hadith book logo

Mishkaat Shareef

159. لوگوں میں تغیر وتبدل کا بیان

مشكاة المصابيح

5233
Mishkaat Shareef
صحیح
بکاء کے معنی ہیں رونا اور آنسو بہانا۔ اگر یہ لفظ مد کے بغیر یعنی بکا ہو تو اس کا اطلاق کسی غم وحزن کی وجہ سے صرف آنسو بہنے پر ہوتا ہے اور اگر یہ لفظ مد کے ساتھ، یعنی بکاء ہو تو اس کا اطلاق آواز کے ساتھ رونے اور آنسو بہانے پر ہوتا ہے اور زیادہ مشہور مد کے ساتھ ہی ہے نیز ظاہر یہ ہے کہ عنوان بالا میں اس لفظ کا عام مفہوم مراد ہے یعنی رونا، خواہ خاموش آنسو بہانے کی صورت میں ہو یا بلند آواز کے ساتھ رونے کی صورت میں۔ اس سے تبا کی کا لفظ نکلا ہے جس کے معنی ہیں رونے کی صورت بنانا، بہ تکلف رونا اور ان چیزوں کو کہ جن سے رونا آئے۔ مبادا اور بیان کر کے زبردستی رونا، ابکاء بھی اسی لفظ سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں کسی کو رلانا۔ خوف کے معنی ہیں ڈرنا، دہشت کھانا اسی لفظ سے اخافت اور تخویف ہے، جس کے معنی ہیں ڈرانا، واضح رہے کہ خوف ایک خاص کیفیت وحالت کا نام ہے جو پیش آتی ہے۔ حاصل یہ کہ رونے اور ڈرنے سے مراد آخرت کے عذاب اور اللہ تعالیٰ کے عقاب و عتاب سے ڈرنا اور ان چیزوں کے خوف سے رونا گڑ گڑانا ہے۔
5234
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال قال أبو القاسم صلى الله عليه وسلم والذي نفسي بيده لو تعلمون ما أعلم لبكيتم كثيرا ولضحكتم قليلا . رواه البخاري .
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ابوالقاسم (محمد) ﷺ نے فرمایا قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر تم اس چیز کو جان لو جس کو میں جانتا ہوں تو یقینا تمہارا رونا زیادہ اور ہنسنا کم ہوجائے (یعنی قیامت کے احوال اور اس کی ہولناکیاں، مبدأ و معاد کی حقیقت گنہگاروں کے تئیں اللہ تعالیٰ کا عتاب و عذاب یوم حساب کی شدت پرسش اور باری تعالیٰ کی صفات قہریہ وجلالیہ کو، جو خوف مصیبت کا باعث ہیں جس قدر میں جانتا ہوں اور پھر ان چیزوں کے تعلق سے تمہارے انجام کار کے بارے میں جو کچھ مجھے معلوم ہے اور جس کی وجہ سے میرے دل پر ہر وقت غم وخوف طاری رہتا ہے اگر تم بھی ان سب چیزوں سے پوری طرح آگاہ ہوجاؤ تو اس میں کوئی شبہ نہیں کہ خوف وہیبت کے مارے تم ہنسنا بھول جاؤ اور اپنا زیادہ وقت رونے اور غم کھانے میں صرف کرو، کیونکہ اس صورت میں تم رجا یعنی رحمت الٰہی کی امید کے مقابلہ پر عذاب الٰہی کے خوف کو زیادہ ترجیح دینے لگو) ۔ (بخاری)

تشریح
اس ارشاد گرامی میں امت کے لئے ایک تنبیہ تو یہ ہے کہ اپنے اوپر گریہ طاری رکھنا چاہئے اور ان چیزوں کی یاد تازہ رکھنی چاہئے جو رونے وہلانے اور غم کھانے کا باعث ہوتی ہیں جیسے خوف الٰہی کا احساس اور عظمت و جلال حق کی حقیقت معلوم کرنا۔ دوسری تنبیہ یہ ہے کہ جاہل و غافل لوگوں کی طرح بہت زیادہ ہنسنے اور راحت چین اختیار کرنے سے اجتناب کرنا چاہئے۔ اگرچہ اللہ تعالیٰ کی طرف عفو مغفرت اور اس کی رحمت پر امید کی وجہ سے فی الجملہ راحت چین اختیار کرنا ایک حد تک گنجائش رکھتا ہے۔
5235
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أم العلاء الأنصارية قالت قال رسول الله صلى الله عليه وسلم والله لا أدري والله لا أدري وأنا رسول الله ما يفعل بي وبكم . رواه البخاري .
حضرت ام العلاء انصاریہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ باوجودیکہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن اللہ کی قسم یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ (بخاری)

تشریح
اس حدیث کا ظاہری مفہوم یہ ہے کہ ہر شخص کی عاقبت کا معامہ غیر معلوم ہے کوئی نہیں جانتا کہ کون شخص کیا عمل کرے گا اور اس کا آخری انجام کیا ہوگا ؟ تاہم واضح رہے کہ انبیاء اور رسولوں اور خصوصاً سید المرسلین ﷺ کی عاقبت کے بارے میں یہ بات نہیں کہی جاسکتی کیونکہ ان حضرات کے بارے میں ایسی دلائل قطعیہ منقول ہیں جو واضح طور پر بتاتی ہیں کہ انبیاء خصوصاً حضور ﷺ کی عاقبت کا بخیر ہونا ایک یقینی امر ہے۔ لہٰذا حضور ﷺ کے اس ارشاد کہ میں یہ نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا اور تمہارے ساتھ کیا معاملہ ہوگا۔ کو اس مخصوص پس منظر میں رکھ کر دیکھنا چاہئے جس میں یہ حدیث حضور ﷺ نے ارشاد فرمائی تھی اور وہ یہ کہ ایک صحابی حضرت عثمان بن مظعون (رض) جو اونچے درجہ کے مہاجر صحابہ میں سے تھے، ان کا مدینہ میں انتقال ہوا اور خاص بات یہ کہ مدینہ میں مہاجرین میں سے سب سے پہلے جن صحابی کا انتقال ہوا ہے وہ یہی تھے چناچہ حضور ﷺ نے اپنی ذاتی نگرانی میں ان کی تجہیز وتکفین کا انتظام فرمایا ان کے جنازے کے ساتھ نہایت عزت و تکریم کا معاملہ کیا ان کی پیشانی پر بوسہ دیا اور پھر اپنے سامنے بقیع میں ان کو سپر خاک کرایا، اس موقع پر ایک خاتون، جو وہاں موجود تھیں اور حضرت عثمان (رض) کے تئیں حضور ﷺ کی یہ محبت و عنایات دیکھ رہی تھیں کہنے لگیں۔ عثمان تمہیں جنت مبارک ہو کہ تمہاری عاقبت و انجام بخیر ہے۔ اس وقت حضور ﷺ نے ان خاتون کو سرزنش کی اور مذکورہ حدیث ارشاد فرمائی۔ لہٰذا اس حدیث کا مقصد دراصل حضور ﷺ کے سامنے ایک غیر موزوں بات زبان سے نکالنے کی جرات و گستاخی پر بطریق مبالغہ سرزنش کرنا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ بات اس طرح بھی کہی جاسکتی ہے کہ حضور ﷺ نے جو یہ فرمایا کہ میں نہیں جانتا کہ میرے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے گا تو ان الفاظ سے آپ ﷺ کی مراد ان کے حقیقی معنی نہیں تھے بلکہ آپ ﷺ نے ان الفاظ کے ذریعہ بطور کنایہ یہ فرمایا کہ کسی دوسرے شخص کی عاقبت کے بارے میں کوئی یقینی بات کہنے کا تو کوئی سوال ہی پیدا نہیں ہوتا خود میرا معاملہ یہ ہے کہ اگرچہ میں اللہ کا رسول ہوں اور میری عاقبت کا بخیر ہونا ایک یقینی امر ہے مگر چونکہ عاقبت کا معاملہ علم غیب سے تعلق رکھتا ہے اس لئے میں از راہ ادب اپنی عاقبت کے بارے میں بھی تصریح نہیں کرسکتا ہے اور یہ نہیں بتاسکتا کہ آخرت میں میرے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔ یا اس ارشاد گرامی کی مراد یہ ہے کہ اگرچہ میں اللہ کا رسول ہوں لیکن کسی کی عاقبت اور انجام کار کے بارے میں تفصیل کے ساتھ مجھے بھی کچھ معلوم نہیں ہے کہ کون شخص دنیا میں کس انجام کو پہنچے گا اور آخرت میں کس احوال سے دوچار ہوگا کیونکہ اس طرح کے احوال کا تعلق غیب سے ہے اور غیب کی تفصیلی باتین عالم الغیب (اللہ تعالیٰ ) کے سوا کسی کو معلوم نہیں۔ گو اجمالی طور پر اتنا ضرور معلوم ہے کہ انبیائے کرام (علیہم السلام) کی عاقبت بخیر ہے ملاعلی قاری نے اسی احتمال کو صحیح لکھا ہے۔ ایک احتمال یہ بھی بیان کیا جاتا ہے۔ کہ مذکورہ ارشاد سے حضور ﷺ کی مراد یہ تھی کہ مجھے یہ نہیں معلوم کہ میں اس دنیا سے کس طرح رخصت ہوں گا اور میری موت کن حالات میں واقع ہوگی، آیا اپنی موت سے مروں گا یا کوئی شخص مجھے قتل کر دے گا اسی طرح مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ جس طرح پچھلی امتوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا تھا اس طرح تم پر بھی کوئی ہلاکت خیز عذاب نازل ہوسکتا ہے یا نہیں ؟ اور زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ حضور ﷺ کا یہ ارشاد گرامی اس آیت کریمہ (لِّيَغْفِرَ لَكَ اللّٰهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْ بِكَ وَمَا تَاَخَّرَ ) 48 ۔ الفتح 2) کے نازل ہونے سے پہلے کا ہے، چناچہ پہ تو عاقبت کے بارے میں ابہام تھا کہ کوئی یقینی بات نہیں کہی جاسکتی تھی۔ مگر اس آیت کے نازل ہونے کے بعد یہ ابہام دور ہوگیا اور یقین کے ساتھ یہ معلوم ہوگیا کہ آپ ﷺ کی عاقبت بخیر ہے۔
5236
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عرضت علي النار فرأيت فيها امرأة من بني إسرائيل تعذب في هرة لها ربطتها فلم تطعمها ولم تدعها تأكل من خشاش الأرض حتى ماتت جوعا ورأيت عمرو بن عامر الخزاعي يجر قصبه في النار وكان أول من سيب السوائب . رواه مسلم . ( متفق عليه )
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا معراج کی رات میں یا اور کسی موقعہ پر حالت خواب یا بیداری ہی میں میرے سامنے دوزخ کی آگ دکھانے کے لئے لائی گئی تو میں نے اس میں بنی اسرائیل کی ایک عورت کو جلتے ہوئے دیکھا جو بنی اسرائیل کی اہل ایمان میں سے تھی اس کو ایک بلی کے معاملہ میں عذاب دیا جا رہا تھا جس کو اس نے باندھ چھوڑا تھا، نہ تو اس کو کچھ کھانے پینے کے لئے دیا کرتی تھی اور نہ اس کو کھولتی ہی تھی کہ وہ چل کر حشرات الارض (یعنی چوہوں وغیرہ) میں سے کچھ کھالے اور آخر کار وہ بلی بھوک سے تڑپ تڑپ کر مرگئی۔ نیز میں دوزخ میں عمرو بن عام خزاعی کو بھی دیکھا جو اپنی آنتوں کو دوزخ کی آگ میں کھینچ رہا تھا یہ وہ سب سے پہلا شخص تھا جس نے اونٹنی چھوڑنے کی رسم نکالی تھی۔ (مسلم)

تشریح
سوائب اصل میں سائبۃ کی جمع ہے اور سائبہ اس اونٹنی کو کہتے ہیں جو زمانہ جاہلیت میں نذر وغیرہ کے لئے چھوڑی جاتی تھی چناچہ اہل عرب کی یہ عادت تھی کہ جب کوئی اونٹنی سارے بچے مادہ ہی مادہ جنتی، یا کوئی شخص دور دراز کے سفر سے واپس آتا اور یا کوئی مریض صحت یاب ہوتا تو وہ اونٹنی کو آزاد چھوڑ دیتے تھے کہ نہ تو اس پر سوار ہوتے اور نہ اس کا دودھ دوہتے، وہ جہاں چاہتی پھرتی، کوئی شخص اس کو اپنے گھاس پانی وغیرہ سے روکتا نہیں تھا، وہ لوگ اس کام کو ایک عبادت اور اپنے بتوں کی خوشنودی حاصل کرنے کا ذریعہ جانتے تھے، اس رسم کو سب سے پہلے جس نے جاری کیا وہ عمرو بن عام خزاعی تھا۔ علماء نے یہ بھی لکھا ہے کہ جس شخص نے سب سے پہلے بت پوجنے کی رسم نکالی اور بت پرستی کو تقرب حاصل کرنے کا ذریعہ قرار دیا وہ بھی یہی عمرو بن عامر تھا۔ بعض روایتوں میں یہ نام عمرو بن عامر کے بجائے عمرو بن لحی بیان کیا گیا ہے اور بظاہر یہ دونوں نام ایک ہی شخص کے ہیں عامر تو اس کے باپ کا نام تھا اور لحی اس کے دادا کا نام تھا یا اس کے برعکس تھا کہ باپ کا نام تو لحی اور دادا کا نام عامر تھا چناچہ کسی روایت میں باپ کی طرف نسب کر کے اور کسی روایت میں دادا کی طرف نسبت کر کے اس کا ذکر کیا گیا۔ کرمانی نے لکھا ہے کہ اس حدیث سے واضح ہوتا ہے کہ کچھ لوگ ابھی سے دوزخ میں ڈالے جا چکے ہیں اور وہاں عذاب بھگت رہے ہیں۔ تاہم یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ اس ارشاد گرامی کا تعلق اس بات سے ہے کہ آنحضرت ﷺ پر دوزخ کا وہ احوال منکشف کیا گیا جو قیامت کے دن پیش آئے گا اور آپ ﷺ کو اس کی صورت دکھائی گئی کہ قیامت کے دن مذکورہ عورت اور عمرو بن عامر کو دوزخ میں اس طرح ڈالا جائے گا اور ان کو اس طرح عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
5237
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن زينب بنت جحش أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل يوما فزعا يقول لا إله إلا الله ويل للعرب من شر قد اقترب فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج مثل هذه وحلق بأصبعيه الإبهام والتي تليها . قالت زينب فقلت يا رسول الله أفنهلك وفينا الصالحون ؟ قال نعم إذا كثر الخبث . متفق عليه .
حضرت زینب بنت جحش (رض) سے روایت ہے کہ ایک دن رسول کریم ﷺ ان کے ہاں ایسی حالت میں تشریف لائے کہ جیسے بہت گھبرائے ہوئے ہیں پھر فرمانے لگے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود عبادت کے لائق نہیں۔ افسوس صد افسوس عرب کے اس شروفتنہ پر جو اپنی ہلاکت آفرینی کے ساتھ قریب آپہنچا ہے۔ آج یاجوج ماجوج کی دیوار میں اس قدر سوراخ ہوگیا ہے۔ یہ کہہ کر آپ ﷺ نے انگوٹھے اور برابر والی انگلی کے ذریعہ حلقہ بنایا، حضرت زینب (رض) کہتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! کیا ہم اس صورت میں بھی ہلاک کر دئیے جائیں گے جب کہ ہمارے درمیان صالح وپاکباز لوگ موجود ہوں گے ؟ کیا ہمارے درمیان اللہ کے نیک بندوں کے وجود کی برکت ان فتنوں کے پھیلنے اور آفات وبلاؤں کے نازل ہونے میں رکاوٹ نہیں بنے گی ؟ حضور ﷺ نے فرمایا ہاں تمہارے درمیان علماء اور بزرگارن دین کی موجودگی کے باوجود تمہیں ہلاکت و تباہی میں مبتلا کیا جائے گا جب کہ فسق وفجور کی کثرت ہوگی (یعنی جب معاشرہ میں برائیاں بہت پھیل جائیں گی اور ہر طرف فسق وفجور کا دور دورہ ہوگا تو ان برائیوں اور فسق وفجور کے سبب نازل ہونے والے فتنہ وآلام اور آفات کو صلحاء اور بزرگوں کی موجودگی اور ان کی برکت بھی نہیں روک سکے گی۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
شر سے حضور ﷺ کی مراد اس فتنہ و فساد اور قتل و قتال کی طرف اشارہ کرنا مقصود تھا جس کی ابتداء مستقبل میں ہونے والی تھی اور جس کا شکار سب سے پہلے اہل عرب بننے والے تھے، چناچہ قلب نبوت نے اہل اسلام کو افتراق و انتشار میں مبتلا کرنے والے جن واقعات کا بہت پہلے ادراک کرلیا تھا اور مذکورہ ارشاد کے ذریعہ گویا ان کے بارے میں پیش گوئی فرما دی تھی ان کی ابتداء خلیفہ ثالث حضرت عثمان بن عفان (رض) کے سانحہ شہادت سے ہوئی اور جن کا سلسلہ کسی نہ کسی صورت میں اب تک جاری ہے۔ بعض حضرات نے یہ مراد بیان کی ہے کہ حضور ﷺ نے گویا اس طرف اشارہ فرمایا کہ جب اہل عرب کو اسلام کی بڑھتی ہوئی طاقت کے سبب دشمنوں کے مقابلہ پر فتوح حاصل ہوں گی، دوسرے ملکوں پر غلبہ و اقتدار حاصل ہوگا اور مال و دولت کی ریل پیل ہوگی تو اس کا ایک نتیجہ یہ بھی ہوگا کہ لوگوں کے خلوص وللہیت میں کمی آجائے گی، حکومت و اقتدار اور مال و زر سے رغب و محبت پیدا ہوجائے گی، دنیا طلبی وجاہ پسندی اور خود غرضی کا عفریب باہمی مخالفت ومخاصمت اور افتراق و انتشار کے ذریعہ پوری ملت کو متاثر کر دے گا۔ حلقہ بنایا یعنی آپ ﷺ نے اپنی انگلیوں کے ذریعہ حلقہ بنا کر دکھایا کہ اس دیوار میں آج تک کبھی کوئی سوراخ نہیں ہوا تھا۔ لیکن آج اس میں اتنا بڑا سوراخ ہوگیا ہے جتنا کہ ان دونوں انگلیوں کے ذریعہ بنایا گیا حلقہ ہے۔ واضح رہے کہ اس دیوار میں سوراخ کا ہوجانا قرب قیامت کی علامات میں سے ہے جس طرح کہ عرب اور اہل عرب میں فتنہ و فساد کا بیج پڑجانا اور برائیوں کے پھیل جانا بھی قیامت کے قریب آجانے کی ایک دلیل ہے اور بعض حضرات کہتے ہیں کہ حضور ﷺ نے یاجوج ماجوج کی دیوار میں سوارخ ہوجانے کی بات کہہ کر گویا اس علاقہ سے اٹھنے والے ایک عظیم فتنہ اور اس کے نتیجہ میں مسلمانوں کو پہنچنے والے سخت نقصان کی طرف اشارہ کیا، چناچہ تاریخ کا علم رکھنے والے جانتے ہیں کہ حضور ﷺ نے جس فتنہ کی طرف اشارہ فرمایا تھا وہ چنگیزیت کی صورت میں اسی علاقہ سے اٹھا اور جس نے بڑی بڑی اسلامی حکومتوں کو نقصان پہنچایا یہاں تک کہ ہلاکو خان کی سربراہی میں تاتاری ترکوں کے سیلاب نے اسلامی خلافت کو بہا ڈالا، خلیفہ معتصم باللہ کو قتل کیا بغداد کو لوٹ کر تباہ و تاراج کیا اور لاکھوں مسلمانوں کا خون بہایا اور پوری ملت اسلامیہ کو بڑی بڑی جہادوں سے دوچار کیا۔ لفظ خبث خ اور ب کے زبر کے ساتھ فسق وفجور اور کفر شرک کے معنی میں ہے اور بعض حضرات نے کہا ہے کہ اس کے معنی بدکاری زنا کے ہیں حدیث کے آخری جملہ کا مطلب یہ ہے کہ جب کسی جگہ آگ لگتی ہے بھڑک اٹھتی ہے تو پھر وہ ہر ایک چیز کو جلا ڈالتی ہے کیا خشک اور کیا تر، ہر ایک کو بھسم کردیتی ہے۔ حلال اور حرام، پاک اور ناپاک جو بھی چیز اس کے شعلوں کی لپیٹ میں آتی ہے جل کر خاک ہوجاتی ہے، مومن اور کافر، موافق اور مخالف کسی کے درمیان فرق نہیں کرتی، جو شخص بھی اس کی زد میں آجاتا ہے راکھ کا ڈھیر بن جاتا ہے اسی طرح عذاب الٰہی کا معاملہ ہے کہ جب کسی ملک میں، کسی علاقہ میں اور روئے زمین کے کسی حصہ پر برائیوں کا دور دورہ ہوجاتا ہے، بدکاریاں عام ہوجاتی ہیں فواحش کی کثرت ہوجاتی ہے اور فسق وفجور کا غلبہ ہوجاتا ہے اور اس کے سبب وہاں کے لوگوں پر اللہ کا عذاب نازل ہوتا ہے تو پھر کسی کی کوئی تخصیص نہیں رہ جاتی، بدکار اور سرکش لوگ تو تباہ و برباد ہوتے ہیں نیکو کار وپاکباز لوگ بھی اس کی زد میں آجاتے ہیں یہ اور بات ہے کہ جب قیامت میں ساری مخلوق کو دوبارہ آتھایا جائے گا تو اس وقت ہر شخص کے ساتھ اس کے عمل کے مطابق ہی سلوک ہوگا۔ ایک نسخے میں لفظ خ کے پیش اور ب کے جزم کے ساتھ یعنی خبت منقول ہے جس کے معنی فواحش اور فسوق کے ہیں، ویسے یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔
5238
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي عامر أو أبي مالك الأشعري قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول ليكونن من أمتي أقوام يستحلون الخز والحرير والخمر والمعازف ولينزلن أقوام إلى جنب علم يروح عليهم بسارحة لهم يأتيهم رجل لحاجة فيقولون ارجع إلينا غدا فيبيتهم الله ويضع العلم ويمسخ آخرين قردة وخنازير إلى يوم القيامة . رواه البخاري . وفي بعض نسخ المصابيح الحر بالحاء والراء المهملتين وهو تصحيف وإنما هو بالخاء والزاي المعجمتين نص عليه الحميدي وابن الأثير في هذا الحديث . وفي كتاب الحميدي عن البخاري وكذا في شرحه للخطابي تروح سارحة لهم يأتيهم لحاجة . ( متفق عليه )
حضرت ابوعامر (رض) یا حضرت ابومالک اشعری (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے (یعنی ابوعام یا ابومالک نے) بیان کیا کہ میں نے رسول کریم ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ میری امت میں کچھ ایسے گروہ اور طبقے بھی پیدا ہوں گے جو ریشمی کپڑے کو اور شراب کو اور باجوں کو حلال و جائز کردیں گے اور ان میں سے کچھ لوگ بلند پہاڑ کے پہلو میں قیام کریں گے۔ یعنی وہ اپنے قیام کرنے کی جگہ ایسے مقامات پر بنائیں گے جو بلندو ممتاز اور نمایاں ہوں گے اور ان کی یہ ممتاز و نمایاں حیثیت دیکھ کر غریب و محتاج لوگ اپنی حاجتین اور ضورتیں لے کر ان کے پاس آیا کریں گے رات کے وقت ان کے مویشی (جو چرنے کے لئے گئے ہوں گے) یٹ بھرے ہوئے واپس آیا کریں گے اور ان مویشیوں کو چرانے والا دودھ سے بھرا ہوا لے کر آئے گا لیکن جب کوئی شخص محتاج اپنی ضرورت لے کر ان کے پاس آئے گا اور یہ خواہش کرے گا کہ ان مویشیوں کے دودھ میں سے کچھ حصہ اس کی غذائی ضرورت پورا کرنے کے لئے لے جائے تو وہ اس کو یہ کہہ کر ٹال دیں گے کہ کل ہمارے پاس آنا اور پھر رات ہی میں اللہ تعالیٰ ان پر اپنا عذاب اس طرح نازل کرے گا کہ ان میں سے بعض پر تو پہاڑ کی چوٹی الٹ دے گا (تاکہ وہ اس کے نیچے دب کر تباہ وہلاک ہوجائیں اور ان کا نام ونشان تک باقی نہ رہے اور ان میں سے بعض کی صورتوں کو مسخ کر کے بندر اور سور بنا دے گا جو قیامت تک اسی شکل و صورت میں باقی رہیں گے یا یہ کہ اس طرح کے بدکار لوگوں پر جو بھی عذاب نازل ہوگا وہ قیامت تک ان پر مسلط رہے گا) ۔ (بخاری) اور مصابیح کے بعض نسخوں میں الخز کے بجائے ح اور راء کے ساتھ الحر ہے اور ح کے زیر اور را کے جزم کے ساتھ الحر کے معنی عورت کی شرمگاہ کے ہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہوگا کہ وہ لوگ زنا و بدکاری کو حلال و جائز کردیں گے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس لفظ کا حا اور را کے ساتھ یعنی الحر نقل ہونا صحیح نہیں ہے بلکہ یہ کتابت کی غلطی ہے جو کاتب سے واقع ہوگئی ہے اصل میں یہ لفظ خز ہے (یعنی خ اور ز کے ساتھ) ۔ حمیدی اور ابن اثیر نے اس حدیث کے سلسلہ میں اس معنی کی تصریح کی ہے۔ نیز حمیدی کی کتاب میں امام بخاری ہی سے جو یہ روایت نقل کی گئی ہے اور اسی طرح خطابی نے شرح بخاری میں جو روایت نقل کی ہے ان دونوں میں (یروح علیہم بسارحۃ) کے بجائے یوں ہے تروح علیہم سارحۃ لہم یاتیہم لحاجۃ۔

تشریح
یا حضرت ابومالک اشعری (رض) سے روایت ہے اس عبارت کے ذریعہ بخاری نے اس حدیث کو نقل کرتے ہوئے یہ شک وتردد ظاہر کیا ہے کہ اس حدیث کو یا تو حضرت ابوعامر اشعری نے نقل کیا ہے جو حضرت ابوموسی اشعری کے چچا اور اکابر صحابہ میں سے ہیں یا اس روایت کو بیان کرنے والے حضرت ابومالک اشعری ہیں جن کو اشجعی بھی کہا جاتا ہے اور یہ بھی ایک مشہور صحابی ہیں، تاہم واضح رہے کہ کسی حدیث کے راوی کی حیثت سے صحابہ (رض) کے بارے میں اس قسم کا شک وتردد اس حدیث میں طعن کا موجب نہیں ہوتا کیونکہ صحابہ سب ہی ثقہ اور عدل ہیں، لہٰذا وہ حدیث جس صحابی سے بھی منقول ہوگی صحیح ہوگی۔ خز (خ کے زبر اور ز کی تشدید کے ساتھ اس خاص کپڑے کا نام ہے جو پہلے زمانے میں ریشم اور اون سے بنا جاتا تھا اس وقت یہ کپڑا بہت مستعمل تھا یہاں تک کہ صحابہ (رض) اور تابعین بھی اس کو پہنتے اور استعمال کرتے تھے لہٰذا علماء لکھتے ہیں کہ اس حدیث میں خز کا ذکر کر کے مذکورہ کپڑے کے استعمال کی جو ممانعت ظاہر فرمائی گئی ہے وہ شاید اس بنا پر ہے کہ اس کپڑے کو پہننے سے اہل عجم (غیر دیندار اور عیش پرستوں) کی مشابہت پیدا ہوتی ہے علاوہ ازیں وہ کپڑا اپنی بناوٹ اور قیمت کے اعتبار سے ایک ایسا لباس تھا جس کو دولت مند، عیش پسند لوگ اور اہل اسراف استعمال کرتے تھے، دوسری بات یہ کہی جاسکتی ہے کہ اس حدیث کا اصل محمول وہ خز ہے جو اگرچہ حضور ﷺ کے زمانہ میں رائج نہیں ہوا تھا مگر بعد میں اس کا رواج ہوا۔ جس میں صرف ریشم ریشم ہوتا ہے اس اعتبار سے آپ ﷺ کا ارشاد بطور معجزہ، غیب (زمانہ مستقبل کی بات کی) خبر دینے کے طور پر ہوگا اور اس مطلب کو تسلیم کرنے کی صورت میں خز پر حریمہ کا عطف تعمیم بعد تخصیص کے قبیل سے ہوگا۔ معازف کے معنی عود وطنبورہ وغیرہ جیسے باجوں کے ہیں اور یہ لفظ عزف یا معزف کی جمع ہے ویسے عزف اور عزیف اصل میں جن کی آواز کو کہتے ہیں اور اس مخصوص آواز کو بھی کہتے ہیں جو رات کے وقت جنگل وبیابان میں سیٹوں کے مشابہ سنائی دیتی ہے جس کو ہوا کی سرسراہٹ اور اس کی آواز سے بھی تعبیر کیا جاتا ہے۔ حدیث کا حاصل یہ ہے کہ اس امت میں ایسے لوگ بھی پیدا ہوں گے جو مختلف شکوک و شبہات پیدا کر کے دور دراز کار تاویلیں کر کے اور لغو و مہمل نظائر دلائل کے ذریعہ ان چیزوں کو حلال کرلیں گے جن کو شریعت نے حرام قرار دیا ہے مثال کے طور پر بعض علماء نے بیان کیا ہے کہ مردوں کے لئے خالص ریشم کا کپڑا پہننا اور استعمال کرنا اس صورت میں حرام ہے جب کہ وہ بدن سے متصل ہو، یعنی اس کپڑے اور بدن کے درمیان کوئی اور چیز حائل نہ ہو، اگر وہ ریشمی کپڑا ابرے کے طور پر استعمال کیا جائے کہ بدن سے لگا ہوا جو کپڑا ہو وہ تو سوتی ہو اور اس کے اوپر کا کپڑا ریشمی ہو تو اس اس کے استعمال کی گنجائش ہے، یہ بات الگ ہے کہ اس قول کی تحقیق کیا ہے اور یہ کس مرد کو واضح کرتا ہے لیکن اگر اس قول کو بنیاد بنا کر مردوں کے لئے مطلق ریشمی کپڑا پہننے اور استعمال کرنے کو جائز قرار دے لیا جائے اور لوگ بلاتکلف حریر ودیباج جیسے خالص ریشمی کپڑے پننے لگیں تو یہ کھلی ہوئی گمراہی ہوگی، چناچہ یہی ہوا کہ جب امراء اور عوام خالص ریشمی کپڑے استعمال کرتے اور اور ان سے کہا جاتا کہ مردوں کے حریر و دیباج پہننا حرام ہے تو وہ یہی کہتے ہیں کہ اگر یہ حرام ہوتا تو فلاں عالم نے یہ بات کیوں کہی ہوتی اور فلاں فلاں بزرگ نے ریشمی کپڑا کیوں استعمال کیا ہوتا ؟ اس طرح وہ لوگ ایک حرام چیز کو حلال جاننے اور سمجھنے کی نہایت سخت برائی اور گناہ میں مبتلا ہوئے۔ اسی طرح مزامیر کا معاملہ کہ بعض علماء اور مشائخ کو سماع اور مزامیر سے تعلق رہا ہے جو اپنی جگہ پر ایک الگ بحث ہے اور اس کی تفصیل بہت طویل ہے اس بات سے قطع نظر کہ سماع و مزامیر سے ان کا تعلق کن حالت میں اور کن شرائط وپابندیوں کے ساتھ تھا، زیادہ اہم بات یہ ہے کہ ان کے قول وفعل کو غلط طور پر بنیاد بنا کر لوگوں نے کس قدر گمراہیاں پھیلائی ہیں اور راگ رنگ باجے گا جے کی شیطانی مجلسوں کو محفل سماع کے نام پر شریعت کی حرام کردہ چیزوں کو نہ صرف حلال جانتے بلکہ ان کو نعوذ باللہ حصول ثواب کا ذریعہ ماننے کی گمراہی کو عام کیا گیا۔ واضح رہے کہ ابن ابی الدنیا نے مذکورہ روایت کو آلات لہو یعنی مزامیر کی مذمت میں حضرت انس (رض) نے اس طرح نقل کیا ہے کہ یکونن فی ہذہ المۃ خسف وقذف ومسخ ذلک او اشربوا الخمرواتخذت القینات وضربوا بالمعازف۔ اس کا مطلب بھی یہی ہے کہ جب لوگ ان چیزوں کو حلال جان کر ان کو اختیار کریں گے تو خسف ومسخ جیسے عذاب الٰہی میں گرفتار کئے جائیں گے۔ نص علیہ الحمیدی الخ اس عبارت کے ذریعے مؤلف مشکوۃ نے حمیدی اور ابن اثیر کے قول کو بطور دلیل اختیار کر کے اس امر کی تائید کی کہ لفظ الحر (ح اور ز کے ساتھ) واقعۃ کتابت کی غلطی ہے اور صحیح لفظ الخز (خ اور ز کے ساتھ) ہی ہے، لہٰذا کسی کا یہ گمان کرنا کہ یہ لفظ ح اور ر کے ساتھ صحیح ہے حقیقت کے خلاف ہے تاہم مؤلف نے فی ہذا الحدیث کے الفاظ کے ذریعے اس طرف اشارہ کردیا ہے کہ یہ بحث صرف اس حدیث کے سلسلے میں ہے جو بخاری سے یہاں نقل کی گئی ہے، ویسے الحر کا لفظ ایک دوسری روایت میں منقول ہے جس کو ابوداؤد وغیرہ نے نقل کیا ہے چناچہ طیبی نے اس حدیث کو اپنی شرح میں ذکر کیا ہے لیکن بخاری کے مشہور شارح علامہ بن حجر نے جو بات کہی ہے وہ مؤلف مشکوۃ کے مذکورہ قول کے منافی ہے۔ انہوں نے فرمایا ہے کہ بخاری کی اکثر روایتوں میں یہ لفظ ح اور را کے ساتھ یعنی الحر ہی ہے۔ اگر اس بات کو تسلیم کرلیا جائے تو پھر یہ کہا جائے گا کہ اپنی جگہ پر دونوں روایتیں صحیح ہیں۔ تروح علیہم بسارحۃ میں سارحۃ تروح کا فاعل ہے اور یہ اس بات کا قریبہ ہے کہ پہلی روایت (جس کو مؤلف مشکوۃ نے یہاں نقل کیا ہے) کے لفظ بسارحۃ میں حرف ب زائد ہے چناچہ ترجمہ میں اسی کو محفوظ رکھا گیا ہے، اسی طرح ان دونوں کتابوں (کتاب حمیدی اور بخاری کی شرح خطابی) میں یاتیہم لحاجۃ منقول ہوا ہے، یعنی ان دونوں کتابوں کی نقل کردہ حدیث میں اس جملے میں رجل کا لفظ نہی ہے یا یہ مطلب ہے کہ ان دونوں نے بھی رجل کا لفظ نقل تو کیا ہے لیکن لحاجۃ کے بعد اس حدیث سے یہ بات معلوم ہوئی کہ اس امت کے لوگوں کو بھی خسف اور مسخ کے عذاب میں گرفتار کیا جاسکتا ہے جیسا کہ گزشتہ امتوں کے لوگوں کی سرکشی اور بداعمالیوں کی وجہ سے ان کو اس عذاب میں مبتلا کیا گیا، لہٰذا وہ احادیث کہ جو اس بات کی نفی میں منقول ہیں اور جن سے یہ واضح ہوتا ہے کہ امت محمدیہ پر اس طرح عذاب نازل نہیں ہوں گے وہ یا تو اس امت کے ابتدائی زمانہ پر محمول ہیں اور آخری زمانہ ان کے دائرہ مفہوم سے باہر ہے اور یا اجتماعی طور سے پوری امت کے خسف ومسخ پر محمول ہیں، نہ کہ انفرادی طور سے بعض کے بارے میں نفی پر۔
5239
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا أنزل الله بقوم عذابا أصاب العذاب من كان فيهم ثم بعثوا على أعمالهم . متفق عليه .
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم پر اپنا عذاب نازل کرتا ہے تو وہ عذاب ہر اس شخص کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے جو اس قوم میں ہوتا ہے اور پھر آخرت میں لوگوں کو ان کے اعمال کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم میں اللہ تعالیٰ کی نافرمانی و سرکشی، فسق وفجور، ظلم وعصیان، اللہ کے دین اور اللہ کے دین کو ماننے والوں کے ساتھ بغض ونفرت اور تمسخر و استہزاء اور وہ برائیاں حد سے زیادہ پھیل جاتی ہیں جو قہر الٰہی کو دعوت دیتی ہیں اور پھر اس کے نتیجے میں اس قوم پر اللہ تعالیٰ کا عذاب نازل ہوتا ہے۔ تو وہ عذاب صالح وغیر صالح اور نیک وبد کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتا بلکہ ہر اس شخص کو اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے جو اس قوم کے درمیان ہوتا ہے، اگرچہ کبھی اللہ تعالیٰ اپنے نیک و صالح بندوں کو اس عذاب سے محفوظ بھی رکھ لیتا ہے۔ لیکن تمام ہی لوگوں کا اس عذاب میں مبتلا ہونا یہ معنی نہیں رکھتا کہ اخروی انجام کے تعلق سے بھی وہ تمام لوگ ایک ہی حیثیت رکھتے ہیں کہ وہاں آخرت میں ہر شخص کے ساتھ اس کے اعمال ہی کے مطابق معمول ہوگا، جو شخص نیک و صالح رہا ہوگا اس کے ساتھ اچھا سلوک کیا جائے گا اور جو شخص بدکار و سرکش ہوگا وہ وہاں بھی عذاب میں مبتلا کیا جائے گا۔
5240
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم يبعث كل عبد على ما مات عليه . رواه مسلم .
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا قیامت کے دن ہر بندہ کو اسی حال پر اٹھایا جائے گا ۔ (مسلم)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ جو شخص جس حالت و حیثیت میں اس دنیا سے رخصت ہوگا اسی حالت میں قیامت کے دن اٹھے گا اور اس کا اخروی انجام اسی کے مطابق ہوگا۔ اگر ایمان کی حالت میں مرا ہے تو ایمان ہی کی حالت میں اٹھے گا، اگر کفر کی حالت میں مرے گا تو کفر ہی کی حالت میں اٹھے گا، اگر طاعت و عبادت کی حالت میں مرا ہے تو طاعت و عبادت گزار بندے کی حیثیت میں اٹھے گا، اگر گناہ و معصیت کی حالت میں مرے گا تو نافرمان و گنہگار بندے کی حیثیت میں اٹھے گا، اسی طرح اگر اللہ کے ذکر کی حالت میں مرے گا تو ذاکر بندے کی حیثیت میں اٹھے گا اور اگر ذکر الٰہی سے غفلت و لاپرواہی کی حالت میں مرے گا تو غافل و لاپرواہ بندے کے طور پر اٹھے گا۔ غرض یہ کہ قیامت کے دن اٹھنے اور آخرت میں فلاح یاب ہونے یا نامراد قرار دیئے جانے کا مدار خاتمہ پر ہے کہ کسی کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ اس کا آخر کیسا گزرے اور اس کا خاتمہ کس حالت میں ہو۔ جیسا کہ کسی نے کہا ہے۔ حکم مستوری ومستی ہمہ بر خاتمہ است کس ندانست کہ آخر بچہ حالت گذرد تاہم بعض عارفین نے کہا ہے کہ جو بندہ اللہ تعالیٰ کی یاد اور اس کے تئیں حضوری واستغراق کا ملکہ حاصل کرلیتا ہے اور اس کے دل میں ذکر اللہ کا جو ہر جگہ پا لیتا ہے تو اگر موت کے وقت سختی وشدت کے سبب یا بیماری کے غلبہ اور بےتابی و اضطراب کی وجہ سے اس کے اندر استحضار واستغراق کی کیفیت میں کوئی کمی و کوتاہی راہ پا جائے تو یہ چیز اس کے حق میں نقصان دہ نہیں ہوگی بلکہ جسم سے روح کی جدائی کے بعد اس کی وہ کیفیت وحالت لوٹ آئے گی۔ لہٰذا اصل بات یہ ہے کہ ذکر الٰہی اور تعلق مع اللہ میں وہ ملکہ و کمال حاصل کیا جائے جو بہر صورت سرمایہ نجات ہے۔
5241
Mishkaat Shareef
صحیح
عن أبي هريرة قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم ما رأيت مثل النار نام هاربها ولا مثل الجنة نام طالبها . رواه الترمذي .
حضرت ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا شدت و سختی ہولناکی کے اعتبار سے میں نے دوزخ کی آگ کی مانند ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ اس سے بھاگنے والا سوتا رہے اور سرور و شادمانی کے اعتبار سے میں نے جنت کی مانند ایسی کوئی چیز نہیں دیکھی کہ اس کا طلب گار سوتا رہے۔ (ترمذی)

تشریح
مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی طاقتور دشمن کو اپنے لئے مضرت رساں اور ہلاکت میں مبتلا کرنے والا جانتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اس دشمن کی طرف سے غافل نہیں رہتا اور اطمینان کی چادر تان کر سو نہیں جاتا بلکہ ہر وقت ہوشیار رہتا ہے اور جس قدر ممکن ہوتا ہے اس سے دور بھاگتا رہتا ہے لیکن کتنی عجیب بات ہے کہ دوزخ کی آگ، جو اپنی ہلاکت وآفرینی، سختی وشدت اور ہولناکی کے اعتبار سے بڑے سے بڑے طاقتور دشمن سے بھی زیادہ ہلاکت و نقصان پہنچانے کے درپے ہے لوگ اس کی طرف سے غافل پڑے رہتے ہیں اور اس سے دور بھاگنے کی کوشش نہیں کرتے اور اگر دور بھاگتے بھی ہیں تو عین بھاگنے کی حالت میں نیند و غفلت کی اشکار ہوجاتے ہیں۔ واضح رہے کہ دوزخ کی آگ سے دور بھاگنا اور اس کی طرف سے غفلت کا شکار نہ ہونا یہ ہے کہ انسان اللہ شناسی و خدا ترسی کا راستہ اختیار کرے گناہ و معصیت کو ترک کر دے اور طاعت و عبادت کو لازم کرے۔ اس طرح دوسرے جزء کا مطلب یہ ہے کہ اگر کوئی شخص کسی پسندیدہ و محبوب چیز کا طالب ہوتا ہے اور اس کو پوری طرح حاصل کرنا چاہتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ اس چیز کی طلب و خواہش کی راہ میں کسی غفلت وسستی کا روا دار نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے پیچھے دوڑتا ہے اور وہ جتنی زیادہ سعی و کوشش کرسکتا ہے اس کے مطابق اس چیز کی طرف بھاگتا ہے اور اس کو پالینا چاہتا ہے مگر کتنی عجیب بات ہے کہ جنت جو تمام تر خوبیوں، راحتوں شادمانیوں اور سعادتوں کا مرکز ومجموعہ ہے اس کی طرف سے انسان کس قدر غافل ہے اس کو پانے کی کوشش نہیں کرتا، اس کی طرف دوڑتا نہیں ؟ واضح رہے کہ جنت کو پانا اور اس کی طرف دوڑنا یہ ہے کہ اللہ اور اللہ کے رسول کی رضا و خوشنودی کو ہر چیز پر مقدم رکھا جائے برائی کا راستہ چھوڑ کر نیکی کا راستہ اختیار کیا جائے اور طاعت و عبادت میں غفلت وسستی نہ کی جائے۔
5242
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إني أرى ما لا ترون وأسمع ما لا تسمعون أطت السماء وحق لها أن تئط والذي نفسي بيده ما فيها موضع أربعة أصابع إلا وملك واضع جبهته ساجد لله والله لو تعلمون ما أعلم لضحكتم قليلا ولبكيتم كثيرا وما تلذذتم بالنساء على الفرشات ولخرجتم إلى الصعدات تجأرون إلى الله . قال أبو ذر يا ليتني كنت شجرة تعضد . رواه أحمد والترمذي وابن ماجه .
حضرت ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا جو کچھ میں دیکھتا ہوں تم نہیں دیکھتے اور جو کچھ میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے (یعنی قیامت کی علامتیں، قدرت کی کرشمہ سازیوں کی نشانیاں اور اللہ تعالیٰ کی صفات قہریہ وجلالیہ جس طرح میرے سامنے ہیں اور میں ان کو دیکھتا ہوں اس طرح نہ تمہارے سامنے ہیں اور نہ تم انہیں دیکھتے ہو، نیز احوال آخرت کے اسرار واخبار، قیامت کی ہولنا کیوں اور دوزخ کے عذاب کی شدت و سختی کی باتوں کو جس طرح میں سنتا ہوں تم نہیں سنتے) آسمان میں سے آواز نکلتی ہے اور اس میں سے آواز کا نکلنا بجا ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے آسمان میں چار انگشت کے برابر بھی ایسی جگہ نہیں جہاں فرشتے اللہ کے حضور اپنا سر سجدہ ریز کئے ہوئے نہ پڑے ہوں، اللہ کی قسم اگر تم اس چیز کو جان لو جس کو میں جانتا ہوں تو یقینا تم بہت کم ہنسو اور زیادہ رونے لگو۔ اور بستروں پر اپنی عورتوں سے لذت حاصل کرنا چھوڑ دو اور یقینا تم اللہ سے نالہ و فریاد کرتے ہوئے جنگلوں کی طرف نکل جاؤ جیسا کہ رنج اٹھانے والوں اور غموں سے تنگ آجانے والوں کا شیوہ ہوتا ہے کہ وہ گھروں سے نکل کھڑے ہوتے ہیں اور صحرا صحرا جنگل جنگل گھومتے پھرتے ہیں تاکہ زمین کا بوجھ کم ہو اور دل کچھ ٹھکانے لگے۔ حضرت ابوذر نے یہ حدیث بیان کر کے ارادہ حسرت ودردنا کی کہا کہ کاش میں درخت ہوتا جس کو کاٹا جاتا۔ (احمد، ترمذی، ابن ماجہ)

تشریح
لفظ اطت دراصل اط سے مشتق ہے جس کے معنی ہیں آواز نکالنا، پالان اور زین وغیرہ کا چڑچڑانا، اونٹ کا تعب کی وجہ سے بلبلانا، اس حدیث میں آسمان سے آواز نکلنے کی جو بات فرمائی گئی ہے اس کا مفہوم بالکل ظاہر ہے کہ فرشتوں کی کثرت وازدہام اور ان کے بوجھ کی وجہ سے آسمان میں سے آواز نکلتی ہے جیسا کہ سواری کا جانور سواری کے بوجھ کی وجہ سے ایک خاص قسم کی آواز نکالتا ہے یا کسی تخت وپلنگ پر جب زیادہ لوگ بیٹھ جاتے ہیں تو وہ چڑچڑانے لگتا ہے یا آسمان میں سے نکلنے کا مطلب آسمان کا اللہ کے خوف سے نالہ و فریاد کرنا ہے اور اس جملے کا مقصد یہ آگاہی ہے کہ جب آسمان ایک غیر ذی روح اور منجمد چیز ہوتے ہوئے اور مقدس ملائکہ کی قرار گاہ کی حیثیت رکھنے کے باوجود خوف الٰہی سے نالہ و فریاد کرتا ہے تو انسان کہ جو جاندار ہے اور گناہ و معصیت کی آلودگی رکھتا ہے، وہ کہیں زیادہ اس لائق ہے کہ خوف الٰہی سے گریہ وزاری اور نالہ و فریاد کرے۔ یہ معنی حدیث کے اصل مقصد سے زیادہ قریب اور مناسب تر ہیں۔ اپنا سر سجدہ ریز کئے ہوئے نہ پڑے ہوں سے مراد فرشتوں کا اللہ تعالیٰ کی عبادت وتابعدای میں مشغول ہونا ہے۔ یہ وضاحت اس لئے ضروری ہے تاکہ وہ بات بھی اس جملے کے دائرہ مفہوم میں آجائے جس میں یہ کہا گیا ہے کہ ہر فرشتہ اللہ کی عبادت و تابعداری میں مشغول ہے کہ کچھ تو قیام کی حالت میں عبادت گزار ہیں، کچھ رکوع کی حالت میں ہیں اور کچھ سجدے میں پڑے ہوئے ہیں یا یہ بات بھی کہی جاسکتی ہے کہ حضور ﷺ نے آسمان میں سے کسی خاص آسمان کا ذکر فرمایا ہے اور اس آسمان میں جو فرشتے ہیں وہ سب کے سب سجدہ کی ہی حالت میں پڑے ہوئے اللہ کی عبادت کر رہے ہیں۔ صعدات اصل میں صعد کی جعم ہے اور صعد جمع ہے صعید کی جیسے طرقات جمع ہے طرق کی اور طرق جمع ہے طریق کی۔ صعید کے لغوی معنی مٹی، راستہ اور زمین کے بلند حصے کے ہیں اور یہاں حدیث میں اس سے مراد جنگل ہے۔ کاش میں درخت ہوتا یعنی انسان ہونے کی حیثیت سے گناہوں اور برائیوں کے ارتکاب سے بچنا بڑا مشکل ہے شیطان ہر وقت پیچھے لگا رہتا ہے نہ جانے کب اس کا داؤ چل جائے گا اور گناہ و معصیت کا ارتکاب ہوجائے۔ جس کی وجہ سے اللہ کی ناراضگی اور اس کا عذاب مول لینا پڑجائے گا۔ لہٰذا حضرت ابوذر (رض) نے یہ آرزو ظاہر کی کہ کاش میں انسان نہ ہوتا تاکہ کل قیامت کے دن گناہوں کی آلودگی کے ساتھ نہ اٹھتا۔ اور جس طرح ایک درخت کو کاٹ ڈالا جاتا ہے تو وہ سرے سے مٹ جاتا ہے، اسی طرح میں بھی ہوتا کہ مجھے کاٹ کر پھینک دیا جاتا اور میں آخرت میں ندامت و شرمندگی اور عذاب سے بچ جاتا۔ واضح رہے کہ اس طرح کی غمناک اور درد انگیز آرزوئیں دوسرے بڑے صحابہ سے بھی منقول ہیں، مثلا ایک صحابی نے کہا تھا کہ کاش، میں بکری ہوتا جس کو لوگ کاٹ کر کھا جاتے ہیں۔ دوسرے صحابی نے کہا کاش میں پرندہ ہوتا کہ وہ جہاں چاہتا ہے بیٹھ جاتا ہے اور جہاں چاہتا ہے چلا جاتا ہے۔ اس پر کوئی فکر اور کسی چیز کا دباؤ نہیں ہوتا یہ سب مقدس صحابہ وہ تھے جن کو حضور ﷺ نے ان کی زندگی ہی میں جنت کی بشارت دے دی تھی اور آخرت کے اعتبار سے ان کی عافیت کے بخیر ہونے میں کوئی شبہ نہیں تھا لیکن جب ان پاک نفس حضرات کے احساس اور فکر آخرت کا یہ حال تھا تو دوسروں کو کیا کہا جاسکتا ہے، اگرچہ مخبر صادق ﷺ کا وعدہ ہے کہ ہر مومن انشاء اللہ مغفرت و بخشش سے نوازا جائے گا اور اس کی عاقبت بخیر ہوگی لیکن بارگاہ بےنیازی کا خوف ہی کمر توڑے ڈالتا ہے کسی نے کیا خوب کہا ہے کیا کیا نہ اپنے زہد و اطاعت پہ ناز تھا بس دم نکل گیا جو سنا بےنیاز ہے