرے گا مثلا کسی کو دھوپ میں کھڑا کر کے اس کے اوپر گرم تیل ڈالے گا تو اللہ تعالیٰ عقبی میں اس کو اسی چیز کے عذاب میں گرفتار کرے گا۔
تشریح
یعنی جو شخص کسی کو دنیا میں ناحق کسی چیز کے عذاب میں مبتلا کرے گا مثلا کسی کو دھوپ میں کھڑا کر کے اس کے اوپر گرم تیل ڈالے گا تو اللہ تعالیٰ عقبی میں اس کو اسی چیز کے عذاب میں گرفتار کرے گا۔
3487
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يوشك إن طالت بك مدة أن ترى أقواما في أيديهم مثل أذناب البقر يغدون في غضب الله ويروحون في سخط الله . وفي رواية : ويروحون في لعنة الله . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تمہاری عمر دراز ہوئی تو تم عنقریب ان لوگوں کو دیکھو گے جن کے ہاتھوں میں گائے کی دم کی مانند ایک ایسی چیز یعنی کوڑے ہوں گے، ان کی صبح اللہ کے غضب میں اور ان کی شام اللہ کی شدید ناراضگی میں گزرے گی (یعنی ان لوگوں پر ہمہ وقت اللہ کا عذاب نازل ہوتا رہے گا) اور ایک روایت میں یہ ہے کہ ان کی شام اللہ کی لعنت میں گزرے۔ (مسلم )
تشریح
ان لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ظالم و جابر یا کسی صاحب اقتدار کے حاشیہ نشین ہوتے ہیں یا ان کے دروازوں پر پڑے رہتے ہیں اور ان کے آگے پیچھے لگے رہتے ہیں اور پھر اس ظالم و جابر کے بل بوتے پر وہ لوگ عام انسانوں کو ڈراتے دھمکاتے پھرتے ہیں غریبوں کو مارتے پیٹتے ہیں، کمزوروں کو گالیاں دیتے ہیں اور نادار شرفاء کی عزت وآبرو کو پامال کرتے ہیں اور کٹ کھنے کتے کی طرح ہر ایک کو کاٹنے دوڑتے ہیں۔
تشریح
ان لوگوں سے مراد وہ لوگ ہیں جو کسی ظالم و جابر یا کسی صاحب اقتدار کے حاشیہ نشین ہوتے ہیں یا ان کے دروازوں پر پڑے رہتے ہیں اور ان کے آگے پیچھے لگے رہتے ہیں اور پھر اس ظالم و جابر کے بل بوتے پر وہ لوگ عام انسانوں کو ڈراتے دھمکاتے پھرتے ہیں غریبوں کو مارتے پیٹتے ہیں، کمزوروں کو گالیاں دیتے ہیں اور نادار شرفاء کی عزت وآبرو کو پامال کرتے ہیں اور کٹ کھنے کتے کی طرح ہر ایک کو کاٹنے دوڑتے ہیں۔