hadith book logo

Mishkaat Shareef

12. وتر کا بیان

مشكاة المصابيح

1229
Mishkaat Shareef
صحیح
وتر ( لفظ وتر میں واؤ کو زیر اور زبر دونوں کے ساتھ پڑھ سکتے ہیں مگر زیر کے ساتھ پڑھنا زیادہ مشہور ہے۔ ( ہر اس نماز کو کہہ سکتے ہیں جس میں طاق رکعتیں ہوں مگر فقہا کے ہاں وتر اسی خاص نماز کو کہتے ہیں جس کا وقت عشاء کی نماز کے بعد ہے جو عام طور پر عشاء کے فورا بعد ہی پڑھی جاتی ہے اور اس باب میں اسی نماز وتر کا بیان ہوگا۔ نماز وتر واجب ہے یا سنت نماز وتر کے سلسلہ میں ائمہ کے ہاں دو چیزوں میں اختلاف پایا جاتا ہے پہلی چیز تو یہ کہ آیا نماز وتر واجب ہے یا سنت ؟ چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ فرماتے ہیں کہ وتر کی نماز واجب ہے حضرت امام شافعی اور حضرت قاضی ابویوسف فرماتے ہیں کہ سنت ہے۔ نماز وتر کی ایک رکعت ہے یا تین رکعتیں علماء کے نزدیک دوسرا اختلاف یہ ہے کہ نماز وتر کی ایک رکعت ہے یا تین ؟ حنفیہ کے ہاں وتر کی تین رکعتیں ہیں جب کہ اکثر ائمہ کا مسلک یہ ہے کہ نماز وتر صرف ایک ہی رکعت ہے تاہم ان حضرات کے نزدیک بھی وتر کے لئے صرف ایک رکعت پڑھنا مکروہ ہے بلکہ ان حضرات کا کہنا ہے کہ پہلے دو رکعت پڑھ کر سلام پھیرا جائے اس کے بعد ایک وتر پڑھی جائے۔ نماز وتر کا طریقہ وتر کی نماز مغرب کی نماز کی طرح (حنفیہ کے مسلک کے مطابق) تین رکعت پڑھی جاتی ہے، اس کے پڑھنے کا وہی طریقہ ہے جو فرض نمازوں کا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ محض دو رکعتوں میں سورت فاتحہ کے بعد دوسری سورت ملائی جاتی ہے جب کہ وتر کی نماز میں تینوں رکعتوں میں دوسری سورت پڑھنے کا حکم ہے اور تیسری رکعت میں دوسری سورت کے بعد دونوں ہاتھ تکبیر کے ساتھ کانوں تک اٹھا کر (جس طرح کہ تکبیر تحریمہ کے وقت اٹھاتے ہیں) پھر باندھے جائیں اور بآواز آہستہ دعا قنوت پڑھی جائے، دعا قنوت یہ ہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَسْتَعِیْنُکَ وَنَسْتَھْدِیْکَ وَنَسْتَغْفِرُکَ وَنَتُوْبُ اِلَیْکَ وَنُؤْمِنُ بِکَ وَنُثْنِی عَلَیْکَ الْخَیْرَوَ نَشْکُرُکَ وَلَا نَکْفُرُکَ وَنَخْلَعُ وَنَتْرُکُ مَنْ یَّفْجُرُکَ اَللّٰھُمَّ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَلَکَ نُصَلِّی وَنَسْجُدُ وَاِلَیْکَ نَسْعَی وَنَحْفِدُ وَنَرْجُوْا رَحْمَتَکَ وَنَخْشَی عَذَابَکَ اِنَّ عَذَابَکَ بِالْکُفَّارِ مُلْحِقْ ۔ اے اللہ ! تجھی سے مدد مانگتے ہیں تجھی سے ہدایت کے طالب ہیں، تجھی سے اپنے گناہوں کی معافی چاہتے ہیں ہم تیرے ہی سامنے توبہ کرتے ہیں، تیرے ہی اوپر ایمان لاتے ہیں تیری ہی اچھی تعریفیں بیان کرتے ہیں، ہم تیرا ہی شکر ادا کرتے ہیں نا شکری نہیں کرتے اور جو آدمی تیری نا شکری نافرمانی کرے ہم اس کو چھوڑتے ہیں۔ اے پروردگار ! ہم تیری ہی عبادت کرتے ہیں تیری ہی نماز پڑھتے ہیں تجھی کو سجدہ کرتے ہیں، تیری ہی طرف دوڑتے آتے ہیں، تیری ہی عبادت میں جلد مستغرق ہوجاتے ہیں، تیری رحمت کے امیدوار ہیں ہم تیرے ہی عذاب سے ڈرتے ہیں بیشک تیرا عذاب کافروں پر نازل ہونے ولا ہے۔ اگر اس کے بعد یہ دعا بھی پڑھ لی جائے تو بہتر ہے۔ اَللّٰھُمَّ اھْدِنِیْ فِیْمَنْ ھَدَیْتَ وَعَا ِفنِیْ فِیْ مَنْ عَافَیْتَ وَتَوَلَّنِیْ فِیْمَنْ تَوَلَیْتَ وَبَارِکْ لِیْ فِیْمَا اَعْطَیْتَ وَقِنِیْ شَرَّ مَا قَضَیْتَ فَاِنَّکَ تَقْضِیْ وَلَا یُقْضٰی عَلَیْکَ اِنَّہ لا یُذِلُّ مَنْ وَّالَیْتَ وَلَا یَعِزُّمَنْ عَادَیْتَ تَبَارَکْتَ رَبَّنَا وَتَعَالَیْتَ ۔ اے اللہ ! ان لوگوں کے ساتھ مجھ کو ہدایت دے جنہیں تو نے ہدایت بخشی، مجھے ان لوگوں کے ساتھ مصیبتوں اور آفتوں سے بچا جنہیں تو نے بچایا ہے، ان لوگوں کے ساتھ مجھ سے محبت کر جن سے تو نے محبت کی اور جو کچھ تو نے مجھے دیا ہے اس میں برکت عطا فرما اور مجھے ان برائیوں سے بچا جو مقدر ہوں بیشک تو حاکم ہے محکوم نہیں اور جس سے تو محبت کرے وہ ذلیل نہیں ہوسکتا اور جس سے تجھ کو عداوت ہو وہ عزت نہیں پاسکتا، اے اللہ تیری ذات بزرگ و برتر ہے۔ اگر کسی کو دعاء قنوت یاد نہ ہو تو وہ بجائے دعا قنوت کے یہ پڑھ لے۔ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃَ وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی آرام دے اور ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچا۔ اور اگر کوئی اس کے پڑھنے پر بھی قادر نہ ہو تو پھر اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ یا یَا رَبِّ تین مرتبہ کہہ لے۔
1230
Mishkaat Shareef
صحیح
عَنِ ابْنِ عُمَرَ ص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم صَلٰوۃُ اللَّےْلِ مَثْنٰی مَثْنٰی فَاِذَا خَشِیَ اَحَدُکُمُ الصُّبْحَ صَلّٰی رَکْعَۃً وَّاحِدَۃً تُوْتِرُلَہ، مَا قَدْ صَلّٰی۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا رات کی نماز دو دو رکعت ہے اور جب کسی کو صبح ہونے کا اندیشہ ہونے لگے تو ایک رکعت پڑھ لے، یہ (ایک رکعت) پہلی پڑھی ہوئی نماز کو طاق کر دے گی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

تشریح
حدیث کے پہلے جزو کا مطلب یہ ہے کہ رات کو پڑھی جانے والی نفل نمازیں دو دو رکعت کر کے پڑھی جائیں چناچہ حضرت امام شافعی، حضرت امام ابویوسف اور حضرت امام محمد نے اس حدیث کے پیش نظر کہا ہے کہ افضل یہی ہے کہ رات میں نفل نمازیں اس طرح پڑھی جائیں کہ ہر دو رکعت کے بعد سلام پھیرا جائے یعنی دو دو رکعت کر کے پڑھی جائیں۔ حدیث کے دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ رات کو نماز میں مشغول رہنے والا آدمی جب یہ دیکھے کہ رات ختم ہو رہی ہے اور صبح نمودار ہونے والی ہے تو وہ ان نمازوں کے بعد ایک رکعت پڑھ لے تاکہ یہ ایک رکعت پہلی پڑھی ہوئی نمازوں کو طاق کر دے، اس طرح یہ حدیث امام شافعی کی دلیل ہے کیونکہ ان کے نزدیک وتر کی ایک ہی رکعت ہے۔ امام طحاوی حنفی نے صلی رکعۃ واحدۃ الخ کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ ایک رکعت اس طرح پڑھے کہ اس سے پہلے دور رکعتیں پڑھ لے تاکہ یہ رکعت شفع یعنی اس ایک رکعت سے پہلے پڑھی گئی دونوں رکعتوں کو طاق کر دے۔ گویا ایک رکعت علیحدہ نہ پڑھی جائے بلکہ دو رکعتوں کے ساتھ ملا کر پڑھی جائے۔ علامہ ابن ہمام فرماتے ہیں کہ اس حدیث سے تو یہ کہیں ثابت ہی نہیں ہوتا کہ وتر کی ایک رکعت علیحدہ تکبیر تحریمہ کے ساتھ پڑھی جائے لہٰذا اس کے ذریعے وتر کی ایک رکعت ہونے پر استدلال کرنا درست نہیں ہے۔ پھر وتر کی تین ہی رکعتیں ہونے کے سلسلہ میں حنفیہ کی ایک بڑی دلیل یہ بھی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے صلوۃ بتیرا یعنی تنہا ایک رکعت نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔ جہاں تک صحابہ اور سلف کے عمل کا تعلق ہے تو اس کے بارے میں وثوق کے ساتھ کہا جاسکتا ہے کہ اکثر فقہا صحابہ اور سلف کا معمول وتر کی تین رکعتیں ہی پڑھنا تھا۔ چناچہ حضرت عمر فاروق کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے ان کو تو اس سلسلے میں بہت زیادہ اہتمام تھا۔ انہوں نے ایک مرتبہ حضرت سعید بن مسیب کو وتر ایک رکعت پڑھتے ہوئے دیکھا تو فرمایا کہ کیسی ناقص نماز پڑھتے ہو ؟ دو رکعت اور پڑھو ورنہ تمہیں سزادوں گا۔ (نہایہ) جامع ترمذی نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے وتر کی تین رکعتیں نقل کی ہیں اور اسی کو عمران بن حصین، حضرت عائشہ، عبداللہ ابن عباس اور ابوایوب کی طرف منسوب کیا ہے اور آخر میں انہوں نے صراحت کردی ہے کہ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت اسی طرف ہے۔ حضرت عمر فاروق اور حضرت عبداللہ ابن مسعود کے بارے میں موطا امام محمد میں مذکور ہے کہ ان کے نزدیک بھی وتر کی تین ہی رکعتیں ہیں۔ حضرت امام حسن بصری فرماتے ہیں کہ سلف کا اسی پر معمول تھا۔ (ہدایہ) تین رکعت کی وتر صحابہ میں مشہور تھی، ایک رکعت کی وتر تو عام طور پر لوگ جانتے بھی نہ تھے چناچہ حضرت معاویہ کو عبداللہ ابن عباس کے مولیٰ نے ایک رکعت وتر پڑھتے ہوئے دیکھا تو ان کو بہت تعجب ہوا انہوں نے حضرت عباس کی خدمت میں حاضر ہو کر اس کو بڑے اہتمام کے ساتھ بیان کیا۔ حضرت عبداللہ ابن عباس نے ان کی وحشت و حیرت یہ کہہ کر ختم کردی کہ معاویہ فقیہ ہیں۔ رسول اللہ ﷺ کی صحبت سے مشرف ہوچکے ہیں ان پر اعتراض نہ کرو (صحیح البخاری ) بہر حال ان تمام باتوں کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کرنا پڑتا ہے کہ وتر کی تین ہی رکعتیں ہیں جن احادیث سے وتر کی ایک رکعت ثابت ہوتی ہے وہ سب قابل تاویل ہیں جو انشاء اللہ حسب موقع بیان کی جائیں گی۔ یا یہ کہ ان میں رسول اللہ ﷺ کی پہلی حالتوں کا ذکر ہے آخر فعل آپ ﷺ کا بھی تین ہی رکعت پر تھا جو صحابہ میں مشہور ہوا اور ظاہر ہے کہ امت کے لئے آپ کا وہی فعل حجت اور دلیل بن سکتا ہے جس پر آپ ﷺ نے آخر میں عمل اختیار فرمایا ہو۔
1231
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اَلْوِتْرُ رَکْعَۃٌ مِّنْ اٰخِرِ اللَّےْلِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عمر (رض) راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا آخر رات کو وتر (پڑھنا افضل ہے اور اس کی ایک رکعت ہے ) ۔ صحیح مسلم

تشریح
الوتر رکعۃ کا مطلب یہ ہے کہ پہلے پڑھی گئی دو رکعتوں کے ساتھ ملی ہوئی وتر کی ایک رکعت ہے گویا کہ اس کا مفہوم یہ ہوا کہ وتر سے ہٹ کر تاویل کا راستہ اختیار کرتے ہوئے یہ معنی اس لئے بیان کئے گئے ہیں تاکہ ان حدیث میں جن سے وتر کے لئے تین رکعتیں پڑھنا ثابت ہے اور ان احادیث میں جن سے وتر کی ایک رکعت کا اثبات ہوتا ہے تطبیق پیدا ہوجائے اور احادیث کے حقیقی معنی و مفہوم میں کوئی تعارض پیدا نہ ہو۔ وتر کے پڑھنے کا مختار اور افضل وقت آخری رات ہے جب کہ تہجد وغیرہ کی نماز پڑھ لی جائے لیکن عام طور سے چونکہ لوگ رات کو تہجد کی نماز کے لئے نہیں اٹھتے اس لئے عشاء کی نماز کے فورًا بعد ہی وتر بھی پڑھ لئے جاتے ہیں۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث دہلوی نے لکھا ہے کہ یہ حدیث اس بات کی دلیل ہے کہ وتر ایک ہی رکعت ہے۔ جن احادیث سے وتر کی تین رکعتیں پڑھنا ثابت ہے وہ آگے ذکر کر جائیں گی۔
1232
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ عَا ئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قاَلَتْ کَا نَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ےُصَلِّیْ مِنَ الَّےْلِ ثَلٰثَ عَشَرَۃَ رَکْعَۃً ےُّوْتِرُ مِنْ ذَالِکَ بِخَمْسٍ لاَّ ےَجْلِسُ فِیْ شَیْءٍ اِلَّا فِیْ اٰخِرِھَا۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ رات کو (تہجد کے وقت) تیرہ رکعت پڑھتے تھے جن میں سے پانچ رکعتوں میں وتر پڑھتے اور ان میں سوائے آخری رکعت کے کسی میں بھی (تشہد کے لئے) نہیں بیٹھتے تھے۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

تشریح
رات کو رسول اللہ ﷺ کی نماز کئی طریقوں سے ذکر کی گئی ہے ان میں سے ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ پہلے آپ ﷺ آٹھ رکعتیں چار سلام کے ساتھ یعنی دو دو رکعت کر کے پڑھتے تھے اور پھر آخر میں پانچ رکعتیں ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ اس طرح پڑھتے تھے کہ اسی میں وتر کی نیت بھی کرلیتے تھے یعنی وتر کی نماز بھی انہیں پانچ رکعتوں میں شامل ہوتی تھی اور ان پانچ رکعتوں میں سے کسی ایک رکعت میں بھی نہ تو تشہد کے لئے بیٹھتے تھے اور نہ سلام پھیرتے تھے بلکہ آخری رکعت میں تشہد کے لئے بیٹھتے اور سلام پھیرتے۔ لہٰذا یہ حدیث صریح طور پر اس بات کی دلیل ہے کہ پانچ رکعتیں اس طرح ملا کر پڑھنا کہ ان میں سے کسی ایک رکعت میں بھی تشہد کے لئے نہ بیٹھا جائے بلکہ صرف آخری یعنی پانچویں رکعت کے بعد قعدہ کیا جائے جائز ہے لیکن فقہا کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے چناچہ جن حضرات کے ہاں یہ جائز نہیں ہے وہ عدم جلوس کی تاویل عدم سلام سے کرتے ہیں یعنی ان کے نزدیک لا یجلس فی شی الا فی اخرھا کا مطلب یہ بیان کیا جاتا ہے کہ آپ ﷺ پانچ رکعتوں میں سے صرف آخری رکعت کے بعد سلام پھیر تے تھے درمیان میں کسی بھی رکعت کے بعد سلام نہیں پھیرتے تھے چناچہ بعض روایتوں میں مذکور بھی ہے کہ لم یسلم الا فی آخرین بعض حضرات نے یہ تاویل بھی کی ہے کہ ان پانچ رکعتوں میں سوائے آخری رکعت کے کسی میں بھی جلوس دراز نہیں کرتے تھے یعنی طویل قعدہ نہیں کرتے تھے صرف آخری رکعت میں آپ ﷺ کا قعدہ طویل ہوتا تھا۔ بہر حال چار سے زیادہ رکعتوں کو ملا کر ایک سلام کے ساتھ پڑھنا متفقہ طور پر تمام علماء کے ہاں جائز ہے لیکن حنفیہ کے ہاں اتنا فرق ہے کہ ان کے نزدیک آٹھ رکعت تک ملا کر ایک سلام کے ساتھ پڑھنا تو بلا کراہت جائز ہے مگر آٹھ رکعتوں کے بعد کراہت کے ساتھ جائز ہے۔
1233
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ ھِشَامٍ ص قَالَ انْطَلَقْتُ اِلٰی عَآئِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقُلْتُ ےَا اُمَّ الْمُؤْمِنِےْنَ اَنْبِئِےْنِیْ عَنْ خُلُقِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَتْ اَلَسْتَ تَقْرَءُ الْقُرْآنَ قُلْتُ بَلیٰ قَالَتْ فَاِنَّ خُلُقَ نَبِیِّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ الْقُرْآنُ قُلْتُ ےَا اُمَّ الْمُؤْمِنِےْنَ اَنْبِئِےْنِیْ عَنْ وِّتْرِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم فَقَالَتْ کُنَّا نُعِدُّ لَہُ سِوَاکَہُ وَطَھُوْرَہُ فَےَبْعَثُہُ اللّٰہُ مَا شَآءَ اَنْ ےَّبْعَثَہُ مِنَ اللَّےْلِ فَےَتَسَوَّکُ وَےَتَوَضَّأُوَےُصَلِّیْ تِسْعَ رَکَعَاتٍ لَّا ےَجْلِسُ فِےْھَا اِلَّا فِی الثَّامِنَۃِ فَےَذْکُرُاللّٰہَ وَےَحْمَدُہُ وَےَدْعُوْہُ ثُمَّ ےَنْھَضُ وَلَا ےُسَلِّمُ فَےُصَلِّیْ التَّاسِعَۃَ ثُمَّ ےَقْعُدُ فَےَذْکُرُاللّٰہَ وَےَحْمَدُہُ وَےَدْعُوْہُ ثُمَّ ےُسَلِّمُ تَسْلِےْمًا ےُّسْمِعُنَا ثُمَّ ےُصَلِّیْ رَکْعَتَےْنِ بَعْدَ مَا ےُسَلِّمُ وَھُوَ قَاعِدٌ فَتِلْکَ اِحْدٰی عَشَرَۃً رَکْعَۃً ےَا بُنَیَّ فَلَمَّا اَسَنَّّ صلی اللہ علیہ وسلم وَاَخَذَ اللَّحْمَ اَوْتَرَ بِسَبْعٍ وَّصَنَعَ فِی الرَّکْعَتَےْنِ مِثْلَ صَنِےْعِہٖ فِی الْاُوْلٰی فَتِلْکَ تِسْعٌ ےَا بُنَیَّ وَکَانَ نَبِیُّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم اِذَا صَلّٰی صَلٰوۃً اَحَبَّ اَنْ ےُّدَاوِمَ عَلَےْھَا وَکَانَ اِذَا غَلَبَہُ نَوْمٌ اَوْ وَجَعٌ عَنْ قِےَامِ اللَّےْلِ صَلّٰی مِنَ النَّھَارِثِنْتَیْ عَشْرَۃَ رَکْعَۃً وَّلَا اَعْلَمُ نَبِیَّ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم قَرَءَ الْقُرْاٰنَ کُلَّہُ فِیْ لَےْلَۃٍ وَّلَا صَلّٰی لَےْلَۃً اِلَی الصُّبْحِ وَلَا صَامَ شَھْرًا کَامِلًا غَےْرَ رَمَضَانَ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت سعد بن ہشام فرماتے ہیں کہ میں ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا کہ ام المومنین ! مجھے سرور کونین ﷺ کے خلق کے بارے میں بتلائیے ؟ حضرت عائشہ نے فرمایا کیا تم نے قرآن کریم نہیں پڑھا َ ؟ میں نے عرض کیا جی ہاں ! پڑھا ہے ! فرمایا رسول اللہ ﷺ کا خلق قرآن ہی تھا (یعنی قرآن کریم میں جتنے بھی اخلاق کریمہ اور صفات حمیدہ مذکور ہیں رسول اللہ ﷺ نے ان سب کو اپنی ذات میں سمو لیا تھا۔ گویا ً رسول اللہ ﷺ کی اخلاقی زندگی قرآن حکیم کا عملی نمونہ تھی پھر میں نے عرض کی ام المؤمنین ! اچھا رسول اللہ ﷺ کے وتر کے بارے میں مجھے بتائیے کہ (آپ ﷺ وتر کس وقت اور کس طرح نیز کتنی رکعت پڑھا کرتے تھے) حضرت عائشہ نے فرمایا میں (پہلے ہی سے) رسول اللہ ﷺ کی مسواک اور وضو کے لئے پانی کا انتظام کئے رہی تھی اور جب اللہ تعالیٰ آپ ﷺ کو رات کو اٹھانا چاہتا تھا اٹھاتا، چناچہ (آپ بیدار ہو کر پہلے) مسواک کرتے، پھر وضو کرتے اور نو رکعت نماز پڑھتے اور سوائے آٹھویں رکعت کے اور کسی رکعت میں نہ بیٹھتے، جب آٹھویں رکعت پڑھ لیتے تو (تشہد میں) بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف بیان کرتے اور دعا مانگتے (یعنی التحیات پڑھتے کہ اس میں اللہ کا ذکر، حمد اور دعا سب ہی کچھ ہے پھر سلام پھیرے بغیر نویں رکعت پڑھے کھڑے ہوجاتے، پھر نویں رکعتی پوری کر کے تشہد میں بیٹھتے اور اللہ کا ذکر کرتے، اس کی تعریف بیان کرتے اور اس سے دعا مانگتے یعنی التحیات پڑھ کر جو دعا پڑھی جاتی ہے) وہ دعا پڑھتے پھر ہمیں سناتے ہوئے بآواز بلند سلام پھیرتے، پھر سلام پھیرنے کے بعد بیٹھ کردو رکعت پڑھتے اور اے میرے بچے، یہ کل گیارہ رکعتیں ہوگئیں اور جب آپ کی عمر زیادہ ہوگئی اور بڑھاپے کی وجہ سے بدن پر گوشت چڑھ گیا تو سات رکعتیں مع وتر کے پڑھنے لگے اور دو رکعت پہلے ہی کی طرح (یعنی بیٹھ کر) پڑھتے رہے۔ اے میرے بچے یہ کل نو رکعتیں ہوئیں اور رسول اللہ ﷺ جب کوئی نماز پڑھتے تو اس بات کو پسند کرتے کہ اسے ہمیشہ پڑھا جائے اور جب کسی دن آپ ﷺ کو نیند زیادہ آجاتی یا کوئی اور تکلیف پیش آجاتی جس کی وجہ سے آپ ﷺ کے لئے رات کو کھڑے ہونا ممکن نہ ہوتا تو آپ ﷺ دن کے پہلے حصے میں (یعنی زوال سے پہلے) بارہ رکعت پڑھ لیتے اور میں نہیں جانتی کہ رسول اللہ ﷺ نے کبھی ایک رات میں پورا قرآن مجید پڑھایا صبح تک (یعنی شروع رات سے آخر رات تک، نماز پڑھی ہو اور نہ آپ ﷺ نے کبھی سوائے رمضان کے پورے مہینے روزے رکھے۔ (صحیح مسلم)

تشریح
جیسا کہ پہلے بتایا جا چکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مداومت عمل کو بہت زیادہ پسند فرماتے تھے۔ چناچہ آپ ﷺ کی عادت شریفہ یہ تھی کہ جب کوئی نفل نماز پڑھتے یا اسی طرح کوئی بھی نفل عبادت کرتے تو اس پر دوام اختیار فرماتے۔ ہاں اگر کوئی عذر پیش آجاتا یا بیان جواز کا اظہار مقصود ہوتا تو کبھی ترک بھی فرما دیتے تھے۔ یہاں تو حضرت عائشہ فرما رہی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ رمضان کے علاوہ کسی بھی مہینہ میں پورے مہینے روزے نہیں رکھتے تھے جب کہ ان کی ایک دوسری روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ رسول اللہ ﷺ شعبان میں پورے مہینے کے روزے رکھتے تھے۔ لہٰذا حضرت عائشہ کی ان دونوں روایتوں کے ظاہری تعارض کو خود انہیں کی ایک تیسری روایت نے ختم کردیا ہے جس میں انہوں نے تصریح کردی ہے کہ رسول اللہ ﷺ شعبان (میں پورے مہینے کے نہیں بلکہ) اس کے اکثر دنوں میں روزے رکھتے تھے۔ وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کا مسئلہ وتر کے بعد دو رکعت نفل پڑھنے کا اثبات نہ صرف یہ کہ اسی روایت سے ہوتا ہے بلکہ اور بھی بہت سے روایتیں وارد ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ وتر پڑھنے کے بعد دو رکعت نفل نماز پڑھی جاسکتی ہے لیکن ابھی اس کے بعد ہی ایک روایت آرہی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں کہ اجعلو اخر صلاتکم باللیل وتر اپنی رات کی نماز میں آخری نماز وتر کو رکھو لہٰذا بظاہر ان تمام روایتوں میں بڑا سخت تعارض نظر آتا ہے یہی وجہ ہے کہ اس تعارض کو رفع کرنے کے لئے علماء کو بڑی محنت کرنا پڑی ہے۔ حضرت امام احمد نے درمیانی راہ نکالنے کی کوشش کی ہے چناچہ وہ فرماتے ہیں کہ وتر کے بعد دو رکعت نماز نہ تو میں خود پڑھتا ہوں اور نہ کسی دوسرے کو پڑھنے سے منع کرتا ہوں۔ جمہور علماء کا کہنا ہے کہ چونکہ وتر کے بعد دو رکعت نفل کا پڑھنا بہر حال حدیث صحیح سے ثابت ہے اس لئے اس سے بالکل صرف نظر بھی نہیں کیا جاسکتا لہٰذا یہ حضرات دونوں رکعتوں کے پڑھنے کے قائل ہیں جہاں تک احادیث کے باہم تعارض کو رفع کرنے کا سوال ہے تو ان حضرات کی جانب سے ان حادیث میں دو طرح کی تطبیق پیدا کی گئی ہے۔ ایک تو یہ کہ اجعلو اخر صلاتکم باللیل وترا میں صلوٰۃ سے مراد ان دو رکعتوں کے علاوہ دوسرے نوافل ہیں اس طرح اس حدیث کا مطلب یہ ہوگا کہ رات کو وتر پڑھ لینے کے بعد ان دونوں رکعتوں کے علاوہ دوسرے نوافل نہ پڑھو۔ دوسری تطبیق جمہور علماء کی طرف سے یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس سلسلے میں بہتر طریقہ یہ ہے کہ کبھی تو وتر کے بعد دو رکعتیں پڑھ لی جائیں اور کبھی نہ پڑھی جائیں تاکہ دونوں احادیث پر عمل ہوتا رہے۔ گویا یوں کہنا چاہیے کہ حدیث اجعلوا اخر صلو تک الخ استحباب پر محمول ہے نہ کہ وجوب پر یعنی اس میں جو حکم دیا گیا ہے وہ استحباب کے طور پر ہے وجوب کے طور پر نہیں ہے۔ اس کے بعد یہ بات بھی اختلافی ہے کہ آیا رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعت اس صورت میں پڑھتے تھے جب کہ آپ ﷺ وتر رات کے ابتدائی حصے میں ہی یعنی عشاء کے بعد ادا کرتے تھے یا اس شکل میں پڑھتے تھے جب کہ آپ ﷺ وتر آخر رات کو تہجد کے بعد ادا کرتے تھے ؟ چناچہ اس سلسلے میں ابوامامہ سے جو حدیث منقول ہے وہ تو مطلق ہے اس میں صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ یہ کچھ ذکر نہیں ہے کہ جو حدیث منقول ہے وہ تو مطلق ہے اس میں صرف اتنا ہی مذکور ہے کہ رسول اللہ ﷺ وتر کے بعد دو رکعتیں بیٹھ کر پڑھتے تھے۔ یہ کچھ ذکر نہیں ہے کہ اول شب میں پڑھتے تھے یا آخر شب میں مگر ثوبان سے جو حدیث منقول ہے وہ اس بات پر دلالت کرتی ہے کہ آپ ﷺ کا وتر کے بعد پڑھنا اس صورت میں تھا جبکہ آپ ﷺ اول شب میں وتر ادا کرتے تھے۔ یہ دونوں حدیثیں اسی باب کے آخر میں آرہی ہیں صحیح البخاری و صحیح مسلم اور موطا کی روایات اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ یہ قیام لیل کی صورت میں تھا یعنی آپ ﷺ رات کو تہجد کی نماز پڑھتے تو وتر کے بعد رکعت بھی پڑھا کرتے تھے اور یہی صحیح بھی ہے۔ بعض علماء فرماتے ہیں کہ یہ دونوں رکعتیں وتر کے ملحق ہیں اور وتر کی سنتوں کے قائم مقام ہیں۔ یعنی جس طرح فرض نماز کی سنتیں ہوتی ہیں کہ وہ فرض نماز سے پہلے یا بعد میں پڑھی جاتی ہیں اسی طرح یہ دونوں رکعتیں وتر کی سنتوں کے قائم مقام ہیں جو وتر کے بعد پڑھی جاتی ہیں۔
1234
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَص عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ اجْعَلُوْا اٰخِرَ صَلٰوتِکُمْ بِاللَّےْلِ وِتْرًا۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا اپنی رات کی نماز میں آخری نماز وتر کو قرار دو ۔ (صحیح مسلم)

تشریح
اس حدیث کے بارے میں اوپر تفصیل کے ساتھ بیان کیا جا چکا ہے مگر اس موقع پر بھی ایک مرتبہ پھر جان لیجئے کہ اس حدیث میں جو حکم دیا جا رہا ہے وہ وجوب کے طور پر نہیں ہے بلکہ استحباب کے طور پر ہے۔
1235
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ بَادِرُوْاالصُّبْحَ بِالْوِتْرِ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن عمر (رض) راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا صبح (آثار نمایاں ہونے پر) وتر میں جلدی کرو۔ (صحیح مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ صبح ہونے سے پہلے پہلے وتر پڑھ لیا کرو حنفیہ کے نزدیک یہ حکم وجوب کے لئے ہے اگر رات کو وتر کی نماز رہ جائے تو دن کو اس کی قضا دینا واجب ہے۔
1236
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ جَابِرٍص قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلممَنْ خَافَ اَنْ لاَّ ےَقُوْمَ مِنْ اٰخِرِ اللَّےْلِ فَلْےُوْتِرْ اَوَّلَہُ وَمَنْ طَمَعَ اَنْ ےَّقُوْمَ اٰخِرَہُ فَلْےُوْتِرْ اٰخِرَ اللَّےْلِ فَاِنَّ صَلٰوۃَ اٰخِرِ اللَّےْلِ مَشْھُوْدَۃٌ وَذَالِکَ اَفْضَلُ۔(مسلم
اور حضرت جابر (رض) راوی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے فرمایا جس آدمی کو اس بات کا خوف ہو کہ آخر رات کو وتر پڑھنے کے لئے نہ اٹھ سکوں گا تو اسے چاہیے کہ وہ شروع رات ہی میں (یعنی عشاء کے فورا بعد) وتر پڑھ لے اور جس آدمی کو آخر رات میں اٹھنے کی امید ہو تو وہ آخر رات ہی میں وتر پڑھے کیونکہ آخر رات کی نماز مشہودہ ہے (یعنی) اس وقت رحمت کے فرشتوں اور انوارو برکات کا نزول ہوتا ہے اور یہ (یعنی آخررات میں و تر پڑھنا) افضل ہے۔ (صحیح مسلم)

تشریح
آخر رات کی فضیلت و برکات کے بارے میں آپ گزشہ صفحات میں پڑھ چکے ہیں کہ رات کے اس حصے میں جو بھی عبادت کی جائے گی وہ ثواب وسعادت کے اعتبار سے بہت زیادہ افضل ہوگی۔ اسی لئے آخر رات میں وتر کی نماز پڑھنا افضل ہے کیونکہ نہ صرف یہ کہ اس افضل وقت میں وتر کی ادائیگی ہوتی ہے بلکہ اس وقت رحمت کے فرشتوں اور حق تعالیٰ کے انواروبرکات کے نزول کی وجہ سے ثواب بھی بہت زیادہ ملتا ہے۔
1237
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَاقَالَتْ مِنْ کُلِّ اللَّےْلِ اَوْتَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مِنْ اَوَّلِ اللَّےْلِ وَاَوْسَطِہٖ وَاٰخِرِہٖ وَانْتَھٰی وِتْرُہُ اِلَی السَّحَرِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ (رض) فرماتی ہیں کہ سرور کونین ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر کی نماز پڑھی ہے۔ یعنی ابتدائی رات میں بھی اور عشاء کی نماز کے فورا بعد رات کے درمیانی حصے میں بھی اور آخر رات میں بھی مگر آخر عمر میں آپ ﷺ نے وتر کے لئے سحر کا وقت یعنی رات کا چھٹا حصہ مقرر کرلیا تھا۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )
1238
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ اَبِیْ ھُرَےْرَۃَ ص قَالَ اَوْصَانِیْ خَلِےْلِیْ بِثَلٰثٍ صِےَامِ ثَلٰثَۃِ اَےَّامٍ مِّنْ کُلِّ شَھْرٍ وَرَکْعَتَیِ الْضُّحٰی وَاَنْ اُوْتِرَ قَبْلَ اَنْ اَنَامَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت ابوہریرہ (رض) فرماتے ہیں کہ میرے دوست یعنی سرور کونین ﷺ نے مجھے تین باتوں کی وصیت فرمائی تھی ایک تو ہر مہینہ میں تین روزے رکھنے کی دوسری دو رکعت ضحی کی نماز پڑھنے کی اور تیسری یہ کہ سونے سے پہلے وتر پڑھ لوں۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم )

تشریح
ہر مہینے کے تین روزے کے تعین میں مختلف اقوال ہیں چناچہ بعض علماء نے کہا ہے کہ مہینے کے تین روزوں سے ایام بیض یعنی ہر مہینے کی تیرھویں، چودھویں اور پندرھویں تاریخ کے روزے مراد ہیں۔ بعض حضرات کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ایک روزہ ابتدائی مہینے میں ایک روزہ درمیان میں اور ایک روزہ آخر مہینہ میں رکھا جائے۔ بعض علماء کا کہنا ہے کہ یہ مطلق ہے یعنی اختیار ہے کہ پورے مہینے میں جب چاہے تین روزے رکھے لے۔ ضحی کی دو رکعتوں سے نماز اشراق یا نماز چاشت مراد ہے جو آفتاب بلند ہونے کے بعد پڑھی جاتی ہے ان نمازوں کا ادنیٰ درجہ دو رکعت ہے مگر اشراق کی نماز کا اکثر درجہ چھ رکعت اور چاشت کی نماز کا بارہ رکعت ہے۔ حضرت ابوہریرہ (رض) کو اول شب میں وتر پڑھ لینے کے لئے اس وجہ سے فرمایا کہ وہ رات کے ابتدائی حصے میں رسول اللہ ﷺ کی احادیث کو یاد کرنے اور ان کی تکرار میں مشغول رہتے تھے جس کا سلسلہ رات گئے تک جاری رہتا تھا اس وجہ سے ان کے لئے آخر رات میں اٹھنا بہت مشکل تھا چناچہ اسی مشغولیت علم کی وجہ سے انہیں اشراق یا چاشت کی بھی دو ہی رکعتیں پڑھنے کے لئے فرمایا۔ لہٰذا اس سے یہ بات معلوم ہوئی کہ علم دین کے حصول اور اس کی ترویج و اشاعت میں رہنا نفل عبادت کی مشغولیت سے بہتر ہے۔