hadith book logo

Mishkaat Shareef

21. نماز استسقاء کا بیان

مشكاة المصابيح

1471
Mishkaat Shareef
صحیح
استسقاء کے لغوی معنی ہیں پانی طلب کرنا اور اصطلاح شریعت میں اس کا مطلب ہے قحط اور خشک سالی میں طلب بارش کے لئے بتائے گئے طریقوں کے مطابق نماز پڑھنا اور دعا کرنا۔
1472
Mishkaat Shareef
صحیح
عَنْ عَبْدِاللّٰہِ بْنِ زَےْدٍص قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم بِالنَّاسِ اِلَی الْمُصَلّٰی ےَسْتَسْقِیْ فَصَلّٰی بِھِمْ رَکْعَتَےْنِ جَھَرَ فِےْھِمَا بِالْقِرَآءَ ۃِ وَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ ےَدْعُوْ وَرَفَعَ ےَدَےْہ وَحَوَّلَ رِدَآءَ ہُ حِےْنَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت عبداللہ ابن زید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ لوگوں کے ہمراہ طلب بارش کے لئے عید گاہ تشریف لئے گئے۔ چناچہ آپ ﷺ نے وہاں دو رکعت نماز پڑھائی جس میں بلند آواز سے قرأت فرمائی اور قبلہ رخ ہو کر دعا مانگی نیز آپ ﷺ نے (دعا کے لئے) اپنے دونوں ہاتھ اٹھائے ہوئے تھے اور قبلہ رخ ہوتے وقت اپنی چادر پھیر دی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم ) فائدہ حضرت امام شافعی اور صاحبین (حضرت امام یوسف اور حضرت امام محمد) کے نزدیک استسقاء کی نماز عید کی نماز کی طرح ہے اور حضرت امام مالک (رح) کا مسلک یہ ہے کہ استسقاء کی دو رکعت نماز اسی طرح پڑھی جائے جیسا کہ دوسری نماز پڑھی جاتی ہے۔ نماز استسقاء کے بارے میں حنفیہ کا مسلک نماز استسقاء کے سلسلہ میں خود حنفیہ کے یہاں دو قول ہیں، حضرت امام اعظم ابوحنیفہ تو یہ فرماتے ہیں کہ استسقاء نماز نہیں ہے بلکہ دعا و استغفار ہے وہ فرماتے ہیں کہ جن اکثر احادیث میں استسقاء کا ذکر آیا ہے ان میں نماز مذکور نہیں ہے بلکہ صرف دعا کرنا مذکور ہے۔ پھر حضرت عمر فاروق (رض) کے بارے میں صحیح روایت منقول ہے۔ کہ انہوں نے استسقاء کے لئے صرف دعا و استغفار پر اکتفا فرمایا نماز نہیں پڑھی، اگر اس سلسلہ میں نماز مسنون ہوتی تو وہ ترک نہ کرتے۔ اور ایسے ضروری مشہور واقعات کا انہیں معلوم نہ ہونا جب کہ زمانہ نبوت کو بھی زیادہ دن نہیں گزرے تھے بعید ہے اور معلوم ہونے کی صورت میں اسے ترک کرنا حضرت عمر کی (رض) شان سے بعید تر ہے۔ صاحبین کا مسلک اس کے خلاف ہے۔ ان حضرات کے نزدیک نہ صرف یہ کہ استسقاء کے لئے نماز منقول اور مسنون ہے بلکہ اس نماز میں جماعت اور خطبہ بھی مشروع ہے۔ بعض حضرات نے لکھا ہے کہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ (رح) کے قول لا صلوۃ فی الاستسقاء (یعنی استسقاء کے لئے نماز نہیں ہے) کی مراد یہ ہے کہ اس نماز کے لئے جماعت خطبہ اور خصوصیت سنت و شرط نہیں، اگر ہر آدمی الگ الگ نفل نماز پڑھے اور دعا و استغفار کرے تو بہتر ہے۔ اس وقت حنفیہ کے یہاں فتوی صاحبین کے قول پر ہے کیونکہ نماز استسقاء رسول اللہ ﷺ سے ثابت اور منقول ہے جس کا ایک واضح ثبوت مذکورہ بالا حدیث ہے۔ نماز استسقاء کے سلسلہ میں یہ افضل ہے کہ اس کی دونوں رکعتوں میں سے پہلی رکعت سورت ق یا سبح اسم ربک الاعلی اور دوسری رکعت میں اقتربت الساعۃ یا سورت غاشیہ کی قرأت کی جائے۔ چادر پھیرنا دراصل تغیر حالت کے لئے اچھا شگون لینے کے درجہ میں ہے جس طرح چادر الٹ پلٹ دی گئی ہے اسی طرح موجودہ حالت میں بھی تبدیلی اور تغیر ہوجائے بایں طور کہ قحط کے بدلہ ارزانی ہوجائے اور خشک سالی کی بجائے باران رحمت سے دنیا سیراب ہوجائے۔ چادر پھیرنے کا طریقہ یہ ہے کہ اپنے دونوں ہاتھ پیٹھ کے پیچھے لے جا کر دائیں ہاتھ سے چادر کی بائیں جانب کے نیچے کا کونا پکڑا جائے اور بائیں ہاتھ سے چادر کی دائیں جانب کے نیچے کا کونا پکڑ لیا جائے پھر دونوں ہاتھوں کو پیٹھ کے پیچھے اس طرح پھیرا اور پلٹا جائے کہ دائیں ہاتھ چادر کا پکڑا ہوا کونا دائیں مونڈھے پر آجائے اور بائیں ہاتھ میں چادر کا پکڑا ہوا کونا بائیں مونڈھے پر آجائے اس طریقہ سے چادر کو دایاں کونا تو بائیں ہوجائے گا اور بایاں کونا دائیں ہوجائے گا۔ نیز اور اوپر نیچے پہنچ جائے گا اور نیچے کا حصہ او پر جائے گا۔
1473
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ اَنَسٍص قَالَ کَانَ النَّبِیُّ صلی اللہ علیہ وسلم لَا ےَرْفَعُ ےَدَےْہِ فِیْ شَئٍی مِّنْ دُعَآئِہٖ اِلَّا فِی الْاِسْتِسْقَاءِ فَاِنَّہُ ےَرْفَعُ حَتّٰی ےُرٰی بَےَاضُ اِبْطَےْہِ۔(صحیح البخاری و صحیح مسلم)
اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ استسقاء کے علاوہ اور کسی موقع پر دعا کے لئے ہاتھ نہیں اٹھاتے تھے چناچہ ( استسقاء کے لئے دعا کے وقت) آپ ﷺ اپنے دونوں ہاتھ اتنے (زیادہ) بلند کرتے تھے کہ آپ ﷺ کی بغلوں کی سفیدی نظر آنے لگتی تھی۔ (صحیح البخاری و صحیح مسلم)

تشریح
حضرت انس (رض) کے ارشاد کی مراد استسقاء کے علاوہ کسی دوسرے موقع پر دعا کے وقت بالکل اٹھانے کی نفی نہیں ہے کیونکہ استسقاء کے علاوہ دوسرے مواقع پر بھی دعا کے وقت رسول اللہ ﷺ سے دونوں ہاتھوں کا بلند کرنا ثابت ہوچکا ہے بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ دوسرے مواقع پر بھی دعا کے وقت اپنے دونوں ہاتھوں کا اتنا زیادہ اور سر سے اونچا بلند نہیں کرتے تھے کہ آپ ﷺ کوئی کپڑا نہ اوڑھے ہوتے تھے تو بغلوں کی سفیدی تک نظر آنے لگتی تھی۔ علماء لکھتے ہیں کہ جس مقصد اور مراد کے لئے دعا مانگی جارہی ہو وہ مقصد جتنا زیادہ اہم اور عظیم ہو دعا کے وقت دونوں ہاتھ بھی اتنے زیادہ اوپر اٹھانے چاہئیں۔
1474
Mishkaat Shareef
صحیح
اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے طلب بارش کے لئے دعا مانگی تو اپنے دونوں ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف کرلی۔ (صحیح مسلم)

تشریح
علماء کرام نے لکھا ہے کہ بارش کے لئے دعا مانگتے وقت ہتھیلیوں کی پشت کو آسمان کی طرف کردینا بھی اچھا شگون لینے کے درجہ میں ہے جیسا کہ چارد پلٹ کر اچھا شگون لیا جاتا ہے۔ ہاتھوں کی پشت کو آسمان کی طرف کرنا دراصل اس طرف اشارہ ہے کہ اللہ کرے اسی طرح بادلوں کے پیٹ بھی زمین کی طرف ہوجائیں اور وہ اپنے اندر کے ذخیرہ آب کو زمین پر انڈیل دیں۔ دعا کے وقت اٹھتے ہوئے ہاتھوں کی ہیت کے بارے میں علماء لکھتے ہیں کہ اس سلسلہ میں یہ طریقہ اختیار کرنا چاہیے کہ جو آدمی بلاء مثلاً قحط وغیرہ کے دور ہونے کے لئے دعا مانگے تو وہ اپنے ہاتھوں کی پشت آسمان کی طرف کرے اور جو آدمی اللہ تعالیٰ سے کسی نعمت کی طلب کے لئے دعا کرے تو وہ ہتھیلیوں کو آسمان کی طرف کرے۔
1475
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ عَائِشَۃَرضی اللہ عنہا قَالَتْ اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم کَانَ اِذَا رَاَی الْمَطَرَ قَالَ اَلّٰلھُمَّ صَےِّبًا نَافِعًا۔(صحیح البخاری)
اور حضرت عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ جب بارش دیکھتے تو یہ دعا مانگتے اللھم صیبا نافعا یعنی اے اللہ ! نفع دینے والی بارش خوب برسا۔ (صحیح البخاری )
1476
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ اَنَسٍ صقَالَ اَصَابَنَا وَنَحْنُ مَعَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم مَطَرٌ قَالَ فَحَسَرَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وسلم ثَوْبَہُ حَتّٰی اَصَابَہُ مِنَ الْمَطَرِ فَقُلْنَا ےَارَسُوْلَ اللّٰہِ لِمَ صَنَعْتَ ھٰذَا قَالَ لِاَنَّہُ حَدِےْثُ عَھْدٍ بِرَبِّہٖ۔(صحیح مسلم)
اور حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) ہم رسول کریم ﷺ کے ہمراہ تھے کہ بارش شروع ہوگئی۔ حضرت انس (رض) فرماتے ہیں کہ آپ ﷺ نے (اپنے سر سے یا پیٹھ سے) کپڑا اتار لیا یہاں تک کہ آپ ﷺ کے ( سر مبارک یا پیٹھ پر) اوپر بارش کا پانی گرنے لگا۔ ہم نے ( یہ دیکھ کر) عرض کیا کہ یا رسول اللہ ! آپ ﷺ نے ایسا کیوں کیا ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس لئے کہ یہ پانی اپنے پروردگار کے پاس سے ابھی ابھی آیا ہے۔ (صحیح مسلم)

تشریح
آپ ﷺ کے جواب کا مطلب یہ ہے کہ پانی اپنے رب کے حکم سے ابھی ابھی اوپر سے اترا ہے اور اس عالم کثیف کے اجراء سے ابھی تک آلودہ نہیں ہوا ہے نہ ہی اس تک ابی گناہگاروں کے ہاتھ پہنچ پائے ہیں اس کے لئے یہ پانی متبرک ہے جس کا کچھ حصہ میں اپنے بدن پر لے رہا ہوں۔ علماء لکھتے ہیں کہ بارش کے وقت ( اپنے کسی بھی مطلب اور مقصد کے لئے) دعا مانگنا سنت ہے کیونکہ اس وقت دعا قبول ہوتی ہے۔
1477
Mishkaat Shareef
صحیح
عَنْ عَبْدِاﷲِ بْنِ زَیْدٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم اِلَی الْمُصَلَّی فَاسْتَسْقَی وَحَوَّلَ رِدَاءَ ہُ حِیْنَ اسْتَقْبَلَ الْقِبْلَۃَ فَجَعَلَ عِطَافَہ، الْاَیْمَنَ عَلَی عَاتِقِہِ الْاَ یْسَرِوَ جَعَلَ عِطَا فُہُ الْاَ یْسَرَ عَلَی عَاتِقِہِ الْاَیْمَنِ ثُمَّ دَعَا اﷲَ ۔ (رواہ ابوداؤد)
حضرت عبداللہ ابن زید (رض) فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ عید گاہ تشریف لے گئے اور وہاں بارش مانگی۔ چناچہ آپ ﷺ قبلہ رخ ہوئے تو اپنی چارد کا دایاں کونا گھما کر اپنے بائیں مونڈے پر لائے اور چادر کا بایاں کو نا گھما کر اپنے دائیں مونڈھے پر لائے پھر اللہ تعالیٰ سے (بارش کے لئے) دعا مانگی۔ (سنن ابوداؤد)

تشریح
اس حدیث میں استسقاء کے لئے نماز پڑھنے کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔ صرف دعا کا ذکر کیا گیا ہے
1478
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْہُ اَنَّہُ قَالَ اسْتَسْقٰی رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم خَمِیْصَۃُ لَّہ، سَوْدَآءُ فَاَرَا دَ اَنْ یَّاْخُذَاَسْفَلَھَا فَیَجْعَلَہ، اَعْلَا ھَا فَلَمَّا ثَقَلَتْ قَلَّبَھَا عَلَی عَا تِقَیْہِ۔ (رواہ احمد بن حنبل و ابوداؤد)
اور حضرت عبداللہ (رض) فرماتے ہیں کہ (ایک مرتبہ) رسول کریم ﷺ نے بارش طلب (کرنے کے لئے دعا) کی تو اس وقت آپ ﷺ کے جسم مبارک پر سیاہ رنگ کی چادر تھی، آپ ﷺ نے یہ ارادہ کیا کہ چادر کے نیچے کا کونا پلٹ کر اسے اوپر کی جانب لائیں (جیسا کہ چادر پھیرنے کا طریقہ ہے) مگر اس میں جب آپ ﷺ کو دقت پیش آئی تو آپ ﷺ نے اپنے ہی مونڈھے پر چادر پلٹ لی۔

تشریح
مطلب یہ ہے کہ مذکورہ بالا طریقہ کے مطابق جب چادر پھیرنے میں دقت محسوس ہوئی تو آپ ﷺ نے صرف یہ کیا کہ چادر کا دایاں کونا بائیں مونڈھے پر کرلیا اور بایاں کونا دائیں مونڈھے پر۔ آپ ﷺ نے چادر مبارک دوسرے خطبہ میں پھیری تھی کیونکہ چادر پھیرنے کا وقت اور موقع وہی ہے۔
1479
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنْ عُمَیْرٍ مَوْلَی اَبِی اللَّحْمِ اَنَّہُ رَاَی النَّبِیَّ صلی اللہ علیہ وسلم یَسْتَسْقِی عِنْدَ اَحْجَارِ الزَّیْتَ قَرِیْبًا مِّنَ الزَّوْرَاءِ قَائِمًا یَدْعُوْ لِیَسْتَسْقِی رَافِعًا یَدَیْہِ فِبَلَ وَجْھِہِ لاَ یُجَاوِزُبِھَا رَأَسَّہُ وَرَوَی التِّرْمِذِیُّ وَالنِّسَائِیُّ نَحْوَہ،۔ (رواہ ابوداؤد)
اور حضرت عمیر (رض) سے جو ابی اللحم کے آزاد کردہ غلام تھے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو احجالزیت کے پاس جو زوراء کے قریب ہے، بارش مانگتے ہوئے دیکھا۔ آپ ﷺ کھرے ہوئے طلب بارش کے لئے دعا مانگ رہے تھے اور اپنے دونوں ہاتھ اپنے منہ کی طرف اٹھائے ہوئے تھے جو سر سے اونچے نہیں تھے۔ جامع ترمذی اور سنن نسائی نے بھی اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ (ابوداؤد)

تشریح
احجا الزیت مدینہ میں ایک جگہ کا نام تھا اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ وہاں سیاہ پتھر تھے جو اتنے چمک دار تھے جن کو دیکھ کر یہ محسوس ہوتا تھا کہ گویا ان پتھر پر روغن زیتون ملا ہوا ہے۔ زوراء بھی مدینہ کے بازار میں ایک جگہ کا نام تھا۔ اس حدیث میں دعا کے وقت اٹھے ہوئے ہاتھوں کی یہ ہیت بیان کی جا رہی ہے کہ آپ ﷺ کی دونوں ہتھیلیاں منہ کی طرف یعنی اوپر کی جانب تھیں۔ بنا بریں یہ روایت اس روایت کے منافی نہیں ہے جس سے معلوم ہوا کہ دعا کے وقت آپ ﷺ اپنے اٹھے ہوئے ہاتھوں کی ہتھیلیاں زمین کی طرف رکھتے تھے کیونکہ کبھی تو آپ ﷺ اس طرح سے دعا مانگتے کہ ہتھیلیاں آسمان کی طرف ہوتی تھیں جیسا کہ اس روایت سے معلوم ہوا۔ اور کبھی اس طرح اللہ کی بار گاہ میں دست سوال دراز کرتے تھے کہ ہتھیلیاں زمین کی طرف ہوتی تھیں جیسا کہ گذشتہ روایت میں معلوم ہوا۔ اسی طرح یہاں اس روایت میں یہ بتایا جا رہا ہے کہ آپ ﷺ کے اٹھے ہوئے ہاتھ سر مبارک سے اونچے نہیں ہوتے تھے۔ لہٰذا یہ بھی حضرت انس (رض) کی اس روایت کے منافی نہیں ہے جس سے معلوم ہوچکا ہے کہ رسول اللہ ﷺ طلب بارش کے لئے دعا مانگتے وقت اپنے ہاتھ بہت زیادہ بلند کرتے تھے، یہاں بھی یہی بات ہے کہ کبھی تو آپ ﷺ اپنے ہاتھ بہت زیادہ بلند کرتے تھے جیسا کہ حضرت انس (رض) نے بیان کیا ہے اور کبھی بہت زیادہ بلند نہیں کرتے تھے جیسا کہ یہاں عمیر بیان کر رہے ہیں۔
1480
Mishkaat Shareef
صحیح
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ خَرَجَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ علیہ وسلم یَعْنِی فِی الْاِسْتِسْقَاءِ مُتَبَذِّلًا مُتَوَاضِعًا مُتَخَشِّعًا مُتَضَرِّعًا۔ (رواہ الترمذی و ابوداؤد و السنن نسائی و ابن ماجۃ)
اور حضرت عبداللہ ابن عباس (رض) فرماتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ استسقاء کے لئے باہر نکلے اور اس وقت آپ ﷺ کی کیفیت یہ تھی کہ (ظاہر میں تو) آپ ﷺ زینت ترک کئے ہوئے اور متواضع تھے (باطن میں) عاجزی و بیچارگی اور (ذکر اللہ میں زبان کی مشغولیت کے ساتھ) تضرع اختیار کئے ہوئے تھے۔ (سنن نسائی، سنن ابن ماجہ)

تشریح
بارش کے لئے دعا کرنے اور پروردگار سے رحمت مانگنے کے لئے جب آپ ﷺ باہر نکلتے تھے تو آپ ﷺ کا ظاہر و باطن اور زبان و دل گویا پورا وجود مبارک انتہائی بےچارگی اور عجز اختیار کئے ہوئے ہوتا تھا، چناچہ نہ صرف یہ کہ وہ اس موقع پر بندہ کی انتہائی محتاجی و بیچارگی اور عاجزی کے اظہار کے لئے آپ ﷺ کے ظاہری طور پر زیب وزینت (یعنی لباس وغیرہ میں خوش سلیقگی ترک کر کے سراپا عجز و انکسار ہوتے تھے بلکہ باطنی طور پر بھی آپ ﷺ کا قلب مبارک خوف اللہ سے لرزاں اور زبان مبارک تضرع وزاری میں مشغول ہوتی تھی۔