hadith book logo

Mishkaat Shareef

24. آرزوئے موت اور موت کو یاد رکھنے کی فضیلت کا بیان

مشكاة المصابيح

1574
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : الفار من الطاعون كالفار من الزحف والصابر فيه له أجر شهيد . رواه أحمد
جسمانی تکلیف و مصیبت اور دنیاوی ضرر نقصان مثلاً مرض، تنگدستی اور دوسری بلاء و پریشانیوں کی وجہ سے موت کی آرزو کرنا مکروہ ہے کیونکہ یہ بےصبری اور تقدیر الٰہی پر راضی نہ ہونے کی علامت ہے۔ دیدار الٰہی کے شوق و محبت، اس سرائے فانی اور اس کی محبت سے نجات، دارالبقاء پہنچنے کی خواہش اور وہاں کی نعمتوں کی تمنا میں موت کی آرزو ایمان اور کمال ایمان کی نشانی ہے۔ اسی طرح دینی ضرر و نقصان کے خوف سے بھی موت کی آرزو کرنا مکروہ نہیں ہے۔ موت کو یاد رکھنا دراصل کنایہ ہے اس بات سے کہ اللہ رب العز کا خوف قلب میں جاگزین ہو اس کی رضاء و خوشنودی کا حصول اور اس کی اطاعت و فرمانبرداری ہمہ وقت پیش نظر ہے رسول کریم ﷺ کی محبت اور ان کی لائی ہوئی شریعت پر عمل ہو، توبہ و استغفار کا ورد ہو اور دنیاوی نفع نقصان پر آخرت کے نفع و نقصان کو مقدم رکھا جائے۔ ورنہ تو محض موت کو یاد رکھنا اور یاد کرنا اور عملی طور پر بےراہ روی اختیار کرنا چنداں فائدہ مند نہیں ہے بلکہ قساوت قلب کا سبب ہے جیسا کہ غفلت کے ساتھ اللہ رب العزت کو یاد کرنا کوئی حیثیت نہیں رکھتا۔ نسأل اللہ العافیۃ۔
1575
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتمنى أحدكم الموت إما محسنا فلعله أن يزداد خيرا وإما مسيئا فلعله أن يستعتب . رواه البخاري
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص موت کی آرزو نہ کرے (کیونکہ) اگر وہ (یعنی موت کی آرزو کرنے والا) نیکو کار ہے تو ہوسکتا ہے کہ (اس کی عمر دراز ہونے کی وجہ سے) اس کے نیک اعمال میں زیادتی ہوجائے اور اگر بدکار ہے تو ہوسکتا ہے کہ وہ (توبہ کر کے اور لوگوں کے حقوق ادا کر کے) اللہ رب العزت کی رضا و خوشنودی حاصل کرلے (بخاری)
1576
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي هريرة رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتمنى أحدكم الموت ولا يدع به من قبل أن يأتيه إنه إذا مات انقطع أمله وإنه لا يزيد المؤمن عمره إلا خيرا . رواه مسلم
حضرت ابوہریرہ (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص نہ (تو دل سے) موت کی آرزو کرے اور (زبان سے) موت کی دعا مانگے قبل اس کے کہ اس کی موت آئے۔ کیونکہ انسان جب مرجاتا ہے تو (بھلائی کی زیادتی کے لئے) اس کی امیدیں منقطع ہوجاتی ہیں اور مؤمن کی عمر کی درازی اس کی بھلائی ہی میں زیادتی کرتی ہے ۔ (مسلم)

تشریح
ظاہر ہے کہ جب انسان کی زندگی ختم ہوجاتی ہے تو نیکی و بھلائی کی راہیں بھی منقطع ہوجاتی ہیں کیونکہ اگر زندگی ہوگی تو اعمال نیک ہوں گے اور جب اعمال نیک ہوں گے تو سعادت بھلائی میں زیادتی ہی زیادت ہوگی اسی لئے فرمایا گیا کہ بندہ مؤمن کی زندگی جب دراز ہوتی ہے تو اس کی وجہ سے اس کی بھلائی وسعادت میں زیادتی ہوتی ہے کیونکہ بندہ مؤمن بلاء و مصیبت پر صبر کرتا ہے نعمتوں کا شکر ادا کرتا ہے، تقدیر الٰہی سے راضی رہتا ہے اور اللہ تعالیٰ و رسول اللہ ﷺ کے احکام کی فرمانبرداری کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کا ثواب بڑھتا ہی جاتا ہے۔
1577
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أنس قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : لا يتمنين أحدكم الموت من ضر أصابه فإن كان لابد فاعلا فليقل : اللهم أحيني ما كانت الحياة خيرا لي وتوفني إذا كانت الوفاة خيرا لي
حضرت انس (رض) راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا تم میں سے کوئی شخص (جسمانی و مالی) ضرر و تکلیف کی وجہ سے کہ جو اسے پہنچے موت کی آرزو نہ کرے اور اگر اس قسم کی آرزو ضروری ہی ہے تو پھر یہ دعا مانگے دعا (اللہم احینی ما کانت الحیاۃ خیرا لی وتوفنی اذا کانت الوفاۃ خیرا لی۔ اے اللہ ! مجھ کو اس وقت تک زندہ رکھ جب تک میرے لئے زندگی (موت سے) بہتر ہو اور مجھے موت دے اس وقت دے جب کہ میرے لئے موت (زندگی سے) بہتر ہو۔

تشریح
نووی (رح) نے فتویٰ دیا ہے کہ دینی فتنہ و فساد کے خوف سے موت کی آرزو کرنا مکروہ نہیں ہے بلکہ مستحب ہے۔ چناچہ اس سلسلہ میں انہوں نے حضرت امام شافعی اور حضرت عمر بن عبدالعزیز رحمہما اللہ وغیرھما کے بارے میں نقل کیا ہے کہ ان حضرات نے دینی فتنہ و فساد کے خوف سے موت کی آرزو کی تھی اسی طرح کے راستہ میں شہادت کی آرزو کرنی بھی مستحب ہے اس لئے کہ یہ حضرت عمر (رض) وغیرہ سے ثابت و منقول ہے بلکہ حضرت معاذ (رض) کے بارے میں تو یہاں تک منقول ہے کہ انہوں نے طاعون عمو اس کے وقت موت کی آرزو کی تھی اس لئے معلوم ہوا کہ شہادت کی آرزو کرنا اگرچہ وہ از قسم طاعون وغیرہ ہی کیوں نہ ہو مستحب ہے۔ مسلم میں یہ روایت منقول ہے کہ جس شخص نے صدق دل سے اور خلوص نیت کے ساتھ شہادت کی تمنا کی تو اسے شہادت کا ثواب دیا جاتا ہے (اگرچہ اسے شہادت حاصل نہ ہو سکے) مدینہ میں موت کی آرزو کرنا مستحب ہے کیونکہ بخاری میں منقول ہے کہ حضرت عمر (رض) نے یہ دعا مانگی تھی۔ دعا (اللہم ارزقنی شہادۃ فی سبیلک واجعل موتی فی بلد رسولک) اے اللہ ! اپنی راہ میں مجھے شہادت نصیب فرما اور اپنے رسول کے شہر میں مجھے موت دے۔ حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ اس وقت تک زندگی موت سے بہتر ہے جب تک کہ گناہ کے مقابلہ میں طاعات زیادہ ہوں اور زمانہ دینی فتنہ و فساد سے خالی ہو۔ ہاں جب صورت حال بالکل برعکس ہو۔ بایں طور کہ طاعات کے مقابلہ میں گناہ زیادہ ہوں اور زمانہ دینی فتنہ و فساد سے خالی نہ ہو تو پھر جینے سے مرجانا ہی بہتر ہے۔
1578
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبادة بن الصامت قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه فقالت عائشة أو بعض أزواجه : إنا لنكره الموت قال : ليس ذلك ولكن المؤمن إذا حضره الموت بشر برضوان الله وكرامته فليس شيء أحب إليه مما أمامه فأحب لقاء الله وأحب الله لقاءه وإن الكافر إذا حضر بشر بعذاب الله وعقوبته فليس شيء أكره إليه مما أمامه فكره لقاء الله وكره الله لقاءه
حضرت عبادہ بن صامت راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات کو پسند نہیں کرتا ہے (یہ سن کر) ام المؤمنین حضرت عائشہ (رض) نے یا آپ ﷺ کی ازواج مطہرات میں سے کسی اور زوجہ مطہرہ نے عرض کیا کہ ہم تو موت کو ناپسند کرتے ہیں ! آپ ﷺ نے فرمایا (یہ مراد) نہیں بلکہ (مراد یہ ہے کہ) جب مؤمن کی موت آتی ہے تو اس بات کی خوشخبری دی جاتی ہے کہ اللہ اس سے راضی ہے اور اسے بزرگ رکھتا ہے چناچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے (یعنی اللہ کے ہاں اپنے اس فضیلت و مرتبہ سے) زیادہ کسی چیز (یعنی دنیا اور دنیا کی چمک دمک) کو محبوب نہیں رکھتا، اس لئے بندہ مؤمن اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو پسند کرتا ہے۔ اور جب کافر کو موت آتی ہے تو اسے (قبر میں) اللہ کے عذاب اور (دوزخ کی سخت ترین) سزا کی خبر دی جاتی ہے۔ چناچہ وہ اس چیز سے جو اس کے آگے آنے والی ہے (یعنی عذاب و سزا) سے زیادہ کسی اور چیز کو ناپسند نہیں کرتا اس لئے وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے اور اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات کو ناپسند کرتا ہے (یعنی اسے اپنی رحمت اور مزید نعمت سے دور رکھتا ہے) اس روایت کو بخاری اور مسلم نے نقل کیا ہے۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت میں منقول ہے کہ موت اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے پہلے ہے ۔

تشریح
مشہور تو یہی ہے کہ لقاء مولیٰ (یعنی اللہ کی ملاقات) سے مراد موت ہے، لیکن اس بارے میں تحقیقی بات یہ ہے کہ لقاء مولیٰ سے موت مراد نہیں ہے بلکہ مراد یہ ہے کہ آخرت کی طرف متوجہ ہونا، حق تعالیٰ کی رحمت و مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی کا طالب ہونا، دنیا کی طرف مائل نہ ہونا اور دنیا و آخرت کی محبت میں گرفتار نہ ہونا۔ لہٰذا جس شخص نے دنیا ترک کی اور دنیا اور اس کی چیزوں کو ناپسند کیا اس نے گویا لقاء مولیٰ کو پسند کیا ! اور جس شخص نے دنیا کو اختیار کیا، دنیا کی چیزوں کی محبت میں گرفتار ہوا اور دنیا کی طرف اپنا میلان رکھا اس نے گویا لقاء مولیٰ کو ناپسند رکھا ! یہی وجہ ہے کہ لقاء مولیٰ کا اشتیاق موت کی محبت اور اس کے اشتیاق کو لازم ہے یعنی جو شخص لقاء مولیٰ کو پسند کرے گا وہ موت کو بھی پسند کرے گا کیونکہ لقاء مولیٰ کے لئے موت وسیلہ ہے۔ ام المؤمنین چونکہ یہی سمجھیں تھیں کہ لقاء مولیٰ سے مراد موت ہے اس لئے آنحضرت ﷺ نے اپنے ارشاد لیس الامر کذالک کے ذریعہ وضاحت فرمائی کہ لقاء مولیٰ سے مراد موت نہیں ہے اور نہ یہ مراد ہے کہ بتقاضائے جبلت طبعی موت سے محبت ہو اور بالفعل موت کی آرزو کرنی چاہئے بلکہ مراد یہ ہے کہ جو شخص رضاء حق کا طالب ہو اور لقاء مولیٰ کا شائق ہوتا ہے وہ لقاء مولیٰ کے لئے وسیلہ ہونے کی وجہ سے موت کو ہمیشہ عقلی طور پر محبوب رکھتا ہے جس کا اثر یہ ہوتا ہے کہ جب زندگی کا وقت پورا ہونے لگتا ہے اور موت کا وقت قریب آتا ہے اور اسے حق تعالیٰ کی رضا و خوشنودی کی خوشخبری دیدی جاتی ہے تو پھر اس وقت وہ موت کو طبعی طور پر پسند کرتا ہے اور لقاء مولیٰ کا اشتیاق اس کی طبعی خواہش کی آواز بن جاتا ہے چناچہ حدیث کے الفاظ ولکن المؤمن الخ (یعنی جب مؤمن کو موت آتی ہے تو اس بات کی خوشخبری دی جاتی ہے کہ اللہ اس سے راضی ہے الخ) اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں۔ حضرت عائشہ (رض) کی روایت کے الفاظ موت اللہ کی ملاقات سے پہلے ہے کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کا دیدار موت سے پہلے ممکن نہیں ہے بلکہ موت کے بعد ہی یہ شرف حاصل ہوتا ہے یا پھر یہ مراد ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کی ملاقات کو پسند کرتا ہے وہ موت کو بھی پسند کرتا ہے کیونکہ اس عظیم شرف وسعادت کا حصول موت کے ذریعہ سے ممکن ہے اور یہ کہ لقاء الٰہی کا وجود موت کے وجود سے پہلے متصور نہیں ہے اس سے معلوم ہوا کہ لقاء الٰہی اور موت دنوں ایک چیز نہیں ہیں بلکہ دونوں الگ الگ مفہوم کے حامل ہیں۔
1579
Mishkaat Shareef
صحیح
وفي رواية عائشة : والموت قبل لقاء الله
حضرت ابوقتادہ (رض) یہ حدیث بیان کرتے ہیں کہ ( ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ کے سامنے ایک جنازہ لایا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ راحت پانے والا ہے، یا یہ کہ اس سے دوسروں کو راحت نصیب ہوئی ؟ صحابہ نے عرض کیا کہ راحت پانے والا کون ہے ؟ اور وہ کون ہے جس سے دوسروں کو راحت نصیب ہوتی ہے ؟ آپ نے فرمایا بندہ مؤمن اپنی موت کے ذریعہ دنیا کے رنج و ایذاء سے راحت پاتا ہے اور اللہ کی رحمت کی طرف جاتا ہے اور بندہ فاجر (یعنی گنہگار) کی موت کے ذریعہ اس کے شر فساد سے بندے، شہر، درخت اور جانور (سب ہی) راحت پاتے ہیں (بخاری و مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب بندہ مؤمن وفات پاتا ہے تو وہ دنیا کے رنج سے بایں طور راحت پاتا ہے کہ دنیا میں اعمال و احوال کی وجہ سے وہ جس مشقت و محنت میں مبتلا تھا اس سے نجات مل جاتی ہے اور دنیا کی ایذاء سے بایں طور راحت پاتا ہے کہ وہ دنیاوی تکلیف و پریشانی مثلاً گرمی سردی، تنگدستی و مفلسی وغیرہ سے یا یہ کہ اہل دنیا کی ایذاء رسانی سے اسے چھٹکارا مل جاتا ہے۔ اسی لئے مسروق (رح) نے کہا ہے کہ مجھے کسی چیز پر بھی کسی چیز کے سبب اتنا رشک نہیں آتا جتنا رشک اس مؤمن پر آتا ہے جو قبر میں سلا دیا جاتا ہے کیونکہ وہ اللہ کے عذاب سے مامون ہوجاتا ہے اور دنیا سے راحت و سکون پا لیتا ہے۔ نیز ابوداؤد (رح) فرماتے ہیں کہ میں اپنے رب کے پاس جانے کے شوق میں موت کو پسند کرتا ہوں۔ گناہ کے کفارہ کے لئے مرض کو پسند کرتا ہوں۔ اور اپنے رب کے سامنے تواضع و انکساری کی خاطر فقر کو پسند کرتا ہوں۔ جب بندہ فاجر یعنی گنہگار مرتا ہے تو اس سے بندے تو یوں راحت پاتے ہیں کہ جب وہ اپنی زندگی میں خلاف شرع باتیں کرتا اور لوگ اسے منع کرتے تو وہ انہیں ایذاء پہنچاتا اور اگر سکوت و خاموشی اختیار کرتے تو اپنے دین اور اپنی دنیا کو نقصان پہنچاتے۔ اور جب وہ گنہگار مرگیا تو لوگوں نے اس سے چھٹکارا پایا۔ اور شہر و درخت وغیرہ اس کے مرنے سے بایں طور راحت پاتے ہیں کہ گناہ و ظلم ہونے کی وجہ سے عالم میں فساد پیدا ہوجاتا ہے۔ ارکان دین میں خلل واقع ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ گنہگارو ظالم کو مبغوض رکھتا ہے لہٰذا اس کی وجہ سے زمین اور وہ تمام چیزیں جو زمین میں ہیں نقصان اٹھاتی ہیں پھر یہ کہ اس کی شومی گناہ کے سبب اللہ تعالیٰ بارش نہیں برساتا، اب جب کہ مرا تو بادلوں نے اپنے منہ کھول دیئے اور زمین کا شجر و پودا ہرا بھرا ہوگیا اور اس طرح سب ہی نے راحت پائی۔
1580
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي قتادة أنه كان يحدث أن رسول الله صلى الله عليه و سلم مر عليه بجنازة فقال : مستريح أو مستراح منه فقالوا : يا رسول الله ما المستريح والمستراح منه ؟ فقال : العبد المؤمن يستريح من نصب الدنيا وأذاها إلى رحمة الله والعبد الفاجر يستريح منه العباد والبلاد والشجر والدواب
حضرت عبداللہ بن عمر (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے (پہلے تو) میرا مونڈھا پکڑا (تاکہ میں متنبہ ہوجاؤں) پھر فرمایا تم دنیا میں اس طرح رہو گویا کہ تم مسافر بلکہ راہ گیر ہو حضرت ابن عمر (رض) (اس کے بعد لوگوں سے) فرمایا کرتے تھے کہ جب شام ہوجائے تو صبح کا انتظار نہ کرو اور جب صبح ہوجائے تو شام کا انتظار نہ کرو، نیز اپنی صحت کو بیماری سے غنیمت جانو اور اپنی زندگی کو موت سے غنیمت سمجھو ۔ (بخاری)

تشریح
یہاں حدیث میں لفظ بمنکنی حرف یا کے سکون کے ساتھ بصیغہ مفرد نقل کیا گیا ہے جبکہ مشکوۃ کے ایک دوسرے نسخہ میں حرف یا کے تشدید کے ساتھ بصیغہ تثنیہ منقول ہے۔ فانک غریب (گویا تم مسافر ہو) کا مطلب یہ ہے کہ تم دنیا کی طرف رغبت نہ رکھو اس لئے کہ تم اس دنیا سے آخرت کی طرف سفر کرنے والے ہو، لہٰذا تم اس دنیا کو اپنا وطن نہ بناؤ، دنیا کی لذتوں کے ساتھ الفت نہ رکھو اور دنیا دار لوگوں سے اور ان کے اختلاط سے اپنے آپ کو بچاؤ کیونکہ تم ان سب لوگوں سے جدا ہونے والے ہو، اس دنیا میں اپنی بقا کو وہم و گمان میں بھی نہ رکھو، ان امور سے قطعا اجتناب کرو جن سے ایک مسافر غیر وطن میں اجتناب کرتا ہے اور ان چیزوں سے مشغول نہ رہو جن میں وہ مسافر کہ جو اپنے اہل و عیال اور اپنے وطن کی طرف جانے کا ارادہ رکھتا ہے، مشغول نہیں ہوتا، گویا کہ تم کلیۃ اس دنیا میں بالکل اسی طرح رہو جس طرح کہ ایک مسافر اپنے وطن اور اپنے اہل و عیال سے دور غیر وطن میں رہتا ہے۔ پھر آگے زیادہ مبالغہ کے ساتھ فرمایا کہ بلکہ ایک راہ گیر (راستہ چلنے والے) کی طرح رہو کیونکہ مسافر تو اپنے سفر کے دوران مختلف شہروں میں قیام بھی کرلیتا ہے بخلاف راستہ چلنے والے کے کہ وہ تو کسی جگہ قیام بھی نہیں کرتا۔ لہٰذا دنیا کو نہ صرف یہ کہ سفر گاہ سمجھنا چاہئے بلکہ یہ خیال کرنا چاہئے کہ راستہ چل رہا ہوں نہ تو وطن میں ہوں اور نہ حالت سفر میں کہیں ٹھہرا ہوا ہوں۔ جب صبح ہوجائے تو شام کا انتظار نہ کرو الخ اس ارشاد کا مطلب یہ ہے کہ کسی بھی شخص کو اپنی موت کے وقت کا علم نہیں نہ معلوم موت کا پنجہ کس وقت گردن آدبوچے، ایک لمحے کے لئے بھی کسی زندگی کا بھروسہ نہیں ہے صبح کے وقت کسی کو معلوم نہیں کہ شام کا وقت دیکھنا بھی نصیب ہوگا یا نہیں، شام کے وقت کوئی شخص نہیں کہہ سکتا کہ صبح تک اس کی زندگی ضرور ہی باقی رہے گی حاصل یہ کہ صبح و شام ہر وقت تم موت کو اپنے سامنے حاضر سمجھو، زندگی کی آرزؤوں اور تمناؤں کو دراز نہ کرو، عمل خیر کرنے میں پیش روی اختیار کرو دن کی عبادات اور نیک اعمال کو رات پر اور رات کی عبادات و نیک اعمال کو دن پر اٹھا نہ رکھو کیونکہ غنیمتے شمر اے شمع وصل پروانہ ایں معاملہ تا صبح دم نہ خواہد ماند صحت کو بیماری سے غنیمت جانو کا مطلب یہ ہے کہ صحت و تندرستی کی حالت میں جس قدر ممکن ہو سکے زیادہ سے زیادہ نیک اعمال کرو تاکہ حالت بیماری میں جب تم نیک اعمال کرنے پر قادر نہ رہوگے ویسا ہی ثواب پا سکو۔ اپنی زندگی کو موت سے غنیمت جانو یعنی تمہاری جتنی بھی زندگی ہے اس میں عمل ہی عمل کئے جاؤ تاکہ جب یہ زندگی اپنا وقت پورا کرے اور تم موت کی آغوش میں پہنچ جاؤ تو پھر اس کے بعد تمہاری زندگی کے انہیں اعمال کا ثواب تمہیں پہنچتا رہے۔ غنیمت داں جو انا دولت حسن جوانی را نہ پنداری کہ ایام جوانی جاوداں باشد بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ حدیث کے الفاظ اذا امسیت۔۔۔ من حیاتک لموتک حضرت ابن عمر (رض) کا ارشاد موقوف ہے لیکن احیاء العلوم میں اسے مرفوعاً یعنی آنحضرت ﷺ کا ارشاد نقل کیا گیا ہے۔ واللہ اعلم
1581
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن عمر قال : أخذ رسول الله صلى الله عليه و سلم بمنكبي فقال : كن في الدنيا كأنك غريب أو عابر سبيل . وكان ابن عمر يقول : إذا أمسيت فلا تنتظر الصباح وإذا أصبحت فلا تنتظر المساء وخذ من صحتك لمرضك ومن حياتك لموتك . رواه البخاري
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو وفات سے تین دن پہلے یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ تم میں سے کوئی شخص اس حال میں نہ مرے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ نیک گمان رکھتا ہو ۔ (مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ ہر مسلمان کو اللہ تعالیٰ کے فضل اور بخشش پر کامل اعتقاد اور اس کے وعدہ رحم و کرم پر اعتقاد رکھنا چاہئے اور ہمہ وقت اس کے کرم اور اس کی رحمت کا امیدوار رہنا چاہے۔ نیز یہ کہ ہر شخص اللہ کے ساتھ ہر وقت اچھا گمان رکھے کہیں ایسا نہ ہو کہ بدگمانی رحمت مایوسی کی حالت میں مرجائے اور وہ مبتلائے قہر الٰہی ہو۔ علماء نے لکھا ہے کہ اخروی سعادت کی علامت یہ ہے کہ زندگی کے پورے عرصے میں خوف غالب رہے اور جب مرنے کے قریب پہنچے تو اس کی رحمت و بخشش کی امید غالب رہے۔ علماء نے لکھا ہے کہ اللہ کے ساتھ نیک گمان رکھنے سے مراد نیک اعمال کرنا ہے۔ یعنی اپنی زندگی میں اچھے اعمال کرنے چاہئیں تاکہ موت کے وقت اللہ کے ساتھ اچھا گمان رہے کیونکہ جس کی زندگی اللہ کی اطاعت و فرمانبرداری اور اس کی رضا و خوشنودی کے حصول کی خاطر عبادات و نیک اعمال میں گزاری ہوگی۔ وہ مرنے کے وقت اللہ کے ساتھ یہی نیک گمان قائم کئے رہے گا کہ انشاء اللہ میرے ساتھ اچھا ہی معاملہ ہوگا اس کے برخلاف جس کی زندگی اللہ کی نافرمانی اور برے اعمال میں گزری ہوگی وہ موت کے وقت اللہ کے ساتھ برا ہی گمان رکھے گا کیونکہ جب موت سر پر کھڑی ہوگی تو اسے اپنی زندگی کے برے اعمال یاد آئیں گے اس وقت اسے یہ خیال پیدا ہوگا کہ میرے ساتھ اچھا معاملہ نہیں ہوگا۔ نیز علماء لکھتے ہیں کہ امید کی حقیقت یہ ہے کہ عمل کرے اور امید رکھے خدمت مولیٰ کرے اور نظر اس کی عطا پر رکھے نہ کہ جھوٹی امید جو عمل سے باز رکھے اور گناہوں کا باعث ہو، یہ امید نہیں ہے بلکہ آرزو اور غرور ہے۔ حضرت امام حسن بصری (رح) کا یہ قول منقول ہے کہ اگر تم میں سے کوئی شخص (جو بےعمل ہے) یہ کہتا ہے کہ میں اپنے پروردگار کے ساتھ اچھا گمان رکھتا ہوں تو وہ جھوٹ کہتا ہے کیونکہ اگر وہ اپنے پروردگار کے ساتھ اچھا گمان رکھتا تو نیک عمل بھی کرتا۔
1582
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن جابر قال : سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم قبل موته بثلاثة أيام يقول : لا يموتن أحدكم إلا وهو يحسن الظن بالله . رواه مسلم
حضرت معاذ ابن جبل (رض) راوی ہیں کہ (ایک دن) رسول کریم ﷺ نے (ہمیں مخاطب کرتے ہوئے) فرمایا کہ اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ بات بتادوں جو اللہ قیامت کے دن سب سے پہلے مؤمنین سے فرمائے گا اور وہ بات بھی بتادوں جو سب سے پہلے مؤمنین اللہ تعالیٰ سے عرض کریں گے ؟ ہم نے عرض کیا کہ ہاں رسول اللہ ! (ہمیں ضرور بتا دیجئے) آپ ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ مؤمنین سے فرمائے گا کہ کیا تم میری ملاقات کو پسند کرتے تھے مؤمنین عرض کریں گے کہ ہاں ! اے ہمارے رب (ہم تیری ملاقات کو پسند کرتے تھے) پھر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ تم میری ملاقات کو کیوں پسند کرتے تھے ؟ مؤمنین عرض کریں گے اس لئے کہ ہم تجھ سے معافی و درگزر اور تیری بخشش و مغفرت کی امید رکھتے تھے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ فرمائے گا تمہارے لئے میری بخشش واجب ہوگئی۔ یہ روایت شرح السنۃ میں ابونعیم نے حلیہ میں نقل کی ہے۔

تشریح
ہو سکتا ہے کہ ملاقات سے مراد دار آخرت کی طرف رجوع کرنا اور یہ بھی احتمال ہے کہ ملاقات سے مراد حق تعالیٰ کا دیدار ہو۔ ابن مالک (رح) نے کہا ہے حدیث میں لفظ لم کے بعد یہ الفاظ ہونے چاہئیں لای سبب اذنبتم یعنی حق تعالیٰ پھر فرمائے گا کہ تم نے کیوں گناہ کئے ہیں ؟ لیکن صحیح یہی الفاظ ہیں لم احببتم لقائی یعنی میری ملاقات کو کیوں پسند کرتے تھے جیسا کہ ترجمہ میں ظاہر کیا گیا ہے۔
1583
Mishkaat Shareef
صحیح
عن معاذ بن جبل رضي الله عنه قال : قال رسول الله صلى الله عليه و سلم : إن شئتم أنبأتكم ما أول ما يقول الله للمؤمنين يوم القيامة ؟ وما أول ما يقولون له ؟ قلنا : نعم يا رسول الله قال : إن الله يقول للمؤمنين هل أحببتم لقائي ؟ فيقولون نعم يا ربنا فيقول : لم ؟ فيقولون : رجونا عفوك ومغفرتك . فيقول : قد وجبت لكم مغفرتي . رواه في شرح السنة وأبو نعيم في الحلية
حضرت ابوہریرہ راوی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا (دنیا کی) لذتوں کو کھو دینے والی چیز کو، کہ جو موت ہے کثرت سے یاد کرو ۔ (ترمذی، نسائی، ابن ماجہ )

تشریح
صحیح یہی ہے کہ لفظ ہاذم ذال کے ساتھ ہے جس کے معنی ہیں قطع کرنے والا، چناچہ جن لوگوں نے دال کے ساتھ یعنی لفظ ہادم بمعنی ڈھالنے والا جو نقل کیا ہے صحیح نہیں ہے ہوسکتا ہے کہ اس بارے میں کسی راوی سے چوک ہوگئی ہو۔ بہر حال حدیث کا حاصل یہ ہے کہ موت کو کثرت سے یاد کرنا چاہئے کیونکہ موت کو یاد کرنے سے غفلت جو نیک اعمال کے راستہ میں رکاوٹ بنتی ہے دور ہوتی ہے، موت کی یاد دنیا (کے برے کاموں) کی مشغولیت سے باز رکھتی ہے اور موت کو یاد کرنے والا طاعات و عبادات کی طرف متوجہ رہتا ہے جو توشہ آخرت ہے۔ نسائی نے اس روایت میں یہ الفاظ مزید نقل کئے ہیں۔ فانہ لا یذکر فی کثیر الا قللہ ولا فی قلیل الا کثرہ (ترجمہ) جب مال کی زیادتی میں موت یاد آتی ہے تو وہ مال کو کم کردیتی ہے (یعنی موت یاد آجانے کی وجہ سے مال کی طرف کوئی رغبت نہیں رہتی اور مال کو فانی سمجھنے لگتا ہے اس لئے اس وقت زیادہ مال بھی نظروں میں حقیر ہوجانے کی وجہ سے کم ہی محسوس ہوتا ہے) اور جب مال کی کمی میں موت یاد آجاتی ہے تو وہ مال کو زیادہ کردیتی ہے (یعنی جب موت یاد آتی ہے تو دنیا کو فانی سمجھ کر کم مال پر قناعت کرتا ہے اس لئے تھوڑا مال بھی زیادہ معلوم ہونے لگتا ہے۔