hadith book logo

Mishkaat Shareef

183. معجزوں کا بیان

مشكاة المصابيح

5792
Mishkaat Shareef
صحیح
معجزات معجزۃ کی جمع ہے جس کے معنی ہیں وہ خارق عادت جس کو اللہ تعالیٰ کے نبی و رسول کے ہاتھ سے ظاہر کر دے اور دوسرے اس سے عاجز ہوں۔ لفظ معجزہ اصل میں عجز سے مشتق ہے جس کے معنی نا تو اں ہونا، عاجز ہونا کے ہیں اور جو حزم ( قادر ہونا) کی ضد ہیں۔ اسی لفظ سے معجزہ بنا ہے جس کے معنی ہیں، عاجز کرنے والا، اعجاز دکھانے والا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبیوں اور رسولوں کی سچائی ثابت کرنے کے لئے اور ان کے ہاتھ سے معجزہ ظاہر ہوتا ہے اس کی امت اور قوم کے لوگ نہ صرف یہ کہ مقابلہ میں اس معجزہ کی طرح کا کوئی کرشمہ دیکھا نے اور پیش کرنے سے عاجز ہوتے ہیں بلکہ اگر کوئی چاہے کہ اس معجزہ کا توڑ کر دے تو یہ بھی ممکن نہیں ہوتا۔ حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی (رح) نے لکھا ہے معجزہ کا لفظ اعجاز سے لیا گیا ہے جس کے معنی عاجز کرنے کے ہیں اور معجزہ اس چیز کو کہتے ہیں جو خارق عادت ہو اور جس سے نبوت و رسالت کا دعوی ظاہر وثابت ہوتا ہو اور جو خوارق عادات ظہور نبوت سے پہلے ظاہر ہوتے ہیں ان کو معجزات نہیں کہتے بلکہ ارہاصات کہتے ہیں جو ارہاص کی جمع ہے، ارہاص کے لغوی معنی مکان کو اینٹ مٹی اور پتھر کے ساتھ مضبوط ومستحکم بنانے کے ہیں، لہٰذا ظہور نبوت سے پہلے ظاہر ہونے والے خوارق عادات گویا نبوت و رسالت کی عمارت کو مستحکم و مضبوط بنانے کا ابتدائی ذریعہ ہوتے ہیں۔
5793
Mishkaat Shareef
صحیح
خارق عادت، یعنی ایسی چیز کا وقوع پذیر ہونا جو جاری نظام قدرت سے الگ اور عادت وعام طریقہ کے خلاف ہو اور جس کو کرشمہ سمجھا جاتا ہو، مختلف نوعیتیں ہوتی ہیں اور اسی اعتبار سے ان کی الگ الگ قسمیں ہیں ! اور پھر ان قسموں کو الگ الگ ناموں سے تعبیر کیا گیا ہے، تاکہ ان سب کی اپنی اپنی حیثیت بھی متعین ہوجائے اور ایک دوسرے سے ممتاز بھی رہیں، چناچہ خوارق عادات کی پہلی قسم تو وہ ہے جو نبی اور رسول سے ظاہر ہو جس کو معجزہ کہا جاتا ہے، دوسری قسم وہ ہے عام مسلمانوں سے ظاہر ہو، اس کو معونت کہا جاتا ہے، تیسری قسم وہ ہے، جو اولیائے اللہ سے ظاہر ہو اور جس کو کرامت کہا جاتا ہے اور چوتھی قسم وہ ہے جو کافروں اور فاسوں سے ظاہر ہو، اس کو استدراج کہا جاتا ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان چاروں قسموں میں سے اول الذکر قسم کو چھوڑ کر باقی تینوں قسمیں اپنے اپنے مفہوم و مصداق کے اعتبار سے دعوی نبوت کی قید سے باہر ہیں، گویا ان تینوں قسموں میں سے کسی قسم کو بھی معجزہ نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ معجزہ تو وہی خرق عادت ہے جو نبوت کے دعویٰ کے ساتھ ہو۔
5794
Mishkaat Shareef
صحیح
شعبدہ اور سحر یعنی جادو کو خرق عادت نہیں کہا جاسکتا، کیونکہ شعبدہ اور سحر کا صدور و ظہور اسباب ظاہری کے تابع ہوتا ہے اور کوئی بھی شخص ان اسباب میں درک مہارت حاصل کر کے شعبدہ اور سحر ظاہر کرتا ہے، لہٰذا جو چیز ظاہری اسباب کے ذریعہ وجود میں آئے اس پر خرق عادت کا اطلاق نہیں ہوسکتا، اسی وجہ سے دواؤں اور طبی تدابیر کے ذریعہ حاصل ہونے والی شفاء کو بھی خارق عادت نہیں کہا جاتا اگر اس کو کوئی خارق عادت کہہ دے تو ظاہری صورت کے اعتبار سے ہوگا۔
5795
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أنس بن مالك أن أبا بكر الصديق رضي الله عنه قا ل : نظرت إلى أقدام المشركين على رؤوسنا ونحن في الغار فقلت يا رسول الله لو أن أحدهم نظر إلى قدمه أبصرنا فقال : يا أبا بكر ما ظنك باثنين الله ثالثهما متفق عليه
حضرت انس ابن مالک (رض) روای ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے بیان فرمایا جب ہم غار میں چھپے ہوئے تھے اور میں نے مشرکوں کے پیروں کی طرف دیکھا جو گویا ہمارے سروں پر تھے تو میں نے عرض کیا ! یا رسول اللہ ﷺ ! اگر ان میں سے کسی ایک کی نظر اپنے پیروں کی طرف چلی گئی تو ہم کو دیکھ لے گا۔ آنحضرت ﷺ نے ( یہ سن کر) فرمایا۔ ان دو شخصوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا ساتھی اللہ ہے۔ ( بخاری ومسلم)

تشریح
غار سے مراد مشہور پہاڑ جبل ثور کے بالائی حصہ کی وہ غار ہے جس میں رسول کریم ﷺ نے مکہ سے مدینہ کو سفر ہجرت کے دوران تین راتیں بسر فرمائی تھیں اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) آپ کے ساتھ تھے، جبل ثور مکہ کے مشرقی جنوبی سمت تقریبًا ساڑھے تین سو میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ جب آنحضرت ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے اپنا وطن عزیز چھوڑ کر مدینہ منورہ جانے کے لئے مکہ سے روانہ کر دئیے، ان کو حکم دیا گیا کہ جس طرح بھی ممکن ہو محمد ﷺ کو مکہ واپس لایا جائے آنحضرت ﷺ اپنے رفیق سفر حضرت ابوبکر صدیق (رض) کے ساتھ جبل ثور کے اس غار میں چھپے ہوئے تھے کہ اچانک ان گماشتوں کی ایک ٹولی اس غار کے دہانے تک پہنچ گئی، اس غار کا محل وقوع اس طرح کا ہے کہ اگر کوئی شخص غار کے باہری کنارہ پر کھڑا ہو تو غار کے اندر موجود شخص کی نظر اس کے پیروں پر پڑتی ہے اور اگر باہری کنارہ پر کھڑا ہوا شخص نیچے نظر کر کے اپنے پیروں کی طرف دیکھے تو وہ غار کے اندر موجود شخص کو بڑی آسانی کے ساتھ دیکھ سکتا ہے، چناچہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے دیکھا کہ مشرکین مکہ کے گماشتے آنحضرت ﷺ کی تلاش میں اس غار تک پہنچ گئے ہیں اور وہ لوگ بالکل غار کے منہ پر کھڑے ہوئے ہیں، جوں ہی ان میں سے کسی شخص کی نظر ان کے اپنے پیروں کی طرف جائے گی، وہ ہمیں دیکھ لے گا اور اس طرح آنحضرت ﷺ پر دسترس کا موقع ان لوگوں کو مل سکتا ہے، حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے اپنی اس تشویش اور گھبراہٹ کا اظہار آپ ﷺ کے سامنے کیا لیکن آپ ﷺ نے بڑے یقین کے ساتھ ان کو اطمینان دلایا کہ ہم اور تم وہ دو شخص ہیں جن کے ساتھ ایک تیسری ذات اللہ تعالیٰ کی مدد ونصرت بھی ہے ہمارا پروردگار ہماری حفاظت فرمائے گا اور ہمیں اپنے دشمنوں کے چنگل میں پڑنے سے بچائے گا۔ اور ایسا ہی ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے رسول ﷺ اور آپ کے پیارے ساتھی حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی اس طرح حفاظت فرمائی کہ وہ مشرکین مکہ جو غار کے منہ پر کھڑے ہوئے اپنی تیز نگاہوں سے ادھر ادھر آنحضرت ﷺ کو تلاش کر رہے تھے اور اس بات کا یقین رکھتے تھے کہ آنحضرت ﷺ اسی غار میں موجود ہیں، عین موقع پر حوصلہ ہار بیٹھے، نہ تو ان کو آگے تلاش کا موقع ملا اور نہ انہیں پیروں کی طرف غار کے اندر دیکھنا نصیب ہوسکا، صرف اللہ تعالیٰ کی قدرت کا کرشمہ اور آنحضرت ﷺ کے معجزہ کا ظہور تھا۔ علامہ طیبی (رح) نے یہ بھی لکھا ہے کہ اس موقع پر آنحضرت ﷺ نے ان مشرکوں کے حق میں یہ بد دعا فرمائی تھی، اے اللہ ! ان کی آنکھوں کی بینائی معطل کر دے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ان سب کو اس طرح بےبصر کردیا کہ وہ غار کے چاروں طرف گھومتے تھے مگر اس کے اندر موجود آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر (رض) کو دیکھنے پر قادر نہیں ہوتے تھے اور جیسا کہ بعض روایتوں میں آیا ہے کہ اس موقع پر کبوتروں نے غار کے منہ پر انڈے رکھ دئیے اور مکڑیوں نے جالا تن دیا یہ بھی معجزہ ہی تھا۔
5796
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن البراء بن عازب عن أبيه أنه قال لأبي بكر : يا أبا بكر حدثني كيف صنعتما حين سريت مع رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أسرينا ليلتنا ومن الغد حتى قام قائم الظهيرة وخلا الطريق لا يمر فيه أحد فرفعت لنا صخرة طويلة لها ظل لم يأت عليها الشمس فنزلنا عندها وسويت للنبي صلى الله عليه و سلم مكانا بيدي ينام عليه وبسطت عليه فروة وقلت نم يا رسول الله وأنا أنفض ما حولك فنام وخرجت أنفض ما حوله فإذا أنا براع مقبل قلت : أفي غنمك لبن ؟ قال : نعم قلت : أفتحلب ؟ قال : نعم . فأخذ شاة فحلب في قعب كثبة من لبن ومعي إداوة حملتها للنبي صلى الله عليه و سلم يرتوي فيها يشرب ويتوضأ فأتيت النبي صلى الله عليه و سلم فكرهت أن أوقظه فوافقته حتى استيقظ فصببت من الماء على اللبن حتى برد أسفله فقلت : اشرب يا رسول الله فشرب حتى رضيت ثم قال : ألم يأن الرحيل ؟ قلت : بلى قال : فارتحلنا بعد ما مالت الشمس واتبعنا سراقة بن مالك فقلت : أتينا يا رسول الله فقال : لا تحزن إن الله معنا فدعا عليه النبي صلى الله عليه و سلم فارتطمت به فرسه إلى بطنها في جلد من الأرض فقال : إني أراكما دعوتما علي فادعوا لي فالله لكما أن أرد عنكما الطلب فدعا له النبي صلى الله عليه و سلم فنجا فجعل لا يلقى أحدا إلا قال كفيتم ما ههنا فلا يلقى أحدا إلا رده . متفق عليه
حضرت براء ابن عازب (رض) اپنے محترم ( حضرت عازب) سے روایت کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے پوچھا کہ اے ابوبکر ! جب ( آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے ارادہ سے مکہ چھوڑا اور مدینہ روانہ ہوئے اور) تم نے رات میں رسول کریم ﷺ کے ساتھ سفر کیا تو ( غار سے نکلنے کے بعد) تمہیں کیا کیا حالات اور واردات پیش آئے ؟ حضرت ابوبکر (رض) نے فرمایا ! ( غار سے نکل کر) ہم ساری رات چلتے رہے اور اگلے دن کا کچھ حصہ بھی ( یعنی دوپہر تک) سفر میں گزرا یہاں تک کہ جب ٹھیک دوپہر ہوگئی اور سورج ٹھہر گیا اور راستہ ( آنے جانے والوں سے) بالکل خالی ہوگیا تو ہمیں ایک چٹان نظر آئی جس کے نیچے سایہ تھا اور سورج اس پر نہیں آیا تھا ( یعنی اس چٹان کے نیچے جو کھوہ یا غار تھا اس میں دھوپ نہیں تھی۔ چناچہ ہم اس چٹان کے نیچے اتر گئے اور میں نے وہاں رسول کریم ﷺ کے لئے ایک جگہ اپنے ہاتھوں سے ہموار اور صاف کی تاکہ آپ ﷺ اس پر سو رہیں پھر میں نے اس جگہ پر پوستین بچھایا اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ ﷺ یہاں سو جائیے، میں آپ ﷺ کے ادھر ادھر نگرانی رکھوں گا کہ کسی طرف سے دشمن کا کوئی آدمی تو ہماری ٹوہ میں نہیں ہے، اگر کوئی ادھر آئے گا تو اس کو روکوں گا) رسول کریم ﷺ سوگئے اور وہاں سے نکل کر آنحضرت ﷺ کی حفاظت کے لئے چاروں طرف نگرانی رکھے ہوئے تھا کہ اچانک میں نے ایک چرواہے کو دیکھا جو سامنے سے آرہا تھا (جب وہ میرے قریب آگیا تو) میں نے پوچھا کہ کیا تمہاری بکریوں میں دودھ ہے ؟ اس نے کہا ہاں ہے، کیا تو دودھ دوہ کر دے گا ؟ اس نے کہا ہاں ! پھر اس نے ایک بکری کو پکڑا اور لکڑی کے پیالے میں تھوڑا سا دودھ دوہ دیا، میرے پاس ایک چھاگل تھی جو میں نے نبی کریم ﷺ کے استعمال کے لئے رکھی تھی، اس میں پانی رہتا تھا جو آپ ﷺ کے پینے اور وضو کے کام آتا تھا، میں دودھ لے کر) نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ ﷺ سو رہے تھے، میں نے جگانا مناسب نہ سمجھا اور خود بھی آپ ﷺ کا ساتھ دیا، یہاں تک کہ آپ ﷺ خود بیدار ہوئے (اور میں بھی اٹھ گیا) پھر میں نے دودھ میں (اتنا) پانی ڈالا کہ نیچے تک ٹھنڈا ہوگیا اور پھر عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ ! نوش فرمائے۔ آپ ﷺ نے وہ دودھ نوش فرمایا اور میں بہت خوش ہوا۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے فرمایا کہ کیا کوچ کا وقت آیا ؟ میں نے کہا ! ہاں آگیا ہے۔ حضرت ابوبکر (رض) کہتے ہیں کہ پس ہم نے سورج ڈھلنے کے بعد (ٹھنڈے وقت) وہاں سے کوچ کیا اور ( آگے سفر شروع ہوا تو) پیچھے سے سراقہ ابن مالک آگیا، میں نے (اس کو دیکھ کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! دشمن ہمیں پکڑ نے آگیا ہے۔۔۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا ڈرو نہیں اللہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کے بعد آپ ﷺ نے سراقہ کے لئے بددعا کی اور سراقہ کا گھوڑا اس کو لئے ہوئے پیٹ تک زمین میں دھنس گیا۔ سراقہ (اس صورت حال سے دوچار ہو کر بدحو اس ہوگیا اور) کہنے لگا کہ میں جانتا ہوں، تم دونوں نے میرے لئے بددعا کی ہے، اب میری نجات وخلاصی کے لئے بھی تم دعا کرو مجھ کو اس گرفت سے نجات دلا دو تو) میں اللہ کو گواہ بنا کر وعدہ کرتا ہوں کہ میں کفار کو تمہارا تعاقب کرنے سے روک دوں گا۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس کے لئے دعا فرمائی اور وہ اس گرفت سے نجات پا گیا۔ اور سراقہ نے (اپنا وعدہ پورا کرتے ہوئے یہ کیا) کہ آنحضرت ﷺ کی تلاش میں مکہ سے روانہ ہونے والے کافروں میں سے) جو بھی اس راستہ میں ملتا وہ اس سے کہتا کہ تمہارے لئے میرا تلاش کرنا کافی ہے (یعنی میں بہت دور سے محمد ﷺ کو تلاش کرکے دیکھ چکا ہوں ان کا کہیں پتہ نہیں چلا تم ان کو تلاش کرنے کی زحمت برداشت نہ کرو) سراقہ کو جو شخص بھی ملتا اس کو وہ یہی کہہ کر واپس کردیتا۔ ( بخاری و ومسلم)

تشریح
۔ اور خود بھی آپ ﷺ کا ساتھ دیا یہ فوافقتہ کا ترجمہ ہے، یعنی آپ ﷺ کو سوتا دیکھ کر نہ صرف یہ کہ میں نے آپ ﷺ کو جگانا پسند کیا بلکہ آپ ﷺ کی طرح میں خود بھی ایک طرف کو لیٹ کر سوگیا۔ اور ایک روایت میں یہ لفظ ف پر ق کی تقدیم کے ساتھ ہے، اس صورت میں ترجمہ ومطلب یہ ہوگا کہ میں نے آپ ﷺ کو سوتا دیکھ کر توقف کیا یعنی آپ ﷺ کو جگانا مناسب نہیں سمجھا اور اس وقت تک انتظار کرتا رہا جب تک آپ ﷺ خود بیدار نہ ہوگئے۔ پھر میں نے دودھ میں پانی ڈالا عربوں کی عادت تھی کہ دودھ کی حرارت کو زائل کرنے کے لئے اس میں ٹھنڈا پانی ملالیتے تھے اور پھر اس کو پیتے تھے، چناچہ اس موقع پر حضرت ابوبکر (رض) نے بھی اس عادت ومعمول کے مطابق بکری کے اس دودھ میں اتنا پانی ملادیا جس سے وہ دودھ خوب ٹھنڈا ہوگیا۔ اور میں بہت خوش ہوا۔ یعنی حضرت ابوبکر صدیق (رض) کو اس بات سے بہت خوشی و طمانیت محسوس ہوئی کہ ان کی وجہ سے نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کو کچھ دیر استراحت کا موقع مل گیا بلکہ دودھ بھی فراہم ہوگیا جس کو آپ ﷺ نے بشاشت وخوش طبعی کے ساتھ نوش فرمایا۔ اس سے معلوم ہوا کہ محب کی اصل خوشی محبوب کی خوشی اور راحت میں ہوتی ہے۔ اس موقع پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ایسی بکریوں کا دودھ کیسے دوہا اور پیا گیا جس کی مالک کی اجازت حاصل نہیں تھی ؟ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ وہ بکریاں کسی ایسے شخص کی تھیں جو حضرت ابوبکر صدیق (رض) کا دوست اور معتمد تھا۔ اور حضرت ابوبکر صدیق (رض) اپنے اس دوست کی اجازت کا اعتماد رکھتے تھے، دوسرا جواب یہ ہے کہ عربوں اور خاص طور پر اہل مکہ کی عادت تھی کہ وہ اپنے چرواہوں کو پہلے ہی اجازت دیدیتے تھے کہ انہیں جو مسافر یا بھوکا ملے اور طلبگار ہو تو اس کو بلاتوقف دودھ نکال کر دے دیا کریں اور ایک تیسرا جواب یہ بھی ہوسکتا ہے کہ حضرت ابوبکر صدیق (رض) نے مطلوبہ قیمت دیکر وہ دودھ حاصل کیا ہوگا ! سراقہ ابن مالک ان لوگوں میں سے ایک تھا جن کو قریش مکہ نے آنحضرت ﷺ کے تعاقب پر مامور کیا تھا اور یہ اعلان کیا تھا کہ جو شخص بھی محمد ﷺ کو پکڑ کر لائے گا اور ہمارے حوالے کردے گا اس کو بطور انعام سو اونٹ دئیے جائینگے۔ یہ سراقہ ابن مالک فتح مکہ کے بعد مسلمان ہوگئے تھے ! اور وہ گرفت سے نجات پا گیا ایک روایت میں یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ کی بددعا کے نتیجہ میں سراقہ کے زمین میں دھنسنے اور پھر آنحضرت ﷺ کی دعا کے بعد نجات پانے کا واقعہ تین بار ہوا یعنی وہ ہر بار آنحضرت ﷺ سے دعا کرا کر نجات پا جاتا اور پھر آپ ﷺ کو پکڑنے کے لئے آگے بڑھنے لگتا، یہاں تک کہ وہ جب تیسری مرتبہ اپنے گھوڑے کے ساتھ زمین میں دھنسا اور اس کی لجاجت پر آنحضرت ﷺ نے اس کے حق میں دعا کر کے اس کو نجات دلوائی تو وہ اپنے برے ارادہ سے باز آگیا اور پھر نہ صرف یہ کہ آنحضرت ﷺ کو پکڑنے کے لئے خود آگے نہیں بڑھا بلکہ واپسی میں اس کو جو شخص بھی آنحضرت ﷺ کے تعاقب میں آتا ہوا ملا اس کو اس نے واپس کردیا اور کسی کو آنحضرت ﷺ تک پہنچنے نہیں دیا۔ اس حدیث سے جہاں آنحضرت ﷺ کے معجزے اور مختلف وجوہ سے حضرت ابوبکر صدیق (رض) کی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے وہیں کئی قیمتی اور مفید باتیں بھی سامنے آتی ہیں ایک تو یہ کہ تابع کو اپنے متبوع کی خدمت میں اپنی پوری کوشش اور صلاحیت صرف کرنی چاہئے، دوسرے یہ کہ سفر میں ایسا برتن ( یعنی چھاگل یا لوٹا وغیرہ) ساتھ رکھنا کہ جو پانی پینے اور طہارت و وضو کے کام آئے نہایت ضروری ہے اور تیسرے یہ کہ بندہ کو ہر حالت میں اپنے اللہ پر اعتماد اور توکل رکھنا چاہئے کہ نتیجہ اور انجام کی بہتری اسی صورت میں حاصل ہوتی ہے۔
5797
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قا ل سمع عبد الله بن سلام بمقدم رسول الله صلى الله عليه و سلم وهو في أرض يخترف فأتى النبي صلى الله عليه و سلم فقال إني سائلك عن ثلاث لا يعلمهن إلا نبي : فما أول أشراط الساعة وما أول طعام أهل الجنة ؟ وما ينزع الولد إلى أبيه أو إلى أمه ؟ قا ل : أخبرني بهن جبريل آنفا أما أول أشراط الساعة فنار تحشر الناس من المشرق إلى المغرب وأما أول طعام يأكله أهل الجنة فزيادة كبد الحوت وإذا سبق ماء الرجل ماء المرأة نزع الولد وإذا سبق ماء المرأة نزعت . قال : أشهد أن لاإله إلا الله وأنك رسول الله يا رسول الله إن اليهود قوم بهت وإنهم إن يعلموا بإسلامي من قبل أن تسألهم يبهتوني فجاءت اليهود فقال : أي رجل عبد الله فيكم ؟ قالوا : خيرنا وابن خيرنا وسيدنا وابن سيدنا فقال : أرأيتم إن أسلم عبد الله بن سلام ؟ قالوا أعاذه الله من ذلك . فخرج عبد الله فقال أشهد أن لا إله إلا الله وأن محمدا رسول الله فقالوا : شرنا وابن شرنا فانتقصوه قال : هذا الذي كنت أخاف يا رسول الله رواه البخاري
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ عبداللہ ابن سلام ایک جگہ درختوں سے پھل چن رہے تھے کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کے ( مکہ سے مدینہ میں) آنے کا حال سنا، وہ فورا نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ میں ( نبوت کی علامتوں کی تصدیق کے لئے) آپ ﷺ سے تین باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں، جن کو نبی کے سوا کوئی نہیں جانتا، ایک تو یہ کہ قیامت کی پہلی علامت کیا ہوگی ؟ دوسرے یہ کہ جنتیوں کا پہلا کھانا کیا ہوگا۔ ( جو وہ جنت میں پہنچ کر سب سے پہلے کھائیں گے) تیسرے یہ کہ وہ کونسی چیز ہے جو اولاد کو ماں یا باپ کے مشابہ کرتی ہے ( یعنی اولاد جو شکل و صورت کے اعتبار سے کبھی باپ کے مشابہ ہوتی ہے اور کبھی ماں کے مشابہ تو اس کا کیا سبب ہے ؟ ) آنحضرت ﷺ نے ( عبداللہ ابن سلام کے یہ تینوں سوال سن کر) فرمایا ابھی ابھی جبرائیل (علیہ السلام) نے ان سوالوں کے جواب سے آگاہ کیا ہے ( اور وہی تمہیں بتاتا ہوں) کہ قیامت کی پہلی علامت تو وہ آگ ہوگی جو لوگوں کو مشرق کی طرف سے مغرب کی طرف جمع کر کے لے جائے گی اور جنتی جنت میں سب سے پہلے جو کھانا کھائیں گے وہ مچھلی کے جگر کا زائد حصہ ہوگا ( یعنی مچھلی کے جگر کا وہ حصہ جو جگر سے علیحدہ لٹکتا ہے اور جو مچھلی کا لذیذ ترین جزء ہوتا ہے) اور جہاں تک اولاد میں ماں باپ کی مشابہت کا سوال ہے تو) اگر مرد کا پانی ( منی) عورت کے پانی پر غالب آجاتا ہے تو مرد اولاد کو اپنی مشابہت کی طرف کھینچ لیتا ہے اور اگر عورت کا پانی ( مرد کے پانی پر) غالب آجاتا ہے تو عورت اولاد کو اپنی مشابہت کی طرف کھینچ لیتی ہے۔ عبداللہ ابن سلام نے ( اپنے سوالوں کے یہ جواب سن کر) کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ) اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور یہ کہ آپ ﷺ یقینًا اللہ کے رسول ہیں ( اس قبول اسلام کے بعد عبداللہ ابن سلام نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! یہ یہودی بڑے افتراش اور بہتان تراش ہیں، اگر آپ ﷺ کے پوچھنے سے پہلے ان کو میرا مسلمان ہونا معلوم ہوگیا تو مجھ پر جھوٹے بہتان باندھیں گے ( یعنی ان کو یہ معلوم ہونے کے بعد کہ میں مسلمان ہوگیا ہوں، آپ ﷺ ان سے میرے بارے میں کچھ پوچھیں گے تو وہ مخالفت پر اترآئیں گے اور مجھ پر بڑے بڑے الزام لگا ڈالیں گے، اس لئے بہتر یہ ہے کہ ان کو میرے اسلام کی خبر ہونے سے پہلے آپ ان سے میرے بارے میں جو پوچھنا چاہیں پوچھ لیں تاکہ وہ میرے متعلق صحیح حالات سے آپ ﷺ کو آگاہ کریں ) ۔ چناچہ اتفًاقا یا آنحضرت ﷺ کے بلانے پر، اسی وقت) کچھ یہودی مجلس نبوی میں آگئے اور عبداللہ ابن سلام ایک گوشہ میں چھپ گئے، آنحضرت ﷺ نے ان یہودیوں سے پوچھا کہ تم میں ( یا تمہارے گمان وعلم میں) عبداللہ ابن سلام کیسے شخص ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا کہ وہ ہم میں سے بہترین آدمی ہیں، ہم میں سے بہترین آدمی کا بیٹا ہے ( یعنی عبداللہ ابن سلام نہ صرف یہ کہ اپنی ذات کے اعتبار سے ہم میں، علمی، اخلاقی اور سماجی حیثیت رکھتے ہیں اور ہمارے سردار ہیں بلکہ حسب ونسب کے اعتبار سے بھی ہم پر ان کو فضیلت حاصل ہے ( آنحضرت ﷺ نے ان کا یہ جواب سن کر) پھر یہ پوچھا کہ اچھا بتلاؤ کہ عبداللہ ابن سلام مسلمان ہوجائیں ( تو کیا تم بھی مسلمان ہوجاؤ گے، یہودیوں نے کہا اللہ اس کو اسلام سے بچائے اور اپنی حفاظت میں رکھے ( یا یہ کہ معاذ اللہ ہم اس کا تصور بھی نہیں کرسکتے) جبھی عبداللہ ابن سلام ان کے سامنے آگئے اور کہا کہ میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا معبود نہیں اور یہ کہ بلاشبہ محمد ﷺ اللہ کے رسول ہیں۔ یہودیوں نے یہ ( سنتے ہی) کہنا شروع کردیا کہ یہ شخص تو ہم میں بہت برا ہے اور بدترین شخص کا بیٹا ہے اور ان میں طرح طرح کے عیب نکالنے لگے۔ عبداللہ ابن سلام نے کہا ( آپ ﷺ نے دیکھا) یا رسول اللہ ﷺ ! یہی وہ بات ہے جس سے میں ڈرتا تھا ( اور اسی وجہ سے میں نے آپ ﷺ سے عرض کیا تھا کہ ان سے میرا حال پہلے پوچھ لیجئے، تاکہ آپ ﷺ کو اندازہ ہوجائے کہ یہ قوم کیسی دوغلی اور جھوٹی ہے۔ ( بخاری)

تشریح
عبداللہ ابن سلام ایک جگہ درختوں کے پھل چن رہے تھے یا تو صورت واقعہ یہی تھی کہ عبداللہ ابن سلام نے اپنے باغ میں درختوں سے پھل اتارنے اور اکٹھا کرنے میں لگے ہوئے تھے کہ کسی نے آکر ان کو بتایا ہوگا کہ نبوت کا دعویٰ اور دین اسلام کی دعوت لے کر محمد ﷺ مدینہ میں آگئے ہیں، یہ سنتے ہی وہ اپنا سارا کام کاج چھوڑ کر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔۔۔ یا یہ کہ عبداللہ ابن سلام آنحضرت ﷺ کی آمد کی خبر سن کر آپ ﷺ کی خدمت میں جس عجلت واشتیاق کے ساتھ حاضر ہوئے اس کو ان الفاظ کے ذریعہ مبالغہ کے طور بیان کیا گیا ہے مطلب یہ کہ عبداللہ ابن سلام اگر چاہتے تو اپنا کام کاج نمٹانے کے بعد فرصت کے وقت اور اطمینان سے آنحضرت ﷺ کی خدمت میں آتے، لیکن انہوں نے چونکہ تورات میں آنحضرت ﷺ کی صفات و خصوصیات کو پڑھ رکھا تھا اور نبی آخرالزمان ﷺ کے ظہور کے شدت سے منتظر تھے اس لئے جوں ہی ان کو آنحضرت ﷺ کی آمد کی خبر ملی وہ ذرا بھی توقف کئے بغیر خدمت اقدس میں پہنچ گئے۔ مدتے برد کہ مشتاق نقایت بودم لاجز روئے ترا دیدار واز جارفتم عبداللہ ابن سلام کا سلسلہ نسب حضرت یوسف (علیہ السلام) سے ملتا ہے، یہود مدینہ کے سرداروں میں سے تھے، بڑے عقل مند وعالم، دانشور اور تورات پر زبردست عبور رکھتے تھے، آنحضرت ﷺ ، مکہ سے ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے تو یہ اس تشریف آوری کا علم ہوتے ہی آنحضرت ﷺ کی خدخت میں حاضر ہوئے اور ایمان واسلام کی دولت سے سرفراز ہو کر نہایت اونچے درجہ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں شمار ہوئے۔ (رض) ۔ جن کو نبی ﷺ کے علاوہ کوئی نہیں جانتا۔ اس سے عبداللہ ابن سلام کی یہ مراد تھی کہ میں جو تین چیزیں پوچھ رہا ہوں ان کے بارے میں صحیح بات جاننا اور بتانا صرف نبی کے بس میں ہے۔ نبی کے علاوہ وہی شخص جان سکتا ہے جس کو یا تو نبی نے بتایا ہو یا اس نے اللہ کی کتاب سے معلوم کیا ہو۔ یہ بیان مراد اس لئے ضروری ہے کہ خود عبداللہ ابن سلام بھی تو ان چیزوں کے بارے میں اجمالی وتفصیلی طور پر جانتے تھے اور ان کو یہ علم تورات سے حاصل ہوا تھا اور ان سوالات سے ان کا اصل مقصد آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی تصدیق حاصل کرنا تھا، ان تینوں چیزوں کے جوابات گویا ان کے حق میں آنحضرت ﷺ کا معجزہ ثابت ہوئے اور ان کو آنحضرت ﷺ کی رسالت ونبوت کا علم یقین حاصل ہوا اور غالبًا اسی مناسبت سے اس حدیث کو یہاں معجزات کے باب میں نقل کیا گیا ہے۔ ابھی ابھی جبرائیل (علیہ السلام) نے مجھے ان سوالوں کے جواب سے آگا کیا ہے۔ اپنے سوالات کے جواب سن کر عبداللہ ابن سلام کو یہ وہم اور شبہ ہوسکتا تھا کہ انہوں نے ( یعنی آنحضرت ﷺ نے) شاید یہ کسی اہل کتاب ( تورات جاننے والے) سے پہلے ہی یہ باتیں سن رکھی ہوں گی۔ اور اسی بنیاد پر میرے سوالات کے جواب دئیے۔ لہٰذا آنحضرت ﷺ نے اس وہم اور شبہ کی راہ پہلے ہی روک دینے کے لئے واضح فرمایا کہ یہ جواب جو میں تمہارے سامنے بیان کر رہا ہوں اللہ کی طرف سے جبرائیل (علیہم السلام) نے مجھ تک پہنچائے ہیں، نیز ان الفاظ سے آپ ﷺ کا مقصد عبداللہ ابن سلام کو متنبہ فرمانا بھی تھا کہ گوش ہوش سے اپنے سوالات کے جواب سنو، علاوہ ازیں ان کو وجود وحی اور نزول جبرائیل سے (علیہ السلام) کو آگاہ کرنا بھی مقصود تھا۔ اذا سبق ماء الرجل الخ میں سبق کے معنی ملا علی قاری (رح) نے علا اور غلب لکھے ہیں اور ترجمہ میں اسی معنی کی رعایت ملحوظ رکھی گئی ہے۔ اور شیخ عبد الحق محدث دہلوی (رح) نے اس کے معنی پیش میشود یعنی رحم میں پہلے پہنچنا لکھے ہیں مطلب یہ ہے کہ مرد اور عورت میں جس کا پانی عورت کے رحم میں پہلے پڑتا ہے اس کی شکل وشباہت کی چھاپ اولاد پر پڑتی ہے، شیخ عبد الحق محدث دہلوی (رح) نے بعد میں یہ بھی لکھا ہے کہ اس حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ اولاد کے ماں باپ کے مشابہ ہونے کا سبب ان دونوں میں سے ایک کے پانی کا سبقت کرنا ہے جب کہ ایک اور حدیث میں جو باب الغسل میں نقل ہوئی ہے مشابہت کا سبب غلبہ اور سبقت دونوں کو بتایا گیا ہے۔ اس اعتبار سے سبق کے معنی غلبہ اور سبقت دونوں کے ہوسکتے ہیں ؟
5798
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قا ل : إن رسول الله صلى الله عليه و سلم شاور حين بلغنا إقبال أبي سفيان وقام سعد بن عبادة فقال : يا رسول الله والذي نفسي بيده لو أمرتنا أن نخيضها البحر لأخضناها ولو أمرتنا أن نضرب أكبادها إلى برك الغماد لفعلنا . قال : فندب رسول الله صلى الله عليه و سلم الناس فانطلقوا حتى نزلوا بدرا فقال رسول الله صلى الله عليه و سلم : هذا مصرع فلان ويضع يده على الأرض ههنا وههنا قا ل : فما ماط أحدهم عن موضع يد رسول الله صلى الله عليه و سلم . رواه مسلم
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے اس وقت جب کہ ہمیں ابوسفیان کے آنے کی خبر ملی، ( مدینہ والوں سے) صلاح مشورہ کیا تو سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ! اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضہ میں میری جان ہے اگر آپ ﷺ ہمیں اپنی سواری کے جانوروں کو سمندر میں ڈال دینے کا حکم دیں تو بلاشبہ ہم ایسا ہی کریں گے ( یعنی روئے زمین پر موقوف نہیں اگر آپ ﷺ کا حکم ہوگا تو ہم دشمن تک پہنچنے اور اس کا قلع قمع کرنے کے لئے سمندر میں اپنے گھوڑے دوڑا دیں گے) اور اگر آپ ﷺ کا حکم ہو کہ ہم اپنے اونٹوں اور گھوڑوں کے جگر کو برک غماد تک ماریں تو ہم بیشک ایسا ہی کریں گے۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ اس کے بعد رسول کریم ﷺ نے تمام لوگوں یعنی مہاجرین و انصار کو ( جنگ کے لئے) جوش و خروش سے بھر دیا اور تیار کیا اور سب لوگ روانہ ہوگئے یہاں تک کہ جب بدر کے مقام پر پہنچے ( معرکہ آرائی کے لئے اس جگہ کو منتخب کیا گیا) تو رسول کریم ﷺ نے ( مجاہدین اسلام کو مخاطب کر کے) فرمایا ( دیکھو) یہ جگہ فلاں شخص کے ہلاک ہونے اور اس کی نعش گرنے کی ہے ( اور اس جگہ فلاں شخص قتل ہو کر گرے گا) اس طرح آپ ﷺ مکہ کے کفار واشقیاء کے نام لیتے جاتے تھے اور زمین پر ( ایک ایک جگہ) ہاتھ رکھتے ( اور کہتے جاتے تھے کہ) فلاں شخص یہاں مر کر گرے گا اور فلاں شخص کی لاش یہاں گرے گی۔ حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ آپ ﷺ نے جہاں جہاں ہاتھ رکھ دیا تھا وہاں سے ایک شخص بھی متجاوز نہیں ہوا۔ ( مسلم)

تشریح
جب کہ ہمیں ابوسفیان کے آنے کی خبر ملی۔ یہ غزوہ بدر کی ابتدائی مرحلہ کا ذکر ہے کہ مکہ کا ایک سردار ابوسفیان اپنے تجارتی قافلہ کے ہمراہ ملک شام سے مکہ واپس آرہا تھا، قافلہ میں آدمی تو صرف چالیس سوار تھے لیکن مال اسباب بہت زیادہ تھا، جب مدینہ میں مسلمانوں کو ابوسفیان کے اس تجارتی قافلہ کے بارے میں معلوم ہوا تو انہوں نے اہل مکہ پر بھر پور اقتصادی ومالی ضرب لگانے کے لئے اس موقع کو غنیمت جانا، ان کا خیال تھا کہ قافلہ کے چالیس سواروں کو زیر کر کے ان تمام مال و اسباب پر قبضہ کرلیا جائے گا، لیکن اول تو خود ابوسفیان کو مسلمانوں کے حملہ کی اطلاع مل گئی اور اس نے عام راستہ چھوڑ کر ساحلی راستہ اختیار کرلیا جس سے مسلمانوں کی زد سے وہ محفوظ ہوگیا دوسرے یہ خبر مکہ بھی پہنچ گئی اور اہل مکہ نے مسلمانوں سے فیصلہ کن جنگ کرنے کا ارادہ کرلیا، چناچہ ابوجہل نے کعبہ کی چھٹ پر چڑھ کر اہل مکہ کو مسلمانوں کے خلاف للکارا اور انہیں نہایت مشتعل کر کے جنگ پر آمادہ کیا ! جب پوری تیار ہوگئی تو ابوجہل زبر دست حربی طاقت کے ساتھ مکہ سے روانہ ہوا، راستہ میں کچھ لوگوں نے اس کو سمجھایا بھی کہ جب ہمارا قافلہ ساحلی علاقہ پر لگ گیا ہے اور مسلمانوں کی زد سے محفوظ واپس آرہا ہے تو اب مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے جانے میں کوئی عقلمندی نہیں ہے، بہتر یہ ہے کہ ہم لوگ مکہ لوٹ جائیں لیکن ابوجہل کے تو زوال کا وقت آگیا تھا، اس نے لوگوں کا یہ مشورہ ماننے سے انکار کردیا اور بدر پہنچ گیا۔ اسی موقع پر حضرت جبرائیل (علیہ السلام) نازل ہوئے اور آنحضرت ﷺ کو خبر دی کہ اللہ تعالیٰ نے دونوں صورتوں میں سے ایک صورت کا وعدہ کیا ہے، چاہے قافلہ کو زیر کر کے مال حاصل کرلو اور چاہے ( جنگ کر کے) دشمنوں پر فتح حاصل کرلو۔ چناچہ آنحضرت ﷺ نے مہاجر و انصار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو جمع کر کے مشورہ فرمایا کہ ابوسفیان تو ساحلی راستہ اختیار کر کے ہماری زد سے بچ گیا ہے اور اب جب کہ ابوجہل ہمیں نیست ونابود کردینے کا عزم لے کر زبردست فوجی طاقت کے ساتھ ہمارے مقابلہ پر نقل کھڑا ہوا ہے تو ہمیں کیا رویہ اور طریقہ کار اختیار کرنا چاہئے ! آنحضرت ﷺ کا یہ مشورہ طلب کرنا دراصل انصار مدینہ کو آزمانا اور ان کا رد عمل جاننا تھا، کیونکہ آنحضرت ﷺ نے ابتداء میں ان سے جو بیعت لی تھی اس میں یہ بات شامل نہیں تھی کہ وہ ( انصار) جہاد کے لئے آنحضرت ﷺ کے ساتھ نکلیں گے اور دشمن کے مقابلہ پر مسلمانوں کی اقدامی کا روائی میں جانی ومالی مدد دیں گے، ان سے صرف اس بات پر بیعت لی گئی تھی کہ وہ ان لوگوں سے، آنحضرت ﷺ کی حفاظت کریں گے جو آپ پر حملہ آور ہوں گے، اس وقت یہ صورت حال تھی کہ کوئی دشمن آنحضرت ﷺ اور مسلمانوں پر حملہ آور نہیں ہو رہا تھا بلکہ خود مسلمانوں سے جنگ کی طرف سے ابوسفیان کے تجارتی قافلہ پر حملہ کرنے کا منصوبہ بنایا گیا تھا اور اس کے شاخسانہ کے طور پر اہل مکہ مسلمانوں سے جنگ کرنے نکل کھڑے ہوئے تھے، لہٰذا آنحضرت ﷺ نے ضروری جانا کہ انصار سے مشورہ کر کے ان کا رد عمل جان لیا جائے کہ آیا وہ اس کار روائی میں ہماری مدد کرتے ہیں یا نہیں۔ آنحضرت ﷺ کو انصار کی طرف سے نہایت حوصلہ افزا جواب ملا انہوں نے نہ صرف اس موقع پر تن من، دھن سے جان نثاری کا ثبوت دیا بلکہ بعد میں بھی جب کوئی ایسا موقع آیا انہوں نے پوری یگانگت اور موافقت کے ساتھ خود کو آنحضرت ﷺ اور مہاجرین کے دوش بدوش رکھا۔ آنحضرت ﷺ کے اس مشورہ طلب کرنے میں امت کے لئے بھی تلقین و ترغیب ہے کہ اپنے مسائل و معاملات میں اصحاب عقل و دانش اور اپنے رفقاء ومعاونین سے مشورہ کرنا حسن مآل تک پہنچنے کا بابرکت ذریعہ ہے۔ سعد ابن عبادہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا۔۔۔ جیسا کہ اوپر مذکور ہوا مشورہ طلب کرنے سے آنحضرت ﷺ کا اصل مقصد چونکہ انصار کا ردعمل جاننا تھا اس لئے آنحضرت ﷺ کے ارشاد پر حضرت سعد ابن عبادہ جواب دینے کے لئے کھڑے ہوئے جو انصار کے ایک سردار تھے انہوں نے آنحضرت ﷺ کو جواب دیا اس کا مطلب یہ تھا کہ ہم کسی بھی حالت میں آپ کی مدد کرنے سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں، یہ تو بہت نزدیک کے دشمن کے مقابلہ پر جانے کی بات ہے اگر ہمیں دور دراز علاقوں میں جانے کا حکم دیں تو چاہے ہمیں زمین پر سفر کرنا پڑے چاہے سمندر میں اتر کر جانا پڑے ہم آپ ﷺ کے دشمنوں کا مقابلہ کریں گے۔ برک غماد ایک مقام کا نام تھا جو مدینہ سے بہت دور یمن میں واقع تھا، یا ہجر کے پر لے کنارہ پر اور یا اس کی آبادیوں کے بالکل آخری کنارہ پر تھا۔۔۔ اونٹوں یا گھوڑوں کے جگر کو مارنا، سورای کے جانور کو نہایت تیز ہانکنے سے کنایہ ہے۔ اور اس میں لفظی مناسبت یہ ہے کہ جب کوئی شخص مثلا گھوڑے پر سوار ہوتا ہے اور گھوڑا تیز بھاگتا ہے تو سوار کے پیر اس گھوڑے کے جسم کے اس حصہ پر زور زور سے لگتے جاتے ہیں جہاں جگر ہوتا ہے اس جملہ کا مطلب یہی تھا کہ اگر آپ ہمیں اپنی سواریوں کو تیز بھگا کر برک غماد تک جو یہاں سے بہت دور واقع ہے، دشمن کے مقابلہ پر پہنچنے کا حکم دیں تو ہم آپ ﷺ کے حکم کی تعمیل میں یہاں سے فورًا روانہ ہوجائیں گے اور کہیں رکے بغیر نہایت تیز رفتاری سے برک غماد پہنچ کر ہی دم لیں گے۔ حدیث کے آخر میں آنحضرت ﷺ کے ایک بڑے معجزہ کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے بدر کے مقام پر پہنچ کر جنگ شروع ہونے سے بھی پہلے ستر کافروں کی لاشیں گرنے کی جگہوں کے بارے میں بتادیا تھا، آپ ﷺ نے ان سب کے نام لے لے کر اور ایک ایک جگہ ہاتھ رکھ کر اپنے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو آگاہ فرمایا تھا کہ ان میں سے فلاں شخص اس جگہ مقتول ہو کر گرے گا اور فلاں شخص کی لاش یہاں گرے گی۔ چناچہ ایسا ہی ہوا کہ جب جنگ شروع ہوئی اور مجاہدین اسلام نے کافروں کو قتل کرنا شروع کیا آپ ﷺ نے جس کافر کے لئے جس جگہ کا اشارہ فرما دیا وہ اسی جگہ مارا گیا اور اس کی لاش وہاں سے ذرا بھی ادھر ادھر نہیں گری۔
5799
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس أن النبي صلى الله عليه و سلم قال وهو في قبة يوم بدر : اللهم أنشدك عهدك ووعدك اللهم إن تشأ لا تعبد بعد اليوم فأخذ أبو بكر بيده فقال حسبك يا رسول الله ألححت على ربك فخرج وهو يثب في الدرع وهو يقول : [ سيهزم الجمع ويولون الدبر ] . رواه البخاري
اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ جنگ بدر کے دن ایک خیمہ میں یہ دعا مانگ رہے تھے۔ اے اللہ ! میں تجھ سے تیری امان مانگتا ہوں اور تیرے وعدہ کا ایفاء چاہتا ہوں اے اللہ ! اگر تو یہی چاہتا ہے ( کہ یہاں دشمنوں کے مقابلہ پر مسلمان ہلاک ہوجائیں) تو (روئے زمین پر کوئی مسلمان باقی نہیں رہے گا اور) آج کے بعد تیری عبادت نہیں ہوگی جب آپ ﷺ گڑ گڑا کر یہ دعا مانگتے ہی رہے تو حضرت ابوبکر (رض) نے آپ ﷺ کا ہاتھ پکڑ لیا اور کہا یا رسول اللہ ! بس کیجئے اتنا ہی دعا مانگنا بہت کافی ہے، آپ ﷺ نے بہت الحاح وزاری کے ساتھ اپنے پروردگار سے فتح ونصرت کی التجا کی ہے۔ اس کے بعد آنحضرت ﷺ زرہ پہنے ہوئے تھے ( فرط مسرت سے) بڑی تیزی کے ساتھ اپنے خیمہ سے باہر آئے اور یہ آیت ( جو اس وقت نازل ہوئی تھی) آپ ﷺ ( بآواز بلند) پڑھ رہے تھے۔ (سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّوْنَ الدُّبُرَ ) 54 ۔ القمر 45) ( کفار کی) یہ جماعت شکست کھائے گی اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگیں گے۔ اس روایت کو بخاری نے نقل کیا ہے۔

تشریح
تیرے وعدہ کا ایفاء چاہتا ہوں یہ آپ نے اس آیت (وَاِذْ يَعِدُكُمُ اللّٰهُ اِحْدَى الطَّا ى ِفَتَيْنِ اَنَّهَا لَكُمْ ) 8 ۔ الانفال 7) اور جب اللہ تعالیٰ تم سے ان دو جماعتوں میں سے ایک کا وعدہ کرتے تھے کہ وہ تمہارے ہاتھ آجائے گی) کی طرف اشارہ کیا جس میں حق تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ اگر مسلمان کفار مکہ سے جنگ کو اختیار کریں گے تو انہیں اس جنگ میں فتح عطا کی جائے گی۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آنحضرت ﷺ تو عارف باللہ تھے اور خوب جانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ جو وعدہ فرما لیتے ہیں اس کے خلاف نہیں ہوتا اور جب اللہ نے فتح کا وعدہ فرما لیا تھا تو وہ حاصل ہونی ہی تھی ایسی صورت میں آپ ﷺ نے دعا کیوں کی ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اول تو اس دعا سے آپ کا مقصد اس حکم کی تعمیل تھا کہ بندہ کو ہر حال میں اللہ تعالیٰ سے مدد و توفیق اور حصول مقصد کی دعا والتجا کرنی چاہئے خواہ اس مقصد کے حصول کا یقینی ہونا اس کو معلوم ہو یا نہ ہو، دوسرے یہ کہ علم باللہ بجائے خود حق تعالیٰ سے خوف، کا متقاضی ہونا ہے اور انبیاء (علیہم السلام) اس خوف سے خالی نہیں ہوتے لہٰذا ہوسکتا ہے کہ آنحضرت ﷺ نے محض اس خوف کے پیش نظر دعا کی ہو کہ اگرچہ اللہ تعالیٰ نے فتح ونصرت کا وعدہ فرمایا ہے، لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ خود میری طرف سے کوئی ایسی چیز پیش آئے جو فتح ونصرت کی راہ کی رکاوٹ بن جائے اور حق تعالیٰ کی طرف سے وہ موعودہ فتح ونصرت رد کردی جائے۔ نیز یہ بھی احتمال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ سے نصرت کا وعدہ بیشک فرمایا تھا لیکن عطائے نصرت کا کوئی وقت متعین نہیں کیا تھا اور آنحضرت ﷺ تاخیر سے ڈرتے تھے اس لئے آپ ﷺ نے دعا مانگی کہ وہ وعدہ آج ہی پورا ہوجائے۔ اس سلسلہ میں یہ بات بھی ذہن میں رہنی چاہئے کہ شاید اس موقع پر آنحضرت ﷺ کا ذہن اس آیت (اِنْ يَّشَاْ يُذْهِبْكُمْ وَيَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِيْدٍ ) 35 ۔ فاطر 16) اور اس آیت ( اِنَّ اللّٰهَ لَغَنِيٌّ عَنِ الْعٰلَمِيْنَ ) 29 ۔ العنکبوت 6) کے مفہوم کی طرف متوجہ ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی کامل بےپرواہی اور بےنیازی پر دلالت کرتا ہے، چناچہ آپ ﷺ نے ان آیتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے حق تعالیٰ سے مدد ونصرت کی دعا فرمائی۔ اسی بات کو امام غزالی نے بھی لکھا ہے کہ آنحضرت ﷺ کا احساس و ادراک نہایت کامل تھا اور حق تعالیٰ کی شان بےنیازی اور اس کے سطوت و جلال کے تئیں آپ ﷺ کا عمل وعرفان وسیع تر تھا اس لئے آپ ﷺ نے حق تعالیٰ کے وعدہ نصرت کے باوجود فتح کی دعا نہایت منت وسماجت کے ساتھ فرمائی جب کہ حضرت ابوبکر صدیق کی نظر محض حق تعالیٰ کے ظاہری وعدہ پر تھی اس لئے انہوں نے زیادہ دعا کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ کے کے وعدہ پر پوار بھروسہ اور اعتماد رکھنے کے باوجود آنحضرت ﷺ کا دعا کرنا اور اس دعا میں الحاح وزاری اختیار کرنا ایک خاص مقصد بھی رکھتا ہے اور وہ تھا صحابہ اور مجاہدین اسلام کے دل کو تقویت دینا، ان کو ثابت قدم رکھنا اور ان میں ولولہ اور حوصلہ پیدا کرنا کیونکہ صحابہ جانتے تھے کہ آنحضرت ﷺ کی دعا یقینی طور پر مستجاب ہے۔ خصوصا وہ دعا جو زیادہ سے زیادہ الحاح اور زاری سے ہو۔ فرط مسرت سے بڑی تیزی کے ساتھ اپنے خیمہ سے باہر آئے۔۔ الخ۔۔ پہلے تو آنحضرت ﷺ خوف ورجاء کے درمیان تھے، لیکن جب اللہ تعالیٰ کا یہ حتمی وعدہ نازل ہوا کہ دشمنوں کو شکست ہوگی اور وہ پیٹھ پھیر کر بھاگ کھڑے ہوں گے تو رجاء ( امید) کا پہلو غالب آگیا اور آپ کفار کے مقابلہ پر فتح کے احساس سے خوش ہوگئے، اسلامی مجاہدین کو کفار کی شکست اور مسلمانوں کی فتح کی خوش خبری دینے کے لئے آپ مذکورہ آیت باواز بلند پڑھتے ہوئے خیمہ سے باہر تشریف لائے اور یہ ایک معجزہ تھا کہ دشمنوں کے مقابلہ پر مسلمانوں کی فتح کی بات جو اس وقت تک اللہ کے علاوہ اور کسی کے علم میں نہیں تھی، آپ نے اللہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت و اطلاع پاکر لوگوں کو بتادی۔
5800
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه أن النبي صلى الله عليه و سلم قال يوم بدر : هذا جبريل آخذ برأس فرسه عليه أداة الحرب . رواه البخاري
اور حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے جنگ بدر کے دن فرمایا یہ جبرائیل (علیہ السلام) ہیں جو اپنے گھوڑے کا سر ( یعنی باگ) پکڑے ہوئے ( لڑنے کے لئے مستعد کھڑے) ہیں اور جنگ کا سامان لئے ہوئے ہیں۔ ( بخاری)

تشریح
اس حدیث میں آنحضرت ﷺ کے اس معجزہ کا ذکر ہے کہ آپ ﷺ نے جنگ بدر میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے کفار کو شکست دلانے اور مسلمانوں کو فتح سے ہم کنار کرانے کے لئے آسمان سے اترے تھے۔ واضح رہے کہ بدر دراصل ایک کنویں کا نام ہے جو مکہ اور مدینہ کے درمیان مدینہ سے چار منزل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ کفار مکہ اور اہل اسلام کے درمیان ہونے والی یہ پہلی باقاعدہ جنگ، جو ١٧، رمضان سن ٢ ھ جمعہ کے دن ہوئی۔ اس کنویں کے پاس ایک میدان میں ہوئی تھی اس لئے اس کو جنگ بدر یا غزوہ بدر کہا جاتا ہے۔
5801
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه قا ل : بينما رجل من المسلمين يومئذ يشتد في إثر رجل من المشركين أمامه إذ سمع ضربة بالسوط فوقه وصوت الفارس يقول : أقدم حيزوم . إذ نظر إلى المشرك أمامه خر مستلقيا فنظر إليه فإذا هو قد خطم أنفه وشق وجهه كضربة السوط فاخضر ذلك أجمع فجاء الأنصاري فحدث رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : صدقت ذلك من مدد السماء الثالثة فقتلوا يومئذ سبعين وأسروا سبعين . رواه مسلم
اور حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اس دن ( یعنی جنگ بدر کے دن) جب کہ ایک مسلمان ایک مشرک کا تعاقب کر رہا تھا آگے بھاگا جارہا تھا، تو اچانک اس ( مسلمان) نے مشرک پر پڑتے ہوئے چابک کی آواز سنی، پھر اس نے ایک سوار کی آواز سنی جو یہ کہہ رہا تھا حیزوم اقدام کر۔۔۔ پھر اس مسلمان کی نظر اپنے آگے بھاگتے ہوئے مشرک کی طرف گئی تو دیکھا کہ وہ زمین پر چت پڑا ہوا ہے، اس نے یہ بھی دیکھا کہ اس مشرک کی ناک پر نشان پڑا ہوا تھا اور اس کا منہ پھٹا ہوا تھا جو چابک کی مار کی علامت تھی اور وہ تمام جگہ جہاں چابک پڑا تھا سبز و سیاہ ہوگئی تھی ( یعنی) جس طرح کوئی جگہ چوٹ کھا کر نیلی ہوجاتی ہے اسی طرح اس کی ناک کا وہ حصہ جس پڑ چابک کا وہ نشان نظر آرہا تھا، نیلا پڑگیا تھا۔ چناچہ وہ انصاری مسلمان ( جس نے اس مذکورہ مشرک کو مذکورہ حال میں دیکھا تھا) آنحضرت ﷺ کے پاس جب آیا تو آپ ﷺ سے (یہ سارا واقعہ) بیان کیا، آپ ﷺ نے ( پورا واقعہ سن کر فرمایا کہ تم سچ کہتے ہو، وہ فرشتہ ( جس نے اس مشرک کو چابک مار کر ہلاک کیا) تیسرے آسمان کی فوجی کمک کا فرشتہ تھا اس دن کی جنگ میں) مسلمانوں نے ستر کافروں کو قتل کیا اور ستر کو گرفتار کرلیا تھا۔ ( مسلم)

تشریح
خیزوم اقدام کرنا یہ اقدام حیزوم کا ترجمہ کیا گیا ہے، اصل میں اقدام کے معنی ہیں ! جنگ میں دشمن کا للکارنا اور خوفزدہ کرنا اور جرأت وبہادری دکھانا ! لیکن یہ معنی اس صورت میں مراد لئے جاتے ہیں جب لفظ اقدم۔ ا کے زبر، ق کے جزم اور د کے زیر کے ساتھ ہو اور اگر یہ لفاظ ا اور د کے پیش کے ساتھ ہو تو پھر اس کے معنی آگے بڑھنے کے ہوں گے، اس صورت میں اقدام حیزوم کا ترجمہ یہ ہوگا کہ حیزوم ! آگے بڑھ کر۔۔۔ حیزوم حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے گھوڑے کا نام ہے جیسا کہ قاموس میں ذکر کیا گیا ہے، لیکن بعض حضرات نے کہا ہے کہ یہ ایک اور فرشتہ کے گھوڑے کا نام ہے۔ جنگ بدر میں مسلمانوں کو جو غیب سے آسمانی مدد حاصل ہوئی اور اس مدد سے تعلق رکھنے والے ایک فرشتہ کی کاروائی ایک صحابی پر مذکورہ بالا صورت میں جو کشف و اظہار ہو اوہ دراصل ان صحابی کی کرامت ہے۔ اور تابع یعنی صحابی سے ظاہر ہونے والی کرامت چونکہ اس کے متبوع یعنی نبی کریم ﷺ کے معجزہ ہی کی ایک صورت ہوتی ہے خاصل طور سے ایسی حالت میں جب کہ وہ کرامت نبی کریم ﷺ کی موجودگی میں ظاہر ہوئی ہو، اس کی مناسبت سے اس حدیث کا معجزات کے باب میں نقل کیا جانا غیرموزوں نہیں ہے۔۔۔ یا یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس حدیث میں جس واقعہ کا ذکر ہے اس کی خبر صحابی ثقہ نے دی اور صادق ومصدوق، ﷺ نے اس کی تصدیق کی اور یہ تصدیق صرف آپ کا کام تھا، جس کا علم اعجاز رسالت سے ہے، لہٰذا اس واقعہ کو آنحضرت ﷺ کے معجزات میں شمار کرنا بھی صحیح ہے۔