Mishkaat Shareef
11. نماز کا بیان
مشكاة المصابيح
702
Mishkaat Shareefوَعَنْ اَبِی اُمَامَۃَ قَالَ اِنَّ حِبْرًا مِّنَ الْیَھُوْدِ سَئَالً النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم اَیُّ البُقَاعِ خَیْرٌ فَسَکَتَ عَنْہُ وَقَالَ اَسْکُتُ حَتّٰی یَجِئَ جِبْرِیْلُ فَسَکَتْ وَجَآءَ جِبْرِیْلُ عَلَیْہِ السَّلَامُ فَسَئَالَ فَقَالَ مَا الْمَسْئُوْلُ عَنْھَا بِاَ عْلَمَ مِنَ السَّائِلِ وَلٰکِنْ اَسْئَلُ رَبِّی تَبَارَکَ وَ تَعَالٰی ثُمَّ قَالَ جِبْرِیْلُ یَا مُحَمَّدُ اِنِّی دَنَوْتُ مِنَ اﷲِ دُنُوًّمَا دَنَّوْتُ مِنْہُ قَطُّ قَالَ وَ کَیْفَ کَانَ یَا جِبْرِیْلُ قَالَ کَانَ بَیْنِی وَبَیْنَہُ سَبْعُوْنَ اَلْفَ حِجَابٍ مِنْ نُّوْرٍ فَقَالَ شَرُّا لْبِقَاعِ اَسْوَاْقُھَا وَ خَیْرُ البِقَاعِ مَسَاجِدُھَا رَوَاہُ حَبَّانُ فِی صَحِیْحِہٖ عَنْ اِبْنِ عُمَرَ۔
اور حضرت ابوامامہ (رض) فرماتے ہیں کہ (ایک روز) ایک یہودی عالم نے سرور کائنات ﷺ سے پوچھا کہ بہترین جگہ کون سی ہے ؟ رسول اللہ ﷺ اس کے جواب میں خاموش رہے اور فرمایا کہ جب تک جبرائیل (علیہ السلام) نہیں آجائیں گے میں خاموش رہوں گا۔ چناچہ آپ ﷺ خاموش رہے۔ جب حضرت جبرائیل آگئے تو آپ ﷺ نے ان سے (یہودی عالم کے سوال کا جواب) پوچھا حضرت جبرائیل نے کہا کہ، اس معاملے میں آپ ﷺ سے زیادہ میں بھی نہیں جانتا، البتہ میں اپنے پروردگار بزرگ و برتر سے اس کے بارے میں پوچھوں گا (چنانچہ) پھر حضرت جبرائیل (نے آکر) فرمایا اے محمد ﷺ ! آج میں اللہ تعالیٰ سے اس قدر قریب ہوگیا تھا کہ کبھی بھی اتنا قریب نہیں ہوا۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اے جبرائیل کس قدر (فاصلہ دونوں کے درمیان رہ گیا تھا) حضرت جبرائیل نے فرمایا میرے اور اللہ کے درمیان ستر ہزار نور کے پردے باقی رہ گئے تھے اور اللہ تعالیٰ نے (اس سوال کے جواب میں) فرمایا کہ بد ترین مقامات بازار ہیں اور بہترین مقامات مساجد ہیں۔ (یہ روایت ابن حبان نے اپنی صحیح میں حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) سے نقل کی ہے۔
تشریح
یہ پردے مخلوق کی نسبت سے ہیں حق تعالیٰ جل شانہ کی نسبت سے نہیں ہیں کیونکہ خداوند قدوس پردے میں نہیں ہے بلکہ اللہ کی مخلوق پردے میں ہے اور جسمانی و نفسانی پردے ہیں اس کی مثال کسی اندھے کے لئے پردہ آفتاب کی سی ہے کہ جس طرح آفتاب پردے میں نہیں ہوتا بلکہ خود اندھے پر پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے کہ وہ آفتاب کو نہیں دیکھ سکتا اور آفتاب اس کو دیکھتا ہے یعنی اس پر اپنی روشنی ڈالتا ہے۔ سائل نے تو صرف بہتر جگہ کے بارے میں سوال کیا تھا لیکن جواب میں مقابلے کے طور بہترین اور بدترین دونوں مقامات کو بتلا دیا گیا تاکہ رحمان اور شیطان دونوں کے گھر معلوم ہوجائیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی آدمی سے کوئی ایسا مسئلہ دریافت کیا گیا جو اسے پوری طرح معلوم نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ جواب دینے میں جلدی نہ کرے بلکہ جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ اس سوال کا جواب اچھی طرح جانتا ہے اس سے پوچھ لے اور اپنے سے زیادہ علم والے سے پوچھنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرے کو ین کہ یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ مشکوٰۃ کے اصل نسخہ میں لفظ رواہ کے بعد جگہ خالی ہے کیونکہ مصنف مشکوٰۃ کو اس کتاب کا نام معلوم نہیں تھا جس سے یہ روایت نقل کی گئی ہے بعد میں بعض علماء نے کتاب کا مذکورہ نام لکھا دیا ہے۔
تشریح
یہ پردے مخلوق کی نسبت سے ہیں حق تعالیٰ جل شانہ کی نسبت سے نہیں ہیں کیونکہ خداوند قدوس پردے میں نہیں ہے بلکہ اللہ کی مخلوق پردے میں ہے اور جسمانی و نفسانی پردے ہیں اس کی مثال کسی اندھے کے لئے پردہ آفتاب کی سی ہے کہ جس طرح آفتاب پردے میں نہیں ہوتا بلکہ خود اندھے پر پردہ پڑا ہوا ہوتا ہے کہ وہ آفتاب کو نہیں دیکھ سکتا اور آفتاب اس کو دیکھتا ہے یعنی اس پر اپنی روشنی ڈالتا ہے۔ سائل نے تو صرف بہتر جگہ کے بارے میں سوال کیا تھا لیکن جواب میں مقابلے کے طور بہترین اور بدترین دونوں مقامات کو بتلا دیا گیا تاکہ رحمان اور شیطان دونوں کے گھر معلوم ہوجائیں۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر کسی آدمی سے کوئی ایسا مسئلہ دریافت کیا گیا جو اسے پوری طرح معلوم نہیں ہے تو اسے چاہئے کہ جواب دینے میں جلدی نہ کرے بلکہ جس کے بارے میں جانتا ہو کہ وہ اس سوال کا جواب اچھی طرح جانتا ہے اس سے پوچھ لے اور اپنے سے زیادہ علم والے سے پوچھنے میں کوئی شرم محسوس نہ کرے کو ین کہ یہ رسول اللہ ﷺ اور حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کی سنت ہے۔ مشکوٰۃ کے اصل نسخہ میں لفظ رواہ کے بعد جگہ خالی ہے کیونکہ مصنف مشکوٰۃ کو اس کتاب کا نام معلوم نہیں تھا جس سے یہ روایت نقل کی گئی ہے بعد میں بعض علماء نے کتاب کا مذکورہ نام لکھا دیا ہے۔
703
Mishkaat Shareefوَعَنْ اَبِی ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ مَنْ جَآءَ مَسْجِدِی ھٰذَا لَمْ یَاْتِ اِلَّالِخَیْرٍ یَتَعَلَّمُہُ اَوْ یُعَلِمُہ، فَھُوَ بِمَنْزِلَۃِ الْمُجَاھِدِ فِی سَبِیْلِ اﷲِ وَ مَنْ جَآءَ لِغَیْرِ ذٰلِکَ فَھُوَ بِمَنْزِلَۃِ الرَّجُلِ یَنْظُرُ اِلَی مَتَاعِ غَیْرِہٖ۔ (رواہ ابن ماجۃ والبیھقی شعب الایمان)
اور حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میں نے سرور کائنات ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ جو آدمی میری اس مسجد میں محض اس غرض سے آئے کہ نیک کام سیکھے اور سکھلائے تو وہ اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والوں کے ہم رتبہ ہے اور جو آدمی اس غرض سے نہ آئے (یعنی کسی برے کام مثلاً لہو و لعب کی نیت سے آئے) تو وہ اس آدمی کی مانند ہے جو دوسرے کے اسباب (کو حسرت کی نگاہوں) سے دیکھتا ہے۔ (ابن ماجہ، بیہقی)
تشریح
آپ ﷺ نے اپنی مسجد یعنی مسجد نبوی کی تخصیص کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ چونکہ میری مسجد اپنی عظمت و فضیلت کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ وارفع ہے اور دوسری مسجدیں چونکہ اس کے تابع ہیں اس لئے مذکورہ حکم تمام مساجد کے لئے یکساں ہے۔ نیک کام کو سیکھنے اور سکھلانے کی تخصیص صرف ان کی فضیلت و اہمیت کے اظہار کے طور پر ہے ورنہ تو نماز، اعتکاف اور تلاوت و ذکر سب کا یہی حکم ہے۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی مسجد میں نیک مقصد کے تحت نہیں آئے گا اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے پاس کوئی چیز نہ تو وہ اس چیز کو کسی دوسرے کے پاس دیکھ کر حسرت و افسوس کا اظہار کرتا ہے چناچہ یہ آدمی بھی جب آخرت میں اس آدمی کے ثواب کو جو نیک مقصد اور نیک نیت کے ساتھ مسجد آیا تھا دیکھے گا اور اسے معلوم ہوجائے گا کہ مسجد تو سعادت و بھلائی کے حصول کی جگہ تھی تو وہ انتہائی رنج و حسرت میں مبتلا ہوجائے گا کہ میں کیوں اس دولت سے محروم رہا۔ یا پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح کسی غیر آدمی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر اسے بری نگاہ سے (یعنی اچک لینے کی نیت سے) دیکھنا منع ہے اس طرح مسجد میں بغیر نیک کام کی نیت آنا بھی منع ہے۔
تشریح
آپ ﷺ نے اپنی مسجد یعنی مسجد نبوی کی تخصیص کر کے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ چونکہ میری مسجد اپنی عظمت و فضیلت کے اعتبار سے سب سے اعلیٰ وارفع ہے اور دوسری مسجدیں چونکہ اس کے تابع ہیں اس لئے مذکورہ حکم تمام مساجد کے لئے یکساں ہے۔ نیک کام کو سیکھنے اور سکھلانے کی تخصیص صرف ان کی فضیلت و اہمیت کے اظہار کے طور پر ہے ورنہ تو نماز، اعتکاف اور تلاوت و ذکر سب کا یہی حکم ہے۔ حدیث کے آخری جزو کا مطلب یہ ہے کہ جو آدمی مسجد میں نیک مقصد کے تحت نہیں آئے گا اس کی مثال اس آدمی جیسی ہے جس کے پاس کوئی چیز نہ تو وہ اس چیز کو کسی دوسرے کے پاس دیکھ کر حسرت و افسوس کا اظہار کرتا ہے چناچہ یہ آدمی بھی جب آخرت میں اس آدمی کے ثواب کو جو نیک مقصد اور نیک نیت کے ساتھ مسجد آیا تھا دیکھے گا اور اسے معلوم ہوجائے گا کہ مسجد تو سعادت و بھلائی کے حصول کی جگہ تھی تو وہ انتہائی رنج و حسرت میں مبتلا ہوجائے گا کہ میں کیوں اس دولت سے محروم رہا۔ یا پھر اس کے معنی یہ ہیں کہ جس طرح کسی غیر آدمی کے پاس کوئی چیز دیکھ کر اسے بری نگاہ سے (یعنی اچک لینے کی نیت سے) دیکھنا منع ہے اس طرح مسجد میں بغیر نیک کام کی نیت آنا بھی منع ہے۔
704
Mishkaat Shareefوَعَنِ الْحَسَنِ مُرْسَلًا قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَاْتِی عَلَی النَّاسِ زَمَانٌ یَکُوْنُ حَدِیْثُھُمْ فِی مَسَاجِدِ ھِمْ فِی اَمْرِ دُنْیَا ھُمْ فَلاَ تُجَا لِسُوْھُمْ فَلَیْسَ لِلّٰہِ فِیْھِمْ حَاجَۃٌ رَوَاہُ البَیْھَقِیُّ فِی شُعْبِ الِایْمَانِ۔
اور حضرت حسن بصری (رح) سے مرسلاً روایت ہے کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا لوگوں پر عنقریب ایک ایسا وقت آئے گا کہ وہ اپنی دنیا داری کی باتیں مسجدوں میں کیا کریں گے لہٰذا تم ان کے پاس بھی نہ بیٹھنا (تم ان کی گفتگو میں شریک نہ ہونا کہ ان کے شریک کہلاؤ) کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ایسے لوگوں کی ضرورت نہیں ہے۔ (بیہقی)
تشریح
یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے بیزار ہے اور وہ اللہ کی پناہ اور اس کی رحمت سے خارج ہیں۔ نیز اس بات سے بھی کنایہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں ان کی اطاعت و عبادت قبولیت کا درجہ نہیں پائے گا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسجد میں دنیاوی امور کی باتیں کرنا مکروہ ہے چناچہ اور بہت سی احادیث میں بھی مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور دنیاوی باتوں سے مراد ایسی باتیں ہیں جو عبث، بےفائدہ اور حد سے زیادہ ہوں اور اگر دنیاوی باتیں صرف ایک دو کلمہ تک رہیں یا اس درجے کی نہ ہوں تو وہ اس حکم میں داخل نہیں۔
تشریح
یہ اس بات سے کنایہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں سے بیزار ہے اور وہ اللہ کی پناہ اور اس کی رحمت سے خارج ہیں۔ نیز اس بات سے بھی کنایہ ہے کہ اللہ کی بارگاہ میں ان کی اطاعت و عبادت قبولیت کا درجہ نہیں پائے گا۔ یہ حدیث اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ مسجد میں دنیاوی امور کی باتیں کرنا مکروہ ہے چناچہ اور بہت سی احادیث میں بھی مسجد میں دنیاوی باتیں کرنے سے منع کیا گیا ہے اور دنیاوی باتوں سے مراد ایسی باتیں ہیں جو عبث، بےفائدہ اور حد سے زیادہ ہوں اور اگر دنیاوی باتیں صرف ایک دو کلمہ تک رہیں یا اس درجے کی نہ ہوں تو وہ اس حکم میں داخل نہیں۔
705
Mishkaat Shareefوَعَنِ السَّآئِبِ بْنِ ےَزِےْدَ ص قَالَ کُنْتُ نَائِمًا فِی الْمَسْجِدِ فَحَصَبَنِیْ رَجُلٌ فَنَظَرْتُ فَاِذَا ھُوَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ص فَقَالَ اذْھَبْ فَاْتِنِیْ بِہٰذَےْنِ فَجِئْتُہُ بِھِمَا فَقَالَ مِمَّنْ اَنْتُمَا اَوْ مِنْ اَےْنَ اَنْتُمَا قَالَا مِنْ اَھْلِ الطَّآئِفِ قَالَ لَوْ کُنْتُمَا مِنْ اَھْلِ الْمَدِےْنَۃِ لَاَوْجَعْتُکُمَا تَرْفَعَانِ اَصْوَاتَکُمَا فِیْ مَسْجِدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم (صحیح البخاری)
اور حضرت سائب بن یزید فرماتے ہیں کہ میں (ایک روز) مسجد میں پڑا سو رہا تھا کہ کسی آدمی نے میرے کنکر ماری میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عمر ابن خطاب (رض) ہیں۔ انہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم جا کر ان دونوں آدمیوں کو میرے پاس لاؤ۔ (جو مسجد میں بلند آواز سے باتیں کر رہے تھے) میں ان کو بلا لایا حضرت عمر فاروق (رض) نے پوچھا تم کون ہو ؟ یا فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو ؟ انہوں نے کہا کہ ہم طائف کے رہنے والے ہیں ! حضرت عمر (رض) نے فرمایا کہ اگر تم لوگ مدینہ کے رہنے والے ہوتے تو میں تم کو سزا دیتا (یعنی مارتا۔ لیکن چونکہ تم لوگ یہاں کے رہنے والے نہیں ہو اور آداب مسجد سے واقف نہیں ہو یا یہ کہ مسافر ہو اس لئے عفو و شفقت کے مستحق ہو اور فرمایا کہ یہ بڑے افسوس کی بات ہے کہ تم لوگ رسول اللہ ﷺ کی مسجد میں زور زور سے باتیں کر رہے ہو۔ (صحیح البخاری )
تشریح
جملہ اَوْمِنْ اَیْنَ اَنْتُمَا میں لفظ اَوْ شک کے لئے ہے یعنی راوی کو شک واقع ہو رہا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ فرمایا کہ تم کون ہو ؟ یا یہ فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ بہر حال مسجد میں بلند آواز سے باتیں کرنا مکروہ ہے اگرچہ موضوع سخن علم ہی کیوں نہ ہو۔
تشریح
جملہ اَوْمِنْ اَیْنَ اَنْتُمَا میں لفظ اَوْ شک کے لئے ہے یعنی راوی کو شک واقع ہو رہا ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ فرمایا کہ تم کون ہو ؟ یا یہ فرمایا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ بہر حال مسجد میں بلند آواز سے باتیں کرنا مکروہ ہے اگرچہ موضوع سخن علم ہی کیوں نہ ہو۔
706
Mishkaat Shareefوَعَنْ مَالِکٍ قَالَ بَنَی عُمَرُ رَحْبَۃٌ فِی نَاحِیَۃِ الْمَسْجِدِ تُسَمَّی البُطَیْحَاءَ وَقَالَ مَنْ کَانَ یُرِیْدُ اَنْ یَلْفَظَ اَوْ یُنْشِدَ شِعْرًا اَوْیَرْ فَعَ صَوْتَہُ فَلْیَخْرُجْ اِلَی ھٰذِہِ الرَّحْبَۃِ۔ (رواہ فی الموطا)
اور حضرت امام مالک (رح) فرماتے ہیں کہ حضرت عمر فاروق (رض) نے مسجد کے ایک گوشہ میں ایک چبوترہ بنوادیا تھا جس کا نام بطیحا تھا اور لوگوں سے کہہ دیا تھا کہ جو آدمی لغو باتیں کرنا چاہئے یا اشعار پڑھنا چاہے یا (کسی وجہ سے) بلند آواز (سے باتیں) کرنا چاہئے تو اسے چاہئے کہ وہ (مسجد سے نکل کر) اس چبوترہ پر آجائے۔ (موطا)
707
Mishkaat Shareefوَعَنْ اَنَسٍ ص قَالَ رَاَی النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم نُخَامَۃً فِی الْقِبْلَۃِ فَشَقَّ ذَالِکَ عَلَےْہِ حَتّٰی رُأِیَ فِیْ وَجْھِہٖ فَقَامَ فَحَکَّہُ بِےَدِہٖ فَقَالَ اِنَّ اَحَدَکُمْ اِذَا قَامَ فِی الصَّلٰوۃِ فَاِنَّمَا ےُنَاجِیْ رَبَّہُ وَاِنَّ رَبَّہُ بَےْنَہُ وَبَےْنَ الْقِبْلَۃِ فَلَا ےَبْزُقَنَّ اَحَدُکُمْ قِبَلَ قِبْلَتِہٖ وَلٰکِنْ عَنْ ےَّسَارِہٖ اَوْ تَحْتَ قَدَمِہٖ ثُمَّ اَخَذَ طَرَفَ رَدَآئِہٖ فَبَصَقَ فِےْہِ ثُمَّ رَدَّ بَعْضَہُ عَلٰی بَعْضٍ فَقَالَ اَوْ ےَفْعَلُ ھٰکَذَا۔(صحیح البخاری)
اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے (مسجد میں) قبلے کی طرف رینٹھ پڑا ہوا دیکھا تو آپ ﷺ کو بہت ناگوار گذرا یہاں تک کہ اس ناگواری کا اثر آپ کے چہرہ مبارک سے ظاہر ہو رہا تھا۔ چناچہ آپ کھڑے ہوئے اور اسے خود اپنے دست مبارک سے کھرچ کر پھینکا اور فرمایا کہ، تم میں سے جب کوئی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ اپنے پروردگار سے سر گوشی کرتا ہے اور اس وقت اس کا پروردگار اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے لہٰذا ہر ایک کو چاہئے کہ قبلے کی طرف ہرگز نہ تھوکے بلکہ اپنے بائیں طرف یا قدموں کے نیچے تھوک لے۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے اپنی چادر مبارک کا ایک کونہ لیا اور اس میں کچھ تھوکا اور پھر کپڑے کو آپس میں رگڑ کر فرمایا کہ اس طرح کرلیا کرو۔ (صحیح البخاری )
تشریح
اس کا پروردگار اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے۔ کے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ قبلے کی طرف متوجہ ہو کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے اور اس کے قریب ہونے کا ارادہ کرتا ہے لہٰذا چونکہ اس کا مطلوب اور مقصود اس کے اور قبلے کے درمیان ہے اس لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ قبلے کی سمت کو تھوک سے بچایا جائے۔ بائیں طرف یا قدموں کے نیچے تھوکنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ کوئی آدمی مسجد میں نماز نہ پڑھ رہا ہو۔ مسجد میں نماز پڑھنے کی صورت میں بائیں طرف اور قدموں کے نیچے بھی تھوکنا نہیں چاہئے کہ اس سے مسجد کے آداب و احترام میں فرق آتا ہے بلکہ اس صورت میں اگر تھوکنے کی ضرورت محسوس ہو تو کسی کپڑے میں تھوک لیا جائے پھر اسے رگڑ کر صاف کرلیا جائے۔
تشریح
اس کا پروردگار اس کے اور قبلے کے درمیان ہوتا ہے۔ کے معنی یہ ہیں کہ جب کوئی آدمی نماز پڑھنے کھڑا ہوتا ہے تو وہ قبلے کی طرف متوجہ ہو کر اپنے رب کی طرف متوجہ ہونے اور اس کے قریب ہونے کا ارادہ کرتا ہے لہٰذا چونکہ اس کا مطلوب اور مقصود اس کے اور قبلے کے درمیان ہے اس لئے یہ حکم دیا گیا ہے کہ قبلے کی سمت کو تھوک سے بچایا جائے۔ بائیں طرف یا قدموں کے نیچے تھوکنے کا جو حکم دیا گیا ہے وہ اس صورت میں ہے جب کہ کوئی آدمی مسجد میں نماز نہ پڑھ رہا ہو۔ مسجد میں نماز پڑھنے کی صورت میں بائیں طرف اور قدموں کے نیچے بھی تھوکنا نہیں چاہئے کہ اس سے مسجد کے آداب و احترام میں فرق آتا ہے بلکہ اس صورت میں اگر تھوکنے کی ضرورت محسوس ہو تو کسی کپڑے میں تھوک لیا جائے پھر اسے رگڑ کر صاف کرلیا جائے۔
708
Mishkaat Shareefوَعَنْ السَائِبِ بْنِ خَلَّادٍ وَھُوَ رَجُلٌ مِنْ اَصْحَابِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اِنَّ رَجُلاً اَمَّ قَوْمًا فَبَصَقَ فِی الْقِبْلَۃِ وَرَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَنْظُرُ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم لِقَوْمِہٖ حِیْنَ فَرَغَ لَا یُصَلِّیَّ لَکُمْ فَاَرَادَبَعْدَ ذٰلِکَ اَنْ یُّصَلِّیْ لَھُمْ فَمَنَعُوْہُ فَاخْبَرُوْہُ بِقَوْلِ رَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَذَکَرَ ذٰلِکَ لِرَسُوْلِ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَ نَعَمْ وَحَسِبْتُ اَنَّہُ قَالَ اِنَّکَ قَدْاٰذَیْتَ اﷲَ وَرَسُوْلَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت سائب ابن خلاد (رض) نے جو رسول اللہ ﷺ کے ایک صحابی ہیں فرمایا۔ ایک آدمی جماعت کی نماز پڑھا رہا تھا اور اس نے قبلہ کی طرف تھوک دیا (اتفاق سے) رسول اللہ ﷺ (اس کی طرف) دیکھ رہے تھے۔ جب وہ نماز سے فارغ ہوگیا تو آپ ﷺ نے اس کے مقتدیوں سے فرمایا کہ آئندہ سے یہ آدمی تمہیں نماز نہ پڑھائے اس کے بعد اس آدمی نے جب ان کو نماز پڑھانی چاہی تو ان لوگوں نے اسے (امامت سے) روک دیا اور اس سے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد بیان کردیا وہ آدمی رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس واقعہ کا ذکر کیا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں میں نے ہی لوگوں سے تمہیں امام نہ بنانے کے لئے کہا تھا اور راوی فرماتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ آپ ﷺ نے اس آدمی سے (امامت سے روک دینے کا سبب بیان کرتے ہوئے یہ بھی) فرمایا تھا کہ تم نے (اس ممنوع فعل کا ارتکاب کر کے) اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے۔ (ابوداؤد)
709
Mishkaat Shareefوَعَنْ مَعَاذَ بْنِ جَبَلِ قَالَ اَحْتَبْسَ عَنَا رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ غَدَاۃٍ عَنْ صَلَاۃِ الّصُبْحِ حَتَّی کِدْنَا نَتَرَآی عَیْنَ الشَّمْسَ فَخْرَجْ سَرَیْعًا فَثْوِبَ بِالصَّلَاۃِ فَصَلَّی رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَتَجَوَّزَ فِیْ صَلاَتِہٖ فَلَمَّا سَلَّمَ دَعَا بِصُوْتِہٖ فَقَالَ لَنَا عَلٰی مُصْافَکُمْ کَمَا اَنْتُمْ ثُمَّ اَنْفَتَلَ اَلَیْنَا ثُمَّ قَالَ اَمَا اَنِّیْ سَاُحَدِّ ثُکُمْ مَا حَبَسَنِیْ عَنْکَمُ الْغَدَاۃَ اِنِّیْ قُمْتُ مِنَ الِّلیْلِ فَتَوَضَّأُتُ وَصَلَّیْتُ مَا قُدِّرَلِیْ فَنَعَسْتُ فِیْ صَلاَتِیْ حَتَّی اَسْتَثْقَلْتُ فَاِذَا اَنَا بِرَبِّی تَبَاَرَکَ وَ تَعَالیٰ فِیْ اَحْسَنِ صُوْرَۃٍ فَقَالَ یَا مُحَمَّدً قَلْتُ لَبَّیْکَ رَبَّ قَالَ فَیْمَ یَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْاَ عَلٰی قُلْتُ لَا اَدْرِیْ قَالَھَا ثَلاَثًا قَالَ فَرَاَیْتُہُ وَضَعَ کَفَّہُ بَیْنَ کَتِفَیَّ حَتَّی وَجَدْتَّ بَرْدَ اَنَا مِلِہٖ بَیْنَ ثَدْیَیَّ فَتَجَلَّی لِیْ کُلَّ شَیْءٍ وَعَرَفْتُ فَقَالَ یَا مُحَمَّدُ قُلْتَ لَبَّیْکَ رَبِّ قَالَ فَیْمَ یَخْتَصِمُ الْعَلَأُ الْاَ عَلٰی قُلْتُ فِی الْکُفَّارَاتِ قَالَ مَاھُنَّ قُلّتُ مَشّئُی الْاَقْدَامِ اِلَی الْجَمَاعَاتِ وَالْجَلُوْسُ فِی الْمَسَاجِدِ بَعْدَ الصَّلَوَاتِ وَ اِسْبَاغُ الْوُضْوْءِ حَیْنَ الْکَرَیْھَاتِ قَالَ ثُمَّ فَیْم قُلْتُ فِی الدَّرَجَاتَ قَالَ وَمَا ھِنَّ قُلْتُ اِطْعَامُ الطَّعَامَ وَلَیْنُ اْلکَلٰمُ وَ الصَّلٰوۃُ بِاللِّیْلِ وَالنَّاسُ نِیَامٌ قَالَ سَلْ قُلْتُ اَللَّھُمَّ اِنِّی اَسْأَلُکَ فِعْلَ الْخَیْرَاتِ وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاکَیْنِ وَاَنْ تَغْفِرْلِیْ وَتَرْحَمْنِیْ وَاِذَا اَرَدْتُّ فِتْنَۃً فِیْ قَوْمً فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ وَاَسْأَلُکَ حُبَّکَ وَحُبَّ مَنْ یُّحِبُّکَ وَحُبُّ عَمَلَ یُقَرِّبْنِیْ اِلٰی حُبُّکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنَّھَا حَقٌّ فَادْرْ سُوْھَا ثُمَّ تَعْلَمْوْھَا رَوَاہُ اَحْمَدْ بِنْ حَنْبَلْ وَاَلْتَرْمَذِیْ وَقَالَ ھٰذَا حَدَیْثٌ حَسَنٌ صَحَیْحٌ سَأَلْتُ مُحَمَّدَ اِبْنِ اِسَمٰعَیْلَ عَنْ ھٰذَا الْحَدَیْثِ فَقَالَ ھٰذَا حَدَیْثٌ صَحِیْحٌ۔
اور حضرت معاذ بن جبل (رض) فرماتے ہیں کہ ایک روز سرور کائنات ﷺ نے صبح کی نماز میں تشریف لانے میں (خلاف عادت اتنی) تاخیر فرمائی کہ قریب تھا کہ سورج نکل آئے۔ اتنے میں رسول اللہ ﷺ جھپٹتے ہوئے تشریف لائے چناچہ نماز کے لئے تکبیر کہی گئی اور آپ ﷺ نے (صحابہ کے ہمراہ) نماز پڑھی (اس طرح کہ) نماز میں تخفیف کی (یعنی چھوٹی چھوٹی سورتیں پڑھیں اور سلام پھیرنے کے بعد ہم سے بآواز بلند فرمایا کہ جس طرح تم لوگ بیٹھے ہو اسی طرح اپنی اپنی جگہ پر بیٹھے رہنا پھر آپ ﷺ ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا کہ ہوشیار ! میں آج صبح کی نماز میں دیر سے آنے کی وجہ بیان کرتا ہوں (وہ یہ ہے) کہ میں نے آج رات (تہجد کی نماز کے لئے اٹھ کر وضو کیا اور جو کچھ میرے مقدر میں نماز تھی پڑھی اور نماز ہی میں مجھے اونگھ آگئی یہاں تک کہ نیند مجھ پر غالب آگئی (اس وقت) اچانک میں نے اپنے پروردگار بزرگ و برتر کو اچھی صورت میں (یعنی اچھی صفت کے ساتھ) دیکھا۔ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا، اے محمد ! میں نے عرض کیا پروردگار میں حاضر ہوں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا (تمہیں معلوم ہے) مقربین فرشتے کس بات پر بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ پروردگار نہیں جانتا۔ اللہ تعالیٰ نے تین مرتبہ اسی طرح پوچھا (اور میں یہی جواب دیتا رہا) ۔ رسول اللہ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے دیکھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے کندھوں کے درمیان اپنا ہاتھ رکھا یہاں تک کہ میں نے اللہ تعالیٰ کی انگلیوں کی ٹھنڈک اپنے سینے پر محسوس کی (جس کا اثر یہ ہوا کہ) میرے سامنے ہر چیز ظاہر ہوگئی اور تمام باتیں جان گیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے محمد ﷺ ! میں نے عرض کیا کہ پروردگار میں حاضر ہوں فرمایا (اب بتاؤ) مقربین فرشتے کس بات پر بحث کر رہے ہیں ؟ میں نے عرض کی کہ گناہوں کو مٹا دینے والی چیزوں کے بارے میں ! اللہ تعالیٰ نے فرمایا وہ کون سی چیزیں ہیں ؟ میں نے عرض کیا کہ جماعت کے واسطے (مسجدوں میں) آجانا اور نماز پڑھ کر (اور دعا وغیرہ کے لئے) مسجد میں بیٹھے رہنا اور سختی کے ساتھ (جس وقت کہ سردی یا بیماری کی وجہ سے پانی کو استعمال کرنا تکلیف دہ معلوم ہو) اچھی طرح وضو کرنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا اور کس چیز کے بارے میں بحث کر رہے ہیں میں نے عرض کیا کہ درجات کے بارے میں فرمایا وہ کیا ہیں میں نے عرض کیا کہ غریبوں اور مسکینوں کو کھانا کھلانا نرم لہجے میں بات کرنا اور رات کو اس وقت (تہجد کی) نماز پڑھنا جب کہ لوگ سوئے ہوئے ہوں پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا اچھا اب اپنے لئے جو چاہو دعا کرو۔ چناچہ میں نے دعا کی کہ اے اللہ ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے، برائیوں کے چھوڑنے، مسکینوں کی دوستی، اپنی بخشش اور تیری رحمت کا سوال کرتا ہوں اور جب تو کسی قوم میں گمراہی ڈالنا چاہئے تو مجھے بغیر گمراہی کے اٹھالے اور میں تجھ سے تیری محبت (یعنی یہ کہ میں تجھے دوست رکھوں یا تو مجھے دوست رکھے) اور اس آدمی کی محبت جو تجھ سے محبت کرتا ہے ( یہ کہ میں اسے دوست رکھوں یا وہ مجھے دوست رکھے) اور ایسے عمل کی محبت کا جو تیری محبت سے نزدیک کر دے گا سوال کرتا ہوں۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے (ہم سے) فرمایا کہ یہ خواب بالکل سچ ہے لہٰذا تم اسے یاد کرو اور پھر لوگوں کو سکھلاؤ (مسند احمد بن حنبل، جامع ترمذی) اور امام ترمذی فرماتے ہیں کہ میں نے محمد بن اسمعیل سے اس حدیث کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا کہ یہ حدیث صحیح ہے) ۔
تشریح
اس حدیث کی وضاحت اسی باب کی حدیث نمبر ٣٤ کی تشریح میں کی جا چکی ہے اس لئے یہاں اب مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے تاہم اتنی بات سمجھ لیجئے کہ اس حدیث سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا تھا اور یہ سوال و جواب حالت خواب ہی میں ہوئے تھے۔
تشریح
اس حدیث کی وضاحت اسی باب کی حدیث نمبر ٣٤ کی تشریح میں کی جا چکی ہے اس لئے یہاں اب مزید وضاحت کی ضرورت نہیں ہے تاہم اتنی بات سمجھ لیجئے کہ اس حدیث سے بصراحت معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے اللہ تعالیٰ کو خواب میں دیکھا تھا اور یہ سوال و جواب حالت خواب ہی میں ہوئے تھے۔
710
Mishkaat Shareefوَعَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَقُوْلُ اِذَا دَخَلَ المَسْجِدَ اَعُوْذُ بِاﷲِ الْعَظِیْمِ وَبِوَجْھِہِ الْکَرِیْمِ وَسُلْطَانِہِ الْقَدِیْمِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ قَالَ فَاِذَا قَالَ ذٰلِکَ قَالَ الشَّیْطَانُ حَفِظَ مِنِّی سَائِرَ الیَوْمِ۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ ابن عمرو ابن عاص (رض) فرماتے ہیں کہ سرور کائنات ﷺ جب مسجد میں داخل ہوتے تھے تو یہ دعا پڑھتے تھے۔ اعوذ باللہ العظیم وبوجھہ الکریم و سلطانہ القدیم من الشیطن الرحیم یعنی میں اللہ عطمت والے بزرگ ذات والے اور ہمیشہ کی سلطنت والے کے ساتھ شیطان مردود سے پناہ مانگتا ہوں۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جب کوئی آدمی مسجد میں داخل ہونے کے وقت یہ دعا پڑھتا ہے تو شیطان (اس آدمی کے بارے) میں کہتا ہے کہ یہ بندہ تمام دن میرے شر سے محفوظ رہا۔ (ابوداؤد)
711
Mishkaat Shareefوَعَنْ عَطَاءِ بْنِ یَسَارِ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اﷲِ صَلَّی اﷲُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا یُعْبَدُ اِشْتَدَّ غَضَبُ اﷲِ عَلَی قَوْمٍ اِتَّخَذُوْاقُبُوْرَ اَنْبِیَا ئِھِمْ مَسَاجِدَ۔ (رواہ مالک مرسلا)
اور حضرت عطاء ابن یسار (رض) راوی ہیں کہ سرور کائنات ﷺ نے فرمایا (یعنی یہ دعا فرمائی) اَللّٰھُمَّ لَا تَجْعَلْ قَبْرِی وَثَنًا یُعْبَدُ یعنی اے اللہ ! میری قبر کو بت نہ بنا کہ لوگ اس کی عبادت کرنے لگیں۔ (اور آپ ﷺ نے فرمایا) جن لوگوں نے اپنے انبیاء کی قبروں کو سجدہ گاہ بنا لیا ان پر اللہ تعالیٰ کا شدید غضب (نازل) ہوا۔ (مالک (رح) مرسلاً )
تشریح
آپ ﷺ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ پروردگار ! تو میری قبر کو اس معاملے میں بتوں کی مانند نہ کر کہ میری امت کے لوگ میری قبر کی خلاف شرع تعطیم کرنے لگیں یا باربار زیارت کے لئے میلے کے طور آنے لگیں، یا میری قبر کو سجدہ گاہ قرار دے کر اپنی پیشانیوں کو جو صرف تیری ہی چوکھٹ پر جھکنے کی سزا وار ہے اس پر جھکانے لگیں اور سجدے کرنے لگیں۔ اس حدیث کو اور اس دعا کو بار بار پڑھیے اور ذرا آج کے حالات پر اس کو منطبق کیجئے پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی اس دعا کا تعلق آنے والے زمانے سے تھا چناچہ آپ ﷺ کی عرفانی نگاہوں نے اس وقت دیکھ لیا تھا کہ وہ وقت آنے والا ہے۔ کہ جب کہ میری قبر تو الگ رہی اولیاء اللہ کے مزارات پر سجدہ ریزی ہوگی مقبروں پر میلے لگیں گے وہاں عرس قوالیاں ہوں گی، قبروں پر چادریں اور پھولوں کا چڑھاوا چڑھے گا۔ غرض کہ جس طرح ایک بت پرست قوم اللہ کی عبادت و فرمانبرداری سے سرکشی اور تمرد اختیار کر کے بتوں کے ساتھ معاملہ کرتی ہے میری امت کے بدقسمت اور بدنصیب لوگ جو میرے نام کے شیدائی کہلائیں گے، میرے محبت سے سر شاری کا دعوی کریں گے۔ میری لائی ہوئی پاک و صاف شریعت کی آڑ میں میرے دین کے نام پر وہی معاملہ قبروں کے ساتھ کریں گے لہٰذا آپ نے دعا فرمائی کہ اے پروردگار ! تو میری امت کو ایسی گمراہی میں مبتلا نہ کیجئے کہ وہ میری قبر کو پوجنے لگیں۔ جملہ اشتد غضب الخ کا تعلق دعا سے نہیں ہے بلکہ یہ جملہ مستانفہ یعنی ایک الگ جملہ ہے گویا جب آپ ﷺ نے یہ دعا کی تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ دعا آپ ﷺ کیوں کر رہے ہیں تو اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا اشتد الخ یعنی میں اپنی امت پر انتہائی شفقت و مہربانی کے لئے یہ دعا کر رہا ہوں کہ مبادا یہ بھی اس لعنت میں مبتلا نہ ہوجائیں جس طرح کہ یہود وغیرہ اس لعنت میں مبتلا ہو کر اللہ ذوالجلال کے غضب میں گرفتار ہوئے۔
تشریح
آپ ﷺ کی دعا کا مطلب یہ ہے کہ پروردگار ! تو میری قبر کو اس معاملے میں بتوں کی مانند نہ کر کہ میری امت کے لوگ میری قبر کی خلاف شرع تعطیم کرنے لگیں یا باربار زیارت کے لئے میلے کے طور آنے لگیں، یا میری قبر کو سجدہ گاہ قرار دے کر اپنی پیشانیوں کو جو صرف تیری ہی چوکھٹ پر جھکنے کی سزا وار ہے اس پر جھکانے لگیں اور سجدے کرنے لگیں۔ اس حدیث کو اور اس دعا کو بار بار پڑھیے اور ذرا آج کے حالات پر اس کو منطبق کیجئے پھر آپ کو معلوم ہوگا کہ رسول اللہ ﷺ کی اس دعا کا تعلق آنے والے زمانے سے تھا چناچہ آپ ﷺ کی عرفانی نگاہوں نے اس وقت دیکھ لیا تھا کہ وہ وقت آنے والا ہے۔ کہ جب کہ میری قبر تو الگ رہی اولیاء اللہ کے مزارات پر سجدہ ریزی ہوگی مقبروں پر میلے لگیں گے وہاں عرس قوالیاں ہوں گی، قبروں پر چادریں اور پھولوں کا چڑھاوا چڑھے گا۔ غرض کہ جس طرح ایک بت پرست قوم اللہ کی عبادت و فرمانبرداری سے سرکشی اور تمرد اختیار کر کے بتوں کے ساتھ معاملہ کرتی ہے میری امت کے بدقسمت اور بدنصیب لوگ جو میرے نام کے شیدائی کہلائیں گے، میرے محبت سے سر شاری کا دعوی کریں گے۔ میری لائی ہوئی پاک و صاف شریعت کی آڑ میں میرے دین کے نام پر وہی معاملہ قبروں کے ساتھ کریں گے لہٰذا آپ نے دعا فرمائی کہ اے پروردگار ! تو میری امت کو ایسی گمراہی میں مبتلا نہ کیجئے کہ وہ میری قبر کو پوجنے لگیں۔ جملہ اشتد غضب الخ کا تعلق دعا سے نہیں ہے بلکہ یہ جملہ مستانفہ یعنی ایک الگ جملہ ہے گویا جب آپ ﷺ نے یہ دعا کی تو لوگوں نے پوچھا کہ یہ دعا آپ ﷺ کیوں کر رہے ہیں تو اس کے جواب میں آپ ﷺ نے فرمایا اشتد الخ یعنی میں اپنی امت پر انتہائی شفقت و مہربانی کے لئے یہ دعا کر رہا ہوں کہ مبادا یہ بھی اس لعنت میں مبتلا نہ ہوجائیں جس طرح کہ یہود وغیرہ اس لعنت میں مبتلا ہو کر اللہ ذوالجلال کے غضب میں گرفتار ہوئے۔