Mishkaat Shareef
142. خواب کا بیان
مشكاة المصابيح
4504
Mishkaat Shareefخواب کے معنی ہیں وہ بات جو انسان نیند میں دیکھے محققین کہتے ہیں کہ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں ایک تو محض خیال کہ دن بھر انسان کے دماغ اور ذہن پر جو باتیں چھائی رہتی ہیں، وہ خواب میں مشکل ہو کر نمودار ہوجاتی ہیں، دوسری طرح کا خواب وہ ہے جو شیطانی اثرات کا عکاس ہوتا ہے جیسا کہ عام طور پر ڈراؤ نے خواب نظر آیا کرتے ہیں اور تیسری طرح کا خواب وہ ہے جو منجانب اللہ بشارت اور بہتری کو ظاہر کرتا ہے، خواب کی یہی تیسری قسم رویاء صالحہ کہلاتی ہے اور اس کی حقیقت علماء اہل سنت کے نزدیک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ سونے والے کے دل میں علوم معرفت اور ادراکات و احسان کا نور پیدا کردیتا ہے، جیسا کہ وہ جاگنے والے کے دل کو علوم و معرفت اور ادرکات و احساسات کی روشنی سے منور کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بلا شک و شبہ اس پر قادر ہے، کیونکہ نہ تو بیداری قلب انسانی میں نور بصیرت کے پیدا ہونے کا ذریعہ ہے اور نہ نیند اس سے مانع۔ واضح رہے کہ سونے والا اپنے خواب میں جن باتوں کا ادراک و احساس کرتا ہے اور جن چیزوں کو اس کا نور بصیرت دیکھتا ہے وہ دراصل وقوع پذیر ہونے والی چیزوں کی علامت و اشارہ ہوتا ہے اور یہی علامت و اشارہ تعبیر کی بنیاد بنتا ہے۔ کبھی یہ علامت و اشارہ اتنا غیر واضح ہوتا ہے کہ اس کو عارفین و معبرین ہی سمجھ پاتے ہیں اور کبھی اتنا واضح ہوتا ہے کہ عام انسانی ذہن بھی اس کی مراد پا لیتا ہے۔ جیسا کہ بادل کو دیکھ کر بارش کے وجود کی طرف ذہن خود بخود چلا جاتا ہے۔
4505
Mishkaat Shareefعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم لم يبق من النبوة إلا المبشرات قالوا وما المبشرات ؟ قال الرؤيا الصالحة . رواه البخاري . ( متفق عليه )
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا نبوت کے آثار میں سے اب کچھ باقی نہیں رہا ہے علاوہ مبشرات کے صحابہ نے یہ سن کر عرض کیا کہ مبشرات سے کیا مراد ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اچھے خواب۔ (بخاری) اور امام مالک نے اس روایت میں جس کو انہوں نے حضرت عطاء بن یسار (رض) سے نقل کیا ہے یہ الفاظ بھی نقل کئے ہیں (وہ اچھے خواب) جن کو مسلمان آدمی (اپنے لئے) دیکھتا ہے یا اس کے بارے میں کوئی اور شخص دیکھے۔
تشریح
مبشرات (میم کے پیش اور باء کے زبر کے ساتھ) بشارت سے مشتق ہے جس کے معنی خوش خبری کے ہیں اعرابی میں لفظ بشارت کا استعمال عام طور پر خیر کے سیاق میں ہوتا ہے لیکن کبھی شر کے ساتھ بھی اس کو استعمال کرلیا جاتا ہے اسی طرح رویا کا اطلاق عام طور پر اچھے خواب پر ہوتا ہے اور برے خواب کو حلم کہتے ہیں لیکن یہ فرق و تخصیص شرعی نقطہ نظر سے ہے ویسے لغت کے اعتبار سے رؤیا مطلق خواب کو کہتے ہیں، چناچہ یہاں حدیث میں بھی لفظ رؤیا مطلق خواب کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ رؤیاء سے اچھا خواب مراد ہے تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ لفظ صالحہ کا ذکر محض لفظ رؤیا کی وضاحت و تشریح کے لئے ہے یا یہ کہ صالحہ اصل میں صادقہ کے معنی میں ہے کہ رؤیا صالحہ سے مراد وہ اچھا خواب ہے جو سچا یعنی واقع کے مطابق ہو۔ پہلے معنی میں یعنی لفظ صالحہ کو رؤیا کی وضاحت و تشریح قرار دینا زیادہ صحیح اور مبشرات کے معنی کے موافق ہے کیونکہ اچھے خواب کا مطلب اچھی خبر ہے اور بشارت بھی کلیۃ یا عام طور پر دل و دماغ کو خوش کرنے والی ہی ہوتی ہے اگرچہ طیبی کے قول کے مطابق بشارت میں صدق کا بھی اعتبار ہونا ہے لیکن حدیث کا سیاق اس کا متقاضی ہے کہ دوسرے معنی صالحہ (بمعنی صادقہ) مراد لیا جائے کیونکہ حدیث میں خواب کو نبوت کا ایک جز کہا گیا ہے اور نبوت میں سچی خبر کا اعتبار ہے خواہ وہ خوش کرنے والی ہو یا ڈرانے والی ہو، اس صورت میں کہا جائے گا کہ لفظ مبشرات کا استعمال از راہ تغلیب یا یہ کہ مبشرات اپنے مطلق معنی یعنی مخبرات پر محمول ہے۔
تشریح
مبشرات (میم کے پیش اور باء کے زبر کے ساتھ) بشارت سے مشتق ہے جس کے معنی خوش خبری کے ہیں اعرابی میں لفظ بشارت کا استعمال عام طور پر خیر کے سیاق میں ہوتا ہے لیکن کبھی شر کے ساتھ بھی اس کو استعمال کرلیا جاتا ہے اسی طرح رویا کا اطلاق عام طور پر اچھے خواب پر ہوتا ہے اور برے خواب کو حلم کہتے ہیں لیکن یہ فرق و تخصیص شرعی نقطہ نظر سے ہے ویسے لغت کے اعتبار سے رؤیا مطلق خواب کو کہتے ہیں، چناچہ یہاں حدیث میں بھی لفظ رؤیا مطلق خواب کے معنی میں استعمال کیا گیا ہے اور اگر یہ کہا جائے کہ رؤیاء سے اچھا خواب مراد ہے تو اس صورت میں کہا جائے گا کہ لفظ صالحہ کا ذکر محض لفظ رؤیا کی وضاحت و تشریح کے لئے ہے یا یہ کہ صالحہ اصل میں صادقہ کے معنی میں ہے کہ رؤیا صالحہ سے مراد وہ اچھا خواب ہے جو سچا یعنی واقع کے مطابق ہو۔ پہلے معنی میں یعنی لفظ صالحہ کو رؤیا کی وضاحت و تشریح قرار دینا زیادہ صحیح اور مبشرات کے معنی کے موافق ہے کیونکہ اچھے خواب کا مطلب اچھی خبر ہے اور بشارت بھی کلیۃ یا عام طور پر دل و دماغ کو خوش کرنے والی ہی ہوتی ہے اگرچہ طیبی کے قول کے مطابق بشارت میں صدق کا بھی اعتبار ہونا ہے لیکن حدیث کا سیاق اس کا متقاضی ہے کہ دوسرے معنی صالحہ (بمعنی صادقہ) مراد لیا جائے کیونکہ حدیث میں خواب کو نبوت کا ایک جز کہا گیا ہے اور نبوت میں سچی خبر کا اعتبار ہے خواہ وہ خوش کرنے والی ہو یا ڈرانے والی ہو، اس صورت میں کہا جائے گا کہ لفظ مبشرات کا استعمال از راہ تغلیب یا یہ کہ مبشرات اپنے مطلق معنی یعنی مخبرات پر محمول ہے۔
4506
Mishkaat Shareefوعن أنس قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الرؤيا الصالحة جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة . ( متفق عليه )
اور حضرت انس (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اچھا خواب نبوت کے چھیالیس حصوں میں سے ایک حصہ ہے ( بخاری ومسلم)
تشریح
ظاہر یہ ہے کہ یہاں رویاء صالحہ سے مراد صادقہ ہے یعنی وہ اچھا خواب جو سچا بھی ہو اس موقع پر ایک اشکال واقع ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کا کوئی جزو حصہ اس چیز سے جدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اس اعتبار سے کہا جائے گا کہ جب نبوت باقی نہیں رہی ہے تو نبوت کا جزو حصہ یعنی رویاء صالحہ کیوں کر باقی رہے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس ارشاد گرامی ﷺ کے معنی یہ ہیں کہ رویاء صالحہ علم نبوت کے اجزاء اور حصوں میں سے ایک جز و حصہ ہے اور ظاہر ہے کہ علم نبوت باقی ہے اگرچہ نبوت باقی نہیں ہے گویا حدیث میں مذکورہ الفاظ کے ذریعہ رویاء صالحہ کی فضیلت و منقبت بیان فرمائی گئی ہے کہ اچھا خواب حقیقت میں نبوت کا پر تو ہے اگرچہ اس کو دیکھنے والا غیر نبی ہو جیسا کہ ایک ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے نیک راہ دردش حلم گرانباری اور میانہ روی نبوت میں سے ہے چھیالیس کے عدد کی تخصیص کے بارے میں اگرچہ علماء نے مختلف باتیں لکھی ہیں لیکن زیادہ صیح بات یہ ہے کہ نہ صرف اس کا بلکہ دوسری متعدد چیزوں جیسے نماز کی رکعات اور تسبیحات وغیرہ کے بارے میں اعداد مشروع و مذکور ہیں ان کی علت و حقیقت کا علم شارع السلام علیہ کو ہی ہے ایک اور رایت میں چھیالیس کے بجائے چھبیس ایک روایت میں چھہتر اور ایک روایت میں چوبیس کا عدد مذکور ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کسی بھی روایت میں کسی خاص عدد سے تحدید مراد نہیں ہے محض تکثیر مراد ہے
تشریح
ظاہر یہ ہے کہ یہاں رویاء صالحہ سے مراد صادقہ ہے یعنی وہ اچھا خواب جو سچا بھی ہو اس موقع پر ایک اشکال واقع ہوتا ہے اور وہ یہ کہ کسی چیز کا کوئی جزو حصہ اس چیز سے جدا نہیں ہوتا بلکہ اس کے ساتھ ہوتا ہے اس اعتبار سے کہا جائے گا کہ جب نبوت باقی نہیں رہی ہے تو نبوت کا جزو حصہ یعنی رویاء صالحہ کیوں کر باقی رہے گا ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اس ارشاد گرامی ﷺ کے معنی یہ ہیں کہ رویاء صالحہ علم نبوت کے اجزاء اور حصوں میں سے ایک جز و حصہ ہے اور ظاہر ہے کہ علم نبوت باقی ہے اگرچہ نبوت باقی نہیں ہے گویا حدیث میں مذکورہ الفاظ کے ذریعہ رویاء صالحہ کی فضیلت و منقبت بیان فرمائی گئی ہے کہ اچھا خواب حقیقت میں نبوت کا پر تو ہے اگرچہ اس کو دیکھنے والا غیر نبی ہو جیسا کہ ایک ایک حدیث میں فرمایا گیا ہے نیک راہ دردش حلم گرانباری اور میانہ روی نبوت میں سے ہے چھیالیس کے عدد کی تخصیص کے بارے میں اگرچہ علماء نے مختلف باتیں لکھی ہیں لیکن زیادہ صیح بات یہ ہے کہ نہ صرف اس کا بلکہ دوسری متعدد چیزوں جیسے نماز کی رکعات اور تسبیحات وغیرہ کے بارے میں اعداد مشروع و مذکور ہیں ان کی علت و حقیقت کا علم شارع السلام علیہ کو ہی ہے ایک اور رایت میں چھیالیس کے بجائے چھبیس ایک روایت میں چھہتر اور ایک روایت میں چوبیس کا عدد مذکور ہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کسی بھی روایت میں کسی خاص عدد سے تحدید مراد نہیں ہے محض تکثیر مراد ہے
4507
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال من رآني في المنام فقد رآني فإن الشيطان لا يتمثل في صورتي . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے درحقیقت مجھ کو ہی دیکھا کیونکہ شیطان میری صورت نہیں بن سکتا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے گویا عالم بیداری میں میرا دیدار کیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ اس شخص پر وہ احکام عائد ہوں جو واقعۃ آنحضرت ﷺ کے دیدار و صحبت کی صورت میں ہوتے ہیں۔ یعنی نہ تو ایسے شخص کو صحابی کہا جائے گا اور نہ اس چیز پر عمل کرنا اس کے لئے ضروری ہوگا جس کو اس نے اپنے خواب میں آنحضرت ﷺ سے سنا ہوگا، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حدیث اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے فرمائی میرے زمانہ میں جو شخص مجھ کو خواب میں دیکھے گا اس کو اللہ تعالیٰ ہجرت کی توفیق عطا فرمائے گا۔ تاکہ وہ مجھ سے آ کر ملے۔ یا یہ مراد ہے کہ آخرت میں میرا دیدار کرے گا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی ﷺ بمعنی اخبار کے ہے، مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس کو خبر دیدو کہ اس کا خواب حقیقی اور سچا ہے اضغاث احلام میں سے نہیں ہے کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ یعنی اس کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ کسی کے خواب میں آئے اور اس کے خیال میں یہ بات ڈالے کہ میں آنحضرت ﷺ ہوں اور اس طرح وہ آنحضرت ﷺ پر یہ جھوٹ لگائے۔ بعض محققین نے لکھا ہے کہ شیطان حق تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جھوٹ دکھا سکتا ہے، یعنی دیکھنے والے کو اس خیال و وسوسہ میں مبتلا کرسکتا ہے کہ یہ حق تعالیٰ کی صورت ہے لیکن آنحضرت ﷺ کی صورت ہرگز نہیں بن سکتا۔ اور نہ آپ ﷺ کی ذات پر جھوٹ لگا سکتا ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ ہدایت و راستی کے مظہر ہیں۔ جب کہ شیطان لعین ضلالت و گمراہی کا مظہر ہے اور ہدایت و ضلالت کے درمیان پانی اور آگ کی نسبت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اس کے برخلاف حق تعالیٰ کی ذات الٰہی صفات ہدایت واضلال اور صفات متضادہ کی جامع ہے علاوہ ازیں صفت الوہیت ایسی صفت ہے جس کا مخلوقات میں سے کسی کا دعوی کرنا صریح البطلان ہے اور محل اشتباہ نہیں ہے، جب کہ وصف نبوت اس درجہ کی صفت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص الوہیت کا دعوی کرے تو اس سے خرق عادات صادر ہوسکتا جب کہ اگر کوئی شخص نبوت کا دعوی کرے تو اس سے معجزہ کا ظاہر ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔
تشریح
مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس نے گویا عالم بیداری میں میرا دیدار کیا، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں ہوگا کہ اس شخص پر وہ احکام عائد ہوں جو واقعۃ آنحضرت ﷺ کے دیدار و صحبت کی صورت میں ہوتے ہیں۔ یعنی نہ تو ایسے شخص کو صحابی کہا جائے گا اور نہ اس چیز پر عمل کرنا اس کے لئے ضروری ہوگا جس کو اس نے اپنے خواب میں آنحضرت ﷺ سے سنا ہوگا، بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے یہ حدیث اپنے زمانہ کے لوگوں کے لئے فرمائی میرے زمانہ میں جو شخص مجھ کو خواب میں دیکھے گا اس کو اللہ تعالیٰ ہجرت کی توفیق عطا فرمائے گا۔ تاکہ وہ مجھ سے آ کر ملے۔ یا یہ مراد ہے کہ آخرت میں میرا دیدار کرے گا۔ بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ یہ ارشاد گرامی ﷺ بمعنی اخبار کے ہے، مطلب یہ ہے کہ جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا اس کو خبر دیدو کہ اس کا خواب حقیقی اور سچا ہے اضغاث احلام میں سے نہیں ہے کیونکہ شیطان میری صورت اختیار نہیں کرسکتا۔ یعنی اس کی یہ مجال نہیں ہے کہ وہ کسی کے خواب میں آئے اور اس کے خیال میں یہ بات ڈالے کہ میں آنحضرت ﷺ ہوں اور اس طرح وہ آنحضرت ﷺ پر یہ جھوٹ لگائے۔ بعض محققین نے لکھا ہے کہ شیطان حق تعالیٰ کی ذات کے بارے میں جھوٹ دکھا سکتا ہے، یعنی دیکھنے والے کو اس خیال و وسوسہ میں مبتلا کرسکتا ہے کہ یہ حق تعالیٰ کی صورت ہے لیکن آنحضرت ﷺ کی صورت ہرگز نہیں بن سکتا۔ اور نہ آپ ﷺ کی ذات پر جھوٹ لگا سکتا ہے، کیونکہ آنحضرت ﷺ ہدایت و راستی کے مظہر ہیں۔ جب کہ شیطان لعین ضلالت و گمراہی کا مظہر ہے اور ہدایت و ضلالت کے درمیان پانی اور آگ کی نسبت ہے کہ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہیں، اس کے برخلاف حق تعالیٰ کی ذات الٰہی صفات ہدایت واضلال اور صفات متضادہ کی جامع ہے علاوہ ازیں صفت الوہیت ایسی صفت ہے جس کا مخلوقات میں سے کسی کا دعوی کرنا صریح البطلان ہے اور محل اشتباہ نہیں ہے، جب کہ وصف نبوت اس درجہ کی صفت نہیں ہے یہی وجہ ہے کہ اگر کوئی شخص الوہیت کا دعوی کرے تو اس سے خرق عادات صادر ہوسکتا جب کہ اگر کوئی شخص نبوت کا دعوی کرے تو اس سے معجزہ کا ظاہر ہونا ممکن ہی نہیں ہے۔
4508
Mishkaat Shareefوعن أبي قتادة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من رآني فقد رأى الحق . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جس نے اپنے خواب میں مجھ کو دیکھا اس نے حق دیکھا یعنی اس کا خواب سچا ہے کہ اس نے مجھ کو ہی دیکھا۔ (بخاری ومسلم)
تشریح
واضح رہے کہ اس مضمون کی احادیث، جو متعدد طرق و اسانید سے اور مختلف الفاظ میں منقول ہیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس شخص نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں آنحضرت ﷺ ہی کو دیکھا اس بارے میں دروغ خیال اور شیطانی اثرات کا قطعا دخل نہیں ہوتا، چناچہ علماء نے اس چیز کو آنحضرت ﷺ کے خصائل میں شمار کیا ہے اور اس کو اعجاز نبوی ﷺ قرار دیا ہے البتہ علماء کے ہاں اس بات میں اختلاف ہے کہ ان احادیث کا تعلق آنحضرت ﷺ کو کس صورت و حلیہ میں دیکھنے سے ہے چناچہ بعض حضرات تو کہتے ہیں کہ ان احادیث کا تعلق اس شخص سے ہے جو اپنے خواب میں آنحضرت ﷺ کو اس مخصوص صورت و حلیہ میں دیکھے جس سے آپ ﷺ متصف تھے، پھر بعض حضرات نے اس بارے میں توسع کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ ﷺ کی اس صورت و شکل میں دیکھے جو پوری عمر آپ ﷺ سے متعلق رہی ہے۔ یعنی خواہ جوانی کی صورت و شکل میں دیکھے خواہ کہولت اور خواہ آخری عمر کی صورت میں دیکھے۔ اور بعض حضرات نے اس دائرے کو محدود کیا اور کہا ہے کہ آپ ﷺ کو اس شکل و صورت میں دیکھنے کا اعتبار ہے جو بالوں کو بھی دیکھنے کا اعتبار کیا ہے جو آپ ﷺ کے سر مبارک اور لحیہ مبارک میں تھے اور جو تعداد میں بیس تک بھی نہیں پہنچے تھے، منقول ہے کہ حضرت محمد بن سیرین جو تعبیر خواب کے فن میں امام تھے کے پاس جب کوئی شخص آ کر بیان کرتا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے تو وہ کہتے تھے کہ بتاؤ تم نے آنحضرت ﷺ کو کس شکل و صورت اور کس حلیہ میں دیکھا ہے اگر وہ شخص آنحضرت ﷺ کا حلیہ بیان نہ کرتا جو آپ ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا تو ابن سیرین اس سے کہتے کہ بھاگ جاؤ تم نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں نہیں دیکھا ہے۔ اس بارے میں حضرت امام نووی فرماتے ہیں کہ جس شخص نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا اس نے بہر صورت آپ ﷺ کو دیکھا خواہ اس نے مخصوص صورت و حلیہ میں دیکھا ہو جو آپ ﷺ کے بارے میں منقول ہے یا کسی اور شکل و شباہت میں دیکھا ہو کیونکہ شکل و شباہت کا مختلف ہونا ذات کے مختلف کے ہونے کو ضروری قرار نہیں دیتا، علاوہ ازیں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ شکل و شباہت میں اختلاف و تفاوت کا تعلق خواب دیکھنے والے کے ایمان کے کمال و نقصان سے بھی ہوسکتا ہے یعنی جس شخص نے خواب میں آنحضرت ﷺ کو اچھی صورت و شکل میں دیکھا یہ اس کے ایمان کامل اور عقیدے کے صالح ہونے کی علامت قرار پائے گا اور جس شخص نے اس کے بہر خلاف دیکھا، یہ اس کے ایمان کی کمزوری اور عقیدے کے فساد کی علامت قرار پائے گا اسی طرح ایک شخص نے آپ ﷺ کو بوڑھا دیکھا ایک شخص نے جوان دیکھا ایک شخص نے رضامند دیکھا ایک شخص نے خفگی کے عالم میں دیکھا ایک شخص نے روتے ہوئے دیکھا ایک شخص نے شاد و خوش دیکھا اور ایک شخص نے ناخوش دیکھا تو یہ ساری حالتیں خواب دیکھنے والے کے ایمانی احوال کے فرق و تفاوت پر مبنی ہوں گی کہ جو شخص جس درجہ کے ایمان کا حامل ہوگا وہ آپ ﷺ کی اسی درجہ کی مثالی صورت میں دیکھا گا اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھنا گویا اپنے احوال ایمانی کو پہچاننے کا ایک معیار ہے لہٰذا یہ ایک چیز سالکین طریقت کے لئے یہ ایک مفید ضابطہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنے باطن کی حالت کو پہچان کر اس کی اصلاح کریں اسی پر قیاس کرتے ہوئے بعض علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص خواب میں آنحضرت ﷺ سے کوئی ارشاد سنے تو اس کا حدیث و سنت سے تقابل کرے اگر وہ ارشاد حدیث و سنت کے موافق ہو تو وہ یقینا حق ہے اور اگر موافق نہ ہو، جانے کہ یہ میرے ذہن اور سامع کا خلل ہے لہٰذا خواب میں آنحضرت ﷺ کی ذات کریمہ کو اور آپ ﷺ کے ارشاد کو سننا حق ہے اگر صورت مبارک اور ارشادات مقدسہ میں کوئی تفاوت و مخالفت نظر آئے تو سمجھنا چاہئے کہ یہ خواب دیکھنے والے کے نقص و کوتاہی کے اعتبار سے ہے حضرت شیخ متقی سے منقول ہے کہ ایک فقیر نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اس کو شراب کے لئے فرما رہے ہیں، اس خواب کی وجہ سے اس کے ذہن میں سخت خلجان پیدا ہو اس نے اس خلجان کو دور کرنے کے لئے علماء سے رجوع کیا اور ان سے پوچھا کہ اس خواب کی حقیقت کیا ہے کہ ہر عالم نے اس کی مختلف تعبیر و تاویل بیان کی اسی دوران یہ مسئلہ حدیث کے ایک عالم حضرت شیخ ابن عراۃ کے سامنے آیا جو عالم با عمل اور نہایت متبع سنت تھے انہوں نے فرمایا کہ اصل بات یوں نہیں ہے جس طرح اس نے سنی ہے بلکہ اس کا ذہن و سامعہ، خلل اور انتشار کا شکار ہوا ہے۔ حقیقت میں آنحضرت ﷺ نے یوں فرمایا تھا کہ لاتشرب الخمر شراب ہرگز نہ پینا مگر اس نے اس جملہ کو یوں سنا اشرب الخمر (شراب پیؤ)
تشریح
واضح رہے کہ اس مضمون کی احادیث، جو متعدد طرق و اسانید سے اور مختلف الفاظ میں منقول ہیں اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ جس شخص نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا اس نے حقیقت میں آنحضرت ﷺ ہی کو دیکھا اس بارے میں دروغ خیال اور شیطانی اثرات کا قطعا دخل نہیں ہوتا، چناچہ علماء نے اس چیز کو آنحضرت ﷺ کے خصائل میں شمار کیا ہے اور اس کو اعجاز نبوی ﷺ قرار دیا ہے البتہ علماء کے ہاں اس بات میں اختلاف ہے کہ ان احادیث کا تعلق آنحضرت ﷺ کو کس صورت و حلیہ میں دیکھنے سے ہے چناچہ بعض حضرات تو کہتے ہیں کہ ان احادیث کا تعلق اس شخص سے ہے جو اپنے خواب میں آنحضرت ﷺ کو اس مخصوص صورت و حلیہ میں دیکھے جس سے آپ ﷺ متصف تھے، پھر بعض حضرات نے اس بارے میں توسع کیا ہے اور کہا ہے کہ آپ ﷺ کی اس صورت و شکل میں دیکھے جو پوری عمر آپ ﷺ سے متعلق رہی ہے۔ یعنی خواہ جوانی کی صورت و شکل میں دیکھے خواہ کہولت اور خواہ آخری عمر کی صورت میں دیکھے۔ اور بعض حضرات نے اس دائرے کو محدود کیا اور کہا ہے کہ آپ ﷺ کو اس شکل و صورت میں دیکھنے کا اعتبار ہے جو بالوں کو بھی دیکھنے کا اعتبار کیا ہے جو آپ ﷺ کے سر مبارک اور لحیہ مبارک میں تھے اور جو تعداد میں بیس تک بھی نہیں پہنچے تھے، منقول ہے کہ حضرت محمد بن سیرین جو تعبیر خواب کے فن میں امام تھے کے پاس جب کوئی شخص آ کر بیان کرتا کہ میں نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا ہے تو وہ کہتے تھے کہ بتاؤ تم نے آنحضرت ﷺ کو کس شکل و صورت اور کس حلیہ میں دیکھا ہے اگر وہ شخص آنحضرت ﷺ کا حلیہ بیان نہ کرتا جو آپ ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا تو ابن سیرین اس سے کہتے کہ بھاگ جاؤ تم نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں نہیں دیکھا ہے۔ اس بارے میں حضرت امام نووی فرماتے ہیں کہ جس شخص نے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھا اس نے بہر صورت آپ ﷺ کو دیکھا خواہ اس نے مخصوص صورت و حلیہ میں دیکھا ہو جو آپ ﷺ کے بارے میں منقول ہے یا کسی اور شکل و شباہت میں دیکھا ہو کیونکہ شکل و شباہت کا مختلف ہونا ذات کے مختلف کے ہونے کو ضروری قرار نہیں دیتا، علاوہ ازیں یہ نکتہ بھی ملحوظ رہنا چاہئے کہ شکل و شباہت میں اختلاف و تفاوت کا تعلق خواب دیکھنے والے کے ایمان کے کمال و نقصان سے بھی ہوسکتا ہے یعنی جس شخص نے خواب میں آنحضرت ﷺ کو اچھی صورت و شکل میں دیکھا یہ اس کے ایمان کامل اور عقیدے کے صالح ہونے کی علامت قرار پائے گا اور جس شخص نے اس کے بہر خلاف دیکھا، یہ اس کے ایمان کی کمزوری اور عقیدے کے فساد کی علامت قرار پائے گا اسی طرح ایک شخص نے آپ ﷺ کو بوڑھا دیکھا ایک شخص نے جوان دیکھا ایک شخص نے رضامند دیکھا ایک شخص نے خفگی کے عالم میں دیکھا ایک شخص نے روتے ہوئے دیکھا ایک شخص نے شاد و خوش دیکھا اور ایک شخص نے ناخوش دیکھا تو یہ ساری حالتیں خواب دیکھنے والے کے ایمانی احوال کے فرق و تفاوت پر مبنی ہوں گی کہ جو شخص جس درجہ کے ایمان کا حامل ہوگا وہ آپ ﷺ کی اسی درجہ کی مثالی صورت میں دیکھا گا اس اعتبار سے آنحضرت ﷺ کو خواب میں دیکھنا گویا اپنے احوال ایمانی کو پہچاننے کا ایک معیار ہے لہٰذا یہ ایک چیز سالکین طریقت کے لئے یہ ایک مفید ضابطہ کی حیثیت رکھتی ہے کہ وہ اس کے ذریعہ اپنے باطن کی حالت کو پہچان کر اس کی اصلاح کریں اسی پر قیاس کرتے ہوئے بعض علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جو شخص خواب میں آنحضرت ﷺ سے کوئی ارشاد سنے تو اس کا حدیث و سنت سے تقابل کرے اگر وہ ارشاد حدیث و سنت کے موافق ہو تو وہ یقینا حق ہے اور اگر موافق نہ ہو، جانے کہ یہ میرے ذہن اور سامع کا خلل ہے لہٰذا خواب میں آنحضرت ﷺ کی ذات کریمہ کو اور آپ ﷺ کے ارشاد کو سننا حق ہے اگر صورت مبارک اور ارشادات مقدسہ میں کوئی تفاوت و مخالفت نظر آئے تو سمجھنا چاہئے کہ یہ خواب دیکھنے والے کے نقص و کوتاہی کے اعتبار سے ہے حضرت شیخ متقی سے منقول ہے کہ ایک فقیر نے خواب میں دیکھا کہ آنحضرت ﷺ اس کو شراب کے لئے فرما رہے ہیں، اس خواب کی وجہ سے اس کے ذہن میں سخت خلجان پیدا ہو اس نے اس خلجان کو دور کرنے کے لئے علماء سے رجوع کیا اور ان سے پوچھا کہ اس خواب کی حقیقت کیا ہے کہ ہر عالم نے اس کی مختلف تعبیر و تاویل بیان کی اسی دوران یہ مسئلہ حدیث کے ایک عالم حضرت شیخ ابن عراۃ کے سامنے آیا جو عالم با عمل اور نہایت متبع سنت تھے انہوں نے فرمایا کہ اصل بات یوں نہیں ہے جس طرح اس نے سنی ہے بلکہ اس کا ذہن و سامعہ، خلل اور انتشار کا شکار ہوا ہے۔ حقیقت میں آنحضرت ﷺ نے یوں فرمایا تھا کہ لاتشرب الخمر شراب ہرگز نہ پینا مگر اس نے اس جملہ کو یوں سنا اشرب الخمر (شراب پیؤ)
4509
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم من رآني في المنام فيسراني في اليقظة ولا يتمثل الشيطان بي . ( متفق عليه )
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس شخص نے مجھ کو خواب میں دیکھا وہ جلد ہی مجھ کو بیداری کے عالم میں دیکھے گا اور شیطان میری صورت نہیں بن سکتا۔ (بخاری ومسلم ) ۔
تشریح
اس حدیث کا تعلق آپ ﷺ کے زمانہ سے ہے کہ جو شخص خواب میں آپ ﷺ کو دیکھتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ یہ توفیق عطا فرما دیتا ہے کہ وہ عالم بیداری میں آپ ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوتا ہے یعنی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ اور اسلام قبول کرتا۔ یا اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ہے کہ مجھ کو خواب میں دیکھنے والا شخص آخرت میں عالم بیداری میں مجھ کو دیکھے گا۔
تشریح
اس حدیث کا تعلق آپ ﷺ کے زمانہ سے ہے کہ جو شخص خواب میں آپ ﷺ کو دیکھتا ہے اس کو اللہ تعالیٰ یہ توفیق عطا فرما دیتا ہے کہ وہ عالم بیداری میں آپ ﷺ کے دیدار سے مشرف ہوتا ہے یعنی آپ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوتا۔ اور اسلام قبول کرتا۔ یا اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ہے کہ مجھ کو خواب میں دیکھنے والا شخص آخرت میں عالم بیداری میں مجھ کو دیکھے گا۔
4510
Mishkaat Shareefوعن أبي قتادة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم الرؤيا الصالحة من الله والحلم من الشيطان فإذا رأى أحدكم ما يحب فلا يحدث به إلا من يحب وإذا رأى ما يكره فليتعوذ بالله من شرها ومن شر الشيطان وليتفل ثلاثا ولا يحدث بها أحدا فإنها لن تضره .
اور حضرت ابوقتادہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا اچھا خواب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور برا خواب شیطان کی طرف سے ہے لہٰذا جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جس سے وہ خوش ہو تو چاہئے کہ خواب کو صرف اس شخص کے سامنے بیان کرے جس کو وہ دوست و ہمدرد سمجھتا ہے (جیسے علماء و صلحاء اور اقرباء نیز وہ اس خواب پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرے اور اس کی حمد و تعریف کرے جیسا کہ بخاری ومسلم کی ایک اور روایت میں منقول ہے) اور جب ایسا خواب دیکھے جس کو وہ پسند نہیں کرتا تو چاہئے کہ اس خواب کی برائی اور شیطان کے شر سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگے اور شیطان کو دور کرنے کے قصد سے تین مرتبہ تھتکار دے نیز اس خواب کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے ( خواہ دوست ہو یا دشمن) اس لئے وہ خواب اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا۔ (بخاری، ومسلم)
تشریح
برا خواب شیطان کی طرف سے ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اچھے اور برے دونوں طرح کے خواب کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے اور دیکھنے والا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دیکھتا ہے، لیکن برا خواب شیطانی اثرات کا عطاس ہوتا ہے اور چونکہ اس خواب سے انسان کو پریشانی ہوتی ہے اس لئے اس پر شیطان کو بہت خوشی ہوتی ہے، حاصل یہ کہ اچھا خواب تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کو بشارت ہوتی ہے تاکہ وہ بندہ خوش ہو اور اس کا وہ خواب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے حسن سلوک اور امید آوری کا باعث اور شکر الٰہی کے اضافہ کا موجب بنے جب کہ غمگین اور پریشان کرنے والا جھوٹا خواب شیطانی اثرات کے تحت ہوتا ہے جس سے شیطان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمان کو غمگین و پریشان کر کے ایسی واہ پر ڈال دے جس سے وہ بدگمانی اور نا امیدی اور تقرب الہٰی و تلاش حق کی راہ میں سست روی کا شکار ہوجائے۔ وہ خواب اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کو مال کی حفاظت و برکت اور دفع بلیات کا سبب بنایا ہے اسی طرح اس نے مذکورہ چیزوں یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے، تین دفع تھتکارنے اور کسی کے سامنے بیان نہ کرنے کو برے خواب کے مضر اثرات سے سلامتی کا سبب قرار دیا ہے۔
تشریح
برا خواب شیطان کی طرف سے ہے کا مطلب یہ ہے کہ اگرچہ اچھے اور برے دونوں طرح کے خواب کو پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہوتا ہے اور دیکھنے والا اللہ تعالیٰ ہی کی طرف سے دیکھتا ہے، لیکن برا خواب شیطانی اثرات کا عطاس ہوتا ہے اور چونکہ اس خواب سے انسان کو پریشانی ہوتی ہے اس لئے اس پر شیطان کو بہت خوشی ہوتی ہے، حاصل یہ کہ اچھا خواب تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بندہ کو بشارت ہوتی ہے تاکہ وہ بندہ خوش ہو اور اس کا وہ خواب اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس کے حسن سلوک اور امید آوری کا باعث اور شکر الٰہی کے اضافہ کا موجب بنے جب کہ غمگین اور پریشان کرنے والا جھوٹا خواب شیطانی اثرات کے تحت ہوتا ہے جس سے شیطان کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ وہ مسلمان کو غمگین و پریشان کر کے ایسی واہ پر ڈال دے جس سے وہ بدگمانی اور نا امیدی اور تقرب الہٰی و تلاش حق کی راہ میں سست روی کا شکار ہوجائے۔ وہ خواب اس کو نقصان نہیں پہنچائے گا کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اللہ تعالیٰ نے صدقہ و خیرات کو مال کی حفاظت و برکت اور دفع بلیات کا سبب بنایا ہے اسی طرح اس نے مذکورہ چیزوں یعنی اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے، تین دفع تھتکارنے اور کسی کے سامنے بیان نہ کرنے کو برے خواب کے مضر اثرات سے سلامتی کا سبب قرار دیا ہے۔
4511
Mishkaat Shareefوعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا رأى أحدكم الرؤيا يكرهها فليبصق عن يساره ثلاثا وليستعذ بالله من الشيطان ثلاثا وليتحول عن جنبه الذي كان عليه . رواه مسلم . ( متفق عليه )
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں رسول کریم ﷺ نے فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص ایسا خواب دیکھے جس کو وہ ناپسند کرتا ہو تو اس کو چاہئے کہ بائیں طرف تین بار تھتکار دے اور تین بار شیطان سے اللہ کی پناہ مانگے اور اپنی کروٹ کو تبدیل کر دے جس پر وہ خواب دیکھنے کے وقت سویا ہوا تھا۔ (مسلم)
تشریح
یہاں تھتکارنے کے لئے لفظ بصق استعمال کیا گیا ہے جب کہ پچھلی حدیث میں لفظ تفل مذکور ہے، مفہوم و مطلب کے اعتبار سے تو دونوں لفظ بظاہر یکساں ہیں لیکن دونوں میں ایک ہلکا سا فرق یہ ہے کہ تفل کے معنی ہیں منہ سے تھوک نکالنا جب کہ بصق کا مفہوم ہے منہ کے اندر سے (تھوک) نکالنا اس طرح کہ کچھ حلق سے بھی نکلے منہ سے نکلے ہوئے تھوک کو بصاق کہتے ہیں اور بزاق بھی کہا جاتا ہے اس سے واضح ہوا کہ تھتکارنے کے سلسلے میں پہلا درجہ بصق ہے اس کے بعد تفل ہے تفل کے بعد نفث ہے جس کے معنی ہیں لبوں کے تھوک کے ساتھ پھونکنا اور اس کے بعد نفخ ہے جو محض پھونک مارنے کو کہتے ہیں۔ مسلم کی ایک روایت ہے میں فلیبصق کے بجائے فلینفث کا لفظ منقول ہے نیز اس حدیث میں بائیں طرف تھتکارنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ پچھلی حدیث میں مطلق تھتکارنے کا حکم ہے اسی طرح اسی حدیث میں کروٹ تبدیل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ خواب کے اثرات و کیفیات میں تغیر و تبدیلی کے لئے یہ چیزیں یعنی کروٹ پھیرلینا بہت تاثیر رکھتی ہے۔
تشریح
یہاں تھتکارنے کے لئے لفظ بصق استعمال کیا گیا ہے جب کہ پچھلی حدیث میں لفظ تفل مذکور ہے، مفہوم و مطلب کے اعتبار سے تو دونوں لفظ بظاہر یکساں ہیں لیکن دونوں میں ایک ہلکا سا فرق یہ ہے کہ تفل کے معنی ہیں منہ سے تھوک نکالنا جب کہ بصق کا مفہوم ہے منہ کے اندر سے (تھوک) نکالنا اس طرح کہ کچھ حلق سے بھی نکلے منہ سے نکلے ہوئے تھوک کو بصاق کہتے ہیں اور بزاق بھی کہا جاتا ہے اس سے واضح ہوا کہ تھتکارنے کے سلسلے میں پہلا درجہ بصق ہے اس کے بعد تفل ہے تفل کے بعد نفث ہے جس کے معنی ہیں لبوں کے تھوک کے ساتھ پھونکنا اور اس کے بعد نفخ ہے جو محض پھونک مارنے کو کہتے ہیں۔ مسلم کی ایک روایت ہے میں فلیبصق کے بجائے فلینفث کا لفظ منقول ہے نیز اس حدیث میں بائیں طرف تھتکارنے کا حکم دیا گیا ہے جب کہ پچھلی حدیث میں مطلق تھتکارنے کا حکم ہے اسی طرح اسی حدیث میں کروٹ تبدیل کرنے کا بھی حکم دیا گیا ہے، چناچہ علماء لکھتے ہیں کہ خواب کے اثرات و کیفیات میں تغیر و تبدیلی کے لئے یہ چیزیں یعنی کروٹ پھیرلینا بہت تاثیر رکھتی ہے۔
4512
Mishkaat Shareefوعن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا اقترب الزمان لم يكد يكذب رؤيا المؤمن ورؤيا المؤمن جزء من ستة وأربعين جزءا من النبوة وما كان من النبوة فإنه لا يكذب . قال محمد بن سيرين وأنا أقول الرؤيا ثلاث حديث النفس وتخويف الشيطان وبشرى من الله فمن رأى شيئا يكرهه فلا يقصه على أحد وليقم فليصل قال وكان يكره الغل في النوم ويعجبهم القيد ويقال القيد ثبات في الدين . قال البخاري رواه قتادة ويونس وهشام وأبو هلال عن ابن سيرين عن أبي هريرة وقال يونس لا أحسبه إلا عن النبي صلى الله عليه وسلم في القيد . وقال مسلم لا أدري هو في الحديث أم قاله ابن سيرين ؟ وفي رواية نحوه وأدرج في الحديث قوله وأكره الغل . . . إلى تمام الكلام .
اور حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا جس وقت کہ زمانہ قریب ہوگا تو مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا اور مؤمن کا خواب نبوت کا چھیالیس اجزاء میں سے ایک جزو ہے اور جو چیز نبوت کے اجزاء میں ہو وہ جھوٹی نہیں ہوا کرتی۔ حضرت محمد بن سیرین جو (ایک جلیل القدر تابعی اور فن تعبیر خواب کے امام ہیں) فرماتے ہیں کہ اور میں (آنحضرت ﷺ سے منقول احادیث کی روشنی میں یہ کہتا ہوں کہ خواب تین طرح کے ہوتے ہیں ایک تو نفس کا خیال، دوسرے شیطان کا ڈرانا اور تیسرے اللہ کی طرف سے بشارت پس جو شخص کوئی برا خواب (ڈراؤ نا) دیکھے تو اس کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے اور ( یہ کرے کہ خواب دیکھنے کے بعد) اٹھے اور (نفل) نماز پڑھ لے تاکہ نماز کی برکت و نورانیت کے سبب اس کے دل کو اطمینان نصیب ہو اور خواب کی برائی کا جو وہم و وسوسہ دل میں پیدا ہوگیا ہے وہ جاتا رہے گا) نیز ابن سیرین فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ خواب میں طوق کو دیکھنا اچھا نہیں سمجھتے تھے اور قید کو دیکھنا پسند فرماتے تھے چناچہ کہا جاتا ہے (یعنی تعبیر خواب کے ماہر علماء کہتے ہیں) کہ قید کا مطلب دین پر ثابت قدم رہنا ہے یہ پوری روایت (جو آنحضرت ﷺ کے ارشاد اور ابن سیرین کے قول پر مشتمل ہے) بخاری ومسلم نے نقل کی ہے لیکن روایت کے آخری جزو کے بارے میں دونوں کو تردد ہے چناچہ امام بخاری کہتے ہیں کہ اس حدیث کو یعنی پوری روایت کو یا صرف اسی جزو کو کہ جس میں قید کا ذکر ہے قتادہ، یونس، ہشیم اور ابوہلال نے محمد بن سیرین سے اور انہوں نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے (ابتدائی جزو بطریق مرفوع اور آخری جزو بطریق موقوف) نقل کیا ہے اور یونس نے کہا ہے کہ میرا گمان ہے کہ یہ حدیث کا وہ جزو جس میں ابن سیرین نے قید کا ذکر کیا ہے یعنی یہ الفاظ یعجبہم القید والقید ثبات فی الدین) حضرت ابوہریرہ (رض) کا قول نہیں ہے بلکہ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے (گویا بخاری کے اس قول کا مطلب یہ ہوا کہ ابن سیرین نے نقل کرنے والے ایک راوی یونس کے مطابق روایت کا وہ جزو کہ جس میں طوق کا ذکر ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) یا ابن سیرین کا اپنا قول ہے، البتہ وہ جزو کہ جس میں قید کا ذکر ہے حضرت ابوہریرہ (رض) یا ابن سیرین کا اپنا قول نہیں ہے بلکہ حدیث مرفوع یعنی آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے جس کو آنحضرت ﷺ سے ابوہریرہ (رض) نے اور ابوہریرہ (رض) سے محمد بن سیرین نے نقل کیا ہے ) اور امام مسلم نے جو (ابن سیرین سے روایت نقل کر کے) یہ کہا ہے کہ مجھے نہیں معلوم کہ وہ ( جزء کہ جس میں قید کے الفاظ ہیں) آنحضرت ﷺ کی حدیث کے الفاظ ہیں یا ابن سیرین کا اپنا قول ہے، مسلم کی ایک اور روایت میں اسی طرح کے الفاظ ہیں نیز مسلم نے یہ بھی کہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ (رض) یا محمد بن سیرین نے حدیث میں ادراج کیا ہے۔ بایں طور کہ انہوں نے کہا میں طوق کو دیکھنا اچھا سمجھتا ہوں۔۔۔۔۔۔۔ الخ۔ (گویا مسلم کے قول کا مطلب یہ ہے کہ حدیث کا پورا آخری جزو، جو طوق اور قید کے ذکر پر مشتمل ہے آنحضرت ﷺ کا ارشاد نہیں ہے، بلکہ حضرت ابوہریرہ (رض) یا محمد بن سیرین کا اپنا قول ہے نیز بخاری ومسلم کے ان اقوال کی روشنی میں قال و کان یکرہ کی ضمیروں کی حقیقت حال بھی منکشف ہوجاتی ہے کہ ان ضمیروں کو کس کی طرف راجع ہونا چاہئے !
تشریح
جس وقت کہ زمانہ قریب ہوگا کے تین معنی بیان کئے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ زمانہ قریب ہونے سے مراد قرب قیامت کا آخری زمانہ ہے جیسا کہ ایک اور حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ آخر زمانہ میں قیامت کے قریب مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا دوسرے یہ کہ زمانہ قریب ہونے سے مراد موت کے زمانہ سے قریب ہونا ہے یعنی جس مؤمن کی موت کا زمانہ قریب ہوتا ہے اس کا خواب جھوٹا نہیں ہوتا یہ معنی حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنے بعض مشائخ سے نقل کئے ہیں تیسرے یہ کہ اس سے مراد وہ ایام ہیں جن میں دن رات برابر ہوتے ہیں چناچہ جس زمانہ میں دن رات برابر ہوتے ہیں ان میں انسانی مزاج اعتدال پر ہوتا ہے اور ذہن وفکر کی صلاحتیں صحت و سلامت روی کے ساتھ کام کرتی ہیں ایسے دنوں میں دیکھا جانے والا خواب ذہنی و جسمانی خلل و انتشار سے محفوظ اور زیادہ سچا ہوتا ہے چوتھے یہ کہ زمانہ قریب ہونے سے مراد وہ زمانہ ہے جب سال مہینہ کی طرح مہینہ ہفتہ کی طرح ہفتہ دن کی اور دن ساعت کی طرح گزرنے لگے علماء نے لکھا ہے کہ ایسا زمانہ حضرت امام مہدی کے دور میں آئے گا کیونکہ اس وقت حضرت امام مہدی کے عدل و انصاف اور رعایا پروری کی وجہ سے سب ہی لوگ آسودگی و مسرت اور بےفکری کے دن گزاریں گے اور ظاہر ہے کہ آسودگی وبے فکری کے دن بڑی سرعت کے ساتھ گزرتے معلوم ہوتے ہیں خواہ وہ کتنا ہی طویل زمانہ کیوں نہ ہو اس کے برعکس عسرت و تنگی اور محنت مشقت کے دن اتنے بھاری معلوم ہوتے ہیں کہ خواہ وہ کتنا ہی مختصر عرصہ کیوں نہ ہو ایک ایک دن پہاڑ کی طرح گزرتا ہے، لہٰذا حضرت مہدی کے زمانہ میں بھی خواب صحیح و درست ہوں گے کیوں کہ وہ راستی کا زمانہ ہوگا، ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ وہ شخص جتنا زیادہ راست باز ہوگا اس کا خواب اتنا ہی سچا ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی سے چونکہ مطلق خواب سچا ہونا اور اس کی توصیف و فضیلت واضح ہوتی تھی تو اس لئے خواب کی قسمیں بیان کرنے کے لئے حضرت محمد بن سیرین کا ایک قول نقل کیا گیا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خواب کی ہر قسم نہ تو سچی ہوتی ہے اور نہ قابل تعبیر ولائق اعتبار، بلکہ خواب کی صرف وہی قسم تعبیر ولائق اعتبار ہوتی ہے جس کو حق تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور آئندہ پیش آنے والے واقعات و حادثات کی خبر و علامت قرار دیا جاتا ہے۔ ابن سیرین نے خواب کی جو تین قسمیں بیان کی ہیں ان میں پہلی قسم نفس کا خیال ہے، یعنی انسان دن بھر جن امور میں مشغول رہتا ہے اور اس کے دل و دماغ پر جو باتیں چھائی رہتی ہیں وہی رات میں بصورت خواب مشکل ہو کر نظر آتی ہیں مثلاً ایک شخص اپنے پیشہ و روزگار میں مصروف رہتا ہے اور اس کا ذہن و خیال انہیں باتوں کی فکر اور ادھیڑ پن میں لگا رہتا ہے جو اس کے پیشہ و روزگار سے متعلق ہیں تو خواب میں اس کو وہی چیزیں نظر آتی ہیں، یا ایک شخص اپنے محبوب کے خیال میں مگن رہتا ہے اور اس کے ذہن پر ہر وقت اسی محبوب کا سایہ رہتا ہے تو اس کے خواب کی دنیا پر بھی وہی محبوب چھایا رہتا ہے غرض کہ عالم بیداری میں جس شخص کے ذہن و خیال پر جو چیز زیادہ چھائی رہتی ہے وہی اس کو خواب میں نظر آئے گی لہٰذا اس طرح کے خواب کا کوئی اعتبار نہیں۔ دوسری قسم ڈراؤ نا خواب ہے، یہ خواب اصل میں شیطانی اثرات کا پر تو ہوتا ہے، شیطان چونکہ ازل سے بنی آدم کا دشمن ہے اور جس طرح وہ عالم بیداری میں انسان کو گمراہ کرنے اور پریشان کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح نیند کی حالت میں بھی وہ انسان کو چین نہیں لینے دیتا، چناچہ وہ انسان کو خواب میں پریشان کرنے اور ڈرانے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے کبھی تو وہ کسی ڈراونی شکل و صورت میں نظر آتا ہے جیسے وہ دیکھتا ہے کہ میرا سر قلم ہوگیا وغیرہ وغیرہ اسی طرح خواب میں احتلام کا ہونا کہ موجب غسل ہوتا ہے اور بسا اوقات اس کی وجہ سے نماز فوت یا قضا ہوجاتی ہے اسی شیطانی اثرات کا کرشمہ ہوتا ہے پہلی قسم کی طرح یہ قسم بھی بےاعتبار اور ناقابل تعبیر ہوتی ہے۔ خواب کی تیسری قسم وہ ہے کہ جس میں منجانب اللہ بشارت کہا گیا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے خواب میں بشارت دیتا ہے اور اس کے قلب کے آئینہ میں بطور اشارات و علامات ان چیزوں کو مشکل کر کے دکھاتا ہے جو آئندہ وقوع پذیر ہونے والی ہوتی ہے۔ یا جن کا تعلق مؤمن کی روحانی و قلبی بالیدگی و طمانیت سے ہوتا ہے وہ بندہ خوش ہو اور طلب حق میں تروتازگی محسوس کرے، نیز حق تعالیٰ سے حسن اعتقاد اور امید آوری رکھے خواب کی یہی وہ قسم ہے جو لائق اعتبار اور قابل تعبیر ہے اور جس کی فضیلت و تعریف احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ تو اس کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس طرح کا خواب بےاعتبار ہے اور اس کی کوئی تعبیر نہیں تو اس کو کسی کے سامنے بیان کرنا عبث ولا حاصل ہے علاوہ ازیں ایک بات یہ بھی ہے کہ جب اس قسم کے خواب کو کسی کے سامنے بیان کرے گا اور سننے والا خواب کی ظاہری حالت کے پیش نظر اس کی خراب تعبیر دے گا۔ تو اس کی وجہ سے فاسد وہم میں مبتلا ہونا اور بدشگونی لینا لازم آئے گا نیز دل و دماغ مختلف قسم کے اندیشوں اور وسوسوں سے پریشان ہوجائیں گے، مزید برآں خواب کے وقوع پذیر ہونے میں خواب کو ایک خاص تاثیر حاصل ہے کہ خواب کو سننے والا جو تعبیر دیتا ہے اللہ تعالیٰ سے ویسا ہی وقوع پذیر ہوجاتا ہے۔ قال وکان یکرہ الغل الخ میں لفظ قال اور کان کی ضمیروں کے بارے میں شارحین حدیث نے کئی احتمال لکھے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قال کی ضمیر محمد بن سیرین کی طرف سے راجع ہو جیسا کہ ما قبل کی عبارت قال محمد بن سیرین سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے اور اس بنا پر کان یکرہ کی ضمیریں آنحضرت ﷺ کی طرف راجع ہوں، اس صورت میں مذکورہ جملہ کے معنی وہی ہوں گے جو ترجمہ میں بیان کئے گئے یعنی حضرت محمد بن سیرین نے کہا کہ آنحضرت ﷺ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی شخص خواب میں یہ دیکھے کہ اس کے گلے میں طوق ڈالا گیا ہے کیونکہ گلے میں طوق کا ڈالا جانا دوزخیوں کی صفت ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے اذالاغلال فی اعناقہم دوسرا احتمال یہ ہے کہ قال کی ضمیر تو ابن سیرین کی طرف راجع ہو اور کان یکرہ کی ضمیریں حضرت ابوہریرہ (رض) کی طرف راجع ہوں اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ابن سیرین نے کہا ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی شخص خواب میں یہ دیکھے کہ اس کے گلے میں طوق ڈالا گیا ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) کا اس بات کو اچھا نہ سمجھنا یا تو اس پر تھا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اسی طرح سنا ہوگا یا اپنے ان کے اجتہاد کی بنا پر تھا۔ اور تیسرا احتمال یہ ہے کہ قال کی ضمیر تو اس راوی کی طرف راجع ہو جس نے اس حدیث کو حضرت ابن سیرین سے نقل کیا ہے اور کان یکرہ کی ضمیریں حضرت ابن سیرین کی طرف راجع ہوں اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ راوی نے کہا کہ حضرت ابن سیرین خواب میں طوق کو دیکھنا اچھا نہیں سمجھتے تھے، ! بظاہر یہ تیسرا احتمال ایک طرح کی ترجیح رکھتا ہے کیوں کہ حضرت ابن سیرین تعبیر خواب کے فن کے امام سمجھے جاتے ہیں اور ان سے اس طرح کے بہت سے اقوال منقول ہیں۔ اور قید کو دیکھنا پسند فرماتے تھے یعنی کوئی شخص خواب میں دیکھتا کہ اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر اس کو قیدی بنا لیا گیا ہے تو اس خواب کو اچھا سمجھتے تھے، بخاری نے اس جملہ میں جمع کا صیغہ یعنی لفظ یعجبہم نقل کیا ہے، لہٰذا ضمیروں کے سلسلے میں اوپر نقل کئے گئے احتمالات میں سے پہلے احتمال کی بنا پر یعجبہم کی ضمیر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی طرف راجع ہوگی دوسرے احتمال کی بنا پر حضرت ابوہریرہ (رض) اور ان کے تابعین کی طرف اور تیسرے احتمال کی بنا پر حضرت ابن سیرین اور ان کے زمانہ کے تعبیر دینے والے علماء کی طرف راجع ہوگی۔ خواب میں اپنے کو قیدی دیکھنا اس لئے اچھا ہے کہ دراصل برے امور، گناہوں اور کمزوری و گمراہی سے باز رہنے اور دینی احکامات وطاعت پر ثابت قدم رہنے کی علامت ہے جیسا کہ روایت میں فرمایا گیا ہے۔ ویقال القید ثبات فی الدین (کہا جاتا ہے کہ قید کا مطلب دین پر ثابت قدم رہنا ہے) لیکن واضح رہے کہ یہ تعبیر اہل دین وطاعت کی نسبت سے ہے یعنی جو شخص دینی زندگی کا حامل اور عبادات و طاعات پر عامل ہوگا اور وہ خواب میں اپنے کو قیدی دیکھے گا تو اس کے لئے تو مذکورہ تعبیر ہوگی اسی لئے تعبیر خواب کے ماہرین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی بیمار یا قیدی، یا مسافر اور یا کوئی مصیبت زدہ شخص خواب میں دیکھے کہ میرے پیروں میں قید کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں تو اس حق میں خواب کی یہ تعبیر ہوگی کہ وہ اپنے حال پر قائم رہے گا اسی طرح ایک ہی خواب کو دو مختلف حالت کے آدمی دیکھیں تو اس کی تعبیر ان کے حق میں ان کی حالت کے مطابق الگ الگ ہوگی، مثلا اگر کوئی تاجر یہ خواب دیکھے کہ وہ اپنا سامان لے کر کشتی پر بیٹھا ہوا ہے اور ہوا کشتی کے موافق چل رہی ہے تو اس کے حق میں خواب نقصان و ضرر سے سلامتی اور تجارت میں نفع کی علامت قرار پائے گا اور اگر یہی خواب کوئی سالک طریقت دیکھے تو اس کے حق میں یہ خواب شریعت کی اتباع اور مرتبہ حقیقت کو پہنچنے کی علامت قرار پائے گا۔
تشریح
جس وقت کہ زمانہ قریب ہوگا کے تین معنی بیان کئے جاتے ہیں ایک تو یہ کہ زمانہ قریب ہونے سے مراد قرب قیامت کا آخری زمانہ ہے جیسا کہ ایک اور حدیث میں صراحت کے ساتھ بیان کیا گیا ہے کہ آخر زمانہ میں قیامت کے قریب مؤمن کا خواب جھوٹا نہیں ہوگا دوسرے یہ کہ زمانہ قریب ہونے سے مراد موت کے زمانہ سے قریب ہونا ہے یعنی جس مؤمن کی موت کا زمانہ قریب ہوتا ہے اس کا خواب جھوٹا نہیں ہوتا یہ معنی حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے اپنے بعض مشائخ سے نقل کئے ہیں تیسرے یہ کہ اس سے مراد وہ ایام ہیں جن میں دن رات برابر ہوتے ہیں چناچہ جس زمانہ میں دن رات برابر ہوتے ہیں ان میں انسانی مزاج اعتدال پر ہوتا ہے اور ذہن وفکر کی صلاحتیں صحت و سلامت روی کے ساتھ کام کرتی ہیں ایسے دنوں میں دیکھا جانے والا خواب ذہنی و جسمانی خلل و انتشار سے محفوظ اور زیادہ سچا ہوتا ہے چوتھے یہ کہ زمانہ قریب ہونے سے مراد وہ زمانہ ہے جب سال مہینہ کی طرح مہینہ ہفتہ کی طرح ہفتہ دن کی اور دن ساعت کی طرح گزرنے لگے علماء نے لکھا ہے کہ ایسا زمانہ حضرت امام مہدی کے دور میں آئے گا کیونکہ اس وقت حضرت امام مہدی کے عدل و انصاف اور رعایا پروری کی وجہ سے سب ہی لوگ آسودگی و مسرت اور بےفکری کے دن گزاریں گے اور ظاہر ہے کہ آسودگی وبے فکری کے دن بڑی سرعت کے ساتھ گزرتے معلوم ہوتے ہیں خواہ وہ کتنا ہی طویل زمانہ کیوں نہ ہو اس کے برعکس عسرت و تنگی اور محنت مشقت کے دن اتنے بھاری معلوم ہوتے ہیں کہ خواہ وہ کتنا ہی مختصر عرصہ کیوں نہ ہو ایک ایک دن پہاڑ کی طرح گزرتا ہے، لہٰذا حضرت مہدی کے زمانہ میں بھی خواب صحیح و درست ہوں گے کیوں کہ وہ راستی کا زمانہ ہوگا، ایک حدیث میں یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ وہ شخص جتنا زیادہ راست باز ہوگا اس کا خواب اتنا ہی سچا ہوگا۔ آنحضرت ﷺ کے ارشاد گرامی سے چونکہ مطلق خواب سچا ہونا اور اس کی توصیف و فضیلت واضح ہوتی تھی تو اس لئے خواب کی قسمیں بیان کرنے کے لئے حضرت محمد بن سیرین کا ایک قول نقل کیا گیا جس میں اس طرف اشارہ ہے کہ خواب کی ہر قسم نہ تو سچی ہوتی ہے اور نہ قابل تعبیر ولائق اعتبار، بلکہ خواب کی صرف وہی قسم تعبیر ولائق اعتبار ہوتی ہے جس کو حق تعالیٰ کی طرف سے بشارت اور آئندہ پیش آنے والے واقعات و حادثات کی خبر و علامت قرار دیا جاتا ہے۔ ابن سیرین نے خواب کی جو تین قسمیں بیان کی ہیں ان میں پہلی قسم نفس کا خیال ہے، یعنی انسان دن بھر جن امور میں مشغول رہتا ہے اور اس کے دل و دماغ پر جو باتیں چھائی رہتی ہیں وہی رات میں بصورت خواب مشکل ہو کر نظر آتی ہیں مثلاً ایک شخص اپنے پیشہ و روزگار میں مصروف رہتا ہے اور اس کا ذہن و خیال انہیں باتوں کی فکر اور ادھیڑ پن میں لگا رہتا ہے جو اس کے پیشہ و روزگار سے متعلق ہیں تو خواب میں اس کو وہی چیزیں نظر آتی ہیں، یا ایک شخص اپنے محبوب کے خیال میں مگن رہتا ہے اور اس کے ذہن پر ہر وقت اسی محبوب کا سایہ رہتا ہے تو اس کے خواب کی دنیا پر بھی وہی محبوب چھایا رہتا ہے غرض کہ عالم بیداری میں جس شخص کے ذہن و خیال پر جو چیز زیادہ چھائی رہتی ہے وہی اس کو خواب میں نظر آئے گی لہٰذا اس طرح کے خواب کا کوئی اعتبار نہیں۔ دوسری قسم ڈراؤ نا خواب ہے، یہ خواب اصل میں شیطانی اثرات کا پر تو ہوتا ہے، شیطان چونکہ ازل سے بنی آدم کا دشمن ہے اور جس طرح وہ عالم بیداری میں انسان کو گمراہ کرنے اور پریشان کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح نیند کی حالت میں بھی وہ انسان کو چین نہیں لینے دیتا، چناچہ وہ انسان کو خواب میں پریشان کرنے اور ڈرانے کے لئے طرح طرح کے حربے استعمال کرتا ہے کبھی تو وہ کسی ڈراونی شکل و صورت میں نظر آتا ہے جیسے وہ دیکھتا ہے کہ میرا سر قلم ہوگیا وغیرہ وغیرہ اسی طرح خواب میں احتلام کا ہونا کہ موجب غسل ہوتا ہے اور بسا اوقات اس کی وجہ سے نماز فوت یا قضا ہوجاتی ہے اسی شیطانی اثرات کا کرشمہ ہوتا ہے پہلی قسم کی طرح یہ قسم بھی بےاعتبار اور ناقابل تعبیر ہوتی ہے۔ خواب کی تیسری قسم وہ ہے کہ جس میں منجانب اللہ بشارت کہا گیا ہے کہ حق تعالیٰ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کے خواب میں بشارت دیتا ہے اور اس کے قلب کے آئینہ میں بطور اشارات و علامات ان چیزوں کو مشکل کر کے دکھاتا ہے جو آئندہ وقوع پذیر ہونے والی ہوتی ہے۔ یا جن کا تعلق مؤمن کی روحانی و قلبی بالیدگی و طمانیت سے ہوتا ہے وہ بندہ خوش ہو اور طلب حق میں تروتازگی محسوس کرے، نیز حق تعالیٰ سے حسن اعتقاد اور امید آوری رکھے خواب کی یہی وہ قسم ہے جو لائق اعتبار اور قابل تعبیر ہے اور جس کی فضیلت و تعریف احادیث میں بیان کی گئی ہے۔ تو اس کو کسی کے سامنے بیان نہ کرے کا مطلب یہ ہے کہ جب اس طرح کا خواب بےاعتبار ہے اور اس کی کوئی تعبیر نہیں تو اس کو کسی کے سامنے بیان کرنا عبث ولا حاصل ہے علاوہ ازیں ایک بات یہ بھی ہے کہ جب اس قسم کے خواب کو کسی کے سامنے بیان کرے گا اور سننے والا خواب کی ظاہری حالت کے پیش نظر اس کی خراب تعبیر دے گا۔ تو اس کی وجہ سے فاسد وہم میں مبتلا ہونا اور بدشگونی لینا لازم آئے گا نیز دل و دماغ مختلف قسم کے اندیشوں اور وسوسوں سے پریشان ہوجائیں گے، مزید برآں خواب کے وقوع پذیر ہونے میں خواب کو ایک خاص تاثیر حاصل ہے کہ خواب کو سننے والا جو تعبیر دیتا ہے اللہ تعالیٰ سے ویسا ہی وقوع پذیر ہوجاتا ہے۔ قال وکان یکرہ الغل الخ میں لفظ قال اور کان کی ضمیروں کے بارے میں شارحین حدیث نے کئی احتمال لکھے ہیں۔ ایک تو یہ کہ قال کی ضمیر محمد بن سیرین کی طرف سے راجع ہو جیسا کہ ما قبل کی عبارت قال محمد بن سیرین سے بظاہر یہی مفہوم ہوتا ہے اور اس بنا پر کان یکرہ کی ضمیریں آنحضرت ﷺ کی طرف راجع ہوں، اس صورت میں مذکورہ جملہ کے معنی وہی ہوں گے جو ترجمہ میں بیان کئے گئے یعنی حضرت محمد بن سیرین نے کہا کہ آنحضرت ﷺ اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی شخص خواب میں یہ دیکھے کہ اس کے گلے میں طوق ڈالا گیا ہے کیونکہ گلے میں طوق کا ڈالا جانا دوزخیوں کی صفت ہے جیسا کہ فرمایا گیا ہے اذالاغلال فی اعناقہم دوسرا احتمال یہ ہے کہ قال کی ضمیر تو ابن سیرین کی طرف راجع ہو اور کان یکرہ کی ضمیریں حضرت ابوہریرہ (رض) کی طرف راجع ہوں اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ ابن سیرین نے کہا ہے، حضرت ابوہریرہ (رض) اس بات کو اچھا نہیں سمجھتے تھے کہ کوئی شخص خواب میں یہ دیکھے کہ اس کے گلے میں طوق ڈالا گیا ہے اور حضرت ابوہریرہ (رض) کا اس بات کو اچھا نہ سمجھنا یا تو اس پر تھا کہ انہوں نے آنحضرت ﷺ سے اسی طرح سنا ہوگا یا اپنے ان کے اجتہاد کی بنا پر تھا۔ اور تیسرا احتمال یہ ہے کہ قال کی ضمیر تو اس راوی کی طرف راجع ہو جس نے اس حدیث کو حضرت ابن سیرین سے نقل کیا ہے اور کان یکرہ کی ضمیریں حضرت ابن سیرین کی طرف راجع ہوں اس صورت میں یہ معنی ہوں گے کہ راوی نے کہا کہ حضرت ابن سیرین خواب میں طوق کو دیکھنا اچھا نہیں سمجھتے تھے، ! بظاہر یہ تیسرا احتمال ایک طرح کی ترجیح رکھتا ہے کیوں کہ حضرت ابن سیرین تعبیر خواب کے فن کے امام سمجھے جاتے ہیں اور ان سے اس طرح کے بہت سے اقوال منقول ہیں۔ اور قید کو دیکھنا پسند فرماتے تھے یعنی کوئی شخص خواب میں دیکھتا کہ اس کے پیروں میں بیڑیاں ڈال کر اس کو قیدی بنا لیا گیا ہے تو اس خواب کو اچھا سمجھتے تھے، بخاری نے اس جملہ میں جمع کا صیغہ یعنی لفظ یعجبہم نقل کیا ہے، لہٰذا ضمیروں کے سلسلے میں اوپر نقل کئے گئے احتمالات میں سے پہلے احتمال کی بنا پر یعجبہم کی ضمیر آنحضرت ﷺ اور صحابہ کی طرف راجع ہوگی دوسرے احتمال کی بنا پر حضرت ابوہریرہ (رض) اور ان کے تابعین کی طرف اور تیسرے احتمال کی بنا پر حضرت ابن سیرین اور ان کے زمانہ کے تعبیر دینے والے علماء کی طرف راجع ہوگی۔ خواب میں اپنے کو قیدی دیکھنا اس لئے اچھا ہے کہ دراصل برے امور، گناہوں اور کمزوری و گمراہی سے باز رہنے اور دینی احکامات وطاعت پر ثابت قدم رہنے کی علامت ہے جیسا کہ روایت میں فرمایا گیا ہے۔ ویقال القید ثبات فی الدین (کہا جاتا ہے کہ قید کا مطلب دین پر ثابت قدم رہنا ہے) لیکن واضح رہے کہ یہ تعبیر اہل دین وطاعت کی نسبت سے ہے یعنی جو شخص دینی زندگی کا حامل اور عبادات و طاعات پر عامل ہوگا اور وہ خواب میں اپنے کو قیدی دیکھے گا تو اس کے لئے تو مذکورہ تعبیر ہوگی اسی لئے تعبیر خواب کے ماہرین نے لکھا ہے کہ اگر کوئی بیمار یا قیدی، یا مسافر اور یا کوئی مصیبت زدہ شخص خواب میں دیکھے کہ میرے پیروں میں قید کی بیڑیاں پڑی ہوئی ہیں تو اس حق میں خواب کی یہ تعبیر ہوگی کہ وہ اپنے حال پر قائم رہے گا اسی طرح ایک ہی خواب کو دو مختلف حالت کے آدمی دیکھیں تو اس کی تعبیر ان کے حق میں ان کی حالت کے مطابق الگ الگ ہوگی، مثلا اگر کوئی تاجر یہ خواب دیکھے کہ وہ اپنا سامان لے کر کشتی پر بیٹھا ہوا ہے اور ہوا کشتی کے موافق چل رہی ہے تو اس کے حق میں خواب نقصان و ضرر سے سلامتی اور تجارت میں نفع کی علامت قرار پائے گا اور اگر یہی خواب کوئی سالک طریقت دیکھے تو اس کے حق میں یہ خواب شریعت کی اتباع اور مرتبہ حقیقت کو پہنچنے کی علامت قرار پائے گا۔
4513
Mishkaat Shareefوعن جابر قال جاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال رأيت في المنام كأن رأسي قطع قال فضحك النبي صلى الله عليه وسلم وقال إذا لعب الشيطان بأحدكم في منامه فلا يحدث به الناس . رواه مسلم .
اور حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک دیہاتی آیا اور عرض کیا کہ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ گویا میرا سر کاٹ ڈالا گیا ہے، جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ یہ خواب سن کر ہنس دئیے اور فرمایا کہ جب تم میں سے کسی شخص کے خواب میں اس کے ساتھ شیطان تماشہ کرے تو وہ اس خواب کو لوگوں کے سامنے بیان نہ کرے۔ (مسلم)
تشریح
گویا آنحضرت ﷺ نے دیہاتی سے فرمایا کہ تمہارا یہ خواب اضغاث احلام میں سے ہے اور اس قسم سے ہے جس میں انسان کے ساتھ شیطان تماشہ کرتا ہے تاکہ اس کو پریشان و رنجور کرے ایسے خواب کو چھپانا چاہئے نہ کہ لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ خواب اضغاث احلام میں سے ہے اور شیطانی اثرات کا عکاس ہے ورنہ اہل تعبیر کے نزدیک اس خواب کی تعبیر زوال نعمت، قوم برادری سے مفارقت اور اس جیسی دوسری چیزوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔
تشریح
گویا آنحضرت ﷺ نے دیہاتی سے فرمایا کہ تمہارا یہ خواب اضغاث احلام میں سے ہے اور اس قسم سے ہے جس میں انسان کے ساتھ شیطان تماشہ کرتا ہے تاکہ اس کو پریشان و رنجور کرے ایسے خواب کو چھپانا چاہئے نہ کہ لوگوں کے سامنے بیان کیا جائے۔ یحییٰ کہتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کو بذریعہ وحی یہ معلوم ہوگیا ہوگا کہ یہ خواب اضغاث احلام میں سے ہے اور شیطانی اثرات کا عکاس ہے ورنہ اہل تعبیر کے نزدیک اس خواب کی تعبیر زوال نعمت، قوم برادری سے مفارقت اور اس جیسی دوسری چیزوں کی شکل میں ظاہر ہوتی ہے۔