Mishkaat Shareef
141. طب کا بیان
مشكاة المصابيح
4407
Mishkaat Shareefطب عام طور پر طاء کے زیر کے ساتھ مستعمل ہے، لیکن سیوطی کہتے ہیں کہ یہ لفظ طاء کے زبر، زیر اور پیش تینوں کے ساتھ منقول ہے، اس کے معنی ہیں علاج کرنا، دوا کرنا۔ بعض مواقع پر اس لفظ کو طاء کے زیر کے ساتھ سحر کے معنی میں بھی استعمال کیا گیا ہم اسی اعتبار سے مطبوب اس شخص کو کہتے ہیں جس پر سحر (جادو) کیا گیا ہو۔ طب کا تعلق جسم (ظاہر) سے بھی ہوتا ہے اور نفس (باطن) سے بھی، چناچہ حفظان صحت اور دفع مرض کے ذریعہ بدن کے علاج معالجہ کو جسمانی طب کہتے ہیں اور باطنی ہلاکت و تباہی تک پہنچانے والے افکار و اعمال اور بری عادات واطوار کے ترک و ازالہ کے ذریعہ نفس کا علاج کرنے کو طب نفسانی کہتے ہیں، جس طرح طب کی دو قسمیں ہیں، اسی طرح دوا کی بھی دو قسمیں ہیں ایک تو جسمانی اور طبعی، خواہ وہ مفردات کی شکل میں ہو یا مرکبات کی شکل میں (جیسا کہ ظاہری دوائیں ہوتی ہیں) اور دوسری قسم روحانی و لسانی ہے، جو قرآن کریم اور قرآن کریم کے حکم میں شامل دوسری چیزوں کی صورت میں ہے۔ نبی کریم ﷺ اپنی امت کے لوگوں کے علاج و اصلاح کے لئے ظاہری و طبعی دواؤں کو بھی اختیار فرماتے تھے اور باطنی و روحانی معالجہ کو بھی۔ رقی اصل میں رقیہ کی جمع ہے جس کے معنی افسون کے ہیں ہماری زبان میں اس کو منتر اور روز مرہ کی بول چال میں جھاڑ پھونک بھی کہا جاتا ہے، علماء کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآنی آیات، منقول دعاؤں اور اسماء الہٰی کے ذریعہ جھاڑ پھونک کرنا جائز ہے ان کے علاوہ ایسے منتروں کے ذریعہ بھی جائز ہے جن کے الفاظ و کلمات کے معنی معلوم ہوں اور وہ دین و شریعت کے مخالف نہ ہوں جن منتروں کے الفاظ و کلمات ایسے ہوں کہ ان کے معنی معلوم نہ ہوں یا ان کے الفاظ و کلمات دین و شریعت کی تعلیمات و احکام کے برخلاف ہوں ان کے ذریعہ جھاڑ پھونک کرنا قطعا، جائز نہیں ہے اسی طرح وہ اہل عزائم و تکثیر جو علم نجوم و رمل کی مدد لے کر عملیات کرتے ہیں اور حفظ ساعات و تعین اوقات جیسی چیزوں کو اختیار کرتے ہیں ان کا یہ طریقہ بھی اہل دیانت وتقویٰ کے نزدیک مکروہ و حرام ہے۔
4408
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما أنزل الله داء إلا أنزل له دواء . رواه البخاري .
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے ایسی کوئی بیماری نہیں اتاری ہے اور پیدا نہیں کی ہے جس کے لئے شفا نہ کی ہو یعنی اللہ تعالیٰ نے ہر مرض کے ساتھ اس کا علاج بھی پیدا کیا ہے، تاکہ اگر وہ مرض لاحق ہو تو اس علاج کے ذریعہ شفا بخشے۔ (بخاری )
4409
Mishkaat Shareefوعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لكل داء دواء فإذا أصيب دواء الداء برأ بإذن الله . رواه مسلم .
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہر بیماری کی دوا ہے، لہٰذا جب وہ بیماری کے موافق ہوجاتی ہے تو بیمار اللہ کے حکم یعنی اس کی مشیت و ارادہ سے اچھا ہوجاتی ہے۔ (مسلم)
تشریح
اللہ کے حکم کی قید اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ یہ گمان نہ کیا جائے کہ مرض سے شفایابی کا اصل میں تعلق دوا سے ہے اور مریض کو صحت بخشنے میں علاج و معالجہ حقیقی اور مستقل بالذات مؤثر ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل میں شفا یابی تو محض اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ پر موقوف ہے، دوا اور علاج و معالجہ محض ایک ظاہری ذریعہ اور وسیلہ ہے، کسی بھی مرض پر کوئی دوا اسی وقت اثر انداز ہوتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے، چناچہ روایت حمیدی میں اس کی تفصیل یوں منقول ہے کہ ایسا کوئی بھی مرض نہیں ہے جس کا علاج نہ ہو چناچہ جب کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جس کے ساتھ ایک پردہ ہوتا ہے وہ فرشتہ اس پردہ کو بیمار کے مرض اور دوا کے درمیان حائل کردیتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیمار جو بھی دوا استعمال کرتا ہے وہ مرض کو نہیں لگتی اور شفا حاصل نہیں ہوتی یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت ہوتی ہے کہ بیمار اچھا ہوجائے تو وہ فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ مرض اور دوا کے درمیان سے پردہ اٹھا دیا جائے اس کے بعد بیمار جب دوا پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دوا کے ذریعہ اس کو شفا دیدیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی مرض لاحق ہوجائے تو اس کا علاج کرنا اور دوا مستحب ہے، چناچہ صحابہ کرام اور اکثر علماء کا یہی مسلک ہے۔ نیز اس سے ان حضرات کے نظریہ کی بھی تردید ہوتی ہے جو علاج معالجہ اور دواء کی افادیت و ضرورت سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر چیز کی طرح مرض بھی قضا و قدر کے زیر اثر ہے اس لئے کسی بیمار کا علاج کرنا لاحاصل ہے۔ جمہور علماء جو علاج و معالجہ کے قائل ہیں کی دلیل مذکورہ احادیث ہیں اور انکا اعتقاد یہ ہے کہ بیشک امراض کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، لیکن امراض کے ازالہ کے ذرئع پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جس طرح مرض و بیماری قضا و قدر کے تابع ہے اسی طرح علاج و معالجہ کرنا بھی تقدیر الہٰی ہی سے ہے اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسا کہ ہر انسان کی موت کا وقت بالکل اٹل ہے جس کی موت جس صورت میں لکھی جا چکی ہے اسی صورت میں آ کر رہے گی۔ لیکن اس کے باوجود اپنی حفاظت و سلامتی کے ذرئع اختیار کرنا اور اپنی جان کو کسی حادثہ یا دشمن کے حملہ سے محفوظ رہنے کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یا میدان جنگ میں دشمنان دین کو قتل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حاصل یہ کہ جان و صحت کی حفاظت و سلامتی کے لئے دوا وغیرہ جیسے اسباب ذرائع اختیار کرنا نہ تو حکم الٰہی کے خلاف ہے اور نہ توکل کے منافع ہے جیسا کہ کھانے کے ذریعہ بھوک کو دفع کرنا توکل کے منافع نہیں ہے چناچہ رسول کریم ﷺ سے بڑھ کر توکل کرنے والا کون انسان ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ سید المتوکلین تھے، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ علاج بھی کرتے تھے اور بیماری کو دور کرنے کے ذرائع اختیار فرماتے تھے۔
تشریح
اللہ کے حکم کی قید اس لئے لگائی گئی ہے تاکہ یہ گمان نہ کیا جائے کہ مرض سے شفایابی کا اصل میں تعلق دوا سے ہے اور مریض کو صحت بخشنے میں علاج و معالجہ حقیقی اور مستقل بالذات مؤثر ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ اصل میں شفا یابی تو محض اللہ تعالیٰ کی مشیت و ارادہ پر موقوف ہے، دوا اور علاج و معالجہ محض ایک ظاہری ذریعہ اور وسیلہ ہے، کسی بھی مرض پر کوئی دوا اسی وقت اثر انداز ہوتی ہے، جب اللہ تعالیٰ کا حکم ہوتا ہے، چناچہ روایت حمیدی میں اس کی تفصیل یوں منقول ہے کہ ایسا کوئی بھی مرض نہیں ہے جس کا علاج نہ ہو چناچہ جب کوئی شخص بیمار ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ ایک فرشتہ بھیجتا ہے جس کے ساتھ ایک پردہ ہوتا ہے وہ فرشتہ اس پردہ کو بیمار کے مرض اور دوا کے درمیان حائل کردیتا ہے، اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ بیمار جو بھی دوا استعمال کرتا ہے وہ مرض کو نہیں لگتی اور شفا حاصل نہیں ہوتی یہاں تک کہ جب اللہ تعالیٰ کی یہ مشیت ہوتی ہے کہ بیمار اچھا ہوجائے تو وہ فرشتہ کو حکم دیتا ہے کہ مرض اور دوا کے درمیان سے پردہ اٹھا دیا جائے اس کے بعد بیمار جب دوا پیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس دوا کے ذریعہ اس کو شفا دیدیتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ جب کوئی مرض لاحق ہوجائے تو اس کا علاج کرنا اور دوا مستحب ہے، چناچہ صحابہ کرام اور اکثر علماء کا یہی مسلک ہے۔ نیز اس سے ان حضرات کے نظریہ کی بھی تردید ہوتی ہے جو علاج معالجہ اور دواء کی افادیت و ضرورت سے انکار کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہر چیز کی طرح مرض بھی قضا و قدر کے زیر اثر ہے اس لئے کسی بیمار کا علاج کرنا لاحاصل ہے۔ جمہور علماء جو علاج و معالجہ کے قائل ہیں کی دلیل مذکورہ احادیث ہیں اور انکا اعتقاد یہ ہے کہ بیشک امراض کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہے، لیکن امراض کے ازالہ کے ذرئع پیدا کرنے والا بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے اور جس طرح مرض و بیماری قضا و قدر کے تابع ہے اسی طرح علاج و معالجہ کرنا بھی تقدیر الہٰی ہی سے ہے اس کی مثال بالکل ایسی ہے جیسا کہ ہر انسان کی موت کا وقت بالکل اٹل ہے جس کی موت جس صورت میں لکھی جا چکی ہے اسی صورت میں آ کر رہے گی۔ لیکن اس کے باوجود اپنی حفاظت و سلامتی کے ذرئع اختیار کرنا اور اپنی جان کو کسی حادثہ یا دشمن کے حملہ سے محفوظ رہنے کی دعا کرنے کا حکم دیا گیا ہے، یا میدان جنگ میں دشمنان دین کو قتل کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ حاصل یہ کہ جان و صحت کی حفاظت و سلامتی کے لئے دوا وغیرہ جیسے اسباب ذرائع اختیار کرنا نہ تو حکم الٰہی کے خلاف ہے اور نہ توکل کے منافع ہے جیسا کہ کھانے کے ذریعہ بھوک کو دفع کرنا توکل کے منافع نہیں ہے چناچہ رسول کریم ﷺ سے بڑھ کر توکل کرنے والا کون انسان ہوسکتا ہے کہ آپ ﷺ سید المتوکلین تھے، لیکن اس کے باوجود آپ ﷺ علاج بھی کرتے تھے اور بیماری کو دور کرنے کے ذرائع اختیار فرماتے تھے۔
4410
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الشفاء في ثلاث في شرطة محجم أو شربة عسل أو كية بنار وأنا أنهى أمتي عن الكي . رواه البخاري .
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شفا تین چیزوں میں ہے بچھنے والی سینگی لگانے میں، یا شہد پینے میں خواہ خالص شہد پیا جائے یا پانی وغیرہ میں ملا کر پیا جائے اور آگ سے داغنے میں۔ لیکن میں اپنی امت کو داغنے سے منع کرتا ہوں۔ (بخاری)
تشریح
محجم میم کے زیر اور جیم کے زبر کے ساتھ سینگی کو کہتے ہیں، لیکن یہاں اس لفظ سے مراد نشتر یا استرا ہے جس سے پچھنے دیئے جاتے ہیں۔ شرطۃ شین کے زبر کے ساتھ، پھچنے لگاؤ کے لئے کو پچھنے کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ رگ سے خون نکالا جاتا ہے لہذا فی شرطۃ معجم کا ترجمہ یہ ہوگا کہ نشتر یا استرے کے ذریعہ پچھنے لگانے میں (شفا ہے) سفر السعادۃ کے مصنف کے مطابق علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث میں تمام مادی ( جسمانی) امراض کے علاج معالجہ کی طرف راہنمائی و اشارہ ہے کیونکہ مادی امراض یا تو دموی ہوتے ہیں یا صفراوی یا بلغمی ہوتے ہیں یا سوداوی چناچہ اگر کوئی مرض دموی یعنی فساد خون کی بنا پر ہوتا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو جسم سے باہر نکال دیا جائے جس کی صورت پچھنے لگوانا ہے اور باقی تینوں صورتوں میں مرض کا بہترین علاج اسہال ہوتا ہے آپ ﷺ نے شہد کے ذریعہ اس طرف متوجہ کیا کہ اسہال کے لئے شہد ایک بہترین اور معتدل دوا کا کام دیتا ہے نیز آگ سے داغنے کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا کہ اگر مرض کی نوعیت ایسی ہو کہ طبیب و معالج اس کے علاج سے عجز ہوجائیں تو پھر آگ سے داغا جائے کیونکہ یہ جب کوئی مغلظ باغی ہوجاتی ہے اور اس کا مادہ منقطع نہیں ہوتا تو اس کے انقطاع کا واحد ذریعہ اس کو داغ دینا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ اخر الدوال کی یعنی آخری دوا داغنا ہے۔ رہی یہ بات کہ داغنا جب ایک علاج ہے تو آپ ﷺ نے اس کی ممانعت کیوں فرمائی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب داغنے کو اتنی زیادہ اہمیت دیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ ہوگیا تھا کہ مادہ مرض کا باعث ہے اس کے دفیعہ کے لئے داغنا یقینی ہے۔ چناچہ ان کے یہاں یہ مشہور تھا کہ اخر الدوال کی۔ ظاہر ہے کہ یہ بات اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے کیونکہ کوئی بھی علاج خواہ وہ کتنا ہی مجرب کیوں نہ ہو یقین کا درجہ نہیں رکھ سکتا، صرف ظاہری سبب اور ذریعہ ہی سمجھا جاسکتا ہے یقینی شفا تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم پر موقوف ہے لہٰذا آپ ﷺ نے اس فاسد عقیدے کی تردید اور لوگوں کو شرک خفی میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لئے اس کی ممانعت فرمائی اور یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے ورنہ اگر کوئی شخص داغنے کو مرض کے دفعیہ کا ایک ظاہری سبب و ذریعہ سمجھتے ہوئے اس کو بطور علاج اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی امید رکھے جائز ہے، بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ داغنے کی ممانعت کا تعلق خطرہ اور تردد کی صورت سے ہے یعنی اگر ایسی صورت ہو کہ داغنے سے فائد ہے کے جزم کی بجائے نقصان اور ہلاکت جان کا خوف اور خطرہ ہو تو پھر داغنا نہ چاہئے۔ اس مسئلہ میں بعض شارحین حدیث نے یہ تفصیل بیان کی ہے کہ داغنے کے سلسلہ میں مختلف احادیث منقول ہیں بعض احادیث تو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں اور بعض نہی کو ثابت کرتی ہیں جیسے مذکورہ بالا احادیث اور دوسری احادیث اسی طرح بعض احادیث میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں داغنے کو پسند نہیں کرتا اور بعض احادیث میں داغنے کو اختیار نہ کرنے پر مدح و تعریف کی گئی ہے اس طرح ان احادیث کے باہمی تعارض و تضاد کو دور کرنے اور ان میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء نے یہ لکھا ہے کہ جن احادیث سے آپ ﷺ کا یہ فعل منقول ہے کہ آپ ﷺ نے داغا تو یہ اصولی طور پر داغنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے اور جن احادیث سے آپ ﷺ کی عدم پسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے وہ اس جواز کے منافی نہیں ہے کیونکہ عدم پسندیدگی عدم جواز پر دلالت نہیں کرتا چناچہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کو آپ ﷺ تو پسند نہیں فرماتے تھے لیکن دوسروں کے لئے اس کی ممانعت بھی نہیں فرماتے تھے، اسی طرح جن احادیث میں داغنے کو اختیار نہ کرنے پر مدح و تعریف منقول ہے وہ بھی عدم جواز پر دلالت نہیں کرتیں کیونکہ مدح و تعریف کا مقصد صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ داغنے کو اختیار نہ کرنا محض اولی اور افضل ہے نہ کہ ضروری ہے البتہ جن احادیث میں داغنے کی ممانعت صراحت کے ساتھ منقول ہے تو وہ ممانعت دراصل اس صورت پر محمول ہے جب کہ داغنے کو اختیار کرنا یا تو سبب مرض کے بغیر ہو یا مرض کے دفعیہ کے لئے اس کی واقعی حاجت نہ ہو بلکہ وہ مرض دوسرے علاج معالجہ سے دفع ہوسکتا ہے، نیز جیسا کہ او پر بیان کیا گیا ہے یہ ممانعت اس بات پر بھی محمول ہے کہ یہ ممانعت داغنے دراصل داغنے کے بارے میں مذکورہ بالا فاسد عقیدے اور شرک خفی میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لئے ہے اور اگر اس طرح کا فاسد عقیدہ نہ رکھا جائے تو یہ ممانعت نہیں ہوگی بعض حضرات کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا بعض صحابہ کے بارے میں داغنے کا حکم دینا (جیسا کہ آگے آ رہا ہے) اس بنا پر تھا کہ ان صحابہ کے زخم بہت خراب ہوگئے تھے اور بعض عضو کے کٹ جانے کی وجہ سے اخراج خون میں کمی نہیں ہو رہی تھی، نیز آپ کو یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ داغنے کے صحت یقینی ہے حاصل یہ کہ کسی عضو کو داغنا یا جلانا مکروہ ہے ہاں اگر کوئی واقعی ضرورت پیش آجائے اور طبیب خاذق یہ کہے کہ اس مرض کا آخری علاج داغنا ہی ہے تو پھر داغنا جائز ہوگا۔
تشریح
محجم میم کے زیر اور جیم کے زبر کے ساتھ سینگی کو کہتے ہیں، لیکن یہاں اس لفظ سے مراد نشتر یا استرا ہے جس سے پچھنے دیئے جاتے ہیں۔ شرطۃ شین کے زبر کے ساتھ، پھچنے لگاؤ کے لئے کو پچھنے کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ رگ سے خون نکالا جاتا ہے لہذا فی شرطۃ معجم کا ترجمہ یہ ہوگا کہ نشتر یا استرے کے ذریعہ پچھنے لگانے میں (شفا ہے) سفر السعادۃ کے مصنف کے مطابق علماء کہتے ہیں کہ اس حدیث میں تمام مادی ( جسمانی) امراض کے علاج معالجہ کی طرف راہنمائی و اشارہ ہے کیونکہ مادی امراض یا تو دموی ہوتے ہیں یا صفراوی یا بلغمی ہوتے ہیں یا سوداوی چناچہ اگر کوئی مرض دموی یعنی فساد خون کی بنا پر ہوتا ہے تو اس کا علاج یہ ہے کہ اس کو جسم سے باہر نکال دیا جائے جس کی صورت پچھنے لگوانا ہے اور باقی تینوں صورتوں میں مرض کا بہترین علاج اسہال ہوتا ہے آپ ﷺ نے شہد کے ذریعہ اس طرف متوجہ کیا کہ اسہال کے لئے شہد ایک بہترین اور معتدل دوا کا کام دیتا ہے نیز آگ سے داغنے کے ذریعہ اس طرف اشارہ کیا کہ اگر مرض کی نوعیت ایسی ہو کہ طبیب و معالج اس کے علاج سے عجز ہوجائیں تو پھر آگ سے داغا جائے کیونکہ یہ جب کوئی مغلظ باغی ہوجاتی ہے اور اس کا مادہ منقطع نہیں ہوتا تو اس کے انقطاع کا واحد ذریعہ اس کو داغ دینا ہے۔ اسی لئے کہا گیا ہے کہ اخر الدوال کی یعنی آخری دوا داغنا ہے۔ رہی یہ بات کہ داغنا جب ایک علاج ہے تو آپ ﷺ نے اس کی ممانعت کیوں فرمائی تو اس کی وجہ یہ ہے کہ اہل عرب داغنے کو اتنی زیادہ اہمیت دیتے تھے اور ان کا یہ عقیدہ ہوگیا تھا کہ مادہ مرض کا باعث ہے اس کے دفیعہ کے لئے داغنا یقینی ہے۔ چناچہ ان کے یہاں یہ مشہور تھا کہ اخر الدوال کی۔ ظاہر ہے کہ یہ بات اسلامی عقیدے کے سراسر خلاف ہے کیونکہ کوئی بھی علاج خواہ وہ کتنا ہی مجرب کیوں نہ ہو یقین کا درجہ نہیں رکھ سکتا، صرف ظاہری سبب اور ذریعہ ہی سمجھا جاسکتا ہے یقینی شفا تو صرف اللہ تعالیٰ کے حکم پر موقوف ہے لہٰذا آپ ﷺ نے اس فاسد عقیدے کی تردید اور لوگوں کو شرک خفی میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لئے اس کی ممانعت فرمائی اور یہ ممانعت نہی تنزیہی کے طور پر ہے ورنہ اگر کوئی شخص داغنے کو مرض کے دفعیہ کا ایک ظاہری سبب و ذریعہ سمجھتے ہوئے اس کو بطور علاج اختیار کرے اور اللہ تعالیٰ سے شفا کی امید رکھے جائز ہے، بعض علماء یہ فرماتے ہیں کہ داغنے کی ممانعت کا تعلق خطرہ اور تردد کی صورت سے ہے یعنی اگر ایسی صورت ہو کہ داغنے سے فائد ہے کے جزم کی بجائے نقصان اور ہلاکت جان کا خوف اور خطرہ ہو تو پھر داغنا نہ چاہئے۔ اس مسئلہ میں بعض شارحین حدیث نے یہ تفصیل بیان کی ہے کہ داغنے کے سلسلہ میں مختلف احادیث منقول ہیں بعض احادیث تو اس کے جواز پر دلالت کرتی ہیں اور بعض نہی کو ثابت کرتی ہیں جیسے مذکورہ بالا احادیث اور دوسری احادیث اسی طرح بعض احادیث میں یہ ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا میں داغنے کو پسند نہیں کرتا اور بعض احادیث میں داغنے کو اختیار نہ کرنے پر مدح و تعریف کی گئی ہے اس طرح ان احادیث کے باہمی تعارض و تضاد کو دور کرنے اور ان میں مطابقت پیدا کرنے کے لئے علماء نے یہ لکھا ہے کہ جن احادیث سے آپ ﷺ کا یہ فعل منقول ہے کہ آپ ﷺ نے داغا تو یہ اصولی طور پر داغنے کے جواز پر دلالت کرتا ہے اور جن احادیث سے آپ ﷺ کی عدم پسندیدگی کا اظہار ہوتا ہے وہ اس جواز کے منافی نہیں ہے کیونکہ عدم پسندیدگی عدم جواز پر دلالت نہیں کرتا چناچہ ایسی بہت سی چیزیں ہیں جن کو آپ ﷺ تو پسند نہیں فرماتے تھے لیکن دوسروں کے لئے اس کی ممانعت بھی نہیں فرماتے تھے، اسی طرح جن احادیث میں داغنے کو اختیار نہ کرنے پر مدح و تعریف منقول ہے وہ بھی عدم جواز پر دلالت نہیں کرتیں کیونکہ مدح و تعریف کا مقصد صرف یہ ظاہر کرتا ہے کہ داغنے کو اختیار نہ کرنا محض اولی اور افضل ہے نہ کہ ضروری ہے البتہ جن احادیث میں داغنے کی ممانعت صراحت کے ساتھ منقول ہے تو وہ ممانعت دراصل اس صورت پر محمول ہے جب کہ داغنے کو اختیار کرنا یا تو سبب مرض کے بغیر ہو یا مرض کے دفعیہ کے لئے اس کی واقعی حاجت نہ ہو بلکہ وہ مرض دوسرے علاج معالجہ سے دفع ہوسکتا ہے، نیز جیسا کہ او پر بیان کیا گیا ہے یہ ممانعت اس بات پر بھی محمول ہے کہ یہ ممانعت داغنے دراصل داغنے کے بارے میں مذکورہ بالا فاسد عقیدے اور شرک خفی میں مبتلا ہونے سے بچانے کے لئے ہے اور اگر اس طرح کا فاسد عقیدہ نہ رکھا جائے تو یہ ممانعت نہیں ہوگی بعض حضرات کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کا بعض صحابہ کے بارے میں داغنے کا حکم دینا (جیسا کہ آگے آ رہا ہے) اس بنا پر تھا کہ ان صحابہ کے زخم بہت خراب ہوگئے تھے اور بعض عضو کے کٹ جانے کی وجہ سے اخراج خون میں کمی نہیں ہو رہی تھی، نیز آپ کو یہ بھی معلوم ہوگیا تھا کہ داغنے کے صحت یقینی ہے حاصل یہ کہ کسی عضو کو داغنا یا جلانا مکروہ ہے ہاں اگر کوئی واقعی ضرورت پیش آجائے اور طبیب خاذق یہ کہے کہ اس مرض کا آخری علاج داغنا ہی ہے تو پھر داغنا جائز ہوگا۔
4411
Mishkaat Shareefوعن جابر قال رمي أبي يوم الأحزاب على أكحله فكواه رسول الله صلى الله عليه وسلم . رواه مسلم .
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ غزوہ احزاب (کہ جس کو غزوہ خندق بھی کہتے ہیں) کے دن حضرت ابی کی رگ ہفت اندام پر تیر آ کر لگا (جس سے خون جاری ہوگیا) تو رسول کریم ﷺ نے ان کو داغ دیا، یعنی آپ ﷺ نے زخم کے منہ کو داغنے کا حکم فرمایا یا خود اپنے دست مبارک سے داغا تاکہ خون بند ہوجائے۔ (مسلم )
4412
Mishkaat Shareefوعنه قال رمي سعد بن معاذ في أكحله فحمسه النبي صلى الله عليه وسلم بيده بمشقص ثم ورمت فحمسه الثانية . رواه مسلم .
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ حضرت سعد بن معاذ کی رگ ہفت اندام پر تیر آ کر لگا (جس سے خون جاری ہوگیا) چناچہ نبی کریم ﷺ نے اپنے دست مبارک پر تیر کے پیکان کے ذریعہ (زخم کو) داغ دیا، پھر جب ان کے ہاتھ پر ورم آگیا تو آپ ﷺ نے دوبارہ داغا۔ (مسلم ) ۔
4413
Mishkaat Shareefوعنه قال بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى أبي بن كعب طبيبا فقطع منه عرقا ثم كواه عليه . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ابی بن کعب (رض) کے پاس ایک طبیب بھیجا طیب نے ان کی ایک رگ کو کاٹ ڈالا اور اس (زخم) پر داغ دیا۔ (مسلم)
4414
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في الحبة السوداء شفاء من كل داء إلا السام . قال ابن شهاب السام الموت والحبة السوداء الشونيز . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ سیاہ دانہ سام کے وقت کے علاوہ ہر بیماری کے لئے شفا ہے۔ ابن شہاب نے بیان کیا کہ سام سے موت مراد ہے اور سیاہ دانہ سے کلونجی مراد ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
طیبی کہتے ہیں کہ اگرچہ حدیث کے مفہوم میں عمومیت ہے کہ کلونجی کو ہر بیماری کو دوا فرمایا گیا لیکن یہ کلونجی خاص طور پر انہی امراض میں فائدہ مند ہے۔ جو رطوبت اور بلغم میں پیدا ہوتے ہیں کیونکہ کلونجی ماء یابس و خشک و گرم ہوتی ہے اس لئے یہ ان امراض کو دفع کرتی ہے جو اس کی ضد ہیں، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حدیث کا مفہوم عمومیت پر ہی معمول ہے یعنی کلونجی ہر بیماری میں فائدہ مند ہے بایں طور کہ اگر اس کو کسی بھی دوا میں خاص مقدار و ترکیب کے ساتھ شامل کیا جائے تو اس کے صحت بخش اثرات ظاہر ہوتے ہیں کرمانی نے کہا کہ حدیث کا مفہوم عام ہے کیونکہ حدیث میں استثناء صرف موت کا کیا گیا ہے۔ سفرالسعادۃ کے منصف نے لکھا ہے کہ اکابر و مشائخ کی ایک جماعت کا معمول تھا کہ وہ اپنے تمام امراض میں کلونجی کو بطور دوا استعمال کرتے تھے اور ان کے حسن اعتقاد کی برکت سے ان کے امراض دور ہوجایا کرتے تھے۔
تشریح
طیبی کہتے ہیں کہ اگرچہ حدیث کے مفہوم میں عمومیت ہے کہ کلونجی کو ہر بیماری کو دوا فرمایا گیا لیکن یہ کلونجی خاص طور پر انہی امراض میں فائدہ مند ہے۔ جو رطوبت اور بلغم میں پیدا ہوتے ہیں کیونکہ کلونجی ماء یابس و خشک و گرم ہوتی ہے اس لئے یہ ان امراض کو دفع کرتی ہے جو اس کی ضد ہیں، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ حدیث کا مفہوم عمومیت پر ہی معمول ہے یعنی کلونجی ہر بیماری میں فائدہ مند ہے بایں طور کہ اگر اس کو کسی بھی دوا میں خاص مقدار و ترکیب کے ساتھ شامل کیا جائے تو اس کے صحت بخش اثرات ظاہر ہوتے ہیں کرمانی نے کہا کہ حدیث کا مفہوم عام ہے کیونکہ حدیث میں استثناء صرف موت کا کیا گیا ہے۔ سفرالسعادۃ کے منصف نے لکھا ہے کہ اکابر و مشائخ کی ایک جماعت کا معمول تھا کہ وہ اپنے تمام امراض میں کلونجی کو بطور دوا استعمال کرتے تھے اور ان کے حسن اعتقاد کی برکت سے ان کے امراض دور ہوجایا کرتے تھے۔
4415
Mishkaat Shareefوعن أبي سعيد الخدري قال جاء رجل إلى النبي صلى الله عليه وسلم فقال أخي استطلق بطنه فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم اسقيه عسلا فسقاه ثم جاء فقال سقيته فلم يزده إلا استطلاقا فقال له ثلاث مرات . ثم جاء الرابعة فقال اسقه عسلا . فقال لقد سقيته فلم يزده إلا استطلاقا فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم صدق الله وكذب بطن أخيك . فسقاه فبرأ . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوسعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ (ایک دن) نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک شخص حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرے بھائی کا پیٹ چل رہا ہے یعنی اس کو دست پر دست آ رہے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اس کو شہد پلا دو ، اس شخص نے (جا کر) اپنے بھائی کو شہد پلایا (کچھ دیر کے بعد) پھر آیا اور کہنے لگا کہ میں نے شہد پلا دیا تھا لیکن شہد نے اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا کہ اس کے پیٹ چلنے میں اور زیادتی کردی ہے (یعنی شہد پلانے کے بعد سے دستوں میں پہلے سے بھی زیادتی ہوگئی ہے) آنحضرت ﷺ نے اس شخص کو تین مرتبہ یہی حکم دیا (یعنی آپ ﷺ ہر بار یہی فرماتے کہ اس کو شہد پلا دو اور وہ شخص شہد پلاتا رہا، پھر آ کر کہتا کہ میں نے شہد پلا دیا مگر دستوں میں پہلے سے بھی زیادتی ہوگئی ہے) یہاں تک کہ وہ جب چوتھی مرتبہ آیا ( اور کہنے لگا کہ اس کے دستوں میں زیادتی ہوگئی ہے) تو آنحضرت ﷺ نے پھر یہی فرمایا کہ اس کو شہد پلا دو ، اس نے عرض کیا کہ میں نے شہد پلا دیا ہے، مگر شہد نے اس کے علاوہ اور کوئی کام نہیں کیا کہ اس کے پیٹ چلنے میں اور زیادتی کردی ہے، تب آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے تو سچ فرمایا ہے مگر تمہارے بھائی کا پیٹ ہی جھوٹا ہے۔ آخر کار اس شخص نے اپنے بھائی کو پھر شہد (خالص یا پانی میں ملا کر پلایا) تو وہ اچھا ہوگیا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
کسی بیماری کی صورت میں شہد استعمال کرنے کا ایک خاص طریقہ حضرت علی (رض) سے یوں منقول ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی سے کہے کہ وہ اپنے مہر میں سے کچھ مال دے اور پھر اس مال کے ذریعہ شہد خریدے اور شہد کو بارش کے پانی میں ملا کر پی لے انشاء اللہ بابرکت شفا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو سچ فرمایا ہے ان الفاظ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کریمہ (فِيْهِ شِفَا ءٌ لِّلنَّاسِ ) 16 ۔ النحل 69) کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شہد میں لوگوں کے لئے شفا ہے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعہ بتادیا تھا کہ اگر وہ مریض شہد پئے گا تو اس کے پیٹ میں آرام ہوجائے گا اور دست بند ہوجائیں گے اسی بات کو آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ شہد پینے سے اس کو فائدہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات غیر صحیح نہیں ہوسکتی لہٰذا مریض کو شہد پلائے جاؤ اس کو یقینا فائدہ ہوگا۔ پھر آپ نے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے کے ذریعہ گویا صحت یابی میں تاخیر ہونے کی علت بیان فرمائی کہ تمہارے بھائی کے پیٹ میں کوئی سخت مادہ جمع ہو رہا ہے اس کی وجہ سے شہد کی دی ہوئی مقدار کار گر نہیں ہو رہی ہے جب تک وہ مادہ باہر نہیں آجائے گا تب تک اسے آرام نہیں آئے گا یا یہ کہ پیٹ خطا کر رہا ہے، یعنی ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا ہے اور ابھی شفا کو قبول نہیں کر رہا ہے جب وہ ٹھیک کام کرنے لگے گا اور شفا قبول کرے گا تو دست بند ہوجائیں گے واضح رہے کہ اہل عرب اپنے کلام میں اکثر لفظ کذب یعنی جھوٹ کو خطا کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ جب انہیں کہنا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کے کان نے خطاء کی یعنی اس نے جو بات سنی ہے اس کی حقیقت کو نہیں پہنچا ہے تو وہ یوں کہتے ہیں۔ کذب سمعہ یعنی اس کے کان نے جھوٹ کہا۔
تشریح
کسی بیماری کی صورت میں شہد استعمال کرنے کا ایک خاص طریقہ حضرت علی (رض) سے یوں منقول ہے کہ جب کوئی شخص بیمار ہو تو اس کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی سے کہے کہ وہ اپنے مہر میں سے کچھ مال دے اور پھر اس مال کے ذریعہ شہد خریدے اور شہد کو بارش کے پانی میں ملا کر پی لے انشاء اللہ بابرکت شفا پائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے تو سچ فرمایا ہے ان الفاظ کے ذریعہ آنحضرت ﷺ نے اس آیت کریمہ (فِيْهِ شِفَا ءٌ لِّلنَّاسِ ) 16 ۔ النحل 69) کی طرف اشارہ کیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ شہد میں لوگوں کے لئے شفا ہے، یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو وحی کے ذریعہ بتادیا تھا کہ اگر وہ مریض شہد پئے گا تو اس کے پیٹ میں آرام ہوجائے گا اور دست بند ہوجائیں گے اسی بات کو آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد کے ذریعہ بیان کیا کہ جب اللہ تعالیٰ نے یہ بتادیا ہے کہ شہد پینے سے اس کو فائدہ ہوگا اور اللہ تعالیٰ کی بتائی ہوئی بات غیر صحیح نہیں ہوسکتی لہٰذا مریض کو شہد پلائے جاؤ اس کو یقینا فائدہ ہوگا۔ پھر آپ نے تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے کے ذریعہ گویا صحت یابی میں تاخیر ہونے کی علت بیان فرمائی کہ تمہارے بھائی کے پیٹ میں کوئی سخت مادہ جمع ہو رہا ہے اس کی وجہ سے شہد کی دی ہوئی مقدار کار گر نہیں ہو رہی ہے جب تک وہ مادہ باہر نہیں آجائے گا تب تک اسے آرام نہیں آئے گا یا یہ کہ پیٹ خطا کر رہا ہے، یعنی ٹھیک طرح سے کام نہیں کر رہا ہے اور ابھی شفا کو قبول نہیں کر رہا ہے جب وہ ٹھیک کام کرنے لگے گا اور شفا قبول کرے گا تو دست بند ہوجائیں گے واضح رہے کہ اہل عرب اپنے کلام میں اکثر لفظ کذب یعنی جھوٹ کو خطا کی جگہ استعمال کرتے ہیں۔ جیسا کہ جب انہیں کہنا ہوتا ہے کہ فلاں شخص کے کان نے خطاء کی یعنی اس نے جو بات سنی ہے اس کی حقیقت کو نہیں پہنچا ہے تو وہ یوں کہتے ہیں۔ کذب سمعہ یعنی اس کے کان نے جھوٹ کہا۔
4416
Mishkaat Shareefاس موقع پر یہ بات واضح کر دینی ضروری ہے کہ اگرچہ علماء نے حتی الامکان طب نبوی (علیہ السلام) اور مروجہ طب میں مطابقت و موافقت پیدا کرنے کی کوشش کی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ دونوں میں فرق ضرور موجود ہے اسی لئے صاحب سفر السعادۃ نے لکھا ہے کہ طب نبوی (ظاہری طور پر) طباء کے قواعد و اصول کے ساتھ کوئی نسبت نہیں رکھتی کیونکہ طب نبوی ﷺ کا مصدر وحی الہٰی، قلب نبوت اور کمال عقل ہے ظاہر ہے کہ جو طب وحی الہٰی کے ذریعہ حاصل ہوئی ہو یا جو علاج معالجہ قلب نبوت اور کمال عقل کا بتایا ہوا اس کا کامیاب ہونا اور اس کے ذریعے شفا پانا درجہ یقین کا حامل ہے اس کے برخلاف اطباء و حکماء کی جو طب ہے اور ان کے اصول و قواعد کے مطابق جو علاج معالجہ ہوتا ہے اس کا کلیۃ کامیاب اور افادیت بخش ہونا یقینی درجہ کی چیز نہیں ہے۔ بلکہ اس میں غلطی و خطا ہونے کا بھی گمان ہے کیونکہ اس طب کی بنیاد انسانی ذہن و تجربہ پر ہے اس اعتبار سے یہ طب اس طب نبوی ﷺ کے برابر ہو ہی نہیں سکتی جس کی بنیاد وحی الہٰی، قلب نبوت اور کمال عقل ہے۔ طب نبوی اور مروجہ طب کے درمیان یہی فرق ہے جو بعض مواقع پر کچھ لوگوں کو شک شبہ اور الجھن میں ڈال دیتا ہے چناچہ جب وہ دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے کسی مرض کا ایسا علاج تجویز فرمایا ہے جو فن طب کے اصول و قواعد کے خلاف ہے تو وہ مختلف قسم کے اعتراض کرتے ہیں حالانکہ انہیں اس حقیقت کو تسلیم کرنا چاہئے کہ وہ جس طب کے اصول و قواعد کی بات کرتے ہیں وہ چونکہ انسان کے اپنے ذہن اور اپنی عقل و تدبیر کی پیداوار ہے اس لئے اس میں غلطی و خطا کا ہونا اور حقیقت حال تک نہ پہنچنا عین ممکن ہے جب کہ طب نبوی کا مصدر وحی الہٰی اور قلب نبوت ہے جس میں کسی خطا کا امکان ہی نہیں ہے۔ آنحضرت ﷺ نے کسی مرض کا جو بھی علاج تجویز فرمایا ہے اس کے بارے میں تو ہوسکتا ہے کہ ہمارا ناقص علم اور ذہن اس کی حقیقت تک نہ پہنچ سکے لیکن یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ علاج مرض کے مطابق نہ ہو مثال کے طور پر یہاں حدیث میں جس واقعہ کا ذکر کیا گیا ہے اس کے متعلق بعض اطباء سخت حیرانی اور الجھن میں مبتلا ہوئے ہیں کیونکہ شہد اپنے خواص کے اعتبار سے سہل اور پیٹ جاری کرنے والا ہے لہٰذا دستوں کے روکنے کے لئے شہد پلانے کا حکم نبوی کریم ﷺ بظاہر اطباء کے اصول و قواعد کے بالکل خلاف ہے بناء بریں وہ اطباء کہتے ہیں کہ ہر مرتبہ شہد پلانے کے بعد دستوں میں زیادتی کا ہونا اسی وجہ سے تھا کہ شہد اسہال پیدا کرتا ہے ؟ اس بارے میں ایک بات تو یہی کہی جاسکتی ہے کہ یہ ایک بالکل مخصوص نوعیت کا معاملہ تھا جس میں دوا کی تاثیر سے زیادہ آنحضرت ﷺ کی دعا کی برکت اور آپ ﷺ کے اعجاز سے وہی شہد اس کے حق میں شفا یابی کا ذریعہ بن گیا اور وہ اچھا ہوگیا، یہ بات اگرچہ حسن اعتقاد کے نقطہ نظر سے ایک اچھی تعبیر و ترجمانی ہے جو اہل ایمان کو مطمئن کرسکتی ہے اور پھر وہ بجا طور پر کہہ سکتے ہیں کہ محض اس واقعہ پر قیاس کر کے طب نبوی ﷺ کو مروج طب کے اصول و قواعد کے متضاد قرار نہیں دیا جاسکتا لیکن اس کے علاوہ اگر فنی نقطہ نظر سے بھی آنحضرت ﷺ کے تجویز کردہ اس علاج پر پوری تحقیق اور گہری نظر کے ساتھ غور کیا جائے تو واضح ہوگا کہ آنحضرت ﷺ کا مریض کو شہد پلانے کا حکم دینا اطباء کے اصول و قواعد کے خلاف نہیں تھا۔ کیونکہ دستوں کا آنا جس طرح بدہضمی کی وجہ سے ہوتا ہے اسی طرح وہ فاسد مادہ بھی دست جاری ہونے کا سبب بنتا ہے جو جمع ہوجاتا ہے۔ لہٰذا جو دست معدے میں جمع ہونے والے فاسد مادہ کی وجہ سے آتے ہیں ان کو بند کرنا اور اس مادے کو باہر نکالنا ضروری ہوتا ہے اور اس کا بہترین علاج شہد ہے۔ خصوصًا شہد کو گرم پانی میں ملا کر پلانا بہت مفید ہے کہ وہ مادہ کو دفع کرتا ہے اور خارج بھی کردیتا ہے پس وہ شخص جو بدہضمی کا شکار تھا اور اس کے معدے میں فاسد مادہ بھی جمع ہوگیا تھا اس کے لئے بہترین علاج یہی تھا کہ شہد پلا کر اس کے معدے میں جمع ہوجانے والا فاسد مادہ نکالا جائے چناچہ آپ ﷺ اس کو شہد پلانے کا حکم دیتے رہے یہاں تک کہ جب اس کا معدہ فاسد مادے سے بالکل صاف ہوگیا تو وہ اچھا ہوگیا، اس سلسلے میں یہ بات بطور خاص ذہن میں رکھنے کی ہے کہ علاج معالجہ میں حسن اعتقاد اور معالج کی تشخیص و تجویز پر مکمل اعتبار و بھروسہ بنیادی چیز ہے، چناچہ ہم اپنی روز مرہ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ اگر کوئی شخص اپنے معالج کے بارے میں بھی کسی قسم کے شک وشبہ میں مبتلا ہوجاتا ہے اور اس سے حسن اعتقاد نہیں ہوتا تو اس کا مزاج معالج کے اس علاج کو قبول نہیں کرتا اور شفا یابی سے محروم رہتا ہے خواہ وہ معالج کتنے ہی اونچے درجے کا کیوں نہ ہو اس کے برخلاف اگر وہ شخص پورے یقین و اعتقاد کے ساتھ کوئی انتہائی معمولی درجہ کا بھی علاج کرتا ہے تو وہ علاج اس کے لئے فائدہ مند ہوجاتا ہے اس سے معلوم ہوا کہ اگر کوئی شخص طب نبوی ﷺ کے ذریعہ اپنا علاج کرے جس کی کامیابی یقینی ہے اور اس کو اس علاج سے فائدہ نہ ہو تو اس کا صاف مطلب یہ ہوگا کہ اس کے ایمان میں کھوٹ ہے اور اس کو یقین و اعتقاد کی نعمت حاصل نہیں ہے۔ لہٰذا جو شخص اپنے کسی مرض کا علاج طب نبوی ﷺ کے ذریعہ کرنے کا خواہش مند ہو تو اس کو اپنا یقین کامل اور اپنا اعتقاد مضبوط کرنا چاہئے اور پھر صدق نیت و اخلاص عمل کے ساتھ اس علاج کو اختیار کرنا چاہئے۔ جیسا کہ قرآن کریم میں، امراض باطنی و روحانی اور فساد و ذہن کے لئے شفاء کامل کا درجہ رکھتا ہے۔ لہٰذا جو شخص قرآن کریم کو اخلاص و خلوص کے جذبہ سے سیکھتا ہے اور پڑھتا ہے اس کی تعلیمات پر یقین و اعتقاد کے ساتھ عمل کرتا ہے۔ اس کے قلب و روح کو یقینا جلا و شفا حاصل ہوتی ہے، اس کے برخلاف جو شخص عدم اخلاص و قبول اور بےیقینی وبے اعتمادی کے ساتھ قرآن کریم کو سیکھتا پڑھتا ہے تو اس کے باطن میں اور زیادہ برائی اور اس کے قلوب میں اور زیادہ فساد پیدا ہوتا ہے۔ اسی بناء پر بعض حضرات نے حدیث کے الفاظ کذب بطن اخیک (تمہارے بھائی کا پیٹ جھوٹا ہے) کو مریض کے عدم صدق نیت اور عدم خلوص اعتقاد پر بھی محمول کیا ہے یعنی ان حضرات کے نزدیک آنحضرت ﷺ نے اس ارشاد گرامی کے ذریعہ گویا یہ واضح کیا کہ تمہارے بھائی نے چونکہ شہد کو یقین و اعتقاد اور اخلاص و قبول کے ساتھ نہیں پیا ہے، اس لئے فائدہ ہونے کے بجائے اس مرض میں زیادتی ہوگئی ہے۔