Mishkaat Shareef
118. امارت وقضا کا بیان
مشكاة المصابيح
3611
Mishkaat Shareefامارت سے مراد سرداری وحکمرانی ہے اور قضاء سے مراد شرعی عدالت ہے اسلامی نظام حکومت کی عمارت کے یہ دو بنیادی ستون ہیں ! امیر و امام (یعنی سربراہ مملکت) اسلام کے قانون اساسی کا محافظ، نظم حکومت اور امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ذمہ دار حفاظت مذہب اور امت اسلامیہ کی طاقت و قوت کا امین اور امور عامہ کا نگہبان ہوتا ہے اسلامی معاشرہ کے افراد کا تعلق جن امور سے ہے ان سب پر امیر و امام ہی کا اختیار کار فرما ہوتا ہے۔ قاضی، اسلامی عدالت کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے شہریوں کے حقوق (امن، آزادی، مساوات) کا محافظ ہوتا ہے اور وہ معاملات کا فیصلہ کرنے میں شریعت کی طرف سے حکم کی حیثیت رکھتا ہے، اس کی سب سے بڑی ذمہ داری یہ ہوتی ہے کہ وہ لوگوں کے نزاعی مقدمات کا شریعت کے مطابق فیصلہ کرے اور اس کا اس سے بڑا فرض یہ ہوتا ہے کہ وہ عدل و انصاف، دیانت داری اور ایمانداری کے تقاضوں کو ہر حالت میں مدنظر رکھے۔ اسلام اور حکومت اسلام، دنیا کا یگانہ مذہب بھی ہے اور دنیا کی سب سے بڑی طاقت بھی اسلام جس طرح انسانیت عامہ کی دینی، مذہبی اور اخلاقی، اخروی فلاح کا سب سے آخری اور مکمل قانون ہدایت ہے اس طرح وہ ایک ایسی لافانی سیاسی طاقت بھی ہے جو انسانوں کے عام فائدے، عام بہتری اور عام تنظیم کے لئے حکومت وسیاست سے اپنے تعلق کو برملا اظہار کرتی ہے۔ یہ ایک ناقابل تردید حقیقت ہے کہ اسلام صرف ایک مذہب ہی نہیں بلکہ مذہب کی حیثیت سے کچھ اور بھی ہے اس کو حکومت حاکمیت، سیاست اور سلطنت سے وہی تعلق ہے جو اس کائنات کی کسی بھی بڑی حقیقت سے ہوسکتا ہے اس کو محض ایک ایسا نظام نہیں کہا جاسکتا ہے جو صرف باطن کی اصلاح کا فرض انجام دیتا ہے بلکہ اس کو ایسا دینی نظام بھی سمجھنا چاہئے جو اللہ ترس و خدا شناس روح کی قوت سے دنیا کے مادی نظام پر عالمگیر غلبہ کا دعوی رکھتا ہے، یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم جو اسلامی تصورات ونظریات کا سر چشمہ ہے اور احادیث نبوی ﷺ جو ہدایات کی شارح و ترجمان ہیں، ان کا ایک بہت بڑا حصہ اسلام اور حکومت وسیاست کے تعلق کو ثابت کرتا ہے کہیں تاریخی انداز میں، کہیں تعلیمات کے پیرایہ میں اور کہیں نعمت الہٰی کو ظاہری کرتے ہوئے ہم پر یہ واضح کیا جاتا ہے کہ اسلام اور حکومت اللہ کا حق ہے اس لئے اسلام کا ایک بنیادی مقصد یہ بھی ہے کہ اس زمین پر اللہ کی حکومت قائم کی جائے اور اس کا اتارا ہوا قانون نافذ کیا جائے۔ ہم میں سے جو کج فکر لوگ مذہب اور سیاست کے درمیان تفریق کی دیوار حائل کر کے اسلام کو سیاست و حکومت سے بالکل بےتعلق وبے واسطہ رکھنا چاہتے ہیں وہ دراصل مسلم مخالف عناصر کے اس شاطر دماغ کی سازش کا شکار ہیں جو خود تو حقیقی معنے میں آج تک حکومت کو مذہب سے آزاد نہ کرسکا لیکن مسلمانوں کی سیاسی پرواز اور ہمہ گیر پیش قدمی کو مضمحل کرنے کے لئے مذہب اور سیاست و حکومت کی مستقل بحثیں پیدا کر کے مسلمانوں کے چشمہ فکر وعمل میں دین اور دنیا کی پلیدگی کا زہر گھول رہا ہے۔ کتاب الامارۃ والقضاء سے اس کتاب جو حصہ شروع ہو رہا ہے اور اس میں جو احادیث نقل ہوں گی وہ اس دعوی کی واضح دلیل ہیں کہ اسلام اور حکومت و سیاست دو متضاد چیزیں نہیں ہیں ان احادیث میں امیر و خلیفہ قاضی و منصف، عوام اور رعایا، ملک و فوج اور نظم مملکت کے دیگر گوشوں سے متعلق جو ہدایات و احکام بیان کئے جائیں گے ان سے واضح ہوگا کہ حکومت وسیاست بھی اسلام کا ایک موضوع ہے۔
3612
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أطاعني فقد أطاع الله ومن عصاني فقد عصى الله ومن يطع الأمير فقد أطاعني ومن يعص الأمير فقد عصاني وإنما الإمام جنة يقاتل من ورائه ويتقى به فإن أمر بتقوى الله وعدل فإن له بذلك أجرا وإن قال بغيره فإن عليه منه
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص میری فرمانبرداری کرتا ہے اس نے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری کی اور جس شخص نے میری نافرمانی کی اس شخص نے اللہ کی نافرمانی کی اور جس شخص نے اپنے امیر (سردار) کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جس شخص نے اپنے امیر کی نافرمانی کی اس نے میری نافرمانی کی ! اور یاد رکھو، امام یعنی سربراہ مملکت (مسلمانوں کے لئے) ڈھال کی مانند ہے جس کے پیچھے سے (یعنی اس کی طاقت کے بل بوتہ پر) جنگ کی جاتی ہے اور جس کے ذریعہ (دشمنوں کی آفات و بلیات سے) حفاظت حاصل کی جاتی ہے ! پس (اگر وہ (امام) اللہ سے ڈر کر (اس کے قانون کے مطابق) فیصلہ کرے اور عدل و انصاف سے کام لے تو اس کی وجہ سے وہ امام بڑے اجر وثواب کا مستحق ہوگا اور اگر وہ ایسا نہ کرے۔ (یعنی اس کے احکام و فیصلے، اللہ کے خوف، قانون الہٰی کی روح اور عدل و انصاف سے خالی ہوں) تو اس کی وجہ سے وہ سخت گنہگار ہوگا۔ (بخاری ومسلم) ۔
تشریح
امام (سربراہ مملکت) کو ڈھال کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ سے یہ ہے کہ جس طرح ڈھال جنگ میں (دشمن کے تیر و تلوار سے بچاتی ہے اسی طرح امام کا وجود، مسلمانوں کو دشمنان دین کے حملوں اور ان کی آفات و بلاؤں سے بچانے کا باعث ہے۔
تشریح
امام (سربراہ مملکت) کو ڈھال کے ساتھ تشبیہ دینے کی وجہ سے یہ ہے کہ جس طرح ڈھال جنگ میں (دشمن کے تیر و تلوار سے بچاتی ہے اسی طرح امام کا وجود، مسلمانوں کو دشمنان دین کے حملوں اور ان کی آفات و بلاؤں سے بچانے کا باعث ہے۔
3613
Mishkaat Shareefوعن أم الحصين قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن أمر عليكم عبد مجدع يقودكم بكتاب الله فاسمعوا له وأطيعوا . رواه مسلم (2/334) 3663 - [ 3 ] ( صحيح ) وعن أنس أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : أسمعوا وأطيعوا وإن استعمل عليكم عبد حبشي كأن رأسه زبيبة . رواه البخاري
اور حضرت ام حصین کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کسی نکٹے اور کن کٹے غلام کو بھی تمہارا حاکم بنایا جائے اور وہ اللہ کے قانون کے مطابق تم پر حکمرانی کرے تو تم اس کا حکم سنو اور اس کی اطاعت کرو۔ (مسلم)
تشریح
اس ارشاد گرامی کا مقصد اولو الامر کی اطاعت و فرمانبرداری کی اہمیت کو واضح کرنا ہے اور اس اہمیت کو زیادہ سے زیادہ واضح کرنے کے لئے غلام کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص مسجد بنائے اگرچہ وہ چڑیا کے گھونسلے کی مانند ہو الخ سے ظاہر ہے کہ مسجد چڑیا کے گھونسلے کی مانند کبھی نہیں ہوسکتی بلکہ اس ارشاد کا مقصد مسجد بنانے کی اہمیت اور اس کی فضیلت کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنا ہے اسی طرح یہاں بھی غلام کے ذکر سے مبالغہ مقصود ہے یا پھر یہ مراد ہے کہ وہ غلام جو بادشاہ یا خلیفہ اعظم (سربراہ مملکت) کا نائب ہو یا اسے کسی خاص علاقہ کا حاکم بنایا گیا ہو۔ اس ساری تاویل کی بنیاد یہ ہے کہ غلام کو امیر و امام (سربراہ مملکت) بنانا جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ان تمام احادیث میں بھی یہی تاویل کی جائے گی جن میں غلام کی امارت وسرداری کا ذکر ہے۔ نکٹا اور کن کٹا کے الفاظ بھی مقصد کو مؤ کد کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں اور ان سے مراد حقیر و کمتر غلام ہے حاصل یہ کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے امیر و امام کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اس کے منصب امارت و امت کی پوری عزت و توقیر کریں خواہ وہ امیر اپنی ذاتی حیثیت میں کتنا ہی کمتر کیوں نہ ہوں۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (اپنے امیر و حاکم کا فرمان سنو ) اور (اس کے اوامرو نواہی کی) اطاعت کرو۔ تاوقتیکہ اس کا کوئی حکم و فرمان اللہ کے اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو) اگرچہ تم پر کسی ایسے غلام ہی کو حکمران کیوں نہ بنایا گیا ہو جس کا سر (چھوٹے پن اور سیاہی میں ) انگور (کی مانند) ہو۔ (بخاری )
تشریح
اس ارشاد گرامی کا مقصد اولو الامر کی اطاعت و فرمانبرداری کی اہمیت کو واضح کرنا ہے اور اس اہمیت کو زیادہ سے زیادہ واضح کرنے کے لئے غلام کا ذکر کیا گیا ہے جیسا کہ ایک موقع پر آپ ﷺ نے فرمایا ہے جو شخص مسجد بنائے اگرچہ وہ چڑیا کے گھونسلے کی مانند ہو الخ سے ظاہر ہے کہ مسجد چڑیا کے گھونسلے کی مانند کبھی نہیں ہوسکتی بلکہ اس ارشاد کا مقصد مسجد بنانے کی اہمیت اور اس کی فضیلت کو زیادہ سے زیادہ بیان کرنا ہے اسی طرح یہاں بھی غلام کے ذکر سے مبالغہ مقصود ہے یا پھر یہ مراد ہے کہ وہ غلام جو بادشاہ یا خلیفہ اعظم (سربراہ مملکت) کا نائب ہو یا اسے کسی خاص علاقہ کا حاکم بنایا گیا ہو۔ اس ساری تاویل کی بنیاد یہ ہے کہ غلام کو امیر و امام (سربراہ مملکت) بنانا جائز نہیں ہے۔ واضح رہے کہ ان تمام احادیث میں بھی یہی تاویل کی جائے گی جن میں غلام کی امارت وسرداری کا ذکر ہے۔ نکٹا اور کن کٹا کے الفاظ بھی مقصد کو مؤ کد کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں اور ان سے مراد حقیر و کمتر غلام ہے حاصل یہ کہ مسلمانوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے امیر و امام کی اطاعت و فرمانبرداری کریں اور اس کے منصب امارت و امت کی پوری عزت و توقیر کریں خواہ وہ امیر اپنی ذاتی حیثیت میں کتنا ہی کمتر کیوں نہ ہوں۔ اور حضرت انس کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (اپنے امیر و حاکم کا فرمان سنو ) اور (اس کے اوامرو نواہی کی) اطاعت کرو۔ تاوقتیکہ اس کا کوئی حکم و فرمان اللہ کے اور اس کے رسول کے خلاف نہ ہو) اگرچہ تم پر کسی ایسے غلام ہی کو حکمران کیوں نہ بنایا گیا ہو جس کا سر (چھوٹے پن اور سیاہی میں ) انگور (کی مانند) ہو۔ (بخاری )
3614
Mishkaat Shareefوعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وأكره ما لم يؤمر بمعصية فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة (2/334) 3665 - [ 5 ] ( متفق عليه ) وعن علي رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا طاعة في معصية إنما الطاعة في المعروف
اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا اپنے امیر و حاکم کی بات کو سننا اور (اس کے احکام کی) فرمانبرداری کرنا ہر حالت میں مرد مسلم پر واجب ہے خواہ (اس کا کوئی حکم اس کو پسند ہونا پسند ہو۔ تاوقتیکہ کسی گناہ کی بات کا حکم نہ کیا جائے۔ لہٰذا جب حاکم کوئی ایسا حکم دے جس (پر عمل کرنے میں گناہ ہو تو اس کی اطاعت کرنا واجب نہیں۔ (بخاری ومسلم )
تشریح
امیر و حاکم کی بات کو سننا اور اس کے احکام و فرامین کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ اس کا حکم و فرمان طبیعت و پسند کے موافق ہو یا غیر موافق ہو لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا کوئی حکم شریعت کی حدود سے متجاوز نہ ہو لہٰذا اگر امیر و حاکم کوئی ایسا حکم و فرمان جاری کرے جس پر عمل کرنے سے گناہ لازم آتا ہو، اس کی اطاعت و فرمانبرداری واجب نہیں ہوگی لیکن اس صورت میں بھی امیر و حاکم کے خلاف بغاوت کرنا یا اس سے جنگ وجدال کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اور حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی بھی ایسے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں ہے جس کا تعلق گناہ سے ہو (خواہ وہ حکم امیر و حاکم کی طرف سے ہو یا ماں باپ اور استاد پیر وغیرہ کی جانب سے ہو) اطاعت و فرمانبرداری تو صرف اچھے حکم میں واجب ہے۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
امیر و حاکم کی بات کو سننا اور اس کے احکام و فرامین کی اطاعت کرنا ہر مسلمان پر واجب ہے خواہ اس کا حکم و فرمان طبیعت و پسند کے موافق ہو یا غیر موافق ہو لیکن شرط یہ ہے کہ اس کا کوئی حکم شریعت کی حدود سے متجاوز نہ ہو لہٰذا اگر امیر و حاکم کوئی ایسا حکم و فرمان جاری کرے جس پر عمل کرنے سے گناہ لازم آتا ہو، اس کی اطاعت و فرمانبرداری واجب نہیں ہوگی لیکن اس صورت میں بھی امیر و حاکم کے خلاف بغاوت کرنا یا اس سے جنگ وجدال کرنا جائز نہیں ہوگا۔ اور حضرت علی کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کسی بھی ایسے حکم کی اطاعت و فرمانبرداری جائز نہیں ہے جس کا تعلق گناہ سے ہو (خواہ وہ حکم امیر و حاکم کی طرف سے ہو یا ماں باپ اور استاد پیر وغیرہ کی جانب سے ہو) اطاعت و فرمانبرداری تو صرف اچھے حکم میں واجب ہے۔ (بخاری ومسلم)
3615
Mishkaat Shareefوعن عبادة بن الصامت قال : بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على السمع والطاعة في العسر واليسر والمنشط والمكره وعلى أثرة علينا وعلى أن لا ننازع الأمر أهله وعلى أن نقول بالحق أينما كنا لا نخاف في الله لومة لائم . وفي رواية : وعلى أن لا ننازع الأمر أهله إلا أن تروا كفرا بواحا عندكم من الله فيه برهان (2/335) 3667 - [ 7 ] ( متفق عليه ) وعن ابن عمر رضي الله عنهما قال : كنا إذا بايعنا رسول الله صلى الله عليه و سلم على السمع والطاعة يقول لنا : فيما استطعتم
اور حضرت عبادہ ابن صامت کہتے ہیں کہ ہم نے رسول ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کی یعنی آپ کے روبرو ان امور کا عہد کیا کہ ہم (آپ کی ہدایات کو توجہ سے) سنیں گے (اور ہر قسم کے حالات میں آپ ﷺ کے احکام کی) اطاعت کریں گے تنگی اور سخت حالات میں بھی اور آسان و خوش آئند زمانہ میں بھی، خوشی کے موقع پر بھی اور ناخوشی کی حالت میں ہم پر ترجیح دی جائے گی (تو ہم صبر کریں گے۔ ہم امر کو اس کی جگہ سے نہیں نکالیں گے ہم (جب زبان سے کوئی بات کہیں کے تو) حق کہیں گے خواہ ہم کسی جگہ ہوں (اور کسی حال میں ہوں) اور ہم اللہ کے معاملے میں (یعنی دین پہنچانے اور حق بات کہنے میں) کسی ملامت کرنے والے شخص کی ملامت سے نہیں ڈریں گے۔ اور ایک روایت میں یوں ہے کہ (ہم نے اس بات کا عہد کیا کہ ہم امر کو جگہ سے نہیں نکالیں گے۔ (چنانچہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ امر کو اس کی جگہ سے نہ نکالو) ہاں اگر تم صریح کفر دیکھو جس پر تمہارے پاس اللہ تعالیٰ کی طرف سے (یعنی قرآن کی کسی آیت یا کسی حدیث کی صورت میں دلیل ہو (اور اس میں کسی تاویل کی گنجائش نہ ہو تو اس صورت میں امر کو اس کی جگہ سے نکالنے کی اجازت ہے۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
ہم پر ترجیح دی جائے گی کا مطلب یہ ہے کہ ہم انصارنے یہ بھی عہد کیا کہ اگر ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے گی ہم صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے۔ ایک روایت میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انصار سے فرمایا تھا کہ (میرے بعد تم لوگوں سے ترجیحی سلوک ہوگا یعنی بخشش و انعام اور اعزاز مناصب کی تقسیم کے وقت تم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح و تفصیل دی جائے گی ایسے موقع پر تم لوگ صبر کرنا چناچہ آپ کی یہ پیش گوئی ثابت ہوئی کہ خلفاء راشدین کے زمانے کے بعد جب امراء کا عہد حکومت شروع ہوا تو انصار کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا اور انصار نے بھی آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اور اپنا عہد نباہتے ہوئے اس ترجیحی سلوک کے خلاف شکوہ شکایت کرنے کی بجائے صبر و تحمل کی راہ کو اختیار کیا۔ ہم امر کو اس کی جگہ سے نہیں نکالیں گے کا مطلب یہ ہے کہ ہم امارت و حکومت کی طلب و خواہش نہیں کریں گے ہم پر جس شخص کو امیر وحاکم بنادیا جائے گا ہم اس کو معزول نہیں کریں گے اور اپنے امیر وحاکم کے خلاف ہنگامہ آرائی کر کے کوئی شورش پیدا نہیں کریں گے۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر امیر وحاکم کے قول وفعل میں صریح کفر دیکھو تو اس کو معزول کردینے کی اجازت ہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا واجب ہوگا۔
تشریح
ہم پر ترجیح دی جائے گی کا مطلب یہ ہے کہ ہم انصارنے یہ بھی عہد کیا کہ اگر ہم پر کسی کو ترجیح دی جائے گی ہم صبر و تحمل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں گے۔ ایک روایت میں منقول ہے کہ آنحضرت ﷺ نے انصار سے فرمایا تھا کہ (میرے بعد تم لوگوں سے ترجیحی سلوک ہوگا یعنی بخشش و انعام اور اعزاز مناصب کی تقسیم کے وقت تم پر دوسرے لوگوں کو ترجیح و تفصیل دی جائے گی ایسے موقع پر تم لوگ صبر کرنا چناچہ آپ کی یہ پیش گوئی ثابت ہوئی کہ خلفاء راشدین کے زمانے کے بعد جب امراء کا عہد حکومت شروع ہوا تو انصار کے ساتھ ترجیحی سلوک کیا گیا اور انصار نے بھی آپ کے ارشاد کی تعمیل میں اور اپنا عہد نباہتے ہوئے اس ترجیحی سلوک کے خلاف شکوہ شکایت کرنے کی بجائے صبر و تحمل کی راہ کو اختیار کیا۔ ہم امر کو اس کی جگہ سے نہیں نکالیں گے کا مطلب یہ ہے کہ ہم امارت و حکومت کی طلب و خواہش نہیں کریں گے ہم پر جس شخص کو امیر وحاکم بنادیا جائے گا ہم اس کو معزول نہیں کریں گے اور اپنے امیر وحاکم کے خلاف ہنگامہ آرائی کر کے کوئی شورش پیدا نہیں کریں گے۔ روایت کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اگر امیر وحاکم کے قول وفعل میں صریح کفر دیکھو تو اس کو معزول کردینے کی اجازت ہے اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری کرنا واجب ہوگا۔
3616
Mishkaat Shareefاس ارشاد گرامی سے یہ واضح ہوا کہ امام یعنی سربراہ مملکت کو معزول کرنے کی اسی صورت میں اجازت ہے جب کہ وہ صریح طور پر کفر کا مرتکب ہو اور اس کا کفر قرآن و حدیث کی روشنی میں اتنے واضح طور پر ثابت ہو کہ اس امام کے لئے کفر کی کوئی بھی تاویل کرنا ممکن نہ ہو۔ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ اگر امام فسق فجور میں مبتلا ہوجائے تو اس کو معزول کیا جاسکتا ہے یہی مسئلہ ہر قاضی و امیر کا ہے۔ واضح رہے کہ اس مسئلہ میں ان ائمہ کے اختلافی اقوال کی بنیاد یہ ہے کہ حضرت امام شافعی کے نزدیک توفاسق شخص اس بات کا اہل نہیں ہوگا کہ اس کو ولایت (کسی کا ولی ہونے) کی ذمہ داری سونپی جائے جب کہ امام اعظم ابوحنیفہ یہ فرماتے ہیں کہ فاسق، ولایت کا اہل ہوسکتا ہے چناچہ ان کے نزدیک فاسق باپ کے لئے اپنی نابالغ لڑکی کا نکاح کردینا جائز ہے۔ فرمانبرداری بقدر طاقت اور حضرت ابن عمر کہتے ہیں کہ جب ہم رسول کریم ﷺ کے ہاتھ پر بیعت کرتے (یعنی اس بات کا عہد کرتے) کہ ہم (آپ کی ہدایات کو توجہ سے سنیں گے اور (آپ کے احکام کی) اطاعت کریں گے تو آپ ﷺ ہم سے فرماتے کہ ان امور میں جن کو تم طاقت رکھتے ہو۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
آنحضرت ﷺ نے یا تو اپنے ارشاد کے ذریعہ صحابہ کو یہ رخصت (یعنی آسانی و سہولت) عطا فرمائی کہ تم سے جس قدر فرمانبرداری ہوسکے اس قدر کرو۔ یا یہ ارشاد اسی بات کی تاکید و تشدید کے لئے تھا کہ تم جتنی فرمانبرداری کرسکو اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی یا قصور واقع نہ ہونا چاہئے۔
تشریح
آنحضرت ﷺ نے یا تو اپنے ارشاد کے ذریعہ صحابہ کو یہ رخصت (یعنی آسانی و سہولت) عطا فرمائی کہ تم سے جس قدر فرمانبرداری ہوسکے اس قدر کرو۔ یا یہ ارشاد اسی بات کی تاکید و تشدید کے لئے تھا کہ تم جتنی فرمانبرداری کرسکو اس میں کسی قسم کی کوئی کوتاہی یا قصور واقع نہ ہونا چاہئے۔
3617
Mishkaat Shareefوعن ابن عباس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من رأى أميره يكرهه فليصبر فإنه ليس أحد يفارق الجماعة شبرا فيموت إلا مات ميتة جاهلية
اور حضرت ابن عباس راوی ہیں کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اگر کوئی شخص اپنے امیر و سردار کی طرف سے کوئی ایسی بات دیکھے جو اس کو (شرعًا یا طبعًا) پسند نہ ہو تو اس کو اس پر صبر کرنا چاہئے اور اس کی وجہ سے امام کے خلاف بغاوت کا جھنڈا بلند نہ کرنا چاہئے کیونکہ جو شخص جماعت سے بالشت بھر (بھی) جدا ہوا اور (توبہ کئے بغیر اسی حالت میں) مرگیا تو اس کی موت اہل جاہلیت کی موت کی مانند ہوگی۔ ( بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے امام و امیر کی اطاعت و فرمانبرداری سے اپنے کو آزاد کرلیا اور مسلمانوں کی جماعت (تنظیم) سے علیحدگی اختیار کرلی اور تمام مسلمانوں کے اجتماع و اتحاد کی مخالفت پر کمر بستہ رہا اور پھر اسی حالت میں وہ مرگیا تو گویا زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی موت مرا اور اس مشابہت کی بنیاد ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ چونکہ دین سے بےبہرہ تھے اس لئے وہ اپنے امیر و سردار کی اطاعت کرتے تھے نہ اپنے امام (رہنما) کی ہدایت کو مانتے تھے بلکہ ان سے وہ علی الاعلان بیزاری کا اظہار کرتے تھے اسی طرح چونکہ ان کے یہاں ملی شیرازہ بندی اور اجتماعی تنظیم کا کوئی اہتمام نہیں تھا اس لئے وہ نہ کسی چیز پر اجتماع و اتحاد کا مظاہرہ کرتے تھے اور نہ کسی رائے پر متفق ہوتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام میں ملت کی شیرازہ بندی، مسلمانوں کی مضبوط اجتماعی تنظیم، لیڈر شب پر مکمل اعتماد اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور ملی امور میں آپس میں اتفاق و اتحاد کی بڑی اہمیت ہے بلکہ یہ چیزیں دین کا مطلوب ہیں اور دین کی سربلندی کا بنیادی عنصر ہیں۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے امام و امیر کی اطاعت و فرمانبرداری سے اپنے کو آزاد کرلیا اور مسلمانوں کی جماعت (تنظیم) سے علیحدگی اختیار کرلی اور تمام مسلمانوں کے اجتماع و اتحاد کی مخالفت پر کمر بستہ رہا اور پھر اسی حالت میں وہ مرگیا تو گویا زمانہ جاہلیت کے لوگوں کی موت مرا اور اس مشابہت کی بنیاد ہے کہ زمانہ جاہلیت کے لوگ چونکہ دین سے بےبہرہ تھے اس لئے وہ اپنے امیر و سردار کی اطاعت کرتے تھے نہ اپنے امام (رہنما) کی ہدایت کو مانتے تھے بلکہ ان سے وہ علی الاعلان بیزاری کا اظہار کرتے تھے اسی طرح چونکہ ان کے یہاں ملی شیرازہ بندی اور اجتماعی تنظیم کا کوئی اہتمام نہیں تھا اس لئے وہ نہ کسی چیز پر اجتماع و اتحاد کا مظاہرہ کرتے تھے اور نہ کسی رائے پر متفق ہوتے تھے۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اسلام میں ملت کی شیرازہ بندی، مسلمانوں کی مضبوط اجتماعی تنظیم، لیڈر شب پر مکمل اعتماد اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری اور ملی امور میں آپس میں اتفاق و اتحاد کی بڑی اہمیت ہے بلکہ یہ چیزیں دین کا مطلوب ہیں اور دین کی سربلندی کا بنیادی عنصر ہیں۔
3618
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول : من خرج من الطاعة وفارق الجماعة فمات مات ميتة جاهلية ومن قاتل تحت راية عمية يغضب لعصبية أو يدعو لعصبية أو ينصر عصبية فقتل فقتلة جاهلية ومن خرج على أمتي بسيفه يضرب برها و فاجرها ولا يتحاشى من مؤمنها ولا يفي لذي عهد عهده فليس مني ولست منه . رواه مسلم
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو شخص امام (سربراہ مملکت) کی اطاعت و فرمانبرداری سے نکل جائے اور اسلام کی جماعت (ملت کی اجتماعی ہیت) سے علیحدگی اختیار کرے اور پھر اس حالت میں مرجائے تو اس کا مرنا جاہلیت پر مرنے کے مرادف ہوگا، جو شخص کسی ایسے جھنڈے کے نیچے یعنی ایسے مقصد کے لئے) لڑا جس کا حق و باطل ہونا ظاہر نہ ہو درآنحالیکہ وہ تعصب سے غضبناک ہوا اور متعصب ہوا اور تعصب کی وجہ سے لوگوں کو اپنی طرف بلایا یا تعصب کی وجہ سے کسی کی مدد کی (یعنی اس کا لڑنا غضبناک ہونا لوگوں کو اپنی مدد کے لئے بلانا یا کسی کی مدد کرنا اعلاء کلمۃ الحق اور دین سے اظہار کے لئے نہیں تھا بلکہ محض تعصب یعنی اپنی قوم کے ظلم کی حمایت اور اس کی ناروا جانب داری کی بنیاد پر تھا) اور اسی حالت میں) وہ مارا گیا تو اس کا مرنا جاہلیت پر مرنے کے مترادف ہوگا اور جس شخص نے میری امت کے خلاف تلوار اٹھائی اور اس کے ذریعہ میری امت کے اچھے اور برے آدمیوں کو مارا اور میری امت کے مسلمان کی پرواہ نہیں کی (یعنی اس بات کی کوئی پرواہ نہیں کی کہ ایک مسلمان کو مارنا کتنا بڑا جرم ہے اور اس کا وبال و عذاب کتنا سخت ہے) اور نہ اس نے عہد والے کے عہد کو پورا کیا تو نہ وہ میری امت میں سے ہے (یعنی میرے راستے پر چلنے والوں میں سے نہیں ہے اور نہ میرا اس سے کوئی تعلق ہے۔ (مسلم )
3619
Mishkaat Shareefوعن عوف بن مالك الأشجعي عن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : خيار أئمتكم الذين يحبونهم ويحبونكم وتصلون عليهم ويصلون عليكم وشرار أئمتكم الذي تبغضونهم ويبغضونكم وتلعنوهم ويلعنوكم قال : قلنا : يا رسول الله أفلا ننابذهم عند ذلك ؟ قال : لا ما أقاموا فيكم الصلاة لا ما أقاموا فيكم الصلاة ألا من ولي عليه وال فرآه يأتي شيئا من معصية الله فليكره ما يأتي من معصية الله ولا ينزعن يدا من طاعة . رواه مسلم
اور حضرت عوف ابن مالک اشجعی رسول کریم ﷺ سے نقل کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا تمہارے تمہارے حاکموں میں سے بہترین حاکم وہ ہیں جن سے تم محبت کرو اور وہ تم سے محبت کریں اور تم ان کے لئے اور وہ تمہارے لئے دعا کریں اور اس کی وجہ سے آپس میں ربط وتعلق اور محبت پیدا ہو) اور تمہارے حاکموں میں سے بدترین حاکم وہ ہیں جن سے تم بغض و عداوت رکھو اور وہ تم سے بغض و عداوت رکھیں اور تم ان پر اور وہ تم پر لعنت بھیجیں۔ حضرت عوف کہتے ہیں کہ ہم (صحابہ) نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! کیا اس صورت میں ہم ان سے کئے ہوئے عہد وفاداری توڑ نہ ڈالیں (یعنی کیا ان بدترین حاکموں کو معزول نہ کریں اور ان کے خلاف علم بغاوت بلند نہ کردیں ؟ ) آپ ﷺ نے فرمایا نہیں ! جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کریں ! خبردار ! جس شخص کو تم پر حاکم مقرر کیا جائے اور تم اس کا کوئی ایسا فعل دیکھو۔ جو اللہ کی نافرمانی (گنا ہ) پر مبنی ہو تو اس کے اس گناہ کے فعل کو برا سمجھنا چاہئے۔ لیکن اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار نہ ہونا چاہئے۔ (مسلم)
تشریح
جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کریں اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت کے سربراہ کا نماز کو ترک کردینا مسلمانوں کے کئے ہوئے عہد وفاداری کو توڑ ڈالنے کا موجب اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار ہوجانے کا سبب ہے کہ جس طرح اگر سربراہ مملکت صریح کفر کا مرتکب ہوجائے تو مسلمان اپنا عہد وفاداری توڑ کر اس کو معزول کرسکتے ہیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دستبردار ہوسکتے ہیں، اسی طرح اگر وہ نماز چھوڑ دیں تو مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے تئیں اپنا عہد وفاداری توڑ دیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے انکار کردیں ! کیونکہ نماز دین کا ستون ہے اور کفر و ایمان کے درمیان فرق و امتیاز کرنے والی ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے گناہ چونکہ ترک نماز کی طرح نہیں ہیں اس لئے ان کا ارتکاب عہدوفاداری کو توڑنے اور اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار ہونے کا موجب نہیں ہوسکتا۔ اس ارشاد گرامی میں ترک نماز پر سخت ترین زجر و تنبیہ اور عظیم تہدید ہے۔
تشریح
جب تک وہ تمہارے درمیان نماز قائم کریں اس سے یہ مفہوم ہوتا ہے کہ اسلامی مملکت کے سربراہ کا نماز کو ترک کردینا مسلمانوں کے کئے ہوئے عہد وفاداری کو توڑ ڈالنے کا موجب اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار ہوجانے کا سبب ہے کہ جس طرح اگر سربراہ مملکت صریح کفر کا مرتکب ہوجائے تو مسلمان اپنا عہد وفاداری توڑ کر اس کو معزول کرسکتے ہیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے دستبردار ہوسکتے ہیں، اسی طرح اگر وہ نماز چھوڑ دیں تو مسلمانوں کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اس کے تئیں اپنا عہد وفاداری توڑ دیں اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری سے انکار کردیں ! کیونکہ نماز دین کا ستون ہے اور کفر و ایمان کے درمیان فرق و امتیاز کرنے والی ہے۔ اس کے برخلاف دوسرے گناہ چونکہ ترک نماز کی طرح نہیں ہیں اس لئے ان کا ارتکاب عہدوفاداری کو توڑنے اور اطاعت و فرمانبرداری سے دست بردار ہونے کا موجب نہیں ہوسکتا۔ اس ارشاد گرامی میں ترک نماز پر سخت ترین زجر و تنبیہ اور عظیم تہدید ہے۔
3620
Mishkaat Shareefوعن أم سلمة قالت : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : يكون عليكم أمراء تعرفون وتنكرون فمن أنكر فقد برئ ومن كره فقد سلم ولكن من رضي وتابع قالوا : أفلا نقاتلهم ؟ قال : لا ما صلوا لا ما صلوا أي : من كره بقلبه وأنكر بقلبه . رواه مسلم
اور حضرت ام سلمہ کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ایسے لوگ بھی تم پر حاکم مقرر کئے جائیں گے جو اچھے برے دونوں قسم کے کام کریں گے لہٰذا جس شخص نے انکار کیا (یعنی جو شخص اپنے حاکم کے سامنے زبان سے یہ کہنے پر قادر ہو کہ تمہارا یہ فعل برا ہے اور اس نے اس طرح کہہ بھی دیا) تو وہ نفاق اور مداہنت سے پاک اور (اپنی ذمہ داری سے) بری ہوگیا اور جس شخص نے مکروہ جانا (یعنی جو شخص حاکم کے منہ پر اس کے برے فعل کو بیان کردینے پر قادر نہ ہو لیکن اپنے دل سے اس کے اس فعل کو برا سمجھے) تو وہ سالم رہا) یعنی اس فعل کی برائی و گناہ اور اس کے وبال میں شریک ہونے سے محفوظ رہا) لیکن جو شخص (حاکم کے برے افعال پر دل سے) خوش ہوا اور (خود بھی برے افعال میں مبتلا ہو کر گویا حاکم کی اتباع کی (تو وہ گناہ اور اس کے وبال میں شریک ہوا صحابہ نے عرض کیا کہ (ایسی صورت میں جب کہ حکام برائیوں میں مبتلا ہوجائیں اور ان کی بےراہ روی کا اثر عوام پر بھی پر نے لگے تو) کیا ہم ان کے خلاف جنگ نہ کریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا نہیں جب تک وہ نماز پڑھیں، نہیں ! جب تک وہ نماز پڑھیں۔ یعنی جس شخص نے اپنے دل سے برا سمجھا اور اپنے دل سے انکار کیا۔ (مسلم)
تشریح
روایت کے آخری الفاظ یعنی جس شخص نے اپنا دل سے برا سمجھا اور اپنے دل سے انکار کیا کے بارے میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے تو یہ لکھا ہے کہ راوی کی عبارت ہے جس کے ذریعہ انہوں نے حدیث کے الفاظ ومن کرہ فقد سلم کی توضیح کی ہے، جب کہ ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ راوی نے اس عبارت کے ذریعہ حدیث کے ان دونوں جملوں (فمن انکر) اور (ومن کرہ) الخ کی توضیح کی ہے۔
تشریح
روایت کے آخری الفاظ یعنی جس شخص نے اپنا دل سے برا سمجھا اور اپنے دل سے انکار کیا کے بارے میں حضرت شیخ عبد الحق محدث دہلوی نے تو یہ لکھا ہے کہ راوی کی عبارت ہے جس کے ذریعہ انہوں نے حدیث کے الفاظ ومن کرہ فقد سلم کی توضیح کی ہے، جب کہ ملا علی قاری نے یہ لکھا ہے کہ راوی نے اس عبارت کے ذریعہ حدیث کے ان دونوں جملوں (فمن انکر) اور (ومن کرہ) الخ کی توضیح کی ہے۔