Mishkaat Shareef
69. جن چیزوں سے محرم کو بچناچاہئے ان کا بیان
مشكاة المصابيح
2722
Mishkaat Shareefجیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے احرام باندھ لینے کے بعد کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جو محرم پر حرام ہوجاتی ہے اور ان چیزوں سے اجتناب محرم کے لئے ضروری ہوتا ہے، پھر ان میں بعض چیزیں ایسی ہیں جن کے ارتکاب سے دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب نہیں ہوتا۔ چناچہ اس باب میں ان چیزوں کا ذکر ہوگا جن سے محرم کو بچنا چاہئے اور ضمنا وہ چیزیں بھی ذکر ہوں گی جو محرم کے لئے مباح ہیں۔ اس موقع پر اتنی بات جان لیجئے کہ جن ممنوع چیزوں کے ارتکاب سے صدقہ واجب ہوتا ہے ان میں بعض چیزیں تو ایسی ہیں جن کی وجہ سے بطور صدقہ نصف صاع (یعنی ایک کلو ٦٣٣ گرام) گیہوں یا ایک صاع (یعنی تین کلو ٢٦٦ گرام) جو دینا بھی واجب ہوتا ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں صدقہ کی مقدار اس سے بھی کم ہے اور بعض چیزیں ایسی ہیں جن میں کوئی بھی غیر متعین چیز تھوڑی سی صدقہ کردینا واجب ہوتا ہے۔
2723
Mishkaat Shareefعن عبد الله بن عمر : أن رجلا سأل رسول الله صلى الله عليه و سلم : ما يلبس من الثياب ؟ فقال : لا تلبسوا القمص ولا العمائم ولا السراويلات ولا البرانس ولا الخفاف إلا أحد لا يجد نعلين فيلبس خفين وليقطعهما أسفل الكعبين ولا تلبسوا من الثياب شيئا مسه زعفران ولا ورس . متفق عليه وزاد البخاري في رواية : ولا تنتقب المرأة المحرمة ولا تلبس القفازين
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص نے رسول کریم ﷺ سے پوچھا کہ محرم کپڑوں میں سے کیا چیزیں پہن سکتا ہے اور کیا چیزیں نہیں پہن سکتا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ نہ تو قمیص و کرتہ پہنو، نہ عمامہ باندھو، نہ پاجامہ پہنو، نہ برنس اوڑھو اور نہ موزے پہنو، ہاں جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں وہ موزے پہن سکتا ہے مگر اس طرح کہ موزہ دونوں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے، نیز کوئی ایسا کپڑا نہ پہنو جس پر زعفران یا ورس لگی ہو۔ (بخاری ومسلم) بخاری نے ایک روایت میں یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں کہ محرم عورت نقاب نہ ڈالے اور اور نہ دستانے پہنے۔
تشریح
قمیص و کرتہ اور پاجامہ پننے سے مراد ان کو اس طرح پہننا ہے جس طرح کہ عام طور پر یہ چیزیں پہنی جاتی ہیں جیسے قمیص و کرتہ کو گلے میں ڈال کر پہنتے ہیں یا پاجامہ ٹانگوں میں ڈال کر پہنا جاتا ہے، چناچہ احرام کی حالت میں ان چیزوں کو اس طرح پہننا ممنوع ہے۔ ہاں اگر کوئی محرم ان چیزوں کو مروج طریقہ پر پہننے کی بجائے بدن پر چادر کی طرح ڈالے تو یہ ممنوع نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس نے قمیص و کرتہ پہنا ہے یا پاجامہ پہنا ہے۔ برنس اس لمبی ٹوپی کو کہتے ہیں جو عرب میں اوڑھی جاتی تھی اور برنس وہ لباس بھی ہوتا ہے جس کا کچھ حصہ ٹوپی کی جگہ کام دیتا ہے جیسے برساتی وغیرہ۔ چناچہ نہ برنس اوڑھو، سے مراد یہ ہے کہ ایسی کوئی چیز نہ اوڑھو جو سر کو ڈھانپ لے خواہ وہ ٹوپی ہو یا برساتی اور خواہ کوئی اور چیز۔ ہاں جو چیز ایسی ہو جس پر عرف عام میں پہننے یا اوڑھنے کا اطلاق نہ ہوتا ہو مثلاً سر پر کو نڈا یا گھڑا وغیرہ رکھ لینا یا سر پر گٹھر اٹھا لینا تو اس صورت میں کوئی مضائقہ نہیں۔ وہ موزہ دونوں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے میں یہاں ٹخنے سے مراد حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک وہ ہڈی ہے جو پیر کی پشت پر بیچ میں ہوتی ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے ہاں وہی متعارف ٹخنہ مراد ہے جس کو وضو میں دھونا فرض ہے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں اور وہ موزے پہن لے تو آیا اس پر فدیہ واجب ہوتا ہے یا نہیں ؟ چناچہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی تو یہ کہتے ہیں کہ اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر فدیہ واجب ہوتا ہے۔ جس طرح یہ مسئلہ ہے کہ اگر احرام کی حالت میں کسی کو سر منڈانے کی احتیاج و ضرورت لاحق ہوجائے تو وہ سر منڈا لے اور فدیہ ادا کرے۔ ورس ایک قسم کی گھاس کا نام ہے جو زرد رنگت کی اور زعفران کے مشابہ ہوتی ہے۔ اس گھاس سے رنگائی کا کام لیا جاتا ہے۔ زعفران اور اس کے رنگ آلود کپڑوں کو پہننے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ ان میں خوشبو ہوتی ہے۔ محرم عورت نقاب نہ ڈالے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے منہ کو برقع اور نقاب سے نہ ڈھانکے ہاں اگر وہ پردہ کی خاطر کسی ایسی چیز سے اپنے منہ کو چھپائے جو منہ سے الگ رہے تو جائز ہے، اسی طرح حنفیہ کے ہاں مرد کو بھی عورت کی طرح احرام کی حالت میں منہ ڈھانکنا حرام ہے، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا مسلک بھی ایک روایت کے مطابق یہی ہے جب کہ امام شافعی کا مسلک اس کے برخلاف ہے۔ ہودج میں بیٹھنا ممنوع ہے بشرطیکہ سر ہودج میں لگتا ہو، اگر سر ہودج میں نہ لگتا ہو تو پھر اس میں بیٹھنا ممنوع نہیں ہے، اسی طرح اگر کعبہ کا پردہ یا خیمہ سر میں لگتا ہو تو ان کے نیچے کھڑا ہونا ممنوع ہے اور اگر سر میں نہ لگتا ہو تو ممنوع نہیں ہے۔
تشریح
قمیص و کرتہ اور پاجامہ پننے سے مراد ان کو اس طرح پہننا ہے جس طرح کہ عام طور پر یہ چیزیں پہنی جاتی ہیں جیسے قمیص و کرتہ کو گلے میں ڈال کر پہنتے ہیں یا پاجامہ ٹانگوں میں ڈال کر پہنا جاتا ہے، چناچہ احرام کی حالت میں ان چیزوں کو اس طرح پہننا ممنوع ہے۔ ہاں اگر کوئی محرم ان چیزوں کو مروج طریقہ پر پہننے کی بجائے بدن پر چادر کی طرح ڈالے تو یہ ممنوع نہیں کیونکہ اس صورت میں یہ نہیں کہا جاسکتا ہے کہ اس نے قمیص و کرتہ پہنا ہے یا پاجامہ پہنا ہے۔ برنس اس لمبی ٹوپی کو کہتے ہیں جو عرب میں اوڑھی جاتی تھی اور برنس وہ لباس بھی ہوتا ہے جس کا کچھ حصہ ٹوپی کی جگہ کام دیتا ہے جیسے برساتی وغیرہ۔ چناچہ نہ برنس اوڑھو، سے مراد یہ ہے کہ ایسی کوئی چیز نہ اوڑھو جو سر کو ڈھانپ لے خواہ وہ ٹوپی ہو یا برساتی اور خواہ کوئی اور چیز۔ ہاں جو چیز ایسی ہو جس پر عرف عام میں پہننے یا اوڑھنے کا اطلاق نہ ہوتا ہو مثلاً سر پر کو نڈا یا گھڑا وغیرہ رکھ لینا یا سر پر گٹھر اٹھا لینا تو اس صورت میں کوئی مضائقہ نہیں۔ وہ موزہ دونوں ٹخنوں کے نیچے سے کاٹ دے میں یہاں ٹخنے سے مراد حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک وہ ہڈی ہے جو پیر کی پشت پر بیچ میں ہوتی ہے جب کہ حضرت امام شافعی کے ہاں وہی متعارف ٹخنہ مراد ہے جس کو وضو میں دھونا فرض ہے۔ اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال ہیں کہ جس شخص کے پاس جوتے نہ ہوں اور وہ موزے پہن لے تو آیا اس پر فدیہ واجب ہوتا ہے یا نہیں ؟ چناچہ حضرت امام مالک اور حضرت امام شافعی تو یہ کہتے ہیں کہ اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے نزدیک اس پر فدیہ واجب ہوتا ہے۔ جس طرح یہ مسئلہ ہے کہ اگر احرام کی حالت میں کسی کو سر منڈانے کی احتیاج و ضرورت لاحق ہوجائے تو وہ سر منڈا لے اور فدیہ ادا کرے۔ ورس ایک قسم کی گھاس کا نام ہے جو زرد رنگت کی اور زعفران کے مشابہ ہوتی ہے۔ اس گھاس سے رنگائی کا کام لیا جاتا ہے۔ زعفران اور اس کے رنگ آلود کپڑوں کو پہننے سے اس لئے منع فرمایا گیا ہے کہ ان میں خوشبو ہوتی ہے۔ محرم عورت نقاب نہ ڈالے کا مطلب یہ ہے کہ وہ اپنے منہ کو برقع اور نقاب سے نہ ڈھانکے ہاں اگر وہ پردہ کی خاطر کسی ایسی چیز سے اپنے منہ کو چھپائے جو منہ سے الگ رہے تو جائز ہے، اسی طرح حنفیہ کے ہاں مرد کو بھی عورت کی طرح احرام کی حالت میں منہ ڈھانکنا حرام ہے، حضرت امام مالک اور حضرت امام احمد کا مسلک بھی ایک روایت کے مطابق یہی ہے جب کہ امام شافعی کا مسلک اس کے برخلاف ہے۔ ہودج میں بیٹھنا ممنوع ہے بشرطیکہ سر ہودج میں لگتا ہو، اگر سر ہودج میں نہ لگتا ہو تو پھر اس میں بیٹھنا ممنوع نہیں ہے، اسی طرح اگر کعبہ کا پردہ یا خیمہ سر میں لگتا ہو تو ان کے نیچے کھڑا ہونا ممنوع ہے اور اگر سر میں نہ لگتا ہو تو ممنوع نہیں ہے۔
2724
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يخطب وهو يقول : إذا لم يجد المحرم نعلين لبس خفين وإذا لم يجد إزارا لبس سراويل
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے، نیز آپ ﷺ فرماتے تھے کہ اگر محرم کو جوتے میسر نہ ہوں تو وہ موزے پہن سکتا ہے اور جس محرم کے پاس تہہ بند نہ ہو تو وہ پائجامہ پہن سکتا ہے۔ (بخاری مسلم)
تشریح
موزوں کے استعمال کے بارے میں تو گزشتہ حدیث میں بتایا جا چکا ہے کہ جوتے میسر نہ ہوں تو محرم موزے پہن سکتا ہے۔ اس صورت میں امام شافعی کے نزدیک اس پر کوئی فدیہ واجب نہیں ہوگا۔ لیکن حضرت امام اعظم کا مسلک اس بارے میں یہ ہے کہ اگر تہہ بند نہ ہو تو پائجامہ کو پھاڑ کر اسے تہ بند کی صورت میں باندھ لیا جائے اور اگر کوئی شخص اسے پھاڑ کر استعمال نہ کرے بلکہ پائجامہ ہی پہن لے تو اس پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوگا۔
تشریح
موزوں کے استعمال کے بارے میں تو گزشتہ حدیث میں بتایا جا چکا ہے کہ جوتے میسر نہ ہوں تو محرم موزے پہن سکتا ہے۔ اس صورت میں امام شافعی کے نزدیک اس پر کوئی فدیہ واجب نہیں ہوگا۔ لیکن حضرت امام اعظم کا مسلک اس بارے میں یہ ہے کہ اگر تہہ بند نہ ہو تو پائجامہ کو پھاڑ کر اسے تہ بند کی صورت میں باندھ لیا جائے اور اگر کوئی شخص اسے پھاڑ کر استعمال نہ کرے بلکہ پائجامہ ہی پہن لے تو اس پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوگا۔
2725
Mishkaat Shareefوعن يعلى بن أمية قال : كنا عند النبي صلى الله عليه و سلم بالجعرانة إذ جاء رجل أعرابي عليه جبة وهو متضمخ بالخلوق فقال : يا رسول الله إني أحرمت بالعمرة وهذه علي . فقال : أما الطيب الذي بك فاغسله ثلاث مرات وأما الجبة فانزعها ثم اصنع في عمرتك كما تصنع في حجك
حضرت یعلیٰ بن امیہ کہتے ہیں کہ ہم لوگ جعرانہ میں (کہ جو مکہ سے چند میل کے فاصلہ پر واقع ایک مقام ہے اور جہاں سے آپ ﷺ نے عمرہ کا احرام باندھا تھا) نبی کریم ﷺ کے پاس تھے کہ اچانک ایک شخص جو دیہاتی تھا آیا اس نے کرتہ پہنا ہوا تھا، نیز وہ شخص خلوق میں رنگا بسا تھا (خلوق ایک خوشبو کا نام ہے جو زعفران وغیرہ سے تیار ہوتی تھی) اس شخص نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! میں نے عمرہ کا احرام اس حالت میں باندھا تھا کہ یہ کرتہ میرے جسم پر تھا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے اوپر جو خوشبو لگی ہوئی ہے اسے تو تین مرتبہ دھو ڈالو اور کرتہ کو اتار دو اور پھر اپنے عمرہ کے احرام میں وہی کرو جو تم اپنے حج کے احرام میں کرتے ہو۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
زعفران کا استعمال چونکہ مردوں کے لئے حرام ہے اور خلوق زعفران ہی سے تیار ہوتی تھی اس لئے آپ ﷺ نے اس شخص کو یہ حکم دیا کہ وہ اسے دھو ڈالے نیز تین مرتبہ دھونے کا حکم صرف اس لئے دیا تاکہ وہ خوب اچھی طرح چھوٹ جائے ورنہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خلوق کو بالکل صاف کردو خواہ وہ کسی طرح اور کتنی ہی مرتبہ میں صاف ہو۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں حج کے احرام کی حالت میں ممنوع ہیں وہی عمرہ کے احرام کی حالت میں بھی ممنوع ہیں اس لئے تم عمرہ کے احرام کی حالت میں ان تمام چیزوں سے پرہیز کرو جن سے حج کے احرام کی حالت میں پرہیز کیا جاتا ہے۔ مسئلہ احرام کی حالت میں بغیر خوشبو سرمہ لگانا جائز ہے بشرطیکہ اس سے زیب وزینت مقصود نہ ہو۔ اگر کوئی شخص زیب وزینت کے بغیر خوشبو کا بھی سرمہ لگائے تو مکروہ ہوگا۔ اس موقع پر ایک خاص بات یہ جان لینی چاہئے کہ جو چیزیں احرام کی حالت میں حرام ہوجاتی ہیں ان کا ارتکاب اگر قصداً ہوگا تو متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک اس کی وجہ سے مرتکب پر فدیہ لازم ہوگا۔ ہاں بھول چوک سے ارتکاب کرنے والے پر فدیہ واجب نہیں ہوگا جیسا کہ حضرت امام شافعی، ثوری، احمد اور اسحق رحمہم اللہ کا قول ہے البتہ امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک اس صورت میں بھی فدیہ واجب ہوگا۔
تشریح
زعفران کا استعمال چونکہ مردوں کے لئے حرام ہے اور خلوق زعفران ہی سے تیار ہوتی تھی اس لئے آپ ﷺ نے اس شخص کو یہ حکم دیا کہ وہ اسے دھو ڈالے نیز تین مرتبہ دھونے کا حکم صرف اس لئے دیا تاکہ وہ خوب اچھی طرح چھوٹ جائے ورنہ اصل مقصد تو یہ تھا کہ خلوق کو بالکل صاف کردو خواہ وہ کسی طرح اور کتنی ہی مرتبہ میں صاف ہو۔ حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جو چیزیں حج کے احرام کی حالت میں ممنوع ہیں وہی عمرہ کے احرام کی حالت میں بھی ممنوع ہیں اس لئے تم عمرہ کے احرام کی حالت میں ان تمام چیزوں سے پرہیز کرو جن سے حج کے احرام کی حالت میں پرہیز کیا جاتا ہے۔ مسئلہ احرام کی حالت میں بغیر خوشبو سرمہ لگانا جائز ہے بشرطیکہ اس سے زیب وزینت مقصود نہ ہو۔ اگر کوئی شخص زیب وزینت کے بغیر خوشبو کا بھی سرمہ لگائے تو مکروہ ہوگا۔ اس موقع پر ایک خاص بات یہ جان لینی چاہئے کہ جو چیزیں احرام کی حالت میں حرام ہوجاتی ہیں ان کا ارتکاب اگر قصداً ہوگا تو متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک اس کی وجہ سے مرتکب پر فدیہ لازم ہوگا۔ ہاں بھول چوک سے ارتکاب کرنے والے پر فدیہ واجب نہیں ہوگا جیسا کہ حضرت امام شافعی، ثوری، احمد اور اسحق رحمہم اللہ کا قول ہے البتہ امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک اس صورت میں بھی فدیہ واجب ہوگا۔
2726
Mishkaat Shareefوعن عثمان قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا ينكح المحرم ولا ينكح ولا يخطب . رواه مسلم
حضرت عثمان (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ یہ مناسب نہیں ہے کہ محرم نکاح کرے اسی طرح (ولایۃ یا وکالۃ) نکاح کرانا اور منگنی کرنا بھی مناسب نہیں ہے۔ (مسلم)
تشریح
حضرت امام شافعی اور اکثر علماء کے نزدیک خود اپنا نکاح کرنے یا کسی کا نکاح کرانے کی ممانعت مکروہ تحریمی کے طور پر ہے اور منگنی کرنے کی ممانعت مکروہ تنزیہی کے طور پر ہے۔ چناچہ ان حضرات کے نزدیک حالت احرام میں نہ تو خود اپنا نکاح کرنا درست ہے اور نہ کسی کا نکاح کرانا جائز ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں تینوں کی ممانعت صرف مکروہ تنزیہی کے طور پر ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے احرام کی حالت میں حضرت میمونہ (رض) سے اپنا نکاح کیا تھا۔
تشریح
حضرت امام شافعی اور اکثر علماء کے نزدیک خود اپنا نکاح کرنے یا کسی کا نکاح کرانے کی ممانعت مکروہ تحریمی کے طور پر ہے اور منگنی کرنے کی ممانعت مکروہ تنزیہی کے طور پر ہے۔ چناچہ ان حضرات کے نزدیک حالت احرام میں نہ تو خود اپنا نکاح کرنا درست ہے اور نہ کسی کا نکاح کرانا جائز ہے۔ لیکن حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے ہاں تینوں کی ممانعت صرف مکروہ تنزیہی کے طور پر ہے، ان کی دلیل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے احرام کی حالت میں حضرت میمونہ (رض) سے اپنا نکاح کیا تھا۔
2727
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس : أن النبي صلى الله عليه و سلم تزوج ميمونة وهو محرم
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت میمونہ (رض) سے اس حالت میں نکاح کیا کہ آپ (عمرۃ القضا کا) احرام باندھے ہوئے تھے۔ (بخاری ومسلم)
2728
Mishkaat Shareefوعن يزيد بن الأصم ابن أخت ميمونة عن ميمونة أن رسول الله صلى الله عليه و سلم تزوجها وهو حلال . رواه مسلم قال الشيخ الإمام يحيى السنة رحمه الله : والأكثرون على أنه تزوجها حلالا وظهر أمر تزويجها وهو محرم ثم بنى بها وهو حلال بسرف في طريق مكة
حضرت یزید بن اصم (تابعی) جو ام المؤمنین حضرت میمونہ (رض) کے بھانجے ہیں اپنی خالہ حضرت میمونہ (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے ان (حضرت میمونہ (رض) سے جب نکاح کیا تو آپ ﷺ احرام کی حالت میں نہیں تھے۔ (مسلم) حضرت امام محی السنہ (رح) فرماتے ہیں کہ اکثر علماء (یعنی حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کے علاوہ) اس بات کے قائل ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے جب حضرت میمونہ (رض) سے نکاح کیا تو اس وقت آپ ﷺ حالت احرام میں نہیں تھے۔ ہاں حضرت میمونہ (رض) کے ساتھ آپ ﷺ کے نکاح کا اظہار عام اس وقت ہوا جب آپ ﷺ احرام کی حالت میں تھے، پھر آپ ﷺ نے حضرت میمونہ (رض) کے ساتھ شب زفاف مقام سرف ہی میں جو مکہ کے راستہ میں واقع ہے اس وقت گزاری جب کہ آپ ﷺ احرام کھول چکے تھے۔
تشریح
مظاہر حق جدید کی زیر نظر جلد میں ایک موقع پر یہ بتایا جا چکا ہے کہ سرف ایک مقام کا نام ہے جو مکہ مکرمہ سے تقریبا چھ میل اور مقام تنعیم سے جانب شمال تین یا چار میل کے فاصلہ پر واقع ہے اسی موقع پر ایک تاریخی اتفاق بھی ذکر کیا گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ حضرت میمونہ (رض) کا نکاح بھی سرف میں ہوا (جب کہ آپ ﷺ عمرۃ القضاء کے لئے مکہ تشریف لا رہے تھے اور اس وقت حالت احرام میں تھے) اور ان کی شب زفاف بھی یہیں گزری (جب کہ آپ ﷺ عمرہ سے فارغ ہو کر مدینہ واپس ہو رہے تھے) اور پھر بعد میں ان کا انتقال بھی یہیں ہوا۔ بہرکیف یہ حدیث جسے حضرت میمونہ (رض) کے بھانجے حضرت یزید نے روایت کیا ہے، حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت کے بالکل برخلاف ہے جو اس سے پہلے نقل کی گئی، حضرت ابن عباس (رض) کی روایت تو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت میمونہ (رض) سے حالت احرام میں نکاح کیا تھا جب کہ حضرت یزید کی یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت میمونہ (رض) سے آپ ﷺ کا نکاح اس وقت ہوا تھا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں نہیں تھے۔ اس طرح ان دونوں روایتوں میں تعارض ہوگیا ہے، چناچہ حنفیہ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں اول تو اس وجہ سے کہ حضرت ابن عباس (رض) کو اپنے علم و فضل، قوت حافظہ، فقہی بصیرت اور اپنی شان مرتبت کے اعتبار سے حضرت یزید پر کہیں زیادہ برتری حاصل ہے، دوسرے یہ کہ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کو بخاری و مسلم دونوں نے نقل کیا ہے جب کہ حضرت یزید کی روایت کو صرف مسلم نے نقل کیا ہے۔ اب رہی یہ بات حضرت عثمان (رض) کی روایت (چار) میں احرام کی حالت میں نکاح کرنے کرانے کی ممانعت منقول ہے ؟ تو اس کے بارے میں حنفی علماء لکھتے ہیں کہ اس ممانعت سے یہ مراد ہی نہیں ہے کہ نکاح کرنا کرانا قطعاً ناجائز یا حرام ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ محرم چونکہ ایک عبادت میں مشغول رہتا ہے اس لئے اس کی شان اور اس کے حال کے مناسب یہ نہیں ہے کہ وہ نکاح کرے یا کسی کا کا نکاح کرائے۔ چناچہ اس حدیث کی تشریح میں یہی وضاحت کی گئی تھی کہ یہاں اس ممانعت کا مطلب مکروہ تنزیہی ہے۔ حضرت امام محی السنۃ کے یہ الفاظ وظہر امر تزویجہا وہو محرم (حضرت میمونہ (رض) کے ساتھ آپ کے نکاح کا اظہار عام اس وقت ہوا جب کہ آپ ﷺ احرام کی حالت میں تھے۔ دراصل شوافع کی طرف سے حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت کہ۔ آپ ﷺ نے حضرت میمونہ (رض) سے اس حالت میں نکاح کیا کہ آپ ﷺ احرام باندھے ہوئے تھے۔ کی تاویل ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نکاح تو اس وقت ہی کیا تھا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں نہیں تھے ہاں اس نکاح کا علم لوگوں کو اس وقت ہوا جب آپ ﷺ نے احرام باندھ لیا تھا۔ گویا امام محی السنۃ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کو بھی اس نکاح کا علم اس وقت ہوا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں تھے اس لئے وہ یہی سمجھے کہ نکاح آپ ﷺ نے حالت احرام ہی میں کیا ہے حالانکہ شوافع کی طرف سے حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کی یہ تاویل تکلف سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔
تشریح
مظاہر حق جدید کی زیر نظر جلد میں ایک موقع پر یہ بتایا جا چکا ہے کہ سرف ایک مقام کا نام ہے جو مکہ مکرمہ سے تقریبا چھ میل اور مقام تنعیم سے جانب شمال تین یا چار میل کے فاصلہ پر واقع ہے اسی موقع پر ایک تاریخی اتفاق بھی ذکر کیا گیا تھا کہ آنحضرت ﷺ حضرت میمونہ (رض) کا نکاح بھی سرف میں ہوا (جب کہ آپ ﷺ عمرۃ القضاء کے لئے مکہ تشریف لا رہے تھے اور اس وقت حالت احرام میں تھے) اور ان کی شب زفاف بھی یہیں گزری (جب کہ آپ ﷺ عمرہ سے فارغ ہو کر مدینہ واپس ہو رہے تھے) اور پھر بعد میں ان کا انتقال بھی یہیں ہوا۔ بہرکیف یہ حدیث جسے حضرت میمونہ (رض) کے بھانجے حضرت یزید نے روایت کیا ہے، حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت کے بالکل برخلاف ہے جو اس سے پہلے نقل کی گئی، حضرت ابن عباس (رض) کی روایت تو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ آنحضرت ﷺ نے حضرت میمونہ (رض) سے حالت احرام میں نکاح کیا تھا جب کہ حضرت یزید کی یہ روایت اس پر دلالت کرتی ہے کہ حضرت میمونہ (رض) سے آپ ﷺ کا نکاح اس وقت ہوا تھا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں نہیں تھے۔ اس طرح ان دونوں روایتوں میں تعارض ہوگیا ہے، چناچہ حنفیہ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کو ترجیح دیتے ہیں اول تو اس وجہ سے کہ حضرت ابن عباس (رض) کو اپنے علم و فضل، قوت حافظہ، فقہی بصیرت اور اپنی شان مرتبت کے اعتبار سے حضرت یزید پر کہیں زیادہ برتری حاصل ہے، دوسرے یہ کہ حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کو بخاری و مسلم دونوں نے نقل کیا ہے جب کہ حضرت یزید کی روایت کو صرف مسلم نے نقل کیا ہے۔ اب رہی یہ بات حضرت عثمان (رض) کی روایت (چار) میں احرام کی حالت میں نکاح کرنے کرانے کی ممانعت منقول ہے ؟ تو اس کے بارے میں حنفی علماء لکھتے ہیں کہ اس ممانعت سے یہ مراد ہی نہیں ہے کہ نکاح کرنا کرانا قطعاً ناجائز یا حرام ہے، بلکہ اس کا مقصد یہ ظاہر کرنا ہے کہ محرم چونکہ ایک عبادت میں مشغول رہتا ہے اس لئے اس کی شان اور اس کے حال کے مناسب یہ نہیں ہے کہ وہ نکاح کرے یا کسی کا کا نکاح کرائے۔ چناچہ اس حدیث کی تشریح میں یہی وضاحت کی گئی تھی کہ یہاں اس ممانعت کا مطلب مکروہ تنزیہی ہے۔ حضرت امام محی السنۃ کے یہ الفاظ وظہر امر تزویجہا وہو محرم (حضرت میمونہ (رض) کے ساتھ آپ کے نکاح کا اظہار عام اس وقت ہوا جب کہ آپ ﷺ احرام کی حالت میں تھے۔ دراصل شوافع کی طرف سے حضرت ابن عباس (رض) کی اس روایت کہ۔ آپ ﷺ نے حضرت میمونہ (رض) سے اس حالت میں نکاح کیا کہ آپ ﷺ احرام باندھے ہوئے تھے۔ کی تاویل ہے کہ آنحضرت ﷺ نے نکاح تو اس وقت ہی کیا تھا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں نہیں تھے ہاں اس نکاح کا علم لوگوں کو اس وقت ہوا جب آپ ﷺ نے احرام باندھ لیا تھا۔ گویا امام محی السنۃ یہ ظاہر کرنا چاہتے ہیں کہ حضرت ابن عباس (رض) کو بھی اس نکاح کا علم اس وقت ہوا جب کہ آپ ﷺ حالت احرام میں تھے اس لئے وہ یہی سمجھے کہ نکاح آپ ﷺ نے حالت احرام ہی میں کیا ہے حالانکہ شوافع کی طرف سے حضرت ابن عباس (رض) کی روایت کی یہ تاویل تکلف سے زیادہ کی حیثیت نہیں رکھتی۔
2729
Mishkaat Shareefوعن أبي أيوب : أن النبي صلى الله عليه و سلم كان يغسل رأسه وهو محرم
حضرت ابوایوب (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ احرام کی حالت میں اپنا سر مبارک دھوتے تھے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
بغیر کسی اختلاف کے محرم کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنا سر دھوئے مگر اس طرح کہ سر کا کوئی بال ٹوٹنے نہ پائے، ہاں اگر کوئی خطمی سے سر دھوئے گا تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک اس پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوگا کیونکہ نہ صرف یہ کہ خطمی خوشبو کی قسم سے ہے بلکہ اس کے لگانے سے جویں مرجاتی ہیں۔ البتہ (بغیر خوشبو کے) صابون یا بیری کے پتوں اور یا اسی قسم کی دوسری چیزوں سے سر دھونے کی صورت میں متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا۔
تشریح
بغیر کسی اختلاف کے محرم کے لئے یہ جائز ہے کہ وہ اپنا سر دھوئے مگر اس طرح کہ سر کا کوئی بال ٹوٹنے نہ پائے، ہاں اگر کوئی خطمی سے سر دھوئے گا تو حضرت امام اعظم ابوحنیفہ اور حضرت امام مالک کے نزدیک اس پر دم یعنی جانور ذبح کرنا واجب ہوگا کیونکہ نہ صرف یہ کہ خطمی خوشبو کی قسم سے ہے بلکہ اس کے لگانے سے جویں مرجاتی ہیں۔ البتہ (بغیر خوشبو کے) صابون یا بیری کے پتوں اور یا اسی قسم کی دوسری چیزوں سے سر دھونے کی صورت میں متفقہ طور پر تمام علماء کے نزدیک اس پر کچھ واجب نہیں ہوتا۔
2730
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : احتجم النبي صلى الله عليه و سلم وهو محرم
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے احرام کی حالت میں بھری ہوئی سینگی کھنچوائی۔
تشریح
اکثر علماء کے نزدیک احرام کی حالت میں سینگی کھنچوانا جائز ہے بشرطیکہ کوئی بال نہ ٹوٹے۔
تشریح
اکثر علماء کے نزدیک احرام کی حالت میں سینگی کھنچوانا جائز ہے بشرطیکہ کوئی بال نہ ٹوٹے۔
2731
Mishkaat Shareefوعن عثمان حدث عن رسول الله صلى الله عليه و سلم في الرجل إذا اشتكى عينيه وهو محرم ضمدهما بالصبر . رواه مسلم
حضرت عثمان (رض) نے ایک شخص کے بارے میں رسول کریم ﷺ کی یہ حدیث بیان کی کہ اگر حالت احرام میں اس کی آنکھیں کہیں یا وہ ضعف بصارت میں مبتلا ہو تو وہ اپنی آنکھوں پر ایلوے کا لیپ کرے۔ (مسلم)
تشریح
تاج المصادر میں تضمید کے معنی لیپ کرنا ہی لکھتے ہیں۔ لیکن کچھ علماء نے اس کے معنی آنکھوں کے اندر لگانا لکھے ہیں۔ یعنی جس طرح سرمہ لگایا جاتا ہے اسی طرح وہ آنکھوں میں ایلوا لگائے۔ اور علامہ طیبی نے یہ لکھا ہے کہ تضمید زخم پر پٹی باندھنے کو کہتے ہیں اسی طرح زخم پر دوا لگانے کو بھی تضمید کہتے ہیں۔ یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ محرم کو بغیر خوشبو کا سرمہ لگانا جائز ہے اور اس کی وجہ سے بطور جزاء کوئی چیز واجب نہیں ہوتی بشرطیکہ اس سے زیب وزینت مقصود نہ ہو کیونکہ زیب وزینت کے لئے سرمہ لگانا مکروہ ہے۔ اس موقع پر خوشبودار سرمہ کے بارے میں یہ تفصیل جان لیجئے کہ اگر سرمہ میں کم خوشبو ہو تو اس کو لگانے سے صرف صدقہ واجب ہوگا اور اگر خوشبو زیادہ ہوگی تو ایسے سرمہ کو لگانے سے دم یعنی جانور کو ذبح کرنا واجب ہوگا۔ ایسے ہی یہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی محرم اپنے سر اور منہ کے علاوہ کسی اور عضو پر پٹی باندھے تو اس پر اگرچہ بطور جزاء کچھ واجب نہیں ہوتا لیکن یہ مکروہ ہے۔ اور اگر کوئی محرم اپنے سر یا منہ کے چوتھائی حصہ یا اس سے زیادہ کو کسی کپڑے وغیرہ سے ڈھانکے گا تو اس پر دم لازم ہوگا اور چوتھائی حصہ سے کم کو ڈھانکے گا تو صرف صدقہ واجب ہوگا۔
تشریح
تاج المصادر میں تضمید کے معنی لیپ کرنا ہی لکھتے ہیں۔ لیکن کچھ علماء نے اس کے معنی آنکھوں کے اندر لگانا لکھے ہیں۔ یعنی جس طرح سرمہ لگایا جاتا ہے اسی طرح وہ آنکھوں میں ایلوا لگائے۔ اور علامہ طیبی نے یہ لکھا ہے کہ تضمید زخم پر پٹی باندھنے کو کہتے ہیں اسی طرح زخم پر دوا لگانے کو بھی تضمید کہتے ہیں۔ یہ بات پہلے بتائی جا چکی ہے کہ محرم کو بغیر خوشبو کا سرمہ لگانا جائز ہے اور اس کی وجہ سے بطور جزاء کوئی چیز واجب نہیں ہوتی بشرطیکہ اس سے زیب وزینت مقصود نہ ہو کیونکہ زیب وزینت کے لئے سرمہ لگانا مکروہ ہے۔ اس موقع پر خوشبودار سرمہ کے بارے میں یہ تفصیل جان لیجئے کہ اگر سرمہ میں کم خوشبو ہو تو اس کو لگانے سے صرف صدقہ واجب ہوگا اور اگر خوشبو زیادہ ہوگی تو ایسے سرمہ کو لگانے سے دم یعنی جانور کو ذبح کرنا واجب ہوگا۔ ایسے ہی یہ مسئلہ ہے کہ اگر کوئی محرم اپنے سر اور منہ کے علاوہ کسی اور عضو پر پٹی باندھے تو اس پر اگرچہ بطور جزاء کچھ واجب نہیں ہوتا لیکن یہ مکروہ ہے۔ اور اگر کوئی محرم اپنے سر یا منہ کے چوتھائی حصہ یا اس سے زیادہ کو کسی کپڑے وغیرہ سے ڈھانکے گا تو اس پر دم لازم ہوگا اور چوتھائی حصہ سے کم کو ڈھانکے گا تو صرف صدقہ واجب ہوگا۔