hadith book logo

Mishkaat Shareef

185. نبی ﷺ کی وفات کا بیان

مشكاة المصابيح

5886
Mishkaat Shareef
صحیح
مشکوٰۃ المصابیح کے اکثر نسخوں میں صرف باب کا لفظ منقول ہے ایک نسخہ میں باب وفات النبی ﷺ کے الفاظ ہیں جن سے باب کے موضوع کا اظہار ہوتا ہے اور یہی زیادہ صحیح اور زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ مؤلف مشکوٰۃ کا معمول یہ ہے کہ وہ صرف باب کا لفظ اس موقع پر لاتے ہیں جہاں پچھلے باب سے تعلق رکھنے والی بقیہ حدیثوں کو نقل کرنا مقصود ہوتا ہے۔ جب کہ یہاں ایسی صورت نہیں ہے اس باب میں جو احادیث نقل کی گئی ہیں وہ سابقہ باب سے کوئی نسبت اور تعلق رکھنے کے بجائے ایک مستقل موضوع یعنی آنحضرت ﷺ کے وصال کے حالات سے متعلق ہیں نیز اس باب کے بعد جو باب آرہا ہے وہاں مؤلف نے موضوع کا ذکر کئے بغیر صرف باب کا لفظ لکھ دیا ہے اور اس باب میں اسی باب کے موضوع یعنی نبی کریم ﷺ سے متعلق احادیث منقول ہیں، اس بات کا تقاضا بھی یہی ہے کہ یہاں باب کا ذکر اپنے موضوع یعنی نبی کریم ﷺ کی وفات کے اظہار کے ساتھ ہو اگلا باب موضوع کے اظہار کے بغیر ہو جس میں اس باب سے متعلق بقیہ احادیث منقول ہوں۔
5887
Mishkaat Shareef
صحیح
آنحضرت ﷺ کے مرض الموت کی ابتداء کس دن ہوئی، اس بارے میں مختلف اقوال ہیں ایک قول یہ ہے کہ ہجرت کے گیارھویں سال ماہ صفر کے آخر میں ٢٧ یا ٢٨ تاریخ کو درد سر کے شدید حملہ سے آپ ﷺ کے مرض الموت کا آغاز ہوا ایک روایت کے مطابق محرم کے مہینے ہی میں آپ ﷺ پر بخار کا حملہ ہوگیا تھا ، ٢٦ صفر کو بیماری سے کسی قدر آفاقہ محسوس ہوا تھا اور ٢٨ صفر ہی کو پھر بیماری میں اشتداد ظاہر ہوگیا، ایک روایت ہے کہ مرض الموت کا آغاز ماہ ربیع الاول میں شروع ہوا۔ ابن جوزی کی کتاب الوفاء میں یہ لکھا ہے کہ آپ ﷺ کے مرض وفات کا آغاز ماہ صفر کی اس تاریخ کو ہوا۔ جب کہ مہینہ ختم ہونے میں دس راتیں باقی تھیں اور آپ ﷺ کا وصال ١٢ ربیع الاول کو ہوا سلیمان تیمی نے جو ایک ثقہ اور انتہائی قابل راوی ہیں اپنا یہ یقین بیان کیا ہے کہ آنحضرت ﷺ کے مرض الموت کی ابتداء بدھ کے دن ٢٢ صفر کو ہوئی اور آپ ﷺ پیر (دوشنبہ) کے دن ربیع الاول کی دوسری تاریخ کو ہوا بہت سے علماء اس قول کو اگرچہ اس بناء پر قابل ترجیح کہتے ہیں کہ حضرت فاطمہ زہراء (رض) کا انتقال رمضان المبارک کی تیسری تاریخ کو ہوا تھا اور تمام اہل علم کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت فاطمہ الزہراء (رض) کی وفات آنحضرت ﷺ کے وصال کے ٹھیک ٹھیک چھ ماہ بعد ہوئی ہے لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ اکثر روایتوں میں آپ ﷺ کی تاریخ وفات ١٢ ربیع الاول ہی منقول ہے۔
5888
Mishkaat Shareef
صحیح
شدید درد سر اور بخار کی صورت میں جو مرض لاحق ہوا تھا وہ بڑھتا گیا، شدت مرض سے آپ کے کرب کا یہ حال ہوتا تھا کہ بستر پر پڑے پڑے کروٹ پر کروٹ بدلتے بدلتے مگر کسی صورت چین نہیں ملتا تھا، اس وقت آپ ﷺ فرماتے تھے کہ بیماری جتنی سخت ہم لوگوں یعنی انبیاء کی ہوتی ہے اتنی سخت کسی کی نہیں ہوتی اور اس میں شبہ نہیں کہ اجروثواب بھی ہمیں ہی زیادہ ملتا ہے۔ اپنی اس بیماری کے دوران آنحضرت ﷺ نے چالیس غلام آزاد کئے اور علاوہ تین روز کے پوری مدت مرض اپنے صحابہ کرم رضوان اللہ علیہم اجمعین کے ساتھ باجماعت نماز ادا کرتے رہے بعض حضرات نے یہ لکھا ہے کہ آپ ﷺ سترہ نمازیں نہیں پڑھائیں اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو حکم دیا کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھائیں آخری تلقین و نصیحت روایتوں میں آتا ہے کہ آنحضرت ﷺ اپنے مرض الموت میں سب سے زیادہ جس چیز کی نصیحت فرمایا کرتے تھے ان میں سے ایک تو یہ تھی کہ نماز سے غافل مت ہونا اور دوسری یہ تھی کہ اپنے غلاموں اور اپنی باندیوں کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کا معاملہ کرنا وفات کے دن فجر کے وقت آپ ﷺ حجرہ شریف سے نکل کر مسجد میں آئے اور حضرت ابوبکر (رض) کی امامت میں فجر کی نماز ادا کی، بعد نماز آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آخری بار خطاب کیا اور فرمایا مسلمانو ! میں تم لوگوں کو اللہ حافظ کہتا ہوں اور تم سب کو اللہ کی حفاظت میں دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ ہی تمہارے حق میں میرا خلیفہ یعنی بہتر کا رساز ہے اب چونکہ میں دنیا چھوڑ رہا ہوں اور تم سے جدا ہو رہا ہوں اس لئے تمہیں یہ نصیحت کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ تقویٰ (پرہیزگاری اختیار کرنا اور نیک کاری کو ہمیشہ مدنظر رکھنا۔
5889
Mishkaat Shareef
صحیح
مرض وفات کے دوران جو بعض غیر معمولی واقعات پیش آئے ان میں سے یہ بھی ہے کہ پنجشنبہ کے دن جب کہ آپ ﷺ پر بیماری کا شدید غلبہ تھا، آپ ﷺ نے ایک وصیت نامہ لکھنے کا ارادہ ظاہر کیا اور حضرت عبدالرحمن ابن عوف (رض) سے فرمایا کہ بکری کے شانہ کی ہڈی (کہ جو چوڑی ہونے کے سبب لکھنے کے لئے زیادہ پسند کی جاتی تھی، یا کوئی تختہ لے آؤ تاکہ میں اس پر ابوبکر صدیق کے لئے وصیت لکھ دوں۔ حضرت عبدالرحمن آپ ﷺ کے فرمانے کے مطابق ہڈی یا تختہ لانے کے لئے اٹھنا ہی چاہتے تھے کہ آپ ﷺ نے فرمایا اچھا رہنے دو اب ضرورت محسوس نہیں کرتا (مجھے یقین ہے کہ) اللہ اور مسلمان ابوبکر کے حق میں اختلاف نہیں کریں گے (مطلب یہ کہ ابوبکر کی خلافت کو اللہ تعالیٰ بھی پسند فرمائے گا اور تمام مسلمان بھی متفقہ طور پر ان کے ہاتھ بیعت کرلیں گے ) منقول ہے کہ (جب آنحضرت ﷺ کی حالت زیادہ بگڑی تو) حضرت عباس (رض) نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے کہا عبد المطلب کے اولاد کے چہروں کی مجھے شناخت ہے کہ آثار موت ان پر کس طرح ظاہر ہوتے ہیں میں ڈر رہا ہوں کہ آنحضرت ﷺ اس بیماری سے شاید اب جان بر نہ ہو سکیں، لہٰذا میری رائے ہے کہ (اس وقت کو غنیمت جانو اور) آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر اس چیز (یعنی خلافت) کا مطالبہ کرو حضرت علی کرم اللہ وجہہ نے جواب دیا کہ آپ جانتے ہیں کہ اگر میں آنحضرت ﷺ سے یہ چیز مانگوں اور آپ ﷺ نہ دیں تو کیا پھر بھی لوگ مجھے یہ چیز دیدیں گے ؟ (مطلب یہ کہ خلافت کا مسئلہ عام مسلمانوں کی رائے اور ان کے اتفاق سے تعلق رکھتا ہے اگر مجھے یہ یقین ہوتا کہ تمام مسلمان ہر حالت میں مجھے ہی ترجیح دینگے تو میں آنحضرت ﷺ سے بھی طلب گار ہوجاتا، لیکن جب میں یہ سمجھتا ہوں کے ابھی مجھ سے تو پھر میں آنحضرت ﷺ سے اپنے بارے میں کچھ کہنا مناسب نہیں سمجھتا) راویتوں میں آتا ہے کہ مرض الموت کے درمیان آنحضرت ﷺ کے پاس پانچ یا چھ اور یا سات دینار تھے جو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی تحویل میں رکھ دیئے تھے، آپ ﷺ نے ان دیناروں کو صدقہ کردینے کا حکم دیا تاکہ آپ ﷺ اپنے پیچھے کچھ نہ چھوڑ جائیں۔
5890
Mishkaat Shareef
صحیح
چونکہ مرض الموت کی ابتداء کے دن و تاریخ اور وفات کے دن و تاریخ کے بارے میں اختلافی اقوال ہیں کہ اس لئے تعین کے ساتھ یہ کہنا بھی مشکل ہے کہ آپ ﷺ کتنے دن مرض الموت میں مبتلا رہے، چناچہ علماء کرام (رح) نے لکھا ہے کہ مذکورہ اختلاف اقوال کی بناء پر آپ ﷺ بارہ یا اٹھارہ دن بیمار رہے اور علماء کرام کے معتمد قول کے مطابق ٢ ربیع الاول دوشنبہ (پیر) کے دن اس دار فانی سے آپ ﷺ نے انتقال فرمایا منقول ہے کہ اس وقت جب کچھ لوگوں کو تردد ہوا کہ آپ ﷺ کی روح مبارک، جسد پاک سے پرواز کرگئی ہے یا نہیں تو حضرت اسماء بنت عمیس (رض) نے جو پہلے جعفر ابن ابوطالب کے نکاح میں تھیں اور ان کی شہادت کے بعد حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے نکاح میں آئیں اور پھر ان کی وفات کے بعد حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے نکاح میں آگئی تھیں، آنحضرت ﷺ کے جسد پاک پر شانوں کے درمیان ہاتھ رکھ کر دیکھا اور کہا رسول اللہ ﷺ اس جہان فانی سے کوچ فرماچکے ہیں اور آپ ﷺ کے دونوں شانوں کے درمیان جو مہر نبوت تھی وہ اٹھالی گئی۔ ام المؤمنین حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ وفات کے دن میں اپنا ہاتھ سرکار دوعالم ﷺ کے سینہ مبارک پر رکھ کر دیکھا تھا اس دن کے بعد سے کئی ہفتوں تک میرے (اس ہاتھ سے مشک کی خوشبو آتی رہی حالانکہ میں ہر کھانے کے وقت (اور ویسے بھی وضو وغیرہ) پابندی سے ہاتھ دھویا کرتی تھی۔ اور شواہد النبوۃ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے بارے میں منقول ہے کہ کسی نے ان سے پوچھا آپ کا حافظہ اور فہم اتنا اچھا کس طرح ہوگیا ؟ تو انہوں نے فرمایا کہ جب میں نے سرکار دوعالم ﷺ کے جسد اطہر کو غسل دیا تو آپ ﷺ کی پلکوں میں جو پانی جمع ہوگیا تھا اس کو میں نے اپنی زبان سے اٹھایا تھا اور پی گیا تھا، اسی چیز کو میں اپنے حافظہ وفہم کی قوت کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔
5891
Mishkaat Shareef
صحیح
آنحضرت ﷺ کے کفن کے بارے میں مختلف روایتیں منقول ہیں لیکن صحیح روایت وہ ہے جو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے منقول ہے کہ آپ ﷺ کو تین سوتی کپڑوں میں کفنایا گیا تھا، ان میں کرتا اور عمامہ نہیں تھا ویسے حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی اس روایت کے بیان کے مطلب میں بھی اختلافی اقوال ہیں۔ بعض حضرات نے یہ کہا کہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے ارشاد کے مطابق ان میں کرتا اور عمامہ نہیں تھا کا مطلب یہ ہے کہ کرتا اور عمامہ ان تین کپڑوں میں نہیں تھا بلکہ کرتا اور عمامہ ان تین کپڑوں کے علاوہ تھے گویا آپ ﷺ کے کفن میں مجموعی طور پر پانچ کپڑے تھے، لیکن یہ بات قرین قیاس معلوم نہیں ہوتی، اصل مطلب وہی ہے جو دوسرے حضرات نے بیان کیا ہے کہ آپ ﷺ کے کفن میں ان تین کپڑوں کے علاوہ کرتا اور عمامہ بالکل نہیں تھا یعنی صرف ہی کپڑوں یعنی ازار، کفنی اور لفافہ (پوٹ کی چادر) کا کفن مستحب ہے۔
5892
Mishkaat Shareef
صحیح
آپ ﷺ کی نماز جنازہ باجماعت ادا نہیں کی گئی اور نہ کسی نے امامت کی بلکہ یہ صورت اختیار کی گئی تھی کہ جسد پاک کو نہلا کفنا کر حجرہ مبارک میں، کہ جہاں تدفین ہوئی تھی، رکھ دیا گیا تھا۔ لوگ ٹولیوں کی شکل میں تنہا تنہا نماز جنازہ پڑھ کر باہر نکل جاتے اس طرح پہلے مردوں نے پھر عورتوں نے اور پھر بچوں نے الگ الگ نماز پڑھی۔
5893
Mishkaat Shareef
صحیح
حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کے حجرہ مبارک میں، جہاں آپ ﷺ کی پاک روح نے جسد اطہر سے پرواز کی تھی قبر تیار کی گئی اور تدفین عمل میں آئی۔ جب قبر میں اتارا جانے لگا تو آپ ﷺ کے آزادہ کردہ غلام حضرت شقران نے لحد میں آپ ﷺ کے نیچے آپ ﷺ کی چادر مبارک بچھا دی اور کہا کہ مجھے یہ گوارہ نہیں کہ آپ ﷺ کے بعد کوئی دوسرا اس چادر کو اوڑھے۔ لیکن ایک روایت کے مطابق صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے شقران کی اس بات کو پسند نہیں کیا اور مٹی ڈالنے سے پہلے وہ چادر نکال لی گئی تھی اسی لئے تمام علماء نے قبر میں میت کے نیچے کسی طرح کی چادر وغیرہ بچھانے کو مکروہ قرار دیا ہے۔ آپ ﷺ کی تدفین چہار شنبہ (بدھ) کی شب میں، یا ایک روایت کے مطابق سہ شنبہ (منگل) کے دن سورج ڈھلنے کے بعد عمل میں آئی تھی۔
5894
Mishkaat Shareef
صحیح
آنحضرت ﷺ کی قبر بغلی (لحد) بنائی گئی اور لحد کا منہ نو کچی اینٹیں کھڑی کرکے بند کیا گیا اور اس قبر کو مسنم (یعنی اونٹ کے کوہان کی طرح اٹھی ہوئی) بنایا گیا پھر اس پر سنگریزے بچھائے اور پانی چھڑکا گیا اسی بناء پر بالاتفاق چاروں ائمہ کے ہاں قبر کو مسنم بنانا مستحب ہے۔
5895
Mishkaat Shareef
صحیح
عن البراء قال : أول من قدم علينا من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم مصعب بن عمير وابن أم مكتوم فجعلا يقرآننا القرآن ثم جاء عمار وبلال وسعد ثم جاء عمر بن الخطاب في عشرين من أصحاب النبي صلى الله عليه و سلم ثم جاء النبي صلى الله عليه و سلم فما رأيت أهل المدينة فرحوا بشيء فرحهم به حتى رأيت الولائد والصبيان يقولون : هذا رسول الله صلى الله عليه و سلم قد جاء فما جاء حتى قرأت : [ سبح اسم ربك الأعلى ] في سور مثلها من المفصل . رواه البخاري
حضرت براء ابن حازب (رض) (جوانصار مدینہ میں سے مشہور ترین صحابی ہیں) کہتے ہے کہ (ہجرت نبوی سے قبل) رسول کریم ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں جو حضرات سب سے پہلے ہمارے ہاں (مدینہ آئے وہ حضرت مصعب ابن عمیر (رض) اور حضرت ام مکتوم (رض) تھے ان دونوں حضرات نے (آتے ہی) ہمیں قرآن کی تعلیم دینا شروع کردیا تھا پھر حضرت عمار ابن یاسر، حضرت بلال ابن رباح اور حضرت سعد ابن ابی وقاص (رض) آئے اور حضرت عمر ابن خطاب (رض) نبی کریم ﷺ کے بیس صحابہ کرام رضوان اللہ کے ساتھ تشریف لائے، ان کے بعد نبی کریم ﷺ نے (حضرت ابوبکر صدیق کے ساتھ) نزول جلال فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ (اس دن جب کہ اہل مدینہ کے نصیب جاگے تھے میں نے مدینہ والوں کو آپ کی تشریف آوری پر جتنا فرحاں و شاداں دیکھا تھا اتنی وجت و شادمانی ان کو کسی (بڑی سے بڑی دنیاوی) خوشی کے موقع پر حاصل نہیں تھی، میں نے یہاں تک دیکھا کہ چھوٹے چھوٹے لڑکے اور لڑکیاں (مارے خوشی کے) یہ نعرے لگا رہے تھے یہ اللہ کے رسول ﷺ ہیں، جو ہماری بستی میں تشریف لائے ہیں اور میں نے (آپ کی تشریف آوری سے پہلے ہی مفصل) یعنی اوساط مفصل کی ہم مثل سورتوں میں سے سورت سبح اسم ربک الاعلی سیکھ لی تھی (یا یہ کہ اوساط مفصل کی دوسری ہم مثل سورتوں کے ساتھ ساتھ سورت سبح اسم ربک الاعلی بھی سیکھ لی تھی۔ (بخاری)

تشریح
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ سورت سبح اسم ربک الاعلی مکہ میں نازل ہوئی ہے، لیکن بعض حضرات کہتے ہیں کہ اس سورت کی آیات قدافلح من تز کی وذکر اسم ربہ فصلی، چونکہ صدقہ فطر کے بارے میں ہے اور صدقہ اور نماز عید کا واجب قرار دیا جانا ٢ ھ واقعہ کا ہے اس لئے سورت سبح اسم ربک الاعلی کو مکی سورت کہنے پر اشکال واقع ہوسکتا ہے ہاں اگر یہ کہا جائے کہ ان دو آیتوں یعنی (قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰى 14 وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّه فَصَلّٰى 15) 87 ۔ الاعلی 15-14) کے علاوہ بقیہ پوری سورت میں نازل ہوئی ہے تو پھر مذکورہ اشکال واقع نہیں ہوگا مگر حقیقت میں نہ اشکال صحیح ہے اور نہ احتمال، کیونکہ صحیح تر روایت کے مطابق یہ سورت اپنی تمام آیتوں کے ساتھ مکہ میں نازل ہوئی ہے اور بعد میں مدینہ آکر جب صدقہ فطر اور نماز عید کو واجب قرار دیا گیا تو رسول کریم ﷺ نے اس وقت ان دونوں آیتوں کی مراد بیان فرمائی کہ ان کا مضمون دراصل صدقہ فطر اور نماز عید کی اہمیت و فضیلت کے اظہار سے تعلق رکھتا ہے دوسرے لفظوں میں اس بات کو یوں کہا جاسکتا ہے کہ ان دونوں آیتوں مجرد مالی وبدنی عبادتوں (صدقہ و زکوٰۃ اور صلوٰۃ کی تلقین و ترغیب ہے جس میں اصل مراد کا بیان نہیں ہے، اس اصل کو مراد بعد سنت نے اس وقت بیان کیا جب صدقہ فطر اور نماز عید کو واجب قرار دیا گیا۔