hadith book logo

Mishkaat Shareef

65. عرفات اور مزدلفہ سے واپسی کا بیان

مشكاة المصابيح

2646
Mishkaat Shareef
صحیح
عن هشام بن عروة عن أبيه قال : سئل أسامة بن زيد : كيف كان رسول الله صلى الله عليه و سلم يسير في حجة الوداع حين دفع ؟ قال : كان يسير العنق فإذا وجد فجوة نص
حضرت ہشام بن عروہ اپنے والد حضرت عروہ سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے فرمایا حضرت اسامہ بن زید (رض) سے پوچھا گیا کہ حجۃ الوداع کے موقع پر عرفات سے واپسی میں آنحضرت ﷺ کی رفتار کیا تھی ؟ انہوں نے فرمایا کہ آپ ﷺ کی رفتار تیز تھی اور جہاں کہیں کشادہ راستہ ملتا (اپنی سواری) دوڑاتے۔ (بخاری ومسلم)
2647
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس أنه دفع مع النبي صلى الله عليه و سلم يوم عرفة فسمع النبي صلى الله عليه و سلم وراءه زجرا شديدا وضربا للإبل فأشار بسوطه إليهم وقال : يا أيها الناس عليكم بالسكينة فإن البر ليس بالإيضاع . رواه البخاري
حضرت ابن عباس (رض) کے بارے میں منقول ہے کہ وہ عرفہ کے دن (عرفات سے منیٰ کی طرف) واپسی میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ تھے چناچہ (ان کا بیان ہے کہ راستہ میں) آنحضرت ﷺ نے اپنے پیچھے (بلند آوازوں کے ساتھ جانوروں کو ہانکنے اور اونٹوں کو مارنے کا) شور و شغب سنا تو آپ ﷺ نے اپنے کوڑے سے لوگوں کی طرف اشارہ کیا (تاکہ لوگ متوجہ ہوجائیں اور آپ ﷺ کی بات سنیں) اور فرمایا لوگوں ! آرام و اطمینان کے ساتھ چلنا تمہارے لئے ضروری ہے کیونکہ دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے۔ (بخاری)

تشریح
دوڑانا کوئی نیکی نہیں ہے کا مطلب یہ ہے کہ نیکی صرف اپنی سواری کو دوڑانے ہی میں نہیں ہے بلکہ نیکی کا اصل تعلق افعال حج کی ادائیگی اور ممنوعات سے اجتناب و پرہیز سے ہے، حاصل یہ ہے کہ نیکیوں کی طرف جلدی و مسابقت، اگرچہ پسندیدہ اور اچھی چیز ہے لیکن ایسی جلدی و مسابقت پسندیدہ نہیں ہے جو مکروہات تک پہنچا دے اور جس پر گناہ کا ترتب ہو۔ اس مفہوم کی روشنی میں اس حدیث میں اس پہلی حدیث میں منافات اور کوئی تضاد نہیں ہوگا۔
2648
Mishkaat Shareef
صحیح
وعنه أن أسامة بن زيد كان ردف النبي صلى الله عليه و سلم من عرفة إلى المزدلفة ثم أردف الفضل من المزدلفة إلى منى فكلاهما قال : لم يزل النبي صلى الله عليه و سلم يلبي حتى رمى جمرة العقبة
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ عرفات سے مزدلفہ تک تو اسامہ ابن زید (رض) نبی کریم ﷺ کے پیچھے بیٹھے رہے پھر آپ ﷺ نے مزدلفہ سے منیٰ تک فضل (رض) کو اپنے پیچھے بٹھا لیا تھا اور ان دونوں کا بیان ہے کہ رسول کریم ﷺ برابر لبیک کہتے رہے یہاں تک کہ آپ ﷺ نے جمرہ عقبہ پر کنکری ماری (یعنی قربانی کے دن جب جمرہ عقبہ پر پہلی ہی کنکری ماری تو تلبیہ موقوف کردیا) (بخاری و مسلم)
2649
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عمر قال : جمع النبي صلى الله عليه و سلم المغرب والعشاء بجمع كل واحدة منهما بإقامة ولم يسبح بينهما ولا على إثر كل واحدة منهما . رواه البخاري
حضرت ابن عمر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب اور عشاء کی نمازوں کو جمع کیا (یعنی عشاء کے وقت دونوں نمازوں کو ایک ساتھ پڑھا) اور ان میں سے ہر ایک کے لئے تکبیر کہی گئی (یعنی مغرب کے لئے علیحدہ تکبیر ہوئی اور عشاء کے لئے علیحدہ) اور آپ ﷺ نے نہ تو ان دونوں کے درمیان نفل نماز پڑھی اور نہ ان دونوں میں سے ہر ایک کے بعد۔ (بخاری)

تشریح
ان نمازوں کے بعد نفل پڑھنے کی جو نفی کی گئی ہے تو اس سے ان دونوں کے بعد سنتیں اور وتر پڑھنے کی نفی لازم نہیں آتی۔ باب قصۃ حجۃ الوداع میں حضرت جابر (رض) کی جو طویل حدیث گزری ہے اس کے ان الفاظ لم یسبح بینہما شیأ کی وضاحت میں ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ جب مزدلفہ میں آپ ﷺ مغرب اور عشاء کی نمازیں پڑھ چکے تو مغرب و عشاء کی سنتیں اور نماز وتر بھی پڑھی۔ چناچہ ایک روایت میں بھی یہ منقول ہے کہ نیز شیخ عابد سندھی نے در مختار کے حاشیہ میں اس بارے میں علماء کے اختلافی اقوال نقل کرنے کے بعد یہی لکھا ہے کہ زیادہ صحیح بات یہی ہے کہ آپ ﷺ نے عشاء کی نماز کے بعد سنتیں اور وتر پڑھی۔
2650
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن عبد الله بن مسعود قال : ما رأيت رسول الله صلى الله عليه و سلم صلى صلاة إلا لميقاتها إلا صلاتين : صلاة المغرب والعشاء بجمع وصلى الفجر يومئذ قبل ميقاتها
حضرت عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ میں نے کبھی نہیں دیکھا کہ رسول کریم ﷺ نے کوئی نماز اپنے وقت کے علاوہ کسی اور وقت میں پڑھی ہو سوائے دو نمازوں کے کہ وہ مغرب و عشاء کی ہیں جو مزدلفہ میں پڑھی گئی تھیں (یعنی مزدلفہ میں مغرب کی نماز عشاء کے وقت میں پڑھی) اور اس دن (یعنی مزدلفہ میں م قربانی کے دن) فجر کی نماز آپ ﷺ نے وقت سے پہلے پڑھی تھی۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
یہاں صرف مغرب و عشاء کی نمازوں کو ذکر کیا گیا ہے کہ آپ ﷺ نے مزدلفہ میں مغرب کی نماز عشاء کے وقت پڑھی، حالانکہ آپ ﷺ نے عرفات میں ظہر و عصر کی نماز بھی ایک ساتھ اسی طرح پڑھی تھی کہ عصر کی نماز مقدم کر کے ظہر کے وقت ہی پڑھ لی گئی تھی، لہٰذا یہاں ان دونوں نمازوں کو اس سبب سے ذکر نہیں کیا گیا کہ وہ دن کا وقت تھا، سب ہی جانتے تھے کہ آپ ﷺ نے عصر کی نماز کو مقدم کر کے ظہر کے وقت پڑھا ہے اس لئے اس کو بطور خاص ذکر کرنے کی کوئی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ فجر کی نماز وقت سے پہلے پڑھی کا مطلب یہ ہے کہ آپ ﷺ نے اس دن فجر کی نماز وقت معمول یعنی اجالا پھیلنے سے پہلے تاریکی ہی میں پڑھ لی تھی، یہاں یہ مراد نہیں ہے کہ آپ ﷺ نے فجر کے وقت سے پہلے پڑھی تھی کیونکہ تمام ہی علماء کے نزدیک فجر کی نماز، فجر سے پہلے پڑھنی جائز نہیں ہے۔
2651
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن ابن عباس قال : أنا ممن قدم النبي صلى الله عليه و سلم ليلة المزدلفة في ضعفة أهله
حضرت ابن عباس (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ نے اپنے اہل و عیال کے کمزور ضعیف لوگوں کے جس زمرے کو مزدلفہ کی رات میں پہلے ہی بھیج دیا تھا اسی میں میں بھی شامل تھا۔ (بخاری ومسلم)

تشریح
کمزور و ضعیف لوگوں سے مراد عورتیں اور بچے ہیں جن کو آنحضرت ﷺ نے دسویں ذی الحجہ کو پہلے ہی سے منیٰ روانہ کردیا تھا ان میں حضرت ابن عباس (رض) بھی شامل تھے اور خود آنحضرت ﷺ آفتاب طلوع ہونے سے پہلے اور صبح روشن ہو جاتنے کے بعد منیٰ کے لئے سوار ہوئے جیسا کہ سنت ہے، آپ ﷺ نے اپنے ہی عیال کو پہلے اس لئے بھیج دیا تھا تاکہ ہجوم کی وجہ سے انہیں تکلیف نہ ہو اور ایسا کرنا جائز ہے۔
2652
Mishkaat Shareef
صحیح
ایک اور روایت میں جو آگے آرہی ہے یہ بھی منقول ہے کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں کو پہلے سے روانہ کردیا اور ان سے فرمایا کہ رمی جمرہ عقبہ آفتاب طلوع ہونے کے بعد ہی کرنا، چناچہ حضرت امام اعظم ابوحنیفہ کا مسلک یہی ہے کہ رمی جمرہ عقبہ کا وقت دسویں ذی الحجہ کو سورج نکلنے کے بعد شروع ہوتا ہے لیکن بعض روایت میں یہ منقول ہے کہ آپ ﷺ نے ان لوگوں سے بس اتنا ہی فرمایا تھا کہ جاؤ اور رمی جمرہ عقبہ کرو، اس روایت میں طلوع آفتاب کی قید نہیں ہے، چناچہ حضرت امام شافعی اور حضرت امام احمد نے اسی روایت پر عمل کیا کہ ان کے ہاں رمی جمرہ عقبہ کا وقت نصف شب کے بعد ہی سے شروع ہوجاتا ہے۔
2653
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن الفضل بن عباس وكان رديف النبي صلى الله عليه و سلم أنه قال في عشية عرفة وغداة جمع للناس حين دفعوا : عليكم بالسكينة وهو كاف ناقته حتى دخل محسرا وهو من منى قال : عليكم بحصى الخذف الذي يرمى به الجمرة . وقال : لم يزل رسول الله صلى الله عليه و سلم يلبي حتى رمى الجمرة . رواه مسلم
حضرت عبداللہ بن عباس (رض) راوی ہیں کہ حضرت فضل بن عباس (رض) نے جو (مزدلفہ سے منیٰ آتے ہوئے) نبی کریم ﷺ کی سواری پر پیچھے بیٹھے ہوئے تھے، بیان کیا کہ جب عرفہ کی شام کو (عرفات سے مزدلفہ آتے ہوئے) اور مزدلفہ کی صبح کو (مزدلفہ سے منیٰ جاتے ہوئے) لوگوں نے سواریوں کو تیزی سے ہانکنا اور مارنا شروع کیا تو آنحضرت ﷺ نے ان سے فرمایا کہ اطمینان وآہستگی کے ساتھ چلنا تمہارے لئے ضروری ہے اور اس وقت خود آنحضرت ﷺ اپنی اونٹنی کو روکے ہوئے بڑھا رہے تھے، یہاں تک کہ جب آپ ﷺ وادی محسر میں جو منیٰ (کے قریب مزدلفہ کے آخری حصہ) میں ہے پہنچے تو فرمایا کہ تمہیں (اس میدان سے) خذف کی کنکریاں اٹھا لینی چاہئیں جو جمرہ (یعنی مناروں) پر ماری جائیں گی۔ اور فضل بن عباس (رض) کہتے تھے کہ آنحضرت ﷺ رمی جمرہ تک برابر لبیک کہتے رہے تھے (یعنی جمرہ عقبہ پر پہلی کنکری ماری تو لبیک کہنا موقوف کردیا) ۔ (مسلم)

تشریح
عرفہ کے دن شام کو آنحضرت ﷺ جب میدان عرفات سے مزدلفہ کو چلے تو اس وقت حضرت فضل بن عباس (رض) آپ ﷺ کی سواری پر آپ ﷺ کے پیچھے بیٹھے ہوئے تھے۔ خذف اصل میں تو چھوٹی کنکری یا کھجور کی گٹھلی دونوں شہادت کی انگلیوں میں رکھ کر پھینکنے کو کہتے ہیں۔ اور یہاں خذف کی مانند کنکریوں سے مراد یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں جو چنے کے برابر ہوتی ہیں یہاں سے اٹھا لو جو رمی جمار کے کام آئیں گی۔ اس بارے میں مسئلہ یہ ہے کہ رمی جمار کے واسطے کنکریاں مزدلفہ سے روانگی کے وقت وہیں سے یا راستہ میں سے اور یا جہاں سے جی چاہے لے لی جائیں ہاں جمرہ کے پاس سے وہ کنکریاں نہ لی جائیں جو جمرہ پر ماری جا چکی ہیں کیونکہ یہ مکروہ ہے ویسے اگر کوئی شخص جمرہ کے پاس ہی سے پہلے پھینکی گئی کنکریاں اٹھا کر مارے تو یہ جائز تو ہوجائے گا مگر خلاف اولیٰ ہوگا۔ چناچہ شمنی نے شرح نقایہ میں لکھا ہے کہ ان کنکریوں سے رمی کافی ہوجائے گی مگر ایسا کرنا برا ہے۔ اس بارے میں بھی اختلافی اقوال ہیں کہ کنکریاں کتنی اٹھائی جائیں ؟ آیا صرف اسی دن رمی جمرہ عقبہ کے لئے سات کنکریاں اٹھائی جائیں یا ستر کنکریاں اٹھائی جائیں جن میں سات تو اسی دن رمی جمرہ عقبہ کے کام آئیں اور تریسٹھ بعد کے تینوں دنوں میں تینوں جمرات پر پھینکی جائیں گی۔
2654
Mishkaat Shareef
صحیح
وعن جابر قال : أفاض النبي صلى الله عليه و سلم من جمع وعليه السكينة وأمرهم بالسكينة وأوضع في وادي محسر وأمرهم أن يرموا بمثل حصى الخذف وقال : لعلي لا أراكم بعد عامي هذا . لم أجد هذا الحديث في الصحيحين إلا في جامع الترمذي مع تقديم وتأخير
حضرت جابر (رض) کہتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ (منیٰ کے لئے) مزدلفہ سے چلے تو آپ ﷺ کی رفتار میں سکون و وقار تھا اور آپ ﷺ نے دوسرے لوگوں کو بھی سکون و اطمینان کے ساتھ چلنے کا حکم دیا۔ ہاں میدان محسر میں آپ ﷺ نے اونٹنی کو تیز رفتاری کے ساتھ گزارا اور آپ ﷺ نے لوگوں کو حکم دیا کہ خذف کی کنکریوں جیسی (یعنی چنے کی برابر) سات کنکریوں سے رمی کریں، نیز آپ ﷺ نے (صحابہ (رض) سے) یہ بھی فرمایا کہ شاید اس سال کے بعد میں تمہیں نہیں دیکھوں گا۔ (صاحب مشکوۃ فرماتے ہیں کہ) میں نے یہ حدیث بخاری و مسلم میں تو پائی نہیں۔ ہاں ترمذی میں یہ حدیث کچھ تقدیم و تاخیر کے ساتھ مذکور ہے۔

تشریح
حدیث کے آخری الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ یہ سال میری دنیاوی زندگی کا آخری سال ہے، آئندہ سال میں اس دنیا سے رخصت ہوجاؤں گا، اس لئے تم لوگ مجھ سے دین کے احکام اور حج کے مسائل سیکھ لو۔ چناچہ اسی وجہ سے اس حج کو حجۃ الوداع کہا جاتا ہے کہ اسی حج کے موقعہ پر آپ ﷺ نے دین کے احکام پورے طور پر لوگوں تک پہنچا دئیے اور اپنے صحابہ کو رخصت و وداع کیا، پھر اگلے سال یعنی بارہ ہجری کے ماہ ربیع الاول میں آپ ﷺ کا وصال ہوا۔ صاحب مشکوۃ کے قول کا مطلب یہ ہے کہ صاحب مصابیح نے اس حدیث کو پہلی فصل میں نقل کیا ہے جس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ حدیث صحیحین یعنی بخاری و مسلم کی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ بلکہ یہ ترمذی کی روایت ہے۔ اس لئے صاحب مصابیح کو چاہئے تو یہ تھا کہ وہ اس روایت کو پہلی فصل کی بجائے دوسری فصل میں نقل کرتے۔ اگرچہ اس صورت میں تقدیم و تاخیر کا اعتراض پھر بھی باقی رہتا۔
2655
Mishkaat Shareef
ضعیف
وعن محمد بن قيس بن مخرمة قال : خطب رسول الله صلى الله عليه و سلم فقال : إن أهل الجاهلية كانوا يدفعون من عرفة حين تكون الشمس كأنها عمائم الرجال في وجوههم قبل أن تغرب ومن المزدلفة بعد أن تطلع الشمس حين تكون كأنها عمائم الرجال في وجوههم . وإنا لا ندفع من عرفة حتى تغرب الشمس وندفع من المزدلفة قبل أن تطلع الشمس هدينا مخالف لهدي عبدة الأوثان والشرك . رواه البيهقي في شعب الإيمان وقال فيه : خطبنا وساقه بنحوه
حضرت محمد بن قیس بن مخرمہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ایام جاہلیت میں (یعنی اسلام سے پہلے) لوگ عرفات سے اس وقت واپس ہوتے جب آفتاب غروب ہونے سے پہلے مردوں کے چہروں پر پگڑیوں کی طرح نظر آتا (یعنی عرفات سے غروب آفتاب سے پہلے چلتے) اور مزدلفہ سے طلوع آفتاب کے بعد اس وقت روانہ ہوتے جب آفتاب مردوں کے چہروں پر پگڑیوں کی طرح نظر آتا، مگر ہم عرفات سے اس وقت تک نہیں چلیں گے جب تک کہ آفتاب غروب نہ ہوجائے اور مزدلفہ سے ہم سورج نکلنے سے پہلے روانہ ہوں گے کیونکہ ہمارا طریقہ بت پرستوں اور مشرکین سے مختلف ہے۔۔

تشریح
مطلب یہ ہے کہ ایام جاہلیت میں لوگ عرفات سے ایسے وقت چلتے تھے جب آفتاب آدھا تو غروب ہوچکا ہوتا اور اس کا آدھا حصہ باہر ہوتا آفتاب کی اسی صورت کو پگڑی سے مشابہت دی گئی ہے کہ آفتاب کا آدھا گروہ پگڑی کی شکل کا ہوتا ہے، اسی طرح مزدلفہ سے ایسے وقت روانہ ہوتے جب آفتاب کا آدھا حصہ طلوع ہوچکا ہوتا اور آدھا حصہ اندر رہتا۔ صاحب مشکوۃ کو اس کی تحقیق نہیں ہوسکی تھی کہ یہ روایت کس نے نقل کی ہے، چناچہ مشکوۃ کے اصل نسخہ میں لفظ رواہ کے بعد جگہ چھوٹی ہوئی ہے البتہ ایک دوسرے صحیح نسخہ کے حاشیہ میں لکھا ہوا ہے کہ رواہ البیہقی فی شعب الایمان وقال خطبنا وساقہ نحوہ۔