Mishkaat Shareef
135. شکار کا بیان
مشكاة المصابيح
3969
Mishkaat Shareefوعن أبي ثعلبة الخشني قال : قلت : يا نبي الله إنا بأرض قوم أهل كتاب أفنأكل في آنيتهم وبأرض صيد أصيد بقوسي وبكلبي الذي ليس بمعلم وبكلبي المعلم فما يصلح ؟ قال : أما ذكرت من آنية أهل الكتاب فإن وجدتم غيرها فلا تأكلوا فيها وإن لم تجدوا فاغسلوها وكلوا فيها وما صدت بقوسك فذكرت اسم الله فكل وما صدت بكلبك المعلم فذكرت اسم الله فكل وما صدت بكلبك غير معلم فأدركت ذكاته فكل
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی ! ہم ایک ایسی قوم کے درمیان سکونت پذیر ہیں جو اہل کتاب ہے، تو کیا ہم ان کے برتنوں میں کھا پی سکتے ہیں اور ہم ایسے علاقے میں رہتے ہیں جہاں شکار بہت ہیں میں اپنی کمان ( یعنی تیر) اور تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ بھی شکار مارتا ہوں اور غیر تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ بھی شکار کرتا ہوں تو میرے لئے کون سی چیز درست ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا جہاں تک اس چیز کا تعلق ہے جو تم نے اہل کتاب کے برتنوں کے بارے میں پوچھی ہے تو ( ان کے متعلق یہ حکم ہے کہ) اگر ان برتنوں کے علاوہ اور برتن مل سکیں تو پھر ان کے برتنوں میں مت کھاؤ پیو اور اگر دوسرے برتن نہ مل سکیں تو ( پہلے) ان کو دھو مانج لو اور پھر ان میں کھا پی لو۔ رہی شکار کی بات تو جس جانور کو تم نے اپنے تیر سے شکار کیا ہے اور ( تیر چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا ہے اس کو کھالو اسی طرح جس جانور کو تم نے تربیت یافتہ کتے کے ذریعہ شکار کیا ہے اور ( اس کتے کو چھوڑتے وقت) اللہ کا نام لیا ہے تو اس کو بھی کھا سکتے ہو۔ (بخاری و مسلم)
تشریح
ان کے برتنوں میں مت کھاؤ یہ حکم احتیاط کے پیش نظر ہے اور اس کے کہی سبب ہیں ایک تو یہ کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے دع ما یریبک الی مالا یریبک دوسرے اس بات سے آگاہ کرنا مقصود ہے کہ حتی الامکان ان کے مستعمل برتنوں میں کھانے پینے سے احتراز کیا جائے اگرچہ ان کو دھو لیا گیا ہو۔ اور تیسرے مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ راسخ کرنا بھی مقصود ہے کہ مسلمانوں کے سامنے ان کا یہ ملی تقاضہ بہر صورت رہنا چاہئے کہ وہ ان ( اہل کتاب) کے ساتھ رہن سہن اور باہمی اختلاط رکھنے سے نفرت کریں۔ تاہم یہ حکم کہ ان کے برتنوں میں مت کھاؤ دراصل تقوی کی راہ ہے اور اس بارے میں جو کچھ فتوی ہے وہ خود حدیث نے آگے بیان کردیا ہے۔ ان کو دھو مانج لو یہ حکم اس صورت میں تو بطریق وجوب ہوگا جب کہ ان برتنوں کے نجس و ناپاک ہونے کا ظن غالب ہو اور اس صورت میں بطریق استحباب ہوگا جب کہ ان کی نجاست کا ظن غالب نہ ہو۔ برماوی نے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ان ( اہل کتاب) کے برتنوں کے علاوہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں تو اس صورت میں ان کے برتنوں کو دھو کر بھی اپنے کھانے پینے کے استعمال میں نہیں لانا چاہئے۔ جب کہ فقہاء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ ان کے برتنوں کے دھو لینے کے بعد استعمال کرنا بہر صورت جائز ہے۔ خواہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں یا نہ مل سکتے ہوں۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ حدیث سے جو کراہت ثابت ہوتی ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جن میں وہ لوگ سور کا گوشت پکاتے کھاتے ہوں یا جن میں شراب پینے کے لئے رکھتے ہوں، لہذا ایسے برتن چونکہ ایمانی نقطہ نظر سے بےحد گھناؤ نے ہوتے ہیں، اس لئے ان کو اپنے استعمال میں لانا مکروہ ہے خواہ ان کو کتنا ہی دھو مانج کیوں نہ لیا جائے اور فقہاء نے جو مسئلہ بیان کیا ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جو سور کے گوشت جیسی نجاستوں اور ناپا کیوں میں زیادہ مستعمل نہیں ہوتے۔
تشریح
ان کے برتنوں میں مت کھاؤ یہ حکم احتیاط کے پیش نظر ہے اور اس کے کہی سبب ہیں ایک تو یہ کہ آپ ﷺ کا یہ ارشاد ہے دع ما یریبک الی مالا یریبک دوسرے اس بات سے آگاہ کرنا مقصود ہے کہ حتی الامکان ان کے مستعمل برتنوں میں کھانے پینے سے احتراز کیا جائے اگرچہ ان کو دھو لیا گیا ہو۔ اور تیسرے مسلمانوں کے ذہن میں یہ بات زیادہ سے زیادہ اہمیت کے ساتھ راسخ کرنا بھی مقصود ہے کہ مسلمانوں کے سامنے ان کا یہ ملی تقاضہ بہر صورت رہنا چاہئے کہ وہ ان ( اہل کتاب) کے ساتھ رہن سہن اور باہمی اختلاط رکھنے سے نفرت کریں۔ تاہم یہ حکم کہ ان کے برتنوں میں مت کھاؤ دراصل تقوی کی راہ ہے اور اس بارے میں جو کچھ فتوی ہے وہ خود حدیث نے آگے بیان کردیا ہے۔ ان کو دھو مانج لو یہ حکم اس صورت میں تو بطریق وجوب ہوگا جب کہ ان برتنوں کے نجس و ناپاک ہونے کا ظن غالب ہو اور اس صورت میں بطریق استحباب ہوگا جب کہ ان کی نجاست کا ظن غالب نہ ہو۔ برماوی نے نقل کیا ہے کہ اس حدیث کے ظاہری مفہوم سے یہ واضح ہوتا ہے کہ اگر ان ( اہل کتاب) کے برتنوں کے علاوہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں تو اس صورت میں ان کے برتنوں کو دھو کر بھی اپنے کھانے پینے کے استعمال میں نہیں لانا چاہئے۔ جب کہ فقہاء نے یہ مسئلہ لکھا ہے کہ ان کے برتنوں کے دھو لینے کے بعد استعمال کرنا بہر صورت جائز ہے۔ خواہ اور دوسرے برتن مل سکتے ہوں یا نہ مل سکتے ہوں۔ اس صورت میں کہا جائے گا کہ حدیث سے جو کراہت ثابت ہوتی ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جن میں وہ لوگ سور کا گوشت پکاتے کھاتے ہوں یا جن میں شراب پینے کے لئے رکھتے ہوں، لہذا ایسے برتن چونکہ ایمانی نقطہ نظر سے بےحد گھناؤ نے ہوتے ہیں، اس لئے ان کو اپنے استعمال میں لانا مکروہ ہے خواہ ان کو کتنا ہی دھو مانج کیوں نہ لیا جائے اور فقہاء نے جو مسئلہ بیان کیا ہے وہ ان برتنوں پر محمول ہے جو سور کے گوشت جیسی نجاستوں اور ناپا کیوں میں زیادہ مستعمل نہیں ہوتے۔
3970
Mishkaat Shareefوعنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إذا رميت بسهمك فغاب عنك فأدركته فكل ما لم ينتن . رواه مسلم
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر تم ( اللہ کا نام لے کر کسی شکار پر) اپنا تیر چلاؤ اور پھر وہ ( شکار تیر کھا کر تمہاری نظروں سے اوجھل ہوجائے۔ ( یعنی کسی ایسی جگہ گر کر مرجائے جو اس وقت تمہیں نہ مل سکے) اور پھر وہ تمہارے ہاتھ لگ جائے ( اور تم اس میں اپنے تیر کا نشان دیکھ کر یہ یقین کرلو کہ یہ تمہارے اس تیر کے لگنے سے مرا ہے) تم اس کو کھا سکتے ہو جب تک کہ اس ( کی بو) میں تغیر پیدا نہ ہوجائے۔ ( مسلم)
تشریح
حنفی علماء لکھتے ہیں جب تک کہ اس میں تغیر پیدا نہ ہوجائے کا حکم بطریق استحباب ہے، ورنہ تو گوشت میں بو کا پیدا ہوجانا اس گوشت کے حرام ہونے کو واجب نہیں کرتا۔ چناچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا گوشت کھایا ہے جس میں بو پیدا ہوچکی تھی۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ بد بودار گوشت کھانے کی ممانعت، محض نہی تنزیہہ پر محمول ہے نہ کہ نہی تحریم پر، بلکہ یہی حکم ہر اس کھانے کا ہے جو بد بودار ہوگیا ہو الاّ یہ کہ اس کو کھانے کی وجہ سے کسی تکلیف و نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
تشریح
حنفی علماء لکھتے ہیں جب تک کہ اس میں تغیر پیدا نہ ہوجائے کا حکم بطریق استحباب ہے، ورنہ تو گوشت میں بو کا پیدا ہوجانا اس گوشت کے حرام ہونے کو واجب نہیں کرتا۔ چناچہ ایک روایت میں آیا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے ایسا گوشت کھایا ہے جس میں بو پیدا ہوچکی تھی۔ امام نووی فرماتے ہیں کہ بد بودار گوشت کھانے کی ممانعت، محض نہی تنزیہہ پر محمول ہے نہ کہ نہی تحریم پر، بلکہ یہی حکم ہر اس کھانے کا ہے جو بد بودار ہوگیا ہو الاّ یہ کہ اس کو کھانے کی وجہ سے کسی تکلیف و نقصان پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
3971
Mishkaat Shareefوعنه عن النبي صلى الله عليه و سلم قال في الذي يدرك صيده بعد ثلاث : فكله ما لم ينتن . رواه مسلم
اور حضرت ابوثعلبہ خشنی (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شکاری کے حق میں کہ جو اپنے شکار کو تین دن کے بعد پائے فرمایا ( اس کو کھالو تاوقتیکہ اس میں بو پیدا نہ ہوگئی ہو۔ ( مسلم )
3972
Mishkaat Shareefوعن عائشة قالت : قالوا : يا رسول الله إن هنا أقواما حديث عهدهم بشرك يأتوننا بلحمان لا ندري أيذكرون اسم الله عليها أم لا ؟ قال : اذكروا أنتم اسم الله وكلوا . رواه البخاري
اور حضرت عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ ( ایک مرتبہ) صحابہ نے عرض کیا، یا رسول اللہ ﷺ ! یہاں کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جن کے شرک کا زمانہ بہت قریب کا ہے ( یعنی وہ نو مسلم جنہوں نے اسلام کے احکام اور دینی مسائل پوری طرح ابھی نہیں سیکھے ہیں) وہ لوگ ہمارے پاس گوشت لاتے ہیں اور ہمیں اس کا علم نہیں ہوتا کہ آیا انہوں نے اس کے ذبح کے وقت اللہ کا نام لیا ہے یا نہیں ( تو کیا ان کا لایا ہوا گوشت ہم کھا سکتے ہیں یا نہیں ؟ ) آنحضرت ﷺ نے فرمایا تم اللہ کا نام لے لیا کرو اور اس کو کھالیا کرو ( بخاری)
تشریح
تم اللہ کا نام لے لیا کرو الخ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بسم اللہ پڑھ کر اس گوشت کو کھالو تو اس وقت تمہارا بسم اللہ پڑھنا ذبح کرنے والے کے بسم اللہ پڑھنے کے قائم مقام ہوجائے گا بلکہ ذراصل اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے یہ بیان فرمایا ہے، کہ کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جو گوشت تمہارے پاس لایا گیا ہے اس کے بارے میں تم یہ نہیں جانتے کہ آیا وہ اس ذبیحہ کا ہے جو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بسم اللہ پڑھے بغیر ذبح کردیا گیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس گوشت کو کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس کو ذبح کرنے والا ان میں سے ہو جن کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا شرعا جائز ہے اور یہ جواز اس حسن ظن کی بنیاد ہے جو ایک مسلمان کی حالت و کیفیت کو صلاح و نیکی ہی پر محمول کرنے کا متقاضی ہوتا ہے لہٰذا اگر اس طرح کا کوئی شخص تمہیں گوشت دے جائے تو تم یہی حسن ظن رکھو کہ وہ چونکہ بہر حال مسلمان ہے اس لئے اس نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ضرور لیا ہوگا۔
تشریح
تم اللہ کا نام لے لیا کرو الخ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ تم بسم اللہ پڑھ کر اس گوشت کو کھالو تو اس وقت تمہارا بسم اللہ پڑھنا ذبح کرنے والے کے بسم اللہ پڑھنے کے قائم مقام ہوجائے گا بلکہ ذراصل اس ارشاد کے ذریعہ آپ ﷺ نے یہ بیان فرمایا ہے، کہ کھانے کے وقت بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے اور جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ جو گوشت تمہارے پاس لایا گیا ہے اس کے بارے میں تم یہ نہیں جانتے کہ آیا وہ اس ذبیحہ کا ہے جو بسم اللہ پڑھ کر ذبح کیا گیا ہے یا بسم اللہ پڑھے بغیر ذبح کردیا گیا ہے تو اس کا حکم یہ ہے کہ اس گوشت کو کھانا جائز ہے بشرطیکہ اس کو ذبح کرنے والا ان میں سے ہو جن کے ہاتھ کا ذبیحہ کھانا شرعا جائز ہے اور یہ جواز اس حسن ظن کی بنیاد ہے جو ایک مسلمان کی حالت و کیفیت کو صلاح و نیکی ہی پر محمول کرنے کا متقاضی ہوتا ہے لہٰذا اگر اس طرح کا کوئی شخص تمہیں گوشت دے جائے تو تم یہی حسن ظن رکھو کہ وہ چونکہ بہر حال مسلمان ہے اس لئے اس نے ذبح کرتے وقت اللہ کا نام ضرور لیا ہوگا۔
3973
Mishkaat Shareefوعن أبي الطفيل قال : سئل علي : هل خصكم رسول الله صلى الله عليه و سلم بشيء ؟ فقال : ما خصنا بشيء لم يعم به الناس إلا ما في قراب سيفي هذا فأخرج صحيفة فيها : لعن الله من ذبح لغير الله ولعن الله من سرق منار الأرض وفي رواية من غير منار الأرض ولعن الله من لعن والده ولعن الله من آوى محدثا . رواه مسلم
اور حضرت ابوطفیل کہتے ہیں کہ حضرت علی (رض) سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا رسول کریم ﷺ نے آپ ( اہل بیت) کو کسی چیز کے ذریعہ خصوصیت و امتیاز عطا کیا ہے یعنی کیا یہ صحیح ہے کہ آنحضرت ﷺ نے آپ لوگوں کو جو اہل بیت رسول ﷺ ہیں کچھ ایسے احکام دیئے ہیں جو اور دوسرے لوگوں کو نہیں دیئے ہیں ؟ حضرت علی (رض) نے فرمایا ( نہیں ! ) آنحضرت ﷺ نے ہمارے لئے کوئی ایسی چیز مخصوص نہیں کی ہے جو اور دوسروں کے لئے عام نہ کی گئی ہو، علاوہ اس چیز کے جو میری تلوار کی نیام میں ( چند احکام کے مجموعہ کی صورت میں) موجود ہے ( لیکن ان احکام کے بارے میں بھی، میں یہ نہیں جانتا کہ وہ احکام آیا محض ہم اہل بیت کے لئے خاص ہیں یا ان کا تعلق عمومی طور پر پوری امت سے ہے) پھر حضرت علی (رض) نے ( اپنی تلوار کی نیام میں سے) ایک کاغذ نکالا جن میں یہ احکام درج تھے کہ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو غیر اللہ کے نام پر کسی جانور کو ذبح کرے، اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو زمین کا نشان چرائے۔ اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں کہ ( اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو) جو زمین کے نشان میں تغیر و تبدل کرے۔ اس شخص پر اللہ کی لعنت ہو جو اپنے باپ پر لعنت کرے اور اس شخص پر لعنت ہو جو کسی بدعتی کو ٹھکانا دے۔ ( مسلم )
تشریح
زمین کے نشان سے مراد وہ علامتی پتھر وغیرہ ہے جو زمین کی حدود پر نصب ہوتا ہے اور جس کے ذریعہ ایک دوسرے کی زمین کے درمیان فرق و امتیاز کیا جاتا ہے۔ اور اس نشان کو چرانے یا اس میں تغیر و تبدل کرنے کا مطلب یہ ہے، کہ وہ شخص بزور و زبردستی اپنے ہمسایہ کی زمین دبا لینا چاہتا ہو۔ جو اپنے باپ پر لعنت کرے یعنی یا تو اپنے باپ پر خود صریحا لعنت کرے یا کسی دوسرے شخص کے باپ پر لعنت کرے اور وہ شخص انتقاما اس کے باپ پر لعنت کرے، اس دوسری صورت میں اس نے اگرچہ اپنے باپ پر خود صریحا لعنت نہیں کی ہے مگر اس لعنت کا سبب چونکہ وہی بنا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ گویا اس نے اپنے باپ پر لعنت کی ہے۔ جو کسی بدعتی کو ٹھکانا دے بدعتی اس شخص کو کہتے ہیں جو دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جس کی کچھ اصل موجود نہ ہو اور وہ بات شریعت کے خلاف اور سنت میں تبدیلی پیدا کرنے والی ہو۔ ایسے شخص یعنی بدعتی کو ٹھکانا دینا اس کی عزت و تعظیم کرنا اور اس کی مدد و حمایت کرنا۔ شریعت کی نظر میں قابل مواخذہ ہے۔
تشریح
زمین کے نشان سے مراد وہ علامتی پتھر وغیرہ ہے جو زمین کی حدود پر نصب ہوتا ہے اور جس کے ذریعہ ایک دوسرے کی زمین کے درمیان فرق و امتیاز کیا جاتا ہے۔ اور اس نشان کو چرانے یا اس میں تغیر و تبدل کرنے کا مطلب یہ ہے، کہ وہ شخص بزور و زبردستی اپنے ہمسایہ کی زمین دبا لینا چاہتا ہو۔ جو اپنے باپ پر لعنت کرے یعنی یا تو اپنے باپ پر خود صریحا لعنت کرے یا کسی دوسرے شخص کے باپ پر لعنت کرے اور وہ شخص انتقاما اس کے باپ پر لعنت کرے، اس دوسری صورت میں اس نے اگرچہ اپنے باپ پر خود صریحا لعنت نہیں کی ہے مگر اس لعنت کا سبب چونکہ وہی بنا ہے اس لئے کہا جائے گا کہ گویا اس نے اپنے باپ پر لعنت کی ہے۔ جو کسی بدعتی کو ٹھکانا دے بدعتی اس شخص کو کہتے ہیں جو دین میں کوئی ایسی بات پیدا کرے جس کی کچھ اصل موجود نہ ہو اور وہ بات شریعت کے خلاف اور سنت میں تبدیلی پیدا کرنے والی ہو۔ ایسے شخص یعنی بدعتی کو ٹھکانا دینا اس کی عزت و تعظیم کرنا اور اس کی مدد و حمایت کرنا۔ شریعت کی نظر میں قابل مواخذہ ہے۔
3974
Mishkaat Shareefوعن رافع بن خديج قال : قلت : يا رسول الله إنا لاقوا العدو غدا وليست معنا مدى أفنذبح بالقصب ؟ قال : ما أنهر الدم وذكر اسم الله فكل ليس السن والظفر وسأحدثك عنه : أما السن فعظم وأما الظفر فمدى الحبش وأصبنا نهب إبل وغنم فند منها بعير فرماه رجل بسهم فحبسه فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن لهذه الإبل أوابد كأوابد الوحش فإذا غلبكم منها شيء فافعلوا به هكذا
اور حضرت رافع بن خدیج کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! کل دشمن ( یعنی کفار) سے ہمارا مقابلہ ہونے والا ہے اور ہمارے پاس چھریاں نہیں ہیں ( یعنی ہوسکتا ہے کہ جنگی ہنگاموں کی وجہ سے ہمارے پاس چھریاں موجود نہ رہیں اور ہمیں جانوروں کو ذبح کرنے کی ضرورت پیش آئے تو اس صورت میں) کیا ہم کھپچ ( کھپچی) سے ذبح کرسکتے ہیں ؟ آنحضرت ﷺ نے فرمایا جس چیز سے خون بہہ جائے اور اس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو تو اس کو کھا سکتے ہو ( یعنی اس جانور کو کھانا جائز ہے جو کسی بھی ایسی چیز سے ذبح کیا گیا ہو جس سے خون بہہ جائے خواہ وہ لوہا ہو یا کوئی اور چیز) مگر دانت اور ناخن کے ذریعہ ( ذبح کرنا جائز نہیں ہے اور میں تمہیں ان دونوں کے بارے میں بتاتا ہوں ( کہ ان کے ذریعہ ذبح کرنا کیوں جائز نہیں ہے) تو ( سنو کہ) دانت تو ہڈی ہے اور جہاں تک ناخن کا تعلق ہے تو وہ حبشیوں کی چھری ہے۔ ( حضرت رافع (رض) کہتے ہیں کہ دشمن کے) کچھ اونٹ اور بکریاں لوٹ میں ہمارے ہاتھ آئیں، ان میں سے ایک اونٹ ( بھڑک کر) بھاگ نکلا، لیکن ( ہم میں سے) ایک شخص نے تیر مار کر اس کو روک دیا ( یعنی وہ اونٹ تیر کھا کر زمین پر ڈھر ہوگیا) آنحضرت ﷺ نے ( یہ دیکھ کر) فرمایا ان اونٹوں میں بعض اونٹ بھی اس طرح انسانوں سے بھڑکنے والے ہوتے ہیں جس طرح جنگلی جانور۔ انسانوں سے بھڑکتے ہیں، لہٰذا اگر ان اونٹوں میں سے کوئی اونٹ تمہارے قبضے سے نکل بھاگے تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
دانت تو ہڈی ہے یعنی دانت چونکہ ہڈی ہے اور ہڈی سے ذبح کرنا درست نہیں ہے اس لئے دانت کے ذریعہ ذبح کیا ہوا جانور کھانا جائز نہیں ہوگا۔ شیخ ابن صلاح کہتے ہیں کہ اس موضوع پر بہت زیادہ تحقیق و تفتیش اور غور و فکر کے باوجود میں یہ جاننے میں ناکام رہا ہوں کہ ہڈی کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت کا کیا مطلب ہے اور اس کی کیا وجہ ہے ! شیخ عبدالسلام سے بھی اس طرح کی بات منقول ہے، جہاں تک حدیث کا تعلق ہے اس میں بھی صرف یہی فرمایا گیا ہے کہ دانت سے ذبح کرنا اس لئے درست نہیں کہ وہ ہڈی ہے اس کے علاوہ اور کسی ظاہری علت و سبب کی طرف اشارہ نہیں ہے لیکن حضرت امام نووی نے ہڈی سے ذبح کرنے کی ممانعت کی یہ علت بیان کی ہے کہ اگر ہڈی سے ذبح کیا جائے گا تو وہ ہڈی، ذبیحہ کے خون سے نجس ہوجائے گی اور ہڈی کو نجس و ناپاک کرنے کی ممانعت منقول ہے کیونکہ ( ) ( ہڈی) کو جنات کی خوراک بتایا گیا ہے۔ وہ حبشیوں کی چھری ہے یہ گویا ناخن سے ذبح کرنے کی علت ہے، یعنی اگر ناخن کے ذریعہ ذبح کیا جائے گا تو اس میں حبشیوں کی مشابہت اختیار کرنا لازم آئے گا کیونکہ ناخن کے ذریعہ جانوروں کو چیر پھاڑ کر کھانا حبشیوں کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ حبشی غیر مسلم ہیں، جب کہ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر مسلموں کے طور طریقوں کو اختیار نہ کریں بلکہ ان کے خلاف کریں ! واضح رہے کہ دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت تینوں آئمہ کے نزدیک مطلق ہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ ان دانتوں اور ناخنوں سے ذبح کرنا تو جائز نہیں ہے جو اپنی جگہ پر یعنی منہ اور انگلیوں میں ہوں ہاں جو دانت اور ناخن اپنی جگہ سے اکھڑ کر ( منہ اور انگلیوں سے) الگ ہوچکے ہوں ان کے ذریعہ ذبح کرنا جائز ہے لیکن یہ جواز کراہت کے ساتھ ہے تاہم اس ذبیحہ کا گوشت کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ تینوں آئمہ کی دلیل مذکورہ حدیث ہے جس میں دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت کسی قید اور کسی استثناء کے بغیر منقول ہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ انھر الدم بما شئت اور وافر الاوداج۔ اور جہاں تک حضرت رافع (رض) کی اس روایت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں حضرت امام اعظم کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث بغیر اکھڑے ہوئے دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے پر محمول ہے کیونکہ حبشیوں کا یہی طریقہ تھا۔ تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر کا پالتو کوئی جانور جیسے اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ بھاگ کھڑا ہو تو وہ ذبح کے معاملہ میں وحشی جانور کے شکار کی مانند ہوگا کہ جس طرح وحشی جانور پر بسم اللہ پڑھ کر مثلا تیر چلایا جائے تو وہ تیر اس جانور کے جسم کے جس حصہ پر بھی لگ کر اس کو ختم کر دے گا وہ ذبیحہ کے حکم میں ہوجائے گا، اسی طرح اس بھاگنے والے پالتو جانور کا سارا جسم اور اس کے سارے اعضاء بھی ذبح کی جگہ ہوں گے، چناچہ بسم اللہ پڑھ کر اس پر چلایا جانے والا تیر اس کے جسم کے جس حصے میں لگ کر اس کو ختم کر دے گا اس کا گوشت حلال ہوگا۔ اور یہی حکم اس صورت میں ہے جب کہ اونٹ وغیرہ کنوئیں یا اس طرح کے کسی اور کھڈ وغیرہ میں گرپڑیں ! یہاں خاص طور پر صرف اونٹ کا ذکر شاید اس لئے کیا گیا ہو کہ اس میں تو حش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ذبح کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم تو اختیاری ہے اور دوسری قسم اضطراری ہے اختیاری کی ایک صورت تو جانور کے لیہ اور لحیتین کے درمیان کسی دھار دار چیز جیسے چھری وغیرہ سے جراحت کے ساتھ رگوں کو کاٹنے کی ہوتی ہے اور دوسری صورت نحر کے ساتھ یعنی اونٹ کے سینے میں نیزہ وغیرہ مارنے کی ہوتی ہے اور اضطراری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جانور کے جسم کے کسی بھی حصے کو زخمی کر کے مار دیا جائے۔
تشریح
دانت تو ہڈی ہے یعنی دانت چونکہ ہڈی ہے اور ہڈی سے ذبح کرنا درست نہیں ہے اس لئے دانت کے ذریعہ ذبح کیا ہوا جانور کھانا جائز نہیں ہوگا۔ شیخ ابن صلاح کہتے ہیں کہ اس موضوع پر بہت زیادہ تحقیق و تفتیش اور غور و فکر کے باوجود میں یہ جاننے میں ناکام رہا ہوں کہ ہڈی کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت کا کیا مطلب ہے اور اس کی کیا وجہ ہے ! شیخ عبدالسلام سے بھی اس طرح کی بات منقول ہے، جہاں تک حدیث کا تعلق ہے اس میں بھی صرف یہی فرمایا گیا ہے کہ دانت سے ذبح کرنا اس لئے درست نہیں کہ وہ ہڈی ہے اس کے علاوہ اور کسی ظاہری علت و سبب کی طرف اشارہ نہیں ہے لیکن حضرت امام نووی نے ہڈی سے ذبح کرنے کی ممانعت کی یہ علت بیان کی ہے کہ اگر ہڈی سے ذبح کیا جائے گا تو وہ ہڈی، ذبیحہ کے خون سے نجس ہوجائے گی اور ہڈی کو نجس و ناپاک کرنے کی ممانعت منقول ہے کیونکہ ( ) ( ہڈی) کو جنات کی خوراک بتایا گیا ہے۔ وہ حبشیوں کی چھری ہے یہ گویا ناخن سے ذبح کرنے کی علت ہے، یعنی اگر ناخن کے ذریعہ ذبح کیا جائے گا تو اس میں حبشیوں کی مشابہت اختیار کرنا لازم آئے گا کیونکہ ناخن کے ذریعہ جانوروں کو چیر پھاڑ کر کھانا حبشیوں کے ساتھ مخصوص ہے اور وہ حبشی غیر مسلم ہیں، جب کہ مسلمانوں کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ غیر مسلموں کے طور طریقوں کو اختیار نہ کریں بلکہ ان کے خلاف کریں ! واضح رہے کہ دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت تینوں آئمہ کے نزدیک مطلق ہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہ ہے کہ ان دانتوں اور ناخنوں سے ذبح کرنا تو جائز نہیں ہے جو اپنی جگہ پر یعنی منہ اور انگلیوں میں ہوں ہاں جو دانت اور ناخن اپنی جگہ سے اکھڑ کر ( منہ اور انگلیوں سے) الگ ہوچکے ہوں ان کے ذریعہ ذبح کرنا جائز ہے لیکن یہ جواز کراہت کے ساتھ ہے تاہم اس ذبیحہ کا گوشت کھانے میں کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ تینوں آئمہ کی دلیل مذکورہ حدیث ہے جس میں دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے کی ممانعت کسی قید اور کسی استثناء کے بغیر منقول ہے، جب کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کی دلیل آنحضرت ﷺ کا یہ ارشاد ہے کہ انھر الدم بما شئت اور وافر الاوداج۔ اور جہاں تک حضرت رافع (رض) کی اس روایت کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں حضرت امام اعظم کی طرف سے یہ کہا جاتا ہے کہ یہ حدیث بغیر اکھڑے ہوئے دانت اور ناخن کے ذریعہ ذبح کرنے پر محمول ہے کیونکہ حبشیوں کا یہی طریقہ تھا۔ تو اس کے ساتھ ایسا ہی معاملہ کرو کا مطلب یہ ہے کہ اگر گھر کا پالتو کوئی جانور جیسے اونٹ، گائے اور بکری وغیرہ بھاگ کھڑا ہو تو وہ ذبح کے معاملہ میں وحشی جانور کے شکار کی مانند ہوگا کہ جس طرح وحشی جانور پر بسم اللہ پڑھ کر مثلا تیر چلایا جائے تو وہ تیر اس جانور کے جسم کے جس حصہ پر بھی لگ کر اس کو ختم کر دے گا وہ ذبیحہ کے حکم میں ہوجائے گا، اسی طرح اس بھاگنے والے پالتو جانور کا سارا جسم اور اس کے سارے اعضاء بھی ذبح کی جگہ ہوں گے، چناچہ بسم اللہ پڑھ کر اس پر چلایا جانے والا تیر اس کے جسم کے جس حصے میں لگ کر اس کو ختم کر دے گا اس کا گوشت حلال ہوگا۔ اور یہی حکم اس صورت میں ہے جب کہ اونٹ وغیرہ کنوئیں یا اس طرح کے کسی اور کھڈ وغیرہ میں گرپڑیں ! یہاں خاص طور پر صرف اونٹ کا ذکر شاید اس لئے کیا گیا ہو کہ اس میں تو حش بہت زیادہ ہوتا ہے۔ یہ بات ذہن نشین رہنی چاہئے کہ ذبح کی دو قسمیں ہیں، ایک قسم تو اختیاری ہے اور دوسری قسم اضطراری ہے اختیاری کی ایک صورت تو جانور کے لیہ اور لحیتین کے درمیان کسی دھار دار چیز جیسے چھری وغیرہ سے جراحت کے ساتھ رگوں کو کاٹنے کی ہوتی ہے اور دوسری صورت نحر کے ساتھ یعنی اونٹ کے سینے میں نیزہ وغیرہ مارنے کی ہوتی ہے اور اضطراری کی صورت یہ ہوتی ہے کہ جانور کے جسم کے کسی بھی حصے کو زخمی کر کے مار دیا جائے۔
3975
Mishkaat Shareefوعن كعب بن مالك أنه كان له غنم ترعى بسلع فأبصرت جارية لنا بشاة من غنمنا موتا فكسرت حجرا فذبحتها به فسأل النبي صلى الله عليه و سلم فأمره بأكلها . رواه البخاري
اور حضرت کعب بن مالک (رض) سے روایت ہے کہ ان ( کعب) کے پاس ( بکریوں کا) ایک ریوڑ تھا جو مدینہ کی ایک پہاڑی سلع پر چرا کرتا تھا، ( ایک دن) ہماری ایک لونڈی نے ایک بکری کو دیکھا کہ وہ مرا ہی چاہتی ہے تو اس نے ایک پتھر کا ٹکڑا توڑا اور اس ٹکڑے کے ذریعہ اس بکری کو ذبح کردیا، پھر ( کعب نے) نبی کریم ﷺ سے مسئلہ دریافت کیا ( اس صورت میں اس بکری کا گوشت کھانا حلال ہے یہ نہیں ؟ ) آنحضرت ﷺ نے اس کو اس بکری ( کے گوشت) کو کھانے کا حکم دے دیا ) ۔ ( بخاری )
3976
Mishkaat Shareefوعن شداد بن أوس عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : إن الله تبارك وتعالى كتب الإحسان على كل شيء فإذا قتلتم فأحسنوا القتلة وإذا ذبحتم فأحسنوا الذبح وليحد أحدكم شفرته وليرح ذبيحته . رواه مسلم
اور حضرت شداد بن اوس (رض) رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آب ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ہر چیز پر احسان کرنے کو لازم کیا ہے یعنی حق تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کو حسن و خوبی اور نرمی کے ساتھ انجام دینے کا حکم دیا گیا ہے یہاں تک کہ سزاء کسی کو قتل کرنے یا جانوروں کو ذبح کرنے میں بھی مہربانی و نرم دلی اور خوبی و نرمی کا طریقہ اختیار کرنا لازم ہے) لہٰذا جب تم ( کسی شخص کو قصاص یا حد کے طور پر) قتل کرو تو اس کو نرمی و خوبی کے ساتھ کرو ( تاکہ اس کو ایذاء نہ ہو جیسے تیز تلوار استعمال کرو اور قتل کرنے میں جلدی کرو) اور جب تم کسی جانور کو ذبح کرو تو خوبی و نرمی کے ساتھ ذبح کرو لہٰذا یہ ضروری ہے کہ تم میں سے کوئی بھی شخص ( جو جانور کو ذبح کرنا چاہتا ہو) اپنی چھری کو ( خوب تیز کرلے اور ذبح کئے جانے والے جانور کو آرام دے۔ ( مسلم )
تشریح
آرام دے کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد اس جانور کو چھوڑ دے تاکہ اس کا دم نکل جائے اور وہ ٹھنڈا ہوجائے ! گویا اوپر کی عبارت اور یہ جملہ اصل میں ذبح کرنے میں احسان کرنے کی توضیح ہے کہ خوبی و نرمی کے ساتھ ذبح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کو تیز چھری سے ذبح کرے اور جلدی ذبح کر ڈالے نیز ذبح کے بعد اس کو اچھی طرح ٹھنڈا ہوجانے دے۔ حنفی علماء فرماتے ہیں کہ ذبح کئے ہوئے جانور کی کھال اتارنا اس وقت تک مکروہ ہے جب تک کہ وہ اچھی طرح ٹھنڈا نہ ہوجائے ! نیز مستحب یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جانے والا ہے اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے، اگر ایک سے زائد جانور ذبح کئے جانے والے ہیں تو ان کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح نہ کیا جائے اور ذبح کئے جانے والے جانور کے پاؤں پکڑ کر کھینچتے ہوئے ذبح کی جگہ نہ لے جایا جائے ،
تشریح
آرام دے کا مطلب یہ ہے کہ ذبح کرنے کے بعد اس جانور کو چھوڑ دے تاکہ اس کا دم نکل جائے اور وہ ٹھنڈا ہوجائے ! گویا اوپر کی عبارت اور یہ جملہ اصل میں ذبح کرنے میں احسان کرنے کی توضیح ہے کہ خوبی و نرمی کے ساتھ ذبح کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس جانور کو تیز چھری سے ذبح کرے اور جلدی ذبح کر ڈالے نیز ذبح کے بعد اس کو اچھی طرح ٹھنڈا ہوجانے دے۔ حنفی علماء فرماتے ہیں کہ ذبح کئے ہوئے جانور کی کھال اتارنا اس وقت تک مکروہ ہے جب تک کہ وہ اچھی طرح ٹھنڈا نہ ہوجائے ! نیز مستحب یہ ہے کہ جس جانور کو ذبح کیا جانے والا ہے اس کے سامنے چھری تیز نہ کی جائے، اگر ایک سے زائد جانور ذبح کئے جانے والے ہیں تو ان کو ایک دوسرے کے سامنے ذبح نہ کیا جائے اور ذبح کئے جانے والے جانور کے پاؤں پکڑ کر کھینچتے ہوئے ذبح کی جگہ نہ لے جایا جائے ،
3977
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم ينهى أن تصبر بهيمة أو غيرها للقتل
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ سے سنا ہے، آپ ﷺ اس بات سے منع فرماتے تھے کہ کسی چوپایہ وغیرہ کو مارنے کے لئے باندھ کر اس پر نشانہ لگایا جائے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
اس کے یا تو یہ معنی ہیں کہ کسی جانور کو باندھ کر پھر اس کو تیروں پتھروں یا گولیوں سے مارنا ممنوع ہے یا یہ معنی ہیں کہ کسی جانور کو بغیر دانے پانی کے بند کر ڈالنا ممنوع ہے۔
تشریح
اس کے یا تو یہ معنی ہیں کہ کسی جانور کو باندھ کر پھر اس کو تیروں پتھروں یا گولیوں سے مارنا ممنوع ہے یا یہ معنی ہیں کہ کسی جانور کو بغیر دانے پانی کے بند کر ڈالنا ممنوع ہے۔
3978
Mishkaat Shareefوعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم لعن من اتخذ شيئا فيه الروح غرضا
اور حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اس شخص پر لعنت فرمائی ہے جو کسی جاندار چیز کو باندھ کر اس پر نشانہ لگائے۔ ( مسلم )